Ayah 8:48خلاصہ تفسیر
اور اس وقت کا ان سے ذکر کیجئے جب کہ شیطان نے ان (کفار) کو (بذریعہ وسوسہ) انکے اعمال (کفریہ عداوت و مخالفت رسول اللہ ﷺ (خوشنما کرکے دکھلائے (کہ انہوں نے ان باتوں کو اچھا سمجھا) اور (وسوسہ سے بڑھ کر یہ کیا کہ بالمشافہ ان سے) کہا کہ (تم کو وہ قوت و شوکت ہے کہ تمہارے مخالف) لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور میں تمہارا حامی ہوں (نہ بیرونی دشمنوں سے ڈرو اور نہ اندرونی دشمنوں سے اندیشہ کرو) پھر جب دونوں جماعتیں (کفار و مسلیمن کی) ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئیں (اور اس نے ملائکہ کا نزول دیکھا) تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور یہ کہا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں (میں حامی وامی کچھ نہیں بنتا کیونکہ) میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں جو تم کو نظر نہیں آتیں (مراد فرشتے ہیں) میں تو خدا سے ڈرتا ہوں (کبھی کسی فرشتہ سے دنیا ہی میں میری خبر لوا دے) اللہ تعالیٰ سکت سزا دینے والے ہیں۔ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب منافقین (مدینہ والوں میں سے) اور جن کے دلوں میں (شک کی) بیماری تھی (مکہ والوں میں سے مسلمانوں کا بےسرو سامانی کے ساتھ مقابلہ کفار میں آجانا دیکھ کر) یوں کہتے تھے کہ ان (مسلمان) لوگوں کو ان کے دین نے بھول میں ڈال رکھا ہے (کہ اپنے دین کے حق ہونے کے بھروسے ایسے خطرہ میں آپڑے۔ اللہ جواب دیتے ہیں) اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو (وہ اکثر غالب ہی آتا ہے کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (اس لئے اپنے اوپر بھروسہ کرنے والے کو غالب کردیتے ہیں کیونکہ) بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست ہیں (اس لئے اپنے اوپر بھروسہ کرنے والے کو غالب کردیتے ہیں اور احیانًا ایسا شخص مغلوب ہوجائے تو اس میں کچھ مصلحت ہوتی ہے کیونکہ) وہ حکمت والے (بھی) ہیں (غرض ظاہری سامان و بےسامانی پر مدار نہیں قادر کوئی اور ہی ہے)۔
معارف و مسائل
سورة انفال میں شروع سے غزوہ بدر میں پیش آنے والے واقعات اور حالات کا اور ان سے حاصل ہونی والی نصائح اور عبرتوں کا اور متعلقہ احکام کا بیان چل رہا ہے۔
اسی میں ایک واقعہ قریش مکہ کو شیطان کے فریب دے کر مسلمانوں کے مقابلہ پر ابھارنے اور پھر عین میدان جنگ میں ساتھ چھوڑ کر الگ ہوجانے کا ہے جو آیات مذکورہ کے شروع میں مذکورہ ہے۔
شیطان کا یہ فریب قریش کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی صورت سے تھا یا انسانی شکل میں آکر روبرو گفتگو سے۔ اس میں دونوں احتمال ہیں مگر الفاظ قرآن سے زیادہ تر تائید دوسری ہی صورت کی ہوتی ہے کہ بشکل انسانی سامنے آکر فریب دیا۔
امام ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ جب قریش مکہ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے مکہ سے نکلا تو ان کے دلوں پر ایک خطرہ اس کا سوار تھا کہ ہمارے قریب میں قبیلہ بنو بکر بھی ہمارا دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم مسلمانوں کے مقابلہ پر جائیں اور یہ دشمن قبیلہ موقع پا کر ہمارے گھروں اور عورتوں، بچوں پر چھاپہ مار دے۔ امیر قافلہ ابو سفیان کی گھبرائی ہوئی فریاد پر تیار ہو کر نکل تو کھڑے ہوئے مگر یہ خطرہ ان کے لئے زنجیر پا بنا ہوا تھا کہ اچانک شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں اس طرح سامنے آیا کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا اور اس کے ساتھ ایک دستہ بہادر فوج کا ہے۔ سراقہ بن مالک اس علاقہ اور قبیلہ کا بڑا سردار تھا جن سے حملہ کا خطرہ تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر قریشی جوانوں کے لشکر سے خطاب کیا اور دو طرح سے فریب میں مبتلا کیا۔ اول یہ کہ (آیت) لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ ، یعنی آج تمام لوگوں میں تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں۔ مطلب یہ تھا کہ مجھے تمہارے مقابل فریق کی قوت کا بھی اندازہ ہے اور تمہاری قوت و کثرت کو بھی دیکھ رہا ہوں اس لئے تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم بےفکر ہو کر آگے بڑھو تمہیں غالب رہو گے کوئی تمہارے مقابلہ پر غالب آنے والا نہیں۔
دوسرے یہ کہ (آیت) اِنِّىْ جَارٌ لَّكُمْ ، یعنی تمہیں جو بنی بکر وغیرہ سے خطرہ لگا ہوا ہے کہ وہ تمہارے پیچھے مکہ پر چڑھ دوڑیں گے۔ اس کی میں ذمہ داری لیتا ہوں کہ ایسا نہ ہوگا میں تمہارا حامی ہوں۔ قریش مکہ سراقہ بن مالک اور اس کی بڑی شخصیت اور اثر و رسوخ سے پہلے سے واقف تھے اس کی بات سن کر ان کے دل جم گئے اور قبیلہ بنی بکر کے خطرہ سے بےفکر ہو کر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے آمادہ ہوگئے۔ اس دو گونہ فریب سے شیطان نے ان لوگوں کو اپنے مقتل کی طرف ہانک دیا (آیت) فَلَمَّا تَرَاۗءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْهِ۔ جب مشرکین مکہ اور مسلمانوں کی دونوں جماعتیں (مقام بدر میں) آمنے سامنے ہوئیں تو شیطان پچھلے پاؤں لوٹ گیا۔
غزوہ بدر میں چونکہ مشرکین مکہ کی پیٹھ پر ایک شیطانی لشکر بھی آگیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ میں فرشتوں کا لشکر جبرئیل و میکائیل کی قیادت میں بھیج دیا۔ امام ابن جریر وغیرہ نے بروایت ابن عباس نقل کیا ہے کہ شیطان نے جو اس وقت بشکل انسانی سراقہ بن مالک کی صورت میں اپنے شیطانی لشکر کی قیادت کر رہا تھا، جب جبریل امین اور ان کے ساتھ فرشتوں کا لشکر دیکھا تو گھبرا اٹھا اس وقت اس کا ہاتھ ایک قریشی جوان حارث بن ہشام کے ہاتھ میں تھا فورا اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگنا چاہا۔ حارث نے ٹوکا کہ یہ کیا کرتے ہو تو اس کے سینہ پر مار کر حارث کو گرا دیا۔ اور اپنے شیطانی لشکر کو لے کر بھاگ پڑا۔ حارث نے اس کو سراقہ سمجھتے ہوئے کہا کہ اے عرب کے سردار سراقہ تو نے تو یہ کہا تھا کہ میں تمہارا حامی اور مددگار ہوں اور عین میدان جنگ میں یہ حرکت کر رہے ہو۔ تو شیطان نے بشکل سراقہ جواب دیا (آیت) اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكُمْ اِنِّىْٓ اَرٰي مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ۔ یعنی میں تمہارے معاہدہ سے بری ہوتا ہوں کیونکہ میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تمہاری آنکھیں نہیں دیکھتیں مراد فرشتوں کا لشکر تھا۔ اور یہ کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اس لئے تمہارا ساتھ چھوڑتا ہوں۔
شیطان نے فرشتوں کا لشکر دیکھا تو ان کی قوت سے وہ واقف تھا سمجھ گیا کہ اب اپنی خیر نہیں اور یہ جو کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ امام تفسیر قتادہ نے کہا کہ یہ اس نے جھوٹ بولا اگر وہ خدا سے ڈرا کرتا تو نافرمانی کیوں کرتا۔ مگر اکثر حضرات نے فرمایا کہ ڈرنا بھی اپنی جگہ صحیح ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور عذاب شدید کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے نہ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں البتہ نرا خوف بغیر ایمان و اطاعت کے کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔
ابو جہل نے جب سراقہ اور اس کے لشکر کی پسپائی سے اپنے لشکر کی ہمت کو ٹوٹتے دیکھا تو بات بنائی اور کہا کہ سراقہ کے بھاگ جانے سے تم متاثر نہ ہو اس نے تو خفیہ طور پر محمد ﷺ کے ساتھ سازش کر رکھی تھی شیطان کی پسپائی کے بعد ان کا جو حشر ہونا تھا ہوگیا۔ پھر جب یہ لوگ مکہ واپس آئے اور ان میں سے کسی کی ملاقات سراقہ بن مالک کے ساتھ ہوئی تو اس نے سراقہ کو ملامت کی کہ جنگ بدر میں ہماری شکست اور سارے نقصان کی ذمہ داری تجھ پر ہے تو نے عین میدان جنگ میں پسپا ہو کر ہمارے جوانوں کی ہمت توڑ دی۔ اس نے کہا کہ میں نہ تمہارے ساتھ گیا نہ تمہارے کسی کام میں شریک ہوا۔ میں نے تو تمہاری شکست کی خبر بھی تمہارے مکہ پہنچنے کے بعد سنی۔
یہ سب روایات امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ شیطان لعین کی یہ عام عادت ہے کہ انسان کو برائی میں مبتلا کرکے عین موقع پر الگ ہوجاتا ہے قرآن کریم نے اس کی یہ عادت بار بار بیان فرمائی ہے، ایک آیت میں ہے (آیت) كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۔ آیت متذکرہ کے اس واقعہ سے چند فوائد حاصل ہوئے۔
Ayah 8:49شیطانی دجل و فریب اور اس سے بچنے کا طریقہ
اول یہ کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اس کو نقصان پہنچانے کے لئے طرح طرح کے حیلے کرتا اور بہروپ بدلتا ہے۔ بعض اوقات محض دل میں وسوسہ ڈال کر پریشان کرتا ہے اور بعض اوقات سامنے آکر دھوکا دیتا ہے۔
دوسرے یہ کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرت دی ہے کہ وہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ ایک مشہور حنفی فقیہ کی کتاب آکام المرجان فی احکام الجان میں اس کو بوضاحت ثابت کیا گیا ہے۔ اسی لئے محققین صوفیائے کرام جو اصحاب کشف و شہود ہیں انہوں نے لوگوں کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ کسی شخص کو دیکھ کر یا اس کا کلام سن کر بغیر تحقیق حال کے اس کے پیچھے چلنا بڑا خطرناک ہوتا ہے۔ کشف والہام میں بھی شیطانی تلبیسات ہوسکتی ہیں۔ مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے
اے بسا ابلیس آدم روئے ست پس بہر دستے نشاید داد دست
اور حافظ نے فرامایا
در راہ عشق وسوسہ اہر من بےست ہشدار و گوش رابہ پیام سروش دار
پیام سروش سے مراد وحی الہی ہے۔
کامیابی کے لئے صرف اخلاص نیت ہی کافی نہیں اس سے پہلے راستہ سیدھا ہونا ضروری ہے
تیسرے یہ کہ جو لوگ کفر و شرک یا دوسرے ناجائز اعمال میں مبتلا ہوتے ہیں اس کا بشیتر سبب یہی ہوتا ہے کہ شیطان ان کے اعمال بد کو خوبصورت مستحسن اور نفع بخش ظاہر کرکے ان کے دل و دماغ کو حق و صدق اور صحیح نتائج کی طرف سے پھیر دیتا ہے وہ اپنے باطل ہی کو حق اور برے کو بھلا سمجھنے لگتے ہیں اور اہل حق کی طرح اپنے باطل پر جان دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے قریشی لشکر اور اس کے سردار جب بیت اللہ سے رخصت ہو رہے تھے تو بیت اللہ کے سامنے ان الفاظ سے دعا کر کے چلے تھے کہ اللھم انصر اھدی الطائفتین یعنی اے اللہ ہم دونوں جماعتوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہے اس کی مدد فرمایئے اور فتح دیجئے۔ یہ بیخبر لوگ شیطانی فریب میں آکر اپنے آپ ہی کو زیادہ ہدایت پر اور حق بجانب سمجھتے تھے۔ اور پورے اخلاص کے ساتھ اپنے باطل کی حمایت و نصرت میں جان مال قربان کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوگیا کہ نرا اخلاص کافی نہیں جب تک کہ عمل کا رخ درست نہ ہو۔
اس کے بعد کی دوسری آیت میں منافقین مدینہ اور مشرکین مکہ کا ایک مشترک مقولہ مسلمانوں کے بارے میں یہ نقل کیا جو گویا ان پر ترس کھا کر کہا گیا ہے کہ (آیت) غَرَّ ھٰٓؤ ُ لَاۗءِ دِيْنُهُمْ۔ یعنی میدان بدر میں یہ مٹھی بھر مسلمان اتنے بھاری اور قوی لشکر سے ٹکرانے آگئے ان بےچاروں کو ان کے دین نے فریب میں ڈال کر موت کے منہ میں دے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا (آیت) وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی جو شخص اللہ پر توکل اور بھروسہ کرلیتا ہے تو یاد رکھو کہ وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے اس کی حکمت کے سامنے سب کی عقل و دانش رکھی رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لوگ صرف مادہ اور مادیات کو جاننے والے اور اسی پر بھروسہ کرنے والے ہو تمہیں اس مخفی طاقت کی خبر نہیں جو اس مادہ اور مادیات کے پیدا کرنے والے کے خزانوں میں ہے اور جو ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اعتماد رکھتے ہیں۔
آج بھی دیندار بھولے بھالے مسلمانوں کو دیکھ کر بہت سے عقل و دانش کے مدعی یوں ہی کہا کرتے ہیں کہ
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو
لیکن اگر ان میں اللہ پر ایمان اور اعتماد پورا ہو تو انھیں اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔
Ayah 8:50خلاصہ تفسیر
اور اگر آپ (اس وقت کا واقعہ) دیکھیں (تو عجیب واقعہ نظر آئے) جب کہ فرشتے ان (موجودہ) کافروں کی جان قبض کرتے جاتے ہیں (اور) ان کے منہ پر اور ان کی پشتوں پر مارتے جاتے ہیں اور یہ کہتے جاتے ہیں کہ (ابھی کیا ہے آگے چل کر) آگ کی سزا جھیلنا (اور) یہ عذاب ان اعمال (کفریہ) کی وجہ سے ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں (سو اللہ تعالیٰ نے بےجرم سزا نہیں دی پس) ان کی حالت (اس بارے میں کہ کفر پر سزا یاب ہوئے) ایسی ہے جیسی فرعون والوں کی اور ان سے پہلے (کافر) لوگوں کی حالت تھی کہ انہوں نے آیات الہیہ کا انکار کیا سو اللہ تعالیٰ نے ان کے (ان) گناہوں پر ان کو (عذاب میں) پکڑ لیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی عذاب کو ہٹا سکے اور) یہ بات (کہ بلا جرم ہم سزا نہیں دیتے) اس سبب سے ہے (کہ ہمارا ایک قاعدہ کلیہ مقرر ہے اور بلا جرم سزا نہ دینا اسی قاعدہ کی ایک فرع ہے اور وہ قاعدہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا فرمائی ہو نہیں بدلتے جب تک کہ وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے اور یہ امر ثابت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے جاننے والے ہیں (پس وہ تغیر قولی کو سنتے ہیں تغیر فعلی کو جانتے ہیں سو ان کفار موجودین نے اپنی یہ حالت بدلی کہ ان میں باوجود کفر کے اول ایمان لانے کی استعداد قریب تھی انکار و مخالفت کر کر کے اس کو بعید کر ڈالا پس ہم نے اپنی نعمت امہال کو جو پہلے سے ان کو حاصل تھی مبدل بدار و گیر کردیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے بطریق مذکور نعمت قرب استعداد کو بدل ڈالا)۔
معارف و مسائل
مذکورہ آیات میں سے پہلی دو آیتوں میں موت کے وقت کافروں کے عذاب اور فرشتوں کی تنبیہات کا ذکر ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ اگر آپ ان کافروں کا حال اس وقت دیکھتے جبکہ اللہ کے فرشتے ان کی روح قیض کرنے کے وقت ان کے چہروں اور پشتوں پر مار رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ آگ میں جلنے کا عذاب چکھو۔ آپ ایک بڑا عبرتناک منظر دیکھتے۔
ائمہ تفسیر میں سے بعض حضرات نے اس کو ان کفار قریش کے متعلق قرار دیا ہے جو میدان بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ پر آئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی امداد کے لئے فرشتوں کا لشکر بھیج دیا تھا اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ میدان بدر میں جو قریشی سردار مارے گئے ان کے مارنے میں فرشتوں کا ہاتھ تھا جو ان کے سامنے سے چہروں پر اور پیچھے سے ان کی پشتوں پر مار کر ان کو ہلاک کر رہے تھے اور ساتھ ہی آخرت میں جہنم کے عذاب کی خبر سنا رہے تھے۔
اور جن حضرات نے الفاظ آیت کے عموم کی بنا پر اس کا مضمون عام رکھا ہے ان کے مطابق معنی آیت کے یہ ہیں کہ جب کوئی کافر مرتا ہے فرشتہ موت ان کی روح قبض کرنے کے وقت ان کے چہرہ اور پشت پر مارتا ہے بعض روایات میں ہے کہ آگ کے کوڑے اور لوہے کے گرز ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جن سے وہ مرنے والے کافر کو مارتے ہیں۔ مگر چونکہ اس عذاب کا تعلق اس عالم عناصر سے نہیں بلکہ عالم قبر سے ہے جس کو برزخ کہا جاتا ہے اس لئے یہ عذاب عام طور پر آنکھوں سے نہیں دیکھا جاتا۔
اسی لئے رسول کریم ﷺ سے یہ خطاب کیا گیا اگر آپ دیکھتے تو بڑا عبرتناک منظر دیکھتے اس سے معلوم ہوا کہ موت کے بعد عالم برزخ میں کفار کو عذاب ہوتا ہے مگر اس کا تعلق عالم غیب سے ہے اس لئے عام طور پر دیکھا نہیں جاتا۔ عذاب قبر کا ذکر قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی آیا ہے اور روایات حدیث تو اس معاملہ میں بیشمار ہیں۔
Ayah 8:51دوسری آیت میں کفار کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ یہ عذاب دنیا و آخرت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے چونکہ عام کاروبار ہاتھوں ہی سے وجود میں آتے ہیں اس لئے ہاتھوں کا ذکر کردیا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والے نہیں کہ بلاوجہ کسی کو عذاب میں مبتلا کردیں۔
Ayah 8:52تیسری آیت میں بتلایا گیا کہ ان مجرموں پر اللہ تعالیٰ کا یہ عذاب کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ عادة اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ان کو عقل و فہم دیتے ہیں۔ گرد و پیش میں ان کے لئے بیشمار ایسی چیزیں موجود ہوتی ہیں جن میں غور و فکر کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت و عظمت کو پہچانیں اور عاجز مخلوق کو اس کا شریک نہ بنائیں پھر مزید تنبیہ کے لئے اپنی کتابیں اور رسول بھیجتے ہیں۔ اللہ کے رسول ان کے افہام و تفہیم میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ کے مظاہر بھی بشکل معجزات دکھلاتے ہیں۔ جب کوئی فرد یا قوم ان سب چیزوں سے بالکل آنکھیں بند کرلے اور خدائی تنبہیات میں سے کسی پر کان نہ دھرے تو پھر عادت اللہ تعالیٰ کی ایسے لوگوں کے بارے میں یہی ہے کہ دنیا میں بھی ان پر عذاب آتا ہے اور آخرت کے دائمی عذاب میں بھی گرفتار ہوتے ہیں۔ ارشاد فرمایا (آیت) كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔ داب کے معنی عادت کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جیسے اٰلِ فِرْعَوْنَ اور ان سے پہلے کافروں سرکشوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت دنیا کو معلوم ہوچکی ہے کہ فرعون کو اس کے سارے حشم و خدم سمیت دریا میں غرق کردیا اور ان سے پہلے عاد وثمود کی قوموں کو مختلف قسم کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔
(آیت) كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور نشانیوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا۔ (آیت) اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قوی ہے کوئی قوت و شجاعت والا اپنی قوت کے بل پر اس کے عذاب سے نہیں چھوٹ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ کی سزا بھی بڑی سخت ہے۔
Ayah 8:53چوتھی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے انعام و عطا کے قائم اور باقی رکھنے کا ایک ضابطہ بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا (آیت) بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰي قَوْمٍ حَتّٰي يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتے ہیں اس کو اس وقت تک بدلتے نہیں جب تک یہ لوگ خود ہی اپنے حالات اور عمال کو نہ بدل دیں۔
یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عطاء نعمت کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بیان فرمایا، نہ اس کے لئے کوئی قید و شرط لگائی نہ اس کو کسی کے اچھے عمل پر موقوف رکھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلی نعمت جو خود ہمارا وجود ہے اور اس میں قدرت حق جل شانہ کی عجیب صنعت گری سے ہزاروں حیرت انگیز نعمتیں ودیعت رکھی گئی ہیں یہ نعمتیں ظاہر ہے کہ اس وقت عطا ہوئیں، جب کہ نہ ہم تھے نہ ہمارا کوئی عمل تھا
مانبو دیم و تقاضا ما نبود لطف تو ناگفتہ مامی شنود
اگر اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات بندوں کے نیک اعمال کے منتظر رہا کرتے تو ہمارا وجود ہی قائم نہ ہوتا۔
حق تعالیٰ کی نعمت و رحمت تو اس کے رب العالمین اور رحمن و رحیم ہونے کے نتیجہ میں خود بخود ہے۔ ہاں اس نعمت و رحمت کے قائم اور باقی رہنے کا ایک ضابطہ اس آیت میں یہ بیان کیا گیا کہ جس قوم کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دیتے ہیں اس سے اس وقت تک واپس نہیں لیتے جب تک وہ اپنے حالات اور اعمال کو بدل کر خود ہی اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔
حالات کے بدلنے سے مراد ہے کہ اچھے اعمال اور حالات کو بدل کر برے اعمال اور برے حالات اختیار کرلے یا یہ کہ اللہ کی نعمتیں مبذول ہونے کے وقت جن اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا تھا نعمتوں کے ملنے کے بعد ان سے زیادہ برے اعمال میں مبتلا ہوجائے۔
اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن قوموں کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے یعنی کفار قریش اور آل فرعون ان کا تعلق اس آیت سے اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ملنے کے وقت بھی کچھ اچھے حالات میں نہیں تھے سب کے سب مشرک اور کافر تھے۔ لیکن انعامات کے بعد یہ لوگ اپنی بدعملیوں اور شرارتوں میں پہلے سے زیادہ تیز ہوگئے۔
آل فرعون نے بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم کرنے شروع کردیئے، پھر حضرت موسیٰ ؑ کے مقابلہ اور مخالفت پر آمادہ ہوگئے جو ان کے پچھلے جرائم میں ایک شدید اضافہ تھا جس کے ذریعہ انہوں نے اپنے حالات مزید برائی کی طرف بدل ڈالے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمت کو نقمت اور عذاب سے بدل دیا۔ اسی طرح قریش مکہ اگرچہ مشرک اور بدعمل تھے لیکن اس کے ساتھ ان میں کچھ اچھے اعمال صلہ رحمی، مہمان نوازی، حجاج کی خدمت، بیت اللہ کی تعظیم وغیرہ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دین و دنیا کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے۔ دنیا میں ان کی تجارتوں کو فروغ دیا۔ اور ایسے ملک میں جہاں کسی کا تجارتی قافلہ سلامتی سے نہ گزر سکتا تھا ان لوگوں کے تجارتی قافلے ملک شام و یمن میں جاتے اور کامیاب آتے تھے جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة لایلف میں (آیت) رِحْلَةَ الشِّتَاۗءِ وَالصَّيْفِ کے عنوان سے کیا ہے۔
اور دین کے اعتبار سے وہ عظیم نعمت ان کو عطا ہوئی جو پچھلی کسی قوم کو نہیں ملی تھی کہ سید الانبیاء خاتم النبیین ﷺ ان میں مبعوث ہوئے اللہ تعالیٰ کی آخری اور جامع کتاب قرآن ان میں بھیجی گئی۔
مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کی شکر گزاری اور قدر کرنے اور اس کے ذریعہ اپنے حالات کو درست کرنے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ گندے کردیئے کہ صلہ رحمی کو چھوڑ کر مسلمان ہوجانے والے بھائی بھتیجوں پر وحشیانہ مظالم کرنے لگے۔ مہمان نوازی کے بجائے ان مسلمانوں پر آب و دانہ بند کرنے کے عہدنامے لکھے گئے۔ حجاج کی خدمت کے بجائے مسلمانوں کو حرم میں داخل ہونے سے روکنے لگے۔ یہ وہ حالات تھے جن کو کفار قریش نے بدلا۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو نقمتوں اور عذاب کی صورت میں تبدیل کردیا کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوئے اور جو ذات رحمتہ للعلمین بن کر آئی تھی اسی کے ذریعہ انہوں نے اپنی موت و ہلاکت کو دعوت دے دی۔
اور تفسیر مظہری میں معتمد کتب تاریخ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ کلاب بن مرہ جو رسول اللہ ﷺ کے نسب میں تیسرے دادا کے دادا ہیں یہ ابتداء سے دین ابراہیم و اسماعیل ؑ کے پابند اور اس پر قائم تھے اور نسلاً بعد نسل اس دین کی قیادت و سیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔ قصی بن کلاب کے زمانہ میں ان لوگوں میں بت پرستی کا آغاز ہوا۔ ان سے پہلے کعب بن لوی ان کے دینی قائد تھے جمعہ کے روز جس کو ان کی زبان میں عروبہ کہا جاتا تھا سب لوگوں کو جمع کرکے خطبہ دیا کرتے اور بتلایا کرتے تھے کہ ان کی اولاد میں خاتم الانبیاء ﷺ پیدا ہوں گے۔ ان کا اتباع سب پر لازم ہوگا۔ جو ان پر ایمان نہ لائے گا اس کا کوئی عمل قابل قبول نہ ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ان کے عربی اشعار شعراء جاہلیت میں مشہور و معروف ہیں۔ اور قصی بن کلاب تمام حجاج کے لئے کھانے اور پانی کا اتنظام کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ چیزیں آنحضرت ﷺ کے خاندان میں آپ کے عہد مبارک تک قائم رہیں۔ اس تاریخی تشریح سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قریش کی تبدیلی حالات سے یہ مراد ہو کہ دین ابراہیمی کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کرلی۔
بہرحال مضمون آیت سے یہ معلوم ہوا کہ بعض اوقات حق تعالیٰ اپنی نعمت ایسے لوگوں کو بھی عطا فرماتے ہیں جو اپنے عمل سے اس کے مستحق نہیں ہوتے لیکن عطاء نعمت کے بعد اگر وہ اپنے اعمال کا رخ اصلاح و درستی کی طرف پھیرنے کے بجائے اعمال بد میں اور زیادتی کرنے لگیں تو پھر یہ نعمت ان سے چھین لی جاتی ہے اور وہ عذاب الہی کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ہر گفتگو کو سننے والے اور ان کے تمام اعمال و افعال کو جاننے والے ہیں اس میں کسی غلطی یا غلط فہمی کا امکان نہیں۔
Ayah 8:54خلاصہ تفسیر
(پس اس امر تغییر میں بھی) ان کی حالت فرعون والوں اور ان سے پہلے والوں کی سی حالت ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا اس پر ہم نے ان کو ان کے (ان) گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور (ان میں) فرعون والوں کو خاص طور پر ہلاک کیا کہ (ان کو) غرق کردیا اور وہ (فرعون والے اور پہلے والے) سب ظالم تھے بلاشبہ بدترین خلائق اللہ کے نزدیک یہ کافر لوگ ہیں (جب یہ علم الہی میں ایسے ہیں) تو یہ ایمان نہ لائیں گے جن کی یہ کیفیت ہے کہ آپ ان سے (کئی بار) عہد لے چکے ہیں (مگر) پھر (بھی) وہ ہر بار اپنا عہد توڑ ڈالتے ہیں اور وہ (عہد شکنی سے) ڈرتے نہیں سو اگر آپ لڑائی میں ان لوگوں پر قابو پائیں (اور یہ آپ کے ہاتھ آئیں) تو ان پر حملہ کرکے (اس) کے ذریعہ سے اور لوگوں کو جو کہ ان کے علاوہ ہیں منتشر کردیجئے تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں (کہ نقض عہد کا یہ وبال ہوا ہم ایسا نہ کریں۔ یہ حکم تو اس وقت ہے کہ جب ان لوگوں نے عہد علانیہ توڑ دیا ہو) اور اگر (ابھی تک علانیہ تو نہیں توڑا لیکن) آپ کو کسی قوم سے خیانت (یعنی اس طرح اس عہد کے باقی نہ رہنے کی اطلاع کردیجئے) کہ آپ اور وہ (اس اطلاع میں) برابر ہوجائیں (اور بدون ایسی صاف اطلاع کے لڑنا خیانت ہے اور) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت کا مضمون بلکہ الفاظ تقریبا وہی ہیں جو ایک آیت پہلے آچکے ہیں (آیت) كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ، مگر مقصد بیان دونوں میں جدا جدا ہے پہلی آیت میں اس کا بیان مقصود تھا کہ ان لوگوں کا کفر ان کے عذاب کا سبب بنا اور اس آیت میں مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں مبذول ہوں اور وہ ان کی قدر نہ پہچانے اور اللہ کے سامنے نہ جھکے تو اس کی نعمتیں نقمتوں اور مصیبتوں سے بدل دی جاتی ہیں۔ قوم فرعون اور ان سے پہلی اقوام نے بھی جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو ان سے تعمتیں چھین لی گئی اور نعمتوں کے بجائے عذاب میں پکڑ لئے گئے کچھ الفاظ میں بھی کہیں کہیں فرق کرکے خاص خاص اشارے فرمائے گئے ہیں۔ مثلا پہلی آیت میں كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ کے الفاظ تھے اور یہاں بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ کا لفظ اللہ کے بجائے صفت رب ذکر کرکے اس کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ لوگ بڑے ہی ظالم ناحق شناس تھے کہ جو ذات ان کی رب ہے ان کے ابتداء وجود سے لے کر موجودہ حالات تک اس کی تعمتوں ہی میں ان کی پرورش ہوئی اسی کی نشانیوں کو جھٹلانے لگے۔
نیز پہلی آیت (آیت) فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ فرمایا تھا یہاں فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ارشاد فرمایا۔ اس میں اس اجمال کی تفصیل و تشریح ہوگئی کیونکہ آیت میں ان کا عذاب میں پکڑا جانا ذکر کیا گیا جس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ زندہ اور باقی رہتے ہوئے مصیبتوں میں گرفتار ہوجائیں یا سرے سے ان کا وجود ہی ختم کردیا جائے۔ اس آیت میں اَهْلَكْنٰهُمْ فرما کر واضح کردیا کہ ان سب قوموں کی سزا سزائے موت تھی ہم نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا۔ ہر قوم کی ہلاکت کی مختلف صورتیں ظاہر ہوئیں ان میں سے فرعون چونکہ خدائی کا دعویدار تھا اور اس کی قوم اس کی تصدیق کرتی تھی اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کردیا گیا (آیت) وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ یعنی ہم نے آل فرعون کو غرق کردیا۔ دوسری قوموں کی ہلاکت کی صورتیں یہاں بیان نہیں کی گئی، دوسری آیات میں اس کی بھی تفصیل موجود ہے کہ کسی پر زلزلہ آیا، کوئی زمین کے اندر دھنسا دی گئی، کسی کی صورتیں مسخ ہوگئی، کسی پر ہوا کا طوفان مسلط ہوگیا۔ اور آخر میں مشرکین مکہ پر غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے عذاب آیا۔
Ayah 8:55اس کے بعد کی آیت میں انھیں کافروں کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اس میں لفظ دواب دابہ کی جمع ہے جس کے لغوی معنی زمین پر چلنے والے کے ہیں اس لئے انسان اور جتنے جانور زمین پر چلتے ہیں سب کو یہ لفظ شامل ہے مگر عام محاورات میں یہ لفظ خاص چوپائے جانوروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان لوگوں کا حال بےشعوری میں جانوروں سے بھی زیادہ گرا ہوا تھا اس لئے اس لفظ سے تعبیر کیا گیا۔ معنی آیت کے واضح ہیں کہ تمام جانوروں اور انسانوں میں سب سے بدترین جانور یہ لوگ ہیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی خداداد استعداد و قابلیت کو ضائع کردیا، چوپائے جانوروں کی طرح کھانے پینے سونے جاگنے کو مقصد زندگی بنالیا، اس لئے ان کی رسائی ایمان تک نہیں ہوسکتی۔
حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے چھ آدمیوں کے بارے میں آئی ہے جن کے متعلق حق تعالیٰ نے پیشگی خبر دے دی کہ یہ لوگ آخر تک ایمان نہیں لائیں گے۔
نیز اس لفظ میں ان لوگوں کو عذاب سے مستثنی کرنا منظور ہے جو اگرچہ اس وقت کفار کے ساتھ لگے ہوئے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جد و جہد میں مشغول ہیں مگر آئندہ کسی وقت اسلام قبول کرکے اپنی سابق غلط کاریوں سے توبہ کرلیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان میں سے بہت بڑی جماعت مسلمان ہو کر نہ صرف خود صالح و متقی بن گئی بلکہ دنیا کے لئے مصلح اور تقوی کی داعی بن کر کھڑی ہوئی۔
Ayah 8:56تیسری آیت (آیت) اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ۔ یہ آیت یہود مدینہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے متعلق ہے۔ پچلی آیتوں میں مشرکین مکہ پر میدان بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب الہی نازل ہونے کا ذکر اور پچھلی امتوں کے کفار سے ان کی تمثیل کا بیان ہوا تھا۔ اس آیت میں اس ظالم جماعت کا ذکر ہے جو ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کے لئے مار آستین بنی اور جو ایک طرف مسلمانوں کے ساتھ صلح و آشتی کی دعویدار تھی دوسری طرف مشرکین مکہ کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتی تھی۔ یہ لوگ مذہبًا یہود تھے اور جس طرح مشرکین مکہ میں اسلام کے خلاف سب سے بڑا علمبردار ابوجہل تھا اسی طرح یہود مدینہ میں اس کا علمبردار کعب بن اشرف تھا۔
رسول کریم ﷺ جب ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے، مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو دیکھ کر یہ لوگ مرعوب تو ہوئے مگر دل میں اسلام دشمنی کی آگ ہمیشہ سلگتی رہتی تھی۔
اسلامی سیاست کا تقاضا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو یہود مدینہ کو کسی نہ کسی معاہدہ کے تحت ساتھ لگایا جائے۔ تاکہ وہ مکہ والوں کو مدد نہ پہنچائیں۔ یہود بھی اپنی مرعوبیت کی بنا پر اسی کے خواہشمند تھے۔
اسلامی سیاست کا پہلا قدم اسلامی قومیت
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ پہنچ کر اسلامی سیاست کی سب سے پہلی بنیاد اس کو بنایا کہ مہاجرین و انصار کی وطنی اور قومی عصبیتوں کو ختم کرکے ایک نئی قومیت اسلام کے نام پر قائم فرمائی مہاجرین و انصار کے مختلف قبائل کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔ اور آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے باہمی اختلافات جو صدیوں سے چلے آرہے تھے سب کو دور فرما کر آپس میں بھی اور مہاجرین کے ساتھ بھی بھائی بنادیا۔
دوسرا قدم معاہدہ یہود
اس سیاست کا دوسرا قدم یہ تھا کہ حریف مقابل دو تھے ایک مشرکین مکہ جن کی ایذاؤں نے مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ دوسرے یہود مدینہ جو اب مسلمانوں کے پڑوسی بن گئے تھے ان میں سے یہود کے ساتھ ایک معاہدہ کیا گیا۔ جس کا عہدنامہ مفصل لکھا گیا اس معاہدہ کی پابندی اطراف مدینہ کے سب یہودیوں پر اور اس طرف تمام مہاجرین و انصار پر عائد تھی۔ معاہدہ کا پورا متن البدایہ والنہایہ ابن کثیر میں اور سیرت ابن ہشام وغیرہ میں مفصل موجود ہے اس کا سب سے اہم جزء یہ تھا کہ باہمی اختلاف کے وقت رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ سب کے لئے واجب التعمیل ہوگا، دوسرا جزء یہ تھا کہ یہود مدینہ مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کو ظاہرا یا باطنا کوئی امداد نہیں دیں گے۔ لیکن ان لوگوں نے غزوہ بدر کے وقت عہد شکنی کرکے مشرکین مکہ کو اسلحہ اور سامان جنگ سے مدد پہنچائی۔ مگر جب غزوہ بدر کا انجام مسلمانوں کی فتح مبین اور کفار کی ہزیمت و شکست کی صورت میں سامنے آیا تو پھر ان لوگوں پر رعب غالب ہوا اور آنحضرت ﷺ کے سامنے حاضر ہو کر عذر کیا کہ اس مرتبہ ہم سے غلطی ہوگئی اس کو معاف فرما دیں آئندہ عہد شکنی نہیں کریں گے۔
آنحضرت ﷺ نے اسلامی حلم و کرم جو آپ کا شعار تھا اس کی بنا پر دوبارہ معاہدہ کی تجدید فرمالی۔ مگر یہ لوگ اپنی سرشت سے مجبور تھے غزوہ احد میں مسلمانوں کی ابتدائی شکست اور نقصان کا علم ہو کر ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور ان کا سردار کعب بن اشرف خود سفر کرکے مکہ پہنچا اور مشرکین مکہ کو اس پر آمادہ کیا گیا کہ اب وہ پوری تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کریں اور یہود مدینہ ان کے ساتھ ہوں گے۔
یہ دوسری عہد شکنی تھی جو ان لوگوں نے اسلام کے خلاف کی۔ آیت مذکورہ میں اس بار بار کی عہد شکنی کا ذکر فرما کر ان لوگوں کی شرارت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے آپ نے معاہدہ کرلیا مگر یہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑتے رہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ ڈرتے نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بدنصیب لوگ چونکہ ہوس دنیا میں مست وبے ہوش ہیں آخرت کی فکر ہی نہیں اس لئے آخرت کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے بدکردار عہد شکن لوگوں کا جو انجام بد اس دنیا میں ہوا کرتا ہے یہ لوگ اپنی غفلت و نادانی کی وجہ سے اس سے نہیں ڈرتے۔
پھر ساری دنیا نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ان لوگوں نے اپنی اس بدکرداری کی سزا چکھی۔ ابو جہل کی طرح کعب بن اشرف مارا گیا، اور یہود مدینہ جلا وطن کئے گئے۔
Ayah 8:57چوتھی آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان بد عہدوں کے بارے میں ایک ہدایت نامہ دیا جس کے الفاظ یہ ہیں
(آیت) فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ، اس میں لفظ تَثْقَفَنَّهُمْ کے معنی ہیں ان پر قابو پانے کے اور شَرِّدْ مصدر تشرید سے بنا ہے جس کے اصلی معنی بھگا دینے اور منتشر کردینے کے ہیں معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر آپ کسی جنگ میں ان لوگوں پر قابو پالیں تو ان کو ایسی سخت دردناک سزا دیں جو دوسروں کے لئے عبرت ہوجائے ان کے پیچھے جو لوگ ان کے سہارے پر اسلام دشمنی میں لگے ہوئے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ اب خیر اسی میں ہے کہ یہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچائیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ان کو ایسی سزا دی جائے جس کو دیکھ کر مشرکین مکہ اور دوسرے دشمن قبائل بھی متاثر ہوں اور آئندہ ان کو مسلمانوں کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ رہے۔
آخر آیت میں لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ فرما کر رب العالمین کی رحمت عامہ کی طرف اشارہ کردیا کہ اس دردناک سزا کا اصلی مقصد بھی کوئی انتقام لینا یا اپنے غصہ کو فرو کرنا نہیں بلکہ انھیں کی یہ مصلحت ہے کہ شاید یہ صورت حال دیکھ کر یہ لوگ کچھ ہوش میں آجائیں اور اپنے کئے پر نادم ہو کر اپنی اصلاح کرلیں۔
Ayah 8:58معاہدہ صلح کو ختم کرنے کی صورت
پانچویں آیت میں رسول اللہ ﷺ کو جنگ و صلح کے قانون کی ایک اہم دفعہ بتلائی گئی ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی خاص اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت معاہدہ کے دوسرے فریق کی طرف سے خیانت یعنی عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو یہ ضروری نہیں کہ ہم معاہدہ کی پابندی کو بدستور قائم رکھیں لیکن یہ بھی جائز نہیں کہ معاہدہ کو صاف طور پر ختم کردینے سے پہلے ہم ان کے خلاف کوئی اقدام کریں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ ان کو اطمینان و فرصت کی حالت میں اس سے آگاہ کردیا جائے کہ تمہاری بدنیتی یا خلاف ورزی ہم پر ظاہر ہوچکی ہے یا یہ کہ تمہارے معاملات مشتبہ نظر آتے ہیں اس لئے ہم آئندہ اس معاہدہ کے پابند نہیں رہیں گے تم کو بھی ہر طرح اختیار ہے کہ ہمارے خلاف جو کارروائی چاہو کرو۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں
(آیت) وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ یعنی اگر آپ کو کسی قوم معاہد سے خیانت اور عہد شکنی کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو ان کا عہد ان کی طرف ایسی صورت سے واپس کردیں کہ آپ اور وہ برابر ہوجائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ صلح ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں کوئی جنگی اقدام کرنا خیانت میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے اگرچہ یہ خیانت دشمن کافروں ہی کے حق میں کی جائے۔ وہ بھی جائز نہیں البتہ اگر دوسری طرف سے عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو ایسا کیا جاسکتا ہے کہ کھلے طور پر ان کو اعلان کے ساتھ آگاہ کردیں کہ ہم آئندہ معاہدہ کے پابند نہیں رہیں گے۔ مگر یہ اعلان ایسی طرح ہو کہ مسلمان اور دوسرا فریق اس میں برابر ہوں۔ یعنی ایسی صورت نہ کی جائے کہ اس اعلان و تنبیہ سے پہلے ان کے مقابلہ کی تیاری کرلی جائے اور وہ خالی الذہن ہونے کی بنا پر تیاری نہ کرسکیں بلکہ جو کچھ تیاری کرنا ہے وہ اس اعلان و تنبیہ کے بعد کریں۔
یہ ہے اسلام کا عدل و انصاف کہ خیانت کرنے والے دشمنوں کے بھی حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے اور مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں اس کا پابند کیا جاتا ہے کہ عہد کو واپس کرنے سے پیشتر کوئی تیاری بھی ان کے خلاف نہ کریں (مظہری وغیرہ)
ایفائے عہد کا ایک واقعہ عجیبہ
ابوداؤد، ترمذی، نسائی، امام احمد بن حنبل نے سلیم بن عامر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت معاویہ کا ایک قوم کے ساتھ ایک میعاد کے لئے التواء جنگ کا معاہدہ تھا، حضرت معاویہ نے ارادہ فرمایا کہ اس معاہدہ کے ایام میں اپنا لشکر اور سامان جنگ اس قوم کے قریب پہنچا دیں تاکہ معاہدہ کی میعاد ختم ہوتے ہی وہ دشمن پر ٹوٹ پڑیں۔ مگر عین اس وقت جب حضرت معاویہ کا لشکر اس طرف روانہ ہو رہا تھا یہ دیکھا گیا کہ ایک معمر آدمی گھوڑے پر سوار بڑے زور سے یہ نعرہ لگا رہے ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر وفآءً لا غدرا۔ یعنی نعرہ تکبیر کے ساتھ یہ کہا کہ ہم کو معاہدہ پورا کرنا چاہئے اس کی خلاف ورزی نہ کرنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس قوم سے کوئی صلح یا ترک جنگ کا معاہدہ ہوجائے تو چاہئے کہ ان کے خلاف نہ کوئی گرہ کھولیں اور نہ باندھیں۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر کی گئی۔ دیکھا تو یہ کہنے والے بزرگ حضرت عمرو بن عنبسہ صحابی تھے۔ حضرت معاویہ نے فورا اپنی فوج کو واپسی کا حکم دے دیا تاکہ التواء جنگ کی میعاد میں لشکر کشی پر اقدام کرکے خیانت میں داخل نہ ہوجائیں (ابن کثیر)۔
Ayah 8:59خلاصہ تفسیر
اور کافر لوگ اپنے کو یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے یقینًا وہ لوگ (اللہ تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے کہ اس کے ہاتھ نہ آئیں یا تو دنیا ہی میں مبتلائے عقوبت کردے گا ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے) اور ان کافروں سے (مقابلہ کرنے) کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے ہتھیار سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو کہ اس (سامان) کے ذریعہ سے تم (اپنا) رعب جمائے رکھو ان پر جو کہ (کفر کی وجہ سے) اللہ کے دشمن ہیں اور (تمہاری فکر میں رہنے کی وجہ سے) تمہارے دشمن ہیں (جن سے شب و روز تم کو سابقہ پڑتا رہتا ہے) اور ان کے علاوہ دوسرے (کافروں) پر بھی (رعب جمائے رکھو) جن کو تم (بالیقین) نہیں جانتے (بلکہ) ان کو اللہ ہی جانتا ہے (جیسے کفار فارس اور روم وغیرہم جن سے اس وقت سابقہ نہیں پڑا مگر صحابہ کا ساز و سامان و فن سپہگری اپنے وقت میں ان کے مقابلہ میں بھی کام آیا اور ان پر بھی رعب جما، بعض مقابل ہو کر مغلوب ہوئے بعض نے جزیہ قبول کیا کہ یہ بھی اثر رعب کا ہے) اور اللہ کی راہ میں (جس میں جہاد بھی آگیا) جو کچھ بھی خرچ کرو گے (جس میں وہ خرچ بھی آگیا جو ساز ویراق درست کرنے میں کیا جائے) وہ (یعنی اس کا ثواب) تم کو (آخرت میں) پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارے لئے (اس میں) کچھ کمی نہ ہوگی اور اگر وہ (کفار) صلح کی طرف جھکیں تو آپ (کو) بھی (اجازت ہے کہ اگر اس میں مصلحت دیکھیں تو) اس طرف جھک جایئے اور (اگر باوجود مصلحت کے یہ احتمال ہو کہ یہ ان کی چال نہ ہو تو) تو اللہ پر بھروسہ رکھئے (ایسے احتمالوں سے اندیشہ نہ کیجئے) بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (ان کے اقوال اور احوال کو سنتا جانتا ہے ان کا خود انتظام کردے گا) اور اگر (واقع میں وہ احتمال صحیح ہو اور) وہ لوگ (سچ مچ صلح سے) آپ کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تعالیٰ آپ (کی مدد اور حفاظت کرنے) کے لئے کافی ہیں (جیسا کہ اس کے قبل بھی آپ کی کفایت فرماتے تھے چنانچہ) وہ وہی ہے جس نے آپ کو اپنی (غیبی) امداد (یعنی ملائکہ) سے اور (ظاہری امداد یعنی) مسلمانوں سے قوت دی۔
معارف و مسائل
مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں ان کفار کا ذکر ہے جو غزوہ بدر میں شریک نہیں تھے اس لئے بچ گئے یا شریک ہونے کے بعد بھاگ نکلے اس طرح اپنی جان بچالی۔ ان لوگوں کے متعلق اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ یوں نہ سمجھیں کہ ہم بچ نکلے۔ کیونکہ غزوہ بدر کفار کے لئے ایک عذاب الہی تھا اور اس کی پکڑ سے بچنا کسی کے بس میں نہیں۔ اس لئے فرمایا (آیت) اِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُوْنَ ، یعنی یہ لوگ اپنی چالاکی سے اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ جب پکڑنا چاہیں گے یہ ایک قدم نہ سرک سکیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا ہی میں پکڑ لئے جائیں ورنہ آخرت میں تو ان کی گرفتاری ظاہر ہے۔
اس آیت نے اس طرف اشارہ کردیا کہ کوئی مجرم گناہگار اگر کسی مصیبت اور تکلیف سے نجات پا جائے اور پھر بھی توبہ نہ کرے بلکہ اپنے جرم پر ڈٹا رہے تو یہ اس کی علامت نہ سمجھو کہ وہ کامیاب ہوگیا اور ہمیشہ کے لئے چھوٹ گیا بلکہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور یہ ڈھیل اس کے عذاب اور مصبیت کو اور بڑھا رہی ہے گو اس کو محسوس نہ ہو۔
Ayah 8:60جہاد کے لئے اسلحہ اور سامان حرب کی تیاری فرض ہے
دوسری آیت میں اسلام سے دفاع اور کفار کے مقابلہ کے لئے تیاری کے احکام ہیں، ارشاد فرمایا (آیت) وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ۔ یعنی سامان جنگ کی تیاری کرو کفار کے لئے جس قدر تم سے ہوسکے۔ اس میں سامان جنگ کی تیاری کے ساتھ مّا اسْـتَـطَعْتُمْ کی قید لگا کر یہ اشارہ فرمادیا کہ تمہاری کامیابی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تمہارے مقابل کے پاس جیسا اور جتنا سامان ہے تم بھی اتنا ہی حاصل کرلو۔ بلکہ اتنا کافی ہے کہ اپنی مقدور بھر جو سامان ہوسکے وہ جمع کرلو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد تمہارے ساتھ ہوگی۔
اس کے بعد اس سامان کی کچھ تفصیل اس طرح فرمائی مِّنْ قُوَّةٍ یعنی مقابلہ کی قوت جمع کرو اس میں تمام جنگی سامان اسلحہ، سواری وغیرہ بھی داخل ہیں اور اپنے بدن کی ورزش، فنون جنگ کا سیکھنا بھی، قرآن کریم نے اس جگہ اس زمانہ کے مروجہ ہتھیاروں کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ قوت کا عام لفظ اختیار فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ یہ قوت ہر زمانہ اور ہر ملک و مقام کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے اس زمانہ کے اسلحہ تیر، تلوار، نیزے تھے اس کے بعد بندوق توپ کا زمانہ آیا۔ پھر اب بموں اور راکٹوں کا وقت آگیا۔ لفظ قوت ان سب کو شامل ہے اس لئے آج کے مسلمانوں کو بقدر استطاعت ایٹمی قوت، ٹینک اور لڑاکا طیا رے، آب دوز کشتیاں جمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ سب اسی قوت کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اور اس کے لئے جس علم و فن کو سیکھنے کی ضرورت پڑے وہ سب اگر اس نیت سے ہو کہ اس کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کا اور کفار کے مقابلہ کا کام لیا جائے گا تو وہ بھی جہاد کے حکم میں ہے۔
لفظ قوت عام ذکر کرنے کے بعد ایک خاص قوت کا صراحةً بھی ذکر فرما دیا (آیت) وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ لفظ رباط مصدری معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور مربوط کے معنی میں بھی پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے گھوڑے باندھنا اور دوسری صورت میں بندھے ہوئے گھوڑے۔ حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ جہاد کی نیت سے گھوڑے پالنا اور ان کو باندھنا یا پلے ہوئے گھوڑوں کو جمع کرنا۔ سامان جنگ میں سے خصوصیت کے ساتھ گھوڑوں کا ذکر اس لئے کردیا کہ اس زمانہ میں کسی ملک و قوم کے فتح کرنے میں سب سے زیادہ موثر و مفید گھوڑے ہی تھے۔ اور آج بھی بہت سے ایسے مقامات ہیں جن کو گھوڑوں کے بغیر فتح نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانی میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھ دی ہے۔
صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے سامان جنگ فراہم کرنے اور اس کے استعمال کی مشق کرنے کو بڑی عبادت اور موجب ثواب عظیم قرار دیا ہے۔ تیر بنانے اور چلانے پر بڑے بڑے اجر وثواب کا وعدہ ہے۔
اور چونکہ جہاد کا اصل مقصد اسلام اور مسلمانوں سے دفاع ہے ہر زمانہ اور ہر قوم کا جدا ہوتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جاھدوا المشرکین با موالکم وانفسکم والسنتکم (رواہ ابو داؤد والنسائی والدارمی عن انس)۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح دفاع و جہاد ہتھیاروں سے ہوتا ہے بعض اوقات زبان سے بھی ہوتا ہے اور قلم بھی زبان ہی کے حکم میں ہے۔ اسلام اور قرآن سے کفر و الحاد کے حملوں اور تحریفوں کی مدافعت زبان یا قلم سے یہ بھی اس صریح نص کی بنا پر جہاد میں داخل ہے۔
آیت مذکورہ میں سامان جنگ کی تیاری کا حکم دینے کے بعد اس سامان کے جمع کرنے کی مصلحت اور اصل مقصد بھی ان الفاظ میں بیان فرمایا (آیت) تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ یعنی سامان جنگ و دفاع جمع کرنے کا اصل مقصد قتل و قتال نہیں بلکہ کفر و شرک کو زیر کرنا اور مرعوب و مغلوب کردینا ہے وہ کبھی صرف زبان یا قلم سے بھی ہوسکتا ہے اور بعض اوقات اس کے لئے قتل و قتال ضروری ہوتا ہے۔ جیسی صورت حال ہو اس کے مطابق دفاع کرنا فرض ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جنگ و جہاد کی تیاری سے جن لوگوں کو مرعوب کرنا مقصود ہے ان میں سے بعض کو تو مسلمان جانتے ہیں اور وہ وہ لوگ ہیں جن سے مسلمانوں کا مقابلہ جاری تھا یعنی کفار مکہ اور یہود مدینہ۔ اور کچھ وہ لوگ بھی ہیں جن کو ابھی تک مسلمان نہیں جانتے۔ مراد اس سے پوری دنیا کے کفار و مشرکین ہیں جو ابھی تک مسلمانوں کے مقابلہ پر نہیں آئے مگر آئندہ ان سے بھی تصادم ہونے والا ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت نے بتلا دیا کہ اگر مسلمانوں نے اپنے موجودہ حریف کے مقابلہ کی تیاری کرلی تو اس کا رعب صرف انہیں پر نہیں بلکہ دور دور کے کفار کسرٰی و قیصر وغیرہ پر بھی پڑے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اور خلفائے راشدین کے عہد میں یہ سب مغلوب و مرعوب ہوگئے۔
جنگی سامان جمع کرنے اور جنگ کرنے میں ضرورت مال کی بھی پڑتی ہے بلکہ سامان جنگ بھی مال ہی کے ذریعہ تیار کیا جاسکتا ہے اس لئے آخر آیت میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت اور اس کا اجر عظیم اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اس راہ میں تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دے دیا جائے گا۔ بعض اوقات تو دنیا میں بھی مال غنیمت کی صورت میں یہ بدلہ مل جاتا ہے ورنہ آخرت کا بدلہ تو متعین ہے اور ظاہر ہے وہ زیادہ قابل قدر ہے۔
Ayah 8:61تیسری آیت میں صلح کے احکام اور اس کے متعلقات کا بیان ہے ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، لفظ سلم بفتح السین اور سلم بکسرا لسین دونوں طرح صلح کے معنی میں آتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر کفار کسی وقت صلح کی طرف جھکیں تو آپ کو بھی جھک جانا چاہئے۔ یہاں صیغہ امر تخییر کے لئے استعمال فرمایا ہے مراد یہ ہے کہ جب کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ کو بھی اختیار ہے اگر مسلمانوں کی مصلحت صلح میں محسوس کریں تو صلح کرسکتے ہیں۔ اور اِنْ جَنَحُوْا کی قید سے معلوم ہوا کہ صلح اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کفار کی طرف سے صلح کی خواہش ظاہر ہو۔ کیونکہ بغیر ان کی خواہش کے اگر مسلمان خود ہی صلح کی تحریک کریں تو یہ ان کی کمزوری سمجھی جائے گی۔
ہاں اگر کوئی موقع ایسا آپڑے کہ مسلمان کسی نرغہ میں گھر جائیں اور اپنی سلامتی کے لئے کوئی صورت بجز صلح کے نظر نہ آئے تو صلح میں پیش قدمی بھی بقول فقہاء جائز اور اشارات نصوص سے ثابت ہے۔
اور چونکہ دشمن کی جانب سے صلح کی خواہش ہونے میں یہ احتمال رہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر غفلت میں ڈال دیں اور پھر یکبارگی حملہ کردیں اس لئے آخر آیت میں رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی کہ (آیت) وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ، یعنی آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں کہ وہی خوب سننے والے جاننے والے ہیں۔ وہ انکی گفتگو کو بھی سنتے ہیں۔ اور ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ارادوں کو بھی جانتے ہیں وہ آپ کی مدد کے لئے کافی ہیں۔ آپ ایسے بےدلیل احتمالات پر اپنے کاموں کی بنیاد نہ رکھیں۔ اور ایسے خطرات کو اللہ کے حوالہ کردیں۔
Ayah 8:62اس کے بعد چوتھی آیت میں اسی مضمون کو اور زیادہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤ ْمِنِيْنَ۔
یعنی اگر یہی احتمال واقع ہوجائے کہ صلح کرنے سے ان کی نیت خراب ہو آپ کو دھوکہ ہی دینا چاہیں تب بھی آپ کوئی پروانہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کافی ہیں پہلے بھی اللہ تعالے ہی کی امداد و تائید سے آپ کا کام چلا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مدد سے آپ کی تائید فرمائی جو آپ کی فتح و کامیابی کی اصل بنیاد اور حقیقت ہے اور ظاہری طور پر مسلمانوں کی جماعت آپ کی امداد کے لئے کھڑی کردی جو اسباب ظاہرہ میں سے ہیں۔ تو جس مالک حقیقی اور قادر مطلق نے تمام اسباب فتح و کامیابی کو وجود عطا فرمایا وہ آج بھی دشمنوں کے دھوکہ فریب کے معاملہ میں آپ کی مدد فرمائے گا۔ اسی وعدہ خداوندی کے تحت اس آیت کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ کو عمر بھر کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ دشمنوں کے دھوکہ فریب سے کوئی گزند پہنچی ہو۔ اسی لئے علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ یہ وعدہ آنحضرت ﷺ کے لئے ایسا ہے جیسا کہ (آیت) وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا وعدہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی نگرانی کرنے والے صحابہ کرام کو مطمئن اور سبکدوش فرما دیا تھا۔ اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا (بیان القرآن) دوسرے لوگوں کو ظاہری تدبیر اور گرد و پیش کے حالات کے تابع کام کرنا چاہئے۔