8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور الفت ڈالی ان کے دلوں میں، اگر تو خرچ کردیتا جو کچھ زمین میں ہے سارا نہ الفت ڈال سکتا ان کے دلوں میں لیکن اللہ نے الفت ڈالی ان میں، بیشک وہ زور آور ہے حکمت والا،

خلاصہ تفسیر اور (مسلمانوں کو ذریعہ امداد بنانے کے لئے) ان کے قلوب میں اتفاق پیدا کردیا (چناچہ ظاہر ہے کہ اگر باہم اتفاق نہ ہو تو کوئی کام خصوص دین کی نصرت مل کر نہیں کرسکتے اور ان میں بوجہ حب ریاست اور غلبہ بغض و عداوت اتفاق ایسا دشوار تھا کہ) اگر آپ (باوجودیکہ عقل و تدبیر بھی کامل رکھتے ہیں اور سامان بھی اس کے لئے آپ کے پاس کافی ہوتا یہاں تک کہ) دنیا بھر کا مال (اس کام کے لئے) خرچ کرتے تب بھی ان کے قلوب میں اتفاق پیدا نہ کرسکتے لیکن (یہ) اللہ ہی (کا کام تھا کہ اس) نے ان میں باہم اتفاق پیدا کردیا بیشک وہ زبردست ہیں (کہ جو چاہیں اپنی قدرت سے کردیں اور) حکمت والے ہیں (کہ جس طریق سے مناسب جانیں اس کام کو کردیں اور جب اللہ تعالیٰ کا اپنی غیبی امداد اور مومین سے آپ کی نصرت فرمانا معلوم ہوگیا تو) اے نبی (اس سے ثابت ہوگیا کہ) آپ کے لئے (حقیقت میں) اللہ کافی ہے اور جن مومین نے آپ کا اتباع کیا ہے (ظاہرا) وہ کافی ہیں اے پیغمبر ﷺ آپ مومین کو جہاد کی ترغیب دیجئے (اور اس کے متعلق یہ قانون سنا دیجئے کہ) اگر تم میں کے بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو) اپنے سے دس گونہ عدد پر یعنی) دو سو پر غالب آجائیں گے اور (اسی طرح) اگر تم میں کے سو آدمی ہوں گے تو ہزار کفار پر غالب آجائیں گے اس وجہ سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (دین کو) کچھ نہیں سمجھتے (اور اس وجہ سے کفر پر مصر ہیں اور اس سبب سے ان کو غیبی امداد نہیں پہنچتی اس سبب سے وہ مغلوب ہوجاتے ہیں پس تم پر واجب ہے کہ اپنے سے دس گونہ کے مقابلہ سے بھی پسپا نہ ہو۔ اول یہ حکم نازل ہوا تھا جب صحابہ پر شاق ہوا تو عرض کیا ایک مدت کے بعد یہ دوسری آیت جس سے وہ پہلا حکم منسوخ ہوگیا نازل ہوئی یعنی) اب اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے سو (یہ حکم دیا جاتا ہے کہ) اگر تم میں کے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو (اپنے سے دو گونہ عدد پر یعنی) دو سو پر غالب آجائیں گے اور (اسی طرح) اگر تم میں کے ہزار ہوں گے تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آجائیں گے اور (ہم نے جو صابر کی قید لگائی تو اس لئے کہ) اللہ تعالیٰ صابرین (یعنی جو دل اور قدم سے ثابت رہیں ان) کے ساتھ ہیں (یعنی ان کی مدد کرتے ہیں) معارف و مسائل سورة انفال کی مذکورہ چار آیتوں میں سے پہلی آیت میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی کے اصلی سبب اور اس کے حصول کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کو یہ خطاب کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے اپنی خاص مدد سے اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی تائید اور نصرت فرمائی ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے کسی کی امداد و نصرت ظاہر ہے کہ صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ یہ جماعت باہم متفق اور متحد ہو۔ اور بقدر اتفاق و اتحاد ہی اس کی قوت اور وزن ہوتا ہے۔ باہمی اتحاد و یگانگت کے رشتے قوی ہیں تو پوری جماعت قوی ہے اور اگر یہ رشتے ڈھیلے ہیں تو پوری جماعت ڈھیلی اور کمزور ہے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے اس خاص انعام کا ذکر فرمایا جو آنحضرت ﷺ کی تائید و نصرت کے لئے عام مسلمانوں پر ہوا کہ ان کے دلوں میں مکمل وحدت و الفت پیدا کردی گئی۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت مدینہ سے پہلے ان کے دو قبلیوں۔ اوس و خزرج کے آپس میں شدید جنگیں لڑی جاچکی تھیں اور جھگڑے چلتے رہتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی برکت سے اللہ تعالے نے ان جانی دشمنوں کو باہم شیر و شکر بھائی بھائی بنادیا۔ مدینہ میں قائم ہونے والی نئی ریاست کے قیام وبقاء اور دشمنوں پر غالب آنے کا حقیقی اور معنوی سبب تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد تھی اور ظاہری سبب مسلمانوں کی آپس میں مکمل الفت و محبت اور اتفاق و اتحاد تھا۔ اس کے ساتھ اس آیت میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ مختلف لوگوں کے دلوں کو جوڑ کر ان میں الفت و محبت پیدا کرنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں صرف اس ذات کا کام ہے جس نے سب کو پیدا کیا ہے۔ اگر کوئی انسان ساری دنیا کی دولت بھی اس کام کے لئے خرچ کر ڈالے کہ باہم منافرت رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں الفت پیدا کردے تو وہ کبھی اس پر قابو نہیں پاسکتا۔ مسلمانوں کا آپس میں حقیقی اور پائیدار اتفاق اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری پر موقوف ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگوں کے قلوب میں باہمی الفت و محبت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ساتھ اس کے انعام کو حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ حصول انعام کے لئے اس کی اطاعت و رضا جوئی شرط ہے۔ جماعتوں اور افراد کے درمیان وحدت و اتفاق ایک ایسی چیز ہے جس کے محمود اور مفید ہونے سے کسی مذہب و ملت اور کسی فکر و نظر والے کو اختلاف نہیں ہوسکتا اور اسی لئے ہر شخص جو لوگوں کی اصلاح کی فکر کرتا ہے وہ ان کو آپس میں متفق کرنے پر زور دیتا ہے لیکن عام دنیا اس حقیقت سے بیخبر ہے کہ دلوں کا پورا اور پائیدار اتفاق ظاہری تدبیروں سے حاصل نہیں ہوتا یہ صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت و رضاجوئی سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن حکیم نے اس حقیقت کی طرف کئی آیتوں میں اشارے فرمائے ہیں۔ ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۔ اس میں اختلاف و تفرقہ سے بچنے کی یہ تدبیر بتلائی گئی ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی یعنی قرآن یا شریعت اسلام کو مضبوط تھام لیں تو سب آپس میں خود بخود متفق ہوجائیں گے اور باہمی تفرقے ختم ہوجائیں گے۔ رائے کا اختلاف دوسری چیز ہے اور وہ جب تک اپنی حد کے اندر رہے تفرقہ اور جھگڑے کا سبب کبھی نہیں بنتا۔ جھگڑا فساد جبھی ہوتا ہے جب کہ حدود شریعت سے تجاوز کیا جائے۔ آج اتفاق اتفاق تو سب پکارتے ہیں مگر اتفاق کے معنی ہر شخص کے نزدیک یہ ہوتے ہیں کہ لوگ میری بات مان لیں تو اتفاق ہوجائے۔ اور دوسرے بھی اتفاق کے لئے اسی فکر میں ہوتے ہیں کہ وہ ہماری بات مان لیں تو اتفاق ہوجائے۔ حالانکہ جب رایوں کا اختلاف اہل عقل و دیانت میں ناگزیر اور ضروری ہے تو یہ ظاہر ہے کہ اگر ہر شخص دوسرے کے ساتھ متفق ہونے کو اس پر موقوف رکھے کہ دوسرا اس کی بات مان لے تو قیامت تک آپس میں اتفاق نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اتفاق کی صحیح اور فطری صورت وہ ہی ہے جو قرآن نے بتلائی کہ دونوں مل کر کسی تیسرے کی بات کو تسلیم کرلیں اور تیسرا وہی ہونا چاہئے جس کے فیصلے میں غلطی کا امکان نہ ہو۔ وہ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے اس لئے آیت مذکورہ میں اس کی ہدایت فرمائی گئی کہ سب مل کر اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو تو آپس کے جھگڑے ختم ہو کر اتفاق کامل پیدا ہوجائے گا۔ ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا۔ یعنی جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ ان کے آپس میں محبت و مودت پیدا فرما دیتے ہیں۔ اس آیت نے واضح کردیا کہ دلوں میں حقیقی محبت و مودت پیدا ہونے کا اصلی طریق ایمان اور عمل صالح کی پابندی ہے اس کے بغیر اگر کہیں کوئی اتفاق و اتحاد مصنوعی طور پر قائم کر بھی لیا جائے تو وہ محض بےبنیاد اور کمزور ہوگا ذرا سی ٹھیس میں ختم ہوجائے گا۔ جس کا مشاہدہ تمام اقوام دنیا کے حالات و تجربات سے ہوتا رہتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں رسول کریم ﷺ پر حق تعالیٰ کے اس انعام کی وضاحت کی گئی ہے جو مدینہ کے تمام قبائل کے دلوں میں الفت پیدا کرکے رسول کریم ﷺ کی امداد و نصرت کے لئے ان کو ایک آہنی دیوار کی طرح بنا کر کیا گیا ہے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی کافی ہے تجھ کو اللہ اور جتنے تیرے ساتھ ہیں مسلمان اے نبی شوق دلا مسلمانوں کو لڑائی کا

دوسری آیت میں بھی یہی مضمون خلاصہ کے طور پر بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے لئے حقیقت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ اور ظاہر کے اعتبار سے مؤمنین کی جماعت کافی ہے آپ کسی بڑے سے بڑے دشمن کی تعداد یا سامان سے خوف زدہ نہ ہوں۔ حضرت مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت غزوہ بدر کے میدان میں جنگ شروع ہونے سے پہلے نازل ہوئی تھی تاکہ قلیل التعداد، بےسامان مسلمان اپنے مقابل کی بھاری تعداد اور بھاری سامان سے مرعوب نہ ہوجائیں۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اگر ہو تم میں بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر، اور اگر ہوں تم میں سو شخص تو غالب ہوں ہزار کافروں پر اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔

تیسری اور چوتھی آیت میں مسلمانوں کے لئے ایک جنگی قانون کا ذکر ہے کہ ان کو کس حد تک اپنے حریف کے مقابلہ پر جمنا فرض اور اس سے ہٹنا گناہ ہے۔ پچھلی آیات اور واقعات میں اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی امداد غیبی مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے ان کا معاملہ عام اقوام دنیا کا سا معاملہ نہیں یہ تھوڑے بھی بہت سوں پر غالب آسکتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ (یعنی بہت سی قلیل التعداد جماعتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے کثرت والے مقابل پر غالب آجاتی ہیں) اس لئے اسلام کے سب سے پہلے جہاد غزوہ بدر میں دس مسلمانوں کو سو آدمیوں کے برابر قرار دے کر یہ حکم دیا گیا کہ اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو دشمنوں پر غالب آجائیں گے اور اگر تم سو ہوگے تو ایک ہزار کافروں پر غالب آجاؤ گے۔ عنوان تعبیر اس میں ایک خبر کا رکھا گیا ہے کہ سو مسلمان ایک ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے مگر مقصد یہ حکم دینا ہے کہ سو مسلمانوں کو ایک ہزار کفار کے مقابلہ سے بھاگنا جائز نہیں۔ عنوان خبر کا رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ مسلمانوں کے دل اس خوشخبری سے مضبوط ہوجائیں کہ اللہ کا وعدہ ہماری حفاظت اور غلبہ کا ہے۔ اگر حکم کو بصیغہ امر قانون کی صورت میں پیش کیا جاتا تو فطری طور پر وہ بھاری معلوم ہوتا۔ غزوة بدر پہلے پہل کی جنگ ایسی حالت میں تھی جب کہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد ہی بہت کم تھی اور وہ بھی سب کے سب محاذ جنگ پر گئے نہ تھے بلکہ فوری طور پر جو لوگ تیار ہوسکے وہی اس جنگ کی فوج بنے اس لئے جہاد میں سو مسلمانوں کو ایک ہزار کافروں کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا اور ایسے انداز میں دیا کہ فتح و نصرت کا وعدہ ساتھ تھا۔ چوتھی آیت میں اس حکم کو آئندہ کے لئے منسوخ کرکے دوسرا حکم یہ دیا گیا کہ اب اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں ہمت کی کمی ہے سو اگر تم میں کے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آجائیں گے۔ یہاں بھی مقصد یہ ہے کہ سو مسلمانوں کو دو سو کافروں کے مقابلہ سے گریز کرنا جائز نہیں۔ پہلی آیت میں ایک مسلمان کو دس کے مقابلہ سے گریز ممنوع قرار دیا تھا اس آیت میں ایک کو دو کے مقابلہ سے گریز ممنوع رہ گیا۔ اور یہی آخری حکم ہے جو ہمیشہ کے لئے جاری اور باقی ہے۔ یہاں بھی حکم کو حکم کے عنوان سے نہیں بلکہ خبر اور خوشخبری کے انداز سے بیان فرمایا گیا ہے جس میں اشارہ ہے کہ ایک مسلمان کو دو کافروں کے مقابلہ پر جمنے کا حکم معاذ اللہ کوئی بےانصافی یا تشدد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان میں اس کے ایمان کی وجہ سے وہ قوت رکھ دی ہے کہ ان میں کا ایک دو کے برابر رہتا ہے۔ مگر دونوں جگہ اس فتح و نصرت کی خوشخبری کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے کہ یہ مسلمان ثابت قدم رہنے والے ہوں اور ظاہر ہے یہ قتل و قتال کے میدان میں اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ثابت قدم رہنا اسی کا کام ہوسکتا ہے جس کا ایمان کامل ہو۔ کیونکہ ایمان کامل انسان کو شوق شہادت کا جذبہ عطا کرتا ہے اور یہ جذبہ اس کی طاقت کو بہت کچھ بڑھا دیتا ہے۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب بوجھ ہلکا کردیا اللہ نے تم پر سے اور جانا کہ تم میں سستی ہے، سو اگر ہوں تم میں سو شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں دو سو پر، اگر ہوں تم میں ہزار تو غالب ہوں دو ہزار پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ ساتھ ہے ثابت قدم رہنے والوں کے۔

آخر آیت میں عام قانون کی صورت سے بتلا دیا (آیت) وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھی ہے۔ اس میں میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بھی شامل ہیں اور عام احکام شرعیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنے والے حضرات بھی۔ ان سب کے لئے معیت الہیہ کا وعدہ ہے اور یہ معیت ہی ان کی فتح و ظفر کا اصلی راز ہے۔ کیونکہ جس کو قادر مطلق کی معیت نصیب ہوگئی اس کو ساری دنیا مل کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتی۔
Ayah 8:67

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کو نہیں چاہئے کہ اپنے ہاں رکھے قیدیوں کو جب تک خوب خونریزی نہ کرلے ملک میں، تم چاہتے ہو اسباب دنیا کا، اور اللہ کے ہاں چاہئے آخرت، اور اللہ زور آور ہے حکمت والا۔

خلاصہ تفسیر (اے مسلمانو ! تم نے نبی ﷺ کو جو ان قیدیوں سے کچھ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا یہ بےجا تھا کیونکہ) نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں (بلکہ قتل کردیئے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح (کفار کی) خونریزی نہ کرلیں (کیونکہ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض دفع فساد ہے اور بدوں اس حد کے جس میں کہ بالکل شوکت کفار کی ٹوٹ جائے دفع فساد ممکن نہیں پس اس نوبت سے پہلے قیدیوں کا زندہ چھوڑ دینا آپ کی شان اصلاح کے مناسب نہیں البتہ جب ایسی قوت ہوجائے پھر قتل ضروری نہیں بلکہ اور صورتیں بھی مشروع ہیں پس ایسی نامناسب رائے تم نے آپ ﷺ کو کیوں دی) تم تو دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو (اس لئے فدیہ کی رائے دی) اور اللہ تعالیٰ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں (اور وہ اس میں ہے کہ کفار خوف سے مغلوب ہوجائیں جس میں آزادی سے اسلام کا نور و ہدایت پھیلے اور بےروک ٹوک لوگ بکثرت مسلمان ہوں اور نجات پاویں) اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست بڑی حکمت والے ہیں (وہ تم کو کفار پر غالب کرتے اور فتوحات کی کثرت سے تم کو مالدار کردیتے گو کسی حکمت کے سبب اس میں دیر ہوتی جو فعل تم سے واقع ہوا ہے وہ ایسا ناپسندیدہ ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکتا (وہ یہ کہ ان قیدیوں میں لوگ مسلمان ہوجائیں گے جس سے فساد محتمل واقع نہ ہوگا۔ اگر یہ ہوتا) تو جو امر تم نے اختیار کیا ہے اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوتی (لیکن چونکہ کوئی فساد نہ ہوا اور اتفاقا تمہارا مشورہ صائب نکل آیا اس لئے تم سزا سے بچ گئے یعنی ہم نے اس فدیہ کو مباح کردیا) سو جو کچھ تم نے (ان سے فدیہ میں) لیا ہے اس کو حلال پاک سمجھ کر کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (کہ آئندہ ہر طرح کی احتیاط رکھو) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ تمہارا گناہ بھی معاف کردیا یہ مغفرت ہے اور فدیہ بھی حلال کردیا یہ رحمت ہے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ کا تعلق غزوہ بدر کے ایک خاص واقعہ سے ہے اس لئے ان کی تفسیر سے پہلے صحیح اور مستند روایات حدیث کے ذریعہ اس واقعہ کا بیان ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر اسلام میں سب سے پہلا جہاد ہے اور اچانک پیش آیا ہے اس وقت تک جہاد سے متعلقہ احکام کی تفصیل قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی جہاد میں اگر مال غنیمت ہاتھ آجائے تو اسے کیا کیا جائے۔ دشمن کے سپاہی اپنے قبضہ میں آجائیں تو ان کو گرفتار کرنا جائز ہے یا نہیں اور گرفتار کرلیا جائے تو پھر ان کے ساتھ معاملہ کیا کرنا چاہئے۔ مال غنیمت کے متعلق پچھلے تمام انبیاء کی شریعتوں میں قانون یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس سے نفع اٹھانا اور استعمال کرنا حلال نہیں تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ پورا مال غنیمت جمع کرکے کسی میدان میں رکھ دیا جائے اور دستور الہی یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس سارے مال کو جلا کر خاک کردیتی۔ یہی علامت اس جہاد کے مقبول ہونے کی سمجھی جاتی تھی۔ اگر مال غنیمت کو جلانے کے لئے آسمانی آگ نہ آئے تو یہ اس کی علامت ہوتی ہے کہ جہاد میں کوئی کوتاہی رہی ہے جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطاء کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کفار سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کسی کے لئے حلال نہیں تھا مگر امت مرحومہ کے لئے حلال کردیا گیا۔ مال غنیمت کا اس امت کے لئے خصوصی طور پر حلال ہونا اللہ تعالیٰ کے تو علم میں تھا مگر غزوہ بدر کے واقعہ تک اس کے متعلق کوئی وحی آنحضرت ﷺ پر اس کے حلال ہونے کے متعلق نازل نہیں ہوئی تھی۔ اور غزوہ بدر میں صورت حال یہ پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بالکل خلاف قیاس غیر معمولی فتح عطا فرمائی۔ دشمن نے مال بھی چھوڑا جو بطور غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور ان کے بڑے بڑے ستر (70) سردار مسلمانوں نے گرفتار کرلئے۔ مگر ان دونوں چیزوں کے جائز ہونے کی صراحت کسی وحی الہی کے ذریعہ ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے صحابہ کرام کے اس عاجلانہ اقدام پر عتاب نازل ہوا۔ اسی عتاب و نازاضی کا اظہار ایک وحی کے ذریعہ کیا گیا جس میں جنگی قیدیوں کے متعلق بظاہر تو مسلمانوں کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تھا مگر اسی اختیار دینے میں ایک اشارہ اس کی طرف کردیا گیا تھا کہ مسئلہ کے دونوں پہلوؤں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک پسندیدہ اور دوسرا ناپسندیدہ ہے۔ جامع ترمذی، سنن نسائی، صحیح ابن حبان میں بروایت علی مرتضی منقول ہے کہ اس موقع پر حضرت جبریل امین رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اور یہ حکم سنایا کہ آپ صحابہ کرام کو دو چیزوں میں اختیار دے دیجئے ایک یہ کہ ان قیدیوں کو قتل کرکے دشمن کی شوکت کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیں۔ دوسرے یہ کہ ان کو فدیہ یعنی کچھ مال لے کر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس دوسری صورت میں بامر الہی یہ طے شدہ ہے اس کے بدلہ آئندہ سال مسلمانوں کے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے جتنے قیدی آج مال لے کر چھوڑ دیئے جائیں گے۔ یہ صورت اگرچہ تخییر کی تھی اور صحابہ کرام کو دونوں چیزوں کا اختیار دے دیا گیا تھا مگر دوسری صورت میں ستر مسلمانوں کی شہادت کا فیصلہ ذکر کرنے میں اس طرف ایک خفیف اشارہ ضرور موجود تھا کہ یہ صورت اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند نہیں کیونکہ اگر یہ پسند ہوتی تو ستر مسلمانوں کا خون اس کے نتیجہ میں لازم نہ ہوتا۔ صحابہ کرام کے سامنے جب یہ دونوں صورتیں بطور اختیار کے پیش ہوئیں تو بعض صحابہ کرام کا خیال یہ ہوا کہ اگر ان لوگوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ یہ سب یا بعض کسی وقت مسلمان ہوجائیں جو اصلی فائدہ اور مقصد جہاد ہے۔ دوسرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمان اس وقت افلاس کی حالت میں ہیں اگر ستر آدمیوں کا مالی فدیہ ان کو مل گیا تو ان کی تکلیف بھی دور ہوگی اور آئندہ کے لئے جہاد کی تیاری میں بھی مدد مل جائے گی۔ رہا ستر مسلمانوں کا شہید ہونا سو وہ مسلمانوں کے لئے خود ایک نعمت وسعادت ہے اس سے گبھرانا نہیں چاہئے۔ ان خیالات کے پیش نظر صدیق اکبر ؓ اور اکثر صحابہ کرام نے یہی رائے دی کہ ان قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کردیا جائے۔ صرف حضرت عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ وغیرہ چند حضرات نے اس رائے سے اختلاف کرکے ان سب کو قتل کردینے کی رائے اس بنیاد پر دی کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں قوت و طاقت فراہم کرنے والے سارے قریشی سردار اس وقت قابو میں آگئے ہیں ان کا قبول اسلام تو موہوم خیال ہے مگر یہ گمان غالب ہے کہ یہ لوگ واپس ہو کر پہلے سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف سرگرمی کا سبب بنیں گے۔ رسول کریم ﷺ جو رحمۃ للعالمین ہو کر تشریف لائے تھے اور رحمت مجسم تھے صحابہ کرام کی دو رائیں دیکھ کر آپ نے اس رائے کو قبول کرلیا جس میں قیدیوں کے معاملہ میں رحمت اور سہولت تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے صدیق اکبر اور فاروق اعظم کو خطاب کرکے فرمایا لو اتفقتما ما خالفتکما یعنی اگر دونوں کسی ایک رائے پر متفق ہوجاتے تو میں تمہاری رائے کے خلاف نہ کرتا (مظہری)۔ اختلاف رائے کے وقت آپ کی رحمت و شفقت علی الخلق کا تقاضا یہی ہوا کہ ان کے معاملے میں آسانی اختیار کی جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے نتیجہ میں آئندہ سال غزوہ احد کے موقع پر اشارات ربانی کے مطابق ستر مسلمانوں کے شہید ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ (آیت) تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا میں ان صحابہ کرام کو خطاب ہے جنہوں نے فدیہ لے کر چھوڑنے کی رائے دی تھی۔ اس آیت میں بتلایا گیا کہ آپ حضرات نے ہمارے رسول کو نامناسب مشورہ دیا۔ کیونکہ کسی نبی کے لئے یہ شایان شان نہیں ہے کہ اس کو دشمنوں پر قابو مل جائے تو ان کی قوت و شوکت کو نہ توڑے اور مفسد قسم کے دشمن کو باقی رکھ کر مسلمانوں کے لئے ہمیشہ کی مصیبت قائم کردے۔ اس آیت میں (آیت) حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ کے الفاظ آئے ہیں۔ لفظ اثخان کے معنی لغت میں کسی کی قوت و شوکت کو توڑنے میں مبالغہ سے کام لینے کے ہیں۔ اسی معنی کی تاکید کے لئے لفظ فِي الْاَرْضِ لایا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ دشمن کی شوکت کو خاک میں ملادے۔ جن صحابہ کرام نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی رائے دی تھی اگرچہ ان کی رائے میں ایک جز خالص دینی تھا یعنی آزادی کے بعد ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے کی امید۔ مگر ساتھ ہی دوسرا جز اپنی ذاتی منفعت کا بھی تھا کہ ان کو مال ہاتھ آجائے گا۔ اور ابھی تک کسی نص صریح سے اس مال کا جائز ہونا بھی ثابت نہ تھا۔ اس لئے انسانوں کا وہ معاشرہ جو رسول کریم ﷺ کے زیر تربیت اس پیمانہ پر بنایا جارہا تھا کہ ان کا مرتبہ فرشتوں سے بھی آگے ہو اس کے لئے یہ مال کی طرف دھیان بھی ایک قسم کی معصیت سمجھی گئی۔ اور جو کام جائز و ناجائز کاموں سے مرکب ہو اس کا مجموعہ ناجائز ہی کہلاتا ہے اس لئے صحابہ کرام کا یہ عمل قابل عتاب قرار دے کر یہ ارشاد نازل ہوا۔ (آیت) تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ یعنی تم لوگ دنیا کو چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طالب بنو۔ یہاں بطور عتاب کے ان کے صرف اس فعل کا ذکر کیا گیا جو وجہ ناراضی تھا دوسرا سبب یعنی قیدیوں کے مسلمان ہوجانے کی امید۔ اس کا یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ صحابہ کرام جیسی پاکباز مخلص جماعت کے لئے ایسی مشترک نیت جس میں کچھ دین کا جز ہو کچھ اپنے دنیوی نفع کا یہ بھی قابل قبول نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں عتاب و تنبیہ کا خطاب صحابہ کرام کی طرف ہے اگرچہ رسول کریم ﷺ نے بھی ان کی رائے کو قبول فرما کر ایک گونہ شرکت ان کے ساتھ کرلی تھی مگر آنحضرت ﷺ کا یہ عمل خالص آپ کے رحمة للعالمین ہونے کا مظہر تھا کہ صحابہ میں اختلاف رائے ہونے کی صورت میں اس صورت کو اختیار فرمالیا جو قیدیوں کے حق میں سہولت و شفقت کی تھی۔ آخر آیت میں واللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ زبردست، حکمت والے ہیں اگر آپ لوگ جلد بازی نہ کرتے تو وہ اپنے فضل سے آئندہ فتوحات میں تمہارے لئے مال و دولت کا بھی سامان کردیتے۔
Ayah 8:68

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر نہ ہوتی ایک بات جس کو لکھ چکا اللہ پہلے سے تو تم کو پہنچتا اس لینے میں بڑا عذاب۔

دوسری آیت بھی اسی عتاب کا تتمہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کام تم نے اختیار کیا کہ مال لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوجاتی۔ اس نوشتہ تقدیر سے کیا مراد ہے، اس کے متعلق ترمذی میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مال غنیمت تم سے پہلے کسی قوم کسی امت کے لئے حلال نہیں تھا۔ بدر کے موقع میں جب مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے حالانکہ ابھی تک ان کے لئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کے حلال ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کا یہ اقدام ایسا گناہ تھا کہ اس پر عذاب آجانا چاہئے تھا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا کہ اس امت کے لئے مال غنیمت حلال کیا جائے گا اس لئے مسلمانوں کی اس خطاء پر عذاب نازل نہیں کیا تھا۔ (مظہری) بعض روایات حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ عذاب الہی بالکل سامنے آچکا تھا۔ اللہ نے اپنے فضل سے روک دیا اور اگر عذاب آجاتا تو بجز عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے کوئی اس سے نہ بچتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سبب عتاب قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینا تھا اور ترمذی کی روایت سابقہ سے اس کا سبب مال غنیمت جمع کرنا معلوم ہوتا ہے مگر دونوں میں کوئی تضاد نہیں قیدیوں سے فدیہ لینا بھی مال غنیمت ہی کا جز ہے۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

سو کھاؤ جو تم کو غنیمت میں ملا حلال ستھرا اور ڈرتے رہو اللہ سے بےبیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔

مسئلہ۔ آیت مذکو رہ میں قیدیوں سے فدیہ لے کر آزاد کرنے یا مال غنیمت جمع کرنے پر جو عتاب نازل ہوا اور عذاب الہی سے ڈرایا گیا مگر پھر معافی دے دی گئی۔ اس سے یہ بات نہ کھلی کہ آئندہ کے لئے ان معاملات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ اس لئے اگلی آیت میں مال غنیمت کا مسئلہ تو صاف کردیا گیا (آیت) فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ یعنی جو مال غنیمت تم کو ہاتھ آگیا ہے وہ اب کھا سکتے ہو وہ آئندہ کے لئے تمہارے واسطے حلال کردیا گیا۔ مگر اس میں بھی ایک شبہ یہ رہ جاتا ہے کہ مال غنیمت حلال کرنے کا حکم تو اب ملا ہے۔ اس حکم سے پہلے جو غلطی سے جمع کرلیا گیا تھا شاید اس میں کسی قسم کی کراہت ہو اس لئے اس کے بعد حَلٰلًا طَيِّبًا فرما کر یہ شبہ بھی دور کردیا گیا کہ اگرچہ نزول حکم سے پہلے جمع غنیمت کا اقدام درست نہ تھا مگر اب جب کہ مال غنیمت حلال ہونے کا حکم آگیا تو پہلا جمع کیا ہوا بھی بغیر کسی کراہت کے حلال ہے۔ مسئلہ۔ یہاں اصول فقہ کا ایک مسئلہ قابل نظر اور قابل یاد داشت ہے کہ جب کسی ناجائز اقدام کے بعد مستقل آیت کے ذریعہ اس مال کو حلال کرنے کا حکم نازل ہوجائے تو سابقہ اقدام کا اس میں کوئی اثر نہیں رہتا۔ یہ مال حلال طیب ہوجاتا ہے جیسا کہ یہاں ہوا لیکن اسی کی ایک دوسری نظیر یہ ہے کہ کسی معاملہ میں حکم تو پہلے سے نازل شدہ تھا مگر اس کا ظہور عمل کرنے والوں پر نہیں تھا اس بنا پر اس کی خلاف ورزی کر گزرے، بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارا یہ عمل قرآن و سنت کے فلاں حکم کے خلاف تھا۔ تو اس صورت میں ظہور حکم کے بعد وہ مال حلال نہیں رہتا اگرچہ سابقہ غلطی کو معاف بھی کردیا جائے۔ (نور الانوار ملا جیون) آیت مذکورہ میں مال غنمیت کو حلال طیب تو قرار دے دیا گیا مگر آخر آیت میں یہ قید لگا دی گئی (آیت) وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ اس میں اشارہ کردیا کہ مال غنیمت اگرچہ حلال کردیا گیا ہے مگر وہ بھی ایک خاص قانون کے تحت حلال ہوا ہے اس قانون کے خلاف یا اپنے حق سے زائد لیا جائے گا تو وہ جائز نہیں۔ یہاں دو معاملے تھے ایک مال غنیمت دوسرے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا۔ پہلے معاملے کے متعلق تو اس آیت نے بات صاف کردی مگر دوسرا معاملہ ابھی تک صاف نہیں ہوا۔ اس کے متعلق سورة محمد میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ڎ فَاِمَّا مَنًّـۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا (یعنی جب جنگ میں کافروں سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان کی گردنیں مار دو یہاں تک کہ جب تم خوں ریزی کے ذریعہ ان کی قوت شوکت توڑ چکو تو پھر ان کو قید کرکے مضبوط باندھو۔ اس کے بعد یا تو ان پر احسان کرکے بغیر کسی معاوضہ کے آزاد کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کرنے پر عتاب نازل ہوا، یہ اسلام کا پہلا جہاد تھا اس وقت تک کافروں کی قوت و شوکت ٹوٹ نہیں چکی تھی اتفاقا ان پر ایک مصیبت پڑگئی تھی پھر جب اسلام اور مسلمانوں کا مکمل غلبہ حاصل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے وہ حکم منسوخ کرنے کے لئے سورة محمد کی آیت مذکورہ نازل فرمادی۔ جس میں نبی کریم اور مسلمانوں کو قیدیوں کے بارے میں چار اختیار دے دیئے گئے وہ ہیں۔ ان شاء واقتلوھم و ان شاء وا استعبدوھم وان شاء وا افادوھم وان شاء وا اعتقوھم (مظہری) " چاہیں تو سب کو قتل کردیں یا چاہیں تو غلام بنالیں یا چاہیں تو فدیہ لے کر چھوڑ دیں یا چاہیں تو بغیر فدیہ کے آزاد کردیں "۔ مذکورہ چار اختیارات میں سے پہلے دو پر تو پوری امت کا اتفاق اور اجماع ہے کہ امیر مسلیمن کے لئے قیدیوں کو قتل کردینے کا بھی اختیار ہے اور غلام بنالینے کا بھی۔ لیکن ان کو بلا معاوضہ چھوڑ دینے یا معاوضہ لے کر چھوڑ دینے میں فقہاء امت کا اختلاف ہے۔ امام مالک، شافعی، احمد بن حنبل، ثوری، اسحاق اور تابعین میں سے حضرت حسن بصری اور عطاء کا قول یہ ہے کہ یہ دونوں صورتیں بھی امیر مسلیمن کے لئے جائز ہیں کہ قیدیوں کو معاوضہ لے کر چھوڑ دے یا بلا معاوضہ آزاد کردے یا مسلمان قیدیوں سے تبادلہ کرے۔ اور مام ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد، اوزاعی اور قتادہ اور ضحاک اور سدی اور ابن جریج فرماتے ہیں کہ بلا معاوضہ چھوڑنا تو بالکل جائز نہیں۔ فدیہ لے کر چھوڑنا بھی امام ابوحنیفہ کے مشہور مذہب میں جائز نہیں۔ البتہ سیر کبیر کی روایت یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کو مال کی ضرورت ہو تو فدیہ لے کر چھوڑ سکتے ہیں۔ البتہ مسلمان قیدیوں کے تبادلہ میں ان کو چھوڑ دینا امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے نزدیک جائز ہے (کما ہو اظہر الروایتین عنہم۔ مظہری) جن حضرات نے فدیہ لے کر یا بلا فدیہ چھوڑ دینے کی اجازت دی ہے وہ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق سورة محمد کی آیت کو انفال کی آیت کا ناسخ اور آیت انفال کو منسوخ قرار دیتے ہیں فقہاء حنفیہ نے آیت سورة محمد کو منسوخ قرار دیا ہے اور سورة انفال کی (آیت) فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ اور آیت فاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ کو اس کا ناسخ قرار دیا ہے اس لئے قیدیوں کو آزاد کردینا خواہ فدیہ لے کر ہو یا بلا فدیہ ان کے نزدیک جائز نہیں (مظہری) لیکن اگر سورة انفال کی آیت کے الفاظ اور سورة محمد کے الفاظ میں غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں۔ بلکہ دو مختلف حالتوں کے دو حکم ہیں۔ سورة انفال کی آیت میں بھی اصل حکم اثخان فی الارض یعنی قتل کے ذریعہ کافروں کی قوت توڑ دینا۔ اور سورة محمد کی آیت میں بھی جو من و فداء (یعنی قیدیوں کو بلا معاوضہ یا معاوضہ لے کر آزاد کرنے) کا اختیار دیا گیا ہے ان سے پہلے اثخان فی الارض کا بیان ہوچکا ہے یعنی خون ریزی کے ذریعہ کفر کی قوت ٹوٹ جانے کے بعد یہ بھی اختیار ہے کہ قیدیوں کو فدیہ پر یا بلا فدیہ آزاد کردیا جائے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کی روایت سیر کبیر کا بھی یہی منشاء ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے حالات اور ضرورت پر نظر کرکے دونوں قسم کے احکام دیئے جاسکتے ہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
Ayah 8:70

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی کہہ دے ان سے جو تمہارے ہاتھ میں ہیں قیدی اگر جانے گا اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی تو دے گا تم کو بہتر اس سے جو تم سے چھن گیا اور تم کو بخشے گا، اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان

خلاصہ تفسیر اے پیغمبر آپ کے قبضہ میں جو قیدی ہیں (ان میں جو مسلمان ہوگئے ہیں) آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تمہارے قلب میں ایمان معلوم ہوگا (یعنی تم دل سے مسلمان ہوئے ہوگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم تو مطابق واقع کے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ مسلمان اسی کو جانیں گے جو واقع میں مسلمان ہوگا اور جو شخص غیر مسلم ہوگا اس کو غیر مسلم ہی جانیں گے پس اگر تم دل سے مسلمان ہوگے) تو جو کچھ تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے (دنیا میں) اس سے بہتر تم کو دے دے گا اور (آخرت میں) تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں (اس لئے تم کو بخش دیں گے اور) بڑی رحمت والے ہیں (اس لئے تم کو نعم البدل دیں گے) اور اگر (بالفرض) یہ لوگ (صدق دل سے مسلمان نہ ہوئے ہوں بلکہ اظہار اسلام سے محض آپ کو دھوکا ہی دینا چاہیں اور دل میں) آپ کے ساتھ خیانت کرنے کا (یعنی نقض عہد کرکے مخالفت و مقابلہ کا) ارادہ رکھتے ہوں تو (کچھ فکر نہ کیجئے اللہ تعالیٰ ان کو پھر آپ کے ہاتھوں میں گرفتار کرادے گا جیسا) اس سے پہلے انہوں نے اللہ کے ساتھ خیانت کی تھی (اور آپ کی مخالفت اور مقابلہ کیا) پھر اللہ نے ان کو (آپ کے ہاتھوں میں) گرفتار کرادیا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والے ہیں (کہ کون خائن ہے اور) بڑی حکمت والے ہیں (ایسی صورتیں پیدا کردیتا ہے جس سے خائن مغلوب ہوجائے)۔ معارف و مسائل غزوہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ اسلام اور مسلمانوں کے وہ دشمن جنہوں نے ان کے ستانے، مار نے، قتل کرنے میں کسی وقت بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور جب موقع مل گیا انتہائی وحشیانہ مظالم ان پر کئے مسلمانوں کے ہاتھوں میں قید ہوجانے کے بعد ان کی جان بخشی کردینا کوئی معمولی بات نہ تھی ان کے لئے بڑی غنیمت اور انتہائی لطف و کرم تھا فدیہ میں جو رقم ان سے لی گئی وہ بھی نہایت معمولی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم دیکھئے کہ اس معمولی رقم کے دینے سے جو ایک قسم کی تکلیف ان کو پیش آئی اس کو بھی کس طرح رفع فرمایا جاتا ہے۔ آیت مذکورہ میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں کوئی خیر پائیں گے تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے دیں گے۔ اور اس پر مزید یہ کہ تمہارے پچھلے گناہ بخش دیں گے۔ خیر سے مراد ایمان اور اخلاص ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آزاد ہونے کے بعد ان قیدیوں میں جو لوگ ایمان و اسلام کو اخلاص کے ساتھ اختیار کرلیں گے تو جو کچھ فدیہ میں دیا ہے اس سے زیادہ اور بہتر ان کو مل جائے گا۔ قیدیوں کو آزاد و خود مختار کردینے کے ساتھ اس طرح دعوت دی گئی کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے نفع نقصان پر غور کریں۔ چناچہ واقعات شاہد ہیں کہ ان لوگوں میں سے جو مسلمان ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت اور جنت کے درجات عالیہ کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو اتنا مال و دولت دے دیا جو ان کے فدیہ سے بدرجہا زائد تھا۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت رسول کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کے بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ وہ بھی بدر کے قیدیوں میں شامل تھے اور ان سے بھی فدیہ لیا گیا تھا۔ ان کی خصوصیت اس معاملہ میں یہ تھی کہ جنگ بدر میں یہ مکہ سے اپنے ساتھ تقریبا سات سو گنی سونا لے کر چلے تھے تاکہ وہ لشکر کفار پر خرچ کیا جائے اور ابھی یہ خرچ ہونے نہیں پایا تھا کہ وہ مع اس سونے کے گرفتار کر لئے گئے۔ جب فدیہ دینے کا وقت آیا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میرے ساتھ جو سونا تھا اس کو میرے فدیہ کی رقم میں لگا لیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو مال آپ کفر کی امداد کے لئے لائے تھے وہ تو مسلمانوں کا مال غنیمت بن گیا۔ فدیہ اس کے علاوہ ہونا چاہئے اور ساتھ ہی بھی فرمایا کہ اپنے دو بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ بھی آپ ادا کریں۔ عباس ؓ نے عرض کیا کہ اگر اتنا مالی بار مجھ پر ڈالا گیا تو مجھے قریش سے بھیک مانگنا پڑے گی میں بالکل فقیر ہوجاؤں گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ کیوں کیا آپ کے پاس وہ مال موجود نہیں جو مکہ سے روانگی کے وقت آپ نے اپنی زوجہ ام الفضل کے حوالہ کیا ہے۔ حضرت عباس نے پوچھا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا جب کہ وہ میں نے رات کی تاریکی اور تنہائی میں اپنی بیوی کے سپرد کیا تھا اور کوئی تیسرا آدمی اس سے واقف نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے اس کی پوری تفصیل بتلا دی۔ حضرت عباس کے دل میں یہ سن کر آنحضرت ﷺ کے سچے رسول ہونے کا یقین ہوگیا۔ اس سے پہلے بھی وہ آنحضرت ﷺ کے دل سے معتقد تھے مگر کچھ شبہات تھے جو اللہ تعالیٰ نے اس وقت رفع فرمادیئے اور وہ در حقیقت اسی وقت سے مسلمان ہوگئے۔ مگر ان کا بہت سا روپیہ قریش مکہ کے ذمہ قرض تھا۔ اگر یہ اسی وقت اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیتے تو وہ روپیہ مارا جاتا اس لئے اعلان نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی سے اس کا اظہار نہیں کیا۔ فتح مکہ سے پہلے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی اجازت چاہی کہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آجائیں مگر حضور ﷺ نے ان کو یہی مشورہ دیا کہ ابھی ہجرت نہ کریں۔ حضرت عباس کی اس گفتگو پر رسول اللہ ﷺ نے آیت مذکورہ میں آیا ہوا وعدہ بھی ان کو بتلا دیا کہ اگر آپ نے اسلام قبول کرلیا اور اخلاص کے ساتھ مومن ہوگئے تو جو کچھ مال فدیہ میں خرچ کیا ہے اس سے بہتر اللہ آپ کو عطا فرمادیں گے۔ چناچہ حضرت عباس اظہار اسلام کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ میں تو اس وعدہ کا ظہور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ مجھ سے بیس اوقیہ سونا فدیہ میں لیا گیا تھا، اس وقت میرے بیس غلام مختلف جگہوں میں تجارت کا کاروبار کر رہے ہیں اور کسی کا کاروبار بیس ہزار درہم سے کم کا نہیں ہے۔ اور اس پر مزید یہ انعام ہے کہ مجھے حجاج کو آب زمزم پلانے کی خدمت مل گئی ہے جو میرے نزدیک ایسا گرانقدر کام ہے کہ سارے اہل مکہ کے اموال بھی اس کے مقابلہ میں ہیچ سمجھتا ہوں۔
Ayah 8:71

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر چاہیں گے تجھ سے دغا کرنی سو وہ دغا کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے پھر اس نے ان کو پکڑوا دیا، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے بارے میں یہ کھٹک لوگوں کے دل میں تھی کہ شاید یہ لوگ مکہ پہنچ کر اسلام سے پھرجائیں اور پھر ہمیں کوئی نقصان پہنچائیں۔ حق تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت میں اس خطرہ کو اس طرح دور فرما دیا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی اگر یہ لوگ آپ کے ساتھ خیانت ہی کا ارادہ کرلیں تو اس سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا یہ تو وہی لوگ ہیں جو اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں یعنی میثاق ازل میں جو اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار کیا تھا اس کی مخالفت کرنے لگے تھے۔ لیکن ان کی یہ خیانت خود انھیں کے لئے مضر ثابت ہوئی کہ انجام کار ذلیل و خوار اور گرفتار ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں کو جاننے والے اور بڑی حکمت والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اب بھی آپ کی مخالفت کرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ سے باہر کہاں چلے جائیں گے وہ پھر ان کو اسی طرح پکڑلے گا۔ پچھلی آیت میں آزاد ہونے والے قیدیوں کو اسلام کی طرف دعوت ترغیبی انداز میں دی گئی تھی اس آیت میں ترہیب کے ذریعہ ان کو آگاہ کردیا کہ تمہاری دنیا و آخرت کی بھلائی اسلام و ایمان میں منحصر ہے۔ یہاں تک کفار کے ساتھ قتل و قتال اور ان کے قید کرنے، آزاد کرنے کے اور ان سے صلح و مصالحت کے احکام کا بیان ہورہا تھا۔ اگلی آیات میں آخر سورت تک اسی سلسلہ کے ایک خاص باب کا ذکر اور اس کے احکام کی کچھ تفصیل مذکور ہے اور وہ احکام ہجرت ہیں کیونکہ کفار کے ساتھ مقابلہ میں کبھی ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں کہ نہ مسلمانوں کو ان کے مقابلہ پر قتل و قتال کی طاقت ہے اور نہ وہ صلح پر راضی ہیں۔ ایسی کمزوری کی حالت میں اسلام اور مسلمانوں کی نجات کی راہ ہجرت ہے کہ اس شہر اور ملک کو چھوڑ کر کسی دوسری زمین میں جاکر قیام کریں جہاں اسلامی احکام پر آزادانہ عمل ہو سکے۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑا اور لڑے اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اور جو ایمان لائے اور گھر نہیں چھوڑا تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں جب تک وہ گھر نہ چھوڑ آئیں، اور اگر وہ تم سے مدد چاہیں دین میں تو تم کو لازم ہے ان کی مدد کرنی مگر مقابلہ میں ان لوگوں کے کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے۔

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کے راستہ میں جہاد بھی کیا (جس کا وقوع لوازم عادیہ ہجرت سے تھا گو مدار حکم توارث نہیں اور یہ جماعت مہاجرین سے ملقب ہے) اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو) رہنے کو جگہ دی اور (ان کی) مدد کی (اور یہ جماعت انصار سے ملقب ہے) یہ (دونوں قسم کے) لوگ باہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان تو لائے اور ہجرت نہیں کی تمہارا (یعنی مہاجرین کا) ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں (نہ یہ ان کے وارث نہ وہ ان کے) جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں (اور جب ہجرت کرلیں پھر وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوجائیں گے) اور (گو ان سے تمہارا توارث نہ ہو لیکن) اگر وہ تم سے دین کے کام (یعنی قتال مع الکفار) میں مدد چاہیں تو تمہارے ذمے (ان کی) مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں کہ تم میں اور ان میں باہم عہد (صلح کا) ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں کو دیکھتے ہیں (پس ان کے مقررہ احکام میں خلل ڈال کر مستحق ناخوشی نہ ہونا) اور (جس طرح باہم تم میں علاقہ توارث کا ہے اسی طرح) جو لوگ کافر ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے وارث ہیں (نہ تم ان کے وارث نہ وہ تمہارے وارث) اگر اس (حکم مذکور) پر عمل نہ کرو گے (بلکہ باوجود تخالف دین محض قرابت کی بناء پر مومن و کافر میں علاقہ توارث قائم رکھو گے) تو دنیا میں بڑا فتنہ اور بڑا فساد پھیلے گا۔ (کیونکہ توارث سے سب ایک جماعت سمجھی جائے گی اور بدون جدا جماعت ہوئے اسلام کو قوت و شوکت حاصل نہیں ہوسکتی اور ضعف اسلام سرمایہ تمام تر فتنہ و فساد عالم کا ہے جیسا کہ ظاہر ہے) اور (اس حکم توارث بین المہاجرین والانصار میں ہرچند کہ سب مہاجرین برابر ہیں خواہ زمانہ ہجرت نبویہ میں انہوں نے ہجرت کی ہو یا بعد میں لیکن فضیلت و مرتبہ میں باہم متفاوت ہیں چنانچہ) جو لوگ (اول) مسلمان ہوئے اور انہوں نے (ہجرت نبویہ کے زمانہ میں) ہجرت کی اور (اول ہی سے) اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو) اپنے یہاں ٹھہرایا اور ان کی مدد کی یہ لوگ (تو) ایمان کا پورا حق ادا کرنے والے ہیں (کیونکہ اس کا حق یہی ہے کہ اس کے قبول کرنے میں سبقت کرے) ان کے لئے (آخرت میں) بڑی مغفرت اور (جنت میں) بڑی معزز روزی (مقرر) ہے اور جو لوگ (ہجرت نبویہ کے) بعد کے زمانہ میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا (یعنی کام تو سب کئے مگر بعد میں) سو یہ لوگ (گو فضیلت میں تمہارے برابر نہیں لیکن تاہم) تمہارے ہی شمار میں ہیں (فضیلت میں تو من وجہ کیونکہ اعمال کے تفاضل سے احکام شرعیہ میں تفاوت نہیں ہوتا) اور (ان بعد والے مہاجرین میں) جو لوگ (باہم یا مہاجرین سابقین کے) رشتہ دار ہیں (گو فضل و رتبہ میں کم ہوں لیکن میراث کے اعتبار سے) کتاب اللہ (یعنی حکم شرعی یا آیت میراث) میں ایک دوسرے (کی میراث) کے (بہ نسبت غیر رشتہ داروں کے) زیادہ حقدار ہیں (گو غیر رشتہ دار فضل و رتبہ میں زیادہ ہوں) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں (اس لئے ہر وقت کی مصلحت کے مناسب حکم مقرر فرماتے ہیں)۔ معارف و مسائل یہ سورة انفال کی آخری چار آیتیں ہیں۔ ان میں اصل ہجرت کے وہ احکام ہیں جن کا تعلق مہاجر مسلمانوں کی وراثت سے ہے، اس کے بالمقابل غیر مہاجر مسلمان اور غیر مسلموں کی وراثت کا بھی ذکر آیا ہے۔ خلاصہ ان احکام کا یہ ہے کہ جن لوگوں پر شرعی احکام عائد ہوتے ہیں وہ اولا دو قسم پر ہیں۔ مسلم، کافر۔ پھر مسلم اس وقت کے لحاظ سے دو قسم کے تھے ایک مہاجر جو مکہ سے ہجرت فرض ہونے پر مدینہ طیبہ میں آکر مقیم ہوگئے تھے۔ دوسرے غیر مہاجر جو کسی جائز عذر سے یا کسی دوسری وجہ سے مکہ ہی میں رہ گئے تھے۔ باہمی رشتہ داری اور قرابت ان سب قسم کے افراد میں دائر تھی کیونکہ اوائل اسلام میں بکثرت ایسا تھا کہ بیٹا مسلمان ہے باپ کافر یا باپ مسلمان ہے بیٹا کافر۔ اسی طرح بھائی بھتیجوں اور نانے ماموں وغیرہ کا حال۔ اور مسلمان مہاجر اور غیر مہاجر میں رشتہ داریاں ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ اور حکمت بالغہ کی وجہ سے مرنے والے انسان کے چھوڑے ہوئے مال کا مستحق اسی کے قریبی عزیزوں، رشتہ داروں کو قرار دیا ہے حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ جس کو جو کچھ دنیا میں ملا وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کی ملک حقیقی تھا، اسی کی طرف سے زندگی بھر استعمال کرنے، نفع اٹھانے کے لئے انسان کو دے کر عارضی مالک بنادیا گیا تھا اس لئے تقاضائے عقل و انصاف تو یہ تھا کہ ہر مرنے والے کا ترکہ اللہ تعالیٰ کی ملک کی طرف لوٹ جاتا جس کی عملی صورت اسلامی بیت المال میں داخل کرنا تھا جس کے ذریعہ ساری خلق اللہ تعالیٰ کی پرورش اور تربیت ہوتی ہے۔ مگر ایسا کرنے میں ایک تو ہر انسان کے طبعی جذبات کو ٹھیس لگتی جب کہ وہ جانتا کہ میرا مال میرے بعد نہ میری اولاد کو ملے گا نہ ماں باپ اور بیوی کو۔ اور پھر اس کا یہ نتیجہ بھی طبعی طور پر لازمی سا تھا کہ کوئی شخص اپنا مال بڑھانے اور اس کو محفوظ رکھنے کی فکر نہ کرتا صرف اپنی زندگی کی حد تک ضروریات جمع رکھنے سے زائد کوئی شخص محنت و جانفشانی نہ کرتا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ پورے انسانوں اور شہروں کے لئے تباہی و بربادی کی صورت اختیار کرتا۔ اس لئے حق تعالیٰ جل شانہ نے میراث کو انسان کے رشتہ داروں کا حق قرار دے دیا بالخصوص ایسے رشتہ داروں کا جن کے فائدہ ہی کے لئے وہ اپنی زندگی میں مال جمع کرتا اور طرح طرح کی محنت مشقت اٹھاتا تھا۔ اس کے ساتھ اسلام نے اس اہم مقصد کو بھی وراثت کی تقسیم میں سامنے رکھا جس کے لئے انسان کی تخلیق ہوئی یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت۔ اور اس کے لحاظ سے پورے عالم انسان کو دو الگ الگ قومیں قرار دے دیا۔ مومن اور کافر۔ آیت قرآن (آیت) خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ کا یہی مطلب ہے۔ اسی دو قومی نظریہ نے نسبی اور خاندانی رشتوں کو میراث کی حد تک قطع کردیا کہ نہ کسی مسلمان کو کسی رشتہ دار کافر کی میراث سے کوئی حصہ ملے گا اور نہ کسی کافر کسی مسلمان رشتہ دار کی وراثت میں کوئی حق ہوگا۔ پہلی دو آیتوں میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اور یہ حکم دائمی اور غیر منسوخ حکم ہے کہ اول اسلام سے لے کر قیامت تک یہی اسلام کا اصول وراثت ہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا حکم مسلمان مہاجر اور غیر مہاجر دونوں کے آپس میں وراثت کا ہے۔ جس کے متعلق پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمان جب تک مکہ سے ہجرت نہ کرے اس وقت تک اس کا تعلق بھی ہجرت کرنے والے مسلمانوں سے وراثت کے بارے میں منقطع ہے۔ نہ مہاجر مسلمان اپنے غیر مہاجر مسلمان رشتہ دار کا وارث ہوگا اور نہ غیر مہاجر کسی غیر مہاجر مسلمان کی وراثت سے کوئی حصہ پائے گا یہ حکم ظاہر ہے کہ اس وقت تک تھا جب تک کہ مکہ مکرمہ فتح نہیں ہوا تھا فتح مکہ کے بعد تو خود رسول کریم ﷺ نے اعلان فرما دیا تھا لا ھجرة بعد الفتح۔ یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم ختم ہوگیا اور جب ہجرت کا حکم ہی ختم ہوگیا تو ترک ہجرت کرنے والوں سے بےتعلقی کا سوال ختم ہوگیا۔ اسی لئے اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حکم فتح مکہ سے منسوخ ہوچکا ہے اور اہل تحقیق کے نزدیک یہ حکم بھی دائمی غیر منسوخ ہے مگر حالات کے تابع بدلا ہے، جن حالات میں نزول قرآن کے وقت یہ حکم آیا تھا اگر کسی زمانہ میں یا کسی ملک میں پھر ویسے ہی حالات پیدا ہوجائیں تو پھر یہی حکم جاری ہوجائے گا۔ توضیح اس کی یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ہر مسلمان مرد و عورت پر مکہ سے ہجرت کو فرض عین قرار دیا گیا تھا۔ اس حکم کی تعمیل میں بجز معدودے چند مسلمانوں کے سبھی مسلمان ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آگئے تھے اور اس وقت مکہ سے ہجرت نہ کرنا اس کی علامت بن گیا تھا کہ وہ مسلمان نہیں اس لئے اس وقت غیر مہاجر کا اسلام بھی مشتبہ اور مشکوک تھا اس لئے مہاجر اور غیر مہاجر کی باہمی وراثت کو قطع کردیا گیا تھا۔ اب اگر کسی ملک میں پھر بھی ایسے ہی حالات پیدا ہوجائیں کہ وہاں رہ کر اسلامی فرائض کی ادائیگی بالکل نہ ہوسکے تو اس ملک سے ہجرت کرنا پھر فرض ہوجائے گا اور ایسے حالات میں بلا عذر قوی ہجرت نہ کرنا اگر یقینی طور پر علامت کفر کی ہوجائے تو پھر بھی یہی حکم عائد ہوگا کہ مہاجر اور غیر مہاجر میں باہمی وراثت جاری نہ رہے گی۔ اس تقریر سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ مہاجر اور غیر مہاجر میں قطع وراثت کو بیان کرتا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ اس علامت کفر کی وجہ سے وراثت سے تو محروم کردیا گیا مگر محض اتنی علامت کی وجہ سے اس کو کافر نہیں قرار دیا جب تک اس سے صریح اور واضح طور پر کفر کا ثبوت نہ ہوجائے۔ اور غالبا اسی مصلحت سے اس جگہ ایک اور حکم غیر مہاجر مسلمانوں کا ذکر کردیا گیا ہے کہ اگر وہ مہاجر مسلمانوں سے امداد و نصرت کے طالب ہوں تو مہاجر مسلمانوں کو ان کی امداد کرنا ضروری ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ غیر مہاجر مسلمانوں کو بالکل کافروں کی صف میں نہیں رکھا بلکہ ان کا یہ اسلامی حق باقی رکھا گیا کہ ضرورت کے وقت ان کی امداد کی جائے۔ اور چونکہ اس آیت کا شان نزول ایک خاص ہجرت ہے مکہ سے مدینہ کی طرف اور غیر مہاجر مسلمان وہی تھے جو مکہ میں رہ گئے تھے اور کفار مکہ کے نرغہ میں تھے تو یہ ظاہر ہے کہ ان کا امداد طلب کرنا انھیں کفار مکہ کے مقابلہ میں ہوسکتا تھا۔ اور جب قرآن کریم نے مہاجر مسلمانوں کو ان کی امداد کا حکم دے دیا تو بظاہر اس سے یہ سمجھا جاسکتا تھا کہ ہر حال میں اور ہر قوم کے مقابلہ میں ان کی امداد کرنا مسلمانوں پر لازم کردیا گیا ہے اگرچہ وہ قوم جس کے مقابلہ پر ان کو امداد مطلوب ہے اس سے مسلمانوں کا کوئی معاہدہ التواء جنگ کا بھی ہوچکا ہو۔ حالانکہ اصول اسلام میں عدل و انصاف اور معاہدہ کی پابندی ایک اہم فریضہ ہے۔ اس لئے اسی آیت میں ایک استثنائی حکم یہ بھی ذکر فرما دیا گیا کہ اگر غیر مہاجر مسلمان مہاجر مسلمانوں سے کسی ایسی قوم کے مقابلہ پر مدد طلب کریں جس سے مسلمانوں نے ترک جنگ کا معاہدہ کر رکھا ہے تو پھر اپنے بھائی مسلمانوں کی امداد بھی معاہد کفار کے مقابلہ میں جائز نہیں۔ یہ خلاصہ مضمون ہے پہلی دو آیتوں کا۔ اب الفاظ سے اس کو ملا کر دیکھئے، ارشاد ہوتا ہے (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا۔ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے وطن اور اعزاء و اقرباء کو چھوڑا اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا۔ مال خرچ کرکے ہتھیار اور سامان جنگ خریدا اور میدان جنگ کے لئے اپنی جانوں کو پیش کردیا۔ اس سے مراد مہاجرین اولین ہیں۔ اور وہ لوگ جنہوں نے رہنے کو جگہ دی اور مدد کی۔ اس سے مراد انصار مدینہ ہیں۔ ان دونوں فریق کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت نہیں کی تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں جب تک وہ ہجرت نہ کریں۔ اس جگہ قرآن کریم نے لفظ ولی اور ولایت استعمال فرمایا ہے جس کے اصلی معنی دوستی اور گہرے تعلق کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، حسن قتادہ مجاہد وغیرہ ؓ اجمعین ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اس جگہ ولایت سے مراد وراثت اور ولی سے مراد وارث ہے اور بعض حضرات نے ولایت کے لغوی معنی یعنی دوستی اور امداد و اعانت ہی مراد لئے۔ پہلی تفسیر کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان مہاجر و انصار آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ان کو تعلق وراثت نہ غیر مسلم کے ساتھ قائم رہے گا نہ ان مسلمانوں کے ساتھ جنہوں نے ہجرت نہیں کی۔ پہلا حکم یعنی اختلاف دین کی بنا پر قطع وراثت تو دائمی اور باقی رہا مگر دوسرا حکم فتح مکہ کے بعد جب کہ ہجرت ہی کی ضرورت نہ رہی تو مہاجر اور غیر مہاجر میں قطع وراثت کا حکم بھی باقی نہ رہا۔ اس سے بعض فقہاء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس طرح اختلاف دین قطع وراثت کا سبب ہے اس طرح ختلاف دارین بھی قطع وراثت کا سبب ہے جس کی تفصیلی بحث کتب فقہ میں مذکور ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ یعنی یہ لوگ جنہوں نے ہجرت نہیں کی اگرچہ ان سے تعلق وراثت منقطع کردیا گیا ہے مگر وہ بہرحال مسلمان ہیں اگر وہ اپنے دین کی حفاظت کے لئے مہاجر مسلمانوں سے مدد طلب کریں تو ان کے ذمہ ان کی امداد کرنا واجب ہے۔ مگر اس کے ساتھ اصول عدل و انصاف اور پابندی معاہدہ کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے اگر وہ کسی ایسی قوم کے مقابلہ پر تم سے سے امداد طلب کریں جس قوم سے تمہارا معاہدہ ترک جنگ کا ہوچکا ہے تو ان کے مقابلہ میں ان مسلمانوں کی امداد بھی جائز نہیں۔ صلح حدیبیہ کے وقت ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ سے صلح کرلی اور شرائط صلح میں یہ بھی داخل تھا کہ مکہ سے جو شخص اب مدینہ جائے اس کو رسول اللہ ﷺ واپس کردیں۔ عین اسی معاملہ صلح کے وقت ابو جندل جن کو کفار مکہ نے قید کرکے طرح طرح کی تکلیفوں میں ڈالا ہوا تھا کسی طرح حاضر خدمت ہوگئے اور اپنی مظلومیت کا اظہار کرکے رسول اللہ ﷺ سے مدد کے طالب ہوئے۔ آنحضرت ﷺ جو رحمت عالم بن کر آئے تھے ایک مظلوم مسلمان کی فریاد سے کتنے متاثر ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ کرنا بھی ہر شخص کے لئے آسان نہیں مگر اس تاثر کے باوجود آیت مذکورہ کے حکم کے مطابق ان کی امداد کرنے سے عذر فرما کر واپس کردیا۔ ان کی یہ واپسی سبھی مسلمانوں کے لئے انتہائی دل آزار تھی مگر سرور کائنات ﷺ ارشادات بانی کے ماتحت گویا اس کا مشاہدہ فرما رہے تھے کہ اب ان مظالم کی عمر زیادہ نہیں رہی اور چند روز کے صبر کا ثواب ابو جندل کو اور ملنا ہے اس کے بعد بہت جلد مکہ فتح ہو کر یہ سارے قصے ختم ہونے والے ہیں۔ بہرحال اس وقت ارشاد قرآن کے مطابق آنحضرت ﷺ نے معاہدہ کی پابندی کو ان کی شخصی مصیبت پر ترجیح دی یہی شریعت اسلام کی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس نے ان کو دنیا میں فتح و عزت اور آخرت کی فلاح کا مالک بنایا ہے۔ ورنہ عام طور پر دنیا کی حکومتیں معاہدات کا ایک کھیل کھیلتی ہیں جس کے ذریعہ کمزور کو دبانا اور قوت والے کو فریب دینا مقصد ہوتا ہے جس وقت اپنی ذرا سی مصلحت سامنے ہوتی ہے تو سو طرح کی تاویلیں کرکے معاہدہ کو ختم کر ڈالتے ہیں اور الزام دوسروں کے سر لگانے کی فکر کرتے ہیں۔