8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جس وقت کہ ڈال دی اس نے تم پر اونگھ اپنی طرف سے تسکین کے واسطے اور اتارا تم پر آسمان سے پانی کہ اس سے تم کو پاک کردے اور دور کردے تم سے شیطان کی نجاست اور مضبوط کردے تمہارے دلوں کو اور جمادے اس سے تمہارے قدم۔

خلاصہ تفسیر اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم پر اونگ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس پانی کے ذریعہ تم کو (بےوضو یا بےغسل ہونے کی حالت سے) پاک کردے اور (تاکہ اس کے ذریعہ) تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے اور (تاکہ) تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور (تاکہ) تمہارے پاؤں جمادے (یعنی تم ریگ میں نہ دھسو) اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب (ان) فرشتوں کو (جو امداد کے لئے نازل ہوئے تھے) حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں تو ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم کفار کی گردنوں پر (حربہ) مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔ یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اس کو سخت سزا دیتے ہیں (خواہ دنیا میں کسی حکمت سے یا آخرت میں یا دونوں میں) سو (بالفعل) یہ سزا چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب مقرر ہی ہے۔
Ayahs 8:12–14

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب حکم بھیجا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں ساتھ ہوں تمہارے سو تم دل ثابت رکھو مسلمانوں کے، میں ڈال دوں گا دل میں کافروں کے دہشت سو مارو گردنوں پر اور کاٹو ان کی پور پور۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس واسطے ہے کہ وہ مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے، اور جو کوئی مخالف ہوا اللہ کا اور اس کے رسول کا تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ تو تم چکھ لو اور جان رکھو کہ کافروں کے لئے عذاب دوزخ کا۔

معارف و مسائل شروع سورة انفال سے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا بیان ہو رہا ہے جو اس کے فرمانبردار بندوں پر مبزول ہوئے۔ غزوہ بدر کے واقعات بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ غزوہ بدر میں جو انعامات حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ان میں سے پہلا انعام تو خود اس جہاد کے لئے مسلمانوں کو نکالنا ہے جس کا بیان (آیت) كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ میں ہوا ہے، دوسرا انعام فرشتوں کی مدد کا وعدہ ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ میں آیا ہے۔ تیسرا انعام دعا کی قبولیت اور مدد کا وعدہ پوا کرنا ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ ، میں ہوا ہے۔ مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں چوتھے انعام کا تذکرہ ہے جس میں مسلمانوں کے لئے دو نعمتوں کا ذکر ہے ایک سب پر نیند غالب آکر پریشانی اور تکان کا دور ہوجانا دوسرے بارش کے ذریعہ ان کے لئے پانی مہیا فرمانا اور میدان جنگ کو ان کے لئے ہموار اور دشمن کے لئے دلدل بنادینا۔ تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ جس وقت کفر و اسلام کا یہ پہلا معرکہ ٹھن گیا تو کفار مکہ کا لشکر پہلے پہنچ کر ایک ایسے مقام پر پڑاؤ ڈال چکا تھا جو اونچائی پر تھا۔ پانی اس کے قریب تھا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام اس جگہ پہنچے تو وادی کے نچلے حصہ میں جگہ ملی۔ قرآن کریم نے اس میدان جنگ کا نقشہ اسی سورت کی بیالیسویں آیت میں اس طرح کھینچا ہے (آیت) اِذْ اَنْتُمْ بالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي، جس کا مفصل بیان بعد میں آئے گا۔ جس جگہ پہنچ کر رسول کریم ﷺ نے اول قیام فرمایا۔ اس مقام کے واقف کار حضرت حباب بن منذر نے اس کو جنگی اعتبار سے نامناسب سمجھ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ جو مقام آپ نے اختیار فرمایا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے جس میں ہمیں کوئی اختیار نہیں یا محض رائے اور مصلحت کے پیش نظر اختیار فرمایا گیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں یہ کوئی حکم خداوندی نہیں، اس میں تغیر و تبدل کیا جاسکتا ہے، تب حضرت حباب بن منذر نے عرض کیا کہ پھر تو بہتر ہے کہ اس مقام سے آگے بڑھ کر مکی سرداروں کے لشکر کے قریب ایک پانی کا مقام ہے اس پر قبضہ کیا جائے وہاں ہمیں پانی افراط کے ساتھ مل جائے گا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کا مشورہ قبول فرمایا اور وہاں جاکر پانی پر قبضہ کیا ایک حوض پانی کے لئے بنا کر اس میں پانی کا ذخیرہ جمع فرمایا۔ اس سے مطمئن ہونے کے بعد حضرت سعد بن معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہم آپ کے لئے ایک سایہ بان کسی محفوظ جگہ میں بنادیں جہاں آپ مقیم رہیں اور آپ کی سواریاں بھی آپ کے پاس رہیں۔ منشاء اس کا یہ ہے کہ ہم دشمن کے مقابلہ میں جہاد کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب فرمائی تو یہی مقصد ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی دوسری صورت ہو تو آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر ان صحابہ کرام کے ساتھ جاملیں جو مدینہ طیبہ میں رہ گئے ہیں کیونکہ میرا گمان یہ ہے کہ وہ لوگ بھی جانثاری اور آپ سے محبت میں ہم سے کم نہیں اور اگر ان کو آپ کے نکلنے کے وقت یہ خیال ہوتا کہ آپ کا اس مصلح لشکر سے مقابلہ ہوگا تو ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہتا، آپ مدینہ میں پہنچ جائیں گے تو وہ آپ کے رفیق کار رہیں گے۔ رسول کریم ﷺ نے ان کی اس جانبازانہ پیش کش پر دعائیں دیں۔ اور ایک مختصر سا سایہ بان آپ کے لئے بنادیا گیا جس میں آنحضرت ﷺ اور صدیق اکبر کے سوا کوئی نہ تھا۔ حضرت معاذ دروازہ پر حفاظت کے لئے تلوار لئے کھڑے تھے۔ معرکہ کی پہلی رات تھی۔ تین سو تیرہ بےسامان لوگوں کا مقابلہ اپنے سے تین گنی تعداد یعنی ایک ہزار مصلح فوج سے تھا۔ میدان جنگ کا بھی اچھا مقام ان کے قبضہ میں آچکا تھا۔ نچلا حصہ وہ بھی سخت ریتیلا جس میں چلنا دشوار مسلمانوں کے ہاتھ آیا تھا۔ طبعی پریشانی اور فکر سب کو تھی، بعض لوگوں کے دل میں شیطان نے یہ وساوس بھی ڈالنے شروع کئے کہ تم لوگ اپنے آپ کو حق پر کہتے ہو اور اس وقت بھی بجائے آرام کرنے کے نماز تہجد وغیرہ میں مشغول ہو مگر حال یہ ہے کہ دشمن ہر حیثیت سے تم پر غالب اور تم سے بڑھا ہوا ہے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر ایک خاص قسم کی نیند مسلط فرمادی جس نے ہر مسلمان کو خواہ اس کا ارادہ سونے کا تھا یا نہیں جبرا سلادیا۔ حافظ حدیث ابو یعلی نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی مرتضی نے فرمایا کہ غزوہ بدر کی اس رات میں ہم میں سے کوئی باقی نہیں رہا جو سو نہ گیا ہو۔ صرف رسول اللہ ﷺ تمام رات بیدار رہ کر صبح تک نماز تہجد میں مشغول رہے۔ اور ابن کثیر نے بحوالہ صحیح نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس رات میں جب کہ اپنے عریش یعنی سائبان میں نماز تہجد میں مشغول تھے آپ کو بھی کسی قدر اونگھ آگئی مگر فورا ہی ہنستے ہوئے بیدار ہو کر فرمایا۔ اے ابوبکر خوشخبری سنو یہ جبرئیل ؑ ٹیلہ کے قریب کھڑے ہیں اور یہ کہہ کر آپ سائبان سے باہر یہ آیت پڑھتے ہوئے تشریف لے گئے (آیت) سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ، یعنی عنقریب دشمن کی جماعت ہار جائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گی۔ بعض روایات میں ہے کہ آپ نے باہر نکل کر مخلتف جگہوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ ابو جہل کی قتل گاہ ہے یہ فلاں کی یہ فلاں کی۔ اور پھر ٹھیک اسی طرح واقعات پیش آئے (تفسیر مظہری) اور جیسا غزوہ بدر میں تکان اور پریشانی دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام پر خاص قسم کی نیند مسلط فرمائی اسی طرح غزوہ احد میں بھی اسی طرح کا واقعہ ہوا۔ سفیان ثوری ؒ نے بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود نقل کیا ہے کہ جنگ کی حالت میں نیند اللہ تعالیٰ کی طرف سے امن و اطمینان کی نشانی ہوتی ہے۔ اور نماز میں نیند شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ (ابن کثیر) دوسری نعمت مسلمانوں کو اس رات میں یہ ملی کہ بارش ہوگئی جس نے میدان جنگ کا نقشہ بالکل پلٹ دیا، قریشی لشکر نے جس جگہ پر قبضہ کیا تھا وہاں تو بارش بہت تیز آئی اور میدان میں دلدل ہو کر چلنا مشکل ہوگیا۔ اور جس جگہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام مقیم تھے یہاں ریت کی وجہ سے چلنا مشکل تھا یہاں بارش ہلکی ہوئی جس نے تمام ریتے کو جما کر میدان کو نہایت ہموار خوشگوار بنادیا۔ آیت مذکورہ میں انھیں دو نعمتوں کا ذکر ہے نیند اور بارش جس نے میدان کارزار کا نقشہ پلٹ کر وہ شیطانی وساوس دھو ڈالے جو بعض کمزور لوگوں کو ستا رہے تھے کہ ہم حق پر ہونے کے باوجود مقہور و مغلوب نظر آتے ہیں اور دشمن باطل پر ہونے کے باوجود قوت و شوکت اور اطمینان کی حالت میں ہے۔ آیت مذکورہ میں فرمایا کہ اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا چین دینے کے لئے اور تم پر پانی برسا رہا تھا تاکہ اس پانی سے تم کو پاک کر دے۔ اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور تمہارے پاؤں جمادے۔ دوسری آیت میں پانچویں انعام کا ذکر ہے جو اس غزوہ بدر کے میدان کارزار میں مسلمانوں پر مبذول ہوا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے مسلمانوں کی امداد کے لئے بھیجے تھے ان کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم کفار کی گردنوں پر حربہ مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔ اس میں فرشتوں کو دو کام سپرد کئے گئے ایک یہ کہ مسلمانوں کی ہمت بڑھائیں یہ اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے میدان میں آکر ان کی جماعت کو بڑھائیں اور ان کے ساتھ مل کر قتال میں حصہ لیں اور اس طرح بھی کہ اپنے تصرف سے مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کردیں اور ان میں قوت پیدا کردیں۔ دوسرا کام یہ بھی ان کے سپرد ہوا کہ فرشتے خود بھی قتال میں حصہ لیں اور کفار پر حملہ آور ہوں۔ اس آیت سے ظاہر یہی ہے کہ فرشتوں نے دونوں کام انجام دیئے، مسلمانوں کے دلوں میں تصرف کرکے ہمت و قوت بھی بڑھائی اور قتال میں بھی حصہ لیا۔ اور اس کی تائید چند روایات حدیث سے بھی ہوتی ہے جو تفسیر درمنثور اور مظہری میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور قتال ملائکہ کی عینی شہادتیں صحابہ کرام سے نقل کی ہیں۔ تیسری آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ اس معرکہ کفر و اسلام میں جو کچھ ہوا اس کا سبب یہ تھا کہ ان کفار نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو اللہ و رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید اور سخت ہوا کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غزوہ بدر میں ایک طرف تو مسلمانوں پر انعامات نازل ہوئے۔ فتح و نصرت ان کو حاصل ہوئی۔ دوسری طرف کفار پر مسلمانوں کے ہاتھوں سے عذاب نازل فرما کر ان کی بدکرداریوں کی تھوڑی سی سزادے دی گئی۔ اور اس سے زیادہ بھاری سزا آخرت میں ہونے والی ہے جس کو چوتھی آیت میں بیان فرمایا (آیت) ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَاب النَّارِ۔ یعنی یہ ہمارا تھوڑ سا عذاب ہے اس کو چکھو اور سمجھ لو کہ اس کے بعد کافروں کے لئے جہنم کا عذاب آنے والا ہے جو نہایت شدید و مدید اور ناقابل قیاس ہے۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں تو مت پھیرو ان سے پیٹھ۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والوں جب تم کافروں سے (جہاد میں) دو بدو مقابل ہوجاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا (یعنی جہاد سے مت بھاگنا) اور جو شخص ان سے اس موقع پر (یعنی مقابلہ کے وقت) پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا جو اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے (فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ الایة کے اندر بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور ان کو شکست ہوئی اور فرشتوں کا امداد کے لئے آنا اوپر آچکا ہے اس پر بطور تفریع فرماتے ہیں کہ جب ایسے عجیب واقعات ہوئے جو کہ بالکل تمہارے اختیار سے خارج ہیں) سو (اس سے معلوم ہوا کہ تاثیر حقیقی کے مرتبہ میں) تم نے ان (کافروں) کو قتل نہیں کیا لیکن (ہاں اس مرتبہ میں) اللہ تعالیٰ نے (بیشک) ان کو قتل کیا (یعنی موثر حقیقی اس کی قدرت ہے) اور (اسی طرح تاثیر حقیقی کے مرتبہ میں) آپ نے خاک کی مٹھی ان کی طرف) نہیں پھینکی، لیکن (ہاں اس مرتبہ میں) اللہ تعالیٰ نے (واقعی) وہ پھینکی اور (باوجود اس کے کہ موثر حقیقی قدرت حق ہے پھر جو آثار قتل وغیرہ کو قدرت عبد پر مرتب فرما دیا تو اسمیں حکمت یہ ہے کہ) تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے (ان کے عمل کا) خواب اجر دے (اور اجر کا ملنا حسب سنت الہیہ موقوف ہے اس پر کہ فعل ان کے عزم و اختیار سے صادر ہو) بلا شبہ اللہ تعالیٰ (ان مومنین کے اقوال کے) خوب سننے والے (اور ان کے افعال و احوال کے) خوب جاننے والے ہیں (ان اقوال استغاثہ اور افعال قتال و احوال تشویش وغیرہا میں جو ان کو محنت پیش آئی ہم کو اس کی اطلاع ہے ان کو اس پر جزا دیں گے) ایک بات تو یہ ہوئی اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کا کمزور کرنا تھا (اور زیادہ کمزوری اس وقت ظاہر ہوئی ہے جب اپنے برابر والے کے بلکہ اپنے سے کمزور کے ہاتھ سے مغلوب ہوجائے اور یہ بھی موقوف ہے اس پر کہ وہ آثار مؤمنین کے ہاتھ سے ظاہر ہوں ورنہ کہہ سکتے تھے کہ تدابیر تو ہماری قوی تھیں لیکن اقوی کے سامنے کہ تدبیر الہی ہے نہ چل سکیں تو اس سے آئندہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کا حوصلہ پست نہ ہو کیونکہ ان کو تو ضعیف ہی سمجھتے) اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے پاس آموجود ہوا (جو حق پر تھا اس کو غلبہ ہوگیا) اور اگر (اب حق زیادہ واضح ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت سے) باز آجاؤ تو یہ تھمارے لئے نہایت خوب ہے اور اگر (اب بھی باز نہ آئے بلکہ) تم پھر وہی کام کرو گے (یعنی مخالفت) تو ہم بھی پھر یہی کام کریں گے (یعنی تم کو مغلوب اور مسلمانوں کو غالب کردینا) اور (اگر تم کو اپنی جمعیت کا گھمنڈ ہو کہ اب کی بار اس سے زیادہ جمع کرلیں گے تو یاد رکھو کہ) تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیادہ ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ (اصل میں) ایمان والوں کے ساتھ (یعنی ان کا مددگار) ہے (گو کسی عارض کی وجہ سے کسی وقت ان کے غلبہ کا ظہور نہ ہو لیکن اصل محل غلبہ کے یہی ہیں اس لئے ان سے مقابلہ کرنا اپنا نقصان کرنا ہے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں سے پہلی دو آیتوں میں اسلام کا ایک جنگی قانون بتلایا گیا ہے پہلی آیت میں لفظ زحف سے مراد دونوں لشکروں کا مقابلہ اور اختلاط ہے۔ معنی یہ ہیں کہ ایسی جنگ چھڑ جانے کے بعد پشت پھیرنا اور میدان سے بھاگنا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ دوسری آیت میں اس حکم سے ایک استثناء کا ذکر اور ناجائز طور پر بھاگنے والوں کے عذاب شدید کا بیان ہے۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو کوئی ان سے پھیرے پیٹھ اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں سو وہ پھرا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے۔

استثناء دو حالتوں کا ہے (آیت) اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ یعنی جنگ کے وقت پشت پھیرنا صرف دو حالتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ میدان سے پشت پھیرنا محض ایک جنگی چال کے طور پر دشمن کو دکھلانے کے لئے ہو حقیقتہ میدان سے ہٹنا مقصد نہ ہو بلکہ مخالف کو ایک غفلت میں ڈال کر یکبارگی حملہ پیش نظر ہو یہ معنی ہیں اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ کے کیونکہ تحرف کے معنی کسی ایک جانب مائل ہونے کے آتے ہیں۔ (روح المعانی) دوسری استشنائی حالت جس میں میدان سے پشت پھیرنے کی اجازت ہے یہ ہے کہ اپنے موجودہ لشکر کی کمزوری کا احساس کرکے اس لئے پیچھے ہٹیں کہ مجاہدین کی مزید کمک حاصل کرکے پھر حملہ آور ہوں۔ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ کے یہی معنی ہیں کیونکہ تحیز کے لفظی معنی انضمام اور ملنے کے ہیں اور فہ کے معنی جماعت کے، مطلب یہ ہے کہ اپنی جماعت سے مل کر قوت حاصل کرنے اور پھر حملہ کرنے کی نیت سے میدان چھوڑے تو یہ جائز ہے۔ یہ استثناء ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کی سزا کا ذکر ہے جنہوں نے استثنائی حالات کے بغیر ناجائز طور پر میدان چھوڑا یا پشت موڑی۔ ارشاد ہے (آیت) فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۔ یعنی میدان سے بھاگنے والے اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ ان دونوں آیتوں میں سے یہ حکم معلوم ہوا کہ فریق مقابل کتنی ہی زیادہ تعداد اور قوت و شوکت میں ہو مسلمانوں کو ان کے مقابلہ سے پشت پھیرنا حرام ہے بجز دو استثنائی صورتوں کے یہ کہ پشت پھیرنا بھاگنے کے لئے نہ ہو بلکہ یا تو پینترا بدلنے کے طور پر ہو اور یا کمک حاصل کرکے دوبارہ حملہ کرنے کے قصد سے ہو۔ غزوہ بدر میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت یہی حکم عام تھا کہ خواہ کتنی بڑی تعداد سے مقابلہ ہوجائے اور اپنی تعداد سے ان کی کوئی نسبت نہ ہو پھر بھی پشت پھیرنا اور میدان چھوڑنا جائز نہیں۔ میدان بدر میں یہی صورت تھی کہ تین سو تیرہ کا مقابلہ تگنی تعداد یعنی ایک ہزار سے ہو رہا تھا۔ بعد میں تخفیف کے احکام سورة انفال کی آیت (65) اور (66) میں نازل ہوئے آیت (65) میں بیس مسلمانوں کو دو سو کافروں کے اور سو مسلمانوں کو ایک ہزار کافروں کے مقابلہ میں جہاد کرنے کا حکم ہے اور آیت (66) میں مزید تخفیف کا یہ قانون نازل ہوگیا۔ (آیت) اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ۭفَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ۔ یعنی اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے آسانی کردی اور تمہارے ضعف کے پیش نظر یہ قانون جاری کردیا کہ اگر مسلمان سو آدمی ثابت قدم ہوں تو دو سو کفار پر غالب آسکیں گے۔ اس میں اشارہ کردیا کہ اپنے سے دوگنی تعداد تک تو مسلمانوں ہی کے غالب رہنے کی توقع ہے اس لئے پشت پھیرنا جائز نہیں۔ ہاں فریق مخالف کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوجائے تو ایسی حالت میں میدان چوڑ دینا جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ جو شخص اکیلا تین آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگا وہ بھاگا نہیں ہاں جو دو آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگا وہ بھاگنے والا ہے یعنی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے (روح البیان) اب یہی حکم قیامت تک باقی ہے جمہور امت اور ائمہ اربعہ کے نزدیک حکم شرعی یہی ہے کہ جب تک فریق مخالف کی تعداد دوگنی سے زائد نہ ہو اس وقت تک میدان جنگ سے بھاگنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ صحیحین میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سات کاموں کو انسان کے لئے مہلک فرمایا ان میں میدان جنگ سے بھاگنا بھی شمار فرمایا۔ اور غزوہ حنین کے واقعہ میں صحابہ کرام کی ابتدائی پسپائی کو قرآن کریم نے شیطانی لغزش قرار دیا جو اس کے گناہ عظیم ہونے کی دلیل ہے ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ۔ اور ترمذی، ابوداؤد کی ایک روایت میں جو قصہ حضرت عبداللہ بن عمر کا منقول ہے کہ ایک مرتبہ جنگ سے بھاگ کر انہوں نے مدینہ میں پناہ لی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اعتراف جرم کیا کہ ہم میدان جنگ سے بھاگنے والے مجرم ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ نے بجائے اظہار ناراضی کے ان کو تسلی دی اور فرمایا بل انتم العکارون وانا فئتکم یعنی تم بھاگنے والے نہیں بلکہ کمک حاصل کرکے دوبارہ حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارے لئے کمک ہوں۔ اس میں آنحضرت ﷺ نے اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ ان لوگوں کا بھاگ کر مدینہ میں پناہ لینا اس استثناء کے اندر داخل ہے جس میں کمک حاصل کرنے کے لئے میدان چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ عمر کو حق تعالیٰ کے خوف اور ہیبت و عظمت کا جو مقام خاص حاصل تھا اس کی بنا پر وہ اس ظاہری پسپائی سے بھی گھبرائے اور اپنے آپ کو مجرم کی حیثیت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ تیسری آیت میں غزوہ بدر کے بقیہ واقعہ کا بیان کرنے کے ساتھ مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی ہے کہ غزوہ بدر کی معجزانہ فتح میں کثرت کے قلت سے اور قوت کے ضعف سے مغلوب ہوجانے کو اپنی سعی و عمل کا نتیجہ نہ سمجھو بلکہ اس ذات پاک کی طرف دیکھو جس کی نصرت و امداد نے یہ نقشہ جنگ پلٹ دیا۔ واقعہ جو اس آیت میں بیان ہوا اس کی تفصیل ابن جریر طبری اور بیہقی وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ سے یہ نقل کی ہے کہ معرکہ بدر کے دن جب مکہ کے ایک ہزار جوانوں کا لشکر ٹیلہ کے پیچھے سے میدان میں آیا تو مسلمانوں کی قلت و ضعف اور اپنی کثرت و قوت پر فخر کرتا ہوا متکبرانہ انداز سے سامنے آیا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ یا اللہ یہ تیرے جھٹلانے والے قریش فخر وتکبر کرتے ہوئے آرہے ہیں آپ نے جو فتح کا وعدہ مجھ سے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرما (روح البیان) تو جبریل امین نازل ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ایک مٹھی خاک کی لے کر دشمن کے لشکر کی طرف پھینک دیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا۔ اور ابن ابی حاتم نے بروایت ابن زید نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تین مرتبہ مٹی اور کنکروں کی مٹھی بھری ایک لشکر کے داہنے حصہ پر دوسری بائیں حصہ پر تیسری سامنے کی جانب پھینک دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ایک یا تین مٹھی بھر کنکریوں کو قدرت نے معجزانہ انداز میں اس طرح پھیلا دیا کہ مخالف لشکر کا کائی آدمی باقی نہ رہا جس کی آنکھوں میں اور چہروں پر یہ دھول اور کنکریاں نہ پہنچی ہوں جس کا اثر یہ ہوا کہ پورے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا فرشتے الگ ان کے ساتھ شریک قتال تھے۔ (مظہری، روح)۔ بالآخر کچھ لوگ مخالف فریق کے قتل ہوگئے کچھ گرفتار کرلئے گئے باقی بھاگ گئے اور میدان مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

سو تم نے ان کو نہیں مارا لیکن اللہ نے ان کو مارا، اور تو نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی، اور تاکہ کرے ایمان والوں پر اپنی طرف سے خوف احسان، بیشک اللہ ہے سننے والا جاننے والا۔

بالکل مایوسی اور ناامیدی کے عالم میں یہ فتح عظیم مسلمانوں کو حاصل ہوئی میدان جنگ سے واپس آکر آپس میں گفتگوئیں شروع ہوئیں صحابہ کرام اپنے اپنے کارنامے ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ، جس میں ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اپنی سعی و عمل پر ناز نہ کرو یہ جو کچھ ہوا وہ صرف تمہاری محنت و کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص حق تعالیٰ کی نصرت و امداد کا ثمرہ تھا۔ جو دشمن تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ان کو درحقیقت تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد ہوا۔ (آیت) وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى۔ یعنی یہ مٹھی کنکریوں کی جو آپ نے پھینکی وہ درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پھینکنے کا یہ نتیجہ کہ لشکر دشمن کے ہر فرد کی آنکھوں میں پہنچ کر سب کو سراسیمہ کردے یہ آپ کے پھینکنے کا اثر نہیں تھا بلکہ حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ صورت پیدا فرمائی۔ مارمیت اذ رمیت گفت حق کا رما بر کارہا دارد سبق غور کیا جائے تو مسلمانوں کے لئے جہاد کی فتح و کامیابی سے زیادہ قیمتی یہ ہدایت تھی جس نے ان کے ذہنوں کو اسباب سے پھیر کر مسبب الاسباب سے وابستہ کردیا اور اس کے ذریعہ اس فخر و عجب کی خرابی سے بچا لیا جس کے نشہ میں عموما فاتح اقوام مبتلا ہوجایا کرتی ہیں۔ اور اس کے بعد یہ بتلایا کہ فتح و شکست ہمارے حکم کے تابع ہیں۔ اور ہماری فتح و نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اطاعت گزار ہوں۔ (آیت) وَلِيُبْلِيَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا، یعنی یہ فتح عظیم ہم نے اس لئے دی کہ مومنین کو ان کی محنت کا پورا صلہ دے دے۔ بلاء کے لفظی معنی امتحان کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا امتحان کبھی مصیبت و مشقت میں مبتلا کرکے ہوتا ہے اور کبھی راحت و دولت دے کر۔ بلاء حسن اس امتحان کو کہا گیا ہے جو راحت، دولت اور فتح و نصرت دے کرلیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کو ہمارا انعام سمجھ کر شکر گزار ہوتے ہیں یا اس کو اپنی ذاتی قابلیت کا اثر سمجھ کر فخر و ناز میں مبتلا ہوجاتے اور اپنے عمل کو برباد کردیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی کے فخر و ناز کی کوئی گنجائش نہیں ہے بقول مولانارومی فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ تو ہوچکا اور جان رکھو کہ اللہ سست کردے گا تدبیر کافروں کی۔

چوتھی آیت میں اس کے بالمقابل اس فتح کا ایک اور فائدہ بھی یہ بتلایا گیا کہ (آیت) ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ۔ یعنی یہ فتح و نصرت اس لئے بھی مسلمانوں کو دی گئی کہ اس کے ذریعہ کافروں کی تدبیروں کو ناکام اور ناکارہ بنادیا جائے۔ جس سے وہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں۔ اور کوئی تدبیرب غیر اللہ تعالیٰ کی مدد کے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پانچویں آیت میں شکست خوردہ قریشی کفار کو خطاب اور ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو قریشی لشکر کے مسلمانوں کے مقابلہ پر مکہ سے نکلنے کے وقت پیش آیا تھا۔ وہ یہ کہ جب قریشی کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوگیا تو مکہ سے نکلنے سے پہلے لشکر کے سردار ابو جہل وغیرہ نے بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر دعائیں مانگی تھیں، اور عجیب بات یہ ہے کہ اس دعا میں انہوں نے اپنی فتح کی دعا کرنے کے بجائے عام الفاظ میں اس طرح دعا مانگی یا اللہ دونوں لشکروں میں سے جو اعلی و افضل ہے اور دونوں جماعتوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہے اور دونوں پارٹیوں میں سے جو زیادہ کریم و شریف ہے اور دونوں میں سے جو دین افضل ہے اس کو فتح دیجئے۔ (مظہری)
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اگر تم چاہتے ہو فیصلہ تو پہنچ چکا تمہارے پاس فیصلہ، اور اگر باز آؤ تو تمہارے لئے بہتر ہے، اور اگر یہی کرو گے تو ہم بھی پھر یہی کریں گے، اور کچھ کام نہ آئے گا تمہارے تمہارا جتھا اگرچہ بہت ہوں اور جان لو کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔

یہ بیوقوف تو یوں سمجھ رہے تھے کہ بمقابلہ مسلمانوں کے ہم ہی اعلی و افضل اور زیادہ ہدایت پر ہیں اس لئے یہ دعا ہمارے حق میں ہے اور اس دعا کے ذریعہ وہ یہ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ اور جب ہم فتح پائیں تو یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے حق پر ہونے کا فیصلہ ہوگا۔ مگر ان کو یہ خبر نہ تھی کہ اس دعا میں درحقیقت وہ اپنے لئے بددعا اور مسلمانوں کے لئے دعا کر رہے ہیں انجام جنگ سامنے آنے کے بعد قرآن کریم نے ان کو بتلایا (آیت) اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ، یعنی اگر تم خدائی فیصلہ چاہتے ہو تو وہ سامنے آچکا کہ حق کو فتح اور باطل کو شکست ہوگئی۔ (آیت) وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اور اگر تم اب بھی اپنے کفر وعناد سے باز آگئے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے (آیت) وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ اور اگر تم پھر اپنی شرارت اور جنگ کی طرف لوٹے تو ہم بھی مسلمانوں کی امداد کی طرف لوٹیں گے۔ (آیت) وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ یعنی تمہاری جماعت اور جتھا کتنا ہی زیادہ ہو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے مقابلہ میں تمہیں کچھ کام نہ دے گا۔ (آیت) وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی کوئی جماعت تمہیں کیا کام دے سکتی ہے جب کہ قادر مطلق اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور اس سے مت پھرو سن کر۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم (اعتقاد سے) سن تو لیتے ہی ہو (یعنی جیسا اعتقاد سے سن لیتے ہو ایسا ہی عمل بھی کیا کرو) اور تم ترک اطاعت میں) ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا (جیسا کفار کہ مطلق سماع کے اور منافقین سماع مع الاعتقاد کے مدعی تھے) حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں (کیونکہ تفہم اور اعتقاد دونوں میں مفقود ہے مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سنا ہی نہیں جس کو تم بھی سخت مزموم جانتے ہو) بیشک یہ بات ضرور ہے کہ اعتقاد سے سن کر عمل نہ کرنے والے اور ایک بلا اعتقاد سننے والے جو مثل نہ سننے کے ہے برے ہونے میں متفاوت ضرور ہیں کیونکہ کافر اور عاصی برابر نہیں چنانچہ) بدترین خلائق اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو (حق بات کو اعتقاد کے ساتھ سننے سے) بہرے ہیں (اور حق بات کے کہنے سے) گونگے ہیں (اور) جو کہ (حق بات کو) ذرا نہیں سمجھتے (اور باوجود اعتقاد کے جن سے عمل میں کوتاہی ہوجاتی ہے وہ بدتر نہیں ہیں گو بد ہیں سو بد بھی نہ ہونا چاہئے) اور (جن کا حال مذکور ہوا کہ وہ اعتقاد سے نہیں سنتے وجہ اس کی یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی خوبی کی کسر ہے اور وہ خوبی طلب حق ہے کیونکہ مبدأ اعتقاد کا بھی طلب اور تلاش ہے گو اس وقت اعتقاد نہ ہو مگر کم از کم تردد تو ہو پھر اسی تردد و طلب کی برکت سے حق واضح ہوجاتا ہے اور وہ تردد اعتقاد بن جاتا ہے جس پر سماع کا نافع ہونا موقوف ہے سو ان میں یہی خوبی مفقود ہے چنانچہ) اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتے (مراد یہ کہ ان میں وہ خوبی مذکورہ ہوتی کیونکہ خوبی کے وجود کے وقت علم الہی کا تعلق لازم ہے پس لازم بول کر ملزوم مراد لے لیا اور کوئی خوبی اس لئے کہا کہ جب ایسی خوبی نہیں جس پر مدار نجات ہے تو گویا کوئی خوبی بھی نہیں یعنی اگر ان میں طلب حق ہوتی) تو (اللہ تعالی) ان کو (اعتقاد کے ساتھ) سننے کی توفیق دیتے (جیسا مذکور ہوا کہ طلب سے اعتقاد پیدا ہوجاتا ہے) اور اگر (اللہ تعالیٰ) ان کو اب (حالت موجودہ میں کہ ان میں طلب حق نہیں ہے) سنا دیں (جیسا کہ گاہ گاہ ظاہری کانوں سے سن ہی لیتے ہیں) تو ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے (یعنی یہ نہیں کہ تامل و تدبر کے بعد بوجہ ظہور غلطی کے روگردانی کی ہو کیونکہ یہاں غلطی کا نام و نشان ہی نہیں بلکہ غضب تو یہ ہے کہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے اور) اے ایمان والو ! (ہم نے جو اوپر تم کو اطاعت کا حکم کیا ہے تو یاد رکھو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے کہ وہ حیات ابدی ہے جب یہ بات ہے تو) تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جب کہ رسول (جن کا ارشاد خدا ہی کا ارشاد ہے) تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف (یعنی دین کی طرف جس سے زندگی جاوید میسر ہوتی ہے) بلاتے ہوں (تو اس حالت میں جب کہ ہر طرح تمہارا ہی فائدہ ہے کوئی وجہ نہیں کہ تم عمل نہ کرو) اور (اس کے متعلق دو باتیں اور) جان رکھو (ایک بات یہ) کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان میں (دو طریق سے ایک طریق یہ کہ مومن کے قلب میں اطاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا دوسرا طریق یہ کہ کافر کے قلب میں مخالف کی نحوست سے ایمان و اطاعت کو نہیں آنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ اطاعت کی مداومت بڑی نافع چیز ہے اور مخالفت کی مواظبت بڑی مضر چیز ہے) اور (دوسری بات یہ جان رکھو کہ) بلاشبہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے (اس وقت اطاعت پر جزا اور مخالفت پر سزا ہوگی اس سے بھی اطاعت کا نافع ہونا اور مخالفت کا مضر ہونا ثابت ہوا) معارف و مسائل غزوہ بدر جس کا واقعہ پھچلی آیات میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے اس میں اہل اسلام اور کفار دونوں کے لئے عبرت اور حکمت کے بہت سے اسباق ہیں جن کی طرف قصہ کے درمیانی جملوں میں تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ مثلا پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کی شکست و ذلت کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا تھا (آیت) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی ہر طرح کی قوت و سامان کے باوجود مشرکین مکہ کی شکست کا اصلی سبب اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت تھی۔ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک تازیانہ عبرت ہے جو زمین و آسمان کے خالق ومالک کی قدرت کاملہ اور غیبی قوت سے قطع نظر کرکے صرف مادی قوتوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے باوجود اس کی امداد و نصرت کی غلط آرزوؤں سے اپنے نفس کو فریب دیتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں اسی مسئلہ کا دوسرا رخ مسلمانوں کو خطاب کرکے بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو باوجود قلت تعداد اور بےسامانی کے یہ فتح عظیم صرف اللہ جل شانہ کی نصرت و امداد سے حاصل ہوئی اور یہ نصرت و امداد نتیجہ ہے ان کی اطاعت حق کا۔ اس اطاعت پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا۔ (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اختیار کرو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہوں۔ پھر اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے فرمایا (آیت) وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ، یعنی قرآن اور کلمہ حق سن لینے کے باوجود اطاعت سے روگردانی نہ کرو۔ سن لینے سے مراد حق بات کا سننا ہے اور سننے کے چار درجات ہیں ایک یہ کہ کوئی آواز صرف کانوں سے سن لی مگر نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کی نہ سمجھا اور نہ اس پر اعتقاد و اعتماد کیا اور نہ عمل کیا۔ دوسرے یہ کہ کانوں سے سنا بھی اور سمجھا بھی مگر نہ اس پر اعتقاد کیا نہ عمل۔ تیسرے یہ کہ سنا بھی اور سمجھا بھی اور اعتقاد و اعتماد بھی کیا مگر عمل نہیں کیا۔ چوتھے یہ کہ سنا بھی سمجھا بھی اور اعتماد بھی کیا اور عمل بھی۔ یہ ظاہر ہے کہ سننے کا اصل مقصد پوری طرح تو چوتھے درجہ ہی سے حاصل ہوتا ہے جو مومنین کاملین کا مقام ہے اور ابتدائی تینوں درجوں میں سننا ناقص اور نامکمل ہے جس کو ایک حیثیت سے نہ سننا بھی کہہ سکتے ہیں جیسا کہ اگلی آیات میں آتا ہے۔ اور تیسرا درجہ جس میں حق کا سننا، سمجھنا، اعتقاد کرنا تو موجود ہے مگر عمل نہیں، اس میں اگرچہ سننے کا اصل مقصد پورا نہیں ہوتا مگر اعتقاد بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اس لئے وہ بھی بیکار نہیں، یہ درجہ گناہگار مسلمانوں کا ہے۔ اور دوسرا درجہ جس میں صرف سننا اور سمجھنا ہے نہ اعتقاد ہے نہ عمل، یہ منافقین کا درجہ ہے کہ قرآن کو سنتے بھی ہیں سمجھتے بھی ہیں اور ظاہر میں اعتقاد و عمل کا دعوی بھی ہے مگر حقیقت میں عقیدہ اور عمل سے خالی ہیں اور پہلا درجہ عام مشرکین و کفار کا ہے جنہوں نے کلمہ حق اور قرآن کی آیات کانوں سے تو سن لی مگر کبھی سمجھنے اور غور کرنے کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ آیت مذکورہ میں مسلمانوں کو خطاب ہے کہ تم لوگ حق بات کو سن تو لیتے ہی ہو یعنی سننا سمجھنا، اعتقاد رکھنا تو تمہاری طرف سے موجود ہے مگر آگے اس پر عمل بھی پورا کرو اطاعت سے روگردانی نہ کرو تاکہ سننے کا اصل مقصد مکمل ہوجائے۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان جیسے مت ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں۔

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے ارشاد فرمایا (آیت) وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ، یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر درحقیقت سنا سنایا کچھ نہیں۔ ان لوگوں سے مراد عام کفار بھی ہیں جو سننے کا دعوی کرتے ہیں اعتقاد کا نہیں کرتے۔ اور منافقین بھی ہیں جو سننے کے ساتھ سمجھنے اور اعتقاد رکھنے کے بھی مدعی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ غور و فکر اور صحیح سمجھ سے یہ دونوں محروم ہیں اس لئے ان کا سننا نہ سننے کے حکم میں ہے مسلمانوں کو ان لوگوں کے مشابہ ہونے سے منع فرمایا گیا۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک سب جانداروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے۔

تیسری آیت میں ان لوگوں کی شدید مزمت ہے جو حق بات کو غور و تدبر کے ساتھ نہیں سنتے اور اس کو قبول نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم نے جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ لفظ دواب دابہ کی جمع ہے اصل لغت کے اعتبار سے ہر زمین پر چلنے والے کو دابہ کہا جاتا ہے مگر عرف و محاورہ میں صرف چوپایہ جانوروں کو دابة کہتے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہوئے کہ سب سے بدترین چوپائے اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو حق کو سننے سے بہرے اور اس کے قبول کرنے سے گونگے ہیں اور بہرے گونگے میں اگر کچھ عقل ہو تو وہ بھی اشاروں سے اپنے دل کی بات کہہ لیتا ہے اور دوسروں کی بات سمجھ لیتا ہے یہ لوگ بہرے گونگے ہونے کے ساتھ بےعقل بھی ہیں اور یہ ظاہر ہے جو بہرا گونگا عقل سے بھی خالی ہو اس کے سمجھنے سمجھانے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ انسان کو جو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا اور اشرف المخلوقات اور مخدوم کائنات بنایا گیا یہ سب انعامات صرف اطاعت حق میں مضمر اور منحصر ہیں جب انسان نے حق بات کے سننے سمجھنے اور ماننے سے اعراض کیا تو یہ سارے انعامات اس سے سلب ہوجاتے ہیں اور وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ انسان اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے سب جانوروں سے افضل و اعلی ہے اور فرشتوں سے کم درجہ رکھتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنے سعی و عمل اور اطاعت حق میں جد و جہد کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی اعلی و اشرف ہوجاتا ہے اور اگر اس نے اطاعت حق سے روگردانی کی تو پھر وہ اسفل سافلین میں جاتا ہے اور جانوروں سے بھی زیادہ بدتر ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ جانتا ان میں کچھ بھلائی تو ان کو سنا دیتا، اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور بھاگیں منہ پھیر کر۔

چوتھی آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ، یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی بھلائی دیکھتے تو ان کو اعتقاد کے ساتھ سننے کی توفیق بخش دیتے اور اگر ان کو بحالت موجودہ کہ ان میں طلب حق نہیں ہے حق بات سنا دیں تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے۔ بھلائی سے مراد اس جگہ طلب حق ہے کہ طلب ہی کے ذریعہ تدبر اور فہم کے دروازے کھلتے ہیں اور اسی سے اعتقاد و عمل کی توفیق ہوتی ہے۔ اور جس میں طلب حق نہیں گویا اس میں کوئی بھلائی نہیں، معنی یہ ہیں کہ اگر ان میں کوئی بھلائی موجود ہوتی تو ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی جب اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ درحقیقت وہ ہر بھلائی سے محروم ہیں اور اس محرومی کی حالت میں اگر ان کو غور و تدبر اور اعتقاد حق کی دعوت دی جائے تو وہ ہرگز قبول نہ کریں گے بلکہ اس سے منہ پھیر کر بھاگیں گے۔ یعنی ان کی یہ روگردانی اس بنا پر نہ ہوگی کہ دین میں ان کو اعتراض کی بات نظر آگئی اس لئے نہیں مانا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حق بات پر دھیان ہی نہیں دیا۔ اس تقریر سے وہ منطقی شبہ بھی رفع ہوگیا جو اہل علم کے دلوں میں کھٹکتا ہے کہ یہ قیاس کی شکل اول ہے حد اوسط حذف کریں تو نتیجہ غلط نکل رہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہاں حد اوسط مکرر نہیں کیونکہ پہلے لَّاَسْمَعَهُمْ کا مفہوم الگ ہے دوسرے اسمعھم کا الگ پہلے میں سماع قبول اور سماع نافع مراد ہے دوسرے میں خالی سماع۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان والوں حکم مانوں اللہ کا اور رسول کا جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے، اور جان لو کہ اللہ روک لیتا ہے آدمی سے اس کے دل کو اور یہ کہ اسی کے پاس تم جمع ہوگے۔

پانچویں آیت میں پھر اہل ایمان کو خطاب کرکے اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل و اطاعت کا حکم ایک خاص انداز سے دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تمہیں جس چیز کی دعوت دیتے ہیں اس میں اللہ اور رسول کا اپنا کوئی فائدہ مضمر نہیں بلکہ سب احکام تمہارے ہی فائدہ کیلئے دیئے گئے ہیں ارشاد فرمایا (آیت) اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ، یعنی بات مانو اللہ کی اور رسول کی جب کہ رسول تم کو ایسی چیز کی طرف بلائے جو تمہارے لئے زندگی بخش ہے۔ وہ حیات جس کا ذکر اس آیت میں ہے کیا ہے اس میں کئی احتمال ہیں اس لئے علماء تفسیر نے مختلف قول اختیار کئے ہیں۔ سدی نے کہا کہ وہ حیات بخش چیز ایمان ہے کیونکہ کافر مردہ ہے۔ قتادہ نے فرمایا کہ وہ قرآن ہے جس میں دنیا و آخرت کی زندگی اور فلاح مضمر ہے۔ مجاہد نے فرمایا کہ وہ حق ہے۔ ابن اسحاق نے فرمایا کہ مراد اس سے جہاد ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عزت بخشی۔ اور یہ سب احتمالات اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں اور مراد یہ ہے کہ ایمان یا قرآن یا اتباع حق وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا دل زندہ ہوتا ہے اور دل کی زندگی یہ ہے کہ بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو غفلت و شہوت وغیرہ کے حجابات حائل ہیں وہ راہ سے ہٹ جائیں اور حجابات کی ظلمت دور ہو کر نور معرفت دل میں جگہ کرلے۔ ترمذی اور نسائی نے بروایت حضرت ابوہریرہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز ابی بن کعب کو بلایا۔ ابی بن کعب نماز پڑھ رہے تھے جلدی جلدی نماز پوری کرکے حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا کہ میرے پکارنے پر آنے میں دیر کیوں لگائی۔ ابی بن کعب نے عرض کیا کہ میں نماز میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا (آیت) اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ۔ ابی بن کعب نے عرض کیا کہ آئندہ اس کی اطاعت کروں گا اگر بحالت نماز بھی آپ بلائیں گے فورا حاضر ہوجاؤں گا۔ اس حدیث کی بنا پر بعض فقہاء نے فرمایا کہ حکم رسول کی اطاعت سے نماز میں جو کام بھی کریں اس سے نماز میں خلل نہیں ہوتا، اور بعض نے فرمایا کہ اگرچہ خلاف نماز افعال سے نماز قطع ہوجائے گی اور اس کی بعد میں قضا کرنا پڑے گی لیکن کرنا یہی چاہئے کہ جب رسول کریم ﷺ کسی کو بلائیں اور وہ نماز میں بھی ہو تو نماز کو قطع کرکے تعمیل حکم کرے۔ یہ صورت تو صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے لیکن دوسرے ایسے کام جن میں تاخیر کرنے سے کسی شدید نقصان کا خطرہ ہو اس وقت بھی نماز قطع کردینا اور پھر قضا کرلینا چاہئے، جیسے کوئی نمازی یہ دیکھے کہ نابینا آدمی کنویں یا گڑھے کے قریب پہنچ کر گرا چاہتا ہے تو فورا نماز توڑ کر اس کو بچانا چاہئے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ ، یعنی یہ بات سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان۔ اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں اور دونوں میں عظیم حکمت و موعظت پائی جاتی ہے جو ہر انسان کو ہر وقت یاد رکھنی چاہئے۔ ایک معنی تو یہ ہوسکتے ہیں کہ جب کسی نیک کام کے کرنے یا گناہ سے بچنے کا موقع آئے تو اس کو فورا کر گزرو۔ دیر نہ کرو اور اس فرصت وقت کو غنیمت سمجھو کیونکہ بعض اوقات آدمی کے ارادہ کے درمیان قضاء الہی حائل ہوجاتی ہے وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کوئی بیماری پیش آجائے یا موت آجائے یا کوئی ایسا مشغلہ پیش آجائے کہ اس کام کی فرصت نہ ملے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ فرصت عمر اور فرصت وقت کو غنیمت سمجھ کر آج کا کام کل پر نہ ڈالے کیونکہ معلوم نہیں کل کیا ہونا ہے من نمی گویم زیان کن یا بفکر سود باش ای زفرصت بیخبر در ہرچہ باشی زود باش اور دوسرا مطلب اس جملہ کا یہ ہوسکتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ سے نہایت قریب ہونا بتلایا گیا جیسے دوسری آیت میں وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ ، میں اللہ تعالیٰ کا انسان کی رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہونے کا بیان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا قلب ہر وقت حق تعالیٰ کے خاص تصرف میں ہے جب وہ کسی بندے کی برائیوں سے حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے قلب اور گناہوں کے درمیان آڑ کردیتے ہیں اور جب کسی کی بدبختی مقدر ہوتی ہے تو اس کے دل اور نیک کاموں کے درمیان آڑ کردی جاتی ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ اپنی دعاؤں میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک، یعنی اے دلوں کے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت اور قائم رکھئے۔ حاصل اس کا بھی وہی ہے کہ اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل میں دیر نہ لگاؤ اور فرصت وقت کو غنیمت جان کر فورا کر گزرو معلوم نہیں کہ پھر دل میں نیکی کا یہ جذبہ اور امنگ باقی رہتی ہے یا نہیں۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور بچتے رہو اس فساد سے کہ نہیں پڑے گا تم میں سے خاص ظالموں ہی پر، اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔

خلاصہ تفسیر اور (جس طرح تم پر اپنی اصلاح کے متعلق اطاعت واجب ہے اسی طرح یہ بھی اطاعت واجبہ میں داخل ہے کہ بقدر وسع دوسروں کی اصلاح میں بطریق امر بالمعروف و نہی عن المنکر بالید یا باللسان ترک اختلاط یا نفرت بالقلب جو کہ آخری درجہ ہے کوشش کرو ورنہ درصورت مداہنت ان منکرات کا وبال جیسا مرتکبین منکرات پر واقع ہوگا ایسا ہی کسی درجہ میں ان مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا جب یہ بات ہے تو) تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں ان گناہوں میں مرتکب ہوئے ہیں (بلکہ ان گناہوں کو دیکھ کر جنہوں نے مداہنت کی ہے وہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور اس سے بچنا یہی ہے کہ مداہنت مت کرو) اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں (ان کی سزا سے خوف کرکے مداہنت سے بچو) اور (اس غرض سے کہ نعمتوں کے یاد کرنے سے اطاعت منعم کا شوق ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اور خاص کر) اس حالت کو یاد کرو جب کہ تم (ایک وقت میں یعنی قبل ہجرت عدد میں بھی) قلیل تھے (اور قوت کے اعتبار سے بھی) سرزمین (مکہ) میں کمزور شمار کئے جاتے تھے (اور غایت ضعف حالت میں) اللہ تعالیٰ نے تم کو (مدینہ میں اطمینان سے) رہنے کو جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی (سامان سے بھی اور مردم شماری کو زیادہ کرنے سے بھی جس سے قلت اور استضعاف اور خوف اختطاف سب زائل ہوگیا) اور (صرف یہی نہیں کہ تمہاری مصیبت ہی کو دور کردیا ہو بلکہ اعلی درجہ کی خوشحالی بھی عطا فرمائی کہ دشمنوں پر تم کو غلبہ دے کر کثرت فتوحات سے) تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم (ان نعمتوں کا) شکر کرو (اور بڑا شکر یہ ہے کہ اطاعت کرو) اے ایمان والوں (ہم مخالفت اور معصیت سے اس لئے ممانعت کرتے ہیں کہ اللہ اور رسول کے تم پر کچھ حقوق ہیں جن کا نفع تمہاری ہی طرف عائد ہوتا ہے اور معصیت سے ان حقوق میں خلل پڑتا ہے جس سے واقع میں تمہارے ہی نفع میں خلل پڑتا ہے جب یہ بات ہے تو) تم اللہ اور رسول کے حقوق میں خلل مت ڈالو اور (باعتبار انجام کے اس مضمون کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ تم) اپنی قابل حفاظت چیزوں میں (کہ وہ تمہارے منافع ہیں جو اعمال پر مرتب ہوتے ہیں) خلل مت ڈالو اور تم تو (اس کا مضر ہونا) جانتے ہو اور (اکثر اوقات مال و اولاد کی محبت مخل اطاعت ہوجاتی ہے اس لئے تم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ) تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے (کہ دیکھیں کون ان کی محبت کو ترجیح دیتا ہے اور کون اللہ تعالیٰ کی محبت کو ترجیح دیتا ہے سو تم اس کی محبت کو ترجیح مت دینا) اور (اگر ان کے منافع کی طرف نظر جائے تو تم) اس بات کو بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس (ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی محبت کو ترجیح دیتے ہیں) بڑا بھاری اجر (موجود) ہے (کہ اس کے سامنے یہ فانی منفعتیں محض ہیچ ہیں)۔ معارف و مسائل قرآن کریم نے غزوہ بدر کی کچھ تفصیلات اور اس میں مسلمانوں پر اپنے انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اس سے حاصل شدہ نتائج اور پھر اس کے مناسب مسلمانوں کو کچھ پند و نصیحت کے ارشادات بیان فرمائے ہیں جن کا سلسلہ (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ سے شروع ہوا ہے۔ اسی سلسلہ کی یہ آیات ہیں جو اوپر لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی آیت میں ایسے گناہ سے بچنے کی خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے جس کا عذاب شدید صرف گناہ کرنے والوں پر محدود نہیں رہتا بلکہ ناکردہ گناہ لوگ بھی اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ وہ گناہ کو نسا ہے اس میں علماء تفسیر کے متعدد اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ گناہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی لوگوں کو نیک کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کی جد و جہد کا ترک کردینا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کا حکم دیا ہے کہ کسی جرم و گناہ کو اپنے ماحول میں قائم نہ رہنے دیں کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا یعنی جرم و گناہ دیکھتے ہوئے باوجود قدرت کے اس کو منع نہ کیا تو اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام کردیں گے جس سے نہ گناہگار بچیں گے نہ بےگناہ۔ اور بےگناہ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اصل گناہ میں ان کے ساتھ شریک نہیں مگر امر بالمعروف کے ترک کردینے کے گناہگار وہ بھی ہیں اس لئے یہاں یہ شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک کے گناہ کا عذاب دوسرے پر ڈالنا بےانصافی اور قرآنی فیصلہ (آیت) اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہاں گناہگار اپنے اصل گناہ کے وبال میں اور بےگناہ ترک امر بالمعروف کے گناہ میں پکڑے گئے کسی کا گناہ دوسرے پر نہیں ڈالا گیا۔ امام بغوی نے شرح السنہ اور معالم میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود و صدیقہ عائشہ ؓ یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی خاص جماعت کے گناہ کا عذاب عام لوگوں پر نہیں ڈالتے جب تک کہ ایسی صورت پیدا نہ ہوجائے کہ وہ اپنے ماحول میں گناہ ہوتا ہوا دیکھیں اور ان کو یہ قدرت بھی ہو کہ اس کو روک سکیں اس کے باوجود انہوں نے اس کو روکا نہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ کا عذاب ان سب کو گھیر لیتا ہے۔ اور ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے اس کا ہاتھ نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام کردیں۔ صحیح بخاری میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی قانونی حدود توڑنے والے گناہگار ہیں اور جو لوگ ان کو دیکھ کر مدہنت کرنے والے ہیں، یعنی باوجود قدرت کے ان کو گناہ سے نہیں روکتے ان دونوں طبقوں کی مشال ایسی ہے جیسے کسی بحری جہاز کے دو طبقے ہوں اور نیچے کے طبقہ والے اوپر آکر اپنی ضرورت کے لئے پانی لیتے ہوں جس سے اوپر والے تکلیف محسوس کریں نیچے والے یہ دیکھ کر یہ صورت اختیار کریں کہ کشتی کے نچلے حصہ میں سوراخ کرکے اس سے اپنے لئے پانی حاصل کریں اور اوپر کے لوگ ان کی اس حرکت کو دیکھیں اور منع نہ کریں تو ظاہر ہے کہ پانی پوری کشتی میں بھر جائے گا اور جب نیچے والے غرق ہوں گے تو اوپر والے بھی ڈوبنے سے نہ بچیں گے۔ ان روایات کی بنا پر بہت سے حضرات مفسرین نے یہ قرار دیا کہ اس آیت میں فتنہ سے مراد یہی گناہ یعنی امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا ترک کردینا ہے۔ اور تفسیر مظہری میں ہے کہ اس گناہ سے مراد ترک جہاد کا گناہ ہے خصوصا اس وقت جبکہ امیر المومنین کی طرف سے جہاد کی دعوت عام مسلمانوں کو دے دی جائے اور سلامی شعائر کی حفاظت اس پر موقوف ہو کیونکہ اس وقت ترک جہاد کا وبال صرف تارکین جہاد پر نہیں بلکہ پورے مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ کفار کے غلبہ کے سبب عورتیں بچے بوڑھے اور بہت سے بےگناہ مسلمان قتل و غارت کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کے جان و مال خطرہ میں پڑجاتے ہیں۔ اس صورت میں عذاب سے مراد دنیوی مصائب اور تکلیفیں ہوں گی۔ اور قرینہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ پچلھی آیات میں بھی ترک جہاد کرنے والوں پر ملامت کی گئی ہے (آیت) وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ۔ اور (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ۔ وغیرہ آیات سابقہ اسی بیان میں آئی ہیں۔ اور غزوہ احد میں جبکہ چند مسلمانوں کو لغزش ہوئی کہ گھاٹی کی حفاظت چھوڑ کر نیچے آگئے تو اس کی مصیبت صرف غلطی کرنے والوں پر نہیں بلکہ پورے مسلم لشکر پر پڑی یہاں تک کہ خود رسالت مآب ﷺ کو اس معرکہ میں زخم آیا۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جس وقت تم تھوڑے تھے مغلوب پڑے ہوئے ملک میں ڈرتے تھے کہ اچک لیں تم کو لوگ پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا اور قوت دی تم کو اپنی مدد سے اور روزی دی تم کو ستھری چیزیں تاکہ تم شکر کرو۔

دوسری آیت میں بھی احکام الہیہ کی اطاعت کو آسان کرنے اور اس پر ترغیب دینے کے لئے مسلمانوں کو ان کی پچلھی خستہ حالی اور ضعف و کمزوری پھر اس کے بعد اپنے فضل و انعام سے حالات بدل کر ان کو قوت اور اطمینان عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ارشاد فرمایا (آیت) وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ یعنی اے مسلمانو اپنے اس حال کو یاد کرو جو قبل ہجرت مکہ معظمہ میں تھا کہ تعداد میں بھی کم تھے اور قوت میں بھی ہر وقت یہ خطرہ لگا ہوا تھا کہ دشمن ان کو نوچ کھسوٹ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ میں بہترین ٹھکانا عطا فرمایا۔ اور نہ صرف ٹھکانا بلکہ اپنی تائید و نصرت سے ان کو قوت اور دشمنوں پر فتح اور اموال عظیمہ عطا فرما دیئے۔ آخر آیت میں فرمایا لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ یعنی تمہارے حالات کی اس کایا پلٹ اور انعامات الہیہ کا مقصد یہ ہے کہ تم شکر گزار بندے بنو۔ اور ظاہر ہے کہ شکر گزاری اس کے احکام کی اطاعت میں منحصر ہے۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کرو آپس کی امانتوں میں جان کر۔

تیسری آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں یا آپس میں بندوں کے حقوق میں خیانت نہ کریں کہ حق ادا ہی نہ کریں یا اس میں کوئی اور کوتاہی کرکے ادا کریں۔ آخر آیت میں (آیت) وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ فرما کر یہ بتلا دیا کہ تم تو خیانت کی برائی اور اس کے وبال کو جانتے ہی ہو پھر اس پر اقدام کرنا قرین دانشمندی نہیں اور چونکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی سے غفلت و کوتاہی کا سبب عموما انسان کے اموال و اولاد ہوا کرتے ہیں اس لئے اس پر تنبیہ کرنے کے لئے فرمایا