2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اسطرح) کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

(271) ظاہر کرکے یا چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا ان میں سے کون سا طریقہ زیادہ اچھا ہے، اب اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتے ہیں، اگر صدقہ واجبہ کو ظاہر کرکے ادا کرو تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر صدقات نفلیہ کو پوشیدہ طریقے پر مثلا اصحاب صفہ کو دے دو تو یہ ظاہر کرنے سے بہتر ہے اور دونوں طریقے اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور تمہارے صدقات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور مشرکین پر نفلی صدقات وغیرہ خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور سبب یہ ہوا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ یا بنت ابوالنضر نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہمارے لیے اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو جنہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا، صدقات دینا جائز ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور (مومنو !) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم تو جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لے کرو گے اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا

(272) آپ ﷺ کے ذمہ ان کافروں کو راہ راست پر لانا واجب نہیں کہ آپ ﷺ ان فقراء اہل کتاب اور مشرکین سے (صدقہ و خیرات کو روکیں محض اس بنا پر کہ ممکن ہے وہ اس طرح ایمان لے آئیں) اور جو تم اپنا مال خرچ کرتے ہو وہ اپنے ثواب کے لیے کرتے ہو اور تم فقراء پر محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہو اور فقراء مثلااصحاب صفہ پر جو تم مال خرچ کررہے ہو، اس کا پورا پورا ثواب تمہیں قیامت کے دن میں مل جائے گا نہ تمہاری نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی، اور نہ برائیوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ ہوگا۔ شان نزول : (آیت) ”لیس علیک“۔ (الخ) امام نسائی ؒ حاکم ؒ ، بزار ؒ طبرانی ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ اپنے ان رشتہ داروں کو جو کہ مشرک تھے کچھ دینا اچھا نہیں جانتے تھے چناچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے انکو اس کی اجازت عطا فرمائی، اس پر (آیت) ”لیس علیک“۔ وانعم لاتظلمون“۔ تک آیت کریمہ نازل ہوئی اور ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس بات کا حکم دیتے تھے کہ صرف مسلمانوں ہی کو دیا جائے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے) تو ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے

(273) اور صدقات کے حقیقی مستحق تو صرف وہ حضرات ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے اپنے کو رسول اللہ ﷺ کی مسجد تک محدود کیا ہوا ہے (اصحاب صفہ) اور وہ معاشی سرگرمیوں کے لیے کہیں جا بھی نہیں سکتے، ان کے سوال سے بچنے کی وجہ سے ناواقف ان کو ان کے وقار کے سبب کھاتا پیتا سمجھتے ہیں، اے محمد ﷺ آپ ان کو ان کی شکل سے پہچان سکتے ہو، وہ کسی سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور اصحاب صفہ پر جو مال بھی تم خرچ کرو، اللہ تعالیٰ کو اس مال اور تمہاری نیتوں کی اچھی طرح خبر ہے۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر راہ خدا میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کی دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم

(274) جو حضرات پوشیدہ اور دکھا کر صدقہ و خیرات کرتے ہیں، جنت میں ان کو اس کا ثواب ملے گا اور انھیں نہ خوف ہوگا اور نہ غم، یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الذین ینفقون اموالھم“۔ (الخ) طبرانی ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے بزریعہ یزید، عبداللہ ؒ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے، کہ یہ آیت کریمہ (جہاد کے لیے) گھوڑے رکھنے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہے، یزید اور عبداللہ دونوں راوی مجہول ہیں اور عبدالرزاق ؒ اور ابن جریر ؒ ، ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے پاس چار درہم تھے، انہوں نے اس میں سے ایک رات کو اور ایک دن کے وقت اور ایک پوشیدہ طور پر اور ایک ظاہر کرکے اللہ کی راہ میں خرچ کیے تھے اور ابن منذر ؒ نے ابن مسیب ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور حضرت عثمان بن عفان ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان حضرات نے سامان جہاد فراہم کیا تھا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 2:275–276

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سود بیچنا بھی (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام تو جس کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگے گا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں جلتے رہیں گے

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا

(275۔ 276) اب اللہ تعالیٰ سود خوروں کا انجام کار بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قیامت میں اپنی قبروں سے اس طرح اٹھیں گے جیسا کہ دنیا میں شیطان کسی کو جنون سے خبطی اور دیوانہ بنا دے، آخرت میں یہ خبطی پن اور دیوانگی سود خور کی علامت اور نشانی ہوگی اور یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ ان لوگوں نے سود کو حلال سمجھنے کے لیے یہ جواز تراش لیا ہے کہ جب کسی چیز کو ادھار فروخت کیا جائے اور پھر اس کی قیمت پوری ہوجائے تو قرض میں اور اضافہ کرکے مدت بڑھا دینا اسی طرح حلال ہے کہ کسی چیز کے پہلی مرتبہ نقد فروخت کرنے پر نفع لینا جائز اور حلال ہے اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے فروخت کرتے وقت پہلی مرتبہ نفع لینا حلال قرار دیا ہے اور بعد میں ادھار کی مدت بڑھانے پر اس نفع کو حرام قرار دیا ہے لہٰذا جس شخص کو سود کے بارے میں اس کے پروردگار سے ممانعت پہنچی اور اس نے اس غلط کام سے توبہ کرلی تو حرمت سود سے پہلے جو کچھ اس نے کیا تھا اس پر اب ظاہرا کوئی پکڑ نہیں اور اسکی یہ توبہ بقیہ زندگی کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کے حوالہ ہے۔ چاہے عذاب سے محفوظ رکھے اور چاہے ذلیل ورسوا کرے اور جو اس کی حرمت سن کر پھر بھی سود کا طریقہ اختیار کرے تو وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو (اگر وہ سود کو حلال نہ سمجھتا ہو) اس سے نجات دے اللہ دنیا وآخرت میں سود کو مٹاتے اور صدقات واجبہ اور نفلیہ کو جب کہ وہ خالصتا اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں قبول فرماتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کافر اور سود کی حرمت کا انکار کرنے والے اور سود کھا کر اس کے گناہ میں گرفتار ہونے والے کو پسند نہیں کرتے۔
Ayah 2:277

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

(277) جو حضرات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں اور سود کے حرام ہونے پر ایمان لائے اور ان پر جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، ان کو خوبی کے ساتھ ادا کرتے اور سود کو قطعی طور پر چھوڑتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو پورے اہتمام کے کے ساتھ ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں تو ان کو اس کا ثواب جنت میں ملے گا اور جب موت کو ذبح اور دوزخ کو بھر دیا جائے گا، ایسے سخت وقت میں ان پر کوئی خوف و ہراس نہیں ہوگا۔
Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

(278) ثقیف اور مسعود، حبیب عبد یا لیل اور ربیعہ سود کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور بنی مخزوم پر تمہارے سودی کاروبار میں سے جو کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ، اگر تم سود کی حرمت پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اس سود کو نہیں چھوڑتے تو آخرت میں اللہ کی جانب دوزخ کے عذاب کے لیے اور دنیا میں رسول اکرم ﷺ سے تلوار کے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہوجاؤ۔ شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا“ (الخ) ابو یعلی ؒ نے اپنی مسند میں اور ابن مندہ ؒ نے کلبی کے طریق سے بواسطہ ابوصالح حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت قبیلہ ثقیف میں سے بنی عمر و بن عوف اور بنی مغیرہ کے بارے میں اتری ہے۔ بنی مغیرہ ثقیف کو سود پر مال دیا کرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے مکہ مکرمہ فتح کردیا اور اس دن تمام سودی کاروباروں کا خاتمہ کردیا گیا تو بنی عمرو اور بنی مغیرہ عتاب بن اسید کے پاس آئے بنی مغیرہ نے آکر کہا کہ اس سود کی وجہ سے ہم تمام لوگوں سے بدتر ہوگئے اور ہمارے علاوہ اور لوگوں نے سود کا خاتمہ کردیا تو بنی عمرو بولے کہ آپس میں ہم اس شرط پر صلح کرلیں کہ ہمارے لیے ہمارا سود ہے ان کی یہ بات عتاب بن اسید ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لکھ کر روانہ کی تو اس پر یہ آیت اور اس سے بعد والی آیت نازل ہوئی اور ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت قبیلہ ثقیف میں سے مسعود حبیب ربیہ اور عبد یا لیل، بنوعمر اور بنوعمیر کے متعلق اتری ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود کو چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کو نقصان اور نہ تمہارا نقصان

(279) اور اگر سود سے توبہ کرتے ہو تو بنی مخزوم کی طرح تمہارا جو اصل مال سود کے علاوہ ہے وہ مل جائے گا اور جب کوئی شخص سودے زیادتی کا مطالبہ نہ کرے تو اس پر کوئی ظلم نہیں اور جس وقت تم اصل مال دے دو گے تو تم پر بھی کوئی شخص ظلم نہیں کرے گا اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ نہ تم کسی کے قرض میں کمی کرو اور نہ تمہارے قرضوں میں کمی کی جائے گی۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر قرض لینے والا تنگدست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو تو تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

(280) اور اگر بنی مخزوم تنگی کی وجہ سے (مقررہ مدت پر) تمہارے قرضے نہ ادا کرے سکیں تو آسودگی تک ان کو مہلت دے دو اور اگر اپنے اصل کو بالکل ہی معاف کردو تو یہ بات بہتر ہے، اگر تم اس کے ثواب کا جانتے ہو۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جبکہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

(281) اور اس دن کے عذاب سے ڈرو جس دن ہر ایک نیک وبد کو اس کی نیکی اور برائی کا پورا پورا بدلہ ملے گا نہ ان کی نیکیوں میں سے کسی کی کمی کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مومنو ! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتاہو تو جو اس کو ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہو تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی اور جب گواہ (گواہی کے لئے) طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لیے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہہ بھی نہیں پڑے گا ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جب خریدوفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں) کسی طرح کا نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

(282) اب اللہ تعالیٰ ادھار کے معاملات کرنے کا طریقہ بتلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والو ! جب وقت مقرر کے لیے قرض کا معاملہ کرو تو قرض دار اور قرض دینے والے کے بیچ میں جو معاملہ ہوا ہے اسے انصاف کے ساتھ کاغذ پر لکھ لیا کرو اور لکھنے والا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سکھایا ہے وہ ان دونوں کے درمیان لکھنے سے انکار نہ کرے۔ اور وہ بغیر کسی قسم کی زیادتی اور کمی کے اس دستاویز کو لکھے اور کاتب کو وہ شخص بتلادے جس پر قرض ہے اور قرض دار اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور قرض کی رقم لکھوتے وقت اس میں کسی قسم کی کمی نہ کرے اور اگر قرض دار لکھوانے کے معاملہ میں جاہل ہے یا کاتب کو لکھوانے سے عاجز ہے یا اچھی طرح اس چیز کو نہیں لکھوا سکتا تو پھر قرض دینے والا بغیر کسی زیادتی کے ٹھیک ٹھیک لکھوا دے۔ اور اپنے ان حقوق کے اجراء کے لیے دو آزاد مسلمان پسندیدہ لوگوں کو گواہ بھی کرلیا کرو اور اگر مرد نہ ہوں تو پسندیدہ اور معتبر عورتوں میں سے ایک مراد اور دو عورتوں کو گواہ کرلیا کرو کیونکہ ان دونوں عورتوں میں اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری بھولنے والی کو یہ شہادت یاد دلا دے اور گواہوں کو جب حاکموں کے پاس بلایا جائے تو وہ بھی انکار نہ کیا کریں، (یعنی جانے سے انکار نہ کریں بلکہ گواہی کے لیے گواہی کے لیے حاضر ہوں) اور تم اس قرض کا معاملہ لکھنے میں خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوا کرو اور یہ قرض کی دستاویز لکھنے کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عدل و انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا اور شہادت کو زیادہ واضح کرنے والا ہے جب کہ شاہد شہادت کو بھول جائے۔ اور تمہارے لیے یہ چیز زیادہ لازم ہے کہ تم قرض کے معاملہ میں اور اس کی مدت میں شک میں نہ پڑو۔ ہاں اگر کوئی سودا فورا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر اس میں مدت مقرر کرو تو گواہ کرلیا کرو کتاب کو کتابت پر اور گواہ کو گواہی پر مت تنگ کرو اور اگر تکلیف پہنچاؤ گے تو تمہیں گناہ ہوگا، لہٰذا اس تکلیف پہنچانے سے ہماری مغفرت فرمائیے جیسا کہ قارون کو زمین میں دھنسایا گیا اور سنگسار کردینے سے بھی ہم پر رحم فرمائیے جیسا کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کو پتھروں سے سنگسار کیا گیا، جب انہوں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دل کی غیر اختیاری باتوں اور بھول چوک سے مواخذہ کو اٹھا لیا اور سنگسار کردینے سے بھی ان کو اور ان کی پیروی کرنے والوں کو محفوظ رکھا۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر پر ہو اور (دستاویز لکھنے والا مل نہ سکے) تو (کوئی چیز) رہن باقبضہ رکھ کر) قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کرے اور خدا سے جو اس کو پروردگار ہے ڈرے اور دیکھنا شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

(283) اور اگر سفر کی حالت میں لکھنے وغیرہ کی کوئی چیز نہ ہو تو اس میں قرض دینے والا اپنے قرض کے عوض قرض دار سے کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لے، اور اگر بغیر رہن رکھے ہوئے اطمینان کی وجہ سے قرض دے دیا تو قرضدار کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھی کا پورا پورا حق ادا کرے، اور قرض کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے، اور فیصلہ کرنے والوں کے سامنے شہادت کو نہ چھپاؤ، جو اس کو چھپائے گا تو اس کو دل گناہ گار ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ شہادت کے چھپانے اور اس کے بیان کردینے کو خوب جانتے ہیں۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(284) تمام مخلوقات اور تمام چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے، اور اگر تم اپنے دلوں کی باتوں کو ظاہر کرو، یہ ظہور سے پہلے وسوسہ کے بعد کا درجہ ہے یا اس کو چھپاؤ تمہیں ان سب کا بدلہ دیا جائے گا، اسی طرح یاد کے بعد بھولنا اور درستگی کے بعد غلطی کرجانا، اور جہاد کے بعد زبردستی کرنا جو ان تمام گناہوں سے توبہ کرے ہیں، جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اس کے مضمون میں بہت پریشانی اور بےہر اسی ہوئی، جب آپ کو معراج ہوئی، تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیتیں نازل فرمائیں۔ شان نزول : وان تبدوا ما فی انفسکم“ (الخ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب یہ آیت (یعنی اگر تم نے اپنے دل کی باتوں کو ظاہر کرو یا اسے پوشیدہ رکھو سب پر مواخذہ ہوگا) نازل ہوئی، تو صحابہ کرام ؓ کے لیے یہ چیز سخت حیرانی اور پریشانی کا باعث ہوئی چناچہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر گھٹنوں کے بل گرگئے اور عرض کیا آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ہم اس حکم کی کہاں طاقت رکھتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تم اسی طرح کہنا چاہتے ہو جیسا کہ یہود و نصاری نے تم سے پہلے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی، بلکہ یہ کہو ہم نے سنا اور اطاعت کی پروردگار ہم آپ سے اپنے گناہوں کی معافی کے طلبگار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، چناچہ جب صحابہ کرام ؓ نے یہ جملہ دہرایا اور اس سے ان کی زبانیں تر ہوگئیں، تو حق تعالیٰ نے اس کے بعد (آیت) ”امن الرسول“ یہ آیت نازل فرمائی، جب اس پر سب نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ نے پہلے حکم کو منسوخ کرکے یہ آیت ”۔ لا یکلف اللہ نفسا“۔ نازل فرمائی، یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان کو اس کی طاقت کے بقدر مکلف بناتا ہے، نیز امام مسلم وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) ہم اس پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

(285) رسول اکرم ﷺ قرآن کریم اور اس کے معانی کو بیان کرنے میں سچے اور دیانت دار ہیں، رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی زبانی فرماتے ہیں کہ اور مسلمانوں میں سے ہر ایک ان تمام باتوں کا عقیدہ رکھتا ہے، اور مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ ہم رسولوں میں سے کسی بھی رسول کا انکار نہیں کرتے اور نیز ہم اللہ کے حکم کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں، پھر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، کہ اے ہمارے پروردگار ہم حدیث نفس (دل کی غلط باتوں) سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم نے مرنے کے بعد آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے نقصان پہنچے گا اسے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مواخذہ نہ کیجیو اے پروردگا ہم ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

(286) اللہ تعالیٰ احکام شرعیہ کا طاقت کے مطابق ہی مکلف بناتے ہیں، اس کا نیکیوں پر ثواب ہے مثلا حدیث نفس، بھول، اور غلطی، اور مجبور کرنے کے ترک کرنے پر ثواب ہے، اور برائیوں مثلا حدیث نفس نسیان اور زبردستی پر عذاب ہے، اب اللہ تعالیٰ دعا کے طریقہ کی تعلیم دیتا ہے، کہ اس طریقہ کے ساتھ بارگاہ الہی میں دعا کرنی چاہیے، تاکہ حدیث نفس (دل کی غلط باتیں) بھول اور غلطی یہ تمام چیزیں معاف ہوجائیں کہ یوں کہو اے ہمارے پالنے والے ! ہم پر ایسا کوئی شاق حکم نہ نازل کیجیے کہ جس کے چھوڑ دینے سے ہم پر پاکیزہ اور حلال چیزوں کو حرام کردیا جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے عہد توڑنے پر تو نے ان پر اونٹ، گائے، بکریوں کے گوشت اور دیگر پاک چیزوں کو حرام کردیا تھا اور یہ بھی درخواست ہے کہ ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس میں ہمیں کسی قسم کی راحت اور نفع نہ ہو ہم سے معاف اور درگزر فرمائے، آپ ہی ہمارے کارساز ہیں۔ اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ ہمیں مسخ کے عذاب سے بچائیے جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی قوم کو مسخ کیا گیا، اور زمین میں دھنسا دینے سے ہماری مغفرت فرمائیے، جیسا کہ قارون کو زمین میں دھنسایا گیا، اور سنگسار کردینے سے بھی ہم پر رحم فرمائیے، جیسا کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کو پتھروں کے ذریعہ سنگسار کیا گیا، جس انہوں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے دل کی غیراختیاری باتوں اور بھول چوک سے مواخذہ کو اٹھا لیا اور خسف، مسخ اور سنگسار کردینے سے بھی ان کو اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کو محفوظ فرما دیا۔