2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

(231) اور جب تم عورتوں کو طلاق رجعی دے دو اور وہ عدت کے قریب پہنچیں تو تیسرے حیض میں غسل سے قبل تو خواہ حسن صحبت اور معاشرت کے معاشرت کے ساتھ ان اسے رجوع کرلو یا ان کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دو تاکہ وہ غسل کرلیں اور ان کی عدت پوری ہوجائے اور ان کو تکلیف پہنچانے اور ظلم کرنے کے ارادہ سے نہ رکھو کہ ان پر عدت کو دراز کردو اور جو اس عمل سے تکلیف پہنچانے کا کام کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، احکام الہی کو مذاق مت بناؤ کہ تم اس کو جانتے ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت عطا کر کے جو تم پر احسان کیا ہے اور جو کچھ کتاب اللہ میں اوامرو نواہی اور حلال و حرام کو بیان کیا گیا ہے ان سب باتوں کو یاد کرو اور کسی کو بےجا تکلیف پہنچانے کے متعلق اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے اور کسی کو تکلیف پہنچانے پر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واذا طلقتم النساء“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عوفی ؒ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا تھا پھر عدت پوری ہونے سے پہلے اس سے رجوع کرلیتا تھا اس کے بعد پھر اسے طلاق دے دیتا تھا، اس طرح اس کو نقصان پہنچاتا اور لٹکائے رکھتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور ابن جریر ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے کہ ثابت بن یسار نامی انصار میں ایک شخص تھا اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جب اس کی عدت پوری ہونے میں دو یا تین دن رہ گئے تو اس سے رجوع کرلیا پھر اسے تکلیف پہنچانے کی خاطر طلاق دے دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”ولا تمسکوھن (الخ) شان نزول : (آیت) ”ولا تتخذوا ایات اللہ“۔ (الخ) ابن ابی عمر ؓ نے اپنی مسند میں اور ابن مردویہ ؒ نے ابوالدرداء ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی طلاق دیتا تھا پھر اس کے بعد کہتا کہ میں تو کھیل کر رہا ہوں اور غلام کو آزاد کرتا اور کہتا کہ میں تو مذاق کررہا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اتاری فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو مذاق نہ سمجھو اور ابن منذر ؒ نے عبادہ بن صامت ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور ابن مردویہ ؒ نے ابن عباس ؓ سے اور ابن جریر ؒ سے حسن ؒ سے مرسل ایسے ہی روایت نقل کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو، اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(232) اور جب تم عورتوں کو ایک طلاق یا دو طلاقیں دے دو اور پھر ان کی عدت پوری ہوجائے اور وہ اپنے پہلے شوہروں کے پاس حق مہر اور نئے نکاح کے ساتھ جانا چاہیں تو ان کو اپنے پہلے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو اور (آیت) ”تعضلوھن“۔ ضاد کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مت روکو، جب کہ وہ آپس میں مہر اور نکاح کے لیے ساتھ اتفاق کرلیں ان مذکورہ باتوں سے نصیحت کی جاتی ہے اور یہ باتیں تمہارے لیے درستگی کا ذریعہ ہیں اور تمہارے اور ان عورتوں کے دلوں کو بدگمانی اور عدوات سے پاک کرنے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ عورت کو خاوند سے کس قدرت محبت ہے جبکہ تم یہ نہیں جانتے۔ یہ آیت مبارکہ معقل بن یسار مزنی ؓ کے بارے میں اتری ہے انہوں نے اپنی بہن جمیلہ کو ان کے پہلے خاوند عبداللہ بن عاصم ؓ کے پاس حق مہر اور نئے نکاح کے ساتھ جانے سے روکا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے روک دیا۔ شان نزول : (آیت) ”واذا طلقتم النساء“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ، ابوداؤد ؒ ترمذی ؒ وغیرہ نے حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کی مسلمانوں میں سے ایک شخص کے ساتھ شادی کردی، ان کی بہن اس کے پاس تھیں، اس نے اس کو ایک طلاق رجعی دے دی اور پھر رجوع نہ کیا، تاآنکہ عدت گزر گئی، اس کے بعد ان کی بہن کی چاہت اسی کی طرف ہوئی اور اس کی چاہت ان کی بہن کی طرف ہوئی، غرض کہ اس نے پھر اس سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجوا دیا، حضرت معقل ؓ نے غیرت کے جوش میں کہا کہ میں نے اولا تمہیں اس کے ساتھ عزت دی اور پھر اس سے تمہاری شادی کردی مگر تم نے اس کو طلاق دی (اور پھر رجوع نہ کیا) اللہ کی قسم وہ اب تمہارے نکاح میں ہرگز نہیں جاسکتی، اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کی آپس کی خواہش اور حاجت کو پہچان لیا اس نے فورا یہ آیت کریمہ (آیت) ”واذا طلقتم النساء“۔ سے ”لاتعلمون“۔ تک نازل فرمائی، جب حضرت معقل ؓ نے یہ آیت سنی تو فرمایا کہ میرے پروردگار نے اس کی خواہش کو سن لیا، اس کے بعد ان کو بلایا اور فرمایا کہ میں پھر اپنی بہن کو تمہارے نکاح میں دے کر تمہیں عزت دیتا ہوں۔ ابن مردویہ ؓ نے بہت سے طریقوں سے اس روایت کو نقل کیا ہے پھر بعد میں سدی ؒ کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی چچا زاد بہن تھیں، ان کے خاوند نے ان کو طلاق دے دی، اور ان کی عدت بھی پوری ہوگئی، اس کے بعد ان سے پھر شادی کرنے کا ارادہ کیا، حضرت جابر ؓ نے انکار کیا کہ اولا میری چچا زاد بہن کو طلاق دے دی، اور اب پھر اس سے دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے اور ان کی بہن بھی اسی خاوند سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی تھیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

(233) اور (مائیں اپنے بچوں کو خواہ وہ) طلاق دی ہوئی ہوں، دو سال تک دودھ پلالیں، اور یہ اس عورت کے لیے ہے جو شیر خوارگی کو مکمل کرے اور باپ پر ان عورتوں کا خرچہ دودھ پلانے کے زمانہ میں بھی اور ایسا ہی کپڑا قاعدہ کے موافق واجب ہے، جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو، دودھ پلانے وغیرہ کے خرچہ میں اتنا ہی انسان کو اللہ کی طرف سے پابند کیا گیا ہے، جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا ہے، کسی ماں سے اس کا بچہ نہیں لینا چاہیے جب کہ وہ اتنے پیسوں پر دودھ پلانے کے لیے راضی ہوگئی جتنے پیسے وہ دوسروں سے لیتی ہے اور نہ باپ کے ذمہ بچہ کو ڈالا جائے جب کہ اپنی ماں کو پہچان لے اور کسی دوسری عورت کا دودھ نہ پئے اور باپ یا بچہ کے وارث پر جب کہ بچہ کا باپ نہ ہو تو اسی طرح بچے کا خرچہ اور تکلیف نہ پہنچانا واجب ہے جیسا کہ باپ پر تھا۔ اور جب میاں بیوی دو سال سے پہلے آپس کی رضا مندی اور مشورہ سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو اگر وہ اپنی اولاد کو پورے دو سال تک دودھ نہ پلائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں اور جب ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانا چاہو اور ماں کا (عدت پوری ہونے کی وجہ سے) شادی کا ارادہ ہوتب بھی ماں باپ پر کوئی گناہ نہیں جب کہ قاعدہ کے مطابق جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے بغیر کسی مخالفت کے تم اس کودے دو اور تکلیف پہنچانے اور مخالفت کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ موافقت اور تکلیف پہنچانے کی غرض سے مخالفت کرنے کو دیکھ رہا ہے۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں اور جب (یہ) عدت پوری کر چکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا تمہارے سارے کاموں سے واقف ہے

(234) اور تم لوگوں میں سے جو حضرات مرجائیں اور اپنے بعد اپنی عورتیں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار ماہ اور دس دن تک عدت گزاریں، جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو شادی کے لیے بناؤ سنگھار کرنا درست ہے اور میت کے وارثوں کو ان عورتوں کے چھوڑنے میں کوئی گناہ نہیں (کیونکہ اب عدت گزر جانے کے بعد ان کا پہلے خاوند سے تعلق نہیں رہا) اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ خیروشر کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تم پر کچھ گناہ نہیں، خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے (مگر ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول وقرار نہ کرنا اور جب تک عدت پوری نہ ہو لے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے

(235) اور جن عورتوں کے شوہر انتقال کرچکے اور ابھی ان کی عدت پوری نہیں ہوئی تو ان کو نکاح کا پیغام دینے میں کوئی حرج نہیں کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے شادی کرلیں، اشارتا اس سے کہا جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو حلال طریقہ پر اکٹھاکردے تو کتنا اچھا ہو یا اپنے دلوں میں اس چیز کو پوشیدہ رکھو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم ضرور ان سے نکاح کا ذکر کرو گے مگر صاف الفاظ میں نکاح کا وعدہ نہ کرو مگر یہ کہ صحیح طریقہ یہ اشارتا اس کا ذکر کرو کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم دونوں کا ساتھ کردے تو بہت اچھا ہو اور تم نکاح کے تعلق کا پختہ ارادہ بھی نہ کرو جب تک کہ اس کی عدت نہ گزر جائے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے دلوں کی خبر ہے کہ تم اپنی باتوں میں سے کس بات کو پورا کرتے ہو اور کس کو نہیں کرتے ہو اور وعدہ خلافی سے ڈرتے رہو اور جو وعدہ خلافی سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے والے ہیں اور وہ حلیم بھی ہے (کہ جلد انتقام نہیں لیتے)
Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگ دسست اپنی حیثیت کے مطابق، نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(236۔ 237) تم پر کوئی حرج کی بات نہیں اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں جدا کردو یعنی طلاق دے دو کہ نہ تم نے ان کے ساتھ صحبت کی وہ اور نہ ان کے لیے حق مہر کی کوئی مقدار مقرر کی ہو اور اس طلاق کا ایک جوڑا دے دو ، جو صاحب وسعت پر اس کے مال کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق واجب ہے، یہ جوڑا دینا مہر کے اوپر ہے (کہ اس صورت میں مہر نہیں) جس میں تین کپڑے دیے جائیں گے ایک قمیض ایک شلوار اور ایک بڑی چادر، یہ چیز مسلمانوں پر لازم ہے اس لیے کہ یہ جوڑا حق مہر کے قائم مقام ہے، اب اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں بیان کرتا ہے جو عقد نکاح کے وقت مہر متعین کرے اور اگر صحبت یا خلوت صحیحہ سے پہلے ان کو طلاق دے دو اور ان کے لیے تم نے مہر بھی مقرر کیا ہے تو جو تم نے مہر متعین کیا ہے اس کا آدھا دنیا تم پر واجب ہے۔ (مگر کچھ صورتیں اس سے مستثنی ہیں) ایک یہ کہ عورت ہی خود اپنے حق مہر کو جو خاوند پر واجب ہے معاف کرڈالے یا خاوند کا جو عورت پر حق ہے خاوند اس کو چھوڑ دے اور پورا حق مہر عورت کو دے دے کہ ان دونوں صورتوں میں دونون کو لینے دینے کا کچھ حق نہیں اور تمہارا خود اپنے حق کو چھوڑ دینا یہ متقین حضرات کے لیے تقوی کے زیادہ قریب ہے یعنی میاں بیوی سے کہا جائے کہ وہ اپنے اس حق کو معاف کردے جو ایک دوسرے پر واجب ہے تو یہ چیز تقوی سے زیادہ قریب ہے میاں بیوی کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور بھلائی کرنے سے غفلت نہیں برتنی چاہیے، اللہ تعالیٰ اس احسان اور بھلائی کو اچھی طرح دیکھ رہے ہیں۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

(مسلمانو !) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو

(238) اب اللہ تعالیٰ پانچوں نمازوں کی جو کہ مقصود حقیقی ہیں تاکید کرتے ہیں کہ پانچوں نمازوں کے وضو، رکوع، سجود، اور جو چیزیں ان میں واجب ہیں ان کا اور ان کے اوقات کا خاص طور پر اہتمام کرو اور خاص طور پر عصر کی نماز کا بہت ہی اہتمام کرو، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے نماز پڑھو کہ قیام و رکوع وسجود کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کرو اور یہ بھی تفسیر بیان کی گئی ہے کہ نماز میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز اور فرمانبردار بنے ہوئے کھڑے ہو، کسی کام وغیرہ سے اس کی نافرمانی نہ ظاہر ہو۔ شان نزول : (آیت) ”حافظوا علی الصلوت“۔ (الخ) امام احمد ؒ اور بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں اور ابو داؤد ؒ ، بیہقی ؒ اور ابن جریر ؒ نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ ظہر کی نماز شدت گرمی کے وقت پڑھا کرتے تھے یہ نماز صحابہ کرام ؓ پر سب نمازوں سے زیادہ مشکل ہوتی تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ پانچوں نمازوں خصوصیت کے ساتھ درمیانی نماز یعنی ظہر کا اہتمام کرو۔ امام احمد، ؒ نسائی ؒ ، اور ابن جریر ؒ نے زید بن ثابت ؓ ہی سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ٹھیک دوپہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھا کرتے تھے اور آپ کے پیچھے صرف ایک دو صفیں ہوتی تھیں، اور لوگ اس وقت قیلولہ (دوپہر کا آرام) اور اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ اور آئمہ ستہ وغیرہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نماز میں کلام کرلیا کرتے تھے حتی کہ ہم میں سے کوئی بھی جو اس کے پاس کھڑا ہوتا تھا نماز میں اس سے گفتگو کرلیا کرتا تھا جب تک کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی (آیت) ”وقوموللہ“ (الخ) یعنی اللہ کے سامنے عاجز بنے ہوئے کھڑے رہو، اس کے بعد ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا اور کلام کرنے سے روک دیا گئے اور ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نماز میں بات چیت کرلیا کرتے تھے حتی کہ کوئی شخص اپنے بھائی کو کسی ضرورت کے بارے میں بھی کہہ دیا کرتا تھا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ”وقومو للہ قنتین“۔ اتاری۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (و اطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھا دیا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

(239) اور اگر نماز کے قیام میں کسی دشمن کا خوف ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے جس طرح ممکن ہو خواہ اشارتا ہو یا قبلہ کی طرف منہ بھی نہ ہوسکے تو نماز پڑھ لیاکرو۔ اور جب دشمن وغیرہ سے بالکل اطمینان ہوجائے تو پھر خاص اللہ تعالیٰ کے لیے رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھو، اس کے مطابق جس کا تمہیں قرآن کریم کے اندر حکم دیا گیا ہے کہ مسافر (چار رکعتوں والی نماز میں) دو رکعتیں پڑھے اور مقیم چار پڑھے، نزول قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم اس سے بیخبر تھے ،
Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا زبردست حکمت والا ہے

(240) اور جو لوگ تم میں سے انتقال کرجاتے ہیں اور مرنے کے بعد بیویوں کو چھوڑ جاتے ہیں تو ان پر وصیت واجب ہے اور اگر اس لفظ کو ھاء کے زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ان کو وصیت کرنی چاہیے تو اپنے مال میں یہ وصیت کرنا چاہئے کہ ان کے لیے ایک سال تک نان ونفقہ اور رہائش ہے، بغیر اس کے کہ ان کو شوہر کے مکان سے نکالا جائے۔ اور اگر وہ عورتیں خود چلی جائیں یا سال پورا ہونے سے پہلے وہ کسی اور شخص سے شادی کرلیں تو ان کے اپنے خاوند کے گھر سے نکلنے یا کسی اور سے شادی کرنے پر نان ونفقہ اور رہائش کے روک لیتے ہیں تو میت کے وارثوں پر اس چیز میں میں کوئی گناہ نہیں اور نہ ان کاموں میں اولیاء پر کوئی گناہ نہیں بات ہے جو یہ عورتیں اپنی شادی کے لیے (عدت گزرنے کے بعد) بناؤ سنگھار کریں۔ مگر یہ نفقہ (خرچہ) وغیرہ کا حکم آیت میراث سے منسوخ ہوگیا (کیونکہ میراث میں حق تعالیٰ نے خاوند کی ہر ایک چیز میں عورت کا حصہ رکھ دیا) اور جو احکام الہیہ کو ترک کرے اللہ تعالیٰ اس کو پکڑنے پر غالب ہیں اور حکمت والے ہیں کہ میراث کے حکم سے پہلے یہ ایک سال تک نفقہ رہائش کا حکم دیا تھا پھر بعد میں میراث سے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ شان نزول : (آیت) ”والذین یتوفون منکم“۔ (الخ) اسحاق بن راہویہ ؒ نے اپنی تفسیر میں مقاتل بن حبان ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص اہل طائف میں سے مدینہ منورہ چلا آیا اور اس کی اولاد اور مرد وعورتیں اور ماں باپ بھی تھے وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرگیا، اس چیز کی رسول اکرم ﷺ کو خبر دی گئی، آپ نے اس کے والدین اور اولاد اور مرد وعورتیں اور ماں باپ بھی تھے وہ مدینہ منورہ میں انتقال کرگیا، اس چیز کی رسول اکرم ﷺ کو خبر دی گئی، آپ نے ان کے والدین اور اولاد کی دستور کے مطابق مال دے دیا، مگر اس کی بیوی کو کچھ نہ دیا، تاہم اس کے وارثوں کو حکم دیا کہ اس کے خاوند کے مال میں سے ایک سال تک اس کو نفقہ یعنی خرچ دیا جائے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 2:241–242

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان نفقہ دینا چاہئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

(241۔ 242) ان عورتوں کو کچھ فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا مقرر ہوا ہے، واجب نہیں کیوں کہ یہ بطور احسان کے حق مہر کے علاوہ ہے، اسی طرح حق تعالیٰ احکام الہی کو بیان کرتا ہے، جیسا کہ ان چیزوں کو بیان کیا ہے تاکہ تم اللہ کے حکموں کو سمجھو۔ شان نزول : (آیت) ”وللمطلقت متاع بالمعروف“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ ”۔ ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ“۔ نازل ہوئی تو اس پر ایک شخص کہنے لگا کہ اگر اس نے بھلائی کی تو میں بھی ایسا کروں گا اور اگر اس نے بھلائی دیکھنے میں نہ آئی تو میں یہ سلوک نہیں کروں گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ سب طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانا مقرر ہوا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ بھی کردیا کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

(243) اب اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی ایک جہاد والی جماعت کا ذکر کرتے ہیں، اے محمد ﷺ قرآن کریم میں آپ کو ان لوگوں کا واقعہ نہیں معلوم ہو اجو اپنے گھروں سے اپنے دشمنوں سے لڑائی کرنے کے لیے گئے تھے اور وہ تقریبا تعداد میں آٹھ ہزار تھے پھر موت کے ڈر سے انہوں نے قتال نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اسی جگہ پر موت دے دی اور پھر آٹھ دن کے بعد ان کو حیات بخش دی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو زندہ کرکے ان پر بڑا فضل و احسان کیا ہے مگر یہ لوگ زندگی کی قدر نہیں کرتے۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو !) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) سنتا (اور سب کچھ) جانتا ہے

(244) ان کو زندہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں اپنے دشمن کے ساتھ لڑائی کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا ہے اور تمہاری نیتوں کو جاننے والا ہے اگر تم اس چیز پر عمل نہ کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے تو اس پر تمہاری سزا کو بھی اچھی طرح جاننے والا ہے۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے میں اس کو کئی حصے زیادہ دے گا ؟ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

(245) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنین کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی جو شخص صدقہ وثواب کی امید رکھ کر خلوص اور سچائی کے ساتھ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بڑھا کر ہزاروں تک پہنچا دیتا ہے اور دنیا میں جس پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، مال کی تنگی اور فراخی کردیتا ہے اور مرنے کے بعد جب حاضری ہوگی تو وہ تمہارے اعمال کا ثواب دے گا، یہ آیت مبارکہ ایک انصاری شخص ابوالدحداح یا ابو الدحداحتہ کے بارے میں اتری ہے۔ شان نزول : من ذالذی یقرض اللہ“۔ (الخ) ابن حبان ؒ نے اپنی صحیح میں اور ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ”۔ مثل الذین ینفقون اموالھم“۔ (الخ) یعنی سات سو تک ثواب کی زیادتی والی آیت نازل ہوئی، تو رسول اکرم ﷺ نے دعا فرمائی کہ اے رب میری امت کو اور زیادہ ثواب دیجیے، اس پر یہ آیت کریمہ ”۔ من ذالذی یقرض“۔ (الخ) نازل ہوئی، یعنی جو شخص خدا کے راستے میں حسن نیت کے ساتھ خرچ تو اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کر اور بہت زیادہ کردیتا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں ؟ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھرگئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

(246) اے مخاطب تجھے اس قوم تجھے اس قوم کا واقعہ معلوم ہے، جس وقت انہوں نے اپنے نبی شموئیل ؑ سے کہا کہ ہمارے لشکر پر ایک بادشاہ مقرر کردیجیے کہ جس کے حکم سے ہم اپنے دشمن (جالوت) سے اللہ کی راہ میں لڑائی کریں ان کے نبی نے فرمایا کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو (اور اگر عسیتم“ ، سین کے زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کیا تم یہ سمجھتے ہو) اگر تم پر تمہارے دشمن کے ساتھ جہاد کو فرض قرار دیا جائے تو تم جہاد جہاد نہیں کرسکو گے وہ کہنے لگے ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کے راستے میں جہاد نہ کریں دراصل ہم اپنی بستیوں سے نکال دیئے گئے اور ہمارے بیٹوں کو بھی قیدی بنا لیا گیا، چناچہ جب ان پر قتال فرض ہوا تو تقریبا تین سو تیرہ آدمیوں کے علاوہ سب اپنے دشمنوں سے قتال کرنے سے منکر ہوگئے، اور جنھوں نے اپنے دشمن سے قتال نہ کیا، اللہ تعالیٰ ان کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں پیغمبر نے کہا کہ خدا نے اس کو تم پر (فضیلت دی ہے اور بادشاہی کیلیے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

(247) اور شموئیل ؑ نے ان کا کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بنایا ہے، وہ کہنے لگے ان کو ہم پر حق حکمرانی کیسے حاصل ہوسکتا ہے، وہ شاہی خاندان سے نہیں ہے، اس کی نسبت ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں کیوں کہ ہم شاہی خاندان سے ہیں اور وہ اتنا سرمایہ دار بھی نہیں ہے کہ وہ فوج پر خرچ کرسکے، شموئیل ؑ نے فرمایا کہ بادشاہت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انتخاب کیا ہے ان کو جنگ وسیاست میں بڑائی حاصل ہے اور جسمانی طور پر بھی قوت میں وہ تم سے زیادہ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت دنیا میں جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اگر وہ شاہی خاندان سے نہ ہو اور اللہ تعالیٰ وسعت دینے والا ہے اور یہ بات بھی جانتے ہیں کہ کون وسعت اور فراخی کا حقدار ہے، وہ کہنے لگے اس کی بادشاہت اللہ کی جانب سے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر اسے بادشاہ متعین کیا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

(248) شموئیل ؑ نے فرمایا ان کی بادشاہت اللہ کی طرف سے ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ صندوق جو تم سے لیا گیا تھا تمہارے پاس آجائے گا اس میں رحمت اور طمانیت ہوگی اور سکینہ کے معنی نصرت اور مدد کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں یعنی اس میں اس قسم کی زردی ہوگی جیسے انسان کی صورت ہوتی ہے، اور اس میں کچھ چیزیں بھی ہوں گی جن کو حضرت موسیٰ ؑ چھوڑ گئے یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی کتاب اور الواح (تختیاں) اور ان کا عصا اور جو ہارون ؑ چھوڑ گئے ہیں جیسے ان کی چادر اور اس کا صافہ (پگڑی) اس صندوق کو تمہارے پاس فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور صندوق کو تمہارے پاس لوٹائے جانے میں اس بات کی اور نشانی ہوگی کہ طالوت کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اگر تم اس بات کی تصدیق کرو، جب یہ صندوق ان کے پاس پہنچ گیا تو ان لوگوں نے طالوت کی حکمرانی اور بادشاہت کو قبول کرلیا اور ان کے ساتھ جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائیگا کہ) وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائیگا) میرا ہے ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی لے لے (تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

(249) جب حضرت طالوت لشکر لے کر روانہ ہوئے تو انہیں چٹیل زمین سے واسطہ پڑا جہاں گرمی اور پیاس کی سخت شدت تھی، انہوں نے پانی مانگا، طالوت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک جاری نہر سے تمہیں آزمائے گا، سو جو شخص اس نہر سے زیادہ پانی پیئے گا وہ تو میرے ساتھ میرے دشمن کے مقابلے کے لیے نہیں جائے گا اور نہ اس نہر کو پار کرسکے گا اور جو اس میں سے نہیں پیئے گا وہ میرے ساتھ ہوگا لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے، (آیت) ”غرفۃ“۔ غین کی زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس میں ایک چلو مراد ہوگا، جو ان کی پیاس اور ان کے جانوروں کے لیے کافی ہوجائے گا، چناچہ جب لوگ نہر پر پہنچے تو نہر تو نہر کے کنارے پر کھڑے ہو کر سب نے بہت زیادہ پانی پینا شروع کردیا مگر تین سو تیرہ آدمیوں نے احتیاط کی اور حکم الہی کے مطابق انہوں نے اس میں سے پانی پیا، چناچہ جب طالوت اور سچے حضرات نے نہر کو پار کرلیا تو آپس میں کہنے لگے کہ آج تو جالوت کے مقابلہ کی طاقت معلوم نہیں ہوتی، لیکن جن حضرات کو اس بات کا علم اور یقین تھا کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، وہ کہنے لگے کہ ایسے واقعات بہت گزر چکے ہیں کہ حکم الہی سے بہت سی اہل حق کی چھوٹی جماعتیں باطل کے بڑے بڑے لشکروں پر غالب آگئی ہیں اور لڑائی میں استقامت والوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہے۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر کفار پر فتح یاب کر)

(250) چناچہ جب یہ جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے آئے تو سچے حضرات دعا مانگنے لگے کہ پروردگار صبر کے ساتھ ہمیں عزت عطا فرما اور ہمیں لڑائی میں ثابت قدم رکھ اور جالوت اور اس کے لشکر پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

(251) چناچہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان کو شکست دے دی اور داؤد ؑ نے جالوت جو کافروں کا سرغنہ تھا کہ مار ڈالا، اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کو بنی اسرائیل کی بادشاہت عطا فرمائی اور ان کو فہم اور نبوت عطا فرمائی اور بغیر آلات کے ذرہ بنانا سکھایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے جالوت کے شر کو رفع کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین تمام تر فساد سے بھر جاتی یعنی اللہ تعالیٰ انبیاء کرام ؑ کے ذریعے مومنین سے ان کے دشمنوں کے شر کو اور مجاہدین کے ذریعہ اہل باطل کے شرکو دور فرماتے ہیں اگر ایسا نہ ہو تو روئے زمین فساد سے پر ہوجائے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

(252) لیکن اللہ تعالیٰ دشمن کے دور کرنے میں بڑا فضل کرنے والا ہے یہ قرآن کریم جو گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے ہم جبریل امین ؑ کے ذریعے آپ پر نازل کرتے ہیں، تاکہ حق و باطل نکھر جائے، اور بلا شبہ آپ تمام جنات اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتا) بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی اور اگر خدا چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاش کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

(253) ہم نے ان میں سے کچھ کو کچھ پر بزرگی عطا کی ہے، چناچہ حضرت موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا دوست بنایا اور ادریس ؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند درجات عطا فرمائے اور حضرت عیسیٰ ؑ ہیں کہ ان کو ہم نے اوامرو نواہی اور عجائبات عطا کیے اور جبرائیل امین ؑ سے ان کی تائید فرمائی ، اور حضرت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ کے بعد باوجود یہ کہ ان کی کتابوں میں رسول اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف آچکی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا یہ لوگ باہم اختلاف نہ کرتے مگر انہوں نے اختلاف کیا کچھ لوگ تو تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے اور کچھ نے تمام کتابوں اور رسولوں کا انکار کردیا، اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو دین میں یہ لوگ اختلاف نہ کرتے مگر جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہوسکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

(254) اب اللہ تعالیٰ صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتے ہیں کہ جو مال ہم نے تمہیں دیے ہیں قیامت کے آنے سے پہلے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، جس دن نہ فدیہ ہوگا اور نہ دوستی اور نہ کافروں کے لیے کسی قسم کی شفاعت ہوگی اور کافر تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے ہیں۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں اور زمین میں سے سب اسی کا ہے کون ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کرسکے، جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کرسکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اسکی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

(255) اب اللہ تعالیٰ اپنی تعریف و توصیف بیان فرماتے ہیں کہ وہ ایسا ہے جس کو کبھی موت نہیں کہ سارے جہان کا سنبھالنے والا ہے جس کی کوئی ابتداء نہیں اور نہ اس کو اونگھ آسکتی ہے اور نہ ہی نیند، جو کہ عالم کی تدبیر اور احکام میں سے اسے بےتوجہ کر دے، تمام فرشتے اور سب مخلوقات اسی کی ملکیت میں ہیں تمام آسمانوں اور زمین والوں میں سے قیامت کے دن اسی کی اجازت سے کوئی سفارش کرسکتا ہے، امور آخرت میں سے جو چیزیں فرشتوں کے سامنے ہیں اور امور دنیا میں سے سب کو وہ جانتا ہے ان چیزوں کے علاوہ جن کی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اطلاع دی ہے، فرشتے دنیا وآخرت کے کاموں میں سے کسی چیز کو نہیں جانتے، اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمینوں سے زیادہ وسیع ہے، بغیر فرشتوں کے اللہ تعالیٰ کو عرش وکرسی (اور تمام آسمان و زمین) کی حفاظت کوئی مشکل نہیں اور وہ ہر چیز سے زیادہ عالی شان اور صاحب عظمت ہے۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف) طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہوچکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کچھ ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور جانتا ہے

(256) عرب کے اسلام قبول کرنے کے اہل کتاب اور مجوسیوں میں سے کسی شخص کو توحید پر مجبور نہیں کیا جائے گا، ایمان کفر سے اور حق باطل سے ممتاز ہوچکا ہے اور یہ آیات منذر بن سادی تمیمی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اور جو شخص شیطان کی باتوں، خیالات اور بتوں کی عبادت اور تعظیم سے انکار کرے اور جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن میں آئی ہیں ان پر ایمان لائے تو اس نے مضبوطی کے ساتھ حلقہ ”لاالہ الا اللہ“۔ تھام لیا ہے۔ جس کو کسی طرح زوال اور ہلاکت نہیں ہوسکتی اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اس مضبوط حلقہ کے تھامنے والے سے جس کی نعمتیں ختم اور زائل نہیں ہوں گی اور نہ یہ ہمیشہ دوزخ میں رہ کر ہلاک وبرباد ہوگا اللہ تعالیٰ ان باتوں کو سننے والے ہیں اور اس کی نعمتوں اور ثواب کا علم رکھتے ہیں۔ شان نزول : لااکراہ فی الدین“ (الخ) امام ابوداؤد ؒ ، نسائی ؒ اور ابن حبان ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، ایک عورت کے ہاں پیدا ہونے والا لڑکا زندہ نہیں رہتا تھا تو اس نے یہ منت (نذر) مانی کہ اگر اس کا لڑکا زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنادے گی جب یہودیوں کا قبیلہ بنو نصیر جلاوطن کیا گیا تو وہ بچہ بھی انصار کی اولاد میں سے ان کے ساتھ جارہا تھا، انصار بولے ہم تو اپنی اولاد کو نہیں چھوڑیں گے (یعنی یہود کے ساتھ جانے نہیں دیں گے بلکہ اس کو اپنی جماعت میں شامل کریں گے) اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ دین میں زبردستی نہیں۔ اور ابن جریر ؒ نے سعید ؒ یا عکرمہ ؓ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ”لااکرہ فی الدین“۔ انصار میں سے ایک شخص حسین نامی سالم بن عوف کی اولاد کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، ان کے دو لڑکے نصرانی تھے اور یہ مسلمان تھے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اگر وہ دونوں نصرانیت کے علاوہ اور کسی دین کو قبول نہیں کرتے تو ان کو اسلام لانے پر مجبور کروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

(257) جو حضرات ایمان لائے یعنی عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ ان کا مددگار اور محافظ ہے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نکالا اور توفیق عطا کی کہ تاکہ یہ کفر سے نکل کر ایمان میں داخل ہوجائیں اور کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی ان کا دوست شیطان ہے وہ ان کو ایمان سے کفر کی طرف بلاتا ہے، یہ سب جہنمی ہیں، جس میں نہ کسی کو کبھی موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے۔ شان نزول : ولی الذین امنوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عبدۃ ابن ابی لبابہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ وہ حضرات ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے اور پھر جب رسول اکرم ﷺ تشریف لائے تو آپ پر یہ ایمان لائے، ان ہی حضرات کے بارے میں یہ آیت مبارکہ اتری ہے۔ اور مجاہد ؒ سے روایت کیا گیا ہے کہ ایک جماعت حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لائی تھی اور ایک جماعت نے ان کا انکار کیا تھا، جب رسول اکرم ﷺ مبعوث ہوئے تو جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کا انکار کیا تھا، وہ آپ پر ایمان لے آئے اور جو حضرت ؑ پر ایمان لائے تھے، انہوں نے آپ ﷺ کا انکار کردیا، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(258) اے محمد ﷺ کیا آپ ﷺ کو اس شخص کا واقعہ یاد نہیں، جس نے حضرت ابراہیم ؑ سے ان کے پروردگار کے دین کے بارے میں جھگڑا کیا تھا اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حکومت وسلطنت عطا کی تھی اور وہ نمرود بن کنعان ہے حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ اور زندوں کو موت دیتا ہے اس نے بھی یہی دعوی کیا تھا حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اس کا ثبوت پیش کرو، چناچہ اس نے قید خانہ سے دو آدمی بلائے، ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو سزا معاف کرکے چھور دیا اور کہنے لگا یہ اس بات کی دلیل ہے، اب حضرت ابراہیم ؑ دوسری دلیل کی جانب متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ سورج مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دکھا، تو یہ کافر بغیر کسی دلیل کے خاموش ہوگیا، اور کافروں یعنی نمرود کو دلیل کی رسائی نہیں ہوئی۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق سے گزر ہو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا تو خدا نے اسکی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہو ہو اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

(259) اور اسی طرح عزیر بن شرحیاء کا واقعہ ہے جن کا ”دیر ہرقل“ بستی پر سے گزرنا ہوا وہ بستی چھتوں کے بل گری پڑی تھی، کہنے لگے اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کو ان کے مرنے کے بعد کی سے زندہ کرے گا اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی جگہ پر سو سال تک سلا دیا، اس کے بعد دن کے اخیر حصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بیدار کیا۔ پھر ارشاد ہوا عزیر کتنا قیام ہوا کہنے لگے ایک دن لیکن جب سورج پر نظر پڑی تو بولے دن کا کچھ حصہ ارشاد ہوا کہ سو سال تک انجیر، انگور اور اس کے شیرے کو دیکھو، اس میں اتنی مدت میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور اپنے گدھے کی ہڈیاں بھی دیکھو کیسی سفید چمک رہی ہیں (اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کیا) تاکہ ہم مردوں کے زندہ کرنے میں تمہاری ایک علامت اور نشانی کردیں۔ جس صورت پر انسان مرتا ہے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کردیتا ہے، چناچہ حضرت عزیر ؑ پر جوانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے موت طاری کردی تھی اور پھر جوانی کی حالت میں ہی زندہ کردیا۔ اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ لوگوں کے لیے ایک عبرت کی نشانی بنادیا کیوں کہ جب وہ زندہ ہوئے تو وہ چالیس سال کی عمر کے تھے اور ان کا لڑکا ایک سو بیس سال کا تھا، اور اب اس گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھ کر کہ ہم کس طرح اسے ترکیب دیے دیتے ہیں اور اگر لفظ ”ننشزھا“۔ کو راء کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کس طرح ہم اس کو پیدا کرتے ہیں کہ اس میں پٹھے، رگیں، گوشت، کھال، اور بال یہ تمام چیزیں پیدا کرتے ہیں پھر اس کے بعد اس میں جان ڈالتے ہیں، جب یہ باتیں مشاہدہ کے طور پر واضح ہوگئیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کی ہڈیوں کو جمع کرکے کس طرح ان میں روح ڈالتے ہیں تو حضرت عزیز ؑ بےاختیار جوش میں آکر کہہ اٹھے کہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ موت وحیات اور ہر ایک چیز پر قادر ہے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

(260) اور حضرت ابراہیم ؑ نے بھی عرض کیا تھا کہ پروردگار آپ کس طرح مرے ہوئے لوگوں کو زندہ کریں گے ارشاد باری ہوا کیا تم اس پر یقین نہیں لائے، عرض کیا میں کیوں نہ لاتا لیکن اس لیے گزارش ہے تاکہ (مشاہدہ کرکے) میرے دل کو اطمینان ہوجائے اور بطور مشاہدہ کے یہ چیز بھی واضح ہوجائے کہ میں آپ کا دوست مستجاب الدعوت ہوں، ارشاد ہوا کہ مختلف قسم کے چار پرندے لے لو یعنی مور، مرغا، کوا اور بطخ اور پھر ان سب کا اچھی طرح باریک قیمہ کرکے اور ان کو اچھی طرح ملا کر چار پہاڑوں پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دو پھر ان کا نام لے کر بلاؤ وہ سب زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ اور ابراہیم ؑ کو کہا گیا کہ اس بات کا خوب یقین رکھو کہ جو شخص مردوں کے زندہ کرنے پر ایمان نہ لائے اللہ تعالیٰ اس پر عذاب نازل کرنے میں زبردست ہیں اور مردوں کی ہڈیاں جمع کرنے اور پھر ان کے زندہ کرنے میں جیسا کہ ان پرندوں کو زندہ کیا ہے حکمت والے ہیں۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

(261) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے مالوں کی مثال جو اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانہ کی مثال ہے کہ اس سے سات بالیاں اگتی ہیں اور ہر بالی میں ایک سو دانے ہوتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اللہ کی راہ میں خرچ کیے ہوئے اموال کو سات سو گنا تک بڑھاتا ہے اور جو اس کا اہل ہو یا جس کا صدقہ قبول کیا جائے اسے اس سے زیادہ ثواب عطا کرتا ہے۔ اور ثواب دینے میں اللہ تعالیٰ بڑی وسعت اور فراخی والے ہیں اور مسلمانوں کے خرچ کرنے اور ان کی نیتوں کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

(262) اگلی آیت میں حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لوگ خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ جس کو دیا ہے اسے کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچا تے ہیں ، ان کو اس کا جنت میں ثواب ملے گا جہاں نہ آئندہ کسی قسم کے عذاب کا خوف ہوگا اور اپنے بعد جو چھوڑگئے ہیں نہ ہی اس کا غم ہوگا۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

(263) اپنے مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے اس کے لیے اچھی طرح بات کہنا اور اس کے حق میں دعا کرنا اور اس کی غلطیوں سے درگزر کرنا یہ تیرے لیے اور اس کے لیے ایسے صدقہ خیرات سے اچھا اور بہتر ہے کہ جس کے بعد تو اس پر احسان جتلانے والے کے صدقہ سے غنی ہیں اور حلیم ہیں کہ ایسے شخص پر جلد عذاب نازل نہیں کرتے۔ جس کو دیا ہے اس کے ساتھ تکبر کرکے اور اس سے تکلیف پہنچا کر اپنے صدقات کے ثواب کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو دکھاوے کے لیے صدقہ کرتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن پر بھی ایمان نہیں رکھتا۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! اپنے صدقات (و خیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا جو لوگوں کو دکھاوے کیلیے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

(264) احسان جتلانے والے اور مشرک کے صدقہ کی مثال چکنے پتھر کی طرح ہے جس پر کچھ مٹی آگئی ہو اور پھر اس پرزور کی بارش پڑگئی تو اس نے جیسا وہ چکنا صاف تھا، پھر اسی طرح کردیا، دنیا میں اس طرح کے خرچ کرنے والوں کو آخرت میں کسی بھی قسم کا ثواب نہیں ملے گا، اور اللہ تعالیٰ منافقین اور لوگوں کے دکھلاوے لیے خرچ کرنے والوں اور اسی طرح صدقہ خیرات پر احسان جتانے والوں کو ان کے صدقات پر کسی قسم کا کوئی ثواب نہیں عطا کریں گے۔
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلیے اور خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

(265) اور ان لوگوں کے اموال کی مثال جو خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اپنے نفوس کو سچائی کے لیے ثواب ملنے کا یقین کامل رکھتے ہوئے خرچ کرتے ہیں، ایک باغ کی طرح ہے جو کسی صاف بلند مقام پر ہو اور اس پر خوب زور کی بارش ہو، جس کی وجہ سے باغوں میں دو چند وہ پھل لایا اور اگر ایسی زور کی بارش نہ ہو تو ہلکی سی پھوار کی طرح بارش بھی اس کے لیے کافی ہے۔ یعنی مومن کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال ہے، خواہ وہ کم خرچ کرے یا زیادہ، جب کہ اخلاص اور خشیت خداوندی کے ساتھ ہو اللہ تعالیٰ اس ثواب کو دوگنا فرماتا ہے، جیسا کہ ایسے باغ کے پھلوں کو زیادہ کرتا ہے اور جو تم خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح دیکھتے ہیں۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کو باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہو بگولا چلے اور وہ جل (کر راکھ کا ڈھیر ہو) جائے ؟ اس طرح خدا تم سے اپنی آئتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو

(266) بھلا تم میں سے کسی شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کے پاس انگوروں کا باغ ہو اور درختوں اور مکانات کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں اور اس باغ میں مختلف قسموں کے پھل ہوں پھر وہ بڑھاپے کی وجہ سے کسی کام کا نہ رہے اور اچانک یہ باغ ایک گرم یا ٹھنڈے بگولے کی لپیٹ میں آجائے، جس سے وہ بالکل ختم ہوجائے (تم میں سے کوئی بھی شخص یہ چیز گوارا نہیں کرسکتا) اللہ تعالیٰ اوامرو نواہی کی یہ نشانیاں بیان فرماتے ہیں تاکہ قرآنی مثالوں پر غور کرو، آخرت میں کافروں کی یہی مثال ہوگی کہ وہاں بغیر کسی تدبیر کے باقی رہ جائے گا اور نہ دنیا ہی میں پھر لوٹ کر آنے کا موقع ملے گا جیسا کہ بوڑھا بغیر تدبیر کے رہ جاتا ہے کہ اب جوانی کی قوت و طاقت بھی واپس نہیں لاسکتا۔
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور وہ چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو اور جان رکھو کہ خدا بےپرواہ (اور) قابل ستائش ہے

(267) سونا اور چاندی اور زمین سے جو مختلف اقسام کے غلے اور پھل پیدا کیے ہیں، ان میں سے عمدہ اور حلال چیز کو خرچ کرو اور اپنے اموال میں سے ردی چیز کے خرچ کرنے کا ارادہ بھی نہ کیا کرو، حالاں کہ اگر ایسی ردی چیز تمہیں کوئی تمہارے حق میں واجب کے عوض میں دے تو تم کبھی بھی اسے قبول نہ کرو مگر یہ کہ چشم پوشی کرجاؤ اور اپنے بعض حق کو چھوڑ دو (تو اور بات ہے) ایس طرح اللہ تعالیٰ تم سے ایسی بیکار اور ردی چیز کو قبول نہیں فرماتے اور اللہ تعالیٰ تمہارے خرچ کا محتاج نہیں اور وہ اپنے تمام امور میں قابل ستائش ہیں۔ اور ایک یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ وہ تھوڑی چیز کو قبول کرتا ہے اور ثواب بہت زیادہ دیتا ہے، یہ آیت کریمہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہا نہ ماننا وہی) تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

(268) شیطان صدقہ وخرات کے وقت تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے اور اس طریقہ پر زکوٰۃ سے منع کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ زکوٰۃ و خیرات کی ادائیگی پر گناہوں کی معافی، اموال کی زیادتی اور آخرت میں ثواب کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بخششوں اور گناہوں کی معافی میں بہت وسعت اور فراخی والے اور تمہاری نیتوں اور تمہارے صدقات کو اچھی طرح جاننے والے ہیں۔ شان نزول : یا ایھا الذین امنوا انفقوا (الخ) امام حاکم ؒ ، ترمذی ؒ ، ابن ماجہ ؒ وغیرہ نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ ہم کھجوروں کے باغوں والے تھے ہم میں سے ہر ایک شخص اپنی کھجوروں میں سے ان کی کمی زیادتی کے لحاظ سے اللہ کی راہ میں دینے کے لیے لایا کرتا تھا اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے کہ وہ اس قسم کے نیک کاموں میں کوئی خاص دلچسپی کا اظہار کرتے تھے چناچہ ان میں سے کوئی شخص ایسا خوشہ لے کر آتا تھا جس میں معمولی اور ہلکی قسم کی کھجوریں لگی ہوتی تھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی کہ اے ایمان والو اپنی کمائی میں سے بہترین چیز خرچ کرو۔“۔ اور ابوداؤد ؒ نسائی ؒ اور حاکم ؒ نے سہل بن حنیف ؒ سے روایت کیا ہے کہ لوگ اپنے پھلوں میں سے برا اور ردی پھل صدقہ و خیرات کے لیے نکالا کرتے تھے، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ ”بےکار چیز کی طرف نیت مت لے جایا کرو کہ اس میں سے تم خرچ کرو“۔ اور امام حاکم ؒ نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر میں کھجوروں کا ایک صاع دینے کا حکم فرمایا تو ایک شخص ردی کھجوریں لے کر آیا، اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا (الخ) اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کھانے کی سستی چیزیں خرید کر ان کو صدقہ کیا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

(269) اب اللہ تعالیٰ اپنی بخششوں کا ذکر فرماتے ہیں : کہ رسول اکرم ﷺ کو نبوت عطا فرمائی اور حکمت کی تفسیر معانی قرآن کے ساتھ بھی کی گئی ہے اور قول وفعل اور رائے کی درستگی بہت بڑی چیز ہے اور امثال قرآنی اور حکمت قرآنیہ سے نصیحت عقلمند انسان ہی حاصل کرسکتے ہیں۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم (خدا کی راہ) میں جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اسکو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

(270) اور جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور اطاعت خداوندی کے دائرہ میں منت مان کر اس کو پورا کرتے ہو جب کہ نیت خالص ہو تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہیں اور اس پر ثواب دیتے ہیں اور مشرکین سے عذاب خداوندی کو کوئی چیز نہیں ٹال سکتی۔