Ayah 2:81(81) ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے یا اس کے شرک نے اسے ہلاک کرڈالا ہو اور وہ اسی حالت پر مرا ہے تو ایسے لوگ جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے وہاں ان کو موت بھی نہیں آئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی باہر نکالے جائیں گے،
Ayah 2:82(82) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو لوگ حضور اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجائے ایسے لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے باہر نکالے جا ہیں گے ،
Ayah 2:83(83) اب دوبارہ بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لینے کا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ وعدہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی وحدنیت نہیں بیان کروگے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ گے اور والدین کیساتھ نیکی اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرو گے اور لوگوں سے رسول اکرم ﷺ کی شان میں حق اور صحیح بات کہوگے اور پانچ وقت کی نمازوں کو ادا کرو گے، اموال کی زکوٰۃ ادا کیا کروگے مگر پھر تم اس بات سے پھرگئے (مگر کچھ تمہارے آباؤاجداد حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے دوست اور اس عہدوپیمان کو چھوڑ کر اس کو جھٹلانا شروع کردیا۔
Ayah 2:84(84) اور جس وقت کتاب میں ہم نے تم لوگوں سے یہ وعدہ لیا کہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کروگے اور کسی کو اس کے گھر سے نہیں نکالو گے (یعنی بنی قریظہ اور بنونظیر دونوں سے عہدلیا) اور تم نے اس عہد کو قبول کرلیا اور تم اسے اچھی طرح مانتے تھے۔
Ayah 2:85(85) مگر اے قبول کرنے والو ! اس کے بعد پھر تم لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور ایک دوسرے کو گھروں سے نکالا، ایک دوسرے کی ظلم و زیادتی کرنے پر مدد کرتے ہو اور جس وقت تمہارا ہم مذہب تمہارے پاس قید ہو کر آتا ہے تو دشمن کو فدیہ دے کر چھڑالیتے، حالانکہ ان کو نکالنا اور قتل کرنا دونوں چیزیں تم پر حرام کردی گئی تھیں تو کیا تم کتاب کے بعد احکام پر ایمان لاتے ہو کہ اپنے قیدیوں کا اپنے دشمنوں کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو اور اپنے ساتھیوں کے قیدیوں کو چھوڑ دیتے ہو، اس کا فدیہ نہیں ادا کرتے، اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ کتابی احکام میں سے جن احکام کو تمہارا نفس چاہے ہیں ان کو کرتے ہو اور جو تمہاری خواہش کے مطابق نہیں ہوتے ان کو چھوڑدیتے ہو۔ ایسے آدمی کی سزا یہی ہے کہ اسے دنیا میں قتل اور قید کیا جائے اور آخرت میں درد ناک عذاب دیاجائے، اور اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں اور تمہاری خفیہ باتوں پر عذاب دینے کو دینے کو ترک کرنے والے نہیں ہیں۔
Ayah 2:86(86) ایسے لوگ جنہوں نے دنیا کو آخرت کے مقابلہ پر اور کفر کو ایمان کے بدلے اختیار کرلیا ہے، ان سے عذاب میں کسی قسم کی کوئی تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ ان سے عذاب کو بالکل ختم کیا جائے گا۔
Ayah 2:87(87) اور ہم نے موسیٰ ؑ کو توریت دی اور ان کے بعد مسلسل رسولوں کو بھیجا اور عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کو امر و نہی عجائب و علامات عطا کیے اور جبریل امین ؑ کے ذریعے سے ان کو طاقت دی۔ اے یہودیوں کی جماعت ! کیوں تمہارے دل اور تمہارا دین موافقت نہیں کرتا اور تم رسول پر ایمان لانے سے اعراض کرتے ہو ایک جماعت نے رسول اکرم ﷺ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو جھٹلادیا اور تم ہی میں سے بعض لوگوں نے حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت زکریا ؑ کو قتل کیا۔
Ayah 2:88(88) اور اے محمد ﷺ ! یہ جماعت یہود آپ ﷺ کے علم اور فرمان کے متعلق یہ کہتی ہے کہ ہمارے دل ہر ایک علم کے نئے برتن ہیں اور ہمارے دل آپ ﷺ کے علم اور فرمان کو محفوظ نہیں کرسکتے، ان کے کفر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں پر مہر کردی ہے، ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لاتے ہیں، ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ نہ تھوڑی چیز پر ایمان لاتے ہیں اور نہ زیادہ پر۔
Ayah 2:89(89) جب ان لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب آئی ہے جو اس کتاب کے جو کہ ان کے پاس ہے توحید اور رسول اکرم ﷺ کے اوصاف اور اوصاف اور آپ ﷺ کی صفت اور بعض شرعی امور میں موافقت کرتی ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت اور قرآن حکیم کے نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے اپنے دشمن قبیلوں اسد، غطفان ومزنیہ وجہینہ کے خلاف مدد طلب کیا کرتے تھے اور جس وقت رسول اکرم ﷺ آئے اور یہ لوگ آپ کے صفت واصاف سے سے بخوبی واقف تھے تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا ان یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور ناراضگی ہے۔
شان نزول : (آیت) ’ وکانوا من قبل یستفتحون (الخ)
اس آیت کے متعلق امام حاکم ؒ نے مستدرک میں اور بیہقی ؒ نے دلائل میں ضعیف سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہود قبیلہ غطفان کے ساتھ لڑتے رہتے تھے، چناچہ جس وقت بھی دونوں قبیلوں کی لڑائی ہوتی تو یہودی شکست کھا جاتے، بالآخر یہودیوں نے اس دعا کے ساتھ غطفان سے پناہ چاہی کہ الہ العالمین ہم تجھ سے نبی امی جناب محمد ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں۔ جن کے بارے میں آپ ﷺ نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ آخر زمانہ میں تشریف لائیں گے کہ ہمیں قبیلہ غطفان پر غلبہ دے، چناچہ جب یہودی غطفان کے ساتھ لڑتے اور یہ دعا مانگتے تو غطفان شکست کھاجاتے، جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو بھیجا تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ کو نازل کیا کہ اے محمد ﷺ آپ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہ لوگ آپ کے وسیلہ سے کافروں پر نصرت طلب کیا کرتے تھے۔ اور ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ یا عکرمہ ؒ ، کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود قبیلہ اوس اور خزرج کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے وسیلہ سے نصرت طلب کیا کرتے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے عرب میں سے آپ کو مبعوث فرمادیا تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا اور جو اس سے قبل کہتے تھے اس کا انکار کرنے لگے، تو ان سے حضرت معاذ بن جبل ؓ اور بشر بن براء ؓ اور داؤد بن سلمہ نے کہا، اے یہود ! اللہ تعالیٰ کا خوف کھاؤ اور اسلام لے آؤ تم اس سے قبل ہمارے خلاف رسول اللہ ﷺ کے وسیلہ سے نصرت اور مدد طلب کیا کرتے تھے اور ہم تو مشرک تھے تو نے ہی ہمیں یہ بتایا تھا کہ آپ ﷺ مبعوث ہونے والے ہیں اور آپ کے اوصاف وصفت سے ہمیں آگاہ کیا تھا، بنی نضیر میں سے سلام بن شکم کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں آئی تھی جس کے ذریعہ سے ہم حضور اکرم ﷺ کو پہچانتے اور نہ ہم تم سے تمہارے حضور ﷺ کے بارے میں کچھ بیان کرتے تھے تب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:90(90) جس چیز کا بدلہ میں ان لوگوں نے اپنی جانوں کو فروخت کردیا ہے کہ حسد کی وجہ سے کتاب اور رسول اللہ ﷺ کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت جبریل امین ؑ کے واسطے سے نبوت اور کتاب حضور اکرم ﷺ پر اتار دی ہے یہ لوگ لعنت پہ لعنت کے حق دار ہیں اور ان کے لیے بہت ہی کڑا قسم کا عذاب ہے ،
Ayah 2:91(91) اور جب ان یہودیوں سے قرآن حکیم پر ایمان لانے کے متعلق کہا جاتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم توریت پر ایمان لائیں گے اور توریت کے علاوہ اور سب کتابوں کا انکار کریں گے، حالانکہ قرآن کریم میں بھی سچ ہے اور توحید خالص کے متعلق جو کچھ ان کی کتاب (توریت) میں ہے قرآن کے مطابق ہے۔ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ! ہمارے باپ دادا مومن تھے، اے محمد ﷺ آپ جوابا فرمادیجئے کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو اس سے پہلے دیگر نبیوں کو کیوں تم قتل کرتے رہے ہو ؟
Ayah 2:92(92) حضرت موسیٰ ؑ امر و نہی اور دلائل کے ساتھ آئے مگر تم لوگوں نے ان کے ”کوہ طور“ پر جانے کے بعد بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم بالیقین کافر تھے۔
Ayah 2:93(93) اور جس وقت ہم نے تمہارا اقرار لیا، اور پہاڑ کو اکھاڑ کر تمہارے سروں پر اٹھایا کہ جو اپنی کتاب میں تم پر احکام اتارے گئے ہیں اسے پوری کوشش اور ہمیشگی کے ساتھ پورا کرو، تو گویا کہ یہ لوگ کہنے لگے کہ اگر پہاڑ اوپر نہ ہوتا تو صرف ہم آپ کی بات کو سنتے مگر حکم کی نافرمانی کرتے، ان کے دلوں میں تو ان کے کفر کی وجہ سے کفر کی سزا کے طور بچھڑے کی پرستش کی محبت داخل کردی گئی تھی، اے حضور اکرم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر بچھڑے کی پرستش کی محبت تمہارے خالق ومالک کی محبت کے برابر ہے اور اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ ہمارے دادا مومن تھے تو تمہارا یہ ایمان بہت ہی برا ہے جو تمہیں بچھڑے کی پوجا کا حکم دیتا ہے۔
Ayah 2:94(94) آپ ﷺ کہہ دیجئے اگر جنت ان حضرات کے علاوہ ہے جو کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں تمہارے لیے ہی خاص ہے تو پھر تم موت کی خواہش کرو، اگر اپنے اس دعوے میں سچے ہو (تاکہ جنت میں جلدی داخل ہوجاؤ)
شان نزول : (آیت) ”قل ان کانت لکم الدار الاخرۃ“۔ (الخ)
اس آیت ابن جریر ؒ نے ابوالعالیہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہودی یہ دعوی کیا کرتے تھے کہ جنت میں صرف یہودی جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت شریف نازل فرمائی یعنی اگر جنت صرف تمہارے ہی لیے ہے تو ذرا موت کی تمنا کرو۔
Ayah 2:95(95) کیوں کہ انہوں نے یہودیت کے زمانہ میں بہت کارگزاریاں کی ہیں، اس لیے یہ موت کی تمنا کبھی بھی نہیں کریں گے، اور اللہ تعالیٰ ان یہودیوں کو زیادہ جانتا ہے۔
Ayah 2:96(96) اور اے محمد ﷺ آپ ﷺ ان یہودیوں کو زندہ رہنے کا مشرکین عرب سے زیادہ شیدائی اور حریص پاؤ گے، ان میں سے ہر ایک اس بات کا متمنی ہے کہ وہ ایک ہزار سال تک جیتا رہے، جن میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کی ہر شب، شب برات اور ہر روز روز عید ہو۔ (یعنی پوری زندگی خوشی اور عیش و عشرت کے ساتھ گزاریں) لیکن اگر یہ لوگ ایک ہزار سال تک بھی زندہ رہیں تب بھی اللہ کے عذاب سے چھٹکارا نہیں پاسکتے اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں اور حق بات سے تجاوز اور ان چیزوں سے جو یہ رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اور صفت کے متعلق خفیہ رکھتے ہیں بہت زیادہ جاننے والا ہے۔
Ayah 2:97(97) ان یہودیوں میں سے عبداللہ بن صوریا کہتا تھا کہ جبریل ؑ ہمارے دشمن ہیں، اس پر یہ آیت اتری یعنی اے محمد ﷺ آپ ﷺ فرمادیجئے ! جو اس بات کا قائل ہو وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے جبریل امین ؑ کے ذریعہ سے قرآن کریم آپ ﷺ پر اتارا ہے اور یہ قرآن حکیم توحید کے متعلق پہلی کتب کی تصدیق کرنے والا اور گراہیوں سے سیدھی راہ پر لانے والا اور جنت کی خوشخبری سنانے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”قل من کان عدولجبریل“۔ (الخ)
حضرت امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری کی خبر سنی، حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ایک زمین سے پھل چن رہے تھے وہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے میں آپ ﷺ سے تین باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، جن کا علم نبی کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔
1۔ علامات قیامت کیا ہیں۔
2۔ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا ہوگا۔
3۔ لڑکا اپنے باپ یا اپنی ماں کے مشابہ کیوں ہوتا ہے۔
آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ان تینوں باتوں کے جواب کے متعلق ابھی جبریل امین نے مجھے آگاہ کیا ہے، عبداللہ بن سلام کہنے لگے جبریل ؑ ! آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! جبریل ؑ نے، عبداللہ بن سلام کہنے لگے فرشتوں میں سے جبریل تو یہودیوں کے دشمن ہیں، اس پر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ”قل من کان عدوالجبریل“۔ (الخ)
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ حدیث کے سیاق وسباق سے یہ بات معلوم ہورہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے یہودیوں کی تردید کے لیے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور اس تلاوت سے عبداللہ بن سلام ؓ کے واقعہ کے علاوہ اور دوسرا واقعہ موجود ہے، چناچہ امام احمد ؒ اور ترمذی ؒ اور نسائی ؒ نے بکر بن شہاب ؒ اور سعید بن جبیر ؓ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگے اے ابوالقاسم ﷺ ! ہم آپ سے پانچ باتوں کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں اگر وہ پانچوں باتیں آپ ﷺ نے بتلا دیں تو ہم یہ پہچان لیں گے کہ آپ ﷺ سچے نبی ہیں۔ اور بقیہ حدیث کو بیان کیا جس میں یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کی بنی اسرائیل نے اپنے اور کن چیزوں کو حرام کیا تھا اور علامات نبوت کون سی ہیں اور گرج اور اس کی آواز کی حقیقت کیا ہے اور بچہ مذکر ومونث کیوں ہوتا ہے اور آسمان سے وحی کون لے کر آتا ہے، حتی کہ یہودی کہنے لگے ہمیں بتلائیے کہ آپ کے پاس وحی کون لے کر آتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا جبریل ؑ امین، یہودی کہنے لگے یہ تو جنگ و قتال اور عذاب الہی کے احکام لے کر آتے ہیں ہمارے دشمن ہیں، اگر آپ ﷺ میکائل ؑ کا نام لیتے جو رحمت، بارش، سبزہ وشادابی کو ساتھ لے کر آتے ہیں، تو یہ زیادہ اچھا ہوتا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔
اسحاق بن راہویہ ؒ نے اپنی مسند میں اور ابن جریر ؒ نے شعبی ؒ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ یہودیوں کے ہاں آتے اور ان سے توریت سن کر اس بات سے خوش ہوتے کہ توریت سے مضامین قرآن کریم کی کس طرح تصدیق ہوتی ہے، حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ان یہودیوں کے پاس سے گزرے۔
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہودیوں سے کہا کہ میں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، ان کا ایک عالم کہنے لگا کہ بےہم یہ بات جانتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ میں نے کہا ! تو پھر کیوں تم آپ کی اتباع نہیں کرتے، یہودی کہنے لگے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ آپ کے پاس وحی کون لے کر آتا ہے، آپ نے فرمایا جبریل ، ؑ وہ ہمارے دشمن ہیں، جو شدت، عذاب، لڑائی اور تباہی و بربادی کے احکامات لے کر آتے ہیں۔ میں نے کہا تو فرشتوں میں سے کس سے تمہارے تعلقات محبت کے ہیں وہ بولے میکائیل ؑ سے جو باران رحمت لے کر آتے ہیں۔ میں نے کہا جبرائیل ؑ و میکائیل ؑ کا ان کے پروردگار کے یہاں کیا مقام ہے ؟ کہنے لگے کہ ایک ان میں سے اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب ہے اور دوسرا بائیں جانب ہے، میں نے کہا ! جبرائیل امین ؑ کے لئے یہ چیز جائز نہیں کہ وہ میکائیل سے دشمنی رکھیں اور میکائل ؑ کے حق میں اس چیز کا تصور محال ہے کہ وہ حضرت جبرائیل ؑ کے دشمن سے دوستی رکھیں اور جبرائیل ؑ و میکائیل ؑ اور ان کے پروردگار کی نظر میں وہ حضرات پسندیدہ ہیں جو ان سے محبت کریں اور وہ لوگ مبغوض ہیں جو ان سے دشمنی اور بغض رکھیں۔
حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے ہاں حاضر ہوا تاکہ اس واقعہ سے آپ کو مطلع کر دوں جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا ! کیا میں تجھے ان آیتوں کے بارے میں بتاؤں جو ابھی مجھ پر اتری ہیں، میں نے عرض کیا ! ضرور یا رسول اللہ ﷺ تو آپ نے (آیت) ”من کان عدوا لجبریل“۔ سے کافرین“۔ تک ان آیتوں کی تلاوت فرمائی، میں نے عرض کیا اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ﷺ ! میں یہودیوں کے پاس سے اسی ارادہ سے آیا تھا تاکہ ان کے اور میرے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ آپ کو بتا دوں مگر میں آکر یہ منظر دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے آنے سے پہلے ہی آپ کو باخبر کردیا۔
اس حدیث کی امام شعبی ؒ تک سند صحیح ہے مگر امام شعبی ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ کا زمانہ نہیں پایا اور اسی روایت کو ابن جریر ؒ نے سدی ؒ نے کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ سے اور ایسے ہی قتادۃ ؒ کے واسطہ سے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کیا ہے مگر ان دونوں کی بھی سندیں منقطع ہیں اور ابن ابی حاتم ؒ نے دوسرے طریق سے عبدالرحمن بن ابی لیلی ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودی حضرت عمر فاروق ؓ سے ملے اور کہنے لگے کہ جبریل ؑ جن کا تمہارے نبی ذکر کرتے ہیں وہ ہمارے دشمن ہیں، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل ؑ اور میکائیل ؑ کا دشمن ہو تو اللہ تعالیٰ اس کا دشمن ہے، چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کی زبان سے جو کلمات ادا ہوئے تھے اسی کے موافق اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ اتاری، ان سندوں بعض کو بعض سندوں کے ساتھ تقویت حاصل ہورہی ہے اور ابن جریر ؓ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت کا یہی شان نزول ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:98(98) جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور جبریل ؑ و میکائل ؑ کا دشمن ہو تو ایسے یہودیوں کا اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جبرائیل ؑ اور میکائیل ؑ اور تمام ایمان والے بھی دشمن ہیں
Ayah 2:99(99) یعنی ہماری طرف سے جبریل امین ؑ آپ ﷺ کے پاس ایسی آیات لے کر آتے ہیں جو اوامرو نواہی کو خوب وضاحت کے ساتھ بیان کرنے والی ہیں اور ان آیات کا انکار کافر یہودی ہی کرتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ولقد انزلنا الیک“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ اور عکرمہ ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابن صوریانے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آئے جسے ہم پہچانتے ہوں اور نہ آپ پر کوئی بیان کرنے والی واضح آیت نازل ہوئی ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ولقد انزلنا الیک ایت بینت (الخ) کو نازل فرمایا اور مالک بن ابی الصف ؒ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے اس عہد ومیثاق کو جو ان سے لیا گیا تھا اور اس عہد و پیمان کو جو ان سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں لیا گیا تھا بیان کیا تو یہ یہودی کہنے لگے اللہ کی قسم ہم سے محمد ﷺ کے متعلق کوئی عہد نہیں لیا گیا اور نہ ہم سے کسی قسم کا اقرار لیا گیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل کی گئی کہ جس وقت بھی ان سے کوئی عہد لیا گیا الخ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:100(100) جس وقت یہودیوں کے سرداروں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معاہدہ کیا، تو سب ہی نے اس کو پس پشت ڈال دیا۔
Ayah 2:101(101) اور جس وقت ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایسا رسول آتا ہے جو ان صفات واوصاف کا مالک ہوتا ہے جن ان کی کتاب میں تذکرہ ہے تو یہ اہل کتاب توریت کو اپنے پس پشت ڈال دیتے ہیں اور توریت میں حضور اکرم ﷺ کی جو صفات اور آپ کے اوصاف کا ذکر ہے، ان پر ایمان نہیں لاتے اور نہ کسی کے سامنے ان کو بیان کرتے ہیں۔ ان جاہل یہودیوں نے تمام انبیاکرام کی کتابوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
Ayah 2:102(102) شیطانوں نے حضرت سلیمان ؑ کی حکومت و ریاست ختم کرنے کے لیے جو چالیس روز تک جادو منتر کیا تھا، اس پر ان لوگوں نے عمل کیا، حضرت سلیمان ؑ نے کسی قسم کا کوئی جادومنتر نہیں لکھا تھا، شیاطین تھا (ابوالعالیہ کے قول کے مطابق اور صحیح قول یہ ہے) کہ یہ شیاطین اس جادو کی بھی تعلیم دیتے تھے جو ان دونوں فرشتوں کو بطور الہام کے آتا تھا، یہ دونوں فرشتے کسی کو جادو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ پہلے اس سے کہہ نہ دیتے تھے کہ ہم اس چیز سے لوگوں کی آزمایش کرتے ہیں تاکہ ہم پر عذاب خداوندی کی سختی نہ ہو لہٰذا تو اسے نہ سیکھ اور نہ اس پر عمل کر، مگر یہ لوگ بغیر ان کی تعلیم کے ایسی چیز حاصل کرتے تھے جس کے ذریعے خاوند اور بیوی ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں اور یہ لوگ جادو اور اس کی تفریق کرانے سے اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور شیاطین و یہودی اور جادوگر ایک دوسرے کو اس قسم کا جادو سکھاتے تھے جو آخرت کے لیے نقصان کا باعث بنے اور دنیا وآخرت میں اس سے کسی قسم کا فائدہ نہ حاصل ہو، ان فرشتوں نے ایک قول کے مطابق ان یہودیوں نے اپنی کتابوں میں یا ان شیاطین نے یہ بات روز روشن کی طرح جان لی تھی کہ جو شخص جادو منتر کرے گا اس کے لیے جنت میں کسی قسم کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور یہ بہت ہی بری چیز ہے جس کو یہودیوں نے اپنے لیے اچھا سمجھا ہے لیکن یہ اس کو نہیں سجھ رہے یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ یہ اپنی کتابوں میں اس کی برائی سے واقف ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”واتبعو ما تتلوالشیطین“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے شہر بن خوشب سے روایت کیا ہے کہ یہودی کہتے تھے محمد ﷺ کو دیکھو حق بات کو باطل باتوں کے ساتھ ملانے میں ، (سلیمان علیہ السلام) کا ذکر انبیاء کرام کے ساتھ کرتے ہیں کیا وہ جادوگر نہیں تھے جو ہوا پر سوار رہتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابو العالیہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے توریت کی باتوں میں سے کسی زمانہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور یہودی آپ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں کہیں پوچھا کرتے تھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اس کے بارے میں جو کچھ ان یہودیوں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا وحی نازل فرما دیتا تھا، جب یہودیوں نے یہ دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ یہ تو (یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو باتیں ہمارے پاس نازل شدہ ہیں ان سے بہت زیادہ جاننے والے ہیں لہٰذا ان سے جادو کے متعلق سوالات و اعتراضات کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت شریفہ نازل فرمائی۔ (آیت) ”واتبوما تتلوالشیطین (الخ)۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:103(103) اور اگر یہ یہودی قرآن کریم اور حضور اکرم ﷺ پر ایمان لائیں اور یہودی مذہب اور جادوگری سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے بدلے میں جو انہیں ثواب ملے گا وہ اس یہودیت اور جادوگری سے اچھا ہے۔ کاش یہ اللہ تعالیٰ کے صلہ کی تصدیق کریں لیکن یہ نہ اس کو سمجھتے ہیں نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
ایک یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنی کتابوں کے ذریعے اس کی سچائی اور حقانیت سے اچھی طرح واقف ہیں (مگر اس کے باوجود اسے تسلیم نہیں کرتے)
Ayah 2:104(104) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! رسول اللہ ﷺ سے (راعنا) یعنی اے اللہ تعالیٰ کے نبی اپنی گفتگو سنائیے، یہ نہ کہا کرو بلکہ یہ کہا کرو کہ ہماری جانب توجہ فرمائیے اور اے اللہ تعالیٰ کے نبی ہماری گفتگو سنیے اور لغت یہود میں اس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ اپنی بات پھر سنائیے تاکہ میں سنوں (اور یہودی بدنیتی سے ایسا کہتے تھے) اس وجہ سے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال سے روکا گیا اور فرمایا کہ جس چیز کا حکم دیا جارہا ہے اسے پہلے ہی غور سے سن لو اور اس کی اطاعت کرو اور ان یہودیوں کے لیے تو ایسا دردناک عذاب ہے کہ اس کی سختی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
شان نزول : (آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لاتقولواراعنا“۔ (الخ)
ابن منذر ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے دو شخص مالک بن صیف اور رفاعہ بن یزید جب بھی رسول اللہ ﷺ سے ملتے تو ”راعنا“۔ کہتے اور ان کا یہ مطلب ہوتا کہ آپ ہمارے سامنے گفتگو فرمائیں مگر حقیقت ہمیں ہم آپ کی گفتگو کو نہیں سنتے، مسلمانوں نے یہ کلمہ یہودیوں کی زبان سے سن کر یہ سمجھ لیا کہ یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعہ یہودی اپنے انبیاء کرام کی تعظیم کرتے ہیں، تو انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اس کلمہ سے مخاطب کرنا شروع کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”اے ایمان والو (آیت) ”راعنا“۔ مت کہا کرو بلکہ (آیت) ”انظرنا“۔ بولا کرو، ابو نعیم ؒ نے دلائل میں بواسطہ، سدی ؒ صغیر ؒ کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ”راعنا“۔ یہودیوں کی زبان میں بہت بری گالی تھی، جب یہودیوں نے صحابہ کرام ؓ سے اس کلمہ کو سنا تو انہوں نے علی الاعلان حضور اکرم ﷺ سے یہ لفظ کہنا شروع کردیا۔ یہودی اس لفظ کو بولتے تھے اور آپس میں ہنستے تھے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حضرت سعد بن معاذ ؓ نے یہ جب یہ آیت سنی تو یہودیوں سے کہا اے اللہ کے دشمنو ! اگر اس مجلس کے بعد میں تم میں سے کسی کو اس کلمہ کو حضور اکرم ﷺ کے سامنے کہتے ہوئے سنا تو اس کی گردن کاٹ دوں گا اور ابن جریر ؒ نے ضحاک سے روایت کیا ہے کہ کوئی شخص حضور اکرم ﷺ کے سامنے یہ کہتا تھا کہ اپنی گفتگو سے میری جانب متوجہ ہوجائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور قتادہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ حضور اکرم ﷺ سے کہتے تھے ”راعنا کسمعک“۔ یہودیوں نے بھی حضور ﷺ کی خدمت میں آکر یہی کلمہ کہنا شروع کردیا تب یہ آیت نازل ہوئی، عطا سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ انصار کی لغت تھی جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ابوالعالیہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ عرب جب آپس میں بات چیت کرتے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے (ارعنی سمعک) چناچہ اس لفظ کے استعمال سے سب کو روک دیا گیا (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:105(105) کعب بن اشرف یہودی اور اس کے ساتھی اور مشرکین عرب میں سے ابوجہل اور اس کی جماعت ہرگز یہ برداشت نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ جبرئیل امین ؑ کے ذریعہ سے تمہارے نبی کریم ﷺ پر نبوت، اسلام اور کتاب اللہ کی بھلائیاں اتارے اور اللہ تعالیٰ اپنے دین نبوت، اسلام اور اپنی کتاب کے نازل کرنے کے لیے جو اس کا اصل ہوتا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کا انتخاب فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نبوت واسلام کی بدولت بہت ہی عظیم الشان فضل فرماتے ہیں۔
Ayah 2:106(106) اب اللہ تعالیٰ ان احکام کی حکمت بیان فرماتے ہیں جو قرآن کریم میں منسوخ کردیے گئے ہیں اور جو منسوخ نہیں کیے گئے۔
قریش کہتے تھے اے محمد ﷺ آپ کسی بات کے کرنے کا ہمیں حکم دیتے ہیں اور پھر خود ہی اس سے منع بھی کردیتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم بس ایسے حکم کو کہ جس پر عمل ہوچکا ہے اسے تبدیل کرتے ہیں کہ پھر اس پر عمل نہ کیا جائے یا اس آیت ہی کو مٹا دیتے ہیں مگر اس پر عمل منسوخ نہیں ہوتا تو پھر ہم منسوخ شدہ سے زیادہ فائدہ مند اور عمل میں زیادہ آسان یا ثواب نفع اور عمل میں اسی جیسی جبرئیل امین ؑ کے ذریعے سے دوسری آیت اتار دیتے ہیں، اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ ناسخ ومنسوخ میں سے ہر ایک چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ماننسخ من ایۃ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے عکرمہ ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ بعض اوقات رسول اللہ ﷺ پر رات کو وحی آتی ہے اور دن میں آپ ﷺ اس کو بھول جاتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم کسی آیت کا حکم جو موقوف کردیتے ہیں الخ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:107(107) اے محمد ﷺ آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے اسی چیز کا حکم دیتا ہے کیوں کہ وہ ان کی حکمت ومصالح اور درستگی کو زیادہ جاننے والا ہے، اے یہودیو ! اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے تمہارے کوئی قریب نہیں جس سے انھیں فائدہ پہنچے اور نہ کوئی تمہاری حفاظت کرنے والا ہے، اور نہ کوئی ایسا روکنے والا موجود ہے جو تم سے عذاب الہی کو ہٹا دے۔
Ayah 2:108(108) رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس سے کلام کرنے وغیرہ کے سوالات کے، تم بھی اسی قسم کا خیال رکھتے ہو جو شخص ایمان چھوڑ کر کفر اختیار کرتا ہے تو اس نے ہدایت کے راستہ کو ترک کردیا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ام تریدون (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ اور عکرمہ ؓ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رافع بن حرملہ نے اور وہب بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ ہمارے پاس ایسی کتاب لائیے جو ہم پر آسمان سے نازل ہو جسے ہم خود پڑھتے ہیں، یا ہمارے لیے نہریں جاری کردیجئے تاکہ ہم آپ کی پیروی کریں اور آپ کی تصدیق کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ام تریدون“۔ سے۔”سواء السبیل“۔ تک آیت نازل فرمائی اور حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہودیوں میں سے سب سے زیادہ حاسد تھے اور یہ دونوں اپنی پوری جدوجہد اور کوشش کے ساتھ لوگوں کو اسلام سے منع کرنے میں لگے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں (آیت) ”ودکثیر من اھل الکتاب“۔ اس آیت کو نازل فرمایا۔
اور ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ان کے لیے ”کوہ صفا“ کو سونے کا بنادیا جائے، آپ ﷺ نے فرمایا اچھا مگر وہ تمہارے حق میں اگر تم کفر کرو گے ایسا ہوگا جیسا کہ بنی اسرائیل کے لیے دسترخوان۔ چناچہ انہوں نے نہ مانا اور اپنے قول سے رجوع نہ کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ”۔ ام تریدون (الخ) نازل فرمائی۔
اور سدی ؒ سے روایت کیا گیا ہے کہ عرب نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کو لے آئیں تاکہ ہم خود بغیر کسی پردے کے اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اور ابوالعالیہ ؒ نے روایت کی ہے ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ! کاش ہمارے کفارات بھی بنی اسرائیل کے کفارات کے طریقہ پر ہوتے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز تمہیں عطا کی ہے وہ زیادہ اچھی ہے، بنی اسرائیل میں سے جب کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا تھا تو اپنے دروازے پر اس گناہ اور اس کے کفارہ کو لکھا ہوا پاتا تھا اگر وہ شخص کفارہ ادا کردیتا تھا تو صرف دنیا ہی میں رسوائی ہوتی تھی اور اگر کفارہ ادا نہ کرتا تو آخرت میں اس کی رسوائی کا باعث ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے اچھی چیز عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ”ومن یعمل سوء او یظلم نفسہ“۔ (یعنی جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے گا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہیں) اور پانچوں نمازیں اور ایک دوسرے جمعہ تک درمیانی گناہوں کے کفارات ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”ام تریدون (الخ)
Ayah 2:109(109) کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی اور فخاص بن عاز داء اور اس کی جماعت، اے عمار اور حذیفہ اور اے معاذ بن جبل حسد وبغض میں یہ تمنا و خواہش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد کافر ہو کر (عیاذ باللہ) پھر ان کے دین پر لوٹ جاؤ، اس کے باوجود کہ ان کی کتابوں میں یہ بات آچکی تھی ہے کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کا دین اور آپ ﷺ کے اوصاف وصفتیں یہ سب درست ہیں، لہذا ان باتوں کو چھوڑو اور ان سے احتراز کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ”بنی قریظہ“ اور ”بنی نضیر“ پر قتل و غارت گری، قید اور جلاوطنی کا اپنا عذاب نہ نازل فرما دے اور اللہ تعالیٰ قتل وجلاوطنی کا اپنا عذاب نہ نازل فرما دے اور اللہ تعالیٰ قتل وجلاوطنی سب پر قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayah 2:110(110) پانچ وقت کی نمازوں کو پورے طریقہ پر ادا کرو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو اور جو تم اپنے لیے نیک اعمال، زکوٰۃ اور صدقات ادا کرچکے ہو تو ان کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ہاں پاؤ گے اور جو احوال صدقات وزکوۃ کو خرچ کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 2:111(111) یہودی اور اسی طرح نصاری (عیسائی) اپنے خیال میں کہتے ہیں کہ جو یہودیت (یانصرانیت) پر مرے گا وہ ہی جنت میں داخل ہوگا یہ تو صرف ان کی خوابی تمنائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں انہوں نے قائم کر رکھی ہیں، جس کا ان کی کتابوں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اے محمد ﷺ آپ ان دونوں جماعتوں سے فرما دیجئے کہ اگر اپنی افسانہ پردازی میں سچے ہو تو اپنی کتابوں سے ثبوت لاؤ مگر حقیقت تمہاری باتوں کے مطابق نہیں۔
Ayah 2:112(112) بلکہ جس شخص نے اپنا دین اور عمل خالص اللہ تعالیٰ ہی کی رضا مندی کے لیے کیا اور اپنے قول وفعل میں وہ نیکوکار رہا تو بالیقین ایسے شخص کا انجام کار جنت میں داخلہ ہے، ایسے لوگوں پر نہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا خوف ہوگا اور نہ جنت ہاتھ سے چلی جانے کا افسوس ہوگا۔
Ayah 2:113(113) اب اللہ تعالیٰ یہود و نصاری کا عقیدہ بیان فرماتے ہیں جو یہ لوگ دین کے بارے میں کیا کرتے تھے، چناچہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے یہودی اس بات کے قائل تھے کہ نصاری کے پاس اللہ تعالیٰ کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور دین الہی میں سے کچھ نہیں اور دین خداوندی کا انحصار نصرانیت ہی پر ہے دراصل یہ دونوں جماعتیں کتاب خداوندی پڑھتی تھیں مگر اس پر ایمان نہیں لاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کتابوں میں کچھ نہیں، ان ہی جماعتوں کی طرح وہ لوگ دعویدار جنھیں اپنے ”باپ دادا“ سے توحید خداوندی کا علم نہیں۔
اور یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ وہ اس بات کے مدعی تھے کہ کتاب اللہ ان کے علاوہ ہے اللہ تعالیٰ خودبروز قیامت ان یہود ونصاری کے درمیان جو دین کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں فیصلہ فرمائیں گے۔
شان نزول : (آیت) ”وقالت الیہود“ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ اور عکرمہ ؒ کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں اہل نجران کے نصاری (عیسائی) جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے پاس یہودیوں کے عمل نہیں کرتے، حضرت عیسیٰ ؑ اور انجیل کا تم نے انکار کیا ہے اس پر نجران کے لوگوں میں سے ایک شخص نے یہودیوں سے کہا کہ تم دین کی کسی بات پر قائم نہیں ہو۔ حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت اور توریت کا تم نے انکار کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ یہودی اس بات کے مدعی ہیں کہ نصاری کسی چیز پر کار بند نہیں الخ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:114(114) نصاری کا بادشاہ ”تطوس بن اسیانوس“ رومی جس نے ’ بیت المقدس“ کو ویران کیا اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس شخص سے زیادہ کس کا کفر ہوگا جس نے ”بیت المقدس“ کو ویران کیا تاکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا نام توحید اور اذان کی وجہ سے بلند نہ ہوا اور ”بیت المقدس“ کی ویرانی کے لیے مرداروں کو اس میں ڈال کر اپنی پوری پوری کوشش اور سعی کی، یہ ویرانی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ کے لیے مرداروں کو اس میں ڈال کر اپنی پوری پوری کوشش اور سعی کی۔ یہ ویرانی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ تک باقی رہی اب ان رومیوں کو ”بیت المقدس“ میں داخلہ کے لیے امان حاصل نہیں۔ یہ مسلمانوں سے اپنے قتل ہونے کا خوف کرتے ہیں کہ اگر ان کے داخلے کا علم ہوجائے تو فورا ان کی گردن مار دی جائے، ان کے لیے ان کے شہروں قسطنطنیہ عموریہ اور رومیہ کے ویران وبرباد ہونے کا عذاب ہے، اور دنیا سے بہت زیادہ کڑا عذاب ان کے لیے آخرت میں ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ومن اظلم“ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے مذکورہ بالاواقعہ کے متعلق روایت کیا ہے کہ قریش نے مسجد حرام میں بیت اللہ کے قریب رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھنے سے منع کردیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ (آیت) ”ومن اظلم (الخ) اور ابن جریر ؒ نے ابو زید ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حدیبیہ کے سال جس وقت انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:115(115) اب اللہ تعالیٰ قبلہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب شخص کو قبلہ معلوم نہ ہو وہ سوچ وبچار کرکے جس جانب نماز میں اپنا چہرہ کرلے تو وہ نماز اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہوجائے گی، اور اس آیت کی یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق ومغرب والوں کے لیے قبلہ بیان کررہا ہے اور وہ حرم ہے، تو جس مقام پر بھی نماز کی حالت میں تم اپنے چہروں کو حرم کی طرف کرلو گے تو وہ ہی اللہ تعالیٰ کا قبلہ ہے اللہ تعالیٰ قبلہ کے تعلق سے ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔
شان نزول : (آیت) وللہ المشرق والمغرب“ (الخ)
مسلم، ترمذی ؒ ، نسائی ؒ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپسی کے وقت اپنی سواری پر جس جانب بھی آپ کی سواری کا چہرہ ہوتا تھا نفل نماز ادا فرما رہے تھے، اس کے بعد ابن عمر ؓ نے (آیت) ”وللہ المشرق والمغرب“۔ آیت کریمہ پڑھی اور فرمایا اسی کے حکم کے لیے یہ آیت نازل ہوئی ہے اور امام حاکم ؒ نے حضرت عمر ؓ سے ہی روایت کی ہے کہ (آیت) ”فاینما تولو فثم وجہ اللہ“۔ یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس جانب بھی آپ کی سواری کا چہرہ اور رخ ہو اس پر نفل نماز پڑھ سکتے ہو، امام حاکم ؒ فرماتے ہیں یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اس آیت مبارکہ کے بارے میں جو احادیث مروی ہیں ان سب میں ازروئے سندیہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے اور اس پر علماء کرام کی ایک جماعت نے اعتماد کیا ہے مگر اس آیت کے نازل ہونے کا سبب بلکہ صرف اتنا ہے کہ اس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ دوسری روایات میں سبب نزول کی تصریح بھی موجود ہے چناچہ ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے علی بن ابی طلحہ ؓ کے ذریعہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نماز کی حالت میں ”بیت المقدس“ کی طرف چہرہ کرنے کا حکم دیا اس سے یہودی بہت خوش ہوئے، چناچہ آپ نے دس ماہ سے زیادہ ”بیت المقدس“ کی طرف نماز میں چہرہ اور رخ کیا اور آپ قبلہ ابراہیمی کو پسند فرماتے تھے اور اس کے لیے دعا بھی کرتے تھے، اس کی طرف بھی دیکھتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے پھر پہلے قبلہ کی طرف چہرہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا ، (آیت) ”۔ فولووجوھکم شطرہ“۔ اس پر یہودیوں کو شک ہوا کہ کیا وجہ ہے کیہ جس قبلہ کی طرف یہ نماز پڑھ رہے تھے پھر اس قبلہ کو ترک کردیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ فرما دیجئے کہ مشرق ومغرب سب ہی جہتیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، اس حدیث کی اسناد قوی ہیں اور حدیث کے معنی سے بھی اس کی تائید ہورہی ہے، لہٰذا اسی پر اعتماد کرلو اور اس آیت کریمہ کے بارے میں دیگر ضعیف روایات بھی موجود ہیں، چناچہ ترمذی، ابن ماجہ اور دارقطنی نے بذریعہ اشعث بن سمان ؒ عاصم بن عبداللہ ؒ ، عبداللہ بن عامر ؒ عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک اندھیری رات میں سفر کر رہے تھے ہم میں سے کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ قبلہ کس طرف ہے ہر ایک نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق نماز ادا کرلی۔
جب صبح ہوئی تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتائی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) فاینما تولو فثم وجہ اللہ الخ
امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے اور اشعت روایت حدیث میں ضعیف ہیں۔
اور دار قطنی اور ابن مردویہ نے بواسطہ عزری ؒ ، عطا ؒ ، حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا، میں بھی اسی لشکر میں موجود تھا، اچانک ہمیں بہت سخت قسم کی اندھیرے کا سامنا ہوا جس وجہ سے ہم قبلہ کو نہ پہچان سکے، ہم میں سے ایک جماعت نے کہا کہ ہم نے قبلہ کی تحقیق کرلی، قبلہ اس کے شمالی جانب میں ہے، ان لوگوں نے اس طرف نماز ادا کرلی اور علامت کے لیے کچھ نشان کردیے، جب صبح ہوئی اور سورج طلوع ہوا تو یہ نشانات قبلہ کے علاوہ دوسری سمت پر تھے جب ہم اپنے سفر سے واپس لوٹے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے اپنی گردن جھکالی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ”۔ وللہ المشرق والمغرب نازل فرمائی۔
اور ابن مردویہ ؒ نے بواسطہ کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا ان کو راستہ میں اندھیرے سے واسطہ پڑگیا، جس کی وجہ سے قبلہ کا رخ معلوم نہ ہوسکا، چناچہ سب نے نماز ادا کرلی پھر سورج نکلنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ قبلہ کے رخ کے علاوہ دوسرے رخ پر نماز پڑھی ہے، جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس لوٹے تو آپ کے سامنے یہ واقعہ پیش کیا گیا تب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا کہ مشرق ومغرب سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے الخ۔
اور ابن جریر ؒ نے قتادۃ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا بھائی نجاشی انتقال کرگیا ہے اس پر نماز پڑھو، صحابہ کرام ؓ نے گزارش کی ہم ایسے شخص پر نماز پڑھیں جو مسلمان ہی نہیں ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وان من اھل الکتاب لمن یؤمن یؤمن باللہ“۔ پھر صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ وہ قبلہ کی طرف چہرہ کرکے نماز نہیں پڑھتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرق ومغرب سب اللہ کی ملک ہیں، یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور مرسل ہے یا معضل۔
اور ابن جریر ؒ ہی نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت کریمہ (آیت) ادعونی استجب لکم“۔ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہاں یاد کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”فاینما تولو۔ الخ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:116(116) اب یہود اور نصاری کا مقالہ بیان کررہے ہیں کہ یہود حضرت عزیر کو حق تعالیٰ کا بیٹا اور عیسائی حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اولاد اور شریک سے پاک ہے، جیسا تم کہتے ہو ایسا نہیں ہے بلکہ زمین و آسمان میں جتنی بھی مخلوق ہے وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے، سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی توحید کے قائل ہیں، زمین و آسمان کے وجود اور اس کی مثال سے پہلے حق تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ،
Ayah 2:117(117) اور اللہ تعالیٰ ایسے موجد ہیں کہ مثلا جب کسی شخص کو بغیر باپ کے، جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو وہ بغیر باپ کے پیدا ہوجاتے ہیں یا بغیر ماں ٗ باپ کے پیدا کرنا چاہتے ہیں تو جیسے حضرت آدم ؑ ، تو وہ اسی طرح پیدا ہوجاتے ہیں۔
Ayah 2:118(118) جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے واقف نہیں یعنی یہودی وہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ اللہ تعالیٰ علانیہ ہم سے گفتگو کیوں نہیں کرتا، یا رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بارے میں کوئی دلیل واضح ہمارے پاس کیوں نہیں آئی، تاکہ ہم اس پر ایمان لے آئیں، اس سے پہلے ان کے باپ دادا بھی یہی کہتے چلے آئے ہیں ان سب کی باتیں ایک جیسی ہیں اور ان کے دل اپنے باپ دادا ہی کے طریقہ پر ہیں، ہم نے علامات اوامرو نواہی اور رسول اکرم ﷺ کی صفات کو توریت میں (ان سب چیزوں کو ایسی جماعت کے لیے جو کہ تصدیق کرے) بیان کردیا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”وقال اللذین لایعلمون (الخ)
ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے سعید اور عکرمہ ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رافع بن خزیمہ نے حضور ﷺ سے کہا کہ، جیسا کہ آپ ﷺ دعوی کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ سے کہیے کہ وہ ہم سے بات کرے تاکہ ہم اس کی گفتگو کو سنیں اس پر یہ آیت اتری ہوئی (آیت) ”وقال الذین لا یعلمون (ا ؒ لخ)
شان نزول : (آیت) انا ارسلنک بالحق“۔ (الخ)
عبدالرزاق ؒ بواسطہ ثوری ؒ ، موسیٰ بن عبیدہ ؒ ، محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کاش مجھے معلوم ہو ہوجاتا کہ میرے والدین نے کیا کیا ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (آیت) ”انا ارسلنک“۔ کہ ہم نے سچائی اور حق کے ساتھ آپ کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے، اہل جہنم کے متعلق آپ سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ اس دارفانی سے رحلت فرمانے تک آپ ﷺ نے پھر والدین کا ذکر نہیں کیا، یہ حدیث مرسل ہے اور ابن جریر ؒ نے بواسطہ ابن جریج ؒ ، داؤد بن ابی عاصم ؒ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے والدین کہاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ حدیث بھی مرسل ہے (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)۔
Ayah 2:119(119) اے محمد ﷺ ہم نے آپ ﷺ کو اللہ کی توحید اور قرآن حکیم کے ساتھ بھیجا ہے، آپ ﷺ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کے لیے جنت کی خوشخبری دینے والے اور جو کفر کرے اس کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں اور آپ سے اہل جہنم کے بارے میں سوال نہیں ہوگا۔
Ayah 2:120(120) اور آپ ﷺ سے مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے عیسائی کبھی بھی خوش نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کے دین اور قبلہ کا اتباع نہ کرلیں، اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام اور اس کا قبلہ وہ بیت اللہ ہے۔ اب اگر اس چیز کے بیان کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کا دین اسلام اور اس کا قبلہ کعبہ ہے، آپ ان کے دین اور قبلہ کا اتباع کریں گے تو عذاب الہی سے بچانے کے اندر نہ کوئی قریب والا آپ کو نفع پہنچا سکے گا اور نہ کوئی مددگار عذاب کو روک سکے گا۔
شان نزول : (آیت) ”ولن ترضی“۔ (الخ)
یہ آیت ثعلبی ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مدینہ منورہ کے یہودی اور نجران کے نصاری اس بات کی امید میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں، جب اللہ تعالیٰ نے قبلہ بیت اللہ کو بنادیا تو وہ اس بات سے مایوس ہوگئے کہ ان کے دین کی موافقت کی جائے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ یہ حکم نازل فرمایا کہ یہود اور نصاری آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)