2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 2:161–162

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی لعنت

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے، ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی

(161۔ 162) مگر جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ماننے سے انکار کیا ان پر اللہ کا عذاب اور تمام فرشتوں کی لعنت اور تمام مومنوں کی لعنت جو یہ کافر کرتے تھے، ان ہی کافروں پر نازل ہوگی اور اس لعنت میں یہ ہمیشہ رہیں گے نہ لعنت ان پر اٹھائی جائے گی اور نہ اس لعنت کو یہ الگ کرسکیں گے اور نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ اسی کے عذاب کے متعلق ان کو کسی قسم کی چھوٹ دی جائے گی۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور (لوگو !) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

(163) لوگون نے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے کلام پاک میں اپنی توحید بیان فرما رہے ہیں کہ نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی شریک ہے، وہ بڑی رحمت فرمانے والا اور بہت ہی شفیق ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں (اور جہازوں) میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لیکر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

(164) ان دونوں چیزوں کی پیدائش میں یہ تفسیر کی گئی ہے کہ ان دونوں یعنی زمین و آسمان میں جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان کے لیے بھی شفیق اور مہربان ہے۔ اور رات دن کو تبدیل اور ان کی کمی وبیشی میں اور کشتیوں میں جو لوگوں کی معاشی وزندگی کے لیے چلتی ہیں اور اس چیز میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بارش برسائی ہے اور پھر قحط سالی اور زمین کے خشک ہونے کے بعد پھر اس بارش سے سبزہ پیدا کرنے میں۔ اور پھر اس زمین میں ہر طرح کے جانور نر و مادہ پیدا کیے اور ہواؤں کی دائیں بائیں، آگے پیچھے تبدیلی میں اور کبھی رحمت کا باعث اور کبھی عذاب کا باعث کرنے میں اور لٹکے ہوئے بادلوں میں، ان تمام چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی ایسی قوم کے لیے نشانیاں ہیں جو اس بات کا یقین رکھے کہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی ہی طرف سے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ان فی خلق السموت (الخ) سعید بن منصور ؒ نے اپنی سنن اور فریابی ؒ نے اپنی تفسیر اور امام بیہقی ؒ نے اپنی کتاب شعب الایمان میں ابو الضحی ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت) ”والھکم الہ واحد (الخ) نازل ہوئی تو مشرکین نے اظہار تعجب کیا اور کہنے لگے کہ وہ وحدہ لاشریک ہے اگر وہ اپنے قول میں سچا ہے تو کوئی دلیل لائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ان فی خلق السموت“ سے (آیت) ”یعقلون“ تک آیت نازل فرمائی۔ ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے متصلا حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قریش مکہ نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دے تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے دشمنوں پر قابوپاسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو فرمایا کہ آپ ان سے وعدہ فرما لیں، میں ایسا ہی کردوں گا لیکن اگر انہوں نے اس کے بعد کفر کیا تو ان لوگوں کو ایسی سزا دوں گا کہ پوری دنیا میں سے ویسی سزا کسی کو بھی نہ دی ہوگی ، حضور اکرم ﷺ نے عرض کیا پروردگار عالم مجھے اور میری قوم کو رہنے دیجیے، میں اپنی قوم کے لیے روز بروز دعا کرتا رہوں گا اس پر (آیت) ”ان فی خلق السموت“۔ الخ نازل ہوئی۔ یہ لوگ کیسے صفا پہاڑ کو کے سونے ہونے کے متعلق سوال کرتے ہیں، جب کہ اس سے عمدہ اور واضح دلائل الوہیت خداوندی پر موجود ہیں (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

(165) دنیا میں اہل کفر کو جو اپنے معبودوں سے محبت ہے، وہ آخرت میں ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس چیز کو ذکر فرماتے ہیں کہ یہ کافر بتوں سے اس درجہ محبت کرتے ہیں جیسا کہ مخلص ایمان والے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں مگر خالص مومن تو ان کافروں سے جیسا کہ یہ اپنے بتوں سے محبت کرتے ہیں، ان سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہیں۔ اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ آیت مبارکہ ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جنہوں نے سونے چاندی کے خزانے جمع کرلیے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جنہوں نے اپنے سرداروں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود بنالیا تھا اور اگر یہ مشرکین قیامت کے دن اور آخرت میں عذاب اور اللہ تعالیٰ کی قوت وبادشاہت کو جان لیں تو دنیا میں فورا ایمان لے آئیں۔
Ayah 2:166

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرؤوں سے بیزاری کریں گے اور (دونوں عذاب الٰہی) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے

(166) جس دن یہ سردار اپنے ماننے والوں سے الگ ہوجائیں گے، سردار اور ان کے تابع، سب کے سب عذاب کو دیکھ لیں گے اور دنیا میں آپس میں جو معاہدے اور دلیلیں تھیں وہ سب کی سب ختم ہوجائیں گی ،
Ayah 2:167

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہوتا کہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں اس طرح خدا ان کے اعمال حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے

(167) متبعین کہیں گے کاش ہمیں دنیا میں پھر لوٹنا آسان اور ممکن ہوجائے تو پھر ہم بھی ان سرداروں اور راہنماؤں سے دنیا میں اسی طرح الگ اور بیزار ہوجائیں گے، جس طرح کہ یہ ہم سے آخرت میں علاوہ پڑے ہیں، آخرت میں اسی طرح حسرتیں اور ندامتیں رہ جائیں گی، لیڈروں اور ان کے ماننے والوں سے کسی کو بھی نجات نہیں ملے گی۔
Ayahs 2:168–169

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں

(168۔ 169) اب اللہ تعالیٰ کھیتی اور جانوروں کے حلال ہونے کو بیان فرماتے ہیں، اے مکہ والو کھیتی اور ان جانوروں کو کھاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی قسم کی کوئی حرمت نہیں بیان کی گئی ہے، اور کھیتی اور حلال جانوروں کے اپنے اوپر حرام کرنے میں شیطان کی ملمع کاری اور اس کے وسوسوں اور خیالات کا کی پیروی نہ کرو، اس کی دشمنی واضح اور ظاہر ہے، شیطان برے کام اور گناہوں اور ایسے امور میں جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔
Ayah 2:170

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟

(170) اور جس وقت مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کھیتی اور جن جانوروں کا حلال ہونا بیان کردیا ہے ان چیزوں میں اس کے حکم کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جن چیزوں کی حرمت پر دیکھا ہے ہم اسی پر قائم رہیں گے اور کیا ان کے باپ دادا ایسے نہیں تھے، اور یقیناً ان کے باپ دادا ایسے ہی تھے کہ ان کو دین اور کسی بھی نبی کی سنت کا کچھ بھی علم نہ تھا، پھر تم کیسے ان آباء کی اتباع کرتے ہو، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ان کے آبا کو نہ امور دنیا کی عقل بھی اور نہ وہ کسی نبی کی سنت پر عمل کرنے والے تھے تو پھر یہ لوگ اپنے آباء کی کس بنیاد پر اتباع کرتے ہیں اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ان کے آباء نہ دین سے واقف ہیں اور نہ کسی نبی کی سنت پر عمل پیرا ہیں، پھر یہ لوگ کس بنیاد پر ان کی بات مانتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”واذا قیل لہم اتبعوا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؒ یا عکرمہ ؒ کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے یہودیوں کو اسلام کی طرف دعوت اور اس کی ترغیب دلائی، اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا، تو رافع بن حرملہ اور مالک بن عوف بولے، اے محمد ﷺ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے (یعنی آپ کی بات نہیں مانیں گے) کیوں کہ وہ ہم سے زیادہ عالم اور اچھے تھے اس پر یہ آیت اتری کہ جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی باتوں پر ایمان لاؤ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ نہیں سکتے

(171) پھر حضور اکرم ﷺ کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال بیان فرماتے ہیں کہ ان کافروں کی مثال ان اونٹ اور بکریوں جیسی ہے جن کو کوئی پکار رہا ہے یعنی ان کو چرانے والا ایسی آواز کے پکار رہا ہے جس کو نہ جانور سنتے ہیں اور نہ سمجھتے یعنی چرانے والا جس وقت ان سے کہتا ہے کھاؤ یا پیو تو یہ کچھ نہیں سمجھتے، ایسے ہی یہ کافر سچی بات کے سننے سے بہرے اور اس کے کلام کرنے سے گونگے اور حق بات کے دیکھنے سے اندھے یعنی یہ حق بات اور ہدایت کے قبول کرنے سے آپس میں بالکل اندھے بہرے اور گونگے ہیں جیسا کہ اونٹ اور بکریاں چرانے والے کی بات کو نہیں سمجھتیں اس طرح یہ کافر اللہ کے حکم اور رسول اکرم ﷺ کے پروگرام کو بالکل نہیں سمجھتے۔
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو

(172) اب اللہ تعالیٰ پھر مزید کھیتی اور جانوروں کے حلال ہونے کو بیان فرماتے ہیں یعنی کھیتی اور حلال جانوروں میں سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے کھاؤ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اگر تم لوگ اسی ہی کی عبادت کرتے ہو ، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اگر تم ان چیزوں کی حمت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرح سمجھتے ہو تو پھر ان چیزوں کو مت حرام جانو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ان کو حلال سمجھنے میں ہے۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے، ہاں جو ناچار ہوئے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

(173) اب اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو بیان فرماتے ہیں جن کا حرام ہونا اس نے بیان فرمادیا ہے یعنی مردار اور خون اور وہ جانور جو ارادے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ بتوں کے نام پر ذبح کیے جائیں ، سو جو شخص مردار کا گوشت کھانے پر مجبور ہوجائے اور وہ نہ تو حدود الہیہ سے تجاوز کرنے والا ہو اور نہ اس کے گوشت کو حلال سمجھنے والا ہو اور نہ ہی ڈاکو ہو اور نہ بغیر کسی سخت ضرورت کے مردار کھانے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کو جمع نہ کرے یعنی اس کی ضرورت کے وقت (جب کہ جان جانیکا خطرہ ہو) مردار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں، باقی اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کرے، مرنے کے ڈر کے بناء پر جب کہ اسے مردار کھانے کی مجبورا اجازت دی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
Ayahs 2:174–175

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

جو لوگ (خدا کی) کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن کلام نہ کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا، یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے ولے ہیں

(174۔ 175) یہ اہل کتاب حضور اکرم ﷺ کی توصیف وتعریف لوگوں سے چھپاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب میں بیان کی ہے اور اس چھپانے پر معمولی سا معاوضہ لیتے ہیں یہ آیت کعب بن اشرف، حی بن اخطب اور جدی بن اخطب کے بارے میں اتری ہے۔ حرام کے علاوہ ان لوگوں کے شکموں میں اور کوئی چیز نہیں جاتی، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آگ کے علاوہ ان کے پیٹوں میں قیامت کے دن اور کوئی چیز نہیں جائے گی اور نہ یہ گناہوں سے پاک ہوں گے اور نہ ہی ان کی کسی قسم کی تعریف کی جائے گی اور ان کو ایسا دردناک عذاب ملے گا کہ اس کی سختی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی ان لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر اور اسلام کے بدلے یہودیت کو خرید لیا ہے۔ اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ جن چیزوں سے جنت ملتی ہے ان کی بجائے انہوں نے ایسی چیزوں پر عمل کیا ہے جو دوزخ میں جانے کا باعث ہیں، یہ لوگ دوزخ کیلیے کس قدر دلیر ہیں، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ دوزخ کمانے پر ان لوگوں کو اس قدر کس چیز نے دلیر وبہادر بنا دیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کس بنا پر یہ لوگ اہل جہنم کا کام کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین یکتمون“ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ (آیت) ان الذین یکتمون (الخ) اور وہ آیت جو کہ سورة آل عمران میں ہے (آیت) ”ان الذین یشترون“۔ یہ دونوں آیات یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ اور ثعلبی ؒ نے بواسطہ کلبی ؒ ، ابو صالح ؒ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہے کہ یہ آیت کریمہ یہودیوں کے علماء اور ان کے رؤسا کے متعلق نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ اپنے غریبوں سے ہدیہ اور تحفے لیا کرتے تھے اور اس بات کی امید رکھتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ ان ہی میں سے نازل ہوں گے، جب رسول اکرم ﷺ ان کے علاوہ دوسروں میں تشریف لے آئے تو انھیں اپنی ریاست کے زوال اور اپنے تحائف کے ختم ہوجانے کا ڈر ہوا، تو انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے اوصاف میں (جو کہ توریت میں بیان کیے گئے تھے) تبدیلی کردی اور پھر وہ تبدیل شدہ اوصاف اپنی قوم کے سامنے بیان کرنے لگے اور بولے کہ وہ نبی جو اخیر زمانہ میں مبعوث ہوں گے، ان کی یہ صفت ہے یہ اوصاف ان نبی کریم ﷺ میں نہیں پائے جاتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ (آیت) ”ان الذین یکتمون“ الخ نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آ کر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

(176) یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ جبریل ؑ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم اور توریت کو حق اور باطل کو بیان کرنے کے لئے اتارا گیا، انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اور رسول اللہ اکرم ﷺ کے جو اوصاف اور صفات توریت میں آئے تھے، اس کے اندر انہوں نے اختلاف کیا اور ان کو چھپایا یہ حق اور ہدایت سے بہت ہی دور جاپڑے ہوئے ہیں،
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

(177) نیکیاں اور ایمان صرف اسی کا نام نہیں کہ تم نماز میں بیت اللہ کی طرف منہ کرلو، ایمان تواقرار اور تصدیق کا نام ہے اور نیکو کار وہ مومن ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور مرنے کے بعد کی زندگی پر اور تمام فرشتوں اور تمام کتابوں اور تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے، اور ایمان لانے کے بعد جو چیزیں ضروری ہوتی ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کرتے ہیں۔ کہ ایمان لانے کے بعد اصل نیکی یہ ہے کہ مال کی کمی اور خواہش کے باوجود اللہ تعالیٰ کی محبت میں رشتہ داروں اور مومن یتیموں اور ان مساکین کو جو مانگتے نہیں، اور ایسے مسافر کو جو کہ بطور مہمان کے آیا ہو اور سوال کرنے والوں کو اور مجاہدین کو اور غلاموں کی آزادی میں اپنا مال دے اور ان واجبات و احکام کے بعد جو احکام شرعیہ لوگوں پر لازم ہوتے ہوتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرماتے ہیں۔ کہ واجبات کے بعد نیکی پانچ وقت کی نمازوں کا قائم کرنا، زکوٰۃ اور صدقات کا دینا ہے اور ان وعدوں کا جو کہ اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان ہیں اور اسی طرح ان وعدوں کا جو کہ انسانوں نے آپس میں کر رکھے ہیں پورا کرنا ہے اور جو حضرات مصیبتوں، پریشانیوں اور سختیوں کے وقت بیماریوں اور طرح طرح کی تکالیف اور بھوک کی شدت اور عین لڑائی کے موقع پر ثابت قدم رہتے ہیں، ان ہی حضرات نے وعدہ پورا کیا ہے اور یہ وعدہ خلافی سے بچے ہوئے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”لیس البر“۔ (الخ) عبدالرزاق ؒ بواسطہ معمر ؒ ، قتادہ ؒ سے روایت کرتے ہیں کہ یہود مغرب کی طرف منہ کر کے اور نصاری مشرق کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ بس نیکی اس چیز کا نام نہیں کہ مغرب یا مشرق کی طرف اپنا منہ پھیر لو، اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابن جریر ؒ اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ہم سے بیان کیا گیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی کے بارے میں پوچھا کیا اس پر یہ آیت کریمہ ”لیس البر“۔ (الخ) نازل ہوئی، رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو بلا کر اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اور یہ واقعہ احکام فرائض نازل ہونے سے پہلے کا ہے جب انسان صرف اس بات کی گواہی دے دیتا، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بات کی گواہی دے دیتا کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں تو ایسے شخص کی بخشش کی امید ہوجاتی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ”لیس البر“۔ (الخ) نازل فرمائی اور یہودیوں کا نماز میں قبلہ مغرب جبکہ نصاری کا مشرق تھا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

مومنو ! تم کو مقتولوں کے بارے میں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ اور اگر قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول کو) پسندیدہ طریق سے (قرارداد کی) پیروی (یعنی مطالبہ خون بہا کرنا) اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے یہ پروردگار کی طرف سے (تمہارے لئے) آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔

(178) دانستہ کسی کو قتل کردینے میں تم پر قصاص لازم ٹھہرایا گیا ہے یہ آیت کریمہ عرب کے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت النفس بالنفس“ والی آیت سے منسوخ ہے اور جو اپنے مقتول بھائی کے حق قتل کو چھوڑ دے یعنی خون معاف کردے اور دیت لینے پر رضامند ہوجائے تو دیت کا مطالبہ کرنے والے کے لیے یہ حکم ہے کہ اگر دیت پوری ہے تو نیکی اور بھلائی کے ساتھ تین سال میں اس سے دیت کا مطالبہ کرے اور اگر دیت آدھی ہے تو دو سال میں اور اگر دیت ایک تہائی ہے تو ایک سال میں مطالبہ کرے اور قاتل کو اس چیز کا حکم ہے کہ وہ ورثاء مقتول کو ان کا حق ادا کر دے کہ جس میں انہیں کسی قسم کا مطالبہ نہ کرنا پڑے اور نہ ہی پریشانی اٹھانی پڑے۔ اور یہ قاتل کے قتل کردینے کی معافی اور اس کے حکم میں کمی ہے اور جو دیت لینے کے بعد زیادتی کرے یعنی دیت بھی لے لے اور اسے بدلہ اور قصاص میں مار یعنی قتل بھی کردے تو پھر ایسے آدمی کو قتل کردیا جائے گا اور اسے معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ اس سے دیت لی جائے گی۔ شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا کتب (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں دو قبیلوں میں معمولی سی بات پر آپس میں لڑائی ہوئی جس میں لوگ قتل اور زخمی بھی ہوئے حتی کہ غلام اور عورتیں تک قتل ہوگئیں تو بعض نے کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، یہاں تک کہ سب مشرف بااسلام ہوگئے تو ہر ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے اپنے مقتول رشتہ داروں اور مال کا تقاضہ کرتا تھا۔ چناچہ دونوں قبیلوں نے قسمیں کھائیں پھر اس چیز پر رضا مند ہوئے کہ ہمارے غلام کے بدلے ان کا آزاد اور ہماری عورت کے بدلے ان کا مرد قتل کیا جائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ آزاد، آزاد کے بدلے اور غلام، غلام کے عوض اور عورت، عورت کے بدلے قتل کی جائے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے اہل عقل ! (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو۔

(179) اواہل عقل کے لیے اس قانون میں نفس انسانی کی بقاء اور عبرت ہے تاکہ تم قصاص کے ڈر سے ایک دوسرے کو قتل کردینے سے بچتے رہو۔
Ayahs 2:180–181

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کر جائے (خدا سے) ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں (اور) بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

(181۔ 180) مرتین وقت اگر تم مال چھوڑو تو رشتہ داروں اور والدین کے لیے زیادہ اللہ تعالیٰ نے تم پر وصیت کو فرض کیا ہے، یہ آیت بھی آیت میراث کے ساتھ منسوخ ہے اور جو شخص میت کی وصیت میں تبدیلی کرے تو اس کا گناہ تبدیلی کرنے والوں پر ہے اور وصیت کرنے والا اس گناہ سے بری ہے اللہ تعالیٰ مرنے والے کی وصیت اور اس کی گفتگو کو سننے والا اور اگر کوئی ظلم کرے یا انصاف سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے جاننے والا ہے ، اور ایک یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وصیت کرنے والے کے فعل سے باخبر ہے چناچہ ورثا عذاب کے ڈر سے جس طرح وصیت ہوتی تھی اسی طریقہ سے اسے نافذ کرتے تھے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرا دے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

(182) اور جس شخص نے مرنے والے کی طرف سے وصیت میں کسی طرف مائل ہونے اور غلطی کا علم اور یا وہ جان بوجھ کر کسی جانب مائل ہو پھر وہ شخص وارثوں اور اس شخص کے درمیان جس کے حق میں وصیت کی گئی ہو (جس کے لیے وصیت) صلح کرا دے، تو اس تبدیلی میں اس پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور اگر میت زیادتی اور غلطی کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے اور جس وقت وہ تہائی مال میں وصیت نافذ کرے یا عدل و انصاف کے ساتھ تقسیم کرے تو اللہ تعالیٰ مہربانی کرنے والا ہے۔
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

(183) تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے یعنی عشاء کی نماز کے بعد سے کھانے پینے اور جماع سے رکے رہو یا عشاء کی نماز سے پہلے سونے سے جیسا کہ اہل کتاب پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم عشاء کی نماز کے بعد کھانے پینے اور جماع سے بچے رہو یا یہ کہ عشاء کے بعد سونے سے بچو اور یہ (آیت) ”احل لکم لیلۃ الصیام الرفث“۔ اور آیت کلوا واشربوا“۔ سے منسوخ ہے تیس دین تک رمضان المبارک میں روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں۔ تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں۔ (یہ آیت اگلی آیت سے ملصوق ہے) اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔

(184) تیس، دن تک روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے اور جو شخص بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان میں روزے نہ رکھ سکے تو دوسرے دنوں میں جتنے اس نے رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھے ہیں اتنے ہی روزے رکھ لے اور جو حضرات روزے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تو ہر روزہ کے بدلہ میں جس کو اس نے رمضان میں کھولا ہے نصف صاع گیہوں (گندم) کا ایک مسکین کو دے دے مگر یہ آیت ”فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ“۔ سے منسوخ ہے اور (آیت) ”علی الذین یطیقونہ“۔ کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ جو حضرات فدیہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں مگر روزہ نہیں رکھ سکتے، یعنی بہت ہی بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہر ایک روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں یعنی رمضان المبارک میں جو بھی روزہ کھولا ہے اس کے عورض ایک مسکین کو آدھا صاع گندم دے دیں اور جو اس مقدار مقررہ سے زیادہ دے دے تو یہ اس کے لیے ثواب کے زیادہ ہونے کا باعث ہے اور فدیہ سے روزہ بہتر ہے جب کہ تم اس چیز کو بخوبی جانتے ہو۔ شان نزول : وعلی الذین یطیقونہ“۔ (الخ) طبقات میں ابن سعد ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ قیس بن سائب کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ روزہ کھول دو اور ہر ایک روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلادو۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ اور (یہ آسانی کا حکم) اس لیے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کرو اور اس کا شکر کرو

(185) رمضان المبارک کا مہینہ ایسا ہے جس میں حضرت جبرائیل امین ؑ کے واسطہ سے سارا قرآن کریم ایک ہی دفعہ آسمان دنیا پر اتارا گیا پھر انہوں نے اس کا فرشتوں پر املا کرایا اور اس کے بعد رسول اکرم ﷺ پر دن بدن ایک یا دو اور تین آیات اور کبھی پوری سورت نازل ہوتی رہی۔ اور قرآن کریم لوگوں کے سامنے گمراہی کے راستے بیان کرنے والا اور دین معاملات کو واضح طور پر روشن کرنے والا ہے اور اسی طریقہ پر قرآن میں حلال و حرام اور جملہ احکام وحدود اور شبہات کا ازالہ ہے۔ اور جو مقیم ہو وہ روزے رکھے اور جو شخص رمضان المبارک کے مہینہ میں بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو دوسرے دنوں میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا کرے، اللہ تعالیٰ سفر کی حالت میں روزے کھول دینے کی اجازت دیتا ہے اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے (کہ تکلیف کی حالت میں) حالت سفر میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے روزوں کا کھولنا پسند کیا ہے اور حالت سفر میں روزہ کی وجہ سے تمہارے لیے تنگی اور مشکل کا ارادہ نہیں فرمایا اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ سفر میں جب سختی ہو تو تمہارے لیے روزہ کو پسند نہیں کیا ہے، تاکہ جتنے روزے تم نے سفر میں نہیں رکھے ہیں، اقامت کی حالت میں ان کو پورا کرلو، اور اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرو جیسا کہ اس نے اپنے دین کی تمہیں ہدایت عطا فرمائی اور تمہیں اپنی خاص سہولتوں سے نوازا تاکہ تم اس ذات کی ان خصوصی رعایتوں پر شکر بجالاؤ۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں

(186) اور جب آپ سے اہل کتاب میرے متعلق دریافت کریں کہ میں قریب ہوں یا دور تو اے محمد ﷺ آپ انہیں بتادیجیے کہ میں دعا کے قبول کرنے میں بہت ہی قریب ہوں، لہٰذا میرے رسول کی اطاعت کرو، اور دعوت سے قبل میرے رسول پر ایمان لاؤ تاکہ تمہیں ہدایت نصیب ہو اور پھر تمہاری دعا بھی (جلد) قبول کی جائے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا سالک عبادی“۔ (الخ) ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ ابن مردویہ ؒ اور ابوالشیخ ؒ وغیرہ نے بذریعہ جریر ؒ بن عبدالحمید ؒ ، عبدہۃ السجستانی ؒ ، حلت بن حکیم ؒ حکیم بن معاویہ ؒ ، معاویۃ بن حیدہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک عربی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ہمارا پروردگار قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کریں یاد رہے کہ اسے پکاریں آپ اس پر خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو بالکل فرما دیجیے کہ میں بالکل قریب ہوں، اور عبدالرزاق نے حسن سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہمارا پروردگار کہاں ہے، اس پر یہ آیت کریمہ اتری، یہ حدیث مرسل ہے اور دیگر طریقوں سے بھی مروی ہے۔ ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، دعا میں عاجز نہ ہوؤ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہمارا پروردگار دعا سنتا ہے اور اس کی کیا صورت ہے، اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) ابن جریر ؒ نے عطاء بن ابی رباح ؒ سے روایت کیا ہے کہ انھیں اس بات کا پتہ چلا کہ جس وقت یہ آیت مقدسہ کہ تمہارے پروردگار فرماتے ہیں کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا کو قبول کرتا ہوں نازل ہوئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یہ انھیں معلوم نہیں کہ وہ کس وقت دعا مانگیں تو اس پر یہ آیت کریمہ اتری۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سے درگزر فرمائی اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو اور جو چیز خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو خدا سے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

(187) رات کو رمضان المبارک میں تمہارے لیے عورتوں سے جماع کرنا حلال کیا گیا ہے وہ عورتیں تمہارے لیے سکون کا باعث ہیں، اور تم ان کے لیے سکون کا باعث ہوعشاء کے بعد ہمبستری کرنے میں جو خیانت پیش آجائے اللہ تعالیٰ اس کو تم سے درگزر کرنے والا ہے اور اس پر تمہاری کسی قسم کی کوئی پکڑ نہیں جس وقت تمہارے لیے صبحت کرنا حلال کیا گیا ہے تم ان سے صحبت کرو اور نیک اولاد کے بارے میں جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اسے تلاش کرو یہ آیت کریمہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور رات سے لے کر صبح صادق کی سفیدی ظاہر ہونے تک کھاؤ پیو اور پھر رات تک روزہ کو پورا کرو یہ آیت کریمہ حرملہ مالک بن عدی کے بارے میں اتری ہے۔ دن یا رات میں اعتکاف کی حالت میں ان سے ہم بستری نہ کرو، یہ ہم بستری اس وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، لہٰذا اعتکاف ختم ہونے تک دن یا رات میں عورتوں سے ہم بستری نہ کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو بیان فرمایا ہے اسی طرح وہ اپنے دیگر احکام کو بیان فرماتا رہتا ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے رہیں۔ یہ آیت کریمہ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت حضرت علی ؓ بن ابی طالب اور عمار بن یاسر ؓ وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ مسجد میں اعتکاف کی حالت میں تھے، جب ان کو حاجت پیش آتی تو اپنی عورتوں کے پاس آتے اور ان سے صبحت کرتے اور پھر غسل کے بعد مسجد چلے جاتے اللہ تعالیٰ نے اس چیز سے ان کو منع کردیا۔ شان نزول : (آیت) ”احل لکم لیلۃ الصیام الرفث“۔ (الخ) امام احمد ؒ ، ابوداؤد ؒ اور امام حاکم ؒ ، نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ؒ کے واسطہ سے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرام رات کو سونے سے پہلے کھاپی لیتے تھے اور بیویوں کے پاس چلے جایا کرتے تھے اور جب سو جاتے تو پھر ان تمام چیزوں سے رک جایا کرتے تھے۔ انصار میں سے قیس بن صرمہ نامیہ نامی ایک شخص نے عشاء کی نماز پڑھی اور سوگیا اور اس نے کچھ کھایا پیا نہیں مگر صبح کے وقت اس کی حالت بہت ہی خراب ہورہی تھی اور حضرت عمر ؓ سونے کے بعد عورتوں کے پاس بھی چلے جایا کرتے تھے چناچہ وہ شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث (الخ) کے نام نازل فرمائی یعنی صبح صادق تک تمام کام کرسکتے ہو پھر صبح صادق سے شام تک روزہ پورا کرو، یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے مشہور ہے مگر انہوں نے معاذ بن جبل ؓ سے یہ حدیث نہیں سنی، اور اس حدیث کی تقویت کے لیے دوسرے شواہد موجود ہیں، چناچہ امام بخاری ؒ نے حضرت براء ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے جب کوئی شخص روزہ کی حالت میں افطار کے وقت سوجایا کرتا تھا تو پھر وہ رات کو اور اگلے دن شام تک کوئی چیز نہیں کھاتا تھا۔ اور قیس بن صرمہ انصاری روزہ دار تھے، افطار کے وقت وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ کھانے کو کچھ موجود ہے، اس نے بتایا کچھ نہیں، مگر میں جاکر تلاش کرتی ہوں اور قیس بن صرمہ سارا دن محنت کرتے تھے انہیں نیند آئی وہ سو گئے ان کی بیوی کچھ تلاش کرکے لائیں جب انھیں سوتا ہوا دیکھا تو کہنے لگیں افسوس تجھ پر، اگلے دن آدھا دن ہوا تو ان پر بےہوشی طاری ہوگئی، اس کا رسول اکرم ؓ سے ذکر کیا گیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس سے صحابہ کرام ؓ بہت خوش ہوئے، نیز یہ آیت بھی نازل ہوئی (آیت) ”وکلوا واشربوا حتی“ (الخ) یعنی صبح صادق تک کھاؤ اور پیو۔ اور امام بخاری ؒ ہی نے حضرت براء سے روایت کیا ہے کہ جب روزوں کی فرضیت ہوئی، تو صحابہ کرام ؓ مکمل رمضان میں رات کو اپنی بیویوں کے پاس نہیں جایا کرتے تھے مگر کچھ حضرات ایسا کرلیا کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ ”اللہ تعالیٰ کو اس چیز کی خبر تھی کہ تم خیانت کے گناہ میں اپنے آپ کو مبتلا کررہے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے گناہ کو صاف کردیا۔“ اور امام احمد ؒ ، ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے عبداللہ بن کعب ؒ کے ذریعہ سے کعب بن مالک سے روایت کی ہے کہ شروع میں لوگوں میں سے جب کوئی روزہ رکھتا تھا اور پھر شام کو وہ سوجایا کرتا تھا تو اس پر کھانا پینا اور عورتیں، سب چیزیں حرام ہوجایا کرتی تھیں جب تک کہ اگلے دن روزہ افطار کرلے، چناچہ ایک دن رات کو حضرت عمر فاروق ؓ رسول اکرم ﷺ سے بات چیت کرنے کے بعد اپنے گھر گئے اور اپنی بیوی سے صحبت کرنا چاہی وہ بولیں کہ وہ تو سو چکی ہیں، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تو ابھی تک نہیں سویا غرض کہ حضرت عمر ؓ نے ان سے صحبت کرلی اور حضرت کعب کے ساتھ بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا، صبح ہوتے ہی حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور آپ کو پورا واقعہ عرض کیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) فرمان الہی (آیت) ”من الفجر“۔ یعنی صبح صادق تک، امام بخاری ؒ نے سہل بن سعد ؒ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے نمایاں ہوجائے اور (آیت) ”من الفجر“ کا لفظ نازل نہیں ہوا تو صحابہ کرام ؓ میں سے جب کوئی روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا تو اپنے پیر میں کالا اور سفید ڈورا باندھ لیتا، اور پھر جب تک یہ دونوں ڈورے صاف نظر نہ آنے لگتے برابر کھاتا پیتا رہتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”من الفجر“ کا لفظ نازل فرمایا، اس وقت صحابہ کرام ؓ سمجھے کہ اس سے دن، رات ہے۔ فرمان الہی (آیت) ”ولا تباشروھن“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے قتادہ ؓ سے روایت کی ہے اعتکاف کی حالت میں اگر کوئی چاہتا تو مسجد سے نکلتا تھا اور پھر اپنی بیوی سے صحبت کرکے واپس چلا جاتا تھا، اس پر یہ آیت کریمہ اتری یعنی جب مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں موجود ہو اس حالت میں اپنی عورتوں سے ہم بستری نہ کرو، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو (رشوتاً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر نہ کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

(188) یہ آیت کریمہ عبدان بن اشرع ؒ اور امری القیس ؒ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ظلم، چوری، غصب اور جھوٹی قسم وغیرہ سے کسی کا مال نہ کھاؤ اور حاکموں کے پاس بھی اس چیز کو نہ لے جاؤ تاکہ ایک جماعت جھوٹی قسموں سے دوسرے کا مال کھالے تو اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد امرا القیس اپنے مال پر قائم رہا۔ شان نزول : ولا تاکلوا“ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؒ سے روایت کی ہے کہ امراء القیس ؒ بن حابس ؒ اور عبدان بن اشرع حضری ؒ ان دونوں میں ایک زمین کے بارے میں جھگڑا ہو اتو امرا القیس ؒ نے قسم اٹھانے کا ارادہ کیا، اس پر یہ آیت کریمہ اتری کہ ناحق طریقہ پر ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ بلکہ نیکو کار وہ ہے جو پرہیزگار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ

(189) چاند میں کمی اور زیادتی کس وجہ سے ہوتی ہے، اس کے متعلق لوگ پوچھتے ہیں تو اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ یہ لوگوں کے لیے علامتیں ہیں تاکہ ان کے حساب سے اپنے قرضوں کو ادا کریں اور اپنی عورتوں کی عدت کا حساب رکھیں اور روزے رکھنے اور کھولنے کا حساب لگائیں، اور حج کا وقت معلوم کریں یہ آیت کریمہ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے متعلق نازل ہوئی، جس وقت انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں پوچھا تھا۔ احرام کی حالت میں مکانوں کے اندر پیچھے کی طرف سے آنے میں کوئی تقوی اور نیکی نہیں، احرام میں نیکی تو شکار اور دیگر ممنوع چیزوں سے بچنا ہے، اپنے گھروں میں ان ہی دروازوں سے آؤ جن سے تم ہمیشہ نکلتے اور داخل ہوتے رہتے ہو اور احرام کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے نجات پاسکو، ہو یہ آیت کریمہ کنانہ اور خزاعہ میں سے اصحاب رسول اللہ ﷺ کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ وہ احرام کی حالت میں اپنے گھروں میں جیسا کہ جاہلیت کے زمانہ میں کیا کرتے تھے، پچھلی طرف سے یا ان کی چھتوں پر سے داخل ہوتے تھے۔ شان نزول : (آیت) ”یسئلونک عن الاھلۃ“ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے عکرمہ ؒ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے چاند کے بارے میں معلوم کیا اس پر یہ آیت اتری اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابوالعالیہ ؒ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ نے چاند کو کیوں پیدا کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ ابونعیم ؒ اور ابن عساکر ؒ نے تاریخ دمشق میں سدی صیغر ؒ ، کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ اور ثعلبۃ بن غنمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیا بات ہے کہ شروع میں چاند باریک دیکھائی دیتا ہے پھر بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ مکمل ہوجاتا ہے اور رکتا ہے اور گھومتا ہے، اور پھر کم اور باریک ہوتا رہتا ہے، حتی کہ پھر پہلی حالت پر آجاتا ہے، اور ایک حالت پر باقی نہیں رہتا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ آپ سے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ فرمان الہی : (آیت) ”ولیس البر“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے حضرت براء ؒ سے روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب لوگ احرام باندھتے تو اپنے گھروں میں پشت کی طرف سے داخل ہوتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اس میں کوئی بڑائی اور فضیلت نہیں کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوجاؤ۔ اور ابن ابی حاتم ؒ اور امام حاکم ؒ نے حضرت جابر ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ قریش حمس کے ساتھ پکارے جاتے تھے اور وہ احرام کی حالت میں دروازوں سے اندر جاتے تھے اور انصار اور تمام عرب حالت احرام میں دروازہ سے نہیں جاتے تھے، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں تشریف رکھتے تھے، اچانک آپ ﷺ اس باغ کے دروازے سے نکلے اور آپ ؓ کے ساتھ قطبۃ بن عامر انصاری ؓ بھی نکلے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قطبۃ بن عامر ایک تاجر آدمی ہے اور یہ آپ ﷺ کے ساتھ باغ کے درازہ سے نکلا ہے، حضور اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تو نے ویسا کام کیوں کیا جو میں نے کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ میں نے آپ ﷺ کو جو کرتے دیکھا وہی کیا، آپ نے فرمایا کہ میں تو احمس شخص ہوں اس نے عرض کیا کہ میرا دین وہی ہے جو آپ ﷺ کا دین ہے اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ (آیت) لیس البر (الخ) اتاری۔ اور ابن جریر ؒ نے عوفی ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے ، اور ابوداؤد طیالسی ؒ نے اپنی مسند میں براء ؒ سے روایت کیا ہے کہ انصار جب سفر سے واپس ہوتے تو ان میں سے کوئی بھی اپنے گھر کے دروازہ سے داخل نہ ہوتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری اور عبد بن حمید نے قیس بن حبشہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ لوگ جب احرام باندھتے تو اپنے گھر میں دروازہ کی طرف سے داخل نہ ہوتے تھے اور حمس والے ایسا نہیں کرتے تھے، چناچہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں گئے ہوئے تھے، اور پھر اس باغ کے دروازہ سے باہر نکلے تو آپ کے ساتھ ایک آدمی ہوگیا جس کو رفاعہ بن تابوت کہا جاتا تھا اور وہ قبیلہ حمس میں سے نہیں تھا صحابہ کر امرضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ رفاعہ منافق ہوگیا۔ آپ نے رفاعہ سے فرمایا کہ تو نے ایسا کیوں کیا تو وہ کہنے لگا کہ میں نے آپ کی اتباع کی، آپ نے فرمایا کہ میں تو قبیلہ حمس میں سے ہوں تو ہم سب کا دین تو ایک ہی ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”ولیس البر“ (الخ) واحدی ؒ نے کلبی ؒ اور ابوصالح ؒ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کا واقعہ یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ میں جانے سے روک دیا گیا تھا پھر آپ ﷺ نے مشرکین مکہ سے اس بات پر صلح کرلی کہ اگلے سال آکر عمرہ قضا کرلیں گے، جب آئندہ سال ہوا تو آپ ﷺ نے اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے عمرہ قضا کی تیاری کی اور اس بات کا خوف پیدا ہوا کہ کہیں کفار وعدہ خلافی نہ کریں اور پھر مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیں اور جنگ کریں اور صحابہ کرام ؓ کو حج کے مہینوں میں قتال پسند نہیں تھا۔ (یعنی دین اسلام میں اس کی اجازت نہ تھی) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور ابن جریر ؒ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ ذی قعدہ کے مہینے میں عمرے کا احرام باندھ کر اور قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوئے، جب مقام حدیبیہ پر پہنچے تو مشرکین نے آپ کو آگے جانے سے روک لیا، رسول اکرم ﷺ نے مشرکین مکہ سے اس بات پر صلح کرلی کہ اس سال ہم واپس چلے جاتے ہیں اور اگلے سال عمرہ قضا کرلیں گے جب آئندہ سال ہوا تو ذی قعدہ کے مہینے میں رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ عمرے کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئے اور تین راتوں تک وہاں ٹھہرے اور مشرکین کو اس بات پر فخر تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کو واپس کردیا اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ سارا واقعہ بیان کیا اور حضور اکرم ﷺ کو مکہ مکرمہ میں اسی مہینے کے اندر داخل فرما دیا جس مہینے میں کفار نے آپ کو واپس کیا تھا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا (آیت) ”الشھرالحرام بالشھرالحرام (الخ) یعنی حرمت والا مہینہ ہے بعوض حرمت والے مہینہ کے اور یہ حرمتیں تو عوض ومعاوضہ کی چیزیں ہیں۔
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

(190) جب کوئی تم سے قتال کی پہل کرے تو تم جوابا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے مسجد حرام میں قتال کرسکتے ہو باقی خود سے پہل مت کرو کیوں کہ حالت احرام اور حرم میں قتال کی پہل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے ،
Ayahs 2:191–192

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل و خونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کر ڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

(191۔ 192) اور اگر مشرکین قتال کی پہل کریں سو وہ جس مقام پر بھی ہوں ان کو قتل کردو اور مکہ مکرمہ سے ان کو نکال دو جس طرح کہ انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور بتوں کی پوجا کرنا، یہ تمام چیزیں حرم میں لڑائی کرنے سے زیادہ بدتر ہیں۔ اور حرم میں جب تک کہ کفار لڑائی کی پہل نہ کریں تم ان سے لڑائی نہ کرو اور اگر یہ پہل کریں تو تم بھی ایسا ہی کرسکتے ہو، قتل ہی ان کی سزا ہے لیکن اگر یہ کفر وشرک سے رک جائیں (یعنی ایمان اختیار کرکے مسلمان جماعت میں داخل ہوجائیں) اور توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا اور جو توبہ کی حالت پر انتقال کرجائے اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Ayah 2:193

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیے)

(193) اور جب ان کی طرف سے قتل کی پہل ہو تو پھر حرم میں ان کے ساتھ اس قدر قتال کرو کہ حرم کے اندر شرک کا نام ونشان مٹ جائے اور اسلام اور اظہار بندگی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہوجائے۔ اور اگر یہ کفار حرم میں لڑائی کرنے سے باز آجائیں تو پھر قتل کرنے کی کوئی اجازت نہیں مگر صرف وہ لوگ جو خود سے لڑائی کی پہل کریں۔
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

(194) وہ مہینہ جس میں آپ ﷺ عمرہ کی قضا کے لیے تشریف لے جارہے ہیں وہ اس مہینے کا بدل ہے جس میں کفار نے آپ کو عمرہ کرنے سے منع کردیا تھا اور اگر یہ کفار حدود حرم میں آپ لڑائی کی پہل کریں تو آپ بھی اسی قدر ان کے ساتھ لڑائی کریں اور قتل و غارت میں پہل کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(195) عمرہ قضا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے اپنا ہاتھ نہ روکو تاکہ تم ہلاکت میں نہ پڑجاؤ، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں مت مبتلا کرو اور ایک یہ تفسیر کی گئی ہے کہ نیک کاموں سے مت رکو کہ کہیں تم ہلاکت میں نہ پڑجاؤ یعنی رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہو کر پھر ہلاکت میں گرفتار ہوجاؤ، اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ راہ خدا میں اچھی طرح خرچ کرو اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں، (آیت) ”۔ وقاتلوا فی سبیل اللہ“۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیات ان حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حدیبیہ سے اگلے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں عمرہ قضا کرنے کے لیے تشریف لے جارہے تھے۔ شان نزول : (آیت) ”وانفقوفی سبیل اللہ“ (الخ) امام بخاری ؒ نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ نفقہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام ابو داؤد اور ترمذی ؒ نے سحت کے ساتھ اور نیز امام حاکم اور ابن حبان ؒ نے ابوایوب ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے فرمایا اے گروہ انصار یہ آیت کریمہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت عطا فرما دی اور اس کے مددگار زیادہ ہوگئے تو ہم میں سے بعض نے بعض سے خفیہ طور پر یہ کہا کہ ہمارے مال یوں ہی ضائع ہورہے ہیں اور آب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت دے دی ہے لہٰذا اگر اب ہم اپنے مال کا خیال کریں اور ضائع ہونے سے ان کی حفاظت کریں تو بہتر ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہماری باتوں کی تردید میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال بھی خرچ کرو اور اپنے آپ کو تباہی میں نہ ڈالو تو مال کی ہلاکت کی نگرانی اور اس کی حفاظت جہاد کو چھوڑنا ہے۔ طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابوجبیرہ بن ضحاک ؒ سے روایت کیا ہے کہ انصار صدقہ و خیرات کرتے تھے اور جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دیتے غرباء کو مال بھی دیتے تھے ایک مرتبہ ان پر کچھ تنگی آگئی تو وہ اس کام سے رک گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتار دی کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، نیز امام طبرانی ؒ ہی نے صحیح سند کے ساتھ نعمان بن بشیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ انسان سے گناہ سرزد ہوجاتا تو وہ اپنے دل میں خیال کرتا ہے کہ خدا اسے معاف نہیں فرمائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ اتاری کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اس حدیث کے لیے ایک اور گواہ بھی موجود ہے جس کو امام حاکم ؒ نے حضرت براء سے روایت کیا ہے (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور خدا (کی خوشنودی) کیلیے حج اور عمرے کو پور کرو اور اگر (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈا لے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو (کرے) اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مکہ میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

196: تم حج یا عمرہ سے کسی بیماری یا دشمن کی وجہ سے روک دیے جاؤ تو بکری، گائے یا اونٹ میں سے، جس قربانی میں تمہارے لیے آسمانی ہو احرام کے چھوڑنے پر واجب ہے اور اس رکنے کے عرصہ میں اپنے سروں کو نہ منڈواؤ جب تک کہ جو قربانی روانہ کی ہے وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام پر نہ چلی جائے اور جو اس رکنے کی مدت میں اتنے زمانہ تک نہ ٹھہر سکتا ہوں تو وہ قربانی کا جانور کی جگہ پر روانہ کرنے سے پہلے ہی اپنے گھر چلا جائے اور جس کے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہوگئی ہوں وہ اپنے سر کو منڈوائے، یہ آیت کریمہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہوگئی تھیں، اس لیے انہوں نے حرم ہی میں اپنا سر منڈا دیا تھا اور اس سر منڈانے کا فدیہ تین روزے یا اہل مکہ میں سے چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ایک قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لیے روانہ کرنا ہے اور جب دشمن اور بیماری سے نجات مل جائے تو اس سال اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے ذمہ حج اور عمرہ فرض کیا تھا اگلے سال اس کو قضا کرلو۔ اور جو شخص عمرہ ادا کرنے کے بعد پھر حج کا احرام باندھے تو اس پر حج تمتع اور قرن (حج اور عمرے کا اکٹھا کرنا) کی قربانی واجب ہے اور قربانی عام ہے خواہ بکری ہو یا گائے اور اونٹ میں سے حصہ کردے اور جو شخص ان تینوں قسم کی قربانیوں میں سے کوئی سی بھی قربانی ادا نہ کرسکے تو وہ حج کے عشرہ میں تین روزے متواتر اس ترتیب سے رکھے کہ اخیر روزہ عرفہ کے دن ہو، اور ساتھ گھر پہنچنے پر یا جس وقت راستہ ہی میں تم قیام کرلو یہ پورے روزے قربانی کے قائم مقام ہوجائیں گے اور یہ دم تمتع (قربانی) اس شخص پر واجب ہے کہ جس کا گھر حرم میں یا اس کے گھر والے حرم میں نہ ہوں، کیوں کہ حرم والوں پر حج تمتع اور قرن نہیں ہے، اور جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اس کو پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیوں کہ جو احکام خداوندی میں سے قربانی یا روزوں کو ترک کرے گا تو اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والے ہے۔ شان نزول : (آیت) ”فمن کان منکم مریضا“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت) ”ففدیۃ من صیام“ (الخ) کے بارے میں دریافت کیا گیا انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور جوئیں میرے سر پر سے جھڑ رہی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مشکل میں پھنسے ہو۔ کوئی بکری تمہارے پاس ہے میں نے کہا نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا تو تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ہر ایک مسکین کو آدھا صاع کھانے کا دو ، اور اس کے بعد سرمنڈالو۔ اسی طرح واحدی ؒ نے عطا ؒ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ جب ہم نے حدیبیہ میں قیام کیا تو کعب بن عجرہ ؓ اپنی جوؤں کو اپنے چہرے پر سے جھاڑتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی خدمت آئے اور عرض کیا ! یارسول اللہ ﷺ ان جوؤں نے تو مجھے کھالیا ہے تو اسی مقام پر یہ آیت کریمہ ”فمن کان منکم“۔ (الخ) اتری۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)