Ayah 2:197(197) حج کے مشہور مہینے ہیں جن میں حج کا احرام باندھا جاتا ہے یعنی (1) شوال (2) ذی قعدہ (3) دس دن ذی الحجہ کے ہیں۔
لہذا جو آدمی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے تو نہ ہمبستری کرے اور نہ اس قسم کی باتیں کرے اور گالی گلوچ دینے اور اپنے ساتھی سے لڑائی جھگڑا کرنے سے پرہیز کرے، اور ایک تفسیر یہ بھی گی گئی ہے کہ حج کی فرضیت میں کوئی جھگڑا اور بحث نہیں۔
اور احرام کی حالت میں ہمبستری اور اس کے تذکرہ اور گالی گلوچ اور جھگڑے کو جو بھی تم میں سے ان باتوں کو چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا، اے عقل والوں سامان سفر بھی ساتھ رکھو اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے، مطلب یہ ہے کہ عقل والو دنیاوی ضرورتوں کے لیے بھی سفر میں اتنی چیز ساتھ رکھو اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے، مطلب یہ ہے کہ عقل والو دنیاوی ضرورتوں کے لیے بھی سفر میں اتنی چیز ساتھ رکھو اور جو وہاں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے کفایت کرے ورنہ پھر اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل کرلو، اس لیے کہ توکل دنیاوی فوائد سے بدرجہا بہتر ہے اور حدود حرم میں مجھ سے ڈرتے رہو، یہ آیت کریمہ یمن کے کچھ لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو سامان سفر اور خوراک کے بغیر حج کرنے چلے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے روک دیا۔
شان نزول : (آیت) ”وتزودوا“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ وغیرہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اہل یمن بغیر زادراہ کے حج کا سفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ پر توکل کرنے والے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا اور زادراہ ساتھ رکھو (یعنی اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے) کیوں کہ سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے۔
Ayah 2:198(198) حرم میں تجارت کرکے کچھ نفع وغیرہ کمانے میں کوئی حرج نہیں، یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو حدود حرم میں خرید وفروخت اور کاروبار کو ناجائز سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد جب تم لوگ میدان عرفات سے مشعر حرام پر آؤ تو دل و زبان سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتایا ہے اللہ تعالیٰ کا خوب اچھی طرح ذکر کرو، رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے نزول قرآن اور اسلام سے پہلے تم لوگ کافر ہی تھے۔
شان نزول : (آیت) ”لیس علیکم جناح“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عکاظ اور ذوالمجاز یہ زمانہ جاہلیت میں بازار تھے۔ لوگ حج کے زمانہ میں ان بازاروں میں کاروبار کیا کرتے تھے، صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، اس پر یہ آیت اتری کہ ایام حج میں کاروبار اور تجارت یعنی خرید وفروخت کرنے میں کوئی گناہ نہیں اور امام احمد ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ ابن جریر ؒ اور امام حاکم ؒ نے ابو امامہ تمیمی ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے عرض کیا کہ ہم حج کے دنوں میں خرید وفروخت کرتے ہیں تو اس سے حج میں کوئی حرج تو نہیں آتا حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ سے اسی طرح کا سوال کیا تھا، آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جبرائیل امین ؑ یہ آیت مبارکہ لیس علیکم جناح“۔ (الخ) لے کر نازل ہوئے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ تم لوگ حاجی ہو۔
فرمان خداوندی (آیت) ”ثم افیضوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عرب عرفات میں وقوف کیا کرتے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:199(199) وہیں جاکر پھر لوٹو جہاں سے یمن والے لوٹ کر آتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے بخشش طلب کرو جو شخص توبہ طلب کرے اور توبہ ہی پر اس کا انتقال ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی بخشش فرمانے والے ہیں۔
یہ آیت کریمہ اہل حمس کے بارے میں اتری ہے جو اپنے حجوں میں حرم سے میدان عرفات کے علاوہ اور کسی جگہ نہیں جاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے روکا اور اس بات کا حکم دیا کہ میدان عرفات جاؤ اور اسی مقام سے لوٹ کر آؤ۔
Ayahs 2:200–201(201۔ 200) اور جب تم اپنے اعمال حج سے فارغ ہوجاؤ، تو اللہ تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسا کہ اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسانات کیے ہیں ان احسانات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اس طرح سے یاد کرو جیسا زمانہ جاہلیت میں اپنے آباؤاجداد کے احسانات کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اپنے آباء کے تذکرہ سے بھی کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرو، وقوف کی جگہ میں بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ پروردگار ہمیں اونٹ، گائے، بکریاں، غلام اور باندیاں اور بہت سامال دے مگر بہشت میں ایسے لوگوں کے حج کا کوئی حصہ نہیں۔
شان نزول : فاذا قضیتم ”۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت والے ایام حج میں کھڑے ہوتے تھے، ان میں سے ہر ایک شخص کہتا تھا کہ میرے باپ کھانا کھلاتا تھا، لوگوں کو سوار کراتا تھا اور دوسروں کے خون بہا کو ادا کرتا تھا یعنی اپنے آباؤ اجداد کے ذکر کے علاوہ ان کے پاس کوئی ذکر نہیں تھا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری کہ جب تم اپنے اعمال حج پورے کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا اچھی طرح ذکر کیا کرو۔
اور ابن جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ عرب جب ارکان حج سے فارغ ہوجاتے تھے تو حجر اسود کے پاس کھڑے ہوجاتے اور زمانہ جاہلیت میں کیے گئے اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں کو بیان کیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت اتری۔
اور ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عربوں کی ایک جماعت وقوف کی جگہ آتی اور کہتی، اے اللہ، سال بارش اور سبز وشادابی اور خوبصورتیوں والا کردے لیکن امور آخرت میں سے کسی بھی چیز کا تذکرہ نہیں کرتی تھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتاری کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار بس ہمیں دنیا ہی میں دے دے، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اس جماعت کے بعد دوسری جماعت مومنوں کی آتی ہے اور یہ دعا مانگتی، (آیت) ”ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ (الخ) کہ اے اللہ ہماری دنیا کے ساتھ آخرت بھی اچھی کردے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:202(202) اور بعض حضرات علم و عبادت گناہوں سے حفاظت، شہادت اور غنیمت وغیرہ اور جنت اور اس کی نعمتوں کے لیے دعا مانگتے ہیں اور درخواست گزار ہیں کہ قبر اور دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور کردے ان خوبیوں والوں کے لیے جنت میں ان کے حج کا پورا پورا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ جب حساب فرمانے کا ارادہ فرمائیں تو اس کا حساب بہت جلدی ہوجاتا ہے اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس کی حفاظت بہت جلدی ہوتی ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ریاکاروں سے بہت زبردست بدلہ لینے والا ہے۔
Ayah 2:203(203) اور ایام معلوم یعنی ایام تشریق کے پانچ دنوں میں یوم عرفہ، یوم النحر اور 11، 12، 13 کو اللہ تعالیٰ کی حمد و تہلیل (لا الہ الا اللہ) بہت زیادہ کیا کرو۔
اور جو شخص دسویں تاریخ کے دو دن بعد ہی اپنے گھر واپس آنا چاہے تو اس جلدی میں کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تیرہویں تاریخ تک منی میں ٹھہرے تو اس میں بھی کوئی گناہ کی بات نہیں، اس کی بخشش ہوجائے گی، تو تیرہویں تاریخ تک شکار کرنے سے رکا رہے گا اور تیرہویں تاریخ تک شکار کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔
Ayah 2:204(204) آپ کو بعض لوگوں کی دنیاوی زندگی میں گفتگو اور ان کا طرز بیان پسندیدہ معلوم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی اس بات پر قسم کھاتا ہے کہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کی پیروں کرتا ہوں حالانکہ وہ جھوٹا اور سخت قسم کا جھگڑالو ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ومن الناس من یعجبک“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید ؓ یا عکرمہ ؓ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب وہ لشکر شہید کردیا گیا جس میں عاصم اور مرشد تھے تو منافقوں میں سے دو آدمیوں نے کہا کہ جو لوگ اس طرح مارے گئے ان کے لیے ہلاکت ہے۔ کیوں نہ یہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور کیوں نہ انہوں نے اپنے صاحب کی رسالت کو ادا کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری کہ (آیت) ”ومن الناس من یعجبک“۔ اور ابن جریر ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ اخنس بن شریق ؓ کے بارے میں اتری ہے، رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آکر اس نے اسلام ظاہر کیا، حضور ﷺ کو اس کی یہ بات پسند آئی، اس کے بعد یہ آپ ﷺ کے پاس سے چلا گیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کی کھیتی اور گدھوں پر سے اس کا گزر ہوا تو اس نے کھیتی جلادی اور گدھوں کے پاؤں کاٹ ڈالے۔
(لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 2:205–206(205۔ 206) اور جب غصہ میں آتا ہے تو ہر قسم کے گناہ کرتا ہے اور کھیتوں اور باغات کو برباد اور جانوروں کو قتل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے فساد پھیلانے والے لوگوں کو پسند نہیں کرتے اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈر تو اس میں تکبر اور حمیت جوش مارنے لگتی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برے لوگوں کا برترین ٹھکانا ہے۔
یہ آیت کریمہ اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ شیریں کلام تھا رسول اکرم ﷺ کو اس کی یہ بات پسند تھی کہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور خفیہ طریقے سے آپ کے ہاتھ پر بیت کرتا ہوں اور اس پر اللہ کی قسم بھی کھاتا تھا، مگر یہ پکا منافق تھا، لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے ایک قوم کی کھیتی جلادی تھی اور اسی طرح ایک قوم کے گدھوں کو مار ڈالا تھا۔
Ayah 2:207(207) اور بعض حضرات اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنی جان کو اپنے مال کے بدلے خریدتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ صہیب بن سنان ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے ان حضرات نے اپنی جانوں کو اپنے مال کے بدلے مکہ والوں سے خریدا تھا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی مہربانی فرمانی فرمانے والا ہے یہ آیت کریمہ حضرت عمار بن یاسر ؓ اور حضرت سمیہ ؓ کے والدین کے بارے میں نازل ہوئی، ان حضرات کو مشرکین مکہ نے شہید کردیا تھا۔
شان نزول : (آیت) ”ومن الناس من یشری“۔ (الخ)
حارث بن ابی امام ؒ نے اپنی مسند میں اور ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن مسیب ؒ سے روایت کیا ہے کہ حضرت صہیب ؓ رسول اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کرکے روانہ ہوئے تو قریش کی ایک جماعت نے ان کا پچھا کیا، حضرت صہیب ؓ اپنی سواری سے اتر گئے، اور ان کے ترکش میں جو تیر تھے وہ سب نکال لیے اور فرمایا اے قریش کی جماعت تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب زیادہ تیر انداز ہوں اور اللہ کی قسم تم لوگ میرے قریب اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں اپنے تمام تیر تمہیں نہ مار دوں اور اس کے بعد جتنی میرے ہاتھ میں طاقت باقی رہے گی اپنی تلوار سے تم سے جہاد کروں گا۔ اب جو تمہاری مرضی ہو کرو اور تم چاہو تو میں تمہیں اپنا وہ مال بتا دیتا ہوں جو مکہ میں ہے اور تم میرا پیچھا چھوڑ دو۔
قریش اس پر رضا مند ہوگئے، جب حضرت صہیب ؓ مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابویحیی تمہاری تجارت سود مند رہی، ابویحیٰ تمہاری تجارت کامیاب ہوگئی اور یہ آیات نازل ہوئیں، (آیت) ”ومن الناس من یشری“ (الخ)
اور امام حاکم ؒ نے اپنی مستدرک میں اسی طرح ابن مسیب عن صہیب ؓ کے ذریعہ سے موصولا روایت کیا ہے اور امام حاکم ؒ نے بھی اسی طرح عکرمہ ؓ کے مراسیل سے روایت کیا ہے۔
اور امام حاکم ؒ ہی نے بواسطہ حماد بن سلمہ ثابت ؒ ، حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے اور اس میں آیت کے نازل ہونے کی وضاحت موجود ہے اور امام حاکم ؒ نے فرمایا ہے یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
اور ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت صہیب ؓ ابوداؤد ؓ ، جندب بن ابی السکن کے بارے میں اتری ہے (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
تفسیر سورة بقرۃ آیات (208) تا (212)
Ayah 2:208(208) مومنو ! پورے طور پر رسول اکرم ﷺ کے دین میں داخل ہوجاؤ ہفتہ اور اونٹ کے گوشت کی حرمت وغیرہ میں شیطان کی جعل سازی میں مت آؤ وہ تمہارا کھلا ہوا دشنمن ہے۔ س
شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ثعلبہ ؓ ابن یامین ؓ اسد بن کعب ؓ اسید بن کعب ؓ سعید بن عمرو ؓ اور قیس بن زید ؓ اہل کتاب میں سے ان سب حضرات نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ! یا رسول اللہ ﷺ ہفتہ کے دن کی ہم تعظیم کرتے ہیں ہمیں اس کی تعظیم کی اجازت دیجئے اور توریت بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ہمیں رات کو اس پر عمل کرنے کی اجازت دیجیے، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری کہ ”اے ایمان والواسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔“ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:209(209) پھر اگر اپنی کتاب میں اس چیز کا بیان اور وضاحت آجانے کے بعد بھی تم رسول اکرم ﷺ کی شریعت سے دور ہٹو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے جو اپنے رسول ﷺ کی پیروی نہ کرے زبردست بدلہ لینے والا ہے اور اللہ تعالیٰ پہلی شریعتوں کے منسوخ کرنے کے بارے میں زیادہ جانتا ہے، یہ آیت مبارکہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے کیوں کہ وہ ہفتہ کے دن اور اونٹ کے گوشت کے معاملے میں حساس تھے۔
Ayah 2:210(210) کیا اہل مکہ اس چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ بغیر کسی کیفیت کے قیامت کا دن آجائے اور اللہ تعالیٰ اس کام سے فارغ ہوجائے، اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل کردے اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے۔
Ayahs 2:211–212(211۔ 212) آپ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے پوچھیے کہ کتنی مرتبہ ہم نے ان سے اوامرو نواہی کے ساتھ کلام کیا ہے اور موسیٰ ؑ کے زمانہ میں ہم نے ان کو دین کے ساتھ عزت عطا فرمائی مگر انہوں نے دین کو کفر کے ساتھ تبدیل کردیا اور جو شخص رسول اکرم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی کتاب کو کفر کے ساتھ بدلے تو اللہ تعالیٰ کافر کو شدید ترین عذاب دینے والا ہے، ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے دنیاوی زندگی فراخی اور خوشحالی کے ساتھ سجائی گئی ہے مگر یہ لوگ حضرت سلمان ؓ اور صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ اور ان کے ساتھیوں کی معاشی تنگی پر ان کا مذاق اڑاتے ہیں مگر جو حضرات کفر وشرک سے بچے ہوئے ہیں یعنی حضرت سلمان ؓ اور ان کے ساتھی وہ دنیا میں ان کافروں سے حجت اور دلیل اور جنت میں قدر ومنزلت میں بڑھے ہوئے ہیں اور بغیر کسی محنت ومشقت کے جس پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، مال کی فراخی کردیتا ہے اور یہ بھی تفسیر کی گئی ہے کہ جنت میں اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بغیر کسی حساب و کتاب کے داخل کردیتا ہے۔
Ayah 2:213(213) انسان حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں ایک ملت یعنی کفر پر قائم تھے اور یہ بھی تفسیر کی گئی کہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں مسلمان تھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے ایسے انبیاء کرام کو بھیجا جو مومنین کو جنت کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈراتے اور ان پر جبریل امین کے ذریعے ایسی کتاب کو بھی نازل کیا گیا جو حق اور باطل کو بیان کرنے والی تھی تاکہ ہر ایک نبی دینی مسائل میں اپنی کتاب کے ذریعے سے فیصلہ کرسکے تاکہ وہ کتاب آپس میں فیصلہ کرسکے اور اگر (آیت) ”لیحکم“۔ لتحکم، تاء کے ساتھ پڑھا جائے تو اس سے رسول اکرم ﷺ کی ذات مبارک مراد ہوگی، دین اور رسول اکرم ﷺ کے بارے میں اہل کتاب ہی کی بناء پر اختلاف اور انکار کیا ہے، باوجود اس کے کہ ان کی کتابوں میں اس کے متعلق واضح نشانیاں بیان کی جاچکی تھیں، دین حق میں اختلاف کرنے سے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ؑ کے ذریعے مومنین کو حق بات کی ہدایت عطا فرمائی۔
یعنی دین میں اختلاف کرنے اور حق کو باطل کے ساتھ ملانے سے اللہ تعالیٰ نے مومنین کی انبیاء کرام کے ذریعے اپنے حکم و ارادہ سے حفاظت فرمائی جو اس چیز کا اہل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کو دین پر استقامت دیتا ہے۔
Ayah 2:214(214) اے مومنو ! کی جماعت کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ بغیر اس طرح امتحان وآزمائش کے جیسا کہ تم سے پہلے سابقہ مومنین کی آزمائش کی گئی ہے تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، اس کو اس قدر پریشانیوں اور سختیوں اور بیماریوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ان کے رسول اور وہ حضرات جو ان پر ایمان لائے تھے پکار اٹھے، دشمنوں کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کب آئے گی، اللہ تعالیٰ نے اس نبی ؑ یعنی ان کے نبی ؑ سے فرمایا کہ دشمنوں سے تمہاری نجات کا وقت قریب ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ام حسبتم ان“۔ (الخ)
عبدالرزاق ؒ ، معمر ؒ ، قتادہ ؒ ، بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ غزوہ احزاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس دن رسول اکرم ﷺ کو بہت سختیوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
Ayah 2:215(215) یہ سوال میراث کی آیتوں کے اترانے سے پہلے کا ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ سے پوچھتے ہیں کہ صدقہ کسے دیں آپ فرما دیجعے کہ اپنا مال، والدین اور رشتہ داروں (مگر اس کے بعد میراث کی آیت سے والدین کو صدقہ دینا منسوخ ہوگیا) یتیموں، مسکینوں اور نووارد لوگوں پر خرچ کرو اور تم جو کچھ ان لوگوں پر خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو اور تمہاری نیتوں کو خوب جاننے والا ہے اور تمہیں اس کا بدلہ دینے والا ہے۔
شان نزول : یسئلونک ماذا ینفقون“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے ابن جریج ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم اپنا مال کہاں کرچ کریں، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری اور ابن منذر ؒ نے ابوحبان ؒ سے روایت کیا ہے کہ عمرو بن جموع ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا کہ ہم اپنا مال کس طرح خرچ کریں اس پر یہ آیت اتری۔
Ayah 2:216(216) تم پر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ عام کوچ کرنے میں جہاد فرض کیا گیا ہے اور یہ تم پر بہت گراں تھا اور تم اسے گراں سمجھتے ہو، مگر درحقیقت یہ تمہارے لیے بہتر ہے، تمہیں اس کی وجہ سے شہادت اور مال غنیمت ملے گا اور جہاد نہ کرنے سے شہادت حاصل ہوتی ہے اور نہ مال غنیمت، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جہاد کرنا تمہارے لیے بہتر اور جہاد نہ کرنا تمہارے لیے برا ہے یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اور مقداد بن اسود ؓ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق اتری ہے۔
حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں نے عمرو بن حضرمی کو جمادی الثانی کو شام کو رجب کا چاند نظر آنے سے پہلے قتل کردیا تھا کفار نے انہیں اس پر برا بھلا کہا، انہوں شہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں دریافت کیا، اس پر یہ آیت کریمہ اتری۔
Ayah 2:217(217) حرمت کے مہینے یعنی رجب کے مہینے میں آپ سے لڑائی کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
آپ فرما دیجیے کہ رجب کے مہینے میں لڑائی کرنا بہت بڑے گناہ کا باعث ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت سے پھیرنا اور ان کو مسجد حرام داخل ہونے سے روکنا اللہ تعالیٰ کے ہاں عمرو بن حضرمی کے قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، قتل سے بڑا گناہ ہے اور یہ اہل مکہ تم لوگوں کو دین اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش میں ہیں اور جو اسلام سے پھر کر اسی حالت میں مرجائے تو اس کے سارے اعمال اور تمام نیکیاں برباد گئیں اور آخرت میں ان کو کوئی بدلہ نہیں ملے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ ہی اس سے چھٹکارا ملے گا۔
شان نزول : یسئلونک عن الشھر الحرام (الخ)
ابن جریر ؒ ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے کبیر میں اور حضرت امام بیہقی ؒ نے اپنی سنن میں جندب بن عبداللہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر عبداللہ بن جحش ؓ کو امیر بنایا۔
ان حضرات کو ابن حضرمی ملا، انہوں نے اس کو قتل کردیا اور ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ دن مبارک رجب کا ہے یا جمادی الآخر کا، تو مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ ان لوگوں نے حرمت کے مہینے میں قتل کیا ہے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری کہ آپ سے حرمت کے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، پھر بعد میں بعض حضرات کہنے لگے کہ اگر ان لوگوں کا اس میں گناہ نہیں ہوگا تو ثواب بھی نہیں ملے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”ان الذین امنوا والذین ھاجرو (الخ) اور ابن مندہ نے اس روایت کو عثمان بن عطا ؓ سے اور عطا کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، فرمان خداوندی (آیت) ”یسئلونک عن الخمر“ الخ۔ اس کی تفسیر سورة مائدہ میں آئے گی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:218(218) اگلی آیات پھر حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور انہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور عمرو بن حضرمی کافر کو قتل کیا یقیناً ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی جنت میں جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو معاف کرنے والا ہے، ان سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔
Ayah 2:219(219) اگلی آیت حضرت عمر فاروق ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے، انہوں نے فرمایا تھا کہ یا الہ العالمین، شراب کے بارے میں کوئی صاف حکم بیان فرمادے، اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ ان میں حرمت کے بعد بہت بڑا گناہ ہے اور حرمت سے پہلے کے لیے تجارت وغیرہ کے معمولی سے فوائد ہیں مگر تحریم سے پہلے جو اس میں نفع ہے اس سے بہت زیادہ حرمت کے بعد ان میں گناہ ہے پھر اس کے بعد دونوں صورتوں میں شراب حرام کردی گئی ،
یہ آیت حضرت عمرو بن جموع ؓ کے بارے میں اتری ہے انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا تھا کہ ہم اپنے مال سے کیا صدقہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ہم اپنے مال میں سے کیا صدقہ کریں، آپ کہہ دیں کہ جو اپنے کھانے اور بچوں کی پرورش سے بچ جائے، پھر اس کے بعد یہ حکم آیت زکوٰۃ سے منسوخ ہوگیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اوامرو نواہی اور دنیا کی ذلت کو بیان فرماتا ہے تاکہ تم جان لو کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”یسئلونک ماذا ینفقون“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید یا عکرمہ ؒ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم دیا گیا تو صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ کس قسم کے نفقہ کا ہمارے اموال میں حکم دیا گیا ہے سو ہم کیا خرچ کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”یسئلونک ماذا ینفقون“۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے یحییٰ ؒ سے روایت کیا ہے کہ ان تک بات پہنچی ہے کہ حضرت معاذ ؓ اور ثعلبہ ؓ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس غلام بھی ہیں اور گھر والے بھی ہیں تو ہم اپنے اموال میں سے کیا خرچ کریں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری۔
(لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:220(220) حضرت عبداللہ بن زوار ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے یتیموں کے ساتھ کھانے پینے اور رہائش کے بارے میں پوچھا تھا کہ یہ چیز ہے یا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، جس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ ﷺ سے یتیموں کے ساتھ کھانے پینے اور رہائش میں میل جول رکھنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ ان کے مال کی اصلاح ان کے ساتھ اختلاط کے ترک کرنے سے بہتر ہے۔
اور اگر تم کھانے پینے اور رہایش میں ان سے کے ساتھ میل جول رکھنا چاہتے ہو سو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، لہٰذا ان کے حقوق کی حفاظت کرو اور اللہ تعالیٰ یتیموں کے اموال میں مصلحت کے ضائع کرنے والے اور باقی رکھنے والے کو علیحدہ علیحدہ جانتے ہیں۔
اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو تمہارے لیے اس میل جول کو حرام کردیں اور جو شخص یتیم کا مال ضائع کرے وہ اس سے انتقام لینے پر قادر ہیں اور یتیم کا مال ضائع کرے وہ اس سے انتقام لینے پر قادر ہیں اور یتیم کے مال کی اصلاح کے بارے میں فیصلہ فرمانے والے ہیں۔
شان نزول : ویسئلونک عن الیتمی (الخ)
امام ابو داؤد ؒ ونسائی ؒ اور امام حاکم ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جس وقت (آیت) ”ولا تقربومال الیتیم“۔ اور (آیت) ”ان الذین یاکلون اموال الیتمی“۔ یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ چناچہ جس کے زیر پرورش کوئی یتیم تھا اس نے یتیم کا کھانا اپنے کھانے سے اور اس کا پینا اپنے پینے سے الگ کردیا اور اپنے کھانے سے زیادہ یتیم کے لیے کھانے کی چیز رکھنا شروع کردی، جب تک کہ وہ اس کو کھا لیتا یا ضائع کردیتا، مگر یہ چیز صحابہ کرام ؓ کے لیے مشقت کا باعث ہوئی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کو بیان کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری۔
Ayah 2:221(221) مرثد بن ابی مرثد غنوی نامی ایک مسلمان نے اس بات کا ارادہ کیا تھا کہ عناق نامی ایک مشرکہ عورت سے شادی کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سے منع فرمادیا کہ مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو، مسلمان باندی سے شادی کرنا آزاد مشرک عورت سے شادی کرنے سے بہتر ہے اگرچہ اس کا حسن و جمال تمہیں پسند ہو، اور اسی طرح مشرک مردوں سے جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں، شادی نہ کرو اور مسلمان غلام سے شادی کرنا آزاد مشرک مرد سے شادی کرنے سے بہتر ہے اگرچہ اس کی قوت وبدن تمہیں اچھا لگے یہ کافر کفر اور دوزخیوں کے کاموں کی طرف بلاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ توحید اور توبہ کی طرف اپنے حکم سے تحیریک دیتے ہیں اور شادی کے بارے میں احکام الہی کو بیان فرماتے ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں اور ناجائز طریقہ پر شادی کرنے سے پرہیز کریں۔
شان نزول : (آیت) ”ولا تنکحوالمشرکات“۔ (الخ)
ابن منذر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ اور واحدی ؒ نے مقاتل ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ ابن مرثد غنوی کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس نے ایک حسین و جمیل مشرکہ عناق نامی عورت سے شادی کرنے کے بارے میں رسول اکرم ﷺ سے اجازت مانگی تھی۔
اور فرمان الہی (آیت) ”ولا مۃ مومن ۃ (الخ) واحدی نے بواسطہ سدی ؒ ، ابومالک ؒ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت عبداللہ بن رواحہ کے بارے میں اتری ہے، ان کی ایک سیاہ باندی تھی، غصہ میں ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا پھر اس بات سے گھبرا کر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ سے واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اولا اسے آزاد کردو اور پھر اس سے شادی کرلو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس پر لوگوں نے انھیں طعنے دینے شروع کیے کہ باندی سے شادی کی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ مومن باندی مشرک عورت سے بہتر ہے اور اسی روایت کو ابن جریر ؒ نے سدی ؒ سے منقطع سند سے روایت کیا ہے۔
Ayah 2:222(222) یہ آیت مبارکہ ابن الدحداح ؒ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے متعلق پوچھا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ آپ سے حیض کی حالت میں ہمبستری کرنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، اے محمد کریم ﷺ آپ فرما دیجیے کہ حیض گندگی اور حرام ہے لہٰذا حالت حیض میں ان سے ہمبستری کرنا قطعی طور پر چھوڑ دو اور جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجائیں، اس چیز کے قریب بھی نہ جاؤ جب وہ اچھی طرح پاک ہو کر (دس دن سے کم پر) غسل کرلیں تو جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے وہاں ان کے ساتھ ہمبستری کرو اور اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کرنے والوں اور گندگیوں اور گناہوں سے پاک رہنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ویسئلونک عن المحیض“۔ (الخ)
امام مسلم ؒ اور ترمذی ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے جب کسی عورت کو حیض آتا تھا تو یہودی اس کے ساتھ نہ اپنے گھروں میں کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ لیٹتے تھے۔ تو صحابہ کرام ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری یعنی حیض والی عورت سے صحبت کرنے کے علاوہ ہر ایک چیز جائز ہے۔
اور ماوردی ؒ نے صحابہ کرام ؓ کے تذکرہ میں بواسطہ ابن اسحاق ؒ ، محمد بن ابی محمد، ؒ عکرمہ ؓ یا سعید ؒ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ثابت بن وحداح نے رسول اکرم ﷺ سے اس چیز کے بارے میں پوچھا، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی اور ابن جریر ؒ نے بھی سدی ؒ سے اسی سند اور مفہوم سے روایت کیا ہے۔
(لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:223(223) تمہاری منکوحہ عورتوں کی شرم گا ہیں تمہاری اولاد پیدا کرنے کے لیے تمہاری کھیتی کی طرح ہیں، اپنی منکوحہ عورتوں کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کے لیے جس طریقہ سے چاہو صحبت کرو خواہ سامنے کی طرف سے یا پیچھے کی طرف سے اور اولاد نیک پیدا کرو، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ان کے پیچھے کے راستہ میں اور حالت حیض میں ہمبستری اور صبحت کرنے سے ڈرو، کیوں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے وہ تمہیں تمہارے اعمال پر بدلہ دے گا اور اے محمد ﷺ آپ ان مسلمانوں کو جو عورتوں سے پیچھے کے راستہ میں اور حیض کی حالت میں صحبت کرنے سے بچتے ہیں، جنت کی خوشخبری سنا دیں۔
شان نزول : (آیت) ”نساؤ کم حرث لکم“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ ومسلم، ابوداؤد ؒ اور ترمذی ؒ نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جب آدمی پشت کی جانب سے ہو کر شرم گاہ میں صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری کی تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیت کی مانند ہیں، جس طرح سے چاہو ان سے صحبت اور ہمبستری کرو،۔
اور امام احمد ؒ اور ترمذی ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں ہلاک ہوگیا، آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں ہلاک کردیا، عرض کیا رات پشت کی طرف سے ہو کر میں نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی ہے۔ آپ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (آیت) ”نساؤ کم حرث لکم“۔ یعنی خواہ تم اپنی کھیتیوں میں سامنے کی طرف سے آؤ یا پشت کی طرف سے، پیچھے کے راستہ میں اور حیض کے زمانہ میں صحبت کرنے سے بچو، ابن جریر ؒ ، ابویعلی اور ابن مردویہ ؒ نے بواسطہ زید بن اسلم، عطابن یسار ؒ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے پشت کی طرف سے ہو کر اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی، لوگوں نے اس چیز کو بری نظر سے دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی کہ (آیت) ”نساؤ کم حرث لکم“۔ (الخ)
اور امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عورتوں سے ان کی پشتوں کی جانب سے صحبت کرنے کے بارے میں اتری ہے۔
اور امام طبرانی ؒ نے اوسط میں سند جید کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ (آیت) ”نساؤ کم حرث لکم“۔ (الخ) یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر پشت کی طرف سے بیٹھ کر صحبت کرنے کی اجازت کے متعلق اتری ہے اور امام طبرانی ؒ ہی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی سے پشت کی طرف سے آکر صحبت کرلی تھی، لوگوں نے اس پر اسے ٹوکا اور ناپسند کیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی، یعنی تمہاری بیویاں کھیتوں کی مانند ہیں جس طریقہ سے چاہوآؤ (اور اپنے کھیت میں آؤ جو اگلا حصہ ہے پچھلا حصہ کھیت نہیں کیوں کہ اس میں کھیتی نہیں اگتی یعنی بچہ کی پیداوار نہیں۔ مترجم)
امام ابوداؤد ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابن عمر ؓ کی بخشش فرمائے، ان کو وہم ہوگیا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ انصار کے یہ قبیلہ والے یہودیوں کے اس قبیلے کے ساتھ بت پرستی میں شریک تھے اور یہ لوگ اہل کتاب کو اپنے سے علم میں زیادہ عالم سمجھتے تھے، لہٰذا بہت سی باتوں میں انصار ان کی پیروی کرتے تھے، چناچہ اہل کتاب اپنی بیویوں سے صرف ایک ہی طرف سے صحبت کرتے تھے اور یہ چیز عورت کے حق میں زیادہ پردہ کا باعث ہوتی تھی اور انصار کے قبیلہ نے بھی یہودیوں سے بھی بات لے لی تھی، اور قریش کا قبیلہ عورتوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے صحبت کرتا تھا اور ان سے سامنے سے اور پشت سے ہو کر اور ایسے ان کے ساتھ چت لیٹ کر لذت حاصل کیا کرتا تھا، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری عورت کے ساتھ شادی کی، جب مہاجر نے اس عورت کے ساتھ ہمبستری کرنا چاہی تو اس نے اس طریقہ کے ساتھ کرنے سے انکار کیا اور ناپسند کیا اور کہا کہ ہمارے یہاں تو صرف ایک ہی جانب سے صحبت کی جاتی ہے غرض کہ ان دونوں کی یہ بات پھیل گئی حتی کہ رسول اکرم ﷺ کو بھی اس کی اطلاع ہوئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کردی کہ سامنے کی جانب یا پشت کی طرف سے ہو کر یا پہلو کے بل لیٹ کر جس طرح چاہو اولاد پیدا ہونے کی جگہ میں جو اگلا حصہ ہے صحبت اور ہمبستری کرو۔
حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ شرح بخاری میں فرماتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے جو اس آیت کے نزول کا سبب بیان کیا ہے وہ مشہور ہے اور ابن عباس ؓ کو ابوسعید خدری ؓ کی روایت نہیں پہنچی، صرف ابن عمر ؓ کی پہنچی ہے جس پر انہوں نے یہ گفتگو کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:224(224) یہ آیت حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے اس بات کی قسم کھالی تھی کہ اپنی بہن اور داماد کے ساتھ حسن سلوک نہیں کریں گے اور نہ ان سے بات چیت کریں گے اور نہ ان کے درمیان صلح کرائیں گے، اس چیز کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کے لیے پردہ مت بناؤ، کہ نہ نیکی کریں گے اور نہ قطع رحمی سے ہٹیں گے اور صلح کریں گے بلکہ جو اچھا اور بہتر کام ہو وہ کرو اور اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرتے رہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک نہیں کریں گے بلکہ ترک احسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے سے بچو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ، یعنی لوگوں میں اختلافات اور تقسیم کا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے اس سے بچتے رہو۔
شان نزول : ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم (الخ)
ابن جریر ؒ نے ابن جریج ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے کہ جب انہوں نے مسطح کے بارے میں حسن سلوک نہ کرنے کی قسم کھالی تھی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:225(225) اللہ تعالیٰ تمہارے ترک احسان کے متعلق قسموں کو سنتا ہے اور تمہاری نیتوں اور قسموں کے کفارہ کی ادائیگی کو جانتا ہے، تمہاری فضول قسموں پر جیسا کہ خرید وفروخت کے وقت، لا واللہ، اور بلی واللہ، تم کہتے ہو کوئی کفارہ نہیں۔ لیکن جن قسموں میں تم اپنے خیالات دلوں میں پوشیدہ رکھ کے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہو، اس پر اللہ تعالیٰ آخرت میں مواخذہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ان فضول اور بیہودہ قسموں کی جو بغیر ارادہ کے نکل جائیں بخشش فرمانے والا ہے اور سزا کے بارے میں دانستہ جھوٹی قسموں پر جلدی بھی نہیں فرماتا، یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ گناہ کرنے کے لیے قسم کھانے کو لغو کہتے ہیں، اگر اس کو چھوڑ دے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے تو اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں کرتے۔
Ayahs 2:226–227(226۔ 227) اور حضرات یہ قسم کھالیں کہ چار مہینے یا اس سے زیادہ تک بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، پھر اپنی عورت سے ہمبستری کرنے کو چھوڑ دیں تو وہ چار ماہ تک انتظار کریں، پھر اگر وہ چار ماہ سے پہلے اپنی عورت سے صحبت کرلیں تو توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ ان کی قسم کے گناہ معاف کردے گا اور قسم کے کفارہ کو بھی اس نے بیان فرما دیا، اس کو ادا کردیں اور اگر طلاق کا پکا ارادہ کرلیں اور اپنی قسم پوری کردیں تو اللہ تعالیٰ اس قسم کو سننے والا ہے اور اس بات کو جاننے والا ہے کہ ان کی عورت چار ماہ کے گزرنے کے بعد ایک قطعی طلاق سے جدا ہوجائے گی۔
اور یہ حکم اس شخص کے بارے میں آیا ہے کہ جو اس بات کی قسم کھائے کہ اپنی بیوی سے چار ماہ یا اس سے زائد ہمبستری نہیں کروں گا، سو اگر اپنی قسم کو پورا کردے، اور چار ماہ گزرنے تک اس سے ہمبستری نہ کرے تو اس کی عورت ایک قطعی طلاق سے الگ اور جدا ہوجائے گی، اور اگر چار ماہ گزرنے سے پہلے بیوی کے ساتھ صحبت کرے، تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوجائے گا۔
Ayah 2:228(228) اور ایک یا دو طلاق دی ہوئی عورتیں کہ جن سے خاوند نے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو اور انہیں حیض آتا ہو۔ وہ اپنے آپ کو عدت میں تین حیضوں کی مدت تک روکے رکھیں اور ان کے رحم میں جو عمل وغیرہ یا حیض ہے، اس کو پوشیدہ رکھنا ان کے لیے حلال نہیں اور ان کے خاوند اس عدت کے زمانہ میں خواہ وہ حمل سے ہوں ان سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب کہ وہ اس رجوع سے نیکی کا ارادہ رکھتا ہو، ابتدا اسلام میں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیتا تھا تو وہ عدت گزرنے کے بعد بھی نکاح کرنے سے پہلے اس سے رجوع کرنے کا حق رکھتا تھا۔
مگر (آیت) ”الطلاق مرتن“۔ سے عدت گزارنے کے بعد اس قسم کا رجوع منسوخ ہوگیا اور اسی طرح حمل کے زمانہ میں وہ اس سے رجوع کرنے کا حقدار سمجھا جاتا تھا اگرچہ اسے ایک ہزار طلاق دے دی ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے رجوع کو بھی (آیت) ”فطلقوھن لعدتھن، سے منسوخ کردیا اور عورتوں کے بھی ان کے شوہروں کے اوپر حرمت وغیرہ کے اسی درجہ کے حقوق ہیں، جو ان کے خاوندوں کی ان پر صحبت اور معاشرت کے واجب ہیں، مردوں کو ان پر فضیلت اور برتری حاصل ہے، عقل، میراث، دیت، شہادت، نفقہ، اور خاوندوں کی خدمت میں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر سخت مواخذہ کرنے والا ہے جو زوجین کے حقوق اور حرمت کو برباد کرے، اور ان دونوں کے درمیان اپنے احکام کو نافذ کرنے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”والمطلقت یتربصن“۔ (الخ)
ابوداؤد ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ ؓ سے روایت کیا ہے، رسول اللہ اکرم ﷺ کے زمانہ میں عورت کو طلاق دی جاتی تھی مگر مطلقہ (طلاق شدہ عورت) کے لیے عدت نہیں تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لیے عدت نازل فرمائی، یعنی طلاق دی ہوئی عورتیں تین حیض تک عدت گزاریں۔
ثعلبی ؒ اور ہبۃ اللہ بن سلامہ ؒ نے ”ناسخ“ میں کلبی ؒ اور مقاتل سے روایت کیا ہے کہ اسماعیل بن عبداللہ غفاری ؓ نے اپنی بیوی فتیلہ کو رسول اکرم ﷺ کے عہد میں طلاق دی اور ان کو اس کا حاملہ ہونا معلوم نہیں تھا، بعد میں اس کا علم ہوا تو انہوں نے رجوع کرلیا، اس کے بعد ان کی بیوی نے بچے کو جنم دیا، جس میں وہ خود مرگئیں اور ان کا بچہ بھی مرگیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری، (آیت) ”والمطلقت“۔ (الخ) یعنی جو عورتیں حاملہ نہ ہوں، وہ تین حیض تک عدت گزاریں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:229(229) یعنی طلاق رجعی دو ہیں، اب تیسری طلاق یاعدت میں، تیسرے حیض آنے سے پہلے حسن صحبت اور معاشرت کے ساتھ اسے روک لویا اس کے حقوق ادا کرتے ہوئے اسے تیسری طلاق دے دو۔
اور جو مال تم نے ان کو مہر میں دیا ہو وہ طلاق دینے کے وقت ان سے لینا حلال نہیں، مگر خلع کی شکل میں جب کہ میاں بیوی احکام الہیہ کی ادائیگی نہ کرسکیں، لہٰذا جب احکام الہیہ کی پابندی نہ کرسکیں تو خاص طور پر مرد پر کوئی گناہ نہیں، اس مال کے لینے میں جو عورت اپنی مرضی سے خاوند کو دے کر اپنی جان چھڑانا چاہ رہی ہے، یہ آیت ثابت بن قیس بن شماش ؓ اور ان کی بیوی جمیلہ بنت عبداللہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی، انہوں نے اپنا مہر دے کر اپنے خاوند سے اپنی جان چھڑالی تھی، یہ زوجین کے درمیان احکام خداوندی ہیں، لہٰذا جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ان کی طرف تجاوز نہ کرو اور جو احکام الہیہ سے ان چیزوں کی طرف تجاوز کریں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے تو وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے ہوں گے۔
شان نزول : (آیت) ”الطلاق مرتن“ (الخ)
امام ترمذی ؒ امام حاکم ؒ وغیرہ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی چاہتا طلاقیں دے لیتا تھا اور جس وقت اس سے عدت میں رجوع کرلیتا وہ پھر بھی اسی کی بیوی رہتی، خواہ اسے سویا اس سے زیادہ طلاقیں دے دے، یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی قسم میں تجھے نہ کبھی ایسی طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوجائے اور نہ تجھ کو سکون سے رہنے ہی دوں گا، اس کی بیوی نے کہا یہ کس طرح ممکن ہوگا وہ کہنے لگا میں تجھے طلاق دیتا رہوں گا، جب بھی تیری عدت کی مدت ختم ہونے والی ہوگی، پھر تجھ سے رجوع کرلیا کروں گا اس پر اس عورت نے جاکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سارا واقعہ کہہ سنایا، آپ سن کر خاموش ہوگئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی یہ آیت اتار دی۔ (آیت) ”الطلاق مرتن“۔ (الخ) یعنی وہ طلاق جس میں رجوع کرنا درست ہے وہ دو مرتبہ کی ہے۔
فرمان خداوندی (آیت) ”ولا یحل لکم“۔ (الخ) امام ابوداؤد ؒ نے ناسخ ومنسوخ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انسان اپنی بیوی کا تمام مال کھا جاتا تھا، خواہ اس نے اسے دیا ہو، یا نہ دیا ہوتا اور یہ نہیں سمجھتا تھا کہ اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ کچھ لو اس مال میں سے تو تم نے اپنی عورتوں کو دیا ہے۔
اور ابن جریر ؒ نے ابن جریج ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس ؓ اور حبیبہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے، حبیبہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں جا کر شکایت عرض کی تھی، آپ نے اس کو فرمایا، کیا تو چاہتی ہے کہ تیری باغ تجھے واپس کردیا جائے، وہ کہنے لگیں جی ہاں ! آپ نے ان کے خاوند کو بلا کر ان سے اس چیز کا ذکر کیا وہ کہنے لگے کیا وہ اس بات پر راضی ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں، راضی ہے۔ ان کے خاوند کہنے لگے تو میں نے ایسا ہی کردیا، تب اس پر یہ آیت اتری (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:230(230) اب پھر اللہ تعالیٰ (آیت) ”الطلاق مرتن“۔ والے مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اگر تیسری طلاق دے دے، تو پھر یہ عورتیں تیسری طلاق کے بعد اس مرد کے لیے حلال نہیں رہی جب تک کہ یہ عورت دوسرے شوہر سے شادی کرلے اور وہ دوسرا خاوند اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرلے، پھر اس کے بعد اگر وہ دوسرا شوہر طلاق دے دے، یہ آیت عبدالرحمن بن زبیر ؓ کے بارے میں اتری ہے، تو اب پہلے خاوند اور اس عورت پر عدت گزرنے کے بعد آپس میں مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر یہ جانتے ہوں کہ میاں بیوی کے درمیاں جو حقوق ہیں ان کی پورے طریقہ پر ادائیگی کریں گے، یہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرائض ہیں، ان کو ماننا اور تصدیق کرنا ضروری ہے۔
شان نزول : (آیت) ”فان طلقہا“۔ (الخ)
ابن مندر ؒ نے مقاتل بن حیان ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عائشہ بنت عبدالرحمن عتیک ؓ کے بارے میں اتری ہے وہ اپنے چچازاد بھائی رفاعہ بن وہب بن عتیک ؓ کے نکاح میں تھیں، رفاعہ نے ان کو طلاق بائنہ دے دی تھی ،
اس کے بعد انہوں نے عبدالرحمن بن زبیر قرظی ؓ سے شادی کرلی، انہوں نے بھی ان کو طلاق دے دی یہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ عبدالرحمن نے صحبت کرنے سے پہلے ہی مجھے طلاق دے دی ہے تو کیا اب میں پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہوں آپ نے فرمایا نہیں تاوقتیکہ وہ تم سے ہم بستری کرے اور یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”فان طلقھا“۔ (الخ) یعنی تیسری طلاق کے بعد دوسرے خاوند سے نکاح اور ہمبستری کیے بغیر پہلے خاوند کے لیے اس عورت کا نکاح کرنا حلال نہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)