2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اسکے پڑھنے کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں اور جو لوگ اس کو نہیں مانتے وہ خسارہ پانے والے ہیں

(121) اور اللہ تعالیٰ اہل کتاب میں سے جو حضرات مومن ہیں، یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور ”بحیرہ راہب“ اور اس کے ساتھ اور نجاشی بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہم نے توریت کتاب کا علم دیا ہے، وہ پوری پوری اس کی توصیف کرتے ہیں اور جو آدمی بھی ان سے اس کے متعلق سوال کرتا ہے، تو یہ لوگ اس کے حلال و حرام اور اوامرو نواہی میں کسی کی کوئی تحریف نہیں کرتے اور توریت کی محکم چیزوں کا علم رکھتے ہیں اور اس کے متشابہات پر ایمان لاتے ہیں، یہ لوگ حضرت محمد ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو بھی حضرت محمد ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرے گا تو ایسے لوگ دنیا وآخرت کے برباد ہونے کی وجہ سے بہت گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
Ayah 2:122

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی

(122) اب پھر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرماتے ہیں، اے یعقوب ؑ کی اولاد میرے ان انعامات کو یاد کرو جو میں نے تمہارے باپ داد پر فرعون اور اس کی قوم سے آزادی دے کر کیے ہیں اور اس کے علاوہ اور مزید انعامات کیے ہیں اور اسلام کی وجہ سے تمام جہان پر فضیلت دی۔
Ayah 2:123

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے اور نہ اس سے بدلا قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے۔

(123) اور قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرو، جس دن کوئی کافر کسی بھی کافر سے عذاب کو نہ ٹال سکے گا اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ کوئی نیک شخص کسی نیک شخص سے اس عذاب کو نہ ہٹا سکے گا اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ باپ اپنے بیٹے سے اور بیٹا اپنے باپ سے حق تعالیٰ کے عذاب میں سے کچھ بھی دور نہ کرسکے گا اور نہ فدیہ کارگر ہوگا اور نہ مقربین فرشتے اور نہ ہی انبیاء رسل ایسے لوگوں کے لیے کوئی شفاعت کریں گے۔
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے خدا نے کہا میں تم لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار !) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کیلئے نہیں ہوا کرتا

(124) حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ پر جو احسانات ہوئے اللہ تعالیٰ اب ان کا ذکر فرماتے ہیں۔ کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے دس خصلتوں کی تکمیل کا حکم دیا جن میں سے پا نچ سر میں تھیں اور بانچ باقی بدن میں چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کی پوری طرح تعمیل کی اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جن کلمات کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مخاطب فرمایا، حضرت ابراہیم ؑ نے ان سب کی پوری پوری تکمیل فرما دی، اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آپ کو اپنا نائب بناتا ہوں تاکہ سب آپ کی اتباع و پیروی کریں، حضرت ابراہیم ؑ نے عرض کیا کہ میری اولاد میں سے کوئی ایسا امام بنادیجئے، جو لوگوں کو راہبر ہو، ارشاد باری ہوا کہ میرا عہدہ نبوت اور میرا وعدہ اور میری کرامت اور میری رحمت یہ تمام چیزیں جو آپ کو حاصل ہوئی ہیں آپ کی اولاد میں سے کسی کو نہیں ملیں گی ، اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ آپ کی اولاد میں سے جو ظالم ہوں گے ان کو میں امام نہیں بناؤں گا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ میرا وعدہ ان ظالموں کو آخرت میں حاصل نہیں ہوگا، البتہ دنیا میں سے ان کو کچھ مل جائے گا۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے جمع ہونے کی اور امن پانے کی جگہ مقرر کرلیا۔ اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنالو۔ اور ابراہیم اور اسماعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو۔

(125) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ان کی اتباع کا حکم دیا کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مقبول بنایا ہے کہ لوگ جذب وشوق میں وہاں جاتے ہیں اور اس مقام پر جانے والے کے لیے وہ جگہ باعث امن ہے، اور اے امت محمدیہ ﷺ مقام ابراہیم کو اپنا قبلہ بنا لو اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ و اسمعیل ؑ کو حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو اس میں قیام کرنے والوں اور تمام ممالک کے لوگوں کو اس میں پانچوں نمازیں پڑھنے کے لیے بتوں سے پاک کردیں۔ شان نزول : (آیت) ”واتخذوا من مقام ابراھیم ’(الخ) امام بخاری ؒ وغیرہ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ تین باتوں میں، میں نے اپنے پروردگار سے موافقت کی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اگر مقام ابراہیم کو مصلی (طواف کی دوگانہ اس جگہ پڑھی جائے) بنالیں تو بہتر ہے فورا (آیت) ”واتخذوا من مقام ابراھیم (الخ) نازل ہوگئی، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ازواج مطہرات کے پاس نیک وبد سب قسم کے آدمی آتے رہتے ہیں، اگر آپ اپنی ازواج مطہرات کو پردہ کا حکم دے دیں تو کیا اچھا ہو، فورا پردہ کے متعلق آیت نازل ہوگئی، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تمام ازواج مطہرات علیحدگی میں جمع ہوئیں، میں نے ان سے کہا (آیت) ”عسی ربہ ان طلقکن“۔ (الخ) یعنی اللہ تعالیٰ تم سے بہتر حضور اکرم ﷺ کو ازواج عطا فرما دے گا، چناچہ اسی طرح آیت نازل ہوگئی، یہ حدیث مختلف طریقوں سے مروی ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا، یہ ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم ؑ کا مقام ہے، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا بالکل، حضرت عمر ؓ نے درخواست کی تو پھر اسے نماز کی جگہ کیوں نہ بنالیا جائے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمادیا، کہ مقام ابراہیم ؑ کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ۔ اور ابن مردویہ ؒ نے عمرو بن میمون ؒ نے واسطہ سے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ مقام ابراہیم ؑ کے پاس سے گزرے اور درخواست کی یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہم اپنے پروردگار کے دوست یعنی حضرت ابراہیم ؑ کی جگہ پر نہ کھڑے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا ضرور پھر عرض کیا کہ کیا اسے نماز پڑھنے کی جگہ نہ بنا لیں، جواب میں رسول اللہ ﷺ نے تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی تاآنکہ (آیت) ”واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی (الخ) نازل ہوگئی، اس حدیث اور اس سے پہلی حدیث کا سیاق وسباق یہ بتلا رہا ہے کہ یہ آیت ”حجۃ الوداع“ میں نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں ان کے کھانے کو میوے عطا فرما تو خدا نے فرمایا جو کافر ہوگا میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لئے ناچار کر دونگا اور وہ بری جگہ ہے۔

(126) اور حضرت ابراہیم ؑ نے جب یہ دعا کی کہ اس شہر کو امن والا شہر بنادے کہ سب اس شہر میں آسکیں اور یہاں کے لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں انہیں مختلف قسم کے پھلوں سے روزی عطا فرما ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے میرا انکار کیا اسے بھی دنیا میں رزق دوں گا، پھر اسے لے جا کر (قیامت کے دن) جہنم میں ڈال دوں گا۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کیے جاتے تھے کہ) اے پروردگار ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بیشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

(127) اور جب حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کے لیے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور حضرت اسمعیل ؑ ان کے ساتھ تعاون کررہے تھے، جب دونوں اس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے دعا کی، پروردگار عالم ہماری اس اپنے گھر کی تعمیر کو قبول فرما، بلاشبہ آپ دعاؤں کو سننے والے اور قبولیت کو کرنے والے ہیں۔ اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اپنے گھر کی تعمیر میں تو ہماری نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 2:128

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے پروردگار ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بناتے رہیو اور (پروردگار) ہمیں ہمارے طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم) کیساتھ توجہ فرما بیشک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے۔

(128) اے ہمارے پروردگار ! خالص ہمیں اپنی توحید اور عبادت پر قائم رکھ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک خالص اپنی توحید و عبادت پر کار بند ہونے والی جماعت پیدا فرما اور ہمیں آداب و احکام حج سے باخبر رکھ اور ہماری کمزوریوں، کوتاہیوں کو معاف فرما، یقیناً تو معاف کرنے والا اور ایمان لانے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 2:129

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے پروردگار ان (لوگوں) میں انہیں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجئیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے بیشک تو غالب اور صاحب حکمت ہے

(129) اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں اسی خاندان میں سے ایک رسول (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث اور گناہوں سے پاک صاف کرنے کی وجہ سے پاکیزہ بنائے، بلاشبہ جو تیرے اس رسول کی دعوت پر لبیک نہ کہے، جس کو تو نے ان کی طرف بھیجنا ہے، اس سے شدید انتقام لینے پر قدرت رکھنے والا ہے اور رسول کے مبعوث فرمانے میں تو غالب حکمت والا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت ابراہیم ؑ کا امتحان لیا تھا، چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کلمات کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا اور ان ہی کلمات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔
Ayah 2:130

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

اور ابراہیم کے دین سے کون روگردانی کرسکتا ہے بجز اس کے جو نہایت نادان ہو ؟ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہ) صلحاء میں ہوں گے

(130) جس کا نفس خسارہ اور نقصان میں مبتلا ہوگیا ہو اور جس کی عقل نہ رہی ہو اور بیوقوفی اور حماقت کا اس پر غلبہ ہوگیا ہو، اس آدمی کے علاوہ اور کون حضرت ابراہیم ؑ کے دین اور آپ کی سنت سے لاتعلقی اختیار کرسکتا ہے اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس دنیاوی زندگی میں خلعت عالیہ کے ساتھ نوازا ہے۔ اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اس دنیا میں ہم نے ان کو نبوت اور اسلام اور پاکیزہ اولاد کے ساتھ منتخب کیا ہے اور بہشت میں ان کے باپ دادا میں سے جو انبیاء کرام ہوں گے وہ ان کے ساتھ ہوں گے ، شان نزول : (آیت) ”ومن یرغب (الخ) ابن عینیہ ؒ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ عنہنے اپنے بھتیجوں سلمہ ؓ اور مہاجر ؓ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہ بات بیان فرمائی ہے کہ میں اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ایک رسول بھیجوں گا، جس کا نام گرامی احمد ﷺ ہوگا جو ان کو بھی تسلیم کرے گا، وہ رشد وہدایت سے فیض یاب ہوگا اور جو آپ کا انکار کرے گا وہ ملعون ہوگا، اس دعوت پر سلمہ ؓ سلام لے آئے اور مہاجر نے ایمان لانے سے منکر ہوگیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:131

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں

(131) جب حضرت ابراہیم ؑ سرنگ سے نکلے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اپنے قول کو لوٹاؤ اور لاالہ الا اللہ“۔ پڑھو چناچہ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں نے اپنی تمام باتوں کو اس ذات وحدہ لاشریک کی طرف موڑ دیا ہے جو کہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اپنے دین اور عمل کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرلو، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا تابع و فرمانبردار ہوگیا اور اپنے دین و عمل سب ہی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرلیا۔ اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالا گیا تو ان سے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اپنے نفس کو میرے سپرد کرو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں نے اپنے نفس کو اس اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے جو کہ تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
Ayah 2:132

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لئے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا تو مسلمان ہی مرنا

(132) اور حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنی اولاد کو کلمہ ”لاالہ الا اللہ“ کی وصیت کی اور اسی بات کی حضرت یعقوب ؑ نے بھی اپنی اولاد کو وصیت کی چناچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا ہے، لہٰذا دین اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو تاکہ تم اسلام ہی کی حالت میں مرو جب کہ تم خالص اللہ تعالیٰ کی توحید کو بیان اور اسی کی عبادت کررہے ہو۔
Ayah 2:133

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اسی کے حکم بردار ہیں

(133) دین ابراہیمی کے ساتھ یہودیوں نے جو جھگڑا کیا اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ اے یہودیوں کی جماعت جب حضرت یعقوب ؑ کو موت آئی کیا تم اس وقت موجود تھے کہ کس چیز کے متعلق حضرت یعقوب ؑ نے اپنی اولاد کو وصیت کی یہودیت کے بارے میں یا دین اسلام کے بارے میں ؟ چناچہ انہوں نے کہا کہ میرے مرنے کے بعد کس کی عبادت کرو گے، ان کی اولاد نے کہا اسی ایک معبود حقیقی کی عبادت کریں گے جس کی آپ عبادت کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی توحید کے لیے ہم دل وجان سے وعدہ کررہے ہیں۔
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

(134) یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس نے جو نیکیاں کی ہیں وہ اس کے لیے خاص ہیں اور جو تم اچھے کام کرتے ہو وہ تمہارے لیے ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان لوگوں کے اعمال اوراقوال کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہوجاؤ تو سیدھے راستے پر لگ جاؤ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے

(135) مومنین کے ساتھ یہود اور انصاری کے جھگڑے اور مناظرے کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے یہودی مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ گمراہی سے ہدایت پر آجاؤ یعنی ہماری جماعت میں آجاؤ۔ اسی طرح عیسائی کہتے (اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے) اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ حقیقت تمہارے یعنی یہودیوں کے کہنے کے مطابق نہیں بلکہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے دین اسلام جو کہ حنیف اور اخلاص والا ہے، اس کی اتباع کرو تب تم لوگوں کو ہدایت حاصل ہوسکتی ہے اور ان کے دین میں کسی قسم کا شرک نہیں۔ شان نزول : (آیت) ”وقالوا کو نواھودا (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید یا عکرمہ ؒ کے ذریعہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ روایت کیا ہے کہ ابن صوریا ؒ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا، اے محمد ﷺ ہدایت پر صرف ہم ہیں لہٰذا ہماری (العیاذ باللہ) اتباع اختیار کرو، سیدھی راہ پر آجاؤ گے اور نصاری نے بھی آپ سے یہ کہا، تب ان گمراہوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں یہودی یا نصرانی ہوجاؤ ہدایت پاجاؤ گے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو !) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا ہوئیں ان پر اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

(136) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنین کو توحید کا طریقہ بتایا تاکہ یہود اور نصاری کی توحید کی جانب رہنمائی ہوسکے چناچہ فرمایا کہ کہو ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت اسحاق ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت یعقوب ؑ اور ان کی کتاب پر اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد اور ان کی کتابوں پر اور حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی توریت پر اور حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی انجیل پر اور تمام انبیاء سابقین (علیہم السلام) اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان لائے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو نبوت اور توحید بیان فرمائی ہے اس پر بھی ہمیں پورا ایمان حاصل ہے، اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ان انبیاء کرام میں سے ہم کسی کا انکار نہیں کرتے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی عبادت کا اقرار کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمہارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمہیں خدا کافی ہے اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے

(137) لہٰذا اگر یہ اہل کتاب تمام انبیاء کرام اور ان پر نازل ہونے والی تمام کتابوں پر ایمان لے آئیں تو یہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے مطابق گمراہی سے درست راستے پر آجائیں گے۔ اور اگر یہ تمام انبیاء کرام اور ان پر نازل ہونے والی کتب پر ایمان لانے سے منکر ہوجائیں تو یہ دین کی مخالفت کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ آپ سے ان کی اس محنت کو انھیں قتل اور جلا وطن کرکے ختم کردے گا، اور وہ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کی سزا سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کرلیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہوسکتا ہے ؟ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

(138) اللہ تعالیٰ ہی کے دین کی اتباع کرو، اس سے بہتر اور کون سا دین ہوسکتا ہے اور زبان حال سے کہو کہ ہم اس ذات کی توحید بیان کرنے والے اور اسی کی عبادت و توحید کا اقرار کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

(ان سے) کہو کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

(139) اے محمد ﷺ آپ یہود ونصاری سے کہہ دیجیے کہ تم ہم سے اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں تنازعہ کرتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے، ہمارے لیے ہمارا دین ہے، تم پر تمہارے اعمال اور تمہارا دین ہے، ہم تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت اور اسی کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

(اے یہود و نصاریٰ !) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے ؟ (اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے اور خدا اس سے غافل نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو

(140) اے یہود ونصاری کی جماعتو ! جیسا کہ تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، ویعقوب (علیہم السلام) اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد یہ سب یہودی یا نصاری تھے، اے محمد ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ کیا تم ان کے دین سے زیادہ واقف ہو یا اللہ سے زیادہ واقف ہے۔ اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس بات سے مطلع فرما دیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، اور اس شخص سے بڑا منکر کون ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور دلیری کرے اور توریت میں جو رسول اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی ہے اس کو چھپائے یہ لوگ جو اس گواہی اور شہادت کو چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہیں۔
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

(141) یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی، اس کے لیے اس کی نیکیاں ہیں اور تمہارے لیے تمہارے نیک کام ہیں، اور وہ جو دنیا میں کام کرتے تھے، بدلہ کے دن تم سے ان کی باز پرس نہیں ہوگی۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے ؟ تم کہہ دو کہ مشرق و مغرب سب خدا ہی کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلاتا ہے

(142) یہود اور مشرکین میں سے جو لوگ جاہل ہیں یہی کہیں گے کہ اس ”بیت المقدس“ کے قبلہ کو انہوں نے اس لیے بدلا ہے، تاکہ اپنے آباؤاجداد کے دین کی طرف لوٹ آئیں اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ کس چیز نے ان کو اس قبلہ ”بیت المقدس“ سے ہٹادیا جس کی طرف یہ منہ کیا کرتے تھے اور جس کی طرف یہ نماز پڑھا کرتے تھے، اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنا اور ”بیت المقدس“ کی طرف جو تم نماز پڑھا کرتے تھے دونوں ہی اللہ کے حکم کے سبب سے تھا، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دین اور درست قبلہ پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”سیقول السفہاء (الخ) ابن اسحاق ؒ ، اسماعیل بن ابی خالد ؒ اور ابو اسحاق ؒ کے ذریعہ سے حضرت براء ؓ سے روایت ہے، کہ حضور اکرم ﷺ بیت المقدس کی جانب مونہہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور حکم الہی کے انتظار میں آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، اس لیے ہم آپ ﷺ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر کردیں گے، جس کے لیے آپ ﷺ کی خواہش ہے پھر اپنا چہرہ مبارک مسجد حرام کی طرف فرمالیجیے، اس کے بعد مسلمانوں میں سے کچھ لوگ کہنے لگے کہ جو لوگ ہم میں قبلہ کی تبدیلی سے پہلے فوت ہوگئے ہیں کاش ہمیں ان کے بارے میں ان کی حالت کا پتا چل جاتا اور ہم نے ”بیت المقدس“ کی طرف منہ کرکے جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کا کیا حکم ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ”وما کان اللہ (الخ) کہ اللہ تعالیٰ ایسے نہیں کہ ایسے نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردیں اور لوگوں میں سے بیوقوف لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس قبلہ سے انہیں کس چیز نے پھیر دیا اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ آیت نازل فرمادی (آیت) ”سیقول السفھاء (الخ) اسی طرح چند دیگر طریقوں سے بھی یہ روایت بھی نقل کی گئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخر الزماں ﷺ تم پر گواہ بنیں اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے اس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کہ کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی ہے (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحب رحمت ہے

(143) اور جیسا کہ ہم نے تمہیں حضرت ابراہیم ؑ کے دین اور ان کے قبلہ کی وجہ سے عزت دار اور مکرم بنایا ہے، اسی طرح اعتدال پسندامت بھی بنایا ہے، تاکہ لوگوں پر ان احکامات کو ظاہر کرنے کے لیے اور حضور اکرم ﷺ تم کو پاک وصاف کرنے اور اعتدال پسند بنانے والے کے لیے گواہ بن جائیں اور جس قبلہ کی طرف آپ نے انیس مہینوں تک (صحیح 16 یا 17 ماہ) نماز پڑھی ہے، اس قبلہ کو تبدیل نہیں کیا ہم مگر اس لیے تاکہ ہم دیکھ سکیں اور (لوگوں کے سامنے) فرق کردیں کہ کون قبلہ کے مسئلہ میں حضور اکرم ﷺ کی بات مانتا ہے اور کون اپنے دین اور قبلہ کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے۔ اور جن لوگوں کے دلوں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی ہے، ان کے علاوہ اور لوگوں پر قبلہ کی تبدیلی بہت گراں اور بھاری تھی اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو باطل نہیں کرتا جیسا کہ دیگر شریعتوں کے منسوخ ہونے سے پہلے ہوا کرتا تھا، ایک یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمانوں کو منسوخ نہیں کرتے بلکہ تمہارے ایمان کی شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ تم نے ”بیت المقدس“ کی طرف منہ کرکے جو نمازیں ادا کی ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں منسوخ اور ضائع نہیں کریں گے بلکہ تمہارا جو ”بیت المقدس ‘ قبلہ ہے اس کو منسوخ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بہت ہی شفقت کرنے والے اور مہربان ہیں ان کے ایمان کو منسوخ نہیں کرتا جیسا کہ نسخ شرائع سے پہلے شان نزول : (آیت) ”وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (الخ) بخاری شریف اور مسلم شریف میں حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ جب ”بیت المقدس“ قبلہ تھا تو اس کی تبدیلی سے پہلے چند صحابہ کرام ؓ انتقال فرما گئے اور کچھ جہاد میں شہید ہوگئے، ہمیں پتہ نہیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، تب یہ آیت نازل ہوتی، (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لو اور تم لوگ جہاں ہوا کرو (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں

(144) تبدیلی قبلہ کے لیے حضور اکرم ﷺ نے جو دعا فرمائی ہے، اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہم آسمان کی طرف آپ کی نظر اٹھانے کو دیکھ رہے ہیں، تاکہ جبریل امین ؑ آپ ﷺ پر تحویل قبلہ کا حکم لے کر آئیں، چناچہ ہم نماز ہی کے اندر میں آپ ﷺ کو ایسے قبلہ کی طرف یعنی قبلہ ابراہیم ؑ کی طرف جس کی آپ ﷺ پسند کرتے ہیں پھیر دیں گے ، لہذا آپ ﷺ اپنے چہرہ کو نماز ہی کی حالت میں مسجد حرام کی طرف موڑ لیجیے اور خواہ تم خشکی میں ہو یا تری میں اپنے چہروں کو نماز میں اسی طرف پھیر لیں۔ اور اہل کتاب (یعنی یہودی) اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حرم محترم حضرت خلیل اللہ کا قبلہ ہے لیکن وہ اس چیز کو خفیہ رکھتے ہیں اور جس چیز کو تم خفیہ رکھتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں اور اگر تم باوجود اسکے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحی خدا) آچکی ہے ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

(145) اور اگر آپ اہل کتاب کے پاس تمام ان معجزات کے ساتھ جن کا انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا ہے آئیں تو وہ نہ آپ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے اور نہ آپ کے دین کو قبول کریں گے اور نہ آپ اہل کتاب کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں اور نہ یہود ونصاری میں سے کوئی بھی فریق ایک دوسرے کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ اور اگر آپ ہماری ممانعت اور اس چیز کے بیان کردینے کے بعد یہ حرم حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ ہے پھر ان کے قبلہ کی طرف مونہہ کرکے نماز پڑھیں گے تو آپ ﷺ اس کام کی وجہ سے اس وقت اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں سے ہوں گے۔
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

(146) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل کتاب میں سے مومنین حضرات کا ذکر فرماتے ہیں کہ جن حضرات کو جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی جن کو ہم نے توریت کے علم سے بہرہ ور کیا ہے وہ حضور اکرم ﷺ کو آپ ﷺ کے اوصاف اور صفات کے ساتھ اس طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ حضور اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو خفیہ رکھتا ہے اس کے باوجود کہ وہ اپنی کتابوں کے ذریعے یہ بات خوب جانتے ہیں کہ آپ اللہ کی جانب سے بھیجے ہوئے ہیں۔
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

(147) آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ لہٰذا اس چیز کے متعلق شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ وہ اس چیز کو جانتے نہیں۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فرقے) کیلئے ایک سمت (مقرر) ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو تم جہاں ہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

(148) اور ہر دین والے کے لیے ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ متوجہ ہوتا ہے۔ ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ہر ایک بنی کے لیے ایک قبلہ اور کعبہ ہے جس کی جانب اسے چہرہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسے محمد ﷺ کی امت تم تمام پہلی امتوں سے زیادہ اطاعت خداوندی کرو۔
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کرلیا کرو بےشبہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو خدا اس سے بیخبر نہیں

(149) خواہ تم خشکی کے علاقہ میں ہو یا دریائی علاقہ میں اللہ تعالیٰ تم سب کو لے آئے گا اور سب کو جمع کرے گا اور پھر تمہیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ دے گا اللہ تعالیٰ تمہارے جمع کرنے اور بدلہ دینے پر قادر ہے، تو تم نماز میں حرم محترم کی طرف چہرہ کرلو، یہ حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ ہے اور حضرت ابراہیم ؑ کے قبلہ کے بارے میں جو کچھ تم خفیہ رکھتے ہو یعنی چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے لاعلم نہیں ہیں۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا کرو) اور (مسلمانو !) تم جہاں ہوا کرو اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو (یہ تاکید) اس لئے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں مگر ان میں سے جو ظالم ہیں (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو

(150) اور جس مقام پر بھی ہو خواہ پانی کا علاقہ ہو یا خشکی کا مسجد حرام کی طرف چہرہ کرلو تاکہ اس قبلہ کی تبدیلی میں حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں پر حجت نہ ہو کیوں کہ ان کی کتاب میں ہے کہ حرم محترم حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ ہے، لہٰذا جب تم اس کی طرف نماز ادا کرو گے تو ان کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت قائم نہیں ہوگی۔ اور نہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی اور مشرکین کے لیے کوئی دلیل ہوگی جنہوں نے اپنی باتوں میں حد سے تجاوز کیا ہے قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں ان سے خوف نہ کھاؤ بلکہ اس امر کے چھوڑنے پر مجھ سے خوف کھاؤ تاکہ قبلہ کے ذریعہ میں اپنے احسانات تم پر پورے کر دوں، جیسا کہ میں نے دین کو تمہارے لیے کامل ومکمل کردیا اور تاکہ قبلہ ابراہیمی کی طرف تمہیں رہنمائی ہو۔ شان نزول : (آیت) ”ومن حیث خرجت“ (الخ) ابن جریر ؓ نے اپنی سندوں کے ساتھ سدی ؓ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ ”بیت المقدس“ کی طرف نماز پڑھنے کے بعد کعبہ شریف کی طرف تبدیل ہوگئے تو مشرکوں نے اہل مکہ سے کہا کہ العیاذ باللہ محمد ﷺ اپنے دین کے بارے میں پریشان ہوگئے تو اپنے قبلہ سے تمہارے قبلہ کی جانب متوجہ ہورہے ہیں اور یہ بات انہوں نے سمجھ لی ہے کہ تم ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہو اور وہ عنقریب تمہارا دین قبول کرلیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ”لئلا یکون للناس (الخ) نازل فرمائی یعنی تاکہ تمہارے مقابلے میں باتیں نہ بنائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (من جملہ نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمہیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں اور ایسی باتیں بتاتے ہیں جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

(151) اور مجھے یاد کرو جس طرح کہ میں نے تمہاری طرف تمہارے ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے، جو تمہارے سامنے قرآن کریم میں جو اوامرو نواہی (کرنے اور نہ کرنے کے کام بتاتا ہے) میں ان کو بخوبی تم پر تلاوت کرتا ہے اور توحید اور زکوٰۃ اور صدقہ کے ذریعے تم لوگوں کو گناہوں سے پاک کرتا ہے اور تمہیں تعلیم دیتا ہے اور قرآن کریم اور حلال و حرام کی تمہیں تعلیم دیتا ہے اور دوسرے احکام وحدود اور گزشتہ حالات سے تمہیں آگاہ کرتا ہے۔ جن حالات سے تم قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ سے پہلے ناواقف تھے۔
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کرونگا اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

(152) اور اطاعت کے ذریعے مجھے بخوبی یاد کرو، میں جنت کے ساتھ تمہیں یاد کروں گا۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ فراخی اور خوشحالی میں مجھے یاد کرو میں تنگیوں اور پریشانیوں میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میری نعمت کا شکر ادا کرو اور اس شکر گزاری کو ہرگز بھی نہ چھوڑو۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

(153) یعنی فرائض خداوندی کی ادائیگی اور گناہوں کے چھوڑنے اور رات دن نفلیں ادا کرنے اور گناہوں کے ختم کرنے پر ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ مددگار اور حفاظت کرنے والا ہے اور صبر کرنے والوں کی مدد کرنے والا ہے۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

(154) بدر، احد اور تمام غزوات کے شہداء کے متعلق منافقین کا جو مقولہ تھا اب اللہ تعالیٰ اس کی تردید فرماتے ہیں یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں شخص مرگیا اور اس سے سرور اور نعمتیں ختم ہوگئیں تاکہ اس چیز سے کاملین کو صدمہ وافسوس ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ بدر اور تمام غزوات میں شہید ہوگئے ہیں وہ دوسرے مرنے والوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ اہل جنت کی طرح جنت میں حیات ہیں، ان کو وہاں طرح طرح کے تحفے ملتے ہیں مگر تم ان حضرات کی کرامت و بزرگی اور ان کی حالت سے واقف نہیں ہو۔ شان نزول : ولا تقولوا لمن یقتل“ (الخ) ابن مندہ ؓ نے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں سدی صیغر ؒ کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ تمیم بن حمام ؓ غزوہ بدر میں شہید ہوگئے تو ان کے بارے میں اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ (آیت) ”ولا تقولوا (الخ) یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کردیے جائیں ان کو برا نہ کہو۔ ابو نعیم ؒ فرماتے ہیں کہ یہ صحابی عمیر بن حمام ؓ ہیں، سدی ؒ ان کے نام میں تبدیلی کردی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:155

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے تو صبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنادو

(155) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس آزمائش کا ذکر فرماتے ہیں جو اس نے مومنین کی آزمائش فرمائی ہے کہ ہم تمہیں دشمن کے خوف قحط سالی اور مالوں کے خاتمہ اور جانوں کے قتل ہوجانے اور مرجانے اور بیماریوں کے لاحق ہونے اور پھلوں کے ختم ہوجانے سے آزمائیں گے۔
Ayah 2:156

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

(156) اور اے محمد ﷺ ان مذکورہ حضرات کو جن کی شان یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے جائیں گے اور اگر ہم اس کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوں گے تو وہ ہمارے عملوں سے خوش نہیں ہوگا۔
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے اور یہی سیدھے راستے پر ہیں

(157) خوشخبری سنا دیجیے، ان ہی خوبیوں کے جو مالک ہیں ان کے لیے دنیا میں مغفرت اور آخرت میں عذاب سے نجات ہے اور (آیت) ”انا اللہ وانا الیہ راجعون“۔ (یعنی اپنا ہر معاملہ اللہ کی ہر بات کے مطابق اس کے سپرد کردینے والے) ہی ہدایت پانے والے ہیں۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے

(158) مشرکین مکہ نے صفا ومروہ پر دو بت رکھے ہوئے تھے اس کی وجہ سے مسلمانوں کو ان کے درمیان دوڑنے میں تنگی اور کراہت محسوس ہوتی تھی اللہ تعالیٰ اب اس کا ذکر فرماتے ہیں۔ کوہ صفا ومروہ کے درمیان سعی ان احکام میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے مناسک حج میں حکم دیا ہے لہٰذا ان کے درمیان سعی کرنے میں کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور جو واجب طواف سے زیادہ طواف کرے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول کرتے ہیں اور وہ تمہاری نیتوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نیک اعمال کی قدر دانی کرنے والے ہیں تھوڑے عمل کو بھی قبول کرلیتے ہیں اور اس پر بہت زیادہ ثواب بھی دے دیتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ان الصفاوالمروۃ“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ اور ان کے علاوہ دوسرے محدثین نے عروہ ؓ حضرت عائشہ ؓ کے ذریعہ سے روایت کی ہے۔ حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے قول (آیت) ”ان الصفا والمروۃ“۔ کے بارے میں کیا کہتی ہیں میں تو یہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی آدمی ان دونوں کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، حضرت عائشہ ؓ نے کہا بھانجے یہ تم نے درست بات نہیں کہی اگر آیت کے یہ معنی ہوتے جو تم کہتے ہو تو (آیت) ”فلاجناح علیہ ان یطوف“ کے بجائے آیت کریمہ میں ان لا یطوف آتا۔ اور یہ آیت اس طرح نازل کی گئی ہے کہ انصار مشرف بہ اسلام ہونے سے پہلے منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے لہٰذا جب وہ احرام باندھتے تو صفا ومروہ پہاڑی پر دوڑنا برا سمجھتے تو اس کے متعلق انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم زمانہ جاہلیت میں صفا ومروہ پر سعی کرنے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم فرمایا کہ بیشک صفا ومروہ منجملہ یادگار خداوندی ہیں لہٰذا جو شخص حج کرے یا عمرہ کرے، اس پر کچھ بھی گناہ نہیں، ان دونوں کے درمیان سعی کرنے میں۔ اور حضرت امام بخاری ؒ نے عاصم بن سلیمان ؒ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا اور کہا کہ ہم ان کے درمیان سعی کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے سمجھتے تھے جب ہم نے اسلام قبول کیا تو ہم اس سے رک گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ”ان الصفا“۔ (الخ) نازل فرمائی اور امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ شیاطین زمانہ جاہلیت میں صفا ومروہ کے درمیان رات کے وقت دوڑتے تھے اور ان دونوں پہاڑوں کے درمیان بت رکھے ہوئے تھے جب اسلام کی نعمت آئی تو مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم صفا ومروہ کے درمیان سعی نہیں کریں گے کیوں کہ ہم یہ کام زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

(159) اوامرو نواہی (نیک کام کرنے اور برے کام نہ کرنے) اور علامات نبوت توریت میں بیان کردینے کے بعد اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی صفت بنی اسرائیل کے لیے توریت میں بیان ہونے کے بعد جو لوگ ان چیزوں کو چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب قبر دے گا اور جنوں و انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات خداوندی جب قبر میں سے انکی آوازوں کو سنے گی تو ان پر لعنت بھیجے گی۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین یکتمون ماانزلنا (الخ) حضرت ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے سعید یا عکرمہ ؓ کے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں معاذ بن جبل ؓ سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید ؓ نے یہود کے علماء سے توریت کی بعض باتوں کے بارے میں پوچھا تو ان یہودیوں نے ان حضرات سے ان باتوں کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی اور ان کے بیان کرنے سے اعراض کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”ان الذین یکتمون ماانزلنا (الخ) (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الٰہی کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

(160) مگر جن حضرات نے یہودیت سے توبہ کی اور توحید کے قائل ہوگئے اور حضور اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف کو بیان کیا تو میں ایسے لوگوں کو معاف کروں گا اور میں توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہوں اور جو توبہ کے بعد مرے اس پر رحم کرتا ہوں۔