Ayah 4:171ترکیب : الا الحق یہ مفعول ہے تقولوا کا ‘ ای ولا تقولوا الا القول الحق۔ المسیح مبتداء عیسیٰ بدل یا عطف بیان رسول اللّٰہ خبر وکلمتہ اس پر معطوف القہا الی مریم کلمۃ سے حال اور عامل معنی کلمہ وروح منہ معطوف ہے خبر پر یہ تین خبریں ہیں۔ ثلثۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے لا تقولوا الہنا ثلثۃ انما اللّٰہ مبتداء الہ واحد خبر۔
تفسیر : جبکہ یہود کے متعلق کلام ہوچکا تو اب نصاریٰ کی طرف التفات کیا جاتا ہے کیونکہ جس قدر یہود کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نسبت تفریط تھی اسی قدر عیسائیوں کو ان کی نسبت افراط تھی۔ ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہتے تھے۔
فرماتا ہے کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو اور تعصب نہ کرو سب سے اول یہ ایک ایسی بات فرمائی کہ جس کے تسلیم کرنے میں کسی کو بھی تردد نہیں ہوسکتا۔ کس لئے کہ غلو اور تعصب عقلاً ممنوع ہے۔ یہ تمہید تھی اور بلاغت کا بھی مقتضٰی و کمال بھی ہے اور اسی کو حسن الاستدلال کہتے ہیں کہ اولاً ایک ایسا مقدمہ پیش کیا جاوے کہ جس کا مخاطب انکار نہ کرسکے۔ پھر اسی مسلمہ مقدمہ سے اس کو قائل کردیا جاوے۔ اس کے بعد دوسرے جملہ کی تائید میں بطور تمہید کے ارشاد ہوتا ہے کہ ولا تقولوا علی اللّٰہ الا الحق کہ اللہ کی ذات وصفات کی بابت حق بات کے سوا اور کوئی بات نہ کہا کرو کس لئے کہ خدا اور اس کے صفات غیر محسوس ہیں وہاں وہم و خیال کو رسائی نہیں۔ اس کا مخلوق پر قیاس کرنا غلط قیاس ہے۔ اس کے بعداصل مقصد میں کلام شروع ہوتا ہے اور ان کو ان عقائدِ فاسدہ سے روکا جاتا ہے جو وہم و خیال پر بنے تھے جس لئے ان میں غلو بھی تھا اور حق کے یہی خلاف بھی تھا۔ اس جملہ میں یہود و نصاریٰ دونوں کی طرف روئے سخن ہے۔ ان کو خدائے کی قدرت کاملہ کا کرشمہ نہ سمجھنا اور عادت کے خلاف توالد سے حرامی اور غلو سمجھ لینا بھی خلاف حق ہے اور اسی بات سے ان کو خدا کا بیٹا سمجھ لینا بھی خلاف حق اور غلو ہے بلکہ ان المسیح عیسیٰ ابن مریم الخ مسیح جس کو عیسیٰ کہتے ہیں وہ مریم کے بیٹے ہیں نہ خدا کے۔ اور اس کے رسول ہیں اور نہ خدا نہ اس کے فرزند نہ حرامی۔ اور اس کا کلمہ بھی ہے جس کو مریم کی طرف بھیجا تھا اور اسی کی طرف کی روح بھی ہیں۔ اس جگہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے چند وصف بیان فرمائے : پہلا وصف یہ کہ وہ ابن مریم ہیں۔ یہ بات چونکہ سب کے نزدیک مسلم تھی مگر باپ کا نام نہ بیان کیا۔ کس لئے کہ یہ امر متنازع فیہ تھا یہود ان کو معاذاللہ حرام کہتے تھے۔ عیسائی ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہتے تھے اور یہ عقیدہ حواریوں کے بعد عیسائیوں میں غالباً پولوس کے اشارات سے پیدا ہوا تھا۔ دوسری صدی عیسوی میں اکثر کلیسائیوں میں یہ عقیدہ ذہن نشین ہوگیا تھا اور ان میں ہزاروں سچے دیندار جو قدیم طریق حواریوں کے پابند تھے اس کو نہیں مانتے تھے۔ چناچہ آرپوس وغیرہ محققین نے اسکندریہ میں اس عقیدہ کا بڑے زور سے بطلان کیا اور اس کے بعد بھی یونی ٹیرین وغیرہ فریق منکر ہیں مگر زیادہ تر گروہ پولوس کے مریدوں کا پھیل گیا جن کا یہ عقیدہ تھا (اور آنحضرت ﷺ کے عہد میں کلیسائی عرب کا بھی یہی عقیدہ تھا) قرآن نے دونوں قوموں کو غلط ٹھہرایا اور امر حق کو ظاہر کردیا کہ نہ وہ حرامی تھے نہ خدا کے فرزند بلکہ وہ اس کے کلمہ اور اس کی طرف کی روح تھے جو محض کلمہ کن کے کہنے سے پیدا ہوگئے تھے اور اس نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کو مریم کے پیٹ سے بےباپ پیدا کردیا تھا۔ کلمتہ 1 ؎ و روح منہ کے یہی معنی ہیں۔ دوسرا وصف رسول اللہ کہ وہ خدا کے رسول ہیں اس
1 ؎ نیچری کہتے ہیں کہ مسیح کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قرآن سے بھی ثابت نہیں۔ میں کہتا ہوں عقلاً بھی ممکن ہے اور نقلاً بھی ثابت ہے۔ عقلاً تو یوں کہ آپ نے مٹی سے سینکڑوں جاندار پیدا ہوتے بارہا دیکھے ہوں گے۔ پھر مریم کے پیٹ میں ذی روح کے پیدا ہوجانے سے کیا محال لازم آسکتا ہے اور نقلاً یوں کہ علاوہ انجیل متی کے قرآن مجید کی بھی متعدد آیات سے مطلب ثابت ہوتا ہے ازانجملہ یہی آیت ہے کیونکہ کلمتہ القہا الی مریم کے یہی معنی ہیں کہ خدا نے اس کلمہ کو مریم کی طرف ڈالا نہ یوسف نجار یا کسی اور نے پھر اس سے زیادہ کیا صراحت ہوگی ؟ 12 منہ
روح منہ بھی اسی مطلب کو ادا کر رہا ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر ان کی کیا خصوصیت تمام لوگ روح منہ ہیں۔ ازانجملہ ان مثل عیسیٰ عنداللہ مثل آدم میں امکان عقلی کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ یہود حضرت آدم (علیہ السلام) کا بغیر باپ بلکہ بےماں کے بھی صرف قدرت کاملہ سے پیدا ہونا مانتے تھے۔ اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے آدم کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اس نے مسیح کو بھی بغیر باپ کے پیدا کردیا۔ جو اول سے آسان تر ہے پھر جب اس کو مانتے ہو تو اس کو کیوں نہیں مانتے ؟ معترض نزاع میں بغیر دلیل کے یہودی منکروں کے روبرو یوں کہہ دینا کہ عیسیٰ بےباپ کے پیدا ہوئے جیسا کہ نیچری صلاح دیتے ہیں عین حمق تھا۔ حقانی
میں یہود کا بھی رد ہے کہ وہ ان کو خدا کا رسول نہیں سمجھتے تھے بلکہ معاذ اللہ جھوٹا اور جادوگر کہتے تھے اور نصاریٰ کا بھی رد ہے کیونکہ وہ ان کو خدا کہتے تھے کہ خدا نے مریم کے پیٹ میں حلول کیا ہے اور وہ انسانی صورت میں ظاہر ہوا ہے جس طرح کہ ہنود اوتاروں کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور یہ رد اس لئے ہوا کہ رسول ہونا تو عیسائی بھی تسلیم کرتے ہیں اور تمام بشریت کی باتیں کھانا پینا ‘ عبادت کرنا سب ان میں مانتے ہیں اور یہ بدیہی بات ہے کہ صفات بشریہ خواہ عمدہ ہوں جیسا کہ رسالت و عبادت خواہ ادنیٰ ہوں جیسا کہ کھانا پینا اوصاف الوہیت سے برخلاف ہیں ‘ جیسا کہ غلامی من حیث غلامی اور خاوندی من حیث خاوندی دونوں وصف ضد ہیں جس طرح کہ آگ اور پانی کے اوصاف حرارت و برودت۔ اور یہ بھی بدیہی ہے کہ اوصاف متضادہ ایک ذات میں جمع نہیں ہوسکتے جس سے لازم آیا کہ وہ خدا نہیں ہوسکتے۔ کس لئے کہ انتفاء لازم سے انتفاء ملزوم ہوجایا کرتا ہے۔ تیسرا وصف کلمتہ کہ وہ خدا کے کلمہ ہیں انجیل یوحنا کے اول میں یوں ہے ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔
(2) ابطال تثلیث : یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اس میں موجود ہوئیں اس کے معنی جس طرح عیسائی سمجھتے ہیں اس سے تو یہ کلام بےمعنی ہوجاتا ہے کیونکہ وہ تھا کی ضمیر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف پھیرتے ہیں جس کے معنی کہ ابتداء میں مسیح کلام تھا اور یہ ظاہر ہے کہ کلام خدا خدا نہیں ہوسکتا مگر چونکہ قرآن نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو کلمہ کہا اس کی تفسیر سے آیت یوحنا کا بھی صحیح مطلب نکل آتا ہے۔ کلمہ اصلاح میں اس لفظ کو کہتے ہیں کہ جو کسی معنی مفرد کے لئے وضع کیا جاوے خواہ وہ اسم ہو خواہ فعل خواہ حرف اس صورت میں کلمہ کن اعنی ہوجا بھی کلمہ ہے کیونکہ صیغہ امر ہے اور اگر اس کے فاعل انت کا لحاظ کرلیا جاوے تو یہی کلام بھی ہوجاوے گا کیونکہ کلمات سے مرکب کا نام کلام ہے بشرط اسناد۔ اس تقدیر پر کلمتہ اور کلام تھا میں کچھ فرق نہ رہا مگر اس کلمہ یا کلام سے یہ کلمہ و کلام مراد نہیں جو زبان سے ادا کئے جاتے ہیں بلکہ کلام نفسی اور امر تکوینی جو اس کا ایک وصف ہے یعنی خدا تعالیٰ نے کن کہا اور اس کلمہ یعنی حکم کو مریم کی طرف ڈالا جس سے حضرت مسیح (علیہ السلام) پیدا ہوگئے۔ غرض کہ وہ صرف کلمہ کن سے بلاتوسط اسباب پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے باعتبار اطلاق السبب علی المسبب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو کلمہ کہا جاتا ہے اور یوحنا جو کہتا ہے کلام خدا کے ساتھ تھا۔ اس سے وہ سبب یعنی وصف باری تعالیٰ مراد لیتا ہے نہ مسبب یعنی حضرت مسیح اور یہ صاف ہے کہ اس کا وصف ازل میں اس کے ساتھ تھا اور بقول حکماء اس کے وصف عین ذات ہیں ٗ لہٰذا کلام خدا بھی ہوسکتا ہے اور پھر تمام عالم کی تکوین اسی وصف سے ہوئی مگر عیسائیوں کو یہ دھوکا ہوگیا کہ وہ دونوں جگہ کلام سے ایک مراد یعنی سبب لیتے اور پھر غلط کردیتے ہیں جس سے تعارض کلام میں پیدا ہوتے ہیں۔ چوتھا وصف روح منہ اس کے چند معانی ہیں : (1) عرب کی عادت تھی کہ جب وہ پاکیزگی اور طہارت و لطافت میں کسی چیز کی صفت کرتے تھے تو اس کو روح کہتے تھے یعنی چونکہ مسیح کو بغیر باپ کے محض نفخ جبرئیل (علیہ السلام) سے خدا نے پیدا کیا تھا تو اس لطافت کے واسطے ان کو روح اللہ کہتے تھے اور منہ اضافت تفصیل کے لئے ہے جیسا کہ بولتے ہیں نعمۃ من اللہ اور بادشاہ جس نوکر کی مدح کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارا نوکر یعنی خاص اور معزز نوکر ورنہ یوں سب ہی روح اللہ ہیں (2) چونکہ حضرت مسیح لوگوں کی حیات اخرویہ کا باعث تھے اس لئے ان پر روح کا اطلاق ہوا جس طرح کہ قرآن مجید کو روح کہا گیا وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا (3) روح وریح عرب کی زبان میں قریب المعنی ہیں جس کو ہندی میں پھونک کہتے ہیں یا سانس چونکہ جبرئیل کے پھونکنے سے مسیح پیدا ہوئے تھے اس لئے ان کو روح کہتے ہیں۔ ان چاروں اوصاف کے بعد پھر تصریح کرتا ہے کہ امنوا باللّٰہ و رسولہ کہ اللہ اور اس کے رسول مسیح پر ایمان لائو جو ان کو خدا کہتے ہیں دراصل وہ رسالت کے منکر ہیں اسی طرح جو حرامی کہتے ہیں وہ بھی رسالت کے منکر ہیں۔ ان سب کے بعد امر حق کی تصریح کرتا ہے ولا تقولوا ثلاثۃ کہ تثلیث سے باز آئو کیونکہ انما اللّٰہ الہ واحد کہ وہ ذات واحد لا شریک ہے جب تثلیث کے قائل ہوئے کہ خدا اور روح القدس اور عیسیٰ مل کر ایک خدا ہو تو توحید کہاں رہی کس لئے کہ اگر یہ تینوں ذوات مستقلۃ ہیں تو پھر ایک ہونا گویا جمہوری خدائی قائم کرنا ہے۔ اگر غیر مستقلہ ہیں تو ان تینوں میں سے جس کو اب یعنی باپ کہتے ہو جس سے خدا مراد ہے وہ بھی معاذاللہ غیر مستقل ہوجاوے گا۔ تثلیث کے بطلان کے بعد مسیح کی ابنیت کو باطل کرتا ہے سبحان ان یکون لہ ولد وہ اس بات سے پاک ہے کہ کوئی بیٹا ہو کس لئے ابطال ابنیت کہ لہ ما فی السموات وما فی الارض کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔
Ayahs 4:172–173ترکیب : ان یکون ای عن یکون ولا الملئکۃ موصوف المقربون صفت مجموعہ کا عطف المسیح پر ہے اور کلام میں حذف ہے ای یکونوا عبدا۔
تفسیر : سب اسی کا ہے اس کو ضعف و پیری ‘ بےکسی کہاں جو بیٹے کی ضرورت پڑے بلکہ کفی باللّٰہ وکیلا کہ وہ اپنے تمام کام کرنے کے لیے کافی ہے۔ پھر بیٹے کی کیا حاجت۔ ان آیات میں جس طرح اس صاف مطلب کی طرف اشارہ ہے اسی طرح ایک باریک دلیل کی طرف بھی اشارہ ہے کہ لہ مافی السموات الخ سب کچھ اس کی خاص ملک ہے۔ اگر کوئی بیٹا ہوگا تو ضرور باپ کا مثل ہوگا اور باپ تو کبھی نہ مرے گا سو بیٹے کے لئے بھی کوئی جداگانہ آسمان و زمین اور وہاں کی بادشاہی چاہیے ورنہ باپ کا مثل نہ رہے گا اور جو اسی میں وہ بھی شریک ہوگا تو یہ تخصیص کہ لہ ما فی السموات وما فی الارض میں لہ کے مقدم کرنے سے سمجھی جاتی ہے۔ فوت ہوجاوے گی حالانکہ اس کو عقل تسلیم کرچکی ہے اس کے بعد ایک اور صاف طور سے مسیح کی الوہیت باطل کرتا ہے اور عیسائیوں کو جو وجہ اشتباہ پیش آتی تھی اس کو بھی بیان فرماتا ہے لن یستنکف المسیح الخ کہ مسیح کو اس کی عبادت سے ہرگز عار نہ تھا کیونکہ تم خود مقر ہو کہ وہ رات بھر زیتون کی پہاڑی پر اس کی عبادت کیا کرتے تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ عبادت ناسوتی مرتبہ میں نہ تھی بلکہ لاہوتی اور ملکوتی مرتبہ میں کس لئے کہ روحانیت میں مسیح ملائکہ مقربین سے بڑھ کر نہ تھے جو نہ ماں سے پیدا ہوئے ہیں نہ باپ سے ‘ نہ کبھی کھاتے ہیں نہ پیتے۔ پھر جب ان کو عار و انکار نہیں تو ان کو کیوں ہونے لگا ؟ علاوہ اس کے جو کوئی اس کی عبادت سے عار و انکار کرتا ہے وہ پکڑا بھی جاتا اور اس کے بارگاہ جلال میں حاضر کیا جاتا ہے۔ پس جب عبادت کرنا پایا گیا تو وہ خدا نہ تھے بلکہ اس کے بندے۔ چونکہ عبادت سے عار کرنے کا ذکر آگیا تھا اس لئے دربار کبریائی میں سرخروئی اور سزایابی کا بیان فرماتا ہے اور ایمان اور عبادت کی رغبت کس خوبی سے دلاتا ہے کہ جو ایمان لایا اور اس نے اچھے کام بھی کئے تو ہم ان کا پورا بدلہ دیں گے اور اس پر اپنی طرف سے علاوہ بدلہ کے اور بھی اپنے فضل سے زیادہ دیں گے اور جو ہم سے عار و انکار کرتے ہیں ہم ان کو عذاب الیم میں مبتلا کریں گے۔ پھر نہ ان کو اس رنج دائمی کے قید خانہ سے بھاگنے کی جگہ ملے گی نہ کوئی حمایتی کھڑا ہوگا نہ طرفدار ومن یستنکف میں ایک لطیف سا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ خواہ مسیح ہو خواہ کوئی اور پیغمبر یا فرشتہ کس نے جان پائی ہے کہ جو ہماری غلامی اور بندگی سے سرتابی کرے منصب خدائی تو درکنار ذرہ بھر سرتابی کی بھی کسی کو مجال نہیں۔
Ayahs 4:174–175ترکیب : من ربکم صفت ہے برھان کی فسید خلہم جواب اما صراطا موصوف مستقیما صفت مجموعہ مفعول ثانی ہے یہدی کا۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ منافقین اور کفار عرب اور یہود و نصاریٰ وغیرہم باطل فرقوں پر حجت قائم کرچکا اور ان کے شبہات باطلہ کا جواب باصواب دے چکا تو اعلان عام کرکے تمام بنی آدم کو حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے کہ یا ایہا الناس قد جاء کم برھان من ربکم کہ لوگو تمہارے پاس خدا کی برہان آچکی ہے۔ برہان سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ برہان کہتے ہیں دلیل کو آنحضرت ﷺ کا وجود مبارک اور آنحضرت ﷺ کا بیان اور معجزات اور رویہ تمام عالم کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے حجت قاطعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ مجسم حق تھے۔ آپ کے بعد پھر آپ کے برخلاف طریقہ اختیار کرنا صریح حق کا خلاف کرنا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے نہ تنہا اپنے وعظ و پند سے بنی آدم کی ڈوبتی کشتی کو تھام لیا تھا بلکہ اپنے ایک ایک حرکات و سکنات کو ہدایت و نیک روی ‘ بردباری ‘ صلہ رحمی ‘ خدا پرستی کے لئے سچا نمونہ بنا دیا۔ آنحضرت ﷺ کے عہد سے پہلے کتب تواریخ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گمراہی اور ہر ایک قسم کی بدکاری اور شرک سے دنیا کی تمام قومیں آلودہ تھیں لیکن جب اس آفتاب ہدایت نے طلوع کیا تو عالم کو منور کردیا اور نہ صرف نبی برحق تمہارے پاس آئے بلکہ ہم نے اس کے ساتھ اس سلسلہ ہدایت کو ہمیشہ قائم کرنے کے لئے انزلنا الیکم نورا مبینا صاف نور اور کھلا ہوا یعنی قرآن مجید بھی نازل کیا ہے۔ قرآن کا نور مبین ہونا بھی دنیا کے منصف اور روشن دماغوں نے تسلیم کرلیا ہے جس قدر آج کل دنیا میں الہامی کتابیں کہلاتی ہیں۔ اگر کوئی ذرا انصاف کرکے ان سے قرآن کے مضامین روح افزا توحید و عبادت ‘ عالم آخرت کی رغبت ‘ خدا کی تنزیہ و تقدیس ‘ نیک روی ‘ تمدن کے اصول وغیرہ کو مقابلہ کرکے دیکھے گا تو بےساختہ نور مبین ہونے کا مقر ہوجاوے گا۔ وہ جو سینکڑوں برس میں حضرت موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب نے دنیا میں خدا پرستی نہ پھیلائی تھی جو چند برسوں میں قرآن نے اطراف عالم کے بت پرستوں ‘ دہریوں ‘ شہوت پرستوں ‘ درندوں کو فرشتہ بنا دیا یہ بات تاریخ سے بخوبی ظاہر ہوسکتی ہے۔
اس کے بعد یہ فرماتا ہے کہ ہم نے دنیا میں برہان اور نور مبین بھیج دیا پھر جو اس کو مان کر اللہ پر ایمان لائیں گے اور اس کو مضبوط پکڑیں گے یعنی اس کی ذات پر تکیہ اور توکل کریں گے یا یہ مراد کہ شریعت محمدیہ اور قرآن کو جس نے مضبوط پکڑا ( یہ اس لئے فرمایا کہ صرف ایمان لانا کافی نہیں بلکہ اس پر قیام اور استقامت بھی ہو) ان کو اللہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ دکھائے گا۔ رحمت اور فضل سے مراد جنت اور حیات جاودانی ہے کیونکہ جنت اس کی رحمت کا مظہر ہے اور فضل میں ولدینا مزید کی طرف اشارہ ہے ویہدیہم کے ساتھ الیہ یعنی اپنی طرف ہدایت کرنا اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ انبیاء اور کتابیں اس معشوق حقیقی کے کہ جو پردہ حسی میں ہے پیامبر ہیں۔
Ayah 4:1761 ؎ کلالہ وہ مرد یا عورت کہ جو نہ ماں باپ چھوڑے نہ اولاد صرف بہن بھائی وارث چھوڑے ایسی صورت میں اگر بھائی مرجاوے تو اس کی ایک بہن کو آدھا ترکہ اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو سب کو دو تہائی اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو مرد کو دوچند عورت سے اور اگر بہن مرجائے تو سب بھائی کا ہے بشرطیکہ اس کا شوہر نہ ہو۔ 12 منہ
ترکیب : فی الکلالۃ متعلق ہے یفتی سے امر مرفوع بسبب فعل کے کہ جس کی تفصیل ھلک کر رہا ہے۔ لیس لہ ولد جملہ ھلک سے حال ہے اسی طرح ولہ اخت فلہا الخ جواب ان۔
تفسیر : جس طرح اس سورة کے اول میں احکام بیان فرمائے گئے ہیں اسی طرح اس کو تمام بھی مسائل ہی پر کیا تاکہ اول کو آخر کے ساتھ ربط ہوجائے کلالہ کے بارے میں اول بھی اس سورة میں حکم ہوا تھا جو سردی کے موسم میں نازل ہوئی تھی اور یہاں بھی اور یہ گرمی کے موسم میں آیت نازل ہوئی۔ کلالہ اس میت کو کہتے ہیں کہ جو نہ ماں باپ چھوڑ کر مرے نہ اولاد اور اس وارث کو بھی کہتے ہیں کہ جو نہ میت کے ماں باپ میں سے ہوں نہ اولاد میں سے یہ کَل سے مشتق ہے جس کے معنی بوجھ کے ہیں۔ چونکہ اس قسم کے شخص کو آدمی اپنی کفالت اور وارثت میں بوجھ اور بار طبع سمجھتا ہے اس لئے اس کو کلالہ کہتے ہیں۔ (1) اس آیت میں کلالہ سے وہ میت مراد ہے جو صرف ایک بہن چھوڑ کر مرے اس کی بہن کے لئے نصف ملے گا۔ گرچہ آیت میں لیس لہ ولد ہے کہ میت کے اولاد نہ ہو مگر بحکم اجماع ماں باپ بھی نہ ہوں تب بہن اگر اکیلی ہے تو نصف لے گی۔
(2) اگر اسی طرح لاولد بہن مرے اور اس کے ماں باپ بھی نہ ہوں تو بھائی کل مال کا وارث ہوگا۔
(3) اور اگر اسی قسم کے میت کے دو بہنیں ہوں تو دو تہائی مال ان کا باقی اور وارثوں کا۔
(4) اگر کئی بہن بھائی یا ایک بہن ایک بھائی کلالہ نے چھوڑے تو فلذکر مثل حظ الا نثیین دوہرا حصہ بھائی کا اور اکہرا بہن کا قرار پاوے گا اور باہم اس حساب سے تقسیم ہوجاوے گی۔ اس جگہ بہن بھائی سے عینی یا علاتی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کیونکہ اخیافی بہن بھائی کا حق چھٹا حصہ ہے جو پہلے آچکا۔ اس کے بعد تمام شرائع بیان کرنے کی حکمت بیان فرماتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہوجائو اس لئے ہم احکام بیان کرتے ہیں اور ان کے اسرار بھی ہم جانتے ہیں کیونکہ واللّٰہ بکل شیء علیم وہ ہر چیز جانتا ہے جو کچھ وہ فرماتا ہے ٹھیک فرماتا ہے۔