4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 4:84–85

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

پس اللہ کی راہ میں لڑو (اے نبی ! ) آپ پر بجز اپنی ذات کے کسی کی ذمہ داری نہیں اور مسلمانوں کو ابھارو۔ عجب نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کو روک دے اور اللہ کی سب سے زیادہ سخت لڑائی اور سخت سزا ہے

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کوئی نیک کام کی سفارش کرتا ہے (تو) اس میں سے اس کو (بھی) ایک حصہ ملتا ہے اور جو کوئی برے کام کی سفارش کرتا ہے تو اس پر (بھی) اس کے وبال کا (ایک) حصہ ہوتا ہے اور اللہ تو ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔

ترکیب : فقاتل میںعاطفہ ہے فلیقاتل فی سبیل اللہ پر یاقاتلوا پر۔ لاتکلف حال ہے فاعل ‘ قاتل سے الا نفسک مفعول ثانی ہے لاتکلف کا اور اول ضمیر مخاطب ہے بأساو تنکیلا تمیز ہیں واللّٰہ اشد سے من یشفع شرط یکن لہ نصیب منہا جواب مقیتا میں ی و سے بدل ہے جو اصل میں مفعل ہے قوت سے۔ تفسیر : پہلی آیت میں مذکور تھا کہ منافق بلا تحقیق خبریں اڑایا کرتے ہیں کہ فلاں قوم مسلمانوں پر چڑھ کر آتی ہے۔ انہوں نے ایسی تیاری کی ہے تمام عرب اب عنقریب مدینہ کو آکر غارت کردیں گے جن سے پیشتر عام مسلمانوں کے دلوں میں خلجان پیدا ہوتا تھا اور ایک قسم کی پست ہمتی جو عادتاً انسان کو اپنی بےسرو سامانی اور مخالفین کے سامان اور انبوہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں لڑو ‘ شر و فتنہ کے مٹانے پر اس کے توکل پر کمر ہمت باندھو اور اگر کوئی آپ کا ساتھ نہ دے تو کچھ پروا نہیں کیونکہ تم اور کسی کے ذمہ دار نہیں خدا کے اس وعدہ کے اعتماد پر جو اس نے اپنے رسول سے کیا تھا تن تنہا آنحضرت ﷺ روئے زمین کے مشرکوں اور بت پرستوں کی بت پرستی مٹانے اور لڑنے پر آمادہ ہوئے۔ چناچہ بدر صغریٰ میں ابو سفیان کے مقابلہ میں تنہا نکلے۔ پیچھے دیکھا تو صرف ستر آدمی ساتھ آرہے تھے اور کتاب یسیعیاہ میں چونکہ اس بات کی طرف اشارہ ہے اور زبور میں بھی اگر اس بےسرو سامانی پر یہ عزم و ہمت آپ کی طرف سے اس اعتماد پر نہ تھی تو عادتاً کوئی عقلمند ایسا قصد بھی نہیں کرسکتا اور آپ کے سچے عزم کا اثر صحابہ کے دل میں بالخصوص ابوبکرصدیق ؓ کے دل میں پیدا ہوا کہ آپ کے بعد عربوں کی تھوڑی سی جمعیت سے ہرقل شاہ روم کا مقابلہ کیا کہ جو اس وقت یورپ اور ایشیا کے اکثر ملکوں کا بادشاہ تھا۔ پھر یہ فتوحات اگر اس وعدہ الٰہی کا نمونہ نہ تھا تو اور کیا بات تھی۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کو بھی جہاد کی ترغیب دینے کا حکم دیا گیا کیونکہ یہ نیک کام ہے اس لئے کہ اس جہاد کا منشائِ اصلی دنیا کو بدی سے پاک کرنا اور زمین پر آسمانی سلطنت قائم کرکے شر و فساد مٹانا ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر اور کون سا نیک کام ہوگا ؟ اور جو کوئی نیک کام میں رغبت دلاتا یا سفارش کرتا ہے تو اس کو بھی اس میں سے ثواب کا حصہ ملتا ہے جس طرح کہ بری بات کے لئے رغبت دلانے اور سفارش کرنے والے کو بری بات کا حصہ ملتا ہے۔ عسی اللّٰہ اپنے رسول سے وعدہ کرتا ہے کہ ہم عنقریب کفار کے شر کو روک دیں گے۔ آنحضرت ﷺ کی ترغیب اور خدا کے وعدہ کے اثر نے یہ کیا کہ تخمینا ایک صدی کے اندر ہی اندر دنیا پر کوئی ایسی بت پرست و کافر سلطنت باقی نہ رہی کہ جو آسمانی سلطنت کا مقابلہ کرسکے۔ ادھر جبل الطارق سے لے کر چین تک ادھر کوہ قاف اور آذربائیجان سے لے کر افریقہ تک بڑے بڑے ملک اس جھنڈے کے تلے آگئے جو مدینہ میں خدا نے قائم کیا تھا۔ اب اس سے بڑھ کر اور کون سا معجزہ اور کون سی دلیل ثبوت نبوت کے لئے ہوسکتی ہے۔ باس جنگ اس سے مراد مخالفوں کا زور اور ان کی لڑائی اور عذاب ہے۔ نکال عذاب و سزا شفاعت شفع سے مشتق ہے جس کے معنی دو ہوجانے کے ہیں۔ شفیع چونکہ ذوحاجت کے شریک ہو کر اپنے آپ کو اس کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ اس کو شفیع کہتے ہیں۔ مقیت کے معنی قادر کے بھی ہیں جیسا کہ نضر بن شمیل شاعر کہتا ہے ع تجلد ولا تجزع وکن ذا حفیظۃ فانی علی ما ساء ھم لمقیت اور یہ قوت سے مشتق ہو کر بمعنی حفیظ بھی آتا ہے۔ یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 4:86–87

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) جب تم کو کسی طرح پر بھی سلام کیا جاوے تو تم بھی (اس کے جواب میں) اس سے بہتر طور پر سلام کردیا وہی (کلمہ) جواب میں لوٹا دو بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

اللہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ وہ تم کو قیامت کے دن جمع کرکے رہے گا اور اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہوسکتی ہے۔

ترکیب : واذا حییتم شرط تحیۃ اصلہ تحیۃ تفعلۃ من حیث ی کی حرکت نقل کرکے ح کی طرف آئی ٗ باہم ادغام ہوگیا۔ فحیوا جواب اس کی اصل حییوا تھی۔ لجمعنکم جواب ہے قسم محذوف کا پھر یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور مبتداء کی دوسری خبر بھی بن سکتا ہے فما مبتداء لکم خبر فی المنافقین متعلق ہے محذوف سے اے اصر تم فئتین اس محذوف کی خبر۔ تفسیر : فقاتل فی سبیل اللّٰہ میں جس طرح کہ شرک و فساد مٹانے کے لئے لڑنے کی تاکید تھی اسی طرح اس کے ساتھ یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ یہ لڑائی صرف اپنے موقع پر ہے اور خاص حقوق الٰہی کے لئے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ تم اپنے اخلاق اور معاشرت میں درندہ پن اختیار کرو۔ گاہ بیگاہ جس کو پائو مار ڈالا کرو۔ بات پیچھے کرو لڑنے کو پہلے آمادہ ہوجائو۔ خرانٹ نہ بن جائو۔ (جیسا کہ مخالفین اسلام ٗ اسلام کی بعض وحشی قوموں سے آج کل اسلام پر عیب لگایا کرتے ہیں) بلکہ اس کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی اور حلم و تواضع کی بھی عادت کرو یہاں تک کہ جب تم کو کوئی سلام کرے تو تم بھی اس کو اسی طرح سے سلام کرو یا اس سے عمدہ اور بڑھ کر جواب دو تاکہ تم سے اس کو وحشت دور ہو اور لوگ تم سے احکامِ الٰہی اور اخلاق حمیدہ کی تعلیم پانے کا قصد کریں۔ تحیہ دعائے حیات کرنا ٗ عرب کا اسلام سے پہلے باہمی بجائے سلام علیکم کے حیاک اللہ کہنے کا دستور تھا جیسا کہ ہر ایک قوم میں ایک دستور ہے۔ چونکہ زندگی بغیر عافیت کے کوئی اچھی چیز نہیں اور لفظ سلام میں سلامتی اور عافیت دارین کی بھی دعا ہے اور نیز یہ اللہ کا بھی نام ہے اور نیز اس میں تسلیم یعنی فروتنی کی طرف بھی اشارہ ہے اور مذہب اسلام کی طرف بھی رمز ہے۔ اس لئے اس کی جگہ السلام علیکم کہنا قرار پایا خواہ السلام علیکم کہو خواہ سلام علیکم۔ اس کا اسی طرح سے رد کرنا تو وعلیکم السلام کہنا ہے اور بہتر طرح سے رد کرنا یعنی جواب دینا وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے پاس جب کفار آتے تو آپ کے اخلاق اور فروتنی سے از حد خوش ہو کر جاتے تھے۔ اسی شمشیر اخلاق نے عرب کے وحشیوں کو چند روز میں مسخر کرلیا تھا اور پھر صحابہ کا بھی یہی دستور تھا۔ کتب تاریخ اس پر شاہد ہیں۔ ان اخلاق حمیدہ کی تاکید کے لئے دو باتیں ذکر فرمائیں ان اللّٰہ کان علی کل شیء حسیبا دوسری اللّٰہ لا الہ الخ اس میں سے اللّٰہ الا الہ الا ھو میں توحید اور لیجمعنکم الی یوم القیامۃ میں عدالت کی طرف اشارہ ہے اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل من اصدق الخ سے فرمائی۔ جنگ احد میں جبکہ عبداللہ بن ابی اپنے گروہ کو عین مقابلہ کے وقت لے کر بھاگ آیا اور مسلمانوں کو ہزیمت ہوئی تو مدینہ میں مسلمانوں کے دو فریق ہوگئے تھے۔ ایک کہتا تھا ان کو قتل کرنا چاہیے۔ دوسرا کہتا تھا خدا ان کی اصلاح کر دے گا۔ قتل میں بدنامی ہے اس پر خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ فمالکم فی 1 ؎ المنافقین کہ تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو۔ ان پر اللہ نے ان کے اعمال کی شامت ڈال دی ہے کیا جس کو خدا نے گمراہ کیا۔ تم اس کو ہدایت کرسکتے ہو ؟ رکس اور نکس دونوں کے ایک معنی ہیں یعنی الٹ دینا یعنی اسلام کی راہ راست سے الٹے کفر میں جا پڑے۔ یہ بھی اخلاقی تعلیم ہے کہ کسی کے اس کی کسی لغزش کے سبب پیچھے نہ پڑجانا چاہیے۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

پھر تم کو منافقوں کی کیا پڑی ہے جو تم دو تھوک ہوگئے اور اللہ نے تو ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو اندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس کو خدا نے گمراہ کیا اس کو ہدایت پر لے آؤ اور جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو آپ کو اس کے لئے کوئی رستہ نہیں ملے گا۔

1 ؎ مدینہ کے چند لوگ ابتدائے اسلام میں ایسے بھی تھے کہ ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر درپردہ حبّ ِ جاہ وغیرہ اسباب دنیا کے سبب آنحضرت ﷺ اور مہاجرین سے سخت عداوت رکھتے تھے۔ مسلمانوں پر نکتہ چینیاں بھی کیا کرتے تھے۔ مخالفوں کو بھی اسرار پر مطلع کرتے اور لڑنے کو ابھارتے تھے۔ مسلمان چاہتے تھے کہ ان منافقوں کو نکال دیا جائے مگر بعض رحمدل انصار اپنی قرابتوں کے سبب درگذر کی طرف مائل تھے۔ اس لئے ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے تھے۔ ان آیات میں انہیں کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ 12
Ayahs 4:89–91

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ کافر ہیں ویسے تم (بھی) کافر ہوجاؤ تاکہ برابر ہوجائیں پس تم ان میں سے کسی کو (بھی) دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں پاؤ تو مار ڈالو اور نہ ان میں سے کسی کو دوست بناؤ اور نہ مددگار

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ کہ اس خوف سے سلوک کرتے ہیں کہ ان میں اور تم میں معاہدہ ہے یا وہ تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے تنگ دل ہو کر تمہارے پاس آگئے ہوں (تو ان سے ملاپ کا مضائقہ نہیں) اور اگر اللہ چاہتا تو تم پر ان کو غلبہ دیتا تو وہ تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور تم سے نہ لڑیں اور تمہارے آگے صلح کا پیغام ڈالیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان پر الزام کا کوئی رستہ نہیں رکھا ہے

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

عنقریب تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے کہ جو تم میں سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہنا چاہتے ہیں (مگر) جب فساد کے لئے بلائے جاتے ہیں تو اس میں کود ہی پڑتے ہیں۔ پھر اگر وہ تم سے کنارہ نہ کریں اور صلح پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں پاؤ قتل کرویہی وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے تمہارے لئے صاف حجت قائم کردی ہے۔

ترکیب : لو تکفرون بتاویل مصدر مفعول ہے وَدُّوا کا کما کفروا۔ ک لغت ہے مصدر محذوف کی ما مصدر یہ ہے اے کفروا ککفرھم۔ الا الذین استثناء ہے فاقتلوھم سے۔ بینکم وبینہم میثاق جملہ خبر یہ صفت ہے قوم کی اوجاء و عطف ہے یصلون پر حصرت صدورہم جملہ بتقدیر قد حال ہے فاعل جاؤکم سے ان یقاتلوکم ای ان یقاتلوکم۔ عن متعلق حصرت سے ہے او یقاتلوا قومہم معطوف ہے ان یقاتلو کم پر فان اعتزلوکم شرط فلم یقاتلوکم الخ اس کی تفسیر۔ فما جعل جملہ جواب فان لم یعتزلوکم شرط فخذوھم جواب شرط۔ تفسیر : کفار سے معاہدہ کی بابت : ابھی فرمایا تھا کہ جس کو خدا گمراہ کرے کیا تم اس کو ہدایت کرسکتے ہو۔ اب یہاں یہ فرماتا ہے کہ تم تو ان کی ہدایت چاہتے ہو اور وہ ازلی گمراہ خود تم کو ہی اپنے جیسا کافر بنانا چاہتے ہیں۔ پھر اب تم ان سے کوئی علاقہ محبت نہ رکھو کیونکہ اس میں ان کی محبت سے تمہارے لئے دنیا و آخرت کا ضرر ہے مگر جب وہ ایمان لا کر خدا کی راہ میں ہجرت کریں تب ان کے ایمان کا امتحان ہوچکا۔ اب ان سے محبت اور دوستی کرنے کا مضائقہ نہیں۔ اس کے بعد حکم عام دیتا ہے کہ اگر وہ پھر جاویں یعنی نہ اسلام لاویں نہ ہجرت کریں تو ان کو جہاں پائو قتل کرو کیونکہ وہ آسمانی سلطنت کے باغی ہیں۔ بظاہر اس حکم میں ہر ایک کافر سے جنگ کرنا پایا جاتا تھا خواہ اہل اسلام سے لڑتا ہو یا نہ ہو ‘ خواہ اس نے اسلامیوں سے عہد کیا ہو یا نہ ہو۔ گویا ہر ایک کو زبردستی مسلمان بنانا چاہیے۔ حالانکہ پہلے حکم ہوچکا تھا کہ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی کہ دین میں کسی پر کچھ زبردستی نہیں۔ ہدایت اور ضلالت خود واضح ہوچکی ہے اس لئے اس جگہ دو قوموں کا استثناء کرتا ہے اول الا الذین یصلون الخ وہ لوگ کہ جو اس قوم سے عہد رکھتے ہوں کہ جس سے اہل اسلام سے باہمی عہد ہو مثلاً ایک ایسی قوم ہے کہ اس کا اہل اسلام سے عہد ہے کہ نہ ہم تم پر چڑھائی کریں گے نہ تم پر یا ہم تمہارے مددگار تم ہمارے۔ عرب کی کوئی قوم مسلمان ہو اور دارالاسلام میں بسبب اور کافروں کے نہ آسکے کہ وہ مانع آتے ہوں اور وہ قوم ان سے عہد کرے سو وہ بھی مسلمانوں کے عہد میں ہیں۔ ان سے بھی لڑنا نہ چاہیے اور اگر وہ مسلمان نہ ہوں اور یوں بھی ان سے عہد کرلیں تب بھی ان سے لڑنا نہ چاہیے کیونکہ آیت کا حکم عام ہے۔ الغرض جس قوم سے اہل اسلام کا عہد ہو یا عہد والی قوم سے عہد ہو وہ حکم قتل و جہاد سے مستثنیٰ ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ آنحضرت (علیہ السلام) کا کفار عرب کی کس قوم کے ساتھ عہد تھا ؟ بعض کہتے ہیں اسلمی لوگوں سے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے مکہ سے ہجرت کرتے وقت بلال بن عویمر اسلمی سے عہد کرلیا تھا کہ نہ تو ہم سے سرکشی کرنا نہ ہم تجھ پر چڑھائی کریں گے اور جو تم سے پناہ لے گا ہم بھی اس کو پناہ دیں گے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں وہ ہم عہد لوگ بنوبکر بن زید منات تھے۔ مقاتل کہتے ہیں خزاعہ و خزیمہ بن عبد مناف سے عہد تھا پس جو خود آنحضرت ﷺ کے دامن تلے اور عہد میں آگئے ان سے کیونکر جنگ کی جاتی تھی۔ دوم او جائوکم حصرت صدور ھم کہ وہ تنگ آگئے ہوں نہ اہل اسلام تم سے لڑتے ہوں نہ تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑتے ہوں یعنی یکطرفہ ہوں۔ پھر عام ہے کہ آنحضرت ﷺ یا اہل اسلام کے پاس آویں یا اپنے مقام ہی سے یہ بات اور امن قائم کرنا ظاہر کردیں او جائو کم کے یہی معنی ہیں بیضاوی کے حاشیہ میں اس مقام پر لکھا ہے المراد بالمجیء الاتصال وترک المعاندۃ والمقاتلۃ لا حقیقۃ المجیء نہ اور یہ قوم جو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تنگ ہو کر آئی تھی بنو مدلج تھے۔ ایسی قوموں سے بھی لڑنا نہ چاہیے ٗ خدا کی شکر گزاری کرنا چاہیے کیونکہ خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط اور قادر کردیتا۔ پھر اسی فریق کی تشریح فرماتا ہے فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم کہ اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں اور لڑائی نہ کریں اور تم سے صلح اور امن کے خواہاں ہوں والقوا الیکم السلم تو ان سے ہرگز نہ لڑو۔ ان پر خدا نے تمہارے لئے کوئی حجت نہیں رکھی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو کفار و مشرکین اسلام سے نہ لڑیں یا معاہدہ کرلیں تو ان سے جنگ نہیں نہ ان کا قتل کرنا جائز ہے۔ ان کو آزادی ہے جن سے لڑنے کا اور جہاں کہیں مل جائیں مارنے کا حکم خاص ان لوگوں سے ہے کہ جن کا حال ان جملوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے برعکس دوسرے چالاک اور بدمعاش تم کو عنقریب ایسے ملیں گے کہ جو صلح و امن یا اسلام تم سے ظاہر کرکے تم سے بھی امن میں رہنا چاہیں گے اور پھر اپنی قوم کے پاس جا کر اسی کفر و سرکشی میں شریک ہو کر ان سے بھی امن میں رہنا چاہیں گے بلکہ جب وہ اسلام کے مقابلہ میں جنگ کرنے کے لئے بلائے جاویں گے تو اس فتنہ فساد میں کود پڑیں گے جیسا کہ اسد اور غطفان کی قوم نے کیا تھا۔ پھر اگر ایسے لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آویں اور تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور سچی صلاح نہ کریں اور تم سے لڑنے سے ہاتھ نہ روکیں تو ان کو جہاں پائو قتل کرو۔ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے تمہارے لئے خدا نے حجت قائم کردی ہے بلاشک اگر ایسے لوگوں سے یہ نہ کیا جاوے تو پھر کیا کیا جاوے۔ حتی یہاجروا ہجرت جدائی اور ترک کرنا ہے۔ حقیقۃً ہجرت وہ ہے کہ جس کی تشریح نبی ﷺ نے فرمائی۔ والمہاجرمن ھاجرالی مانہی اللہ عنہ رواہ البخاری۔ ” کہ مہاجر وہ ہے کہ جو خدا کی منع کی ہوئی باتوں کو چھوڑ دے۔ “ اس میں اس شہر اور وطن کا رہنا بھی آگیا کہ جہاں کفار کا ایسا غلبہ ہو کہ جو شرائع اسلام بآزادی ادا نہ کرنے دیں ایسی صورت میں وہاں سے ترک وطن کرنا اور مسلمانوں کے ملک میں چلا جانا ضروری ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں جب تک کہ مکہ فتح نہ ہوا تھا اور وہاں کفار کا غلبہ تھا وہاں سے ہجرت کرنا ضروری تھا۔ اس کی بڑی تاکید کی جاتی تھی۔ سو لوگ ہجرت کرکے مدینہ میں آتے تھے۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو فرما دیا اب ہجرت کی کچھ ضرورت نہیں۔ نیک نیتی اور جہاد چاہیے۔ ہندوستان کے دارالاسلام اور دارالحرب ہونے کا مسئلہ : ہندوستان آج کل اگرچہ عیسائیوں کے قبضہ میں ہے۔ پہلے مسلمانوں کے قبضہ میں آکر دارالاسلام صدیوں تک رہ چکا ہے اب دارالاسلام تو نہیں مگر یہ لوگ اب تک شرائعِ اسلام سے منع بھی نہیں کرتے۔ اس لئے دارالحرب بھی نہیں بلکہ دارالامن ہے۔ اس لئے ہجرت کرنا ضرور نہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 4:92–93

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کا (یہ) کام نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر غلطی سے ہو ( تو اور بات ہے) اور جو کوئی کسی مومن کو (خطاً ) قتل کر ڈالے تو اس کو ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیے اور مقتول کے وارثوں کے پاس دیت پہچانی چاہیے (ہاں) اگر وہ خود معاف کردیں (تو خیر) پھر اگر وہ (مقتول مومن) اس قوم کا ہو کہ جو تمہارے دشمن ہیں تو مسلمان غلام ہی آزاد کر دے اور اگر وہ اس قوم سے ہو کہ اس میں اور تم میں باہم معاہدہ ہے تو اس کے وارثوں کو دیت دینی چاہیے اور مسلمان غلام (بھی) آزاد کرنا چاہیے۔ پھر جس کو میسر نہ ہو تو پے در پے دو مہینہ روزے رکھے۔ خدا سے معافی چاہنے کے لئے اور اللہ علم والا ‘ حکمت والا ہے

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو کوئی کسی مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور (نیز) خدا کا غضب اس پر نازل ہوگا اور اس پر اس کی پھٹکار پڑے گی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار ہے۔

ترکیب : ان یقتل اسم کان لمومن خبر اے ما شان المومن قتل المومن فی ای حال الاخطاء الا فی حال الخطاء اور ممکن ہے کہ الا بمعنی لکن ہو ومن قتل شرط فتحریر خبر ہے مبتداء محذوف کی ای فالواجب وقیل خبرہ محذوف ای فعلیہ۔ تحریر مضاف رقبۃ مومنۃ مضاف الیہ ودیۃ معطوف ہے تحریر پر جملہ جواب شرط الا ان یصدقوا استثناء منقطع ہے وقیل متصل والمعنی فالواجب دیۃ فی کل حال الا فی حال التصدق فان شرطیہ کان اس کا اسم المقتول من قوم خبر عدولکم اس کی صفت وھو مومن جملہ حال ہے المقتول سے یہ سب شرط فتحریر الخ جواب۔ تفسیر : پہلی آیت میں ان لوگوں کے قتل کی اجازت تھی کہ جو مسلمانوں میں آکر مسلمان اور کافروں میں جا کر ان کے ساتھ ہو کر مسلمانوں کو قتل کرنے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ ایسے موقع میں کبھی وہ لوگ بھی آجاتے ہیں کہ جو صدق دل سے مسلمان ہیں اور اہل اسلام ان کو کافر ہی سمجھتے ہیں۔ سو ایسے لوگوں کے قتل سے منع کیا اور اس کے ضمن میں عموماً ایمانداروں کے قتل کرنے کا مسئلہ بھی بیان کرنا مناسب ہوا۔ فرماتا ہے کہ کسی مومن کو کسی مومن کا قتل کرنا درست نہیں مگر بھول چوک ہو تو معذور ہے۔ چناچہ اس آیت کے نازل ہونے کا یہی سبب ہوا کہ اسلام میں دو ایک موقع ہوچکے تھے۔ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جنگ احد میں ایسا اتفاق ہوا کہ حذیفہ بن الیمان ؓ کے والد یمان ؓ بوقت جنگ ایک بھیڑ میں آگئے۔ مسلمانوں نے ان کو کافر سمجھ کر ان پر تلواریں مارنی شروع کردیں گو حذیفہ ؓ کہتے رہے کہ میرے والد مگر اس ہنگامہ میں کوئی نہ سمجھا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگئے۔ پھر جب معلوم ہوا تو مسلمانوں کو سخت ملال ہوا۔ اس پر یہ آیت کفارہ بنانے کے لئے نازل ہوئی اور اس امر میں دیت کا بھی فیصلہ کردیا۔ اس آیت میں یہ حکم ہے کہ جو کوئی کسی مسلمان کو خطاً نادانستہ قتل کر دے تو مقتول کے وارثوں کو دیت دی جائے۔ اگر وہ معاف کردیں تو مضائقہ نہیں اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیے (دیت اس لئے کہ مسلمانوں کے خون کا جو بلاوجہ مارا گیا ہے معاوضہ نہ لینے کی کوئی وجہ نہیں چونکہ خطاً مارا گیا ہے اس لئے قاتل کو معاوضہ میں قتل کرنا خلاف انصاف تھا مگر دیت یعنی خون بہا لینا مقرر کیا اور غلام آزاد کرنا اس لئے فرمایا کہ اگرچہ اس نے یہ کام قصداً نہیں کیا مگر بےاحتیاطی کی گئی۔ اس لئے جس نے اس ایک مسلمان کو مارا اس کے کفارہ میں مسلمان غلام کو آزاد کرے گویا آزاد کرنا زندہ کردینا ہے کیونکہ غلامی انسان کی صفت مالکیت اور آزادی کو (جو اس کی فطرت میں رکھی ہے اور جو اس کی حیات کا مقتضی ہے) زائل کرتی ہے اور اس میں بنی نوع پر احسان بھی ہے) ۔ پھر اگر وہ مقتول مسلمان جو نادانستہ مارا گیا ہے اس قوم کا ہے کہ جس سے اہل اسلام سے معاہدہ اور دوستی نہیں بلکہ دشمنی قائم ہے تو اس صورت میں صرف کفارہ میں مسلمان غلام ہی آزاد کرنا چاہیے۔ وارثوں کو دیت نہ دی جائے کیونکہ اس سے مخالفوں کو روپیہ کی مدد ملتی ہے۔ اگرچہ ایسی صورت میں آیت میں صرف غلام آزاد کرنے کا ذکر ہے۔ دیت دینے کا ذکر نہیں مگر معرض بیان میں سکوت کرنا نفی پر دلالت کیا کرتا ہے اور اگر وہ اس قوم کا ہے کہ جس میں اور اہل اسلام میں باہم عہد ہے تو وہاں دیت وارثوں کو دی جائے اور مسلمان 1 ؎ غلام بھی آزاد کیا جائے اور جو غلام آزاد کرنے کا مقدور نہ ہو تو اس کی جگہ پے در پے دو مہینے کے روزے کفار میں رکھے۔ اگر بیچ میں بجز عذر معمولی کے جو عورتوں کو لاحق ہوتا ہے روزہ ترک ہوگا تو پھر سرے سے دو مہینے پورے کرنے پڑیں گے اور دو مہینے روزے مقرر ہونے میں ایک سرِّ روحانی ہے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں۔ اس جگہ چونکہ مقتول کے لئے مومن کی قید نہیں اس سے بعض علماء نے ذمی مقتول کا بھی یہی حکم نکالا 2 ؎ ہے اس حکم کے بعد کسی مسلمان کو قصداً قتل کرنے کی بابت فرماتا ہے ومن یقتل مؤمنا متعمدا الآیہ۔ چونکہ قتل عمد کا حکم قصاص و دیت سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے یا ایہا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی الخ اس لئے یہاں صرف آخرت کی سزا بیان فرماتا ہے کہ وہ قاتل ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس کے لئے لعنت اور غضب الٰہی اور اس کو عذاب عظیم ہے۔ ابن عباس ؓ آیت کو ظاہر طور پر محمول کرکے قاتل عمد کے لئے ہمیشہ کا عذاب ثابت کرتے ہیں اور اس کی توبہ کو بھی غیر مقبول کہتے ہیں اور خوارج نے بھی اس آیہ سے استدلال کیا ہے کہ قتل عمد گناہ کبیرہ بالاتفاق ہے باوجود یکہ اس کی سزا ابدی جہنم ہے۔ ثابت ہوا کہ کبیرہ کے مرتکب کے لئے ابدی جہنم ہے۔ جمہور علماء کہتے ہیں کہ اس قتل عمد سے مراد وہ ہے کہ جو جائز جان کر کیا جاوے تو بیشک اس کی یہی سزا ہے کیونکہ کبیرہ کا جائز جاننے والا کافر ہے اور کافر کی ابدی جہنم سزا ہے یا یہ کہ جزا تو اس کی یہی ہے مگر وہ کریم بوجہ ایمان کے قاتل کو بحکم آیت ویغفر مادون ذلک لمن یشاء ابدی جہنم سے نجات دے گا۔ بحث اوّل : اب ہم آیت کا مطلب بیان کرچکے۔ اس کے بعد چند ابحاث لکھتے ہیں جو احکام دیت اور قتل خطا کے متعلق ہیں : (1) قتل کی پانچ قسم ہیں۔ پہلا قتل عمد تلوار وغیرہ ہتھیار سے جان کر قتل کرنا۔ اس میں قاتل مارا جائے گا خواہ کئی قاتل کیوں نہ ہوں۔ بحکم آیت کتب علیکم القصاص اور آخرت کا گناہ بحکم آیۃ فجزاؤہ جہنم۔ ہاں اگر مقتول کے وارث معاف کردیں یا دیت پر راضی ہوجائیں تو دیت دلائی جائے گی اور یہ قاتل اگر وارث کو قتل کرے گا تو میراث سے بھی محروم ہوگا۔ دوسرا قتل خطا مثلاً شکار سمجھ کر دور سے کسی آدمی پر گولی چلا دی اور وہ مرگیا۔ یہ خطا یعنی چوک قصد میں واقع ہوئی یا کسی مسلمان کو جنگ میں کافر سمجھ کر مار ڈالا اور ایک خطا فعل میں بھی ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ نشانہ پر گولی چلاتا تھا کسی انسان کے لگ گئی۔ اس کا حکم آیت میں بیان ہوچکا اس میں بھی میراث سے محروم رہتا ہے۔ احادیث سے ایک اور بھی قتل ان دونوں کے درمیان ثابت ہوا ہے۔ شبہ العمد ہے یہ قتل ابوحنیفہ کے نزدیک وہ ہے جو ان آلات سے واقع ہو جو قتل کے موزوں نہ ہوں۔ جیسا کہ لٹھ اور پتھر۔ صاحبین اور امام شافعی کے نزدیک یہ بھی قتل عمد ہے اور شبہ عمد یہ ہے کہ جس سے غالباً آدمی نہیں مرتا اس سے مارے جیسا کہ بغیر قصد ہلاک کے چھڑی یا مکہ مارے اور وہ مرجاوے شبہ عمد میں دیت مغلظہ اور کفارہ اور میراث سے محرومی ہے۔ چوتھا قتل خطا کے 1 ؎ خواہ وہ لڑکا ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ اس کے والدین میں کوئی مسلمان ہو۔ یہ شافعی ‘ مالک ‘ اوزاعی ‘ ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے۔ ابن عباس ؓ اور حسن اور شیعی اور نحفی (رح) کے نزدیک وہ غلام آزاد کیا جاوے جو نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا ہو۔ 12 ؎ مگر یہ صحیح نہیں کس لئے کہ مقبول مومن ہی کا ذکر چلا آتا ہے وکان کی ضمیر بھی اس کی طرف پھرتی ہے۔ 12 منہ قائم مقام جیسا کہ سوتا ہوا آدمی کسی پر گر پڑے اور جس پر گرا وہ مرجائے اس کا حکم بھی قتل خطا کا حکم ہے۔ پانچواں قتل بالسبب جیسا کہ رستہ میں کنواں کھودے اور اس میں گر کر مرجاوے اس میں دیت ہے نہ کفارہ نہ حرمان میراث۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کفارہ بھی اور حرمان میراث بھی ہے۔ (2) دیۃ ودی سے مشتق ہے جیسا کہ شیۃ وشی ہے وائو حذف ہوگیا۔ اس کے معنی معاوضہ کے ہیں مگر عرب میں صرف خون کے معاوضہ کو دیت کہا جاتا ہے یعنی خون بہا اس کی دو قسم ہیں مغلظ یعنی سخت سو وہ شبہ عمد میں آتی ہے۔ اس میں سو اونٹ چار قسم کے ہیں۔ 25 بنت مخاص 25 بنت لبون 25 حقہ 25 جذعہ۔ شافعی اور امام محمد کے نزدیک تین قسم کے لنیے چاہییں۔ 30 جذعہ 30 حقہ 40 ثنیہ حاملہ۔ دوسری مخففہ وہ قتل خطا میں آتی ہے اس میں سو اونٹ پانچ قسم کے ہیں۔ 20 بنت مخانس 20 بنت لبون 20 ابن مخاض 20 حقہ 20 جذعہ یا ہزار دینار اور یہ نہ ہوں تو دس ہزار درہم امام شافعی 12 ہزار درہم کہتے ہیں۔ مسلمان اور ذمی کی برابر ہے۔ خلافاً للشافعی یہ دیت تین سال میں بتدریج قاتل کے کنبہ اور قوم سے وصول کی جاتی ہے کہ جس کو عاقلہ کہتے ہیں کیونکہ وہ اس کے ہر ایک نفع و نقصان کے شریک ہیں۔ اس ناگہانی حادثہ میں بھی ان کو شریک ہونا چاہیے تاکہ آیندہ اس کو احتیاط پر مجبور کیا کریں۔ یہ مذہب جمہورکا ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے مگر ابوبکر اصم کے نزدیک خاص قاتل سے لینی چاہیے۔ باقی قتل اور نقصان مال اور تاوان کے مسائل احادیث سے ثابت ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

ایماندارو ! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو (یعنی جہاد کو نکلو) تو تحقیق 1 ؎ کرلیا کرو اور جو شخص تم کو سلام کرے اس کو زندگانی دنیا کا اسباب لینے کے لئے (یہ) نہ کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں سو اللہ کے پاس تو بہت ہی غنیمتیں ہیں پہلے تم (بھی تو) ایسے تھے (لیکن) پھر اللہ نے تم پر فضل کردیا۔ پس تحقیق کرلیا کرو بیشک جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ اس سے (خوب) واقف ہے۔

؎ بنت مخاص اس اونٹ کو کہتے ہیں جو دوسرے برس میں ہو۔ بنت لبون وہ جو تیسرے سال کا ہو۔ حقہ یعنی بوجھ لادنے کے قابل جو چوتھے برس میں ہو۔ جذعہ جو پانچویں میں ہو۔ 12 ترکیب : اذاضربتم ای سافر تم للجہاد شرط فتبینوا جواب۔ السلام اور سلم دونوں طرح سے آیا ہے اول کے معنی تحیہ دوسرے کے معنی انقیاد بکلمہ شہادۃ۔ تبتغون حال ہے فاعل لا تقولوا سے۔ کذلک خبر کنتم ضمیر انتم اس کا فاعل ان اللَّہ کو بالکسر جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے پڑھا ہے اور بالفتح بھی معمول تبتغون کا بنا کر۔ تفسیر : جہاد میں جو اسلام ظاہر کرے قتل نہ کیا جاوے : قتل خطاء کے بارے میں ابھی تہدید ہوچکی تھی اور یہ قتل ابتداء ِاسلام میں مسلمانوں کو بیشتر جہاد میں پیش آتا تھا۔ اس لئے یہاں جہاد میں ہوشیاری اور احتیاط کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔ بعض اہل اسلام کو جہاد میں یہ بات پیش آئی کہ جب دشمن پر انہوں نے قابو پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ جان بچانے کو کہہ دیا مگر صحابہ ؓ نے یہ سمجھا کہ یہ دل سے نہیں صرف جان بچانے کے لئے کہتا ہے۔ اس کہنے پر بھی قتل کردیا جس کی خبر جناب رسول اللہ ﷺ کو ہوئی اور آنحضرت ﷺ سخت ناخوش ہوئے۔ چناچہ بخاری اور مسلم نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم کو آنحضرت ﷺ نے جہنیہ قبیلہ کی طرف بھیجا۔ مجھے ان میں سے ایک شخص مل گیا۔ میں نیزہ سے اس کو چوکنے لگا تو وہ لا الہ الا اللہ کہنے لگا۔ انجام کار میں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر آکر ہم نے آنحضرت ﷺ کو اطلاع کی تو فرمایا کیا تو نے اس کو باوجود اس کہنے کے مار ڈالا ؟ اسامہ نے کہا ٗ اس نے بچنے کے لئے کہا تھا۔ فرمایا تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا یعنی تجھے اس کے دل سے کیا کام۔ احکام شرع ظاہری ہیں اور مسلم کی روایت میں ہے کہ قیامت میں تو اس لا الہ الا اللہ کا کیا جواب دے گا۔ اسی طرح ایک روایت صحیحین میں مقداد بن اسود ؓ کے بارے میں ہے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جب تم جہاد میں باہر جائو (اللہ کی راہ میں سفر کرنا عام ہے مگر یہاں مراد جہاد ہے) تو خوب تحقیق کرلیا کرو کہ یہ کون شخص ہے۔ یہ نہیں کہ دور سے ہی اس کا کام تمام کردیا جائے یا شبہ میں کسی کو قتل کیا جاوے اور نیز جو تمہارے روبرو اسلام پیش کرے یعنی کلمہ توحید کہے جیسا کہ روایت صحیحین سے پایا جاتا ہے یا صرف سلام کہے اور امان مانگے جیسا کہ ترمذی کی اس حدیث سے پایا جاتا ہے کہ جس کو اس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک آدمی صحابہ کے پاس سے بکریاں لے کر گذرا۔ اس نے سلام کیا مگر اس کو صحابہ نے مارا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ایسے شخص کو یوں نہ کہو تو مسلمان نہیں۔ کیا تم غنیمت کے لئے ایسا کرتے ہو اور دنیا کا مال چاہتے ہو جو عرض یعنی فانی ہے۔ سو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ ان پر نظر رکھو۔ پہلے تم بھی تو کافر تھے۔ اسی کلمہ کی بدولت خدا کے فضل و احسان سے تم اسلام میں آئے ہو۔ اس پر متنبہ ہونے کے لئے ان اللّٰہ کان بما تعملون خبیرا فرما دیا۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

وہ مسلمان جو بغیر کسی (معقول) عذر کے (جہاد سے) بیٹھ رہے ہیں ان مجاہدوں کے برابر نہیں ہوسکتے جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کر رہے ہیں۔ اللہ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو (بلا عذر یا بعذر) بیٹھنے والوں پر درجہ میں فضیلت دی ہے اور (یوں تو) اللہ کا نیک وعدہ سب (مسلمانوں) سے ہے اور اللہ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کے اعتبار سے (بھی) فضیلت دی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

(وہ اجر عظیم کیا ہے) بڑے بڑے درجہ اور بخشش اور رحمت اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترکیب : من المؤمنین بیان ہے القاعدون کا۔ غیر کو بالضم بھی پڑھا ہے یہ قاعدون کی صفت ہے اور بالفتح بھی کیونکہ یہ استنثاء ہے قاعدون یا مومنین سے اور بالکسر بھی پڑھا ہے صفت مومنین کی بنا کر درجۃ مصدر ہے بمعنی فضیلۃ تب یہ مفعول مطلق ہے اور تمیز بھی ہوسکتا ہے اور ظرف بھی اے فی درجۃ و منزلۃ۔ وعد فعل اللّٰہ فاعل الحسنی مفعول ثانی کُلًّا مفعول اول درجات و مغفرۃ و رحمۃ اجرا عظیما کا بیان ہے۔ 1 ؎ یعنی جو تمہارے سامنے آئے اس کو بےدریغ تہ تیغ نہ کردیا کرو ٗ دریافت کرلیا کرو کہ یہ کون ہے دشمن ہے یا دوست یا کوئی راہگیر۔ 12 منہ تفسیر : جہاد میں چونکہ قتل خطاء بھی پیش آجاتا تھا جس کے لئے کفارہ اور دیت کا ذکر ہوا اور نیز بعض وہ لوگ بھی کہ جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا ٗ مارے گئے تھے اور اس پر تہدید صادر ہوئی تھی۔ اس سے کسی قدر مسلمانوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ گھر بیٹھ کر عبادت و ریاضت کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس میں ایسی بات پیش نہیں آتی مگر خدا تعالیٰ کو تو دنیا میں آسمانی سلطنت (کہ جس کی خبر انبیاء دیتے آئے ہیں) قائم کرکے دنیا کو بدی اور شرک سے پاک کرنا تھا اور یہ بات بغیر لشکر مجاہدین کے عالم اسباب میں ممکن نہ تھی اس لئے یہاں فرما دیا کہ بغیر ضرر یعنی مرض کے جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں جو اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ اس سے نفی مساوات کی تو ہوئی مگر مجاہدین کی بھی فضیلت بیان ہوئی تھی۔ اس لئے فضل اللّٰہ المجاھدین الخ فرمایا کہ جو بغیر عذر کے گھر میں بیٹھ رہے ہیں تو ان کا تو کیا ذکر ہے مگر جو عذر سے بھی بیٹھتے ہیں ان پر بھی خدا نے اللہ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو درجہ میں فضیلت دی ہے مگر چونکہ عذر والے بھی دل میں اس کی نیت رکھتے ہیں صرف ناچاری سے شریک نہیں ہوسکتے ٗ اس لئے ان کے لئے بھی خدا نے بہتری یعنی جنت و مغفرت کا وعدہ کیا۔ چناچہ ترمذی نے روایت کی ہے کہ جب لایستوی القاعدون الخ نازل ہوا تو عبداللہ بن ام مکتوم جو نابینا تھے آنحضرت ﷺ کے پاس آکر رونے لگے کہ یا حضرت مجھے کیا حکم ہے تب غیر اولی الضرر نازل ہوا اور وکلا وعد اللّٰہ الحسنٰی سے ان کو بھی بوجہ نیت کے شریک کیا گیا مگر چونکہ مجاہدین ایک بھاری کام میں مصروف ہیں اور جان و مال کو اللہ پر قربان کر رہے ہیں اس لئے ان کو مخصوص کرکے فرمایا وفضل اللّٰہ المجاھدین علی 1 ؎ القاعدین اجراً عظیما پھر اس اجر عظیم کی تفصیل فرماتا ہے درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ کہ خدا نے ان کو جنت کے درجات اور مغفرت مخصوصہ میں کہ جو وہاں کی فرحت ابدی ہے اور رحمت مخصوصہ میں جو اس کے دیدار کی تجلی ہے خاص کرلیا ہے مگر پھر اور ریاضت و عبادت والوں کی طرف بھی اشارہ کرکے وکان اللہ غفورًا رحیمًا فرما دیا۔ 1 ؎ مجاہدین کو خانہ نشینوں پر درجہ فضیلت ہے۔ 12 2 ؎ ان آیات میں لوگوں پر عتاب ہے جو ایمان لانے کے بعد اپنے گھروں اور بال بچے اور مال و اسباب میں پڑے رہتے ہیں اور مخالفوں کے خوف سے ارکان اسلام نہیں بجا لاسکتے حالانکہ جہاں ارکان اسلام بجا لانے کی ممانعت ہو وہاں سے نکل جانا فرض ہے اور اسی کو ہجرت کہتے ہیں جہاں کہیں جس کو آزادی ملے چلا جائے پس اسے دینا پسند مصلحت اندیش لوگوں سے بوقت مرگ فرشتہ یوں پوچھیں گے اور ان کو ہجرت نہ کرنا اپنی جان پر ظلم کرنا تھا۔ 12 منہ۔
Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک جن کی فرشتے (ایسے حال میں) روح نکالتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ستم کر رہے ہیں ان سے پوچھیں گے کہ تم (دار الحرب میں پڑے پڑے) کیا کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم اس جگہ مجبور تھے (فرشتے) کہیں گے کہ کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں کہیں چلے جاتے سو یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ (بہت ہی) بری جگہ ہے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

مگر جو مرد اور عورت اور لڑکے (لڑکیاں) بےبس ہیں کہ نہ کوئی (نکلنے کا) حیلہ کرسکتے ہیں اور نہ ان کو رستہ ملتا ہے

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

سو ان کے لئے امید ہے کہ خدا معاف کر دے ( کیونکہ) اللہ معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا (تو) اس کو زمین میں آسائش (اور) فراخ دستی (بھی) ملے گی اور جو کوئی اپنے گھر سے ہجرت کرکے اللہ اور اس کے رسول کی طرف نکلے پھر اس کو موت آلیوے تو بیشک اس کا اجر تو اللہ پر ثابت ہوچکا اور اللہ بخشنے والا ‘ (بڑا) مہربان غفور الرحیم ہے۔

ترکیب : ظالمی مضاف انفسہم مضاف الیہ یہ حال ہے ضمیرھم سے جو تو فیہم میں ہے۔ فتہاجروا منصوب ہے جواب بن کر استفہام کا کیونکہ نفی بسبب استفہام کے اثبات ہوگی۔ الا المستضعفین استناء ہے اولئک ماوھم جہنم سے ‘ من الرجال والنساء والولدان مستضعفین کا بیان ہے۔ لا یستطیعون اس سے حال مبینہ ہے خبران قالوا وقیل فاولئک وقیل محذوف وھو ھلکوا۔ تفسیر : مدینہ میں چونکہ لوگ ہجرت کرکے مجتمع ہوگئے تھے جو جہاد قائم ہونے کا باعث ہوا اور جہاد کی رغبت پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تھی اور بعض لوگ جو کہ مکہ میں یا اور شہروں میں ایمان تو لے آئے تھے مگر بسبب حبِّ وطن کے ہجرت کرکے اس جماعت میں شریک ہونے سے پہلو تہی کرتے تھے اور نیز کفار کے شہروں میں وہ ادائے مراسم دینیہ سے بھی روکے جاتے تھے۔ اس لئے ان آیات میں ہجرت کی تاکید اور بوقت مرگ یا بعد مرگ جو کچھ ملائکہ سے جواب وسوال ہوگا اس کا ذکر فرماتا ہے کہ جن ظالموں کی فرشتے جان قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کیا کیا کرتے تھے یعنی دین میں کیا مدد کی ؟ وہ اپنا عذر بیان کریں گے کہ ہم مجبوری سے یہاں رہتے تھے وہ کہیں گے کیا خدا کی زمین تنگ تھی کیوں ہجرت کرکے نہیں چلے گئے (ظلم سے مراد گناہ ہے کیونکہ اس سے انسان اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے جو اس کو عذاب کا مستحق بناتا ہے) پھر ان لوگوں کو اس عذاب سے مستثنیٰ کرتا ہے جو درحقیقت معذور ہوں جیسا کہ بیمار یا عمر رسیدہ یا مقید مرد بچے عورت اور ہجرت نہ کرنے کے بیشتر یہی دو سبب ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ پردیس میں یہ عافیت اور آرام جو وطن میں ہے جاتا رہے گا۔ اس کی نسبت خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے یجدفی الارض مرا غما کثیرا وسعۃ کہ اس کو خدا کشائش اور آرام دے گا۔ چناچہ دیا مراغم رغام سے مشتق ہے جس کے معنی خاک کے ہیں بولتے ہیں رغم انف فلان کہ خاک میں بھر گئی اس کی ناک یعنی شرمندہ و ذلیل ہوا۔ چونکہ مہاجر کا دار ہجرت میں کشائش پانا اس کے مخالفین کے لئے شرمندگی کا باعث ہے اس لئے اس کشائش کو مراغم کہا۔ دوم یہ کہ شاید ہم رستہ میں مرجاویں اس کی بابت فرماتا ہے ومن یخرج من بیتہ کہ جو اپنے گھر سے ہجرت کے لئے نکلے اور رستہ میں موت آجاوے تو اس کا اجر عند اللہ ثابت ہوچکا۔ ہجرت کا مسئلہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ اس ملک اور شہر میں کہ جہاں کفار کی وجہ سے شرائعِ اسلام کو آزادی سے ادا نہ کرسکے واجب ہے۔ جیسا کہ قبل فتح اہل مکہ پر تھا۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور (مسلمانو) جبکہ تم سفر میں ہو تو تم پر کچھ (بھی) گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کردو 1 ؎ اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے کیونکہ کافر (تو) تمہارے کھلم کھلا دشمن ہیں

1 ؎ قصر چار رکعت کی جگہ دو پڑھنا۔ یہ قصر مسافر کے لئے درست ہے عام ہے کہ دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو اور خوف کی قید احترازی نہیں بلکہ اتفاقی ہے۔ 12 منہ
Ayahs 4:102–104

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جبکہ (اے نبی ! ) آپ بھی (سفر میں) ان کے ساتھ ہوں پھر ان کے لئے نماز قائم کرو (یعنی امام بنو) تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تو آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور وہ اپنے ہتھیار بھی ساتھ رکھیں۔ پھر جب سجدہ کر چکیں تو چاہیے کہ وہ تمہارے پیچھے ہوجائیں اور وہ دوسرا گروہ کہ جس نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے آئے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے اور چاہیے کہ وہ بھی ہوشیار رہیں اور اپنے ہتھیار (بدستور) لئے رہیں (اور) کافر تو چاہتے ہیں کہ اگر تم اپنے ہتھیاروں اور اسباب سے غافل ہوجاؤ تو تم پر ایک ہی دفعہ ٹوٹ پڑیں اور تم پر (اس میں بھی) کچھ گناہ نہیں کہ اگر تم کو مینہ سے کچھ تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور اپنی ہوشیاری رکھو۔ بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

ھ پر جب تم نماز سے فارغ ہو چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور لیٹ کر پھر جب تم کو اطمینان ہوجائے تو نماز قائم کرو۔ بیشک نماز ایمانداروں پر وقت پر فرض کی گئی ہے

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور ان کے تعاقب کرنے میں ہمت نہ ہارو۔ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو وہ (بھی) تمہاری طرح تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم کو (تو) اللہ سے (وہ) امید ہے جو ان کو نہیں اور اللہ خبردار حکمت والا ہے۔

ف : اس کو صلواۃ الخوف کہتے ہیں جو جماعت کی فضیلت کے لئے اسلام میں قائم ہے خود آنحضرت ﷺ کے روبرو یہ پیش آیا تھا اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ امام کے ساتھ ایک گروہ مسلمین ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں جا کھڑا ہو اور جو گروہ دشمن کے مقابلہ میں تھا وہ آکر امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شریک ہوجائے اور ہر گروہ ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لے اور نماز پڑھنے میں ہتھیار ساتھ رکھیں اور ہوشیار رہیں اور جب مقابلہ ہو اور اس کی بھی فرصت نہ ہو تو ہر حال میں اللہ کو یاد کرلینا چاہیے اور جو نماز قضا ہوگئی ہے اس کو بعد میں ادا کریں۔ 12 منہ ترکیب : واذا ضربتم شرط فلیس الخ جواب ان تقصروا ای فی ان تقصروا من الصلوٰۃ کامن زائدہ ہے۔ عدوا بمعنی اعداء وقیل مصدر علی فعول مثل القبول ولذالم یجمع۔ واذا کنت شرط فاقمت کنت پر معطوف فلتقم جواب۔ لم یصلوا صفت ہے طائفۃ اخرٰی کی قیاما وقعودا وعلی جنوبکم یہ تینوں حال ہیں فاعل اذکروا اللّٰہ سے موقوتا مقدر او قتہا فلا تؤ خرعنہ (جلالین) ۔ تفسیر : منجملہ ان چیزوں کے کہ جن کی مجاہد کو جہاد میں احتیاج ہے نماز کی کیفیت دریافت کرتا ہے کہ سفر میں کس طرح سے اور بوقت جنگ کیونکر ادا کرنی چاہیے۔ اس لئے خدا تعالیٰ ان آیات میں صلوٰۃ قصر و صلوٰۃ خوف کے متعلق مسائل بیان فرماتا ہے۔ واذاضربتم سے لے کر عدو امبینا تک صلوٰۃ قصر کا مسئلہ مذکور ہے۔ قصر کے معنی لغت میں کم کرنے کے ہیں اور تخفیف کے خواہ کمیت میں خواہ کیفیت میں۔ اس لئے اس مسئلہ میں علما کے دو قول ہیں۔ ایک طائوس کا اور عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی اس میں روایت ہے کہ قصر سے مراد بوقت جنگ اشارہ سے نماز پڑھ لینا ہے اور رکوع و سجود کی جگہ صرف اشارہ کردینا اور نماز میں ہتھیار چلانا اور چلنا اور خون الٓودہ کپڑوں سے نماز پڑھ لینا درست ہے کیونکہ رکوع و سجود میں دشمن کے غلبہ کا خوف ہے اور صحابہ ؓ نے عین مقابلہ میں ایسا ہی کیا ہے مگر یہ قول قویٰ نہیں کس لئے کہ قصر بمعنی تغیر اس کے بعد دوسری آیت میں مذکور ہے اور وہ ایک جدا حکم ہے۔ دوسرا جمہور صحابہ وتابعین کا قول ہے وہ یہ کہ سفر کے وقت نماز کی تعداد رکعت میں کمی کی جائے۔ ظہر و عصر و عشاء میں چار رکعت کی جگہ دو پڑھی جاویں گی مگر جابر بن عبداللہ ؓ اور ایک جماعت کے نزدیک سفر میں دو رکعت خوف کے ایک رکعت پڑھی جاوے۔ جمہور کے قول پر یعلی بن امیہ وغیرہ کی بہت سی احادیث صحیحہ دلیل قوی ہیں۔ دوم قصر کے معنی عرف صحابہ میں یہی تھے اور نیز من الصلوٰۃ سے بھی یہی بات پائی جاتی ہے۔ پھر جمہور آئمہ مجتہدین کے نزدیک مسافر کو رخصت ہے کہ وہ چار رکعت کی جگہ دو پڑھے خواہ دشمن کا خوف ہو یا نہ ہو۔ وان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا کی شرط اس لئے ہے کہ دشمن کے خوف کے وقت یہ قصر غالباً واقع ہوتا ہے جیسا کہ لا تکرھوا افتیاتکم کے بعد ان اردن تحصنا کی قید ہے اور نیز شرط کے وقت مشروط کا پایا جانا مفہوم ہوتا ہے۔ یعنی اگر سفر میں خوف ہو تو قصر کرو یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ شرط 1 ؎ کے نہ پائے جانے سے مشروط نہ پایا جاوے یعنی اگر سفر میں خوف نہ ہو تو قصر نہ کرنا ثابت نہیں ہوتا۔ علاوہ اس کے بہت سی احادیث صحیحہ سے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کا حالت سفر میں بغیر خوف دشمن کے قصر کرنا پایا گیا ہے چناچہ حارث بن وہب ؓ سے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے کہ منٰی میں باوجودیکہ ہم بہت تھے اور نہایت امن تھا رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت پڑھائیں اور اسی طرح صحیحین میں انس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبکہ حج کے لئے مکہ آئے تھے عصر کی نماز ذی الحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔ دائود ظاہری اور ان کے مقلدین کہتے ہیں کہ بغیر خوف کے سفر میں قصر درست نہیں۔ قرآن مجید میں اس بات کی بھی کچھ تشریح نہیں کہ کس قدر سفر پر قصر ہے۔ اس میں دو منزل چار منزل کی کچھ قید نہیں بلکہ عرف پر چھوڑ دیا اور مطلقاً اذاضربتم فرما دیا۔ اس لئے دائود ظاہری اور ان : کس لئے کہ مفہوم مخالف کے اہل تحقیق قائل نہیں۔ 12 کے مقلد قاضی شوکانی نے اس کو مطلق قائم رکھ کر میل دو میل کے سفر پر بھی قصر کی اجازت دے دی۔ جمہور علماء کے نزدیک ان کی یہ رائے غلط ہے کس لئے کہ اگر نص کو بالکل مطلق رکھا جاوے تو ایک محلہ سے دوسرے محلہ جانے میں بھی بحکم اذا ضربتم قصر کرنا چاہیے حالانکہ اس کا اسلام میں کوئی بھی قائل نہیں اور اگر نص کو مقرر کیا جائے تو ضرور ہی معنی مراد لئے جاویں گے جو پیغمبر (علیہ السلام) اور صحابہ نے اس لفظ سے سمجھے ہیں اور وہ مقدار خاص ہے جس کو عرف میں سفر کہہ سکتے ہیں جس کے اندازہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں شعبی اور نخعی اور سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ اقل مرتبہ تین روز کا راستہ ہونا چاہیے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کیونکہ مسلم نے علی ؓ سے روایت کی ہے کہ مسافر کے لئے مسح خفین میں تین رات دن کا حکم ہے جس سے سفر کی اقل حد تین رات دن سمجھی گئی۔ امام مالک اور امام شافعی ' کے نزدیک اقل مرتبہ یہ سفر چار برد تک ہونا چاہیے۔ ہر ایک برد چار فرسخ کا اور ہر ایک فرسخ تین میل کا ان میلوں سے جو ہاتھ جد رسول اللہ ﷺ نے قدم قائم کئے ہیں۔ وہ میل بارہ ہزار قدم کا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں یہ قصر رخصت ہے ٗ خواہ مسافر چار پڑھے خواہ دو امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں قصر کرنا واجب ہے یہاں تک کہ اگر مسافر چار رکعت پڑھے اور دو کے بعد بقدر تشہد نہ بیٹھے گا تو نماز فاسد ہوگی کیونکہ یعلی بن امیہ سے مسلم نے روایت کی ہے کہ میں نے قصر کے بارے میں عمر ؓ سے پوچھا ٗ انہوں نے کہا میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے استفسار کیا تھا کہ اب تو امن ہوگیا قصر کی کیا ضرورت ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ خدا کا صدقہ ہے کہ جو تم کو عنایت ہوا۔ سو تم اس کو قبول کرو۔ صلوٰۃ خوف : اس کے بعد واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوۃ سے لے کر ان الصلوٰۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا تک صلوٰۃ خوف کا مسئلہ بیان فرماتا ہے۔ ابو یوسف اور حسن بن زیاد کے نزدیک یہ حکم آنحضرت کے ساتھ مخصوص تھا کیونکہ اذا کنت فیھم کی قید موجود ہے۔ جمہور کے نزدیک حکم عام ہے صلوٰۃ الخوف کی صورت یہ ہے امام قوم کے دو ٹکڑے کرے اور ان میں سے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھاوے پھر جب یہ گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکے تو پھر کیا کرے۔ اس میں مختلف اقوال ہیں صلوٰۃ خوف کی صورتیں : (ایک یہ) کہ یہ گروہ ایک رکعت کے بعد سلام پھیر کر دشمن کے مقابلہ میں چلا جاوے اور جو دشمن کے مقابلہ میں تھے وہ آکر صرف ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ امام کی دو رکعت قوم کی ایک ایک ہوگی۔ یہ قول مجاہد اور جابر بن عبداللہ ؓ کا ہے (دوم) یہ کہ اول گروہ کو امام دو رکعت پڑھاوے وہ سلام پھیر کر مقابلہ میں چلے جاویں اور جو مقابلہ میں تھی وہ آویں۔ ان کو بھی امام دو رکعت پڑھاوے۔ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ امام دو بار پڑھے گا۔ (سوم) یہ کہ امام ایک گروہ کو ایک رکعت پوری پڑھا دے اور پھر چپ کرکے کھڑا رہے اور یہ لوگ اپنی دوسری رکعت از خود تمام کرکے سلام پھیر کے دشمن کے مقابلہ میں چلے جاویں اور جو مقابلہ میں تھے وہ آ کر امام کے ساتھ رکعت اخیر میں شریک ہوجاویں اور جتنی دیر تک وہ دوسری رکعت جو فوت ہوئی تھی تمام نہ کرلیں امام تشہد میں بیٹھا رہے۔ پھر امام سلام پھیرے یہ بھی امام کے ساتھ سلام پھیریں۔ یہ قول سہل بن ابی حثیمہ کا ہے اور یہی مذہب امام شافعی کا ہے۔ ( چہارم) یہ کہ ایک گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر مقابلہ میں چلا جائے اور سلام نہ پھیرے اور جو لوگ مقابلہ میں تھے۔ وہ آکر اخیر رکعت میں شریک ہوجائیں اور ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے مقابلہ میں چلے جاویں۔ پھر اول گروہ آکر وہ جو ایک رکعت فوت ہوئی ہے اس کو تمام کرکے دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسرا گروہ آکر اپنی نماز تمام کرے۔ فرق یہ ہے کہ اول گروہ نے اول الصلوۃ کو پایا اور دوسرے نے اخیر کو۔ یہ عبداللہ بن مسعود ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ یہ سب صورتیں احادیث سے ثابت ہیں۔ رخصت کا دائرہ وسیع کرنے کو آنحضرت ﷺ نے مختلف طور پر صلوٰۃِ خوف ادا کی ہے۔ ان آیات سے یہ چاروں صورتیں ثابت ہوسکتی ہیں۔ اب ہم آیت کی تشریح کرتے ہیں واذا کنت فیہم اے نبی جب تم مسلمانوں کے لشکر میں ہو اور حالت خوف کی ہو جیسا کہ غزوہ ذات الرقاع اور ذات نخل میں یہ معاملہ پیش آیا کہ لشکر اسلام کی پشت قبلہ کی طرف تھی تو آنحضرت ﷺ نے بوقت نماز یہ حکم دیا کہ دو ٹکڑے ہوجائیں۔ چناچہ ایک دشمن کے سامنے رہا اور ایک نے نبی (علیہ السلام) کے ساتھ نماز پڑھی۔ فلتقم طائفۃ منہم معک ان کے دو گروہ ہو کر ان میں سے ایک گروہ نماز میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور ایک دشمن کے سامنے ہو۔ ولیاخذوا اسلحتہم یعنی جو لوگ نماز میں آپ کے ساتھ ہوں ہتھیار کھول کر نہ کھڑے ہوں جیسا کہ تلوار و خنجر و پیش قبض بندوق کیونکہ اگر حاجت پڑے تو دقت پیش نہ آوے اور ممکن ہے کہ یہ خطاب اس جماعت کے لئے ہو کہ جو دشمن کے مقابلہ میں ہے اور راجح یہ ہے کہ دونوں کے لئے خطاب ہے۔ فاذا سجدوا فلیکونوا من ورائکم یعنی جو نماز میں نہیں ہیں ان کو چاہیے کہ حراست کے لئے نمازیوں کے پیچھے سے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہوں یا جو لوگ نماز میں ایک رکعت پا چکے ہیں وہ اب جو نماز پڑھ رہے ہیں ان کی حراست کے لئے دشمن کے سامنے کھڑے ہو ویں۔ ولتات طائفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک یعنی وہ گروہ جس نے ہنوز نبی (علیہ السلام) کے ساتھ نماز نہیں پڑھی بلکہ وہ اول ہی سے مقابلہ میں تھے یعنی گروہ دوم وہ بقایا نماز میں نبی (علیہ السلام) کے ساتھ شریک ہوجاویں اور پھر ان سب کو حکم ہے کہ ولیا خذوا حذرہم کہ اپنے بچائو کی چیزیں زرہ وغیرہ ساتھ لئے رہیں۔ بعض کہتے ہیں حذر سے مراد ہوشیاری ہے۔ واسلحتہم جمع سلاح یعنی ہتھیار بھی نہ اتاریں کیونکہ دوسری رکعت میں کفار کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ نماز میں ہیں اور دفعتاً حملہ کرنا چاہیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والذین کفروا لو تغفلون عن اسلحتہم وامتعتکم فیمیلون علیکم میلۃ واحدۃ مگر اس کے ساتھ مرض یا بارش 1 ؎ وغیرہ عوارض کی وجہ سے ہتھیار رکھ دینے کی بھی اجازت ہے جیسا کہ فرماتا ہے ولا جناح علیکم الخ فاذا قضیتم الصلوۃ یعنی جب نماز سے فراغت پائو تو ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوجایا کرو بلکہ کھڑے بیٹھے لیٹے اللہ کو یاد کیا کرو۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اگر جنگ سخت ہو اور صلوٰۃِ خوف کی بھی مہلت نہ ہو تو پھر جس حال میں ممکن ہو یاد الٰہی کرلو اور فاذا اطماننتم فاقیموا الصلواۃ جب امن ہوجاوے تو اس نماز کو جو جنگ میں فوت ہوئی قائم کرو۔ پھر آیت کو نماز کی تاکید پر تمام کرتا اور یہ بتلاتا ہے کہ یہ سب باتیں عارضی تھیں اصل یہ ہے کہ نماز کو ہمیشہ اس کے وقت پر قائم کیا کرو کیونکہ ان الصلوٰۃ کانت علی المؤمنین کتابًا موقاتًا اے فرضنا موقوتا (کبیر) متکوبا محدودا باوقات معلومۃ (مدارک) اس کے بعد پھر جہاد کی ترغیب دیتا ہے کہ تم سے اللہ نے فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے اور اس سے تم کو وہ امید ہے جو کفار کو نہیں پھر کیوں ان کی لڑائی سے سستی کرتے ہو ولا تہنوا الخ و ترجون الخ۔ 1 ؎ بارش میں ہتھیار بھیگ جاتے ہیں اور نیز کپڑے بھی ایسی حالت میں خصوصاً نماز کے وقت ہتھیار طبیعت کو گراں معلوم ہوتے ہیں۔ 12 منہ