Ayahs 4:34–351 ؎ یعنی اول نرمی سے سمجھا دینا چاہیے اس پر نہ مانیں تو بےالتفاقی کرو ساتھ سونا چھوڑ دو ۔ اگر کوئی ڈھیٹ اس پر بھی نہ مانے تو ہاتھ سے دھول دھپہ کرکے سیدھا کر دو ۔ پر خواہ مخواہ الزام لگانے کے لئے راہیں نہ تلاش کرو کیونکہ تم پر بھی کوئی بالادست ہے اور اگر اس پر بھی نہ مانیں تو طرفین سے دو شخص ثالث بن کر ملاپ کرا دو ۔ اگر ان کی نیت بخیر ہو تو خدا ان میں ملاپ کر دے گا۔ 12 منہ
ترکیب : الرجال مبتداء قوامون خبر علی النساء متعلق ہے قوامون سے بما بھی اسی سے ہے وبما انفقوا کا ما مصدر یہ ہے۔ فالصلحت مبتداء قانتات خبر بما حفظ کا مابمعنی الذی اور نکرہ موصوفہ بھی ہوسکتا ہے دونوں صورتوں میں عائد محذوف ہوگا اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے والتی الخ مبتداء فعظوھن خبر فی المضاجع واھجروھن کا ظرف بھی ہوسکتا ہے اے ترکوا مضاجعہن دون مکانتھن اور بمعنی سبب بھی ہوسکتا ہے یعنی جدائی بسبب ساتھ نہ سلانے کے کرو۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم نے میراث میں مردوں کو فضیلت دی ہے۔ اس جگہ اس فضیلت کو بیان فرماتا ہے کہ وہ کس بات میں ہے ؟ فرماتا ہے اس بات میں کہ مرد عورتوں کے سرپرست اور کارکن ہیں اور نیز یہ مہر اور نان و نفقہ میں ان پر اپنا مال صرف کرتے ہیں۔ قوامون جمع قوام ہے یہ مبالغہ ہے قیام فی الامر کے لئے۔ کہتے ہیں ہذا قیم امراۃ وقوامہا کہ یہ شخص عورت کا سرپرست اور کارگذار ہے یعنی اس کا کاروبار اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔
مرد کو عورت پر دو قسم کی فضیلتیں ہیں۔ ایک ذاتی کہ جو مرد کی ذات میں خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے کیونکہ انسان کو تمام کائنات پر فخر ہے تو صرف قوت نظریہ اور قوت عملیہ کی وجہ سے ہے۔ چونکہ عورتوں کی سرشت میں مردوں کی نسبت قضاء و قدر نے برودت رکھی ہے اور مردوں میں حرارت جو اس کے ادراکات اور عجائبِ علوم و فنون حاصل کرنے کا آلہ ہے۔ سو اس میں بھی مرد عورتوں سے بڑھے ہوئے ہیں اور اعمال شاقہ اور غیرت و شجاعت وغیرہ سرداری کے اوصاف کا بھی سرچشمہ یہی قوت و حرارت ہے۔ اس میں بھی مردوں کو فوقیت ہے۔ اس لئے آپ تاریخوں کو کھول کر دیکھ جائیے۔ انبیائِ اولوالعزم اور حکمائِ با کمال اور شاہان باعزوشان اور دیگر کاملین کی فہرست میں بجز مردوں کے آپ کو اور کوئی نظر نہ آئے گا الا شاذو نادر اور نیز قدرتی طور پر مرد اور عورت کی بناوٹ مرد کی فوقیت کا ثبوت دے رہی ہے۔ اس فضیلت کی طرف الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللّٰہ بعضہم علی بعض میں اشارہ ہے۔ دوسری فضیلت عرضی ہے وہ یہ کہ عورت چونکہ وسائلِ معاش میں بھی قاصر ہے اور نیز اس میں ایک شان محبوبیت ہے جو اس کو مرد پر ناز اور طلب کی طرف برانگیختہ کیا کرتی ہے۔ اس لئے اس کے تمام مصارف روٹی کپڑا بلکہ مہر وغیرہ سب مرد کے ذمہ ہیں اور وہی وقتاً فوقتاً اس کو اپنی کمائی سے شاد و خرم رکھتا ہے۔ یہ اس کی دست نگر رہتی ہے۔ یہ اس کا آقا و ولی النعمۃ ہے۔ اس فضیلت کی طرف وبما انفقوا من اموالہم میں اشارہ ہے۔ ان وجوہ سے مرد کو محکمہ قضاء و قدر سے سرداری کی سند ملی ہے۔ ابن عباس ؓ نے اس آیت کی شان نزول میں یوں فرمایا ہے کہ محمد ابن سلمہ کی بیٹی کو کسی بات پر خفا ہو کر اس کے میاں سعد بن الربیع انصاری نے ایسا طمانچہ مارا کہ اس کے منہ پر نشان پڑگیا۔ وہ بیوی فریادی آنحضرت ﷺ کے پاس آکر معاوضہ کی طالب ہوئی۔ آنحضرت ﷺ نے اس میں وحی کا انتظار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں فضائلِ مرد کے بعد اس طرف اشارہ ہے کہ مرد سردار ہے۔ ایسی باتوں میں اس سے برابری نہیں چاہیے۔ ان صفات سے امام مالک و شافعی وغیرہما (رح) نے یہ بات نکالی کہ اگر مرد نان و نقہ سے عاجز ہوجائے تو نکاح فسخ کردیا جائے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ عورتوں کو فرمانبرداری اور نیک روی کی ترغیب عجب لطف کے ساتھ دیتا ہے۔ وہ یہ کہ مردوں کی سرداری اور درجہ فضیلت بیان کرکے عورتوں کی وہ فضیلت بیان فرماتا ہے جس سے ان کی پارسائی اور فرمانبرداری نکلتی ہے۔ عورت کی دو حالت ہیں۔ ایک مرد کے روبرو ہونے کا وقت دوسرا اس کے غائب ہونے کا زمانہ۔ روبرو کے زمانہ میں عورت کی یہ خوبی ہے کہ وہ فرمانبردار ہو جو مرد کہے وہ کرے۔ جب سونے کے لئے پاس بلائے فوراً تعمیل حکم کرے۔ نرمی سے بات کرے اور جو میاں سختی سے بولے تو آپ جواب ترش نہ دے۔ خانہ داری کے معاملات میں اس کی خوشنودی کو مقدم رکھے۔ اس وصف کو اس لفظ میں ادا کیا فالصلحت قانتات کہ نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں۔ قنوت کے معنی طاعت کے ہیں۔ اس میں خاوند اور خداوند دونوں کی اطاعت کی طرف اشارہ ہے۔ دوسری حالت جو سفر کی ہے اس میں عورت کی یہ خوبی ہے کہ اپنی عصمت اور مرد کا مال حفاظت سے رکھے۔ اس کی طرف حافظات للغیب بما حفظ اللّٰہ میں اشارہ کردیا۔ اس کے بعد ان کے برعکس عورتوں کا ذکر کرکے ان کی اصلاح کی تدبیر بیان فرماتا ہے۔ والتی تخافون نشوزھن نشوز کے معنی لغت میں بلندی کے بولتے ہیں۔ نشز الشیء اذا ارتفع اور چونکہ عورت کی نافرمانی اور سرکشی میں اس کا سر اٹھانا پایا جاتا ہے اس لئے اس کو نشوز کہتے ہیں۔ پس جو عورت بلا کسی حجت شرعیہ کے مرد کی نافرمانی کرے ساتھ سونا چھوڑ دے یا سخت کلامی کرے یا سترو پردہ اور غیر محارم کے روبرو ہونے میں کہا نہ مانے یا والدین کے گھر رہنا پسند کرکے خاوند کے ہاں نہ آوے اس عورت کو ناشزہ کہتے ہیں۔ اس کو نان و نفقہ دینا خاوند پر واجب نہیں رہتا۔ جب میاں بیوی میں ایسی حالت ہوجاوے تو اول مرتبہ یہ ہے کہ اس کو خاوند نرمی سے نصیحت کرے۔ فعظوھن کہ تم کو ایسا کرنا مناسب نہیں۔ اس میں تمہارے لئے دنیا اور آخرت کی شرمندگی ہے۔ اگر اس پر بھی نہ مانے تو واھجروھن فی المضاجع اس کو ساتھ نہ سلاوے کیونکہ اگر اس کو میاں سے محبت ہے تو یہ امر اس پر شاق گزرے گا۔ پھر ضرور اطاعت کرے گی اور جو اس کی بھی پروا نہ کرے تو ایسی بیہودہ کو واضربوھن کسی قدر دھول دھپے سے درست کر دے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں گو یہ بات مباح ہے مگر نہ مارنا اولیٰ ہے مگر ایسا مارنا کہ جس میں اس کی ہڈی پسلی ٹوٹ جاوے یا زخم پڑجاوے یا اس کے چہرہ یا کسی عضو میں نقص پیدا ہو اتفاقاً ممنوع ہے۔ پھر اگر وہ سیدھی ہوجاوے تو مرد کو بھی نہ چاہیے کہ خواہ مخواہ کی نکتہ چینیاں کرکے اس کو دق کرے بلکہ اس میں خدا سے ڈرے جو بالادست ہے اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ شریعت نے عورت کی عزت و حرمت بہت کچھ قائم کی ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو اپنے اہل و عیال سے اچھا نہیں اور ان پر نرم نہیں وہ ہرگز اچھا نہیں اور کہیں فرمایا کہ عورتوں سے بہ نرمی پیش آئو ان کی جبلت میں کجی ہے۔ اس پر صبر اور برداشت کرو اور یہ بھی فرمایا کہ وہ عجیب شخص ہے کہ صبح کو تو بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ پھر رات کو ساتھ لے کر سوتا ہے یعنی مارنا
نہ چاہیے اور یہ ظاہر ہے کہ بیوی میاں کی وزیر ہے اس کی رضامندی اور اس سے بخوشی و خرمی پیش آنا خوش گزارنی کا باعث ہے ورنہ زندگی تلخ ہوجاوے گی مگر اس کے عورت پر جیسا کہ آٹے پر نمک تہدید بھی رکھی ہے اگر تہدید نہ ہو تو معاذ اللہ بڑی خرابیاں پیش آتی ہیں (جیسا کہ اس زمانہ میں سکولوں میں پڑھ کر عورتیں بالکل آزاد ہوتی چلی جاتی ہیں۔ بےحیائی اور فحش اور زناکاری کا نام تہذیب رکھا جاتا ہے۔ ادر خاوند بھی دیوث بن کر اس کی آزادانہ آمد و رفت پر برداشت کرنے کا اور اس کے دوستوں سے ملنے کا نئی تہذیب کی بدولت عادی ہوجاتا ہے) ۔ اس کے بعد بھی اگر عورت نہ سمجھے تو ایک شخص عورت کے کنبہ کا اور ایک مرد کے کنبہ کا جو دونوں کے حالات سے بخوبی واقف ہوں باہم فیصلہ کرا دیں مگر نیک نیتی اور اصلاح مدنظر رکھیں تاکہ خدا ان میں توفیق دے کہ پھر ملاپ ہو کر خانہ آبادی ہوجائے اور جو کنبہ کے پنچ نہ ملیں تو اور نیک لوگ قائم کر لئے جاویں۔ امام شافعی اور مالک اور اسحاق اور اوزاعی (رح) بلکہ حضرات عثمان و علی و ابن عباس ؓ کا یہ قول ہے کہ اگر پنچوں کو بغیر طلاق کے اور کوئی چارہ نہ ہو اور باہم کسی طرح ملاپ ہوتا نظر نہ آوے تو ان کو اختیار ہے کہ طلاق دے دیں اور عطا اور حسن اور ابن زید اور امام ابوحنیفہ وغیرہم علماء ؓ یہ فرماتے ہیں کہ طلاق کا اختیار پنچوں کو نہیں۔ یہ بات میاں کے اور حاکم شہر کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی اجازت ہو تو مضائقہ نہیں۔ حکمًا من اہلہ ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ حاکم و قاضی جو فیصلہ کرے تو فریقین کے حال سے بخوبی واقف بلکہ اسی قوم کا ہو تاکہ کوئی بات اس پر مخفی نہ رہے واے برحال شان کہ جن کے مجسٹریٹ محض اجنبی ہوں اور طلاق وغیرہ امور شرعیہ کا فیصلہ کریں۔
1 ؎ حاکم و محکوم و عورت۔ 12
Ayahs 4:36–38ترکیب : احساناً کے نصب میں چند وجہ ہیں سورة بقرہ میں بیان ہو چکیں۔ الجنب بضمتین اور فتح جیم اور سکون نون دونوں طرح سے پڑھا جاسکتا ہے جس کے معنی اجنبی کے ہیں۔ یہ وصف ہے الجار کا بالجنب کی ب بمعنی فی ہے یہ حال ہے۔ الذین یبخلون مبتداء خبر مبغضون وغیرہ محذوف والذین ینفقون اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مردوں کی فضیلت بیان فرما چکا اور باہم میاں بیوی کے معاملات کا فیصلہ خاوند کی فضیلت ملحوظ رکھ کر فرما دیا تو اس کے بعد تمام بنی آدم کو یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ فضیلت دنیاوی ہے اور فضیلت اخروی اور چیز ہے اس میں نوکر آقا سے بڑھ جاتا ہے اور فقیر بےکس بادشاہ سے اور بیوی خاوند سے اس لئے اس جگہ اخروی فضیلت بیان کی جاتی ہے جو اصل مقصود ہے اور جو ہمیشہ باقی رہے گی۔ انسان کی اصلی فضیلت کا دو چیز کی تکمیل پر دار و مدار ہے۔ ایک قوت نظریہ دوسری قوت عملیہ اور انہیں کی تکمیل کا نام سعادت ہے۔ قوت نظریہ کی تکمیل ہے کہ خدا تعالیٰ کو وحدہ لا شریک جان کر خالصاً اس کی عبادت میں مصروف ہوجاوے جس سے روح پر آئینہ کی طرح آفتاب غیبی کے انوار پڑ کر یہ بھی بعد مردن قدوسین کی جماعت میں مل جاوے۔ سو اسی کی طرف واعبدوا اللّٰہ الخ میں اشارہ ہے۔ یہاں دونوں 1 ؎ قوموں کے لیے دس حکم دیے گئے۔ ان میں سے یہ پہلا حکم ہے۔ قوت عملیہ کی تعمیل دو طرح سے ہے۔ ایک یہ کہ اہل حقوق کے ساتھ نیکی اور احسان سے پیش آئے سو اس کی بابت دوسرا حکم ماں باپ کے ساتھ احسان اور نیکی کرنے کا دیا گیا۔ وبالوالدین الخ۔ تیسرا حکم عموماً اور اہل قرابت کے ساتھ سلوک کرنا علی قدر مراتبہم۔ چوتھا حکم یتیموں کے ساتھ نیکی کرنا۔ پانچواں حکم عموماً ہر فقیر تنگدست کے ساتھ نیکی کرنا۔ چھٹا حکم ہمسایہ قریب کے ساتھ۔ ساتواں حکم ہمسایہ بعید کے ساتھ ‘ قریب سے مراد یا تو اہل قرابت یا متصل رہنے والے۔ اسی طرح بعید سے مراد اجنبی شخص یا فاصلہ سے رہنے والا۔ آٹھواں حکم دوست ہم پہلو کے ساتھ نیکی کرنا بالجنب کے معنی ہم پہلو کے ہیں جو کہ مکتب یا کسی اور کار کے شریک یار ہوتے ہیں یا جو سفر و حضر میں ہر وقت مصاحب رہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد بیوی ہے کہ جو پہلو میں رہتی ہے۔ نواں حکم مسافر کے ساتھ سلوک کرنا۔ دسواں حکم غلاموں کے ساتھ سلوک کرنا جو ملک اور قبضہ میں ہیں اور ما ملکت سے ہر جانور بھی مراد ہے۔ اس کے ساتھ بھی نیکی اور رحمدلی کرنی چاہیے۔ دوسری طرح یہ ہے کہ سب کو ضرر نہ دے اور بیشتر بنیاد ضرر ‘ تکبر اور غرور پر ہے اس کی طرف اِنَّ اللّٰہ لا یحب من کان مختالاً فخورا میں اشارہ فرمایا اور زیادہ تر ضرر ہے کہ باوجود نعمت وقدرت کے اہل حقوق کو کچھ نہ دیا جاوے بلکہ اوروں کو بخل سکھایا جاوے اور دین کے ڈر کے مارے مفلسی ظاہر کی جاوے۔ اس کی طرف الذین یبخلون الخ میں اشارہ ہے کہ دیا تو جاوے مگر بےمحل و بےموقع دیا جاوے نہ اس سے نیت بخیر مقصود ہو نہ صلہ رحمی بلکہ دکھلاوا۔ اس کی طرف والذین ینفقون الخ میں اشارہ ہے۔ یہاں تک قوت عملیہ کی تکمیل میں خلل انداز باتیں بیان فرمائیں۔ پھر قوت نظریہ میں خلل انداز باتیں ولا یؤمنون باللّٰہ الخ میں ذکر فرماتا ہے کیونکہ تعرف الاشیاء باضدادھافخور (متکبر) کے دو جملوں میں یہ اوصاف رذیلہ بیان فرمائے، اول الذین یبخلون الخ میں بخل کرنا اور لوگوں کو تعلیم دینا اور اس لئے اپنا مال چھپانا ایک ایسی ردی اور ذلیل حالت ہے جو اس کے فخر اور تکبر کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ دوئم والذین ینفقون اموالہم الخ شیخی میں ریاکاری کے لئے مال دینا اور خلوص ندارد نہ اللہ پر ایمان نہ آخرت پر اس احمق کا شیطان رفیق ہے پھر جس کا وہ رفیق و یار بنے تو پھر اس سے جس قدر برائیاں سرزد ہوں کم ہوں۔
Ayahs 4:39–42ترکیب : ماذا مبتداء علیہم خبر اور صرف ما مبتدا اور ذاموصول علیہم صلہ مجموعہ بھی خبر ہوسکتی ہے۔ لوامنوا الخ شرط لم یضرھم خبر محذوف اس سے ترغیب مقصود ہے لو مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے۔ مثقال صفۃ ہے مصدر محذوف کی ای لا یظلم ظلما قدر مثقال ذرۃ ای وزن ذرۃ مصدر اور اس کی صفت کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ قائم کردیا۔ وان تَکُ اصل میں تکن تھا نون صرف کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے کیونکہ نون غنہ سکون کی وجہ سے مشابہ ہے اگر حرکت دی جائے گی نون حذف نہ ہوگا جیسا کہ لم یکن الذین وغیرہ میں۔ یومئذ ظرف یودالذین کفروا وعصوا الرسول اس کا فاعل لوتسوی بہم الخ اس کا مفعول لو بمعنی ان۔ تسوی فعل مجہول الأرض مفعول مالم یسم فاعلہ۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ نہ تو ان لوگوں کا اللہ پر ایمان ہے نہ قیامت کے دن پر جو انسان کو عمل خیر کی طرف اور امید ثواب رکھ کر اللہ کی راہ میں صرف کرنے کی طرف اور ہر طرح کی نیکی کی طرف برانگیختہ کرتا ہے۔ سو یہ بڑی بدنصیبی اور حرمان کا باعث ہے۔ اس لئے یہاں بطور ترغیب فرماتا ہے کہ اگر وہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ کی راہ میں صرف بھی کرتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا ؟ یعنی یہ بات خلاف عقل سلیم نہیں نہ اس میں کسی قسم کی مضرت ہے۔ اس پر مجھ کو ایک حکایت یاد آئی۔ کسی ملحد نے کسی مومن سے کہا ٗ تمہارا اللہ اور قیامت پر ایمان لانا اور خیر و خیرات کرنا فضول ہے کیونکہ نہ کوئی اللہ ہے نہ قیامت پھر لئے دیے کا ثواب کہاں ناحق مال کو فرضی ڈھکوسلوں پر صرف کرنا اور نماز روزہ ہر ایک قسم کی عبادت کی تکلیف اٹھانا ‘ شراب کباب ‘ رنڈی لونڈی ‘ مزے کی باتوں سے رکنا عبث ہے اور ضرر صریح۔ مومن نے جواب دیا اگر تمہارا کہنا سچ ہوا تو بھی ہمارا کچھ نقصان نہیں۔ عبادت میں بھی کچھ نہ کچھ فائدہ جسمانی ہے اور نہ ہو نہ سہی کسی قدر تکلیف اور لذائذِ فانیہ سے جو ناجائز ہیں محروم رہنے میں کچھ قباحت نہیں۔ دنیا اور انسان کی عمر باد صبا کی طرح آناً فاناً گذر جاتی ہے۔ تمام لذتیں اور سب عیش عالم خواب کے مزوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ چند روز کے بعد ہم تم دونوں برابر ہیں اور اگر تیرا کہنا غلط نکلا اور مرنے کے بعد اس عالم ثواب و عذاب کا بازار بھی گرم ہوا اور اللہ اور قیامت برحق نکلے تو فرمایئے وہاں تیرا کیا حال ہوگا۔ اب محل خطر میں تو ہے یا ہم ؟ یہ سن کر ملحد کو ہوش آگیا اور ایمان لے آیا۔ اس کے بعد فرماتا ہے اللہ خبردار ہے تمہاری کوئی حالت مخفی نہیں اور نیز وہ کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا اور جو کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کو اپنے فضل سے عالم آخرت میں دوگنا کرکے دیتا ہے اور اس کے علاوہ اپنی طرف سے بھی اجر عظیم دیتا ہے۔ پھر نیکی نہ کرنا اور آخرت کے ساز و سامان سے غافل رہنا سخت غفلت اور صریح بدبختی ہے۔ یضاعفہا سے اس عالم کی سعادت جسمانیہ کی طرف اور یؤت من لدنہ سے سعادت روحانیہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد ایک اور حسرت ناک واقعہ جو پیش آنے والا ہے یاد دلاتا ہے کہ جس روز ہم ایک گروہ کے ہادی کو ان پر ان کی نافرمانی ثابت کرنے کے لئے گواہ بنا کر لائیں گے اور تم کو اے نبی ان مخالفوں پر گواہ بنائیں گے اور اسی طرح عقل بھی جو اس کو بری باتوں سے مانع تھی گواہی دے گی تو ان کا کیا حال ہوگا۔ اس دن تو اللہ اور رسول کے نافرمان یہی آرزو کریں گے کہ کاش ہم زمین میں سما جاویں۔ بخاری نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ خدا نے مجھے حکم کیا ہے کہ تجھ سے کچھ قرآن سنوں۔ ابی نے کہا ٗکیا خدا نے میرا نام لیا ہے ؟ فرمایا ہاں اس سے ابی کو ایک وجد ہوگیا۔ پھر یہی آیتیں پڑھنی شروع کیں۔ جب یہاں تک نوبت پہنچی تو آنحضرت ﷺ زار زار قوم کی حالت پر رونے لگے اور فرمایا اے ابی بس کر۔
Ayah 4:431 ؎ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا مسئلہ ہے اور شراب کی حرمت کی طرف یہیں سے اشارہ ہے کہ یہ نماز سے روکتی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ سفر میں نہانے کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو بغیر غسل کے تیمم کے ساتھ نماز درست ہے۔ 12 منہ
ماتعبدون ونحن نعبد ماتعبدون پڑھ دیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی بعض روایات میں ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے نماز پڑھائی تھی بعض میں ہے کہ نماز مغرب کا وقت تھا۔
ترکیب : وانتم الخ جملہ حال ہے فاعل لا تقربوا سے۔ سکاری جمع سکران ‘ حتی تعلموا بمعنی الی ان ولا جنبا حال ہے والتقدیر ولا تصلوا جنباجنب میں جماعت اور ایک دونوں شامل ہیں علی لغۃ فصیحی الاعابری ن بسبب اضافت کے گر پڑا یہ بھی حال ہے ولا تقربوا ھا فی حالتہ الجنابۃ الا فی حال السفر حتی تغتسلوا غایۃ ہے ولا تصلوا جنبا کی وان کنتم شرط مرضی جمع مریض ‘ من الغائط مفعول ہے جاء کا ‘ غائط بروزن فاعل ہے غاط یغوط اذا اطمان سے۔ فلم تجدوا معطوف ہے ماقبل پر داخل ہے شرط میں ‘ فتیمموا فعل انتم فاعل صعیدا مفعول طیبا اس کی صفت جملہ جواب فامسحوا جملہ تفسیر ہے تیمموا کی۔
تفسیر : پہلے تھا کہ اگر وہ ایمان لاتے اور خیر کرتے تو ان کا کیا نقصان تھا یعنی وہ جو ایسا نہیں کرتے تو عقل سلیم کے بھی برخلاف کر رہے ہیں گویا کہ وہ دنیا کے نشہ میں مست و مدہوش ہیں جس طرح کہ مست شراب پی کر خلاف عقل باتیں کرتا ہے ایسا ہی یہ بھی کر رہے ہیں۔ اس مناسبت سے خدا نے مسلمانوں کو جس طرح اس نشہ سے منع کیا ہے۔ اسی طرح ظاہری نشہ شراب وغیرہ سے بھی۔ اس جگہ عجب نرمی کے ساتھ منع فرمایا کہ تم نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھا کرو جب تک کہ تم کو ہوش نہ ہو اور اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو۔ گرچہ بظاہر نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے مگر رمزاً نشہ کی بھی برائی ہے کہ یہ ناپاک چیز اس قابل نہیں کہ اس کو پی کر دربارِ الٰہی میں حاضر ہو۔ پھر سورة مائدہ میں تو بالکل تصریح کرکے نشہ کی ممانعت کردی اور اس کو ناپاک کہہ دیا اور یہ اس لئے کہ لوگ اس کے عادی تھے۔
شان نزول : ایسی چیزوں کو بتدریج منع کرنا عین حکمت ہے اور اس آیت کا شان نزول یوں ہے عبد بن حمید و ابو دائود و ترمذی و نسائی و ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و حاکم (رح) نے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے لوگوں کی دعوت دی تھی اور اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی۔ لوگوں نے کھایا ‘ شراب پی اس میں نماز کا وقت آگیا۔ حضرت علی ؓ کو پیش امام کیا تو انہوں نے نشہ میں قل یا ایہا الکافرون اعبد
(1) لاتقربوا الصلٰوۃ جمہور مفسرین اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک الصلوٰۃ سے نماز مراد ہے اور ابن عباس ؓ اور امام شافعی (رح) کہتے ہیں نماز کی جگہ یعنی مسجد کے اندر جانے کی بھی حالت نشہ میں ممانعت ہے۔
(2) سکاری جمع سکران جو صفت فعلان کے وزن پر آتی ہے اس کی جمع فعالی آتی ہے۔ سکر کے معنی لغت میں بند کرنے کے ہیں اور نشہ بھی عقل کو بند کردیتا ہے۔ اس لئے اس کو سکر کہتے ہیں۔ جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک شراب کا نشہ مراد ہے۔ ضحاک کہتے ہیں نیند کا نشہ مراد ہے کہ نیند کے وقت نماز نہ پڑھو۔ یہ قول ضعیف ہے۔
(3) ولا جنبا الا عابری سبیل کہ نماز ناپاکی کی حالت میں بھی نہ پڑھو کہ جس کو جنابت کہتے ہیں۔ جب تک کہ غسل نہ کرلو مگر سفر میں تیمم کرکے پڑھنے میں کچھ مضائقہ نہیں اور حضر میں بھی پانی نہ ملے تو تیمم درست ہے مگر سفر کی قید اس لئے ہے کہ سفر میں بیشتر پانی نہیں ملتا اور جو لوگ الصلوٰۃ سے مراد مسجد مراد لیتے ہیں ان کے نزدیک یہ معنی ہیں کہ نشہ کی حالت میں مسجد میں نہ جائو۔ جنابت کی حالت میں مگر بطریق گذر جانے کے کچھ مضائقہ نہیں یعنی ٹھہرو نہیں نہ وہاں جا کر کچھ عبادت کرو۔ ہاں کسی طرف جاتے ہو اور وہاں سے رستہ ہو تو نکل جانے کا مضائقہ نہیں۔ عابری سبیل کے ان کے نزدیک یہ معنی ہیں۔ چونکہ اس آیت میں تیمم کی طرف اشارہ تھا اس لئے اس کے بعد تیمم کے مواقع اور اس کا حکم بھی بیان فرماتا ہے۔
(4) وان کنتم مرضٰی الخ چار شخصوں کے لئے تیمم کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک بیمار کے لئے عام ہے کہ پانی کے استعمال سے ہلاک ہونے کا خوف ہو یا صرف زیادتی مرض کا پھر عام ہے کہ اس کو ضرر کا یقین ہو یا ظن غالب اور یہ تیمم بھی عام ہے۔ خواہ غسل کے لئے ہو خواہ وضو کے لئے۔ دوسرے مسافر بعض نے سفر کو عام رکھا ہے خواہ وہ سفر ہو کہ جس میں نماز قصر پڑھی جاتی ہے یا نہ ہو۔ بعض کہتے ہیں وہی سفر مراد ہے۔ اس میں 1 ؎ بھی اگر پانی نہ ملے تو تیمم جائز ہے۔ عام ہے کہ غسل کے لئے ہو یا وضو کے لئے۔ تیسرے پاخانہ پھرنے والے کے لئے مگر اس جگہ عام حدث مراد ہے خواہ پیشاب خواہ پاخانہ خواہ نیند یا ہوا کا نکلنا سب سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر پانی نہ ملے تو تیمم کرے چوتھے جماع کرنے والے کے لئے اولا مستم النساء امام ابوحنیفہ (رح) وغیرہ کے نزدیک اس سے مراد جماع ہے کس لئے کہ صرف عورت کو چھونے سے بغیر دخول کے یا مذی برآمد ہونے کے وضو نہیں ٹوٹتا جس سے پھر پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرنا پڑے کیونکہ احمد وابن ابی شبیہ و ابو دائود نسائی و ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات وضو کرنے کے بعد بھی عائشہ ؓ کا بوسہ لے لیتے تھے مگر دوبارہ وضو نہ کرتے تھے بلکہ اسی وضو سے نماز پڑھ لیتے تھے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک اس سے مراد بدن سے بدن کا مل جانا ہے۔ اس سے وضو کرنا پڑے گا ورنہ تیمم رہا۔ جماع سو اس کے لئے غسل ہے اور جو پانی نہ ملے یا کچھ عذر ہو تو تیمم کرے جیسا کہ احادیث عمار و عمران بن حصین و ابی ذر ؓ سے ثابت ہے اور عمر بن الخطاب اور عبداللہ بن مسعود ؓ ابتداء میں فرماتے تھے کہ جنبی کے لیے تیمم نہیں صرف وضو کی جگہ تیمم ہے نہ غسل کی جگہ پھر اگر جنبی کو پانی نہ ملے تو نماز نہ پڑھے مگر بعد میں انہوں نے رجوع کیا کیونکہ جمہور صحابہ اس کے برخلاف تھے۔ فلم تجدوا ماء کی قید چار قسموں کی طرف رجوع کرتی ہے۔ بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر بیمار و مسافر و پاخانہ پھرنے والے بھی اور جماع کرنے والے کو پانی مل جاوے تو اس کو بموجب اس قید کے تیمم نہ چاہیے۔ حالانکہ ان کے لئے گو پانی ملے مگر کسی مرض کی وجہ سے وضو و غسل نہ ہو سکے تو تیمم کا حکم ہے اور اسی طرح مسافر کی کیا قید ہے۔ اگر انسان گھر بیٹھا ہو اور تندرست ہو اور پانی نہ ملے تو تیمم کرسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قیود
1 ؎ وھو الصحیح۔ 12۔
بااعتبار اس امر کے ہیں کہ یہ وہ مواقع ہیں کہ جہاں غالباً تیمم ہوتا ہے اور پانی نہیں ملتا۔ تشریح مقام یہ ہے کہ تیمم کی ضرورت یا حدث اصغر میں پڑتی ہے جیسا کہ پاخانہ پیشاب وغیرہ یا حدث اکبر میں جیسا کہ بیوی سے صحبت کرنا سو ان دونوں کو اوجاء احد منکم من الغائط (حدث اصغر) اولا مستم النساء (حدث اکبر) میں بیان کیا اور یہ ضرورت وضو اور غسل کرنے پر قادر نہ ہونے سے ہوتی ہے اور یہ قادر نہ ہونا بیشتر مرض یا سفر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے مواقع کو سب سے پہلے ان کنتم مرضیٰ او علی سفر میں بیان فرما دیا اس لئے سفر میں اگر پانی ملے تو تیمم نہ کرے اور اس پر علماء نے ان مواقع کو قیاس کیا ہے کہ جہاں گرانی قیمت آب یا ڈول رسی نہ ہونے کی وجہ سے وضو اور غسل پر قادر نہ ہو۔
اس کے بعد تیمم کی ترکیب بیان فرماتا ہے۔ فتیممّوا صعید اطیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم یہاں اس بات کی کچھ تشریح نہیں کہ دو ضرب مارے یا ایک۔ امام ابوحنیفہ وغیرہ آئمہ کبار فرماتے ہیں کہ اول دفعہ مٹی پر ہاتھ مار کے منہ پر پھیرے۔ دوسری دفعہ ہاتھ مار کر کہنیوں تک پھیرے۔ جیسا کہ احادیث اور فعل صحابہ وتابعین سے ثابت ہے۔ بعض آئمہ کہتے ہیں ایک ضرب کافی ہے یعنی ایک بار زمین پر ہاتھ مار کر منہ اور ہاتھ پر پھیرنا جیسا کہ حدیث عمار ؓ سے سمجھا جاتا ہے جس کو بخاری و مسلم نے روایت ہے۔ صعیدا کے معنی زمین کے ہیں خواہ ریتا ہو یا چکنا پتھر ہو یا غبار ہو سب پر تیمم جائز ہے اور طیبا سے مراد یہ ہے کہ نجس نہ ہو اور یہی مذہب امام مالک اور ابوحنیفہ اور سفیان ثوری کا ہے اور امام شافعی اور احمد کہتے ہیں مٹی کے سوا اور کسی چیز سے تیمم درست نہیں کیونکہ صعیدا کے معنی زمین اور طیبا کے معنی عمدہ جس پر گھاس اگنے کی صلاحیت ہو۔ اس آیت کا شان نزول یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ مع حضرت عائشہ ؓ ایک بار جہاد میں گئے۔ ایک جگہ پر عائشہ ؓ کا گلو بند کھو گیا جس کو وہ اپنی بہن سے مانگ کر ساتھ لائی تھیں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے قافلہ کو ٹھہرنے کا حکم دیا۔ ابوبکر ؓ نے عائشہ ؓ کو جھڑکا کہ تیری وجہ سے یہاں قیام کرنا پڑا نہ پانی ہے نہ اناج لوگ نالاں ہیں۔ اس پر یہ آیت تیمم نازل ہوئی جس سے لوگ بہت خوش ہوگئے۔
1 ؎ مدینہ کے یہود اس مجموعہ میں بھی کہ جو توریت کے نام سے نامزد تھا اپنے اغراض فاسدہ سے تحریف لفظی اور معنوی کردیا کرتے تھے۔ ایک لفظ کی جگہ اپنے مطلب کے موافق دوسرے لفظ لکھ دیتے تھے اور کبھی لکھے کے خلاف پڑھ دیتے تھے کبھی معنی نئے پیدا کردیتے تھے تاکہ ان پر الزام عائد نہ ہو۔ ان کی بات درست رہے۔ 12 منہ۔
2 ؎ اطراف مدینہ کے یہود جب آنحضرت ﷺ کی مجلس میں آتے تو قابلیت جتلاتے اور نبی (علیہ السلام) اور مسلمانوں کو احمق بنانے کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتے تھے سمعنا وعصیناسن لیا اور نہ مانا۔ عرب میں بزرگ کے کلام کو سن کر سمعنا واطعنا کہا کرتے تھے کہ سن لیا اور مان لیا مگر یہ عصینا کہتے تھے۔ اور بزرگوں کو مخاطب بناتے وقت اسمع وانظر نا کہتے تھے کہ سنیے ہماری طرف التفات فرمایئے مگر یہ اسمع غیر مسمع کہتے تھے جو گستاخی کا کلمہ ہے کہ جس کے معنی ہیں کہ سن اور پھر سننا نصیب نہ ہو اور انظرنا کی جگہ زبان دبا کر راعنا کہتے تھے۔ ظاہر تو اس کے معنی ہیں ہماری حمایت کیجئے مگر اس کو کھینچ کر کہنے سے راعینا ہوجاتا ہے جس کے معنی ہیں ہمارا چرواہا یہ ان کی گستاخانہ اور بےادبانہ حرکات خدا کی پھٹکارکا نتیجہ تھیں اور اسی طرح السلام علیکم کی جگہ زبان مروڑ کر السام علیکم بھی کہتے تھے۔ سام موت یعنی تم کو موت آجائے۔ ان آیات میں بتلایا جاتا ہے کہ یہ ان کی قابلیت نہیں۔ خدا کی پھٹکار ہے۔ 12 منہ
Ayahs 4:44–46ترکیب : الم تر فعل انت فاعل الی الذین مفعول اول یشترون مفعول ثانی۔ من الذین ھادوا خبر ہے مبتداء محذوف کی اے الہم۔ من الذین الخ یحرفون حال ہے فاعل ھادوا سے یا یوں کہو کہ من الذین نصیرا سے متعلق ہے۔ والذین اوتوا نصیبا کا بیان بھی ہوسکتا ہے۔ عن مواضعہ متعلق ہے یحرفون سے ویقولون معطوف ہے ‘ یحرفون پر غیر مسمع حال ہے اور قولا محذوف کی صفت بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : جبکہ تیمم کا مسئلہ پہلی آیت میں ہوا تو یہودی علماء نے اپنے ہاں کے سخت احکام کے مقابلہ پر اس پر تمسخر کیا اور کہنے لگے پانی سے نجاست کا دور ہونا تو ایک معقول بات تھی بھلا خاک پر ہاتھ مار کے ہاتھ منہ پر پھیرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ یہ شخص یعنی
آنحضرت ﷺ نبی برحق نہیں۔ اس کا یہ زور شور چند روز میں مٹ جائے گا بالخصوص ان میں سے دو یہودی عالم عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کے پاس جا کر اسلام کی ہجو کیا کرتے اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک ڈالا کرتے تھے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کا جواب رواں آیات میں نازل فرمایا اور چونکہ اول اس سورة سے یہاں تک احکام بیان ہوئے تھے اس جگہ سے مخالفوں کے شکوک و شبہات کا رد اور جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب شروع ہوتی ہے تاکہ ایک قسم کے کلام سے مخاطب کی طبیعت پر گرانی نہ پیدا ہو اور اس لئے قرآن میں یہ طریقہ رکھا گیا کہ ایک علم کے بعد دوسرا علم بیان ہوتا رہتا ہے۔ فرماتا ہے کہ اے نبی ! دیکھو جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا یعنی فی الجملہ ان کو الہامی شریعت اور کلام انبیاء سے آگاہی ہے۔ وہ باوجود اس کے دین حق اور اس کے سچے رہبروں پر طعن کرکے گمراہی خرید رہے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ خود گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے یہ دونوں وصف جس میں ہوں خدا کی پناہ اس کی شقاوت اور بدبختی کا کیا ٹھکانا ہے۔ پھر فرماتا ہے وہ تمہارے دشمنوں کو جانتا ہے۔ وہ تمہارا حامی ہے تم کچھ ان سے خوف نہ کرو اس کے بعد خصوصاً یہود کی چند عادت بد ذکر فرماتا ہے تاکہ یہ بات معلوم ہو کہ وہ کونسی باتیں ہیں جن سے گمراہی خرید رہے ہیں اور خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔
(اول) یحرفون الکلم عن مواضعہ کی ضمیر کلم کی طرف راجع ہے۔ گرچہ قیاس ظاہری بھی چاہتا تھا کہ کلم چونکہ کلمۃ کی جمع مونث ہے جس کی طرف مونث کی ضمیر مواضعہا پھر انی چاہیے تھی مگر چونکہ اس جمع کے حروف مفرد سے کم ہیں پس ایسی جمع میں تذکیر و تانیث دونوں طرح ضمیریں جائز ہیں۔ قالہ الواحدی
تحریف کی بحث : تحریف بدلنا ‘ کم زیادہ کرنا یا تاویل فاسد کرنا خواہ زبانی خواہ کتاب میں۔
یہود کے اقبال بلکہ دین کی عمر طبعی ہوچکی تھی۔ اس لئے ان میں ایسی ایسی باتیں مروج ہوگئی تھیں اور یہ بات صدہا سال سے ان میں تھی، ان کے علماء دنیاوی طمع سے ہر ایک قسم کی تحریف اور تاویلات فاسدہ کرتے تھے۔ چناچہ جن مقامات تورات میں اب تک حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی خبریں پائی جاتی ہیں ان کے عجیب و غریب معانی لگا کر ان دونوں رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور نفس کتاب میں بھی انہوں نے ایسا کیا کہ عہد عتیق کے کسی نسخہ کا بھی اعتبار منصف مزاج کے نزدیک نہیں رہا۔ یہ مانا کہ حوادث دہر اور مخالف بادشاہوں کے حملوں نے اور حفظ کے دستور نہ ہونے اور قلت کاغذات و کتابت نے بھی عہد عتیق بلکہ عہد جدید کو الٹ پلٹ کردیا مگر کاتبوں کی خود غرضیوں اور سہونے بھی ہزاروں اختلافات پیدا کردیے اور پھر عیسائیوں میں بھی وہی بات پیدا ہوگئی تھی کیونکہ پیشتر وہ بھی یہودی الاصل تھے۔ یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں اس طوفانِ بےتمیزی کا کچھ ٹھکانا نہ رہا تھا۔ اس لئے ان کے علماء بوقت استدلال اپنی کتابوں سے کسی کو پتا ہی نہ لگنے دیتے تھے۔ گرچہ عیسائی علماء نے بارہویں تیرہویں صدی عیسوی میں بائبل کی مرمت کرنے میں بہت کچھ کوشش کی مگر جب مقابلہ کیا تو پھر بھی ہزاروں ہی اختلافات باقی رہ گئے۔
آج کل عیسائی مشنری اہل اسلام کے مقابلہ میں دیدہ دانستہ اس تحریف کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں بھلا کوئی اپنی مذہبی کتاب میں ایسا کرسکتا ہے اور جو کسی نے کیا تو اور لوگ اس کی خیانت کب چلنے دیتے ہیں ؟ یہ انکار شاید ناواقف لوگوں کو گونہ تردد میں ڈالتا ہو مگر جو بائبل سے بخوبی واقف ہیں ان کے روبرو یہ ہٹ دھرمی اس بات کا کامل ثبوت ہے کہ اب بھی اس قوم میں عادت قدیمانہ کا اثر باقی ہے۔
اس مختصر بحث میں گنجائش نہیں کہ میں ہر ایک قسم کی تحریف پر سینکڑوں شواہد پیش کروں مگر کسی قدر اقوال نقل کرکے نمونہ دکھاتا ہوں تاکہ ناظرین کو تصدیق ہو۔
شاہد اول : متی نے اپنی انجیل کے دوسرے باب تیئسویں آیت میں لکھا ہے کہ ” یوسف عیسیٰ کو مصر سے لے کر ایک شہر میں (جس کا نام ناصرہ تھا جا کے رہا تاکہ وہ جو نبیوں نے کہا تھا ٗپورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا “ حالانکہ اب کسی نبی کی کسی کتاب میں نہیں کہ عیسیٰ پیدا ہو کر ناصری کہلائے گا اور اس کے لئے ممفرڈ رومن کیتھولک نے اپنے سوالات مطبوعہ لندن 1843 ء میں لکھا ہے کہ اس مقام پر کریزاسٹم اپنی نویں تفسیر لکھتا ہے کہ یہود نے کتب انبیاء کو نہ صرف غفلت بلکہ بددیانتی اور عناد سے جلا دیا اور کسی میں تبدل کردیا۔ انتہٰی کلامہ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا۔
شاہد دوم : کتاب خروج کے اکیسویں باب آٹھویں آیت عبرانی تورات کے متن میں ہے کہ جو کوئی اپنی منگیتر سے ناراض ہو اس کو روا نہیں کہ اجنبی قوم کے ہاتھ بیچے بلکہ فدیہ لے۔ اس کے حاشیہ کے ایک نسخہ میں برخلاف لکھ دیا اور اسی طرح کتاب احبار کے 25 باب تیس (30) آیت میں ہے کہ جو کوئی شہر پناہ کے اندر اپنا گھر فروخت کرکے برس بھر تک نہ چھڑائے گا تو ہمیشہ کے لئے مشتری کا ہوگا وہ یو بل کے سات میں چھوٹ نہ جاوے گا۔ اس کے حاشیہ میں ایک نسخہ لکھا ہے کہ جس میں اثبات ہے۔ اب دیکھئے گا کس کا اعتبار کیا جاوے گا۔ احکام میں بھی تحریف پائی گئی۔
شاہد سوم : انجیل متی کے 27 باب 35 درس میں یہ فقرہ کہ مسیح کو سولی دی اور اس کے کپڑوں پر چھٹی ڈال کر ان کو بانٹ لیا تاکہ نبی کا کہا پورا ہو۔ الحاقی گریسباخ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے اور ہارن نے اپنی تفسیر کے صفحہ 330 و 31 جلد ثانی میں دلائل سے اس کا الحاق ہونا بیان کیا ہے مگر اب تک یہ فقرہ انجیل میں موجود ہے۔ یوحنا کے اول خط کے 5 باب 7 درس میں یہ فقرہ جو تثلیث کی بنیاد ہے محققین بالخصوص ہارن اور گریسباخ اور آدم کلارک اور شولز کے نزدیک قطعاً الحاقی ہے اور وہ یہ ہے کہ تین ہیں جو آسمان پر گواہی دیتے ہیں۔ باپ اور کلام اور روح القدس اور یہ تنیوں ایک ہیں۔ الخ بائبل مطبوعہ مرزا پور کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ الفاظ کسی قدیم نسخہ میں نہیں پائے جاتے حالانکہ متن میں درج ہیں زیادہ تحقیق منظور ہو تو مقدمہ تفسیر دیکھئے۔
(دوم) یہود آنحضرت ﷺ کی محفل میں آکر زبان موڑ کر تمسخر کی نیت سے یہ کلمات کہہ جاتے تھے۔ سمعنا وعصینا کہ ہم نے سن لیا اور نہ مانا واسمع غیر مسمع کہ سن ان سنی بات یعنی تجھ کو مکروہ باتیں سننی نصیب ہوں سمعنا تو پکار کر کہتے عصینا دل میں اسی طرح اسمع پکار کر غیر مسمع آہستہ سے وراعنا زبان دبا کر جس سے راعینا پیدا ہوتا تھا جو گالی ہے اور تفاخر کرتے تھے کہ ہم یہ باتیں کہہ آتے ہیں اگر وہ نبی ہوتے تو معلوم کرلیتے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خبردار کردیا اور ان بےادبوں کی حرکات ناشائستہ پر صبر اور برداشت کرنے کا حکم دیا اور ان بےادبوں کو ادب سکھایا کہ بجائے اس کے یوں کہتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا مگر یہ شقی ازلی محروم از سعادت ہیں۔
Ayahs 4:47–49ترکیب : من قبل متعلق ہے امنوا سے ‘ علی ادبارھا حال ہے وجوھا ‘ سے ‘ ویغفر جملہ مستانفہ ہے۔ مادون ذلک مفعول ہے یغفر کا مادون کے معنی سوا کے ہیں اور دون بمعنی کمتر بھی ہوسکتا ہے او نلعنہم والضمیر عائد الی اصحاب الوجوہ افتریٰ اختلق وفعل لانہ کما یطلق حقیقۃ علی القول یطلق علی الفعل ایضا مجازا۔
تفسیر : اہل کتاب کے قبائح بیان فرما کر ان کو سعادت دارین کی طرف بلاتا ہے کہ تم ایمان لائو۔ پہلے قبائح بیان کرنا اور پھر اس کی اصلاح کی تدبیر بتلانا حکمت الہامیہ کا دستور ہے کیونکہ جب تک طبیب مریض کے امراض مہلکہ کو بیان نہیں کرتا اور اس کے مآل کار موت سے نہیں ڈراتا تو مریض کی طبیعت تلخ دوائوں کے پینے پر مائل نہیں ہوتی۔ اس لئے ان آیات میں مرض بتا کر علاج بتایا کہ اس کتاب اور شریعت پر ایمان لائو جو تمہارے پاس کی چیز یعنی اصول مذہب اور مضامین باقی ماندہ تورات و دیگر کتب انبیاء کی تصدیق کرتی ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ دین محمدی کوئی ایسی سخت چیز نہیں کہ جس کے تسلیم کرنے میں کسی منصف مزاج کو (اپنے دین قدیم کے لحاظ سے بشرطیکہ وہ الہامی ہو اور اس میں تحریفات اور پچھلے مشائخ اور ریفارمروں کی قلعی نہ چڑھائی گئی ہو) کچھ تردد ہو۔ اس کے اصول وہ ہیں کہ جن کو الہام کے علاوہ دنیاوی عقلاء بھی بصدق دل قبول کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اس علاج سے روگردانی کی صورت میں جو کچھ بدنتائج پیش آنے والے تھے ان کی طرف بھی اشارہ کرکے ان کو خواب غفلت سے بیدار کردیا اور وہ بد نتیجے دو تھے۔ ایک دنیا کی بربادی اور بد اقبالی اور ذلت و خواری جو آسمانی سلطنت سے بغاوت کرنے والے کے لئے ضرور پیش آتی ہے۔ اسی کی طرف من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی اوبارھا میں اشارہ فرمایا یعنی ایمان اس شدنی سے پہلے لائو کہ جس میں چہروں کو بگاڑ کر ان کی پشت کی طرف یعنی الٹا کردیں گے یعنی وہ جو اقبال اور ترقی تھی اس کو الٹ دیں گے۔ منہ کا بگاڑنا کنایہ عزت کے بگاڑنے سے ہے اور پس پشت منہ کو کردینا اس کی سعادت سے شقاوت کی طرف پھرا دینا ہے۔ یہ محاورہ کی بات ہے اب اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم تم کو پھر اصلی حالت غلامی اور اسیری کی طرف رجوع کردیں گے یا پھر عرب سے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیں گے۔ چناچہ اس پیشین گوئی کے مطابق یہود و نصاریٰ کو صحابہ کے فتوحات سے یہ ماتحتی جو بمنزلہ غلامی اور اسیری کے ہے پیش آئی اور یہود مدینہ سے جلا وطن ہو کرچکی چولہے سر پر دھر کر شام کو گئے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان اس عالم محسوسات میں سن تمیز کو پہنچ کر گو ناگوں صنائع دیکھ کر عالم معقول کی طرف چلتا ہے۔ اگر یہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے تو شہر مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور جو شہوانی اور حیوانی باتوں میں پڑجاتا ہے تو ادھر سے منہ کے بل الٹ کر پھر اسی عالم کی طرف آجاتا ہے۔ حقیقی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ چہروں کو بگاڑ کر پس پشت کردیں۔ بری صورت بناویں۔ دوسرا عذاب آخرت ‘ اس کی طرف او نلعنہم کما لعنا اصحاب السبت میں اشارہ ہے کہ جس طرح سبت 1 ؎ میں تعدی کرنے والوں پر عہد دائود (علیہ السلام) میں ہم نے لعنت کی تھی ایسی تمیز نہ کردیں۔ چونکہ اس اعلان اور اذن عام امنوا سے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ بات تھی کہ ہم بہت سے گناہ کرچکے ہیں۔ اب ہمارا قصور کیونکر معاف ہوسکتا ہے۔ پھر ہمارا اسلام میں داخل ہونا کیا فائدہ دے گا ؟ اس لئے اس کے بعد معافی کا اعلان کردیا۔ ان اللّٰہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک مگر اس لئے کہ کسی کو حقوق عباد میں عموماً گناہوں پر جرأت نہ ہو۔ لمن یشاء کی قید بھی لگا دی کہ جس کو چاہے گا معاف کرے گا جس کو چاہے گا نہیں خدا شرک کے سوا اور سب گناہ معاف کردیتا ہے اور توبہ سے شرک بھی معاف کردیتا ہے۔
1 ؎ سبت ہفتہ کے دن کو کہتے ہیں بنی اسرائیل میں اس روز شکار اور دنیاوی کاروبار کی سخت ممانعت تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کئی سو برس بعد بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے جو کسی دریا کے کنارے بستے تھے ہفتہ کے روز بھی مچھلیوں کا شکار کرنا شروع کردیا۔ اس حیلہ سے کہ پانی کی نالیاں بنا دیں ہفتہ کے روز سے پہلے ان کے منہ کھول دیتے تھے مچھلیاں آجاتی تھیں پھر اتوار کو پکڑ لیتے تھے۔ اس وقت کے علماء نے منع بھی کیا نہ مانا لہٰذا عذاب الٰہی آیا سور بندروں جیسے چہرے ہوگئے۔ ان کو اصحاب السبت کہتے ہیں جو مسلمان ہوں اور شراب حیلے بنا کر جائز کیا کرتے ہیں۔ ان کو عبرت پکڑنا چاہیے۔ خدا کے عذاب صدہا قسم کے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 4:50–53ترکیب : کیف یفترون منصوب ہے یفترون کے سبب اور جملہ محلا منصوب ہے انظر کی وجہ سے ویقولون معطوف ہے یؤمنون پر للذین کفروا متعلق ہے یقولون سے ھولاء مبتداء اھدیٰ خبر جملہ مقولہ۔
تفسیر : پہلی آیات میں یہود پر ان کی بد افعالیوں کے سبب عتاب تھا جس کو وہ اپنے انبیائے خاندان کے سبب قابل التفات نہ سمجھتے تھے اور اس پر بھی تقدس کا دم بھرتے تھے کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں۔ تقدس ہمارا موروثی حق ہے اور ہم ابراہیم و اسحاق کی نسل ہیں جن پر آتش دوزخ ازخود حرام ہے اور ہم رات کو گناہ کرتے ہیں تو صبح تک خودبخود پاک ہوجاتے ہیں اور دن کو کرتے ہیں تو شام تک پاک ہوجاتے ہیں اور نصاریٰ میں بھی پولوس کا یہ قول کہ مسیح سب کے گناہ سر پر اٹھا کرلے گئے بہت ہی کچھ موثر تھا۔ اس لئے یہ لوگ اپنے آپ کو پاک اور جنتی سمجھتے تھے اور اسی طرح برہمنوں وغیرہ اور بہت سی اقوام میں ایسے ڈھکوسلے ہیں کہ جن پر وہ نازاں رہا کرتے ہیں۔ چناچہ ان کی تقلید سے اسلام کے جاہل فرقوں میں بھی آج کل یہ بات پائی جاتی ہے۔ کہیں یہ مشہور ہے کہ ہم فلاں پیغمبر فلاں بزرگ کی اولاد ہیں۔ ہمارے گناہ سب نیست ہوجاتے ہیں ہم خدا کے ایسے اور ایسے ہیں جس طرح کہ یہود اپنے تئیں خدا کے فرزند اور اس کے پیارے کہتے اوراقبال رفتہ کے پھر واپس آنے کی ان حرکات پر امید کرتے تھے۔ اس لئے ان کے رد میں فرمایا گیا کہ یہ کیوں ناحق اپنی تعریفیں کرتے اور پاکیزہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پاکیزہ تو وہی ہے کہ جس کو اللہ نے توفیق پرہیزگاری کی دی ہے۔ اس کے بعد حکیمانہ طور پر ان کی خیانت ظاہر فرماتا ہے۔
Ayah 4:54خود ستائی اور حسد و بخل کی برائی : (1) انظر کیف یفترون الخ کہ وہ ایسے ایسے دعوے کرکے خدا پر جھوٹے ڈھکوسلے بناتے ہیں کہ ہم اس کے فرزند اور محبوب ہیں۔ ہم پر آتش دوزخ حرام ہے اور جھوٹ باندھنا بجائے خود اثم مبین ہے (2) باوجود علم کتاب اور روشنی شریعت کے جو ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی طرح کسی قدر ان میں باقی تھی۔ جبت بت اور طاغوت یعنی شیطان پر ایمان لاتے ہیں یعنی ان کے ماننے والوں کو خدا پرستوں پر ترجیح اور فوقیت دیتے ہیں۔ چناچہ یہود مدینہ میں سے حی ابن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں اس لئے گئے کہ قریش کو آنحضرت ﷺ سے لڑنے پر آمادہ کریں اور جب مشرکین نے پوچھا کہ آیا ہم حق پر ہیں یا اہل اسلام جو صرف ایک اللہ کی عبادت جائز ٹھہراتے ہیں ؟ تو کہہ دیا کہ تم حق پر ہو۔ سو یہ بات اس لئے تھی کہ خدا نے ان پر کفر کی وجہ سے لعنت کردی ہے۔ وہ قریش کی مدد پر بھروسہ نہ کریں ‘ دشمنان خدا کا کوئی حامی نہیں ہوسکتا۔ یہ عیوب تو ان میں جہل سے متعلق جو قوت عملیہ کا نقصان ہے اس کے بعد قوت عملیہ کا نقصان بیان کرتا ہے اور قوت عملیہ کا سب سے زیادہ نقصان بخل اور حسد سے ہوتا ہے۔ یہ دونوں وصف بھی ان میں تھے۔ (1) ام لہم نصیب من الملک کیا ان کو ان کی آرزو کے موافق سلطنت تو کیا اس کا کوئی حصہ بھی باوجود بخل کے کہ جو منافی 1 ؎ سلطنت ہے مل سکتا ہے ؟
1 ؎ کس لئے کہ سلطنت کے لئے فوج اور کار پرداز ضرور ہیں اور جب انسان بخل کرتا ہے تو مفت کوئی کسی کی غلامی نہیں کرتا نہ یہ ننگ سر پر دھرتا ہے۔ پھر
اور بخل کی حالت کہ اگر سلطنت مل جاوے تو کسی کو نقیر 2 ؎ یعنی ذرہ بھی نہ دیں۔ (2) ام یحسدون الناس آنحضرت ﷺ کی شوکت روز افزوں اور نبوت اور روشنی دین پر حسد کرتے تھے کہ یہ تو ہمارا حصہ تھا۔ ان کو کیوں ملا۔ اس پر تسلی دیتا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں دائود و سلیمان ( علیہ السلام) کو سلطنت اور نبوت دی تھی۔ اب تم ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے خاندان پر کیوں حسد کرتے ہو۔
جب یہ ہے تو کون سر کٹوائے۔ پھر کس طرح سے ملک ہاتھ آئے۔ ان اخلاق رذیلہ پر یہود زمانہ گذشتہ کے اقبال کو جو دائود و سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں تھا ٗ آرزو کرتے تھے۔ سو یہ خیال محال تھا۔ 12 منہ
2 ؎ نقیر فقر سے مشق ہے جس کے معنی کہودنا ہے اس سے مراد خرمہ کا چہلکا اور یہ ضرب المثل عام ہے مراد قلت ہے اور اسی طرح اور قطمیر سے قلیل مراد ہے۔
؎ الحیت اصلہا جلسن فا بدلت التاء من السین قالہ قطرب وھہو الذی لاخیر فیہ فاختلف فی مصداقہ فقیل السحر وقیل کعب بن الاشرف الیہو وی وقیل الشیطان وقیل ضم لقریش سجدلہ الیہود لما دخلت کمۃ لمرضاۃ قریش والطاغوت من طغی یطغی ای تجاوز والحد والتاء زائدۃ کما فی الرا موت والناسوت والم المراد الشیطان وکاہن جاوز الحق 12 منہ
Ayahs 4:55–57ترکیب : من امن مبتدا منہم خبر مقدممجموعہ جملہ پر داخل ہے۔ سوف نصلیہم جملہ خبر کلمہ شرط ‘ بدلنہم جواب والذین الخ مبتداء سند خلہم خبر لہم فیہا الخ جملہ لغت یا حال ہے۔
تفسیر : یہ اسی بیان کا تتمہ ہے کہ باوجود اس کے ہم نے خاندان ابراہیم (علیہ السلام) کو خصوصاً نسل اسحاق و اسرائیل کو کتاب یعنی ظاہر شریعت و حکمت یعنی علم اسرار اور ملک عظیم یعنی قدرت دی تھی۔ اس پر بھی ان میں سے کچھ لوگ تو خدا پرست تھے اور کچھ منکر اور مخالف رہے (جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل سے واضح ہوتا ہے) پھر جب ان کا اپنے ایسے انبیاء کی نسبت یہ حال تھا تو اے محمد ﷺ آپ کی نسبت انکار اور نکتہ چینی جس قدر ہو وہ اس بدبخت قوم کے حسد کے خیال سے کچھ بھی زیادہ نہیں ہم ایسے بدبختوں کو جہنم میں جلاویں گے۔ جس طرح دنیا میں آتش حسد اور عناد میں یہ نئے نئے رنگ بدلتے ہیں اسی طرح عالم آخرت میں ان کے عذاب کی صورت ہوگی کہ جب آگ سے ایک جلد جل جاوے گی تو دوسری جلد یعنی چمڑی اور پیدا ہوجاوے گی۔ اس سے یہ غرض ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ (اگر وہ جہنم میں ڈالے جاویں گے۔ آخر وہ آگ ہے گھڑی دو گھڑی میں جل بھن کر مرجاویں گے۔ یہ تکلیف منقطع ہوجاوے گی) بلکہ وہ جہنم میں ہمیشہ جلتے رہیں گے اور ایک جسم کے بعد پھر وہی جلنے کے لئے مبدئِ غیب سے پیدا ہوگا تاکہ پورا عذاب چکھیں اور اس زندگی کو کوئی طبیب محال اور فانی نہ سمجھے بلکہ یہ سب ممکن اور اس کے قبضہ قدرت میں ہے کیونکہ ان اللّٰہ کان عزیز احکیما کہ وہ زبردست بھی ہے یعنی قادر مطلق ہے اور تادیر قائم رہنے کی اس کو سینکڑوں تدبیریں معلوم ہیں کیونکہ وہ حکیم ہے۔
قرآن کی عادت ہے کہ جہاں کہیں مخالفوں کے لئے عذاب وغیرہ عقوبات دنیا و آخرت بیان کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مطیع لوگوں کے لئے ثواب اور جنت کے نعماء بھی بیان ہوتے ہیں تاکہ مخاطب کے لئے کامل ترغیب و ترہیب حاصل ہو کر عذاب سے ڈر کر ثواب پر نظر کرکے دنیا اور اس کے لذائذِ فانیہ سے نفرت اور نیک روی اور عالم باقی کا شوق دل میں پیدا ہو۔ یہاں ان کے لئے کہ جو ایمان لا کر اچھے کام کرتے ہیں۔ یہ وعدہ ہے کہ ہم ان کو ایسے باغوں میں (نہ دنیا کے باغ بلکہ عالم قدس کے باغوں میں) بسا دیں گے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور یہ عیش ان کے لئے دنیا کے عیش کی طرح یا عالم شباب کی طرح چند روزہ نہ ہوگا بلکہ دائمی اور وہاں ان کے لئے اُنس کے لئے عالم قدس کی بیویاں بھی ہوں گی اور دراز سایہ میں رہیں گے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ جنت میں دور تک درخت متصل ہوں گے۔ اس لئے ان کا سایہ بھی دراز ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ سایہ دراز سے خدا کی مہربانی اور دائمی عنایت مراد ہے جو اس کے تقرب اور روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے۔