4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 4:142–147

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

(اے نبی ! ) بیشک منافق (اپنے نزدیک) تو خدا کو فریب دے رہے ہیں حالانکہ وہ انہیں کو دھوکا دے رہا ہے اور جبکہ وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ہارے دل سے کھڑے ہوتے ہیں ( صرف) لوگوں کو دکھانے کو اور اللہ کو تو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں۔

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

اس میں (یعنی کفر و ایمان میں) متردد ہیں نہ ان کی طرف ہیں نہ ان کی ہی طرف اور جس کو خدا گمراہ کرے سو تم (اے نبی ! ) اس کے لئے راستہ نہ پاؤ گے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

ایمان والو ایمانداروں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام قائم کرلینا چاہتے ہو۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافق آگ کے سب سے نیچے کے درجہ میں ہوں گے اور تم کو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ملے گا

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

مگر ان میں سے جنہوں نے توبہ کرلی اور وہ سنور گئے اور اللہ کو مضبوط پکڑ لیا اور وہ اللہ کے خالص فرمانبردار بھی ہوگئے سو وہ تو ایمانداروں کے ساتھ ہیں اور عنقریب اللہ ایمانداروں کو اجر عظیم دے گا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

۔ اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اور اللہ قدردان خبردار ہے۔

ترکیب : وھو خادعہم جملہ حال ہے اللہ سے ‘ کسالی حال ہے فاعل قاموا سے ‘ اسی طرح یراؤن الناس بھی حال۔ مذبذبین منصوب علی الذم ہے اور ممکن ہے کہ فاعل یذکرون سے حال ہو ہمزہ استفہام انکاری تریدون کا ضمیر انتم فاعل ان تجعلوا سلطانا مبینا مفعول اول جعل اللہ ثابت کے متعلق ہو کر مفعول ثانی اوالعکس یہ جملہ مفعول ہے تریدون ‘ کا من النار حال ہے الدرک الاسفل سے۔ مایفعل ما میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ یہ استفہام کے لئے ہو اور یفعل کا مفعول واقع ہو کر محل نصب میں ہو ‘ بعذابکم متعلق ہے یفعل سے دوم یہ کہ مانا فیہ ہو المعنی لایعذبکم تفسیر : یہ آیات بھی پہلی آیت کا تتمہ ہیں۔ ان میں منافقین کے اوصاف باقی ماندہ بتلاتا ہے تاکہ انسان کو ان اوصاف سے اجتناب کرنے کا خیال رہے اور یہ جانے کہ منافق کسی کی ذات نہیں جس میں یہ وصف ہیں وہی منافق ہے (1) ان المنافقین یخادعون الخ کہ وہ لوگ ایمان اور ظاہری طاعات کو خلوص اور امید ثواب کے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں میں شریک ہونے کے لئے اور دنیا کے لئے کرتے ہیں جس سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کو فریب دے رہے ہیں۔ گو ان کا یہ خیال نہ ہو مگر اس قسم کی کارروائی اس علام الغیوب کے روبرو اسی بات کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا وبال چونکہ خدا کی طرف سے ان پر دنیا و آخرت میں پڑنے والا تھا اس لئے 1 ؎ خادعہم فرمایا یعنی یخادعون خادعہم بطور استعارہ کے بولے گئے ہیں۔ (2) واذا اقاموا الخ کسالی بضم الکاف وفتحہا جمع کسلان بمعنی سست جیسا کہ سکران کی جمع سکارٰی آتی ہے چونکہ منافقوں کو نماز سے نہ آخرت میں امید ثواب تھی نہ ترک سے خوف عقاب بلکہ ظاہرداری تھی۔ سو ایسے کام میں قطعاً سستی اور کاہلی ہوا کرتی ہے اس لئے اس کو سستی سے ادا کرتے تھے۔ نماز میں سستی کئی طور سے ہوتی ہے۔ وقت پر جماعت سے نہ پڑھنا ‘ مکروہ اوقات میں بلارعایت شروط پڑھنا اور رکوع و سجود و قیام و قرأت میں خشوع و خضوع ملحوظ نہ ہونا یوں ہی ٹھونگیں مارنا۔ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کے عہد میں اسی طرح نماز پڑھی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ٗ پھر کر پڑھ تو نے نہیں پڑھی۔ اسی طرح کئی بار اس نے پڑھی اور آپ نے فرمایا۔ آخر آپ نے سمجھایا کہ اس طرح سے پڑھ اہل حقیقت کے نزدیک نماز میں اگر سراسر حضور قلب اور محویت نہ ہو تو نماز نہیں۔ (3) یراؤن الناس کہ وہ یہ نماز اور یہ سب باتیں ریاکاری یعنی لوگوں کے دکھانے کو کرتے ہیں اور خدا کو کم یاد کرتے ہیں۔ کم یاد کرنے سے یہ مراد کہ نماز میں صرف تکبیرات تو پڑھتے ہیں ورنہ چپ چاپ کھڑے رہتے ہیں یا نماز ہی کم پڑھتے ہیں۔ جب لوگوں کے ساتھ ہوئے تو پڑھ لی اور گھر میں ندارد۔ اور یہ بھی معنی ہیں کہ نماز کے باہر رات دن بجز دنیاوی باتوں کے منہ سے ذکر الٰہی نہیں نکلتا۔ اب بھی سینکڑوں لوگ نام کے مسلمان ہیں۔ اگر آپ چند روز بھی ان کے پاس رہیں تو بجز دنیا کے بکھیڑوں کے اللہ کا ذکر نہ سنئے گا۔ (4) مذبذبین بین ذلک یعنی وہ حیرت اور رشک میں ہیں۔ جب اسلام کی روشنی دکھائی دے جاتی ہے تو اسلام کو حق جان کر اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور جب کسی ظاہری مصیبت اور فقر و فاقہ کی گھٹا اور اندھیری آجاتی ہے تو اس کے فوائد پر نظر نہیں کرتے۔ اس کے اندیشوں کی گرج اور کڑک سے انکار کی انگلی گوش قبول و یقین میں رکھتے ہیں۔ بلاشک جب تک انسان کو نور یقین حاصل نہ ہو وہ آندھی میں پر کی طرح ادھر ادھر اڑتا پھرتا اور ڈانواں ڈول رہتا ہے۔ یہ سخت بلا ہے۔ واہ رے یقین تیرے کیا کہنے ہیں ! بدرو یقین پردہ ہائے خیال نماند سرا پردہ الا جلال بلاشک جو اس تردد کے بیابان میں پڑا تو ایسا ہی گمراہ ہوا کہ اس کا کوئی ہادی نہیں ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا سے یہی مراد ہے۔ خدا اس وادی پرخار سے بچاوے جبکہ خدا منافقوں کے اوصاف بیان کرچکا تو اس کے بعد مسلمانوں کو ان کی عادت سے صراحۃً منع فرماتا ہے یا ایہا الذین آمنوا کہ تم کفار کو دوست نہ بنائو اور نہ ان منافقوں کو منہ لگائو کیونکہ یہ اللہ سے محبت نہیں رکھتے۔ ان کی محبت تم کو غفلت اور دنیا کی خواہش کی طرف کھینچے گی اور ایک دل دو طرف نہیں رہتا۔ خدا سے غافل ہوجائو گے اور جب یہ ہوگا تو تم پر محبت الٰہی میں الزام قائم ہوگا۔ اتریدون ان تجعلوا للّٰہ علیکم سلطانا مبینا سے اسی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد منافقوں کا انجام بتلاتا ہے۔ ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار۔ درک بسکون الراء اور بعض کے نزدیک بفتح الراء بھی ہے۔ زجاج اس کو فصیح کہتے ہیں۔ ابو حاتم کہتے ہیں درک کی جمع اد راک جیسا کہ جمل اور اجمال ادراک بھی جمع ہے جیسا کہ فلس کی افلس اور کلب اکلب درک کے معنی قعر اور نہایت کے ہیں جیسا کہ دریا کی تہ۔ 1 ؎ وہ تو اپنے زعم میں خدا کو بعض کہتے ہیں لفظ رسول محذوف ہے یعنی رسول خدا کو فریب دے رہے ہیں یا بطور استعارہ کے ان کے حرکات کو فریب سے تعبیر کیا اور خدا جو ان کو اس بدفعلی کی سزا دے رہا یا قیامت میں دے گا اس کو بطور استعارہ کے یا بطور مشالکت کے خادعھم سے تعبیر کیا۔ الفاظ کے لفظی معنی پر اعتراض کرنا بےعقلی ہے۔ 12 منہ اور وجہ اس کی کہ منافق جہنم کی سب سے نیچے کی تہ میں ہوں گے یعنی سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ یہ ہے کہ کفار چونکہ ظاہر و باطن سن کر اور مخالف ہیں۔ ان سے اس قدر اسلام کو مضرت نہیں جس قدر کہ ان سے ہے۔ دیکھئے بہت سے ایسے خبیثوں سے جو درپردہ کافر و بےدین اور ظاہر میں مسلمان ہیں کس قدر اسلام کو مضرت پہنچی ہے۔ ہزاروں بدعتیں انہیں کی ایجاد ہیں۔ تاویلات رکیکہ کرکے یہی قرآن کو الٹ پلٹ کرتے ہیں۔ تمام قرآن مجید میں یہ بات مرعی رکھی گئی ہے کہ ترہیب کے بعد ترغیب اور وعدہ کے بعد وعید۔ اس لئے اپنی رحمت کاملہ سے اس کے بعد ان کے لئے توبہ کی تر غیب اس پر معافی کا وعدہ دیتا ہے۔ الا الذین تابو مگر چار باتیں شرط ہیں۔ اول تابو کہ صدق دل سے توبہ کرے۔ دوم واصلحوا کہ نیک وقتی اختیار کریں جو کچھ علم و عمل میں فساد ہے اس کی اصلاح کریں۔ سوم واعتصموا باللّٰہ کہ اللہ کو مضبوط پکڑیں یعنی اس کے دشمنوں اور دین کے مخالفوں کو چھوڑ کر اس کی ذات پر تکیہ کریں۔ چہارم واخلصوا دینہم کہ خلوص اور صدق نیت پیدا کریں کیونکہ تمام چیزوں کا مدار اسی پر ہے۔ ان چار اوصاف ذمیمہ کے مقابلہ میں یہ چار اوصاف حمیدہ بیان فرمائے۔ پھر اس کے بعد ان کو برابر کی جماعت میں داخل کرتا ہے فاولئک مع المؤمنین۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر فرماتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ عذاب ہوگا اس کے اعمالِ بد کی وجہ سے ورنہ ہم نے اپنی مخلوق کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ ہم خواہ مخواہ ان کو عذاب کریں یا ہم کو ان سے دلی نفرت ہے بلکہ اگر تم ایمان لائو اور شکر کرو تو ہم تمہیں عذاب کرکے کیا کریں گے ؟ اور جو کوئی کچھ بھی نیکی کرتا ہے تو ہم قدردانی کرتے ہیں۔
Ayahs 4:148–152

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا کو بری بات کا ظاہر کرنا پسند نہیں آتا مگر جن پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ (خود خوب) سنتا جاتا ہے

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم نیکی کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ یا کوئی برائی معاف کرو تو اللہ بھی معاف کرنے والا ( اور) قدر دان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں تفرقہ کریں اور (یہ) کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ (یہ بھی) چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان ایک اور راستہ نکالیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

(سو) ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور انہوں نے ان میں سے کسی میں بھی تفرقہ نہ کیا (سو) ان کو عنقریب اللہ تعالیٰ ان کا اجر دے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔

ترکیب : بالسوء ‘ الجہر سے متعلق ہے ای لایحب أن یجھر بالسوء من القول بیان ہے السوء کا الامن استثناء منقطع ہے موضع نصب میں بعض کہتے ہیں متصل ہے اے لا یحب ان یجھر بالسوء احد من ظلم فلا باس علیہ ان یخبر عن ظلم ظالمہ ویدعوا علیہ عند الحکام حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ حال ہو ای اولئک ھم الکافرون غیر شک۔ تفسیر : منافقوں اور گنہگاروں کو توبہ و استفغار کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا اس خوبی اور عمدہ پیرایہ سے بیان ہوا تھا کہ جس سے طبائعِ سلیمہ پر عمدہ اثر پڑتا ہے مگر بعض لوگ ان کے ایمان لانے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے بعد بھی ان کے عیوب گذشتہ بیان کرکے طعن و طنز کیا کرتے تھے اس لئے طعن وتشنیع کرنے والوں کی زبان بند کی جاتی ہے کہ لایحب اللّٰہ الجہر الخ کہ خدا کو برائی کا افشا کرنا اور کسی کے عیوب ظاہر کرنا پسند نہیں مگر مظلوم کو اجازت ہے کہ وہ اس کے ظلم و ستم بیان کرے کیونکہ بغیر بیان کرنے کے چارہ بھی نہیں مگر دراصل اب بھی ان میں کوئی بات بدباقی ہے تو خدا خود سمیع وعلیم ہے اور کو مناسب نہیں کہ اس کی عیب جوئی کرے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خود بھی اپنے گذشتہ عیوب کا بوقت توبہ اقرار و اظہار کرایا جاتا ہے کیونکہ خدا خود جانتا ہے۔ وہ ستار ہے اب توبہ کے بعد یہ بات ضرور باقی رہتی کہ اس پر کسی کے حقوق تھے یا اس نے لوگوں پر ظلم کئے تھے۔ ان کے انتقام و مطالبہ کی بابت فیصلہ فرماتا ہے۔ ان تبدوا خیرا کہ اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرکے کرو بشرطیکہ ریاکاری مقصود نہ ہو تو اس کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں تاکہ دوسروں کو بھی رغبت ہو یا تم ان توبہ کرنے والوں کی برائیاں معاف کر دو تو بہتر ہے کس لئے کہ خدا بھی غفور ہے اور اس کے انتقام لینے پر بھی قادر ہے۔ پھر جب تم کسی کو معاف نہیں کرتے تو آخر تم بھی خدا کے گناہوں سے پاک نہیں۔ قدیر کا لفظ کس لطف کے ساتھ معافی کی رغبت دلا رہا ہے جس میں تہدید کی شان بھی ہے۔ اس لئے بعد پھر ڈھیٹ اور آپ کے سیاہ کاروں کی طرف روئے سخن کیا جاتا ہے کہ اپنی برائی پر اڑے ہوئے ہیں۔ ان الذین یکفرون باللّٰہ الخ کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر رہے ہیں اور خدا اور اس کے رسولوں میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں اور وہ تفرقہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم بعض رسولوں کو تو مانیں گے یعنی انبیاء بنی اسرائیل کو۔ کیونکہ وہ ہمارے ہیں بعض کو نہیں جو ان کے غیر ہیں۔ خصوصاً نبی عربی کو کس لئے کہ یہ گنوار عربوں کے نبی ہیں ہم کو ان کی حاجت نہیں اور یہود تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی نہیں مانتے اور ایک اور میانہ راستہ جداگانہ پیدا کرنا چاہتے ہیں سو وہ مومن اور نیکوکار نہیں بلکہ اولئک ھم الکافرون حقا وہ یقینی کافر ہیں جن کے لئے ہم نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے اس میں یہود و نصاریٰ کا رد ہے جن کو منافقین مدینہ اپنا پیرو مرشد اور ان کو انبیاء سلسلہ کا کلید بردار سمجھ کر ان باتوں کو بہت کچھ مانتے تھے۔ ان کے مقابلہ میں حقیقی مومنوں کی مدح اور ان کا نیک نتیجہ بتلایا جاتا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور برابر سب کو برحق مانتے ہیں تفرقہ نہیں کرتے وہ صرف حقیقی مومن ہی نہیں بلکہ ان کو ہم بہت جلد ان کے ایمان اور نیکو کاریوں کا نیک بدلہ دیں گے اور ان کی لغزشوں کو بھی مٹا ڈالیں گے کیونکہ ہم غفور رحیم بھی ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ خدا جرم کی سزا دینے پر مجبور ہے جیسا کہ آریہ اور عیسائیوں کا کفارہ مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں اعتقاد ہے تو انہوں نے خدا کو اس صفت سے معرا کردیا جو ایک بڑا ہی نقص ہے۔
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے نبی) اہل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی کتاب اتار لاویں سو وہ تو اس سے (بھی) بڑھ کر موسیٰ سے سوال کرچکے ہیں (جبکہ انہوں نے یہ) کہا تھا کہ ہم کو کھلم کھلا خدا دکھا دے پھر تو ان پر ان کے ظلم کی وجہ سے بجلی آپڑی۔ پھر کھلی نشانیاں آنے کے بعد بھی انہوں نے بچھڑا بنا لیا۔ پھر ہم نے یہ بھی معاف کردیا تھا اور موسیٰ کو کھلا ہوا غلبہ دیا۔

ترکیب : یسئلک کا فاعل اھل کتاب کے مفعول اول ان تنزل جملہ بتاویل مصدر مفعول اکبر ثانی صفت ہے مفعول محذوف کی ‘ ای سالوا اشیاء اکبر من ذلک جہرۃ عیانا۔ تفسیر : گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے افعال زشت کی مذمت تھی کہ وہ رسولوں میں تفرقہ کرتے ہیں۔ بعض پر ایمان اور بعض سے انکار کرتے ہیں۔ اس پر اپنے آپ کو مقدس ایماندار بھی سمجھتے تھے۔ ان آیات میں ایک دوسری جہالت بیان کی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ یہود مدینہ معجزات و آیات بینات دیکھ کر بھی ایمان نہ لاتے تھے اور عناد سے یہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ایک بار آسمان سے کوئی کتاب اتروا دیجئے جس طرح کہ یکبارگی موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ سے الواح یعنی تختیاں خدا کے ہاں سے لکھوا کر لائے تھے۔ غالباً اس سوال کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے (بقول شخصے خوے بدرا بہانہ بسیار) کہ قرآن مجید مصالح اور اسرار کی وجہ سے کہ جن کا ہم نے متعدد مقام پر ذکر کیا ہے حسب حاجت تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا تھا اور اس کی بھی یہ صورت تھی کہ جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے قلب پر القا کرتے تھے۔ سو ائے آنحضرت ﷺ کے اور کسی کو نظر نہ آتے تھے۔ پھر آپ ان آیات کو لوگوں کو سناتے اور کاتبوں سے لکھوا دیتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت یہ سن رکھا تھا کہ وہ پہاڑ سے لکھوا کر تختیاں لائے تھے جن کو سب بنی اسرائیل نے آنکھ سے دیکھا جس لئے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ آسمان سے لکھی لکھائی کوئی کتاب کیوں نہیں نازل ہوتی۔ چونکہ یہ سوال صرف سرکشی کی وجہ سے تھا اور عادت اللہ یوں ہی جاری ہے کہ ایسے سوالوں پر ان کی خواہش پوری نہیں کی جاتی اس لئے یہ جواب دیا گیا کہ ان کی عادت میں یہ سرکشی ہمیشہ سے چلی آتی ہے کیونکہ اس سے پیشتر انہوں نے یعنی ان کے بزرگوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑھ کر سوال کیا تھا کہ ہم کو کھلم کھلا خداوند دکھلا دو (جب ایمان لائیں گے) حالانکہ خدا کھلم کھلا ان آنکھوں سے دیکھنا کسی بشر کی بھی قدرت نہیں لیکن یہ سوال بھی محض سرکشی سے تھا۔ اس لئے غضبِ الٰہی نازل ہوا بجلی گر پڑی۔ (یہ ماجرا کوہ طور پر واقع تھا اس کی تشریح سورة بقرہ کی تفسیر میں دیکھو) پھر فرماتا ہے کہ جبلی کج طبعوں کو کوئی معجزہ فائدہ نہیں دیتا۔ ازلی گمراہ معجزات دیکھ کر بھی ویسے ہی گمراہ اور بدکار رہتے ہیں۔ دیکھو ثم اتخذوا العجل من بعد ما جاء تہم البینات باوجود یکہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات مصر میں اور مصر سے نکل کر سفر میں دیکھے۔ تختیاں بھی دیکھیں پھر بھی اس کے بعد سب سے بڑھ کر گمراہی اختیار کی یعنی بچھڑا بنا کر پوجا مگر ہم نے اس پر بھی ان کو معاف کردیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو سلطان مبین عطا کی تھی۔ وہی ان کی نبوت و رسالت کی مسکت دلیل تھی۔ اگرچہ سلطان مبین کی تفسیر میں علماء کے متعدد اقوال ہیں۔ کوئی معجزات کہتا ہے کوئی حکومت و غلبہ بتاتا ہے لیکن دراصل سلطان مبین نبی کی ایک خاص شان ہوتی ہے جس کا اثر لوگوں پر پڑتا ہے جس لئے مخلوق ان کے حکم میں آجاتی ہے۔ یہ بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا نے دی تھی۔ اس میں اشارہ ہے کہ یہی سلطان مبین خاتم المرسلین ﷺ کو دی گئی ہے جس سے عرب جیسے وحشی ‘ متکبر ‘ سفاک خودبخود آپ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ورنہ ان کے پاس کونسا لشکر و خزانہ تھا پھر اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہوسکتا ہے جس سے وہ دن کے اندھے نہیں دیکھتے اور لکھی لکھائی کتاب آسمان سے اترنی چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اس میں بھی صدہا نکتہ چینیاں کرتے۔ اب ایسے رسول کا انکار اور تفرقہ موجب نار نہ ہو تو کیا ہوگا۔ : کسی نبی پر کوئی کتاب آسمان سے اس طرح نازل نہیں ہوئی جیسا کہ یہود نے سوال کیا تھا بلکہ الہام کے ذریعہ سے نازل ہوئی ہیں۔ وہ تختیاں جو موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے لائے تھے تورات نہ تھی بلکہ ان پر دس حکم لکھے ہوئے تھے جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات میں لکھوا دیا تھا۔ واللہ اعلم
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے عہد مستحکم لینے کے لئے ان پر کوہ طور بلند کیا اور ہم نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ (شہر کے) دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے جانا اور ہم نے ان سے (یہ بھی) کہہ دیا تھا کہ سبت کے دن زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے سخت عہد بھی لے لیا تھا

ترکیب : ورفعنا معطوف ہے آتینا پر۔ الطور مفعول رفعنا کا فوقہم ظرف ‘ بمیثاقہم متعلق ہے رفعنا سے اے بسبب اخذ المیثاق علیہم فبما نقضہم ما زائدہ ہے اور ب سببیہ متعلق ہے محذوف سے ای لعنا ھم بسبب نقضھم اور ممکن ہے کہ حرمنا سے متعلق ہو جو تین آیات کے بعد واقع ہے اور فبظلم بدل ہے اس نقضھم سے۔ میثاقہم مفعول ہے نقضہم کا وکفرھم وقتلہم وقولہم معطوف ہیں نقضہم پر وبکفرھم بھی مگر یہاں اعادہ جار کردیا گیا وقولہم اور وقولہم انا بھی اسی پر معطوف ہیں۔ بہتاناً حال ہے قولہم سے وقیل مصدر الا اتباع الظن استثناء متصل ہے یقیناً صفت ہے محذوف کی اے قتلاً یقینا وقیل مصدر من غیر لفظ الفعل۔ تفسیر : یہ بھی آیات سابقہ کا تتمہ ہے۔ اس میں یہود کی جہالتیں اور اس پر جو ان کو سزائیں ہوئی ہیں ان کا ذکر فرماتا ہے : (1) جب ان سے اس بات پر عہد لیا گیا تھا کہ تم میرے سارے حکموں پر چلنا اور انہوں نے پہلو تہی کی تو کوہ طور ان پر اٹھایا گیا۔ (2) ان کو شہر اریحاء فتح ہونے کے وقت یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس نعمت کے شکریہ میں جب شہر کے دروازوں میں سے گذرو تو جھکتے اور عاجزی کرتے ہوئے جانا ٗ تکبر نہ کرنا۔ انہوں نے اس کے برخلاف کیا۔ (3) سبت کی تعظیم کا اور اس روز کاروبار نہ کرنے کا حکم مؤکد دیا تھا اور اس پر ان سے سخت عہد بھی لیا تھا مگر انہوں نے سبت کی تعظیم نہ کی۔ دائود (علیہ السلام) کے عہد میں اس پر ان کو سزا ملی۔ ان واقعات کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ اس کے بعد وہ جو ان پر وقتاً فوقتاً مصیبتیں نازل ہوئیں (جیسا کہ فلسطیوں کا ان پر غالب آنا ‘ تابوت سکینہ کا چھن جانا کچھ لوگوں کی صورتیں مسخ ہو کر بندر کی شکل بن جانا جیسا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں واقع ہوا اور پھر بخت نصر اور دیگر بادشاہوں کے ہاتھ سے قوم اور ملک اور یروشلم کا برباد ہونا سلطنت اوراقبال کا جانا غیر قوموں کے ہاتھ میں قیدی اور غلام بننا وغیرہ۔ حوادث جن کی تفصیل تاریخ بنی اسرائیل میں ہے۔ ) ان کا سبب بیان فرماتا اور ان نالائق حرکتوں کو بتا کر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ خاندانی شریر ہیں۔ اے نبی تم سے سرکشی کرنا کچھ نئی بات نہیں۔ منجملہ ان نالائق حرکات کے (1) فبما تقضہم میثاقہم ہے۔ یہ سب سے اول گناہ عظیم ان سے سرزد ہوا کہ انہوں نے اپنے اس عہد کو جو موسیٰ (علیہ السلام) کے روبرو کیا تھا ٗ توڑ ڈالا۔ عہد احکام شرع کے بجا لانے کا اور توحید پر قائم رہنے کا تھا اور یہ عہد انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں بھی توڑا جو بچھڑا پوجا اور ان کے بعد ملک شام میں آکر غیر قوموں کی صحبت سے بھی جبکہ وہ بت پرستی اور زنا کرنے لگے اور تورات کو پس پشت ڈال دیا تھا ان واقعات کی تشریح کتاب تاریخ اور کتاب سموئیل میں موجود ہے۔ (2) کفر ھم بآیات اللّٰہ آیات اللہ سے مراد یا تورات کی آیات ہیں یا انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات یا قضاء و قدر کی وہ نشانیاں جو ہمیشہ اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ آسمان اور چاند اور سورج رات دن کا بدلنا پھر زمین کی چیزیں کہ کس ڈھنگ سے پیدا ہوتی اور نشوونما پاتی اور پھر فنا ہوجاتی ہیں جن میں غور و فکر کرنے سے انسان کو اپنی سعادت کا رستہ ملتا ہے۔ سو بنی اسرائیل نے اپنے اسی بت پرستی اور بدکاری کے زمانہ میں ان تینوں معنی کی آیت سے انکار اور کفر کیا۔ یہ بھی ان کتابوں سے بخوبی ثابت ہے۔
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

پھر ان کی عہد شکنی اور آیات الٰہی کے انکار کرنے سے اور ناحق انبیاء کو قتل کرنے کی وجہ سے (ان پر قہر نازل کیا) اور اس قول سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (غلاف نہیں) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردی تھی۔ اس لئے وہ کمترہی ایمان لاتے ہیں

(3) وقتلہم الاانبیاء بغیر حق بنی اسرائیل میں جب بت پرستی اور بدکاری نے راج پایا اور سینکڑوں برس یہی حالت رہی کہ کبھی کسی نبی اور نیک بادشاہ کی نصیحت اور کوشش سے درستی پر آگئے پھر چند روز بعد انبیاء کو ناحق قتل کرکے پھر ویسے ہی سرکش ہوگئے۔ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد جب سلطنت بنی اسرائیل کے دو ٹکڑے ہوگئے اور ان میں سے ایک سلطنت جس کو اسرائیل کی سلطنت کہا جاتا تھا اس کے اکثر بادشاہ سخت بےایمان اور بت پرست بدکار گذرے ہیں۔ انہیں ایام میں بہت انبیاء ان کے ہاتھ سے ناحق قتل ہوئے ہیں اور اخیر میں حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کو ناحق قتل کیا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی اپنے زعم میں دار پر کھینچا۔ (4) وقولہم قلوبنا غلف قفّال کہتے ہیں غلف اصل میں بتحریک لام جمع غلاف ہے تخفیف کے لیے ساکن کردیا جیسا کہ کتب رسل بسکون تاوسین اس تقدیر پر یہ بھی معنی ہوں گے کہ یہودی اپنے دلوں کو علم کا غلاف یا جزدان کہتے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم کو بہت کچھ علم حاصل ہے۔ اب ہم کو کسی کے وعظ کی کچھ ضرورت نہیں۔ چناچہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) اس بدبخت قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنا چاہتے تھے لیکن جب بھی ان کے امام و کاہن لوگوں کو ان کے وعظ سننے سے منع کیا کرتے تھے اور ممکن ہے کہ غلف کی جمع ہو جس کے معنی غلاف میں لپٹا ہوا کیونکہ خصوصاً مدینہ کے یہود بھی کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں۔ ہم اے محمد ﷺ آپ کی اس نصیحت کو ہرگز دل میں جگہ نہ دیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل طبع اللّٰہ علیہا بکفرھم فلا یؤمنون الا قلیلا کہ ان کے دل پر یہ غلاف ولاف کچھ نہیں صرف ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگا دی ہے جس کی وجہ سے ان میں ایمان نہیں جاسکتا مگر وہ قدر قلیل کہ جس کو وہ اپنے ادعا کے بموجب ایمان کہتے ہیں یا یہ قلت باعتبار قلت افراد اہل ایمان کے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان میں چونکہ کمتر لوگ ایمان لاتے ہیں اس لئے اس قوم میں کم ایمان پایا جاتا ہے اور یہ کمی اسی شامت سے ہے۔
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر سے اور مریم پر بڑا بہتان باندھنے سے

(5) وبکفرھم وقولہم علی مریم بہتانا۔ یہ نالائق فعل ان سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت صادر ہوا تھا۔ وہ یہ کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) چونکہ بغیر باپ کے صرف اس کی قدرت کاملہ سے پیدا ہوئے تھے۔ وہ اس کے منکر ہوگئے۔ وبکفرھم سے اسی طرف اشارہ ہے۔ سو انہوں نے اس قدرت کاملہ کا انکار کیا اور حضرت مریم پاکدامن پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے یہ حرامی بچہ جنا ہے اور اخیر تک اسی لئے یہود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بنظر حقارت دیکھتے رہے۔ بعض یہود کا یہ بھی گمان تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) یوسف نجار کے نطفہ سے پیدا ہوئے جن کی تقلید سے آج کل نیچری بھی یہی کہتے ہیں اور قرآن مجید کی بےجا تاویلیں کرتے ہیں مگر انجیل کی کیا تاویل کریں گے کہ جہاں روح القدس سے حاملہ پائے جانے کی تصریح ہے۔ گرچہ کسی پاکدامن عورت کو زنا کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے مگر انہوں نے اس زنا کو ایک بڑے پاکدامن شخص یعنی زکریا (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا۔ جیسا کہ عموماً یہود کا گمان بد تھا۔ بہتان عظیم ہے اس لئے بہتان کے بعد لفظ عظیم آیا۔
Ayahs 4:157–158

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کے اس کہنے سے (بھی) کہ مسیح بن مریم رسول خدا کو ہم نے قتل کر ڈالا حالانکہ نہ اس کو انہوں نے قتل کیا نہ سولی دی بلکہ ان کو اشتباہ ہوگیا اور جو لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں وہ خود شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کو اس کا کچھ بھی یقین نہیں بلکہ صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور انہوں نے اس کو قطعاً قتل نہیں کیا

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے۔

(6) وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللّٰہ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول اللہ نہ جانتے تھے مگر پھر رسول اللہ کہنا یا بطور تمسخر کے تھا جیسا کہ مکہ کے کفار آنحضرت (علیہ السلام) کو تمسخر سے کہتے تھے یایہا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ان کی والدہ ماجدہ کو برے الفاظ سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ساحر بن الساحرۃ فاعل بن الفاعلۃ کہتے تھے اس کے مقابلہ میں خدا نے رسول اللہ کا وصف ذکر کیا۔ یہ بھی ان کا سخت گناہ اور ان کی نسل در نسل بردبادی اور خرابی کا باعث تھا۔ وہ بڑے تفاخر سے کہا کرتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ مسیح کو قتل کر ڈالا جن کا رد خدا تعالیٰ اس جملہ میں کرتا ہے وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم کہ ” انہوں نے نہ ان کو قتل کیا۔ نہ سولی دی بلکہ اشتباہ واقع ہوا “۔ پھر اس اشتباہ کی اس آیت میں خود توضیح فرماتا ہے۔ وان الذین اختلفوافیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن کہ ” جو اس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں۔ خود ان کو یقین نہیں بلکہ ظنی باتیں کرتے ہیں “۔ ان الذین اختلفوا سے مراد عیسائی ہیں۔ ان کے متقدمین میں اکثر تین فریق تھے نسطور یہ ملکانیہ یعقوبیہ۔ اول فریق کا گمان یہ تھا کہ مسیح کو صلیب جسم کے طور پر ہوئی ہے نہ روح کے طور پر اور یہ بات قرین قیاس بھی ہوسکتی ہے کس لئے کہ جس قدر مارپیٹ قتل و ضرب کی تکلیفات ہیں صرف جسم عنصری پر واقع ہوتی ہیں روح کو نہ کوئی قتل کرسکتا ہے نہ مار سکتا ہے نہ دار پر کھینچ سکتا ہے۔ اسکندریہ کے اسقوف آریوس کا بھی اس کے قریب قریب عقیدہ تھا جس کی وجہ سے عیسائیوں میں بڑا اختلاف پڑا اور قسطنطین شاہ روم کو مجلس قائم کرنی پڑی۔ جیسا کہ انگریزی رومن اردو عربی تواریخ کلیسیا خصوصاً الدرۃ النفیسہ فی تاریخ کلیسہ مطبوعہ بیروت سے واضح ہوتا ہے اور آریوس الوہیت مسیح کا بھی منکر تھا۔ دوسرا فرقہ صرف روح سے صلیب پانا بیان کرتا ہے۔ تیسرا فرقہ جسم اور روح دونوں سے صلیب پانا بیان کرتا ہے بلکہ بعض فرقے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح کو صلیب نہیں ہوئی بلکہ کسی دوسرے شخص کو ‘ یہودی جھوٹی شیخی مارتے ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ خود یہود کو اختلاف تھا کیونکہ جب انہوں نے مسیح کو مکان میں بند کیا تو ان کو خدا نے چھت پھاڑ کر آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی شکل میں ایک یہودی کو کردیا۔ وہ دار پر کھینچا گیا چونکہ اس کے افشاء کرنے میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے کمالات کا اظہار تھا اس لئے یہود نے کہہ دیا کہ ہم نے خود مسیح کو قتل کیا۔ یہ سدی کا قول ہے۔ اس کی تصدیق بھی انا جیل کے بعض فقروں سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ اوپر گذرا اور خود قرآن کی یہ آیت کہہ رہی ہے وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللّٰہ الیہ وکان اللّٰہ عزیزا حکیما۔ آج کل عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے کو اپنی کتابوں اور مؤرخوں کے اقوال سے زور دے کر ثابت کیا کرتے ہیں اور اس پر یہود کی گواہی بھی لاتے ہیں لیکن اس کا جواب پہلے ہوچکا اور اگر ہم ان کے قول کو تسلیم بھی کرلیں تو قرآن کی آیت ماقتلوہ وما صلبوہ اور بل رفعہ اللّٰہ الیہ کے معنی عیسائیوں کے اول گروہ کے مطابق بھی ہوسکتے ہیں کہ دراصل جو عیسیٰ یعنی روح منور تھی نہ اس کو انہوں نے قتل کیا نہ سولی دی بلکہ وہ روح خدا کے پاس پہنچی مگر جمہور اہل اسلام اس کے قائل نہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اس کی موت سے پہلے ہر اہل کتاب اس پر ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہی دے گا۔

ترکیب : ان بمعنی مامن اھل الکتاب خبر ہے مبتداء محذوف کی جو احد ہے تقدیرہ مامن اہل الکتاب احد الالیومنن استثناء متصل ہے۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں یہود کے فضائح اور قبائح ذکر ہوئے تھے اور اس کی بھی تشریح تھی کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ ذلت و خواری دینے کا ارادہ کیا تھا وہ اس میں ناکام رہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو اس کے بالعوض عزت دی۔ ان کو آسمان پر بلایا اب اس کے بعد حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ایک اور بڑی عزت و شوکت کی خبر دی جاتی ہے۔ ہر اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لائے گا جبکہ ان کی شوکت اور جلال دیکھیں گے اور پھر قیامت کو وہ ان پر گواہی دیں گے۔ قبل موتہ کی ضمیر میں علماء کے دو قول ہیں۔ ایک شہر بن حوشب وغیرہ کا وہ کہتے ہیں موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوئے کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ضرور ان پر یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لائے گا۔ اہل کتاب کا لغوی معنی کے لحاظ سے یہود اور نصاریٰ اور اہل اسلام سب پر اطلاق ہوسکتا ہے۔ ان میں سے نصاریٰ اور اہل اسلام تو حضرت مسیح (علیہ السلام) پر موت سے پہلے اپنی زندگی میں ایمان رکھتے ہیں اور بہ اے بخروجہ بھی لیا جاوے تو ان کے بار دیگر قرب قیامت کے دنیا میں تشریف لانے پر بھی ان کا ایمان ہے۔ رہے یہود سو ان کی نسبت یوں توجیہ کرنی پڑے گی جب وہ مرنے لگتے ہیں اور ان کو ملائکہ موت نظر آتے ہیں تو حضرت مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں۔ ہرچند وہ ایمان کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اس قول پر دو شبہ ہوتے ہیں۔ اول تو اس بات کے ثبوت کے لئے کوئی ثبوت مخبر صادق سے ہونا چاہیے حالانکہ اس کا ثبوت نہیں اور جو احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ مخدوش ہیں۔ دوسرا شبہ یہ ہے کہ ایسے وقت تو عالم غیب کا پردہ اٹھ جاتا ہے ہر منکر غیب کی باتوں کی تصدیق خواہ مخواہ کرتا ہے۔ اس میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت اور کیا فوقیت ثابت ہوئی ؟ دوسرا قول یہ ہے کہ ضمیر موتہ کی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف پھرتی ہے جس کے یہ معنی ہوئے کہ حضرت مسیح کی موت سے پہلے ان پر اہل کتاب ایمان لاوے گا اور اس میں اشارہ ہے کہ یہود جو سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کو مار ڈالا 1 ؎ وہ جھوٹے مسیح تھے۔ سو یہ ان کا قول غلط ہے وہ ہمارے پاس زندہ ہیں ان پر ان کے مرنے سے پہلے جبکہ وہ آسمان سے اتریں گے یہ منکر ایمان لائیں گے اور یہ حق ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) جب قیامت کے قریب نازل ہوں گے اور امام مہدی بھی ہوں گے سو اس وقت سوا دین حق کے اور کوئی دین دنیا پر غالب نہ ہوگا۔ 1 ؎ یہ دلیل ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) زندہ ہیں اور قرب قیامت جلال و شوکت سے تشریف لائیں گے اور اگر ان کے آنے کا انکار کیا جائے اور موت ثابت ہوجائے تو اس تقدیر پر آیت کی تکذیب لازم آتی ہے کس لئے کہ اہل کتاب میں سے یہودی اب تک بھی مسیح (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائے۔ چہ جائیکہ ان کی زندگی میں جو تمام ہوچکی۔ 12 منہ اس وقت یہود بھی اس جلال و شوکت کو دیکھ کر ایمان لے آئیں گے اور یہ معنی اس حدیث سے ثابت ہیں کہ جس کو بخاری و مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے قریب عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے۔ صلیب 1 ؎ توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے۔ پھر ابوہریرہ ؓ نے اس کے ثبوت میں اسی آیت کو پڑھا۔
Ayahs 4:160–162

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

پھر تو ہم نے یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے کتنی ایک پاک چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سے بھی کہ وہ اللہ کی راہ سے بہت کچھ رکتے تھے

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور ان کی سود خوری سے بھی حالانکہ اس سے ان کو ممانعت کردی گئی تھی اور اس سے بھی کہ وہ ناحق لوگوں کے مال کھاتے تھے اور ان میں سے ظالموں کے لئے تو ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

البتہ ان میں سے وہ جو علم میں ثابت قدم اور مومن ہیں اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر (اے نبی) نازل ہوا اور اس پر بھی کہ جو تم سے پہلے نازل ہوچکا ہے اور (وہ) نماز بھی قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ بھی دیا کرتے ہیں اور اللہ اور قیامت کے دن پر بھی ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

ترکیب : فبظلم ب حرمنا سے متعلق ہے وبصدھم متعلق ہے حرمنا سے واخذھم اس پر معطوف اور اسی طرح اکلہم اور یہ سب مصادر فاعل کی طرف مضاف ہیں۔ الراسخون مبتداء فی العلم اس سے متعلق منہم راسخون سے حال والمؤمنون معطوف ہے الراسخون پر اور خبر اس کی یؤمنون ہے وقیل سنؤتیھم والمقیمین منصوب علی المدح ہے ای اعنی المقیمین وقیل انہ معطوف علی مافیہ وما فیہ والمؤمنون معطوف علیہ المؤمنون معطوف پھر یہ الراسخون پر معطوف ہیں۔ تفسیر : یہود کے اوصاف ذمیمہ کے بعد جو کچھ ان پر سزائیں نازل ہوئیں ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ منجملہ اور سزائوں کے ایک یہ بھی تھی کہ ان پر شریعت کا سخت گراں بوجھ ڈالا گیا۔ بہت سی حلال چیزیں حرام کی گئیں جیسا کہ دوسری آیت میں اس کی تفصیل ہے۔ وعلی الذین ہادوحرمنا کل ذی ظفر ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہا الا ما حملت ظہورھما اوالحوایا اوما اختلاط بعظم 1 ؎ صلیب توڑنے اور خنزیر قتل کرنے سے یہ غرض ہے کہ دین نصرانی جس میں صلیب پوجی جاتی ہے چناچہ رومن کیتھولک اب تک پوجتے ہیں اور سور کھایا جاتا ہے اس کو مٹا دیں گے اور دین الٰہی جو اسلام پر ہے اس کو قائم کریں گے اور جزیہ موقوف کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس وقت دین حق ہر ایک کو قبول کرنا پڑے گا۔ 12 منہ ذلک جزیناھم ببغیہم وانا لصادقون اور علت اس حرام کرنے کی ان کی سرکشی اور ظلم اور اللہ کے رستے سے رکنا اور سود کھانا باوجود اس سے ممانعت کی گئی تھی اور لوگوں کے ناحق مال کھانا ہے۔ واضح ہو کہ گناہ دو قسم کے ہیں ایک خلق اللہ پر ظلم کرنا دوسرے دین حق سے سرکشی کرنا اول کی طرف فبظلم میں اشارہ ہے دوسرے کی طرف وبصدھم عن سبیل اللّٰہ کثیرا میں ظلم اور خونریزی یہود میں بہت کچھ تھی۔ آج کیا یہودا کے قبیلہ نے بنیامین کے قبیلہ پر چڑھائی کرکے ہزاروں کو تہ تیغ کردیا۔ کل دوسرے قبیلہ نے اور کو ایسا ہی برباد کردیا اور بیگانوں اور غیر قرموں کی تو ان کے نزدیک جان اور مال مباح تھے ؟ حضرت ﷺ کے زمانہ میں بنی نضیر و بنی قریظہ جو یہود کے دو قبیلہ مدینہ کے پاس رہتے تھے نہایت سفاکی کرتے تھے اور دین حق سے سرکشی کا کچھ ٹھکانا ہی نہ تھا۔ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں چالیس برس بیابانوں میں ہر روز معجزات و کرامات دیکھنے پر بھی کہیں بچھڑے کو پوجا کہیں تورات کے احکام سے بلکہ خود موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم سے سرتابی کی اور پھر ان کے بعد سے لے کر حضرت مسیح (علیہ السلام) تک جو کچھ دین حق سے سرکشی کی کہ جس کی وجہ سے کتب مقدسہ بھی ہاتھ سے جاتے رہے اور اخیر حضرت مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کیا اور بزعم خود سولی پر چڑھا ‘ یا بیان سے باہر ہے اور یہی حال آنحضرت ﷺ کے عہد تک اس قوم کا تھا۔ ان پر وہ صاف صاف الزام قائم کئے جاتے ہیں جو ان کے ظلم اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کامل ثبوت ہے۔ اول یہ کہ ان کے عوام (باوجود یکہ تورات میں سود کی سخت ممانعت تھی اور اب بھی پائی جاتی ہے) کھلم کھلا سود لیتے تھے اور اسی کو اپنی مرفہ الحالی کا باعث خیال کرتے تھے۔ مدینہ کے یہود سود پر اس طرح سے لین دین کرتے تھے جیسا کہ آج کل سود خور مہاجن کیا کرتے ہیں۔ اس کی طرف واکلہم الربوا میں اشارہ ہے۔ دوم ان کے علماء و حکام جو خاص لوگ تھے ان میں یہ بلا تھی کہ وہ رشوت لیتے تھے جس کی طرف واکلہم اموال الناس بالباطل میں اشارہ ہے۔ یہ دنیا کی سزا تھی جو ان جرائم کی پاداش میں ان پر بہت سی حلال چیزیں حرام کردی گئیں۔ دوسری آخرت کی سزا جس کی طرف واعتدنا للکافرین منہم عذابا الیما میں اشارہ ہے۔ چونکہ کوئی قوم بری سے بری کیوں نہ ہو اس میں چند لوگ اچھے بھی ہوتے ہیں۔ یہود میں بھی کچھ لوگ اچھے تھے۔ ان کی نسبت فرماتا ہے لکن الراسخون فی العلم منہم والمؤمنون کہ جو لوگ ان میں سے بڑے عالم اور علم میں ثابت قدم ہیں جن کو ان بشارات پر بھی نظر ہے کہ جو حضرت محمد ﷺ کی نسبت انبیائِ سابقین نے بیان فرمائے ہیں وہ لوگ یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک کہ جو کچھ اے نبی تم پر نازل ہوا اور جو تم سے پہلے نازل ہوا سب پر ایمان رکھتے ہیں (یہ تکمیل قوت نظریہ کی طرف اشارہ ہے) اور اس کے ساتھ والمقیمین الصلوۃ والموتون الزکوۃ وہ بدنی اور مالی عبادت نماز اور زکوٰۃ بھی بجا لاتے ہیں (یہ قوت عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے) نماز آنحضرت ﷺ سے پہلے یہود میں بھی تھی نہ اس طور سے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے لئے حکم ہوا بلکہ صرف رکوع و قیام یا صرف سجود و دعا اوقات مخصوصہ میں تھی اور نظریات میں جو کچھ مبداء و معاد پر ایمان لانا سب سے مقدم بات ہے گو وہ اجمالاً ما انزل الیک میں آگئے تھے لیکن پھر تصریح کردی تاکہ اس طرف اشارہ ہو کہ بعد مردن انسان کے عمدہ علوم خصوصاً ذات باری اور عالم آخرت کے متعلق اس کے ساتھ باقی رہتے ہیں اس لئے یہ بھی کہہ دیا والمؤمنون باللّٰہ عبدو عالم پر اور والیوم الاخر معاد یعنی عالم آخرت پر ان کا یقین کامل ہے۔ اس کے بعد ان کی جزاء ذکر فرماتا ہے اولئک سنؤ تیہم اجرا عظیما کہ ہم ان کو عنقریب اجر عظیم عطا کریں گے۔ حرمنا علیہم طیبت احلت لہم اس کے متعلق دو بحث ہیں۔ اول یہ کہ وہ کونسی پاک چیزیں ان پر حرام کی گئی تھیں ؟ دوسرے یہ کہ کیوں پاک چیزیں خدا نے بندوں پر حرام کیں۔ حالانکہ مضر اور ناپاک چیزوں کو حرام کرنا چاہیے تھا جیسا کہ خود فرماتا ہے یحل لہم الطیب و یحرم علیہم الخبائث اور پھر یہ کس زمانہ میں ہوا۔ اول بات کی نسبت یہ تحقیق ہے کہ یہود پر اونٹ اور خرگوش حرام کیا گیا (4) جو چارپائے جگالی کرتے ہیں یا کھر ان کے چرے ہوئے ہوتے ہیں ان کو نہ کھائو۔ تورات سفر احبار باب 11 اسی طرح چربی کی بھی ممانعت تھی جس کی تشریح اب تک یہود کی کتابوں میں موجود ہے۔ کل ذی ظفر سے کھرچرے جانور مراد ہیں اور یہی چیزیں ممنوع تھیں جن کا ذکر ہم آگے کریں گے۔ سو یہ پاک چیزیں ان پر حرام کی گئیں اور ان کو خدا نے اس لئے ان پر حرام کیا کہ ان کے نفس سرکش کو ان چیزوں کے باوجود رغبت کے روکا جاوے تاکہ نفس کی تیزی ٹوٹے۔ اس کا نمونہ تھوڑا بہت اور شریعتوں میں بھی ہے۔ اسلام نے بھی ایک اعتدال کے ساتھ نفس کی تیزی توڑنے کے لئے روزہ وغیرہ احکام صادر کئے ہیں۔ ان چیزوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت حرام کیا اور اس کا اثر حضرت ﷺ کے زمانہ تک یہود پر داغ ملامت کی طرح باقی تھا جس پر قرآن میں ان کو متنبہ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 4:163–165

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

ہم نے آپ کی طرف (بھی) اسی طرح وحی بھیجی ہے جیسا کہ نوح کی طرف اور اس کے بعد کے انبیاء پر (بھیجی تھی) اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی وحی بھیجی تھی اور ہم نے دائود کو زبور دی تھی

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے رسولوں کا حال ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں اور بہت سے رسول ہیں کہ جن کا ذکر ابھی تک ہم نے تم سے بیان نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے تو باتیں بھی کی ہیں

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

ہم نے رسولوں کو خوشخبری اور ڈر سنانے کو بھیجا تھا تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لئے کوئی بھی حجت اللہ پر باقی نہ رہے اور اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے۔

ترکیب : کما اوحینا لغت ہے مصدر محذوف کی مامصدریہ اور ممکن ہے کہ مابمعنی الذی ہو کر مفعول بہ ہو تقدیرہ او حینا الیک مثل الذین او حینا الی نوح۔ من بعدہ متعلق او حینا کے اور ممکن ہے کہ النبین سے متعلق ہو۔ رسلا منصوب فعل محذوف سے جس پر قصصنا دال ہے رسلا بدل ہے اول رسلا سے حجۃ اسم یکون للناس خبر علی اللّٰہ حال ہے حجۃ سے ممکن ہے کہ خبر علی اللہ ہو بعد الرسل ظرف ہو حجۃ کا اور ممکن ہے کہ اس کی صفت ہو۔ تفسیر : اہل کتاب خصوصاً یہود جو آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کرتے تھے اصل منشاء تو اس کا یہ تھا کہ غیر قوم کے شخص کو تسلیم کرنے سے ناانصاف لوگوں کی طبائع گریز کیا کرتے ہیں اور اپنے مذہب کا ترک کرنا خواہ اس میں کیسی ہی خرابیاں پیدا ہوں حتٰی کہ بت پرستی کا مذہب ہی کیوں نہ ہو اور مصلح کا اتباع کرنا رسم اور الفت مذہب اور مخالفت قوم کی وجہ سے سخت گراں معلوم ہوتا ہے اور چونکہ مدت سے ان میں کوئی نبی بھی نہیں آیا تھا اور ان کے انبیاء کے معجزات و کرامات ان میں مشہور تھے اور کچھ عجب نہیں کہ سینکڑوں بےاصل قصہ بھی ان کی نسبت کرامت و اعجاز کی بابت مشہور ہوں۔ خصوصاً عیسائیوں میں بھی تخمیناً چھ سو برس سے مسیح (علیہ السلام) اور حواریوں کے بہت کچھ افسانہ زبان زد تھے۔ جیسا کہ ہر قوم میں مبالغہ کے ساتھ باتیں مشہور ہوا کرتی ہیں۔ اس سبب سے نبی یا رسول کے معنی ان کے ذہن میں کچھ عجائب غرائب آدمی کے جم گئے ہوں گے کہ اس کے اوپر لکھی لکھائی آسمان سے کتاب نازل ہوتی ہے اور فرشتے اس کے پاس رات دن لوگوں کے روبرو آیا جایا کرتے ہیں اور جو معجزے لوگ اس سے طلب کرتے ہیں تو اسی وقت دکھا دیتا ہے۔ اس کو بیوی بچوں سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ تمام خدائی کے اختیارات اس کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں جیسا کہ عرب کے جاہل سمجھتے تھے کہ نبی کو کھانے پینے ‘ بازاروں میں پھرنے سے کیا علاقہ۔ چونکہ یہ باتیں ان کی تراشیدہ تھیں ان کا نبی میں پایا جانا کوئی شرط نہیں بلکہ نبی میں دو باتیں ہونی چاہییں۔ ایک وحی کا آنا ٗ دوسرے معجزات حسب مرضی الٰہی اور چونکہ اہل کتاب حضرت نوح اور ان کے بعد ابراہیم و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس و ہارون و سلیمان و دائود کو مانتے اور نبی جانتے تھے ان پر برہان الزامی قائم کرتا ہے کہ جب تم ان کو نبی جانتے ہو اب بتلائو ان کے ثبوت پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے۔ بجز ان دو باتوں کے ان کے پاس اور کیا بات تھی جو محمد ﷺ کے پاس نہیں۔ اس میں تو یہ اور وہ سب شریک ہیں اس کی طرف انا اوحینا اولئک کما او حینا الی نوح الخ میں اشارہ فرماتا ہے۔ رہے معجزات سو ان کا تو وہ وقتاً فوقتاً مشاہدہ ہی کرتے تھے کما اوحینا میں جو تشبیہ ہے وہ کیفیت نزول وحی میں بھی ہے کہ جس طرح ان کے پاس ناموس اکبر اعنی جبرئیل وحی لاتا تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی طرف اور نفس وحی کے ہدایت افزاء مضامین بھی ہے اور سب انبیاء کو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں رکھ کر شریک وحی بنانا اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اصل و بالذات انبیاء کے بھیجنے سے مقصود خلق کی ہدایت ہوتی ہے اور معجزات تو صرف نبی کی تصدیق کے لئے منکروں کے مقابلہ میں ہوتے ہیں، اب دیکھو آنحضرت ﷺ سے خلق اللہ نے کس قدر ہدایت پائی۔ عرب کی کیا حالت تھی خراب چال چلن تھے۔ بت پرستی اور توہمات کی پرستش ‘ خونریزی ‘ زنا ‘ جہالت کس درجہ تھی پھر چند برس میں کایا پلٹ گئی۔ برخلاف اور انبیائِ مذکورین کے کہ ان سے تو اس قدر بنی اسرائیل کی بھی اصلاح نہیں ہوئی۔ اب ان کو نبی کہنا اور آنحضرت ﷺ کا بلاوجہ انکار کرنا اگر وہی رسم کی پابندی نہیں تو اور کیا ہے ؟ فائدہ : آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ثبوت : (1) الی نوح کے بعد والنبین من بعدہ میں اجمالاً سب نبیوں کا ذکر آگیا تھا مگر ان میں سے بارہ نامور شخصوں کا ذکر کرنا کہ جو اہل کتاب اور عرب کے نزدیک مسلم تھے نہایت موثر تھا اس لئے ان کا ذکر کیا۔ اسماعیل (علیہ السلام) تو عرب کے نزدیک بعد ابراہیم و نوح ( علیہ السلام) کے مسلم النبوۃ تھے اور ان کے سوا گیارہ شخصوں کو اہل کتاب بھی مانتے تھے مگر یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں مانتے۔ عیسائی سب کو مانتے ہیں اس لئے ملا کر ذکر کیا۔ (2) اسباط سبط کی جمع ہے بمعنی اولاد جس طرح عرب میں قبیلہ کا اطلاق خاندان کی شاخ پر ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل میں اس کی جگہ لفظ سبط بولا جاتا تھا۔ اس سے ان کے خاندان کے انبیاء مراد ہیں جن کو بمنزلہ شخص واحد شمار کیا گیا ہے وحی زجاج کہتا ہے ایماء و اعلام علیٰ سبیل خفاء کو کہتے ہیں۔ اس کی تحقیق مقدمہ میں ہوچکی۔ زبور بروز ان فعول بمعنی بمفعول اعنی کتاب جیسا کہ اول ورکوب و حلوب اور اس کی اصل زبرت بمعنی کتبت سے ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو بھی خدا نے ایک کتاب دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ اس میں مناجات اور دعا اور فروتنی اور احکامِ الٰہی اور شریعت پر پابندی کی ترغیب اور عمدہ عمدہ نصائح تھے۔ اس نام کی ایک کتاب اب بھی اہل کتاب کے پاس ہے جس کے ہر باب کو بلفظ زبور تعبیر کیا ہے۔ اس میں خود انہیں کے علماء کا سخت اختلاف ہے کہ یہ کس کی تصنیف ہے ؟ چونکہ بہ نسبت اور انبیاء کے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام زیادہ کیا تھا اس لئے ان کا جداگانہ ذکر کیا۔ (3) رسلاً قد قصصنہم علیک اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہود اس بات پر غرہ نہ کریں کہ ہمارے ہی خاندان میں خدا نے انبیاء بھیجے ہیں اور انہیں کے گھرانہ پر خدا کی ہمیشہ نظر رحمت ہی رہے جس لئے وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انحراف کرتے ہیں بلکہ وان من امۃ الاخلافیہا نذیر کہ کوئی ایسا گروہ نہیں اور کوئی ایسی قوم نہیں کہ جس میں کوئی نہ کوئی خدا کی طرف سے ڈر سنانے والا نہ آیا ہو۔ اس لئے یہاں بھی فرما دیا کہ چند رسولوں کا حال تو ہم نے اے نبی تم سے بیان کیا اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا حال تم سے بیان نہیں کیا۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا کیا کام تھا اور کس لئے وہ بھیجے گئے تھے۔ پھر آپ ہی فرماتا ہے رسلا مبشرین و منذرین کہ ان کو ہم نے نجات اور عالم آخرت کی خوشی سنانے اور نافرمانی اور شرک و بدکاری کے برے نتیجہ سے ڈرانے کے لئے بھیجا تھا۔ سو اب اے منکرو تم اس علامت کو اس اخیر نبی محمد ﷺ میں دیکھو پائی جاتی ہے کہ نہیں ؟ جب یہ بات سب سے بڑھ کر پائی جاتی ہے اور ان کی تعلیم سب میں اعلیٰ درجہ کی ہے تو پھر نبی نہ ماننے کی کیا وجہ ہے ؟ اور جن کو تم نبی مانتے ہو پھر ان کے ثبوت کی کیا وجہ ؟ جو دلائل تم ان کے لئے قائم کرو گے سو وہ سب بوجہ کمال ان میں پائے جاتے ہیں۔ سبحان اللہ ! آنحضرت ﷺ کی نبوت پر کیا ہی عمدہ دلیل قائم کی ہے سب کے بعد اس سلسلہ انبیاء کے قائم کرنے کی وجہ بیان فرماتا ہے لئلا یکون للناس علی اللّٰہ حجۃ بعد الرسل کہ قیامت کو رسولوں کے بعد پھر اس کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے کہ الٰہی تنہا عقل امور آخرت اور افعال حسنہ اور غیر حسنہ اور تیری رضامندی اور نارضامندی کے دریافت کرنے میں قاصر تھی تو نے رسول کیوں نہیں بھیجے۔ مطلق نبوت کے ثبوت کے لئے براہمہ اور آریوں کے مقابلہ میں کیا خوب دلیل ہے۔
Ayahs 4:166–170

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

(یہ معاندگو گواہی نہ دیں) لیکن اللہ تو اپنے علم سے اس چیز پر کہ جو تم پر نازل کی ہے گواہی دیتا ہے اور فرشتے بھی شہادت دیتے ہیں اور اللہ کی گواہی بس ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کہ انکار کیا اور اللہ کی راہ سے روکا وہ تو بڑی ہی گمراہی میں جا پڑے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

بیشک جو کافر ہوگئے اور انہوں نے ظلم (بھی) کیا ان کو تو اللہ نہ بخشے گا اور نہ ان کو رستہ بتائے گا

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

مگر جہنم کا رستہ کہ جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے (بتائے گا) اور یہ (بات) خدا پر (بہت) آسان ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے رسول برحق آچکا ہے سو تم ایمان لائو ( اگر) اپنی بہتری چاہو اور اگر تم انکار کرو گے (تو کیا پروا ہے) اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ خبردار حکمت والا ہے۔

ترکیب : اللّٰہ مبتدا یشہد خبر بما اس سے متعلق والملئکتہ یشہدون جملہ کا عطف اول جملہ پر ہے کفی باللّٰہ فعل با فاعل ب زائد بعلمہ حال ہے فاعل یشہد سے اے متلبسا بعلمہ الا طریق استثناء متصل ہے خلدین حال مقدرہ ہے خیر الکم مفعول ہے فعل محذوف کا اے اقصد و اخیراً تفسیر : جبکہ یہ فرمایا تھا انا او حینا الیک تو اس پر بھی منکرین شبہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر یہ یہود تمہاری نبوت کی شہادت نہیں دیتے تو نہ دیں یہ چند نفسانیت کے بھرے ہوئے جاہل پشتینی سرکش کیا چیز ہیں ؟ خود خدا اس چیز کی کہ جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس کے فرشتے گواہی دے رہے ہیں اور اسی کی گواہی بس ہے انزلہ بعلمہ جبکہ خدا نے اپنے نازل کئے پر شہادت دینا فرمایا تو اس کے بعد اس کی صفت بھی بیان کی گئی ہم نے اس قرآن کو کمال خوبی سے نازل کیا ہے۔ اپنے علم سے نازل کیا ہے۔ کچھ یوں ہی بےسوچے سمجھے نہیں نازل کردیا جیسا کہ کہا کرتے ہیں کتب بالقلم وقطعت بالسکین میں نے اس کو قلم سے لکھا ہے نہ کسی اور چیز سے اور چھری سے کاٹا ہے اس کے بعد تمام حجت ختم کرکے ان ازلی گمراہوں اور جہنم کے اندھوں کا وصف بیان کرتا ہے کہ جو لوگ خود کافر ہوگئے محمد اور قرآن کا جو ہدایت کی دو آنکھیں ہیں ٗ انکار کر بیٹھے اور اس پر مزید یہ کہ شبہات و شکوک لوگوں کے دلوں میں ڈال کر اوروں کو بھی گمراہ کردیا جیسا کہ یہود کہتے تھے کہ ایک بار کیوں قرآن نازل نہیں ہوا اور موسیٰ کی شریعت کبھی منسوخ نہ ہوگی اور ہمارے خاندان کے سوا غیر کو استحقاق نبوت نہیں وغیرہ وغیرہ (اور اسی طرح آج کل کے پادری بھی طرح طرح کے شبہات ڈالتے ہیں) ایسے لوگ گمراہی کے اخیر درجہ پر پہنچ گئے ہیں۔ قد ضلوا ضلا لا بعیدا۔ پھر ان کی نسبت فرماتا ہے کہ ان کافروں اور ظالموں کو خدا معاف نہیں کرے گا کیونکہ یہ ازلی گمراہ ہیں اور اس لئے ان کو سوائے جہنم کے رستہ کے اور کوئی رستہ ہدایت کا نہیں دکھائے گا۔ ان کو جب سوجھے گی تو اندھی بات سوجھے گی اور یہی جہنم کارستہ ہے۔ یہود کے شکوک و شبہات کا جواب دے کر تمام بنی آدم کو اعلان کرتا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس ان کا پیغامبر حق بات قرآن و توحید و احکام فطرت لے کر آیا ہے سو تم ایمان لائو۔ اس میں تمہاری بہتری ہے اور اگر تم انکار کرو گے تو ہم کو کچھ پروا نہیں۔ کس لئے کہ آسمان و زمین کی بادشاہت ہمارے لئے ہے۔ آسمانوں میں لاکھوں قدوسی ہماری عبادت و تسبیح و تقدیس کر رہے ہیں۔ اللہ عالم و حکیم ہے۔ شریعت اور الہام میں جو کچھ خوبیاں تمہارے لئے رکھی گئیں ان کو وہی خوب جانتا ہے۔