Ayahs 4:105–106ترکیب : اراک کا مفعول اور ک اور مفعول ثانی محذوف ہے ای ارا کہ یرم بہ کی ضمیر اثما کی طرف راجع ہے اور خطیئۃ حکم اثم میں ہے اور بعض کہتے ہیں یکسب سے جو کسب سمجھا جاتا ہے اس کی طرف پھرتی ہے۔
تفسیر : پچھلی آیتوں میں جہاد کے اندر نماز کا حال اور پھر جہاد کی ترغیب بیان ہوئی تھی جس سے مخالفوں پر حق و ناحق وقت بےوقت زیادتی کرنے کا خیال عام طبائع میں پیدا ہونے کا احتمال تھا کس لئے کہ عام طبائع میں یہ جبلی بات ہے کہ جب ان کو جنگ کی طرف رغبت دلائی جاتی ہے تو اپنی طرف سے اور بھی شدت و سختی کرنے کی خواہش کیا کرتے ہیں کیونکہ افراط وتفریط انسان کی طبیعت میں خمیر کی گئی ہے اس لئے اس کے بعد ان آیتوں میں اس بات کی تہدید کی گئی ہے کہ جہاد اور قتال اپنے موقع پر ہے باقی ہر ایک معاملہ میں مومن و کافر یگانہ و بیگانہ کا لحاظ نہیں بلکہ حق اور انصاف کو معاملات میں موافق قانونِ الٰہی یعنی کتاب اللہ کے ملحوظ رکھنا چاہیے۔ ان آیات کا مطلب صاف سمجھ میں آنا ایک قصہ یا واقعہ کے سننے پر موقوف ہے جو آنحضرت (علیہ السلام) کے عہد میں ان آیات کے نازل ہونے سے پہلے گذرا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور وہ قصہ ان آیات کا سبب نزول ہے اور وہ یہ ہے کہ مدینہ میں طعمہ 2 ؎ بن ابیرق ایک شخص بظاہر مسلمان اور درپردہ خراب آدمی تھا۔ اس نے قتادہ بن نعمان کی زرہ چرا کر ایک یہودی 3 ؎ کے ہاں رکھ دی۔ اتفاق سے وہ زرہ اس یہودی کے ہاں سے برآمد ہوگئی۔ یہودی نے کہہ دیا کہ میں چرائی نہیں بلکہ میرے پاس طمعہ رکھ گیا ہے۔ طمعہ سے پوچھا تو وہ صاف انکار کر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے ہرگز نہیں چرائی اور اس میں طعمہ کے بھائی بند اور اکثر مسلمان اس کو مسلمان سمجھ کر مددگار بن کر جھگڑنے لگے اور آنحضرت (علیہ السلام) کے روبرو بھی یہودی کو ملزم ٹھہرانے لگے اور چوری کی سزا کا وہی بیچارہ مستحق ٹھہرنے لگا۔ چونکہ بظاہر یہودی کے گھر سے مال برآمد ہوا تھا اور یہودی کے قول پر کوئی گواہ یا دلیل بھی نہ تھی کہ طعمہ نے اس کو دی ہے اس لئے آنحضرت (علیہ السلام) کا خیال بھی اس باب میں یہودی کی طرف تھا کہ غالباً اس نے چرائی ہے کس لئے کہ وحی تو ہنوز اس امر میں نازل ہوئی نہ تھی کہ غیب کا حال منکشف ہوتا۔ اس میں قریب تھا کہ یہودی کو قطع ید کی سزا دی جائے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ انا انزلنا الی خصیما کہ ہم نے اے نبی آپ کے اوپر قرآن برحق اس لئے نازل کیا ہے کہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق بما ارک اللّٰہ (ای علمک فیہ) فیصلہ کیا کریں اور خیانت کرنے والوں طعمہ وغیرہم کی طرف سے جوابدہی اور جھگڑا نہ کیا کریں بلکہ اس قصد سے واستغفر اللّٰہ خدا سے معافی چاہو کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ پھر اس حکم کی تاکید کرتا ہے ولا تجادل عن الذین یختانون انفسہم۔ کہ آپ ان خیانت کاروں کی حمایت نہ کرو ( گنہگار یا چور غیر کی تو خیانت کرتا ہی ہے مگر دراصل اپنے نفس کی بھی خیانت کرتا ہے کہ اپنی نعمائِ جنت و عیش آخرت کو برباد کرتا ہے) کس لئے کہ ان اللّٰہ لا یحب من کان خوانا اثیما خدا کو کسی دغا باز خائن گنہگار سے محبت نہیں خوان مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس سے طمع وغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ بظاہر اس نے ایک خیانت کی تھی مگر انکار کرنا اور کسی بےجرم پر جرم لگانا یہ بھی خیانت ہے علاوہ اس کے بعض روایات سے ثابت ہے کہ طعمہ ہاتھ کاٹنے کی سزا سے ڈر کر مرتد ہو کر چلا گیا اور پھر وہاں بھی اس نے کسی کے گھر میں نقب لگائی دیوار گر پڑی دب کر مرگیا اس لئے اس کو خوان اثیم کے الفاظ سے یاد کیا گیا۔ آگے ان کی خیانت کے ثبوت میں فرماتا ہے یستخفون من الناس کہ وہ اس امر کو شرم یا ڈر کے مارے چھپاتے ہیں مگر اس سے کیا ہوتا ہے ولا یستخفون من اللّٰہ خدا سے نہیں چھپا سکتے۔ اس پر ہر راز منکشف ہے پھر اس کا ثبوت دیتا ہے وھو معہم اذا یبیتون مالا یرضٰی من القول کہ جب وہ رات کو ناپسند باتیں بناتے تھے تو وہ ان کے ساتھ تھا بیت کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں اور بیت کے معنی شب گذارنے کے بھی ہیں جس سے اس مخفی بات کی اشارہ ہے جو طعمہ نے زرہ برآمد ہونے کے وقت کی تھی۔ وہ یہ کہ رات کو ایک گوشہ میں بیٹھ کر طعمہ نے اپنے بھائیوں دوستوں سے یہ کہا کہ میں یہودی کے ذمہ لگا دوں گا اور قسم کھا جائوں گا۔ تم بھی میری اس امر میں اعانت کرنا۔ اس کے بعد عموماً ان مسلمانوں کو تنبیہ کرتا ہے جو طعمہ کے اس کی ظاہری دینداری کی وجہ سے طرفدار ہوگئے تھے۔ ھا انتم ھٰؤلاء جادلتہم عنہم فی الحیٰوۃ الدنیا تم ان کی طرف سے دنیا میں تو جھگڑتے حمایت کرتے ہو مگر فمن یجادل اللّٰہ عنہم یوم القیامۃ ام من یکون علیہم وکیلا قیامت کو کون ان کی طرف سے جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا۔ (بلکہ کوئی بھی نہیں) جبکہ تہدید فرما چکا تو اس کے بعد توبہ کی طرف ترغیب دلائی جاتی ہے اور ترغیب کے لئے تین جملے کس حکمت بالغہ سے ذکر کئے جاتے ہیں (1) ومن یعمل سواء یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ بجد اللہ غفور ارحیما سو اس سے مراد بری بات ہے کہ جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچی جیسا کہ طعمہ کا فعل چوری اور تہمت اور ظلم نفس سے مراد وہ گناہ کہ جو اپنے نفس سے خاص ہو جیسا کہ زنا وغیرہ اس آیت میں عموماً خدا تعالیٰ بندوں کو اذن عام دیتا ہے کہ جو گنہگار ہماری جناب عالی میں معافی چاہے گا تو ہم اس کو معاف کردیں گے۔
این درگہ مادرگہ نومیدی نیست
صدبار اگر توبہ شکستی باز آ
بعض علماء کہتے ہیں کہ استفغار کے ساتھ توبہ بھی شرط ہے۔ (2) ومن یکسب اثما فانما یکسبہ علی نفسہ وکان اللہ علیما حکیما کہ اے بندے گنہگار تیرے اس گناہ سے ہمارا کچھ ضرر نہیں ہوا بلکہ خاص تیرا ہی ضرر ہے پھر کیوں معافی نہیں چاہتا۔ اگر تو دل میں نادم اور پشیمان اپنے فعل سے ہوگا تو ہم علیم و حکیم ہیں۔ معاف کردینا ہمارے علم و حکمت کا مقتضا ہے (3) ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ ای بذلک الکسب) برئیا فقد احتمل بہتانا واثما مبینا خطیۃ گناہ صغیرہ اثما کبیرہ اس میں اس بات کو جتلایا جاتا ہے کہ گناہ کرکے دوسرے بےگناہ کی طرف منسوب کرنا جیسا کہ طعمہ نے کیا ٗ یہ کوئی برأت کی وجہ نہیں کہ اس سے آدمی عند اللہ اور عندالناس بری ہوجایا کرے بلکہ اس کی تدبیر وہی توبہ و استفغار ہے اور یہ جو گنہگار تدبیر سوچتا ہے یہ اس کے حق میں دنیا اور آخرت میں مضر ہے۔ بہتان سے اشارہ دنیا کی ندامت اور اثم مبین سے آخرت کی مذمت کی طرف ہے۔
: ان آیات میں مدینہ کے منافقوں کی طرفداری و حمایت پر عنایت ہے منافق بڑے چرب زبان تھے ان کی باتوں سے بعض مسلمان ان کی طرف سے وکالت کیا کرتے تھے کہ یہ ایسے نہیں ان کو منع کیا جاتا ہے۔ 12 منہ
2 ؎ قبیلہ بنی ظفر میں سے ہے۔ حقانی
3 ؎ جس کا نام زید بن سمین تھا۔ 12
Ayahs 4:107–1121 ؎ جو دغابازی اور خدا کی نافرمانی کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے حق میں برا کرتے ہیں کس لئے کہ اس کا وبال اور انجام کار انہی پر پڑتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 4:113ترکیب : لہمت جواب لولا۔ مایضرونک من شیء من زائد ہے وشیء بمعنی ضرر ہو کر مفعول مطلق ہے۔ من نجواھم صفت ہے الامن امر استثناء لا خیر فی کثیر من نجواھم سے ہے نجوٰی مصدر ہے بمعنی مشورہ اور من ذات اشخاص کے لئے تو استثناء منقطع ہوگا اور یہ بھی بلغاء کے کلام میں بکثرت مستعمل ہے اور نجوٰی کا اطلاق کبھی مشورہ کرنے والوں پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ آیا ہے اذھم نجوٰی اس صورت میں استثناء متصل ہوگا موضع جر میں بھی اور نصب میں بھی۔
تفسیر : اجماع امت کا برحق ہونا : ان آیات میں بھی اسی واقعہ کی طرف بطور تکملہ اور تتمہ کے اشارہ ہے۔ فرماتا ہے کہ اگر خدا کا تم پر فضل و رحمت نہ ہوتی تو ایک گروہ نے ان میں سے (یعنی طعمہ اور اس کے اقارب نے) اے نبی تم کو بہکا دینے کا قصد ہی کرلیا تھا کہ آپ سے یہودی پر ظلم کرائیں لیکن ہمیشہ اس کا تم پر فضل رہا ہے۔ اس نے وحی اور الہام سے تم کو مطلع کیا اور وہ جو آپ کے بہکانے کا قصد کرتے ہیں دراصل وہ اپنے تئیں گمراہ کرتے ہیں۔ آپ کا کچھ بھی ضرر نہ کرسکیں گے (اس میں آنحضرت ﷺ کی عصمت کی طرف اشارہ ہے۔ ) اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی اور بہت سے احکام و شرائع جو تم نہیں جانتے تھے تم کو بتلائے۔ اس سے تم پر بڑا ہی فضل رہا ہے۔ حقیقت میں انسان کو خدا کی طرف سے نعمت وحی اور الہام اور کتاب و حکمت کا ملنا اور پھر اقتدا پا کر یگانہ بیگانہ میں عدل و انصاف بھی قائم کرنا اور دنیا میں مکارم اخلاق کی تعلیم پر صبر و برداشت کرنا ‘ ایذائیں جھیلنا بھی بڑی نعمت ہے اور بڑا فضل ہے۔ ئعمہ اور اس کے اقارب جو اس امر میں خفیہ سرگوشی کیا کرتے تھے جس کو نجوٰی کہتے ہیں اس کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ سرگوشی اور خفیہ باتیں اسلام اوردین حق میں کچھ نہیں جو بات ہو کھلم کھلا اور صاف ہونی چاہیے۔ ہاں اگر نجوٰی سے کوئی خیر مقصود ہو تو مضائقہ نہیں۔ اس کے بعد خیر کی تین 1 ؎ قسم ذکر فرماتا ہے جو تمدن اور آخرت کے لئے تریاق کا حکم رکھتے ہیں۔ کس لئے کہ خیر یا دوسرے کو نفع پہنچانے میں ہے یا دفع ضرر میں اور خیر یا جسمانی ہے جیسا کہ مال کا دینا اس کی طرف امر بصدقۃ میں اشارہ ہے یا خیر روحانی۔ اس کی دو قسم ہیں تکمیل قوت نظریہ اور تکمیل قوت عملیہ یعنی علم و عمل ان کے مجموعہ کی طرف اور معروف میں اشارہ ہے یا دفع ضرر کے لئے تو اس کا او اصلاح بین الناس میں اشارہ ہے۔ اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ ان میں بھی ریاکاری نہ ہو بلکہ خالص لوجہ اللہ یہ باتیں ہونی چاہییں۔ پھر رسول کی نافرمانی اور مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی کی برائی کا بد نتیجہ بتایا جاتا ہے کہ ایسے شخص کی سزا جہنم ہے جیسا کہ طعمہ نے علیحدگی اختیار کی اور مکہ میں مرتد ہو کر مرگیا۔ اس آیت میں اجماع امت کے برحق ہونے کا ثبوت ہے اور یہ کہ اجماع کا مخالف گنہگار ہے۔ جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔
Ayahs 4:114–1151 ؎ ان تینوں میں نجوٰی اچھا ہے صدقہ میں اس لیے ظاہر کرنے میں یعنی والی کو عار ہوگا نیک نصیحت میں اخفاء اس لیے بہتر ہے کہ ظاہر میں اس کی فضیحت ہے اصلاح باہمی میں اس لیے کہ ظاہر کرنے میں اتار چڑھاؤ اصلاح کے باعث ہیں فوت ہوجاتے ہیں۔ 12
Ayahs 4:116–118ترکیب : اللّٰہ اسم ان لا یغفر خبر ان یشرک بہ مفعول ہے یغفر کا۔ لمن کالام یغفر سے متعلق ہے۔ اناثا جمع انثی علی فعال ویروابہ کل مالا روح لہ من الاحجار والاصنام والشمس ویکن ان یقال انہم کانوا یعبدون الخبائث من الشیاطین والارواح الغیر المرئۃ ویستعینون بھا ویناد ونھا فی کل شدہ غمرۃ لعنۃ اللّٰہ صفت ہے شیطاناً کی اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو جملہ بدعا کے لئے لاتخذن الخ مقولہ شیطان ہے۔
تفسیر : اگلی آیتوں میں گناہ کی معافی کی طرف اشارہ تھا یہاں اس بات کی تصریح ہے کہ گناہوں میں شرک ایسا سخت گناہ ہے کہ جس کی سزا ابدی جہنم ہے۔ یہ بغیر توبہ کے ہرگز معاف نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اس کے سوا اور جس گناہ کو چاہے گا خدا بغیر توبہ کے بھی اپنی رحمت سے بخش دے گا۔ پھر اس کی وجہ ذکر فرماتا ہے ومن یشرک الخ کہ اس عالم میں ہر ایک عاقل مخلوقات اور اس کے مصنوعات پر غور کرکے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس تمام عالم اور اس کل کائنات کا پیدا کرنے والا ایک شخص ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور ہر چیز نبی ‘ ولی ‘ فرشتہ ‘ جن ‘ چاند ‘ سورج اپنی ذات اور کمالات میں ہر دم اسی کے دست نگر اور محتاج ہیں۔ پھر جو کوئی ممکنات میں سے کسی کو خدائی میں شریک کرے تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو راہ عقل سے ہزاروں کوس دور پڑا ہے۔ ضَلَّ ضلالا بعیدا سو یہ بغاوت ہے۔ اگر اس سے توبہ و استغفار نہ کرے گا تو یہ جرم ہے۔ ہرگز عفو نہ ہوگا اور ضلالا بعیدا کی دوسری وجہ یہ ذکر کرتا ہے۔ ان یدعون من الخ کہ یہ مشرک دو قسم کے لوگ ہیں۔ بعض تو اپنے بزرگوں اور ملائکہ یا قویِٰ مدبر عالم کو اپنے نزدیک ایک خالی صورت پتھر یا پیتل یا کسی اور چیز کے بنا کے پوجتے ہیں اور جن کی یہ تصویریں ہیں ان کو بوقت پرستش یا بوقت دعا حاضر جانتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں کہ تصویر یا بت تو نہیں بناتے بلکہ جن ‘ بھوت ‘ ملائکہ ‘ ارواح ‘ غیر مرئیہ کو عالم کا مدبر کارکن سمجھ کر ان کی پرستش کرتے اور نذر و نیاز کرکے ان کو پکارتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں۔ سو اول گروہ کی نسبت فرماتا ہے ان یدعون من دونہ الا انثا کہ وہ بتوں کو پکارتے ہیں یعنی جن کو وہ حاضر سمجھ کر پکارتے ہیں ٗ وہ کہاں ہیں ؟ یہ تو انہیں بتوں کو پکار رہے ہیں عرب کے بت پرست اپنے خیالی معبودوں کو عورتوں کے نام سے نامزد کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ لات اللہ کی تانیث اور عزیٰ عزیز کی تانیث ہے، حسن کہتے ہیں کہ عرب میں ہر ایک قبیلہ کا ایک بت تھا جس کو وہ انثی کہتے تھے۔ انثی بنی فلاں اور اس کو عائشہ کی وہ قرأت کہ جس میں انثا کی جگہ اونا ثا ہے ہندوستان میں بھی کالی بھوانی لاٹوں والی بہت سی عورتیں پوجی جاتی ہیں۔
دوسرے گروہ کی نسبت فرماتا ہے وان یدعون الاشیطانا مریدا کہ وہ گو اپنے نزدیک ان ارواح غیر مرئیہ جن ‘ بھوت ‘ ملائکہ کو پوجتے ہیں اور حاضر اور موجود جانتے ہیں مگر وہاں بجز شیطان کے جس پر خدا نے لعنت کی ہے اور نہیں ہوتا اور جو کچھ کبھی ان لوگوں کو کوئی بات معلوم ہوجاتی ہے سو وہ بھی اسی کے کرشمے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد شیطان کے چند اقوال نقل کرتا ہے۔ اس کی مذمت کے لئے خواہ یہ بات شیطان نے زبان حال سے کہی ہو خواہ زبان مقال سے اسی وقت میں کہی ہو جبکہ وہ آدم (علیہ السلام) کے سجدہ نہ کرنے سے راندہ گیا تھا۔
(1) لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا فرض لغت میں قطع کو کہتے ہیں جس سے مراد مقدار معین ہے یعنی میں بندوں میں سے ایک جماعت معین کو اپنے حصے میں لے لوں گا وہ میرے کہنے پر چلیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اس کے وسواس اور خطرات کی پیروی کرتے ہیں۔
Ayahs 4:119–1221 ؎ باوجود خدا کے بندے ہونے کے شیطان کے ہی حکم بردار ہوں گے۔ 12
2 ؎؎ شیطان جہاں بنی آدم کے دل میں طرح طرح کے خیالات فاسدہ پیدا کرتا ہے ایسا کرو گے تو یوں ہوگا فلاں معبود کو پکارو گے تو رستگاری کرے گا۔ اولاد اور مواشی میں ان کی نذر و نیاز کرو گے تو برکت ہوگی۔ اسی قسم سے تھا جو وہ مکہ کے کافروں کے دل میں ڈالتا تھا کہ بتوں کی نذر و نیاز کے لئے جانوروں کے کان چیر ڈالتے تھے اور داغ دے کر ان کی شکل بگاڑ دیتے تھے۔ اس سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ یہ بتوں اور غیر اللہ کے نام سے مخصوص ہوجائیں۔ اب بھی جاہلوں بلکہ جاہل مسلمانوں میں بھی ایسے ہی دستور ہیں صرف یہ ہے کہ بتوں کی جگہ صلحاء و اولیائِ کرام کے نام سے ایسا کیا جاتا ہے۔ 12 منہ
(2) ولا ضلنہم یعنی لوگوں کو راہ راست سے گمراہ کر دوں گا۔
(3) ولا منینھم کہ میں ان کے دلوں میں طرح طرح کی آرزوئیں اور امیدیں دلائوں گا اور جب انسان کے دل میں اس قسم کی بےجا آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں تو ان سے حرص اور طول امل پیدا ہوتا ہے جو آدمی کو اخلاق ذمیمہ پر برانگیختہ کرتا ہے۔ اس لئے نبی (علیہ السلام) نے فرمایا ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے اور اس کی حرص اور خواہشیں جوان ہوتی جاتی ہیں۔ یہ دونوں وصف انسان کے اندر نہایت بد اور تمام گناہوں کا سرچشمہ ہیں۔ کس لئے کہ طول امل کی وجہ سے دل میں اس بات کا خیال بھی نہیں آتا کہ کبھی مجھے اس دار فانی سے کوچ بھی کرنا ہے۔ اس پر اس کے دلی امیدوں کا محیط ہونا جو کسی کو ساری عمر حاصل نہ ہوئی ہیں نہ ہوں گی۔ اس کو خلق کی ایذا رسانی ‘ جھوٹ ‘ ظلم ‘ دغا بازی وغیرہ باتوں میں مبتلا کرتا ہے کیونکہ یہ جانتا ہے کہ جس طرح سے ممکن ہو میری یہ آرزو حاصل ہوجائے پھر اس کے دل میں نہ کسی کا وعظ اثر کرتا ہے نہ کوئی عبرت ناک بات اثر کرتی ہے۔
(4) ولآمرنہم فلیبتکن اذان الانعام بتک کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ بولتے ہیں سیف باتک اے قاطع یعنی لوگوں کو سکھائوں گا کہ وہ بتوں کی قربانی کے لئے جانوروں کے کان کاٹا کریں گے۔ عرب کے بت پرستوں میں یہ بھی دستور تھا کہ وہ اپنے خیالی معبودوں کی نذر و نیاز اور قربانی کے لئے جانوروں کے کان کاٹ ڈالتے تھے اور یہ فعل اللہ کی نظر میں نہایت فسق اور ناپاک تھا۔
(5) ولامرنہم فلیغیرن خلق اللّٰہ کہ میں ان کو یہ بات بھی سکھائوں گا کہ وہ مخلوقِ الٰہی کو متغیر کریں گے۔
مفسرین کے اس میں دو قول ہیں۔ اول سعید بن جبیر و سعید بن المسیب وحسن وضحاک و مجاہد سدی کا قول ہے کہ تغیر خلق اللہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے ہر ایک انسان کی اصل فطرت میں راستی اور توحید پیدا کی ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ومامن مولو والا یولد علی الفطرۃ الحدیث کہ ہر شخص اصلی حالت میں فطرت پر پیدا ہوتا ہے جس کو اسلام کہا جاتا ہے مگر پھر شیطانی خیالات اور قوت وہمیہ کی وجہ سے وہ کفر و بدعت میں پڑ کر مخلوقِ الٰہی میں تغیر کردیتا ہے اور ممکن ہے کہ اس سے مراد حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردینا ہو۔ دوم اس کو ظاہر معنی پر محمول کرے۔ اس سے یہ مراد لی ہے کہ انسان میں تغیریہ ہے کہ جینے کی امید سے اس کے کان یا ناک چھیدتے تھے اور عورتیں تزئین کے لئے بالوں میں چٹلا لگاتی تھیں۔ دانتوں کو ریت کر باریک و مہین کرتی تھیں۔ مرد کو خصی کرتے تھے۔ خواجہ سرا بناتے تھے۔ اس میں ڈاڑھی منڈانا بھی آگیا اور جانوروں کے کان چیرتے تھے اور اس سے یہ بھی مراد ہے کہ ارواح بشریہ اس عالم میں بطور سفر کے اس لئے آئے ہیں کہ کمالات حاصل کرکے پھر اس عالم قدس میں جا ملیں۔ اب غضبانی اور شہوانی اور وہمانی باتوں سے روح کو تیرہ و ناپاک کردینا تغیر خلق اللہ ہے۔
ان باتوں سے شیطان کی غرض ضرر اور مرض دینی پیدا کردینا ہے سو وہ غالباً یا تشویش سے یا نقصان یا بطلان سے ہوتا ہے۔ پس تشویش کی طرف ولا منینہم میں اشارہ ہے کیونکہ جس کے دل میں اس قسم کی آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ رات دن اسی تشویش میں ہوتا ہے کہ کسی طرح ان کو حاصل کروں اور یہی مرض روحانی ہے اور نقصان کی طرف فلیبتکن اذان الانعام میں اشارہ ہے اور بطلان کی طرف والآمرنہم فلیغیرن خلق اللّٰہ میں اشارہ ہے کس لئے کہ تغیر سے وہ وصف جو مقصود ہوتا ہے باطل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ جو خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بناتا ہے وہ بڑے خسارہ میں رہتا ہے۔ خدا کو چھوڑ کر شیطان کو یار بنانا یہ ہے کہ اس کے وسواس پر عمل کرنا الہامِ الٰہی کی طرف متوجہ نہ ہونا اور نقصان کی وجہ ظاہر ہے کہ عالم آخرت میں اس کا انجام ابدی جہنم ہے۔ اس کے بعد ان امانی دفع کرنے کا علاج بتلاتا ہے اور اس کی حقیقت پر تنبیہ کرتا ہے کہ وما یعدھم الشیطان الا غرورا غرور دھوکے کو کہتے ہیں مثلاً کوئی کسی چیز کو لذیذ اور شیریں سمجھ کر منہ میں ڈالے اور وہ نہایت بدمزہ اور تلخ نکلے۔ سو اسی طرح کے یہ شیطانی وعدے ہیں جو شیطان دل میں ڈالتا ہے کہ تو دنیا کے فراہم کرنے میں کوشش کر سو وہ عمر ضائع کرتا ہے مگر پھر بھی سب باتیں حاصل نہیں ہوتیں اور جو ہوئیں موت کے وقت ان کی مفارقت سے نہایت رنج و الم ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ کہتا ہے نہ قیامت ہے نہ خدا نہ کوئی اعمال پر جزاء و سزا ہے۔ رسول صرف لوگوں کے سمجھانے کے لئے یہ باتیں بنایا کرتے ہیں۔ پھر جب مرنے لگتا ہے تو ہر ایک بات کو رسول کے کہنے کے موافق دیکھتا اور حسرت کرتا ہے۔ اس کے بعد اہل ایمان اور خدا کے فرمانبداروں کی عمدہ خوبیاں فرماتا ہے والذین آمنوا وعملوالصلحت سندخلہم جنت تجری الآیہ کہ یہ لوگ وہاں عالم خلد میں ہمیشہ مسرور و راحت پاویں گے۔
Ayahs 4:123–126ترکیب : لیس کا اسم اور خبر دونوں محذوف اور بامانیکم خبر سے متعلق ہے اے لیس الامر منوطا بامانیکم۔ من یعمل سوئً یجزبہ جواب ولا یجد معطوف ہے یجز پر۔ من ذکر او انثی بیان ہے من کا ومن مبتداء احسن ممیز دینا تمیز ممن متعلق ہے احسن افضل التفضیل سے وھو محسن جملہ حال ہے فاعل اسم سے واتبع معطوف ہے اسلم پر پھر یہ سب مجموعہ خبر ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں تھا وما یعدھم الشیطان الا غرورا کہ ان لوگوں سے شیطان جو کچھ وعدہ کرتا ہے ٗ فریب کا کرتا ہے۔ عام ہے کہ شیطان سے ابلیس مراد یا قوت وہمیہ اور اس کے وعدوں میں خیالات باطلہ کہ جو ہر ایک قوم میں خلاف حق چلے آتے ہیں مثلاً عیسائیوں میں یہ ہے کہ تمام گناہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اٹھا کرلے گئے۔ اب ہم شریعت اور حلال حرام کی قید سے آزاد ہیں۔ اسی طرح یہود میں یہ تھا کہ ہم انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد اور خدا کے پیارے بیٹے ہیں۔ نجات اور ہر ایک قسم کی کرامات کے ہم ہی مستحق ہیں یا ہندوئوں میں مشہور ہے کہ برہمن خدا کے گھر اور مکتی کے مالک ہیں اور چار قوم برہمن ‘ چھتری ‘ بیش ‘ شودر کے علاوہ سب ملیچھ یعنی ناقابل نجات ہیں یا مشرکین کے خیالات تھے کہ ہمارے یہ معبود ہم کو نجات دیں گے خواہ ہم کچھ ہی کیوں نہ کریں یا یہ خیالات کہ نہ حشر ہے نہ دوزخ نہ جنت نہ ثواب و عقاب یا بعض اہل اسلام کے یہ خیالات تھے کہ گو ہم کبائر کے مرتکب ہوں ہم پر کچھ سرزنش نہ ہوگی۔ اسلام کی وجہ سے ہم کو کچھ ضرر نہ ہوگا جیسا کہ مرجیہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ ان سب کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فیصلے کے طور یہ فرمایا ہے کہ نہ کچھ تمہارے خیالات پر ہے نہ اہل کتاب کے جو کوئی گناہ کرے گا اس کی سزا پاوے گا اور اس سزا کے روکنے میں نہ ان کا کوئی حامی ہوگا نہ مددگار نہ مسیح (علیہ السلام) نہ موسیٰ (علیہ السلام) نہ کوئی اور جو کوئی کسی قوم کا ہو نیکی کرے گا بشرطیکہ وہ ایمان بھی رکھتا ہو اس کو جنت ملے گی اور ان کے اجر سے کچھ بھی کم نہ کیا جاوے گا۔ حقیقت میں یہی ایک بات انصاف اور قانون عقل کے موافق قرآن اور مذہب کے برحق ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ خدا جب تمام عالم کا خدا ہے تو اس کو اپنے تمام بندوں سے نسبت مساوی ہے۔ انہیں حق اور روح افزا تعلیموں کی تلوار نے چند روز میں اگلے مذہب کو سرنگوں کردیا اور مشرق سے مغرب تک قومیں کی قومیں اپنے مذاہب باطلہ سے توبہ کرکے اسلام قبول کرتی گئیں اور جبکہ نجات اور حیات ابدی کا مدار ایمان پر ٹھہرایا تھا جو دراصل دین اسلام میں پایا جاتا ہے۔ اس کے بعد دین اسلام کے برحق ہونے پر دو دلیل کس لطف کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ جن کو تسلیم کرنے میں کسی منصف مزاج کو انکار کی مجال نہیں۔ اول دلیل عقلی مقدمات یقینیہ پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک دین کے دو جزو ہوتے ہیں۔ اول عقائدِ صحیحہ توحید و نبوت و معاد کے متعلق دوم اعمال صالحہ عبادات و خیرات و صلہ رحمی۔ پس جس دین میں یہ دونوں جزو موجود ہوں اس کے برحق ہونے میں کیا کلام ہے اور اسلام میں یہ دونوں ہیں۔ اول کی طرف من اسلم وجہہ للّٰہ میں اشارہ ہے اور دوسری کی طرف وھو محسن میں اشارہ ہے۔ یہ دو کیا مختصر سے جملہ ہیں کہ جن میں سینکڑوں بار یک معانی رکھے ہیں مثلاً اسلم وجہ للہ میں یہود و نصاریٰ و مشرکین کی طرف ایک لطف کے ساتھ الزام ہے کہ وہ خدا کے آگے سر نہیں جھکائے ہوئے ہیں بلکہ کہیں مسیح کو خدا کہتے ہیں ٗ کہیں عزیر کو کہیں کسی اور کو دوسری دلیل مقدمات مسلمہ اہل کتاب و مشرکین عرب پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کے نزدیک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے برگزیدہ تھے جن کو بلفظ خلیل تعبیر کیا ہے اور ان کا مذہب برحق تھا۔ اب ہر شخص اپنے مذہب کو اسی کے مطابق کرکے دیکھے کہ کون موافق اور کون مخالف ہے اور اسلام کی بنیاد سراسر انہیں سچے اصول پر رکھی گئی ہے۔ اسی دلیل کی طرف واتبع ملۃ ابراھیم حنیفا میں اشارہ کردیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کا وصف حنیف اور خلیل بیان فرما کر یہ بھی ظاہر کردیا کہ وہ کچھ خدا کے کارکن یا بیٹے نہ تھے کہ احتیاج کی وجہ سے ان کو خلیل بنایا تھا بلکہ محض ان کی عبودیت کی وجہ سے اس بات کی طرف للّٰہ ما فی السموات وما فی الارض الخ میں اشارہ فرما دیا۔
Ayah 4:127ترکیب : ومایتلی معطوف ہے فیہن کی ضمیر 1 ؎ پر اے ویفتی فی ما یتلی علیکم فی الکتاب میں فی یتلی سے متعلق ہے اور فی یتمی النساء اے فی حکم یتمی النساء بھی یتلیٰ سے متعلق ہے کس لئے کہ دونوں کے معنی مختلف ہیں اول ظرفیہ ثانی بمعنی الباء یتیمی النساء میں صفت کو موصوف کی طرف مضاف کردیا ہے وترغبون حال ہے والمستضعفین معطوف ہے ضمیر مجرور پر جو فیھن میں ہے وان بھی اسی پر معطوف ہے بغیر اعادۃ الجار وذلک جائز عندالکوفیین۔
تفسیر : قرآن مجید میں یہ ایک پر اثر بات ملحوظ رکھی گئی ہے کہ کچھ احکام بیان فرما کر اس کے بعد ترغیب و ترہیب ‘ وعدہ وعید اور جلال کبریائی کی آیتیں نازل ہوتی ہیں تاکہ مخاطب کو ان کے احکام کا نیک نتیجہ اور دنیا و آخرت میں تعمیل کا عمدہ ثمرہ معلوم ہو کر رغبت ہو اور نیز اس حکم دینے والے کی عظمت بھی دل پر پڑے۔ اس لئے اس سورة کے اول میں چند احکام بیان فرمائے تھے۔ پھر ان کے بعد ترغیب و ترہیب اور نیز کفارو منکرین کی عدول حکمی کا بد نتیجہ اور عالم آخرت کی خوبیاں اور ذات باری اور اس کے صفات کاملہ کا ذکر فرما کر پھر احکام بیان فرماتا ہے۔ اس آیت کے نازل ہونے کا یہ سبب ہے کہ عرب زمانہ جاہلیت میں نہ عورتوں کو حصہ دیا کرتے تھے اور نہ ان یتیم لڑکیوں کا (جن کے وہ ولی وارث بن کر ان سے مال و جمال کا خیال کرکے آپ نکاح کرلیتے تھے) پورا حق ادا کرتے تھے اور نہ ان کو اور لوگوں سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے تھے نہ خود برضاء ورغبت ان کا نکاح اس شخص سے کرتے تھے کہ جس سے ان کو رغبت ہو۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ فرماتا ہے کہ اے نبی وہ مسلمان تم سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ دریافت کرتے ہیں۔ چناچہ عیینہ بن حصین ؓ نے پوچھا تھا کہ یا حضرت ہم تو اس کو حصہ دیا کرتے تھے جو لڑائی میں شریک ہوتا تھا۔ اب عورتوں کا حکم ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تم کو عورتوں کے لئے بھی حصہ دینے کا فتویٰ یعنی حکم دیتا ہے اور جو کچھ کتاب یعنی قرآن میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تمہیں سنایا گیا کہ جن سے تم نکاح کی تو رغبت رکھتے ہو مگر ان کا حق و مہر پورا نہیں دیتے اور بیکس بچوں کے بارے میں بھی وہی حکم دیتا ہے جو پڑھ کر تم کو سنایا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یتیموں کے بارے میں عدل کرو اور اس کے سوا جو نیکی کرو گے وہ سب اللہ کو معلوم ہوگی کیونکہ وہ ہر ایک چیز سے واقف ہے۔ حاصل مطلب آیت یہ ہے کہ اللہ تم کو عورتوں کے لئے میراث کا فتویٰ یعنی حکم دیتا ہے اور قرآن میں پہلی آیتوں میں یتیم عورتوں اور بچوں کے حق میں جو کچھ تمہیں سنایا گیا یا اب سنایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم یتیموں کے حق میں عدل و انصاف اور بہتری ملحوظ رکھو۔ یہی خدا تعالیٰ کا فتویٰ یعنی حکم ہے۔ اس کی پابندی کرو۔ پہلے احکام کو (جو اسی سورة نساء میں یتیموں کے حق میں نازل ہوچکی ہیں) یاد دلاتا ہے کہ ان پر عمل کرو جس طرح کوئی کسی سے کوئی بات پوچھے اور وہ اس کے در جواب یہ کہہ دے کہ اس کا وہی جواب ہے جو ہم پہلے دے چکے۔ سورة نساء میں وہ حکم بیان ہوچکے ہیں اور یہاں بھی مجملاً ان تقوموا للیتمٰی بالقسط فرماتا ہے اور اس بات پر متنبہ کرتا ہے کہ جو کچھ تم نیکی اللہ کے واسطے کرو گے اس کا وہ تمہیں اجر دے گا یہ نہ سمجھو کہ یہ اس کو معلوم نہیں کیونکہ وہ ہر بات جانتا ہے۔
: عموماً عورتوں سے نکاح اور ان کی میراث کا بھی حکم پہلے بیان ہوچکا اور یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم بھی بیان ہوچکا۔ فرماتا ہے کہ اب نئی بات اور کیا پوچھتے ہیں۔ سب احکام ان کے موافق بیان کردیے گئے۔ ان پر عمل کرو اور صغیر بچوں اور یتیموں کے معاملہ میں ان کے کاروبار اگر تم ان کے ولی ہو انصاف و ایمانداری سے کرتے رہو اور تنبیہ کردی کہ جو کچھ تم نیک کام کرتے ہو خدا سے مخفی نہیں۔ 12 منہ
1 ؎ بعض کہتے ہیں مرفوع ہے بسبب ابتداء کے۔ 12 منہ
Ayahs 4:128–130ترکیب : وان شرطیہ امراۃ مبتداء خافت خبر اور صحیح یہ ہے کہ امراۃ خافت محذوف کا فاعل ہے اور یہ خافت اس کی تفسیر ہے۔ فلا جناح جواب۔ احضرت کا مفعول اول الانفس ہے جو فاعل بنایا گیا اور الشح مفعول ثانی۔
تفسیر : عورتوں کے حقوق کا ذکر پہلی آیات میں آچکا ہے اس لئے یہاں بھی ان کے بعض معاملات میں حکم دیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد بدمزاج سخت گیر ہوتا ہے اور غالباً یہ سخت گیری اور بدمزگی اس سے پیدا ہوتی ہے کہ عورت اپنے حقوق اور مہروغیرہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کی بابت ارشاد ہوتا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بدمزاجی اور بےاعتنائی کا خوف ہو تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کہ باہم کچھ حقوق چھوڑ کے مصالحت کرلی جائے کس لئے کہ انسانی جبلت ہے کہ وہ بخل کی طرف مائل ہوتا ہے۔ مرد کو دینا ناگوار معلوم ہوتا ہے جب دینے میں کمی کی جاوے گی تو باہم رضامندی ہوجانا ممکن ہے مگر اس کے ساتھ مردوں کو تنبیہ کردی کہ حقوق زائل کرنے کے بعد پھر وہی بدمزاجی اور اعراض نہ کریں وان تحسنوا وتتقوا فان اللّٰہ کان بما تعلمون خبیرا کہ اگر تم احسان اور نیکی کرو اور حقوق تلفی میں خدا سے ڈرتے رہو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ کس لئے کہ خدا کو جو کچھ تم کرتے ہو معلوم ہے۔ دوسری بات موجب اعراض و بدمزگی یہ ہوتی ہے کہ مرد کو عورت کی صورت یا عمر کے سبب بےرغبتی پیدا ہوتی ہے اور اس کے دل میں دوسری عورت سے لگائو کرنے کا خیال پیدا ہوجاتا ہے مگر پہلی بیوی کو چھوڑنا جس سے ایک عرصہ تک گھرداری کی ہے اور اس کے بال بچے بھی ہیں ایک سخت دلی اور بڑی خانہ خرابی اور بےلطفی بھی ہے اس کی نسبت بضرورت تعدد ازواج کی ضمناً اجازت تو دیتا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوتا ہے کہ دو عورتوں میں حقوق کی مساوات لازم ہے اور یہ تم سے ہونی مشکل ہے۔
حقوق کی برابری : ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم کہ متعدد عورتوں میں تم سے برابری رکھنا ہرگز نہ ہو سکے گا گو کہ تم کو دوسری عورت کی حرص ہوا کرے پھر ایسا نہ ہو کہ فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ کہ تم ایک ہی کے ہو رہو اور دوسری کو ادھر میں لٹکا ہوا رکھ چھوڑو نہ تو اس کو طلاق ہی دو نہ اس کے حقوق ادا کرو۔ پس وان تصلحوا وتتقوا اگر پہلی بیوی سے باہم مصالحت کرلو اور حق تلفی کرنے سے خدا سے ڈرو تو خدا معاف کرنے والا ہے تمہاری بےاعتنائی اور حق تلفی کو جو اس عرصہ میں تم سے ہوچکی معاف کر دے گا۔ وہ مہربان بھی ہے اس کو عورتوں اور ان کی اولاد صغار پر رحم آتا ہے اور خیر اگر پہلی بیوی سے بحسن سلوک پیش ہی نہیں آسکتے تو ہر روز تکرارو باہمی حقوق تلفی سے تو یہی بہتر ہے کہ بمجبوری طلاق ہوجائے۔ خدا ہر ایک کا کارساز ہے۔ مرد کو اور عورت کو بھی اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ خدا کے ہاتھ بڑی وسعت ہے۔ وہ حکیم بھی ہے۔ اس طلاق میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت ملحوظ ہے۔ شاید مرد کو اس سے بہتر عورت مل جائے اور عورت کو اس سے بہتر مرد مل جائے۔
Ayahs 4:131–132ترکیب : وایاکم معطوف ہے الذین پر۔ ان اتقوا اللّٰہ بیان ہے وصیت کا اور ب محذوف ہے۔ ان شرطیہ یشاء کا مفعول محذوف ہے یذھبکم جواب اور یات اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : یہاں واسع ہونے کی دلیل اور کلمہ سابق کا تتمہ ہے وللّٰہ مافی السموات والارض کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اسی کا ہے۔ اس کو کس چیز کی کمی ہے اور اسی جملہ کو ولقد وصینا الآیہ کے لئے تمہید اور دلیل بنا کر اور اپنی عظمت وکبریائی بتا کر یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ تمہیں کو شریعت اور احکامِ الٰہی پر چلنے کا حکم نہیں ہوا ہے بلکہ تم کو اور جو تم سے پہلے اہل کتاب ہیں ان کو بھی خدا سے ڈرنے کا (جو تمام شریعت اور احکامِ الٰہی پر چلنے کے لئے محرک ہے) ہم نے بتاکید حکم دیا ہے اور پھر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکم شریعت پر چلنے اور خدا سے ڈرنے کا خاص تمہارے ہی فائدہ کے لئے ہے (کیونکہ جن چیزوں میں روحانی اور جسمانی اور تمدن کے بارے میں سینکڑوں مصالح ہیں ان کو فرض و واجب کیا ہے اور جن میں ہزاروں دنیا و آخرت کی خرابیاں ہیں ان کو حرام و مکروہ قرار دیا ہے) ورنہ اللہ کو کچھ بھی پروا نہیں۔ نہ تو اس کو اس بات کی پروا ہے کہ تمہاری اطاعت سے اس کی شوکت و حکمت بنی رہے گی کس لئے فان للّٰہ ما فی السموات وما فی الارض کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا وہ مالک ہے ہر شے پر اس کا قبضہ ہے اور نہ اس بات کی کہ اس میں اس کا کوئی ذاتی نفع و نقصان ہے۔ کس لئے کہ کان اللّٰہ غنیا حمیدا وہ اپنی ذات وصفات میں کسی کا بھی محتاج نہیں بلکہ سب خوبیاں اس کو بلا توسط غیر حاصل ہیں اور تم یہ بھی غرور دل میں نہ کرو کہ ہم ہی پر خدا کی فرمانبرداری اور تسبیح و تقدیس کا انحصار ہے۔ اگر ہم نہ کریں گے تو پھر اور کوئی اس کی فرماں برداری نہ کرے گا یا اس کے اسرار ربوبیت ظاہر نہ ہوں گے کیونکہ للہ مافی الخ یعنی وہ بڑا قادر اور کارساز ہے۔ ایسی صورت میں وہ تم کو نیست و نابود اور ایک ایسی قوم فرمانبردار پیدا کرسکتا ہے کہ جو اس کی شریعت اور اس کے رستوں پر دل سے چلے گی وکان اللّٰہ علی ذلک قدیرا۔ اس میں ضمناً اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دین الٰہی اور اس کے جلال کبریائی زمین پر ظاہر کرنے میں کسی قوم اور کسی شخص پر انحصار نہیں۔ جب بنی اسرائیل نے از حد نافرمانی کی تو اس نے ان کو پامال کرکے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے تابعداروں کو اور حواریوں کو سرفراز کیا۔ پھر جب انہوں نے طرح طرح کی بدعتیں اختیار کیں اور شریعت سے انحراف کیا تو عرب کے ریگستان میں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا اور ایسی قوم سے کہ جو ہمیشہ لوگوں کی نگاہوں میں حقیر تھی روم و ایران کی سلطنت کو برباد کرا کے روئے زمین پر آسمانی سلطنت کو نور افگن کردیا۔ پھر فرماتا ہے کہ شریعت پر عمل کرنے کا نتیجہ صرف دنیا ہی کی بھلائی نہ سمجھنی چاہیے جو کسی وقت دنیا حاصل نہ ہو تو اس سے روگردانی کرو بلکہ اس کا نتیجہ ثواب آخرت بھی ہے۔ خلوص نیت تم کو لازم ہے۔ وہ تمہاری باتیں سنتا ‘ تمہارے کام دیکھتا ہے کلام میں کیا خوبیاں ہیں۔
اول وان یتفرقایغن اللہ کلامن سعۃ کے بعد وللّٰہ مافی السموات وما فی الارض کو ذکرکے اپنا واسع الجود اور واسع الکرم ہونا ثابت کردیا۔
دوم وان تکفروا کے بعد وللّٰہ ما فی السموات وما فی الارض کو ذکرکے یہ بات بتلائی (اس کو کسی کی طاعت و عبادت سے نہ کچھ نفع ہے۔ اگر تمام عالم متقی اور دیندار ہوجاوے تو اس کی خدائی میں ذرہ بھر بھی ترقی اور اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں نہ اس کو کسی کے کفر اور بت پرستی اور فسق و فجور سے کچھ نقصان ہے۔ اگر تمام جہان کے لوگ کافر و مشرک و فاجر ہوجاویں تو اس کے جلال کبریائی کا ذرہ بھر بھی نقصان نہیں۔ اس سے مقصود ہے کہ خدا کی شریعت اور احکام نبوت صرف بندوں کی بھلائی اور فائدہ دارین کے لئے ہیں۔ پھر اس سے اغماض کرنا اور سرتابی اور سرکشی کو شیوہ بنانا محض حماقت ہے۔ مثلاً کوئی مریض حکیم کے حکم کو نہ مانے اور بدپرہیزی کرے تو حکیم کا کیا نقصان کرتا ہے اپنی ہی جان پر ظلم و ستم کرتا ہے۔
خدا کی نافرمانی کرکے کوئی قوم سرسبز نہیں رہی ہے۔ یوں تو ہر زمانہ کے لوگ دنیا کی تمام خوبیاں اپنے ہی زمانہ میں منحصر جانتے آئے ہیں مگر آگے بھی بہت سربلند قومیں اس سرزمین پر جاہ و جلال کے پرچم اڑا چکی ہیں جن کے آثار باقیہ اور حیرت انگیز یادگاریں دنیا کو حیرت دلا رہی ہیں اور اپنے بنانے والوں کی چند روزہ بقاء پر اشک حسرت بہا رہی ہیں۔ ان کا جب فسق و فجور حد سے متجاوز ہوا غیب سے ایک ایسی بلا آئی کہ جس کا ان کو سان و گمان بھی نہ تھا نہ کوئی شخص ان کے عروج و اقبال کو دیکھ کر یہ خیال کرسکتا تھا کہ کبھی یہ قوم اس قدر بلندی سے اتنے عمیق گڑھے میں پھینکی جائے گی مگر خدا کا قہر جلدی نہیں کرتا اس مہلت پر مغرور نہ ہونا چاہیے۔
Ayahs 4:133–1341 ؎ عربوں میں جب دولت و سلطنت کے سبب وہ بات نہ رہی تو ترکوں کو اسلام کا حامی کھڑا کردیا اور جانے اب کس قوم کو حامی بناتا ہے۔ 12 منہ
سوم۔ ان یشاء یذھبکم ایہا الناس ویات باخرین کے پیشتر وللّٰہ ما فی السموات وما فی الارض کو ذکرکے شریعت سے انحراف کے بد نتیجہ کو مدلل کرتا ہے اور جب کہ ایک دلیل چند مدلولات پر دلالت کرے تو بہ نسبت اس کے اس کو ایک بار ذکر کیا جاوے۔ یہ بہت خوبی رکھتا ہے کہ مکرر لایا جاوے۔ ایک مدلول کے لئے ایک بار وللّٰہ مافی السموات وما فی الارض کو ذکر کیا۔ پھر دوسرے مدلول کے لئے اسی کو ذکر کیا۔ پھر تیسرے مدلول کے لئے اسی کلمہ کا اعادہ فرما کر کلام کو حسن و خوبی میں یکتا کردیا۔ کس لئے کہ جب ایک بار یہ کلمہ ذکر کیا گیا اور اس سے ایک مطلب یعنی صفت باری تعالیٰ مخاطب کے ذہن میں آئی اور پھر اسی کلمہ سے دوسرے مقام پر دوسری صفت اور تیسرے مقام پر تیسری صفت ذہن نشین ہوگئی تو ذہن میں یہ بات بھی پیدا ہوگی کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنا سینکڑوں اسرار جلیلہ اور مطالب شریفہ پر دلالت کرتا ہے۔ اگر کوئی اس کی ذات وصفات کے لئے دلائل ڈھونڈے تو گویا یہ ان کے لئے ایک بےنہایت خزانہ ہے اور جبکہ وہ یہ جانے گا تو خواہ مخواہ اس میں غور و فکر کرے گا جس سے مخلوق سے منہ پھیر کر خالق کی طرف مشغول ہونا پایا جاوے گا اور کتب سماویہ سے اصل غرض بھی یہی ہے۔
واضح ہو کہ قانون شریعت پر عمل کرنے کی تاکید کے لئے تین باتیں نہایت مناسب ہیں۔ (1) اپنی ذات کا استغناء کہ اس میں ہمارا فائدہ نہیں بلکہ تمہارا ہے۔ (2) عدول حکمی کا بد ثمرہ (3) عمل کرنے کا نیک نتیجہ۔ سو اول بات کو وکان اللّٰہ غنیا حمیدا میں دوسرے کو ان یشا یذھبکم الخ میں تیسرے کو فعند اللّٰہ ثواب الخ میں بیان فرمایا۔
Ayahs 4:135–137ترکیب : قوامین ای قائمین خبر اول کونوا بالقسط خبر سے متعلق شہداء للّٰہ خبر ثانی ولو علی متعلق ہے فعل محذوف سے ای ولوکانت الشہادۃ علی انفسکم ان یکن اس کا اسم محذوف ہے اے المشہود علیہ غنیا او فقیرا جملہ شرط فاللّٰہ اولی بہما جواب ان تعدلوا مفعول لہ تقدیرہ مخافۃ ان تعدلوا عن الحق اور ممکن ہے کہ فی مقدور ہو ‘ ای فی العدل وان مصدریہ ہو۔
تفسیر : اس آیت سے پیشتر بہت سے احکام شریعت مذکور ہوئے تھے اور درمیان میں ان احکام پر عمل کرنے کی نئی نئی خوبیوں سے تاکید بھی تھی مگر یہاں دو باتیں بعد میں ایسی ذکر کیں جو شریعت پر چلنے والے کے لئے بمنزلہ دو آنکھوں کے ہیں یا بمنزلہ دو پائوں کے ہیں کہ ان کے بغیر انسان اس رستہ کو طے نہیں کرسکتا۔
(اول) کونوا قوامین بالقسط قوام مبالغہ کا صیغہ ہے۔ قائم کے لئے اور قسط بالکسر عدل یعنی عدالت کو خوب قائم رکھو۔ یہ ایک ایسا عام لفظ ہے کہ جس میں دنیاوی معاملات ‘ خانہ داری اور آپس کے تمام برتاوے اور کل معاملات اپنے اور بیگانہ کافر و مومن ‘ حیوان و انسان کے متعلق اور دینی معاملات سخاوت ‘ رضا ‘ تسلیم ‘ صبر جن کی تفصیل سورة فاتحہ میں ہوئی شامل ہیں اور درحقیقت جب انسان کے اندر صفت انصاف آجاتی ہے تو اس کی طبیعت اس کو خواہ مخواہ ان آسمانی قوانین پر چلنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔
(دوم) شہداء للّٰہ کہ اللہ کے گواہ بنے رہو دینی اور دنیاوی معاملات میں خدا کے لئے شہادت ادا کرو۔ نیک کو نیک اور بد کو بد کہو اور جو سچی بات ہو اس کے بیان کرنے میں کچھ بھی پروا نہ کرو ٗ خواہ اس میں تمہارا نقصان ہو یا والدین یا کسی قرابت مند کا ہو اس میں امیر و غریب کی کچھ بھی رعایت نہ کرو بلکہ اللہ کی رعایت رکھو چونکہ شاہد کے لئے یہ ضرور ہے کہ عادل ہو اس لئے قوامین بالقسط کو مقدم کیا۔
اقوام میں بالقسط اور شہداء للہ کے معنی سے بظاہر اعمال صالحہ کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے حالانکہ اس میں نظریات اعنی تکمیل عقائد کی بھی بہت ضرورت تھی اس لئے اس کے بعد یا ایہا الذین امنوا امنوا باللّٰہ الخ بھی فرمایا اس میں تین چیزوں پر ایمان لانے کی تاکید ہے (1) اللہ پر یعنی اس کی ذات وصفات پر (2) اس کے رسولوں پر جو اس کے وسائط ہیں (3) کتاب خاص یعنی قرآن اور اس سے پیشتر جو کتابیں خدا نے انبیاء پر نازل کی ہیں۔ چونکہ انبیاء اور کتابوں پر ایمان لانا اس بات کا مستلزم تھا کہ انسان ملائکہ پر بھی جو انبیاء اور اللہ میں واسطہ ہیں ایمان لائے اور اسی طرح قیامت پر جو دارالجزاء ہے اس لئے ان کا ذکر نہ کیا مگر احتمال تھا کہ کوئی مائول تاویل کرکے انکار کر دے تو دوسرے جملہ ومن یکفر الخ میں ان تینوں چیزوں کے ساتھ ان دونوں کو ملا کر یہ کہہ دیا کہ جو ان چیزوں کا انکار کرے گا کافر اور گمراہ ہوگا۔
ف۔ یا ایہا الذین امنوا پھر ایمان کا حکم دینا یا آیندہ ایمان پر ثابت قدم رہنے کے لئے یا یہ کہ جو تقلیداً ایمان لائے ہیں ان کو تحقیقاً ایمان لانا چاہیے یا اس سے مراد منافقین و یہود ہیں کہ بظاہر اپنے تئیں ایماندار کہتے تھے ان کو نئے سرے سے ایمان لانے کا حکم ہوتا ہے
Ayahs 4:138–141ترکیب : بان کا عذابا الیما اسم لہم خبر مجموعہ متعلق ہے بشر سے ‘ الذین صفت ہے المنافقین کی ‘ ان مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ای انہ ‘ اذا سمعتم فعل بافاعل آیت اللّٰہ مفعول یکفر بہا جملہ حال ہے آیات اللّٰہ سے یستہزا بہا اس پر معطوف مجموعہ شرط ‘ فلا تقعدوا معہم جواب مجموعہ خبر ان اپنے اسم و خبر سے مل کر مفعول ہو انزل کا اذا بلغا ہے کیونکہ ان کے اسم کم اور خبر مثلہم میں واقع ہے اور اسی لئے اس کے بعد فعل نہیں آیا۔ نستخوذ برخلاف قیاس مستعمل تھا۔ اسی طرح پر آیا اور قیاس نستخذ ہے۔
تفسیر : یہ بھی آیت سابق کا تتمہ ہے کہ ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہنا چاہیے نہ کہ کبھی ایمان لے آیا۔ پھر کسی غرض سے کافر ہوگیا۔ پھر جو کچھ مصلحت معلوم ہوئی مسلمانوں میں مل گیا۔ پھر کسی غرض سے کافر ہوگیا اور پھر کفر میں ترقی کرتا گیا۔ ان کی سزا فرماتا ہے کہ خدا ان کو معاف نہیں کرے گا اور نہ ان کو راہ حق کی ہدایت کرے گا۔ مفسرین کے اس آیت میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ان الذین آمنوا ثم کفروا الخ سے یہود کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اول بار تورات اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ پھر چند مدت کے بعد ملک کنعان میں غیر قوموں کی صحبت سے بت پرستی اور فسق وفجور میں مبتلا ہوگئے۔ پھر دائود اور سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں ایمان لائے۔ بت پرستی چھوڑی۔ دین پر قائم ہوئے۔ پھر عزیر (علیہ السلام) کے بعد سے لے کر مسیح (علیہ السلام) تک کفر میں پڑے رہے۔ پھر حضرت محمد ﷺ کا انکار کرکے اور بھی زیادہ کفر میں ترقی کر گئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے منافقین کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اول ایمان لائے ٗ پھر دل میں نفاق پیدا کرکے کافر ہوگئے۔ پھر جہاں شوکت اسلام دیکھی ایمان لے آئے۔ پھر جب کوئی شکست یا تکلیف دیکھی پھرگئے۔ میں کہتا ہوں اس آیت سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جن کے دل پر نور ایمان کی تجلی نہیں پڑی۔ ایمان اور کفر کو انہوں نے ایک ہلکی سی بات سمجھ رکھی ہے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر ہوگئے اور ہنوز یقین کا آفتاب ان کے دل پر پرتو افگن نہیں ہوا۔ وہ ظلمات شکوک میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ کبھی ایمان اور کبھی کفر میں پڑگئے خواہ یہود ہوں خواہ منافق یا کوئی اور کہ جس کے دل میں ایمان کی وقعت نہ ہو اور وہ ادنیٰ سبب سے ایمان سے برگشتہ ہوجائے۔
لم یکن اللّٰہ لیغفر لہم اگر کوئی کہے کہ بغیر توبہ کے تو کوئی کفر بھی معاف نہیں ہوتا خواہ ایمان ملا کر کفر اختیار کرے یا نہ کرے پھر اس قید کی ضرورت کیا ہے اور توبہ کے بعد تو شرع میں ہر ایک قسم کا کفر معاف ہے خواہ ہزار بار مرتد ہو کر اسلام لائے۔ ایمان مقبول ہوگا ٗ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں وہ کفر مراد ہے جس سے توبہ نہ ہو اور ان لوگوں سے وہی لوگ معین مراد ہیں کہ جو شقی ازلی ہیں جن کا علم الٰہی میں بغیر توبہ کے مرنا لکھا ہے اور ان کا یہ ذکر اس لئے ہے کہ ایسے لوگ کہ جو جلدی سے کفر اور ایمان اختیار کرلیتے ہیں ان کے نزدیک ایمان کی چنداں وقعت و عظمت نہیں ہوتی اور ایسے شخص غالباً کفر ہی کی حالت میں مرتے بھی ہیں۔ بشر المنافقین الخ اس میں منافقین کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو دنیا کے مقابلہ دین کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے۔ کبھی کر سٹان کبھی مسلمان۔ الذین یتخذون الکافرین اولیاء الخ میں ان منافقوں کا شیوہ بیان فرماتا ہے کہ وہ کفار و مشرکین کا جاہ و حشم دیکھ کر ان سے جا ملتے ہیں اور ان کو اس لئے یار بناتے ہیں کہ ہم کو عزت و شوکت حاصل ہوگی۔ مدینہ کے منافق ایسا کیا کرتے تھے۔ یہود کے پاس جا کر اسلام سے نفرت اور اس پر تمسخر کرتے تھے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے اور اس سے مقصد یہ تھا کہ ان باتوں سے یہ مخالفین ہم کو اپنا سچا دوست سمجھ کر ہماری عزت کیا کریں گے۔
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فان العزۃ للّٰہ جمیعا کہ عزت تو خدا کے ہی ہاتھ ہے جس کو وہ ذلیل کرنا چاہتا ہے کوئی بھی اس کو عزت نہیں دے سکتا۔ چناچہ ایسے لوگ ہمیشہ ان کی نظروں میں بھی ذلیل و حقیر ہی رہتے ہیں اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جن کے ہاں یہ عزت تلاش کر رہے ہیں ان کو بھی ذلت ہوجائے گی اللہ اور اس کے مطیعوں کے لئے عزت برقرار رہے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ مخالفین کی شوکت خاک میں مل گئی۔ وقد نزل علیکم مکہ میں بھی ہجرت سے پہلے مشرکین اپنی مجلسوں میں قرآن کی نسبت کفر بکتے اور ہنسی کیا کرتے تھے۔ مسلمانوں کو اس بارے میں وہاں جانے کی بابت یہ حکم آیا تھا۔ واذا رایت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ کہ تم وہاں سے اٹھ کر کھڑے ہوا کرو۔ پھر جب مسلمان اور آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو یہاں کے احبار نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا (اور یہ بےدینوں کا قدیم دستور ہے کہ وہ انبیاء اور ان کی باتوں پر قہقہہ اڑایا کرتے ہیں) ۔ اس پر خدا تعالیٰ منافقوں سے جو ان کی خوشامد کے لئے اس مضحکہ میں شریک ہوتے تھے یہ فرماتا ہے کہ ہم پہلے بھی اس بارے میں حکم دے چکے ہیں کہ جہاں کہیں خدا کی آیات پر ہنسی ہوتے دیکھو تو وہاں سے اٹھ جائو ورنہ تم بھی ان کے ساتھ کفر میں شریک ہو مگر جو بےبسی سے اٹھ نہ سکے تو وہ معذور ہے مگر دل میں ناراض ہونا شرط ہے۔
الذین یتربصون بکم یہ ان منافقین کا دوسرا حال ہے کہ جب مسلمانوں کو فتح اور کامیابی ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے یعنی تھے۔ ہمیں بھی اس میں سے حصہ دو اور اگر کافروں کو کوئی دنیاوی کامیابی یا اسلام پر غلبہ پانے کا موقع ملتا ہے یعنی جب وہ کامیاب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھوہم تم پر قابو پاسکتے ہیں مگر پھر بھی ہم نے تمہاری مدد کرکے مسلمانوں کو تم سے روک دیا سو اس میں ہم کو بھی شریک کرو یعنی دونوں سے ملے رہتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ہم اس بات کا قیامت میں فیصلہ کردیں گے اور آیندہ وعدہ فرماتا ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر خدا کبھی سبیل یعنی غلبہ کی حجت اور فتح میں کوئی رستہ نہ نکالے گا (بشرطیکہ مسلمان اسلام پر قائم رہیں)