4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 4:16–18

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو سزا دو ٗ پھر اگر وہ توبہ کریں اور نیکی پر آجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو کیونکہ اللہ (بڑا) توبہ قبول کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

اللہ کو انہیں (لوگوں) کی توبہ قبول کرتا ہے جو نادانستگی سے گناہ کر بیٹھتے ہیں پھر معلوم ہونے پر جھٹ سے توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ بھی انہیں کی توبہ (بہت جلد) قبول کرلیتا ہے اور اللہ (سب کچھ) جانتا ‘ (اور) حکمت والا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان کی توبہ (قبول) نہیں کہ جو (پھر گناہ) کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آکھڑی ہوئی تو کہنے لگتا ہے کہ اب میری توبہ ہے اور نہ انہیں کی کچھ توبہ ہے جو کفر کی حالت میں مرتے جاتے ہیں۔ ان ہی (لوگوں) کے لئے تو ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

(2) والذان اس سے مراد بھی جمہور کے نزدیک زنا ہے۔ نزول میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اول اسلام میں صرف ایذا دینا ہی سزا مقرر تھی کہ ان کو زبان سے برا بھلا کہو ٗ ملامت کرو فاذوھما سے یہی مراد ہے۔ اگر باز آویں اور توبہ کرلیں تو اس کا پیچھا چھوڑ دو چونکہ عرب اس گناہ کے عادی تھے ان کو بتدریج منع فرمایا۔ پھر اس کے بعد والتی آیت مقدمہ نازل ہوئی کہ جس میں قید کا حکم ہوا۔ اس کے بعد سورة نور میں سزامعین کردی۔ بعض کہتے ہیں والتی سے مراد زنا ہے۔ والذان سے مراد لواطت ہے اور فاذوہما سے مراد تعزیر ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے کہ اغلام کے لئے زنا کا حکم نہیں۔ اس کے لئے تعزیر ہے نہ حد۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک جو زنا کی سزا ہے وہی اغلام کی۔ صرف یہ فرق ہے کہ مفعول گرچہ محصن ہو اس کو سنگسار نہ کیا جاوے گا۔ بعض کہتے ہیں والتی سے مراد سحق ہے کہ عورت عورت سے بدفعلی کرتی ہے اور الذان سے مراد اغلام ہے کہ جو مرد مرد سے کرتا ہے۔ اول کی سزا قید ہے۔ دوسرے کی تعزیر اور زنا کا حکم سورة نور میں ہے۔ زنا اور اغلام اور سحق کی برائی ظاہر ہے کہ ان سے انتظام میں خلل ہوتا ہے۔ جب عورت عورت کی طرف متوجہ ہوگی تو اپنے شوہر کی طرف کب رغبت کرے گی خواہ مخواہ خانہ داری میں فساد پیدا ہوگا اور اسی طرح جب مرد سے حاجت روائی کرے گا تو عورت اوروں کی طرف متوجہ ہوگی اور یہ نسل سے محروم رہے گا۔ عورت کو غیروں کی طرف متوجہ دیکھ کر خاموش ہوگا تو اس مرد کی غیرت گئی اور مفعول کو زنانہ پن عارض ہوتا ہے اور زنا سے نسب میں فرق آتا ہے اور کشت و خون بھی ہوتا ہے جو اکثر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے اور نیز اس سے روح پر بھی تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے خدا نے اس کو حرام کردیا اور اس پر سزا بھی مقرر کردی اور آخرت میں روح کا معذب ہونا بھی بیان فرما دیا۔ اسلام اس بات پر فخر کرسکتا ہے کہ اس کی برکت سے جس طرح شرک کی بیخ کنی ہوئی اسی طرح زنا کا بھی دروازہ بند ہوگیا۔ اس لئے بےحجابی جو زنا کی طرف ابھارتی ہے جیسا کہ آج کل مہذب قوموں میں بھی دیکھا جاتا ہے اس کو بھی منع کردیا اور حجاب کا اسی مصلحت سے حکم دیا۔ (3) جبکہ یہ فرمایا کہ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان سے تعرض نہ کرو تو اس کے بعد توبہ کے اوصاف بیان کرنے بھی مناسب ہوئے۔ فقال انما التوبۃ علی اللّٰہ یعنی جس توبہ کو خدا ضرور اپنے فضل سے قبول کرتا ہے وہ دو باتوں پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ گناہ کو جہالت سے کرتا ہو۔ اس کو اس کے گناہ ہونے کا علم نہ ہو۔ دوم یہ کہ من قریب یعنی موت سے اور اس کے آثار سے پہلے توبہ کرلے یہ نہیں کہ سدا اس میں مبتلا رہے۔ ان دو شرطوں کے ساتھ توبہ قبول کرنا اللہ پر واجب ہے۔ درحقیقت اس پر کوئی چیز واجب نہیں وہ فاعل مختار ہے مگر اس نے اپنے فضل سے وعدہ کرلیا ہے۔ بعض کہتے ہیں علی اللہ کے معنی من اللہ ہیں یعنی ان گمراہوں کو جن کی استعداد میں ہنوز کچھ فرق نہیں آیا ہے خدا توفیق توبہ عطا فرماتا ہے۔ اب رہے وہ لوگ کہ جو عمداً گناہ کرتے ہیں یعنی گناہ کو گناہ جانتے ہیں ان کی توبہ بالاتفاق قبول ہے مگر وہ لوگ بہ نسبت نادان کے زیادہ مجرم ہیں اس لئے ان کی توبہ کا ضرور قبول کرنا نہیں فرمایا نہ دو ہی کردیا ہے اور جہالت کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہ حقیقت عذاب کو نہیں جانتے۔ سو وہ بھی ان میں شامل ہیں۔ اس کے بعد جن کی توبہ قبول نہیں ان کا ذکر کرتا ہے۔ ولیست التوبۃ یعنی دو شخصوں کی توبہ قبول نہیں۔ ایک وہ مومن کہ جس کو علامات موت دکھائی دے جاویں اور اس عالم کا پردہ اس سے اٹھ جائے تب اس کی توبہ قبول نہیں۔ دوم کافر ایسے وقت کفر سے توبہ کرکے ایمان لائے تو اس کی بھی توبہ قبول نہیں۔ اس کو ایمان باس کہتے ہیں۔ گرچہ اس کی جناب جناب عالی ہے وہ عذر آوروں کو نہیں نکالتا سو بار گر توبہ توڑ کر توبہ کرے پھر بھی اس کو معاف کرتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے مگر یہ جب تک ہے کہ بندہ پر وہ عالم منکشف نہیں۔ پھر جو منکشف ہوگیا تو گویا عدالت میں حاضر کیا گیا۔ اب عذر کا زمانہ نہیں رہا۔ اب اس کو سزا ہوگی ٗ پہلے عذر کرتا تو مضائقہ نہ تھا۔
Ayahs 4:19–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

ایمان والو تم کو یہ حلال نہیں کہ تم زبردستی سے عورتوں کے وارث بن جاؤ اور ان کو اس لئے روک رکھو کہ جو ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو (ہاں) اگر وہ کھلم کھلا بدکاری کریں (تو ایذا دینا مضائقہ نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو۔ پھر اگر وہ تم کو (کسی سبب سے) پسند نہ ہوں تو ممکن ہے کہ تم کو بعض چیزیں ناپسند ہوں اور اس میں اللہ بڑی خیر (و برکت) دیتا ہے (ان پر صبر کرو)

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو پھر اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا بہتان باندھ کر اور صریح بےجا الزام دے کر اس میں سے

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور (بھلا) تم اس کو کیونکر واپس لے لو گے حالانکہ ایک دوسرے سے بےحجاب ہو کر مل چکا ہے اور انہوں نے تم سے پ کا قول وقرار بھی لے لیا ہے۔

ترکیب : ان ترثوا بتاویل مصدر فاعل لا یحل اور کرھا مصدر اور حال ہے مفعول سے اور وہ بالفتح والضم پڑھا جاتا ہے لتذھبوا کالام متعلق ہے تعضلوا سے الا ان یاتین استثنائِ منقطع ہے۔ تفسیر : توبہ کا وصف بیان کرکے پھر عورتوں کے متعلق احکام بیان فرماتا ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب طرح طرح سے عورتوں کو تکلیف دیتے تھے جس سے ان آیات میں منع فرماتا ہے۔ اول لا یحل لکم عرب میں پہلے دستور تھا کہ جب کوئی شخص بیوی چھوڑ کر مرتا تھا تو اس کا بیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا تھا یا کوئی اور وارث آکر اس بیوہ پر کپڑا ڈال دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جس طرح میں میت کے مال کا وارث ہوں اسی طرح اس کی بیوی کا بھی۔ اس کے بعد یا تو بغیر مہر خود نکاح کرلیتا تھا یا اور سے نکاح کرکے اس کا مہر آپ لے لیتا تھا۔ یہ بات عورت پر اس کی خودمختاری کے لحاظ سے نہایت شاق تھی۔ اس لئے اس کو حرام فرمایا اور یہ بھی ہوتا تھا کہ بیوہ مالدار کو نکاح سے منع کردیتے تھے۔ جب وہ مرتی تو ان کے آپ زبردستی وارث بن جاتے تھے۔ سو یہ بھی اس آیت سے حرام ہے۔ دوم لاتعضلوھن الآیہ عضل کے معنی منع کے ہیں اور اسی لئے مانع صحت مرض کو داء عضال کہتے ہیں۔ عرب میں یہ بھی خراب دستور تھا کہ جب کسی عورت منکوحہ سے دل نفرت کرجاتا تھا اور اس کو مہر دے چکتے تھے تو اس سے نہایت بدخلقی سے پیش آتے تھے تاکہ یہ مجبور ہو کر مہر واپس دے کر خود طلاق طلب کرے۔ سو اس کو بھی اس آیت میں منع فرمایا کہ اس لئے ان کو مت بند کرکے رکھو کہ جو کچھ ان کو مہر دیا ہے واپس لو اور بعض طلاق دے کر بھی روک رکھتے تھے اور سے نکاح نہ کرنے دیتے تھے۔ مہر واپس لینے کے لئے سو یہ بھی منع ہے۔ فرماتا ہے ایسا فعل جب مضائقہ نہیں کہ جب عورت کا قصور ہو نہ عام خانہ داری کا قصور بلکہ فاحشہ بینہ یعنی جب اس سے زنا چار گواہوں سے ثابت ہوجاوے تب اس کو مجبور کرکے مہر واپس لینا کچھ مضائقہ نہیں بلکہ ایسے وقت بعض علماء کے نزدیک مہر دینا ہی واجب نہیں رہتا۔ اس کے بعد فرماتا ہے بیویوں کے ساتھ عمدہ طور سے انصاف اور محبت سے گذران کیا کرو اور جو اس کی صورت و شکل یا کسی بات سے نفرت ہو تو اس نفرت کو دل میں جگہ دے کر خانہ بربادی نہ کرو۔ انجام ہر چیز کا خدا کو معلوم ہے۔ شاید اس نفرتی اور مکروہ عورت میں تمہارے لئے کوئی عمدہ فائدہ ہو۔ خدا اس سے اولاد صالح پیدا کر دے یا اس کے اخلاق خانہ داری کے بابت عمدہ ہوں اور خیرخواہی اور معیشت میں آسانی کے باعث ہوں ‘ نئی بیوی جس کو تم پسند کر رہے ہو اس میں کیا کیا قباحتیں نکلیں۔ سوم۔ وان اردتم اس نصیحت کے بعد بھی اگر انسان دوسری بیوی کرنے اور پہلی کے چھوڑنے پر بعض وجوہ ضروریہ سے مجبور ہو تو اس کے لئے فرماتا ہے کہ جو کچھ تم نے مہر میں دیا ہے خواہ خزانہ ہی کیوں نہ ہو اس کو ہرگز واپس نہ لو اور کیونکر لے سکتے ہو۔ تم نے ان سے خلوت اور صحبت کرلی ہے جس سے مہر کامل واجب ہوجاتا ہے اور علاوہ اس کے بوقت نکاح تم نے ان کو وفاداری کا اقرار دیا ہے جو نفس نکاح سے سمجھا جاتا ہے۔ عرب میں ایسی حالت میں عورت پر بہتان لگا دیتے تھے تاکہ وہ مہر سے محروم رہے۔ اس کو منع فرماتا ہے کہ کیا تم بہتان باندھ کر مہر رکھنا چاہتے ہو یعنی ایسا نہ کرو۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہوں تم ان سے نکاح نہ کرو مگر جو گذر چکا ( سو گذر چکا) کیونکہ یہ بےحیائی اور گناہ کی بات اور برا طریقہ ہے۔

ترکیب : مانکح ما بمعنی من والعائد محذوف ای من نکحہا آبائو کم الاما استثناء منقطع ہے حرمت فعل مجہول امہاتکم الخ مفعول مالم یسم فاعلہ من الرضاعۃ حال ہے اخوات سے۔ التی صفت ہے من نساء کم کی وان تجمعوا الخ بتاویل مصدر معطوف ہے امہاتکم پر۔ والمحصنت بھی امہاتکم پر معطوف ہے۔ الا ما ملکت استثناء متصل ہے والمعنی حرمت علیکم ذوات الازواج الا السبایا من المحصنات کتاب اللہ مفعول مطلق ہے کس لئے کہ حرمت بمعنی کتب ‘ احل فعل مجہول ‘ ماورا مابمعنی من ای احل لکم غیر المذکورات من النساء بشرط ان اے بان الخ۔ محصنین حال ہے فاعل تبتغوا سے فما بمعنی الذی شرط جو ابہ فاتوھن یا کہو شرط نہیں مبتداء اور فاتوھن خبر۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں بھی کہ جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساسیں اور جن بیویوں سے تم نے صحبت کی ہو ان کی وہ بیٹیاں بھی جو تمہاری پرورش میں ہوں 1 ؎ (تم پر حرام کی گئی) پھر اگر تم نے ان بیویوں سے صحبت نہیں کی تو ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں 2 ؎ (بہویں) بھی حرام ہیں اور دو بہنوں کا جمع کرنا 3 ؎ بھی (حرام ہے مگر جو کچھ کہ گذر چکا سو گذر چکا) ۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔

تفسیر : پہلے فرمایا تھا عورتوں کے زبردستی سے وارث نہ ہوجایا کرو جس کے متعدد طریق تھے۔ ان میں سے ایک کو اور بھی صراحۃً منع فرماتا ہے کہ جس میں سخت بےحیائی ہے۔ وہ یہ کہ عرب میں دستور تھا کہ بڑا بیٹا اپنے باپ کی بیویوں کو گھر میں ڈال لیا کرتا تھا۔ سو اس سے خدا نے ولا تنکحوا فرما کر منع کردیا اور فرمایا الا ما قد سلف کہ جو ایام جاہلیت میں ہوچکا سو ہوچکا۔ لفظ نکاح کی بحث : نکاح کے معنی لغت میں عورت سے صحبت کرنے کے ہیں اور اس کا اطلاق ایجاب و قبول عقد شرعی پر بھی ہوتا ہے۔ اول معنی کے لحاظ سے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کے معنی یہ ہوئے جس سے تمہارے باپ نے مباشرت کی ہو یا علی سبیل عموم مجاز 1 ؎ یعنی جن بیویوں سے نکاح کرکے صحبت کا اتفاق ہوا ہو ان کے پہلے خاوند کی بیٹیوں سے نکاح درست نہیں اور غالباً وہ مرد کی پرورش میں رہا کرتی ہیں۔ بعض اہل ظواہر پرورش کی قید سے یہ بات نکالتے ہیں کہ جو پرورش میں نہ آئی ہوں درست ہیں۔ 12 منہ 2 ؎ ایک ساتھ دو بہنوں سے نکاح حرام ہے عام ہے کہ دو عبنی بہن ہوں یا علاقی یا اخیافی یا دودھ شریک ہاں ایک کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد اس کی دوسری بہن سے نکاح باتفاق سلف و خلف درست ہے۔ 12 منہ 3 ؎ صلبی بیٹیوں کی بیوں سے بھی نکاح حرام ہے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے درست ہے۔ 12 منہ 4 ؎ جو شوہر دار عورتیں جہاد میں اسیر ہوجائیں یا لونڈیاں دام دے کر قبضہ و اختیار میں آجائیں وہ سب ملک میں ان سے بھی ایک حیض آجانے کی بعد صحبت درست ہے۔ 12 منہ نکاح یا وطی کی ہو خواہ وہ وطی حلال طور سے ہو یا زنا سے اس سے تم نکاح نہ کرو۔ پس جس کسی عورت سے زنا کیا جیسا کہ رنڈیوں سے اس زمانہ میں لوگ کرتے ہیں تو بیٹے کو اس باپ کی رنڈی سے نکاح کرنا بھی اس آیت سے ممنوع ہے۔ اسی طرح جس عورت سے زنا کیا اس کی بیٹی سے بھی اس کو نکاح درست نہیں۔ اس کی تحقیق آگے آتی ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں ٗ نکاح سے مراد عقد شرعی ہے۔ پس جس سے باپ نے عقد شرعی کیا ہے ٗ خواہ صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اس عورت سے بیٹے کو نکاح منع ہے اور جس سے عقد شرعی نہیں کیا بلکہ حرام کیا اس سے بیٹے کو نکاح کرنے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کی طرف سے ابوبکر رازی (رح) نے اور امام شافعی کی طرف سے فخر رازی (رح) نے بہت کچھ دلائل بیان کئے ہیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔ پھر جبکہ باپ کی بیوی سے نکاح کرنا حرام کیا تو مناسب ہوا کہ جس قدر عورتیں حرام ہیں ان کا بھی اس کے ساتھ بیان کیا جاوے۔ اس لئے فرمایا حرمت علیکم امہاتکم اس جگہ خدا تعالیٰ نے چودہ قسم کی عورتوں سے نکاح کرنا حرام فرمایا۔ سات تو ان میں سے نسب کی جہت سے ہیں۔ ماں بیٹی بہن پھوپھی خالہ بھتیجی بھانجی اور سات بغیر نسب کے ہیں۔ دودھ کے سبب ماں ٗ دودھ شریک بہن ٗ ساس ٗ بیوی کی بیٹی بشرطیکہ اس سے صحبت کی ہو ‘ بیٹے کی بیوی ‘ باپ کی بیوی جو ابھی مذکور ہوئی ہے ‘ بیوی کے روبرو اس کی بہن یعنی سالی۔ اب ہم اس مقام پر دو بحث کرتے ہیں۔ بحث اول میں الفاظ کے معانی اور ان میں آئمہ کا اختلاف اور دوسرے میں ان عورتوں کے حرام ہونے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ وبہ نستعین بحث اول : امہاتکم امہات ام کی جمع ہے۔ یہ لفظ اصل میں امہ تھا۔ ہاء مفرد میں کثرت استعمال سے ساقط ہوگئی ہے۔ اس کے معنی ہندی میں ماں کے ہیں گرچہ لغت میں اس کا اطلاق حقیقی ماں پر ہوتا ہے مگر عرف شرع میں خواہ بطور عموم مجاز یا بالا شتراک ہو ٗ وہ عورت مراد ہے کہ جس کی طرف انسان کا نسب منتہٰی ہو ٗ خواہ ماں کی طرف سے خواہ باپ کی طرف سے جیسا کہ نانی ‘ پرنانی دادی پردادی۔ بناتکم جمع بنت ہے جس کے معنی بیٹی کے ہیں۔ اس میں بھی ہر عورت شریک ہے جس کا نسب انسان کی طرف خواہ بواسطہ یا بغیر واسطہ منتہی ہو۔ جیسا کہ بیٹی یا پوتی یا نواسی یہ سب بنات میں داخل ہیں۔ اسی طریق سے جو مذکور ہوا۔ زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی کے متعلق بحث : جو بیٹی زنا سے پیدا ہو امام ابوحنیفہ (رح) اس کو بھی حرام کہتے ہیں کیونکہ بیٹی ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں یہ بیٹی نہیں دلائل فریقین کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اخوات یعنی بہنیں اس میں عینی اور علاتی اور اخیافی سب بہنیں شریک ہیں۔ عمات پھوپھیاں جس شخص کی طرف انسان کا نسب منتہی ہو اس کی بہنیں بھی عمات میں داخل ہیں۔ مثلاً دادا کی بہن اسی طرح نانا کی بہن خالات ٗ خالائیں جس عورت کی طرف انسان کا نسب منتہی ہو۔ اس کی بہن خالہ ہے خواہ ماں کی بہن عام ہے کہ عینی ہو یا علاتی یا اخیافی یا نانی کی بہن بنات الاخ بھتیجیاں خواہ عینی بھائی کی بیٹی یا علاتی کی یا اخیافی کی۔ اسی طرح بنات الاخت بھانجیوں کو قیاس کرلیجئے۔ یہ وہ عورتیں ہیں کہ جن سے کبھی اور کسی وجہ سے نکاح درست نہیں۔ ان کو محرمات ابدیہ کہتے ہیں۔ علت رضاع : وامہتکم التی ارضعنکم جس نے اس کو لڑکپن میں دودھ پلایا وہ بھی بمنزلہ ماں ہے اور پھر اس ماں کی ماں اور نانی دادی بھی بحکم اجماع ماں شمار ہوتی ہے۔ رضاع دودھ پلانا گرچہ قرآن میں اس کی کوئی مدت معین نہیں کہ اس زمانہ تک پلانا ماں بنا دیتا ہے اور کس قدر پلانے سے ماں ہوجاتی ہے ؟ مقدار کے بارے میں امام ابوحنیفہ (رح) نص قرآنی کو مطلق قرار دے کر ایک گھونٹ دودھ کو بھی جو بچے کے شکم میں اتر جاوے باعث حرمت نکاح فرماتے ہیں اور امام شافعی (رح) نص کو احادیث سے خاص کر اقل مرتبہ پانچ گھونٹوں سے رضاع ثابت کرتے ہیں اور اس کے کم کو معدوم سمجھتے ہیں اور زمانہ کے بارے میں سب آئمہ آیت میں قید لگاتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں ڈھائی برس کی عمر کے اندر اگر بچہ کسی کا دودھ پئے گا تو رضاعت ثابت ہوگی۔ امام شافعی (رح) اور صاحبین کے نزدیک دو برس کی مدت معتبر ہے۔ دلائلِ فریقین کسی قدر پہلے گذر چکے۔ پھر مدت رضاع کے بعد دودھ پینے سے کوئی عورت حرام نہیں ہوگی۔ واخواتکم من الرضاعۃ دودھ شریک بہنیں۔ رضاع کی وجہ سے قرآن میں صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہنوں کی حرمت بیان کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ رضاعت بمنزلہ نسب کے ہے اور پھر نبی ﷺ نے اس بات کو اور بھی کھول دیا کہ یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب (رواہ البخاری و مسلم) عن ابن عباس ؓ کہ جو عورتیں نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاع کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔ مرضعہ کی ماں اور بیٹی اور اس کی بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں الغرض رضاع بمنزلہ نسب کے ہے مگر چند صورتیں مخصوص ہیں۔ اس لئے اس امر میں قاعدہ کلیہ کے طور پر کسی شخص نے ایک شعر میں تمام مسائل جمع کردیے ہیں۔ ؎ از جانب شیردہ ہمہ خویش شوند واز جانب شیر خوارہ زوجان فروع وامہات نسائکم بیویوں کی مائیں۔ اس میں بحکم اجماع بیویوں کی نانی دادی جن کی طرف اس کا نسب منتہی ہو ٗ خواہ باپ کی طرف سے خواہ ماں کی طرف سے سب شریک ہیں۔جمہور کا یہ مذہب ہے کہ جس عورت سے نکاح کرلیا خواہ ہنوز اس سے صحبت نہ کی ہو صرف نکاح کرنے سے اس عورت کی ماں سے نکاح حرام موبد ہوجاوے گا البتہ بیوی کی دوسرے خاوند کی بیٹی جب حرام ہوگی کہ جب اس بیوی سے صحبت بھی کرے گا ورنہ محض نکاح سے نہیں اگر یہ اس بیوی کو طلاق دے کر اس کے پہلے خاوند کی بیٹی سے نکاح کرلے تو اس صورت میں کرسکتا ہے۔ کس لئے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اب اس کی ماں سے نکاح حرام ہے۔ خواہ صحبت کی ہو یا نہ کی ہو اور جو کسی لڑکی کی ماں سے نکاح کیا اور ہنوز صحبت نہیں کی تو طلاق دے کر اس سے چاہے تو نکاح کرلے۔ اخرجہ عبدالرزاق و عبد بن حمید و ابن جریر وابن المنذر والبیہقی فی سننہ مگر چند صحابہ وتابعین جیسا کہ حضرت علی اور زید و ابن عمر و زبیر و جابر ؓ دونوں میں صحبت کرنے کی قید لگاتے ہیں کہ ساس بھی جب بنتی ہے کہ جب نکاح کرکے اس کی بیٹی سے صحبت کرے گا کیونکہ دونوں حکموں کے بعد قرآن میں دخلتم بہن یعنی صحبت کی قید موجود ہے اور حدیث مذکور میں کلام ہے۔ زنا سے مصاہرت ثابت ہوتی ہے یا نہیں ؟ علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ اگر کسی عورت سے زنا کیا تو اس سے اس عورت کی ماں ساس ہوسکتی ہے ؟ جمہور کے نزدیک نہ ہوگی بلکہ اس کی ماں سے یا اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے۔ کس لئے کہ امہات نساء میں داخل نہیں اور نیز دارقطنی نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ کسی نے ایک عورت سے زنا کرلیا تھا۔ پھر اس نے اس کی ماں یا بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ حرام سے کوئی حلال چیز حرام نہیں ہوجاتی مگر امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری اور احمد و اسحاق و عطا و حسن و شعبی (رح) کہتے ہیں۔ وہ ساس ہوجاوے گی۔ بلکہ اگر شہوت سے ہاتھ لگایا یا ستر خاص کو بنظر شہوت دیکھا تب بھی اس عورت کی ماں ساس ہوجاوے گی اور یہ عورت بمنزلہ بیوی کے قرار پا کر اس کی بیٹی ربیبہ ہوجائے گی۔ بعض کہتے ہیں اگر کسی لڑکے سے اغلام کرے گا تو اس کی ماں سے نکاح کرنا ساس ہو کر حرام ہوجاوے گا۔ وفیہ مافیہ وربائبکم جمع ربیبہ یعنی عورت کے پہلے خاوند سے بیٹی اور چونکہ ایسی لڑکیاں اپنی ماں کے ساتھ رہتی ہیں اور نئے باپ کے ہاں پرورش پاتی ہیں۔ اس لئے فی حجورکم کی قید واقعی بڑھائی جس کو بعض ناسمجھ پادری بےفائدہ کہہ کر قرآن پر اعتراض کرتے ہیں۔ حجور جمع حجر بالکسر والضم جس کے معنی گود اور پرورش کے ہیں۔ یہ لڑکیاں بھی جب حرام ہوتی ہیں کہ جب ان کی ماں سے نکاح کرکے صحبت کا اتفاق ہوا ہو عام ہے کہ اس لڑکی نے اس شخص کے ہاں پرورش پائی ہو یا نہیں مگر بعض نے حضرت علی ؓ سے منقول کیا ہے کہ ایسی لڑکی سے نکاح درست ہے کیونکہ قید پرورش ہونے کی ہے اور جب اس کی پرورش میں نہ تھی تو حرام نہیں جمہور اس کے برخلاف ہیں اور قید کو احترازی نہیں کہتے اور اگر صحبت کا اتفاق نہیں ہوا تو بالاتفاق اس لڑکی سے نکاح درست ہے۔ وحلائل ابناء کم صلبی بیٹے کی بیوی اس میں پوتا بھی شریک ہے۔ خواہ بیٹے نے نکاح کرکے صحبت کی ہو یا نہیں حلائل جمع حلیلہ بروزن فعلیہ بمعنی مفعول یعنی حلال کی گئی۔ چونکہ بیوی حلال ہوتی ہے۔ اس لئے اس کو حلیلہ کہتے ہیں۔ اصلابکم کی قید سے منہ بولے بیٹے کی بیوی نکل گئی کیونکہ اس سے نکاح حرام نہیں۔ وان تجمعوا دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ اس میں بحکم حدیث عورت کی خالہ اور پھوپھی بھی شریک ہیں یعنی جس طرح دو بہنوں سے نکاح حرام ہے۔ اسی طرح پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی سے بھی بلکہ ہر ذی رحم محرم سے مگر ملک یمین میں جمع کرنا منع نہیں یعنی دو بہنوں کو جو لونڈیاں ہوں ایک ساتھ خریدنا مضائقہ نہیں مگر دونوں سے صحبت نہ کرے۔ ان سب اقسام کے بعد پندرہویں ایک اور قسم حرام اور عورتوں کی وہ ہے۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

(اور تم پر) شوہردار عورتیں بھی (حرام) ہیں مگر وہ جو تمہارے قبضہ میں آگئی ہوں 4 ؎ ( یہ) خدا کا تمہارے لئے نوشتہ ہے اور ان کے سوا سب عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں (بشرطیکہ) تم مال (مہر) کے معاوضہ میں پاک دامنی کے لئے نہ کہ شہوت رانی کے لئے ان کو نکاح میں لانا چاہو پھر جن سے تم نے صحبت کا فائدہ اٹھا لیا ہو تو ان کے مہر ادا کرو جو واجبی دینا ہے اور (مہر میں سے) جو کچھ آپس کی رضامندی سے قرار پایا گیا ہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں۔ بیشک اللہ سب کچھ جانتا اور سب حکمتوں سے واقف ہے۔

محصنات : والمحصنات من النساء احصان لغت میں منع کرنے کو کہتے ہیں اور چونکہ قلعہ غیر کو آنے سے منع کرتا ہے اس لئے اس کو حصن کہتے ہیں اور اسی لئے شہر پناہ والے شہر کو مدینہ حصینہ بولتے ہیں۔ حصان بالکسر نر گھوڑا جو مالک کو قبضہ دشمن سے روکتا ہے۔ حصان بالفتح پارسا عورت جو اپنے ستر کو بدکاری سے روکتی ہے۔ قرآن میں لفظ احصان چند معنی کے لئے بولا گیا ہے۔ (1) حر یعنی آزاد مرد و عورت پر جو کسی کے غلام نہ ہوں۔ والذین یرمون المحصنات اے الحرائر (2) پارسا پر محصناتٍ غیر مسافحات (3) خاوند والی عورت پر والمحصنات من النساء اس صورت میں جمہور کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہوئے کہ تم پر شوہر دار عورتیں بھی حرام ہیں الا ماملکت ایمانکم مگر وہ شوہر دار عورتیں جو جہاد میں قید ہو کر آویں اور ان کے شوہر ساتھ نہ ہوں (جیسا کہ ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں) یا ہوں جیسا کہ امام شافعی (رح) کہتے ہیں تب یہ عورتیں جو لونڈیاں ہو کر آئی ہیں جن کو ہاتھ کا مال کہا ہے مالکوں کے لئے حلال ہیں۔ ایک حیض آنے کے بعد کس لئے کہ کفر کا نکاح ایسے موقع پر معتبر نہ ہوگا اور اس اسیری کا اثر بمنزلہ طلاق کے بلکہ اس سے بھی زیادہ واقع ہوگا اور ابو العالیہ اور عبیدہ سلیمانی اور طائوس اور سعید بن جبیر اور عطاء اور حضرت عمر ؓ کے نزدیک اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ تم پر محصنات یعنی پارسا عورتیں حرام ہیں مگر جن کی عصمت بسبب نکاح مالک کے تمہارے قبضہ میں آجاوے وہ حلال ہیں۔ ان عورتوں کا بیان فرما کر جن سے نکاح حرام ہے : فرماتا ہے واحل لکم ماوراء ذلکم کہ ان کے سوا عورتیں تم پر حلال ہیں مگر نہ مطلقاً کہ جس عورت سے ان عورتوں کے علاوہ جو چاہا کرلیا جاوے جیسا کہ اجنبی عورتوں سے زنا کرلیا جاتا ہے بلکہ چند شرطیں ہیں جن کے مجموعہ سے عرف میں نکاح ثابت ہوتا ہے۔ اول ان تبتغوا باموالکم یعنی اپنے مال صرف کرکے ان کو حاصل کرو۔ گرچہ ہر قوم میں شادی کے وقت مال صرف کرنا بالخصوص شائستہ ملکوں کا قدیم دستور ہے کہیں نکاح سے پیشتر کچھ ہدیہ جس کو چڑھاوا کہتے ہیں بھیجا جاتا ہے اور منگنی کے ایام میں بھی گہنا کپڑا برتن وغیرہ حسب دستور بھیجے جاتے ہیں تاکہ شوہر کی خواہش اور بیوی کا اعزاز ثابت ہو اور لوگوں میں یہ بات شہرت بھی پا جاوے۔ آشنائی اور خفیہ سازش نہ معلوم ہو تاکہ کل اس کی اولاد کو عارننگ اور بیوی کے کنبہ کو ذلت کا باعث نہ ہو اور پھر اس میں اور اس کے کنبے میں محض اجنبیت نہ پائی جاوے جو تمدن کے بارے میں زہر ہے۔ مہر مقرر ہونے کی بحث : عرب میں یہ دستور تھا کہ بروقت نکاح عورت کی خوشی اور عزت کے لئے اس کو کچھ نقد دیا جاتا تھا جس کو مہر کہتے ہیں۔ اقل مرتبہ اس مہر کا نام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دس درہم ہونے چاہییں جو تخمیناً ساڑھے تین یا پونے چار روپیہ چہرہ شاہی ہوتے ہیں کیونکہ ابتغاء باموال فرمایا ہے اور اس سے کم مقدار کو ایسے موقع میں مال صرف کرنا نہیں کہتے اور اس لئے چور کے ہاتھکاٹنے میں بھی جو مال کی چوری پر کٹتا ہے۔ دس درہم معتبر ہیں۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک اقل مرتبہ کی کوئی حد نہیں خواہ ایک پیسہ ہو یا کچھ اور ہو بلکہ احادیث میں بعض عورتوں کا مہر تعلیم قرآن ہی آنحضرت ﷺ نے قرار دیا تھا۔ دوم محصنین کہ اس سے مقصود ان عورتوں کو پابند کرنا اور اپنی پاکدامنی مقصود رکھنا ہو غیر مصافحین نہ شہوت رانی مطلوب ہو سو یہ ساری باتیں گواہوں کے روبرو ایجاب و قبول سے ہوتی ہیں اور اسی کو عرف شرع میں نکاح کہتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ محرمات کے علاوہ اور عورتیں نکاح کرنے سے حلال ہیں ورنہ وہ بھی حرام کس لئے کہ والمحصنت کا عطف امہات پر ہے۔ اے و حرمت علیکم المحصنات۔ چونکہ مہر بسا اوقات وقت پر نقد نہیں دیا جاتا تھا بلکہ ذمہ پر واجب کرلیا جاتا تھا اور اس کو کچھ عرب واجب الادعاء خیال نہ کرتے تھے۔ اس لئے اس کے بعد یہ بھی فرما دیا فما ستمتعتم بہ منہن فاتوھن اجورھن استمتاع لغت میں نفع حاصل کرنا اور جس چیز سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اس کو متاع کہتے ہیں۔ پھر آیت کے معنی حسن اور مجاہد وغیرہا کے نزدیک یہ ہیں کہ جس چیز پر تم نے ان عورتوں سے نفع حاصل کیا ہے جماع اور عقد نکاح کرکے تو اس چیز کو کہ جو ان کا مہر ہے دے دو ۔ اجور اجر کی جمع ہے اور مہر چونکہ عورتوں کے منافع کا بدل ہے اس لئے اس کو اجر کہہ دیا اور کئی جگہ قرآن میں اجر بمعنی مہر آیا ہے ازانجملہ یہ آیت ہے لا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا آتیتموھن اجورھن اس ترکیب میں ضمیر میں عائد محذوف مانی جاوے گی اور یوں بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ مابمعنی من لیا جاوے یعنی جن عورتوں سے تم نے نفع بطور جمع و عقد نکاح حاصل کیا ہے ان کے مہر ان کو دے دو مگر جمہور کے نزدیک یہاں بھی نکاح مراد ہے اس کو اس لئے بیان کیا ہے کہ جب عورت سے نکاح کرکے صحبت کرچکے تو نفع اٹھا لیا۔ ان کا پورا مہر واجب ہوگیا۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ پہلی آیتوں میں نکاح مراد تھا۔ اس آیت میں نکاح متعہ مراد ہے جو ابتدائِ اسلام میں کسی ضرورت سے جائز ہوگیا تھا۔ پھر اس کو شریعت نے حرام کردیا اور قرأت ابی ابن کعب و ابن عباس و سعید بن جبیر ؓ کہ جس میں الی اجل مسمی آیا ہے اس کی مؤید ہے۔ متعہ کی بحث : متعہ ایک قسم کا نکاح ہے جس میں مرد عورت کو کسی مقدار معین مال سے ایک مدت معین تک اپنے پاس رکھے اور ایجاب و قبول اس میں بھی شرط ہے۔ پھر اس کو رنڈی بازی کہنا فضول ہے۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ نکاح فتح خیبر اور فتح مکہ میں جائز ہوا تھا۔ پھر اس کو نبی (علیہ السلام) نے ابداً حرام کردیا جیسا کہ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خیبر کے روز گدھوں کے گوشت اور نکاح متعہ سے منع کردیا۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے اور بھی احادیث اس قسم کی وارد ہیں۔ علاوہ اس کے جبکہ یہ آیت نازل ہوئی والذین لفروجہم حافظون الا علی ازواجہم اوما ملکت ایمانہم کہ سوائے بیوی اور لونڈی کے اور کوئی عورت درست نہیں تو پھر اس کے منسوخ ہونے میں کیا کلام ہے ؟ کس لئے کہ متاعی عورت نہ بیوی ہے کیونکہ بیوی کو میراث ہے اس کو نہیں اور نہ لونڈی ہے اور بعض علماء متعہ کو بدستور جائز کہتے ہیں جیسا کہ صحابہ میں سے ابن عباس اور عمران بن حصین ؓ وہ کہتے ہیں کہ یہ عورت بھی بیوی ہے مگر اس کے لئے چند روزہ ہونے کی وجہ سے میراث نہیں مگر ابن عباس ؓ اس کو حالت اضطرار میں جائز کہتے تھے۔ پھر اخیر میں رجوع کرلیا اور اس فریق کے بھی دلائل ہیں مگر وہ نہایت کمزور ہیں جن کو علمائِ اسلام نے رد کردیا ہے۔ فرقہ شیعہ بھی اس کے جواز کا قائل ہے اور حضرت علی ؓ سے اس کا جواز منقول کرتے ہیں۔ دوسری بحث : یہ عورتیں جو شریعت نے حرام کی ہیں وہ ہیں کہ جن کی حرمت سلیم الطبع قوموں میں فطری ہے۔ مثلاً ماں کہ جس کا دودھ پی کر انسان اکثر پرورش پاتا ہے۔ ایک ایسی عورت ہے کہ اگر کوئی شریعت یا پیغمبر بھی دنیا میں آکر منع نہ کرتا تو انسان کی طبیعت سلیمہ اس کی طرف جماع تو کیا خیال بد کی بھی اجازت نہ دیتی بلکہ بوقت ہیجان طبع ایسی عورتوں کا خیال بھی اس شعلہ شہوت کے لئے سرد پانی کا حکم رکھتا ہے اور یہ بات سب سلیم الطبع لوگوں میں یکساں ہے۔ اسی طرح بہن ‘ بیٹی ‘ بھتیجی ‘ بھانجی ‘ خالہ ‘ پھوپھی کا حال ہے۔ طبعی قباحت : علاوہ اس کے اگر بغور دیکھئے تو صدہا قباحتیں بھی ہیں۔ ان کی طبعی قباحت کا یہ ہے کہ ہر وقت کے پاس رہنے اور ان کے روبرو پرورش پانے سے نفس کو ان کی طرف ہیجان نہیں ہوتا اگر ان سے نکاح درست ہوتا تو بلا شک یہ جماع اس کو سخت مضرت پہنچاتا اور اولاد بھی نہایت کمزور ہوتی۔ چناچہ حیوانات سے جب اس قسم کی جفتی سے بچہ لیا جاتا ہے تو وہ نہایت کمزور ہوتا ہے۔ اس کا حکمائے حال نے بھی تجربہ کیا ہے۔ تمدنی قباحت : تمدنی قباحت یہ ہے کہ اگر ان عورتوں سے نکاح درست ہوتا تو اول باپ بیٹی اور بھائیوں اور دیگر ان اقارب میں کہ جن کے اجتماع بغیر خانہ داری کا کوئی سامان ہی نہیں ہوسکتا اس محبت کو اختلاط سے کہ جو ان عورتوں کو اپنے پیارے بھائی بیٹے بھتیجے باپ سے ہے مظنہ تہمت ہو کر بڑا فساد پھیلتا۔ دوم جب انہیں سرپرستوں سے نکاح درست ہوتا تو حقوق زوجیت عمدہ طور سے قائم نہ ہوتے اور در صورت عدم قیام پھر بیچاری عورت کی طرف سے کون مطالبہ کرنے کھڑا ہوتا ؟ روحانی قباحت : روحانی قباحت یہ ہے کہ ملائِ اعلیٰ کے لوگوں کو اس بہیمت سے ایک نفرت خاص ہے جیسا کہ بدبو سے دماغ انسان کو ہے۔ پھر اس نفرت کا اثر اس کی روح تک اس طرح سرایت کرتا ہے کہ جس طرح اجرام علویہ آفتاب ماہتاب کا اثر زمین کے نباتات پر جس کی اس کی روح پر ایک ظلمت و مرض طاری ہوتا ہے جو بعد مردن اس کے لئے عذاب الیم اور نار جحیم کا مزہ دکھاتا ہے۔ رہیں اور سات عورتیں ان میں سے دودھ کی ماں اور بہن میں تو وہی بات ہے جو حقیقی میں ہے۔ رہی ساس ‘ سالی ‘ بہو ‘ بیوی کی بیٹی ‘ باپ کی منکوحہ سو اگر ان کے پاس یہ لوگ نہ آویں جاویں تو خانہ داری میں فرق آتا ہے اور بیوی بمنزلہ قیدی کے ہوجاتی ہے اور اس صورت میں نکاح اگر جائز ہو تو طمع پکانے کا موقع ملتا اور پھر باپ بیٹے بہنوں میں رقابت سے وہ فساد پیدا ہوتا کہ جو بیان سے باہر ہے اور نیز باہمی حقوق تلف ہوجاتے۔ اس لئے خدا نے انبیاء کی معرفت ان کو حرام کیا اور جو پھر کوئی مرتکب ہو تو اسی کے لئے دنیا و آخرت میں حکم عدولی کی سزا معین کی۔ اس پر بھی ملحدوں کا یہ کہنا (کہ ماں اور بیوی میں کچھ فرق نہیں۔ صرف رسم و رواج مانع ہے اور مصلحت کے لئے دینی رفارمروں نے منع کردیا ہے ورنہ عذاب وثواب کچھ نہیں) سخت بیوقوفی ہے۔ بعد اس کے مہر کی بابت یہ بھی رخصت دے دی کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے اس کو کم زیادہ بھی کرسکتے ہیں خواہ بالکل عورت معاف کر دے تو جائز ہے۔ ان سب امور کی حکمت کی طرف ان اللہ کان علیمًا حکیمًا میں اشارہ فرما دیا۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جس کو تم میں سے (اس بات کا) مقدور نہ ہو کہ وہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے تو پھر جو تمہارے قبضہ میں مسلمان لونڈیاں ہوں (ان سے ہی نکاح کرے) اور اللہ تمہارے ایمان سے خوب واقف ہے۔ تم آپس میں ایک ہو 1 ؎ سو ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اور ان کو ان کے مہر دستور کے موافق دو (نکاح) بیویاں بنانے کے لئے ہے نہ کہ شہوت رانی کے لئے اور نہ مخفی آشنائی کے لئے۔ پھر جب وہ نکاح میں آجائیں (اور نکاح میں آئے پیچھے) پھر اگر وہ زنا کریں تو جو سزا بیویوں پر ہے اس کی آدھی سزا ان پر ہے یہ (لونڈیوں سے نکاح کی اجازت) اس کے لئے ہے کہ جو تم میں گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ رکھتا ہو اور جو صبر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔

1 ؎ : لونڈیاں بھی آدم کی اولاد تمہارے ہم جنس ہیں۔ اصل فضیلت ایمان و نیکوکاری سے ہے۔ ترکیب : ومن لم یستطع شرط فمن ما ملکت جواب۔ طولا مفعول یستطع ان ینکح منصوب ہے طولا کی وجہ سے۔ محصنات حال ہے ضمیر ھن سے۔ ولا متخذات الخ معطوف ہے محصنات پر اخدان جمع خدن مثل عدل واعدال بمعنی پوشیدہ آشنائی۔ فاذا الخ شرط فان اتین شرط و جزا کا مجموعہ جواب۔ ان تصبروا مبتداء خیرلکم خبر۔ تفسیر : آزاد عورتوں سے نکاح کرنے میں مہر بھی زیادہ دینا ہوتا ہے اور مصارف بھی زیادہ ہوتے ہیں اور تجرد بھی ایک مصیبت ہے۔ زنا کا دروازہ بند کردیا گیا اس لئے لونڈی چھوکریوں سے نکاح کی اجازت دی۔ فقال ومن لم یستطع منکم الخ کہ جس کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کا مقدور نہ ہو تو کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلے بشرطیکہ وہ محصنہ یعنی پاکدامن ہو۔ زانیہ اور درپردہ آشنائی کرنے والی نہ ہو۔ دوم یہ نکاح اس مسلمان لونڈی سے اس کے مالک کی اجازت سے کرو کیونکہ خدا کو تمہارے ایمان اور دلی حالات معلوم ہیں اور اس میں کوئی عار بھی نہیں۔ کس لئے کہ بنی آدم بلحاظ نسل کے یکساں ہیں۔ لونڈی ہونا عارضی بات ہے اور جو کچھ قدر قلیل دستور اور رواج کے موافق ان کے مہر و مصارف ہوں دیتے رہو نہ کہ ان کے مصارف کا بار مالکوں ہی پر ڈال دو اور نہ یہ ہو کہ ان سے نکاح نہ کرو۔ مخفی آشنائی کرکے شہوت رانی کرو۔ فوائد : (1) من لم یستطع منکم طولاً ۔ طول تونگری اور فراخی اور بالضم ضد قصر ہے یہ معنی ابن عباس ؓ اور مجاہد اور سعید بن جبیر اور سدی اور ابو زید وغیرہم نے لئے ہیں اور قتادہ اور نخعی اور ثوری کے نزدیک صبر مراد ہے من لم یستطع کی شرط سے بطور مفہوم مخالف امام شافعی (رح) نے یہ بات نکالی ہے کہ لونڈی سے جب نکاح درست ہے جبکہ اس کو حرہ سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو ورنہ نہیں اور مومنات کی قید سے یہ بات ثابت کی ہے کہ کافرہ لونڈی سے خواہ اہل کتاب ہی کیوں نہ ہو نکاح درست نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں ٗ یہ شرط وجودی بات کے لئے ہے نہ کہ عدمی کے لئے اور مومنات کی قید بطور افضلیت کے ہے یعنی افضل یہ ہے ورنہ جب نکاح حرہ کتابیہ سے ہوسکتا ہے تو لونڈی کتابیہ سے کیوں نہیں ہوسکتا ؟ من فتیاتکم یعنی اہل اسلام کی لونڈی سے نکاح کرو نہ یہ کہ خود اپنی لونڈی سے کیونکہ اس سے نکاح کی کیا ضرورت ہے ؟ (2) اتوھن اجورھن لونڈی کو مہر دینا اس کے مالک کو دینا ہے کیونکہ اس کی ہر ایک جائز آمدنی کا وہی مالک ہے۔ پھر ان دونوں باتوں میں تعارض ثابت کرکے قرآن پر اعتراض کرنا نادانی ہے اور امام مالک (رح) ظاہر الفاظ سے استدلال کرکے مہر کو خاص لونڈی کا ہی حق قرار دیتے ہیں۔ (3) فاذا احصن یعنی جبکہ نکاح میں آجاویں اور پھر زنا کریں تو جو حرہ عورت کی زنا میں سزا ہے اس کی نصف لونڈی کی ہے۔ حرہ پر سو درے ہیں تو لونڈی پر پچاس اور رجم چونکہ تنصیف کے قابل نہیں اس لئے لونڈی پر رجم نہیں اور یہی غلام کا حکم ہے اور یہ اس لئے کہ بسبب خدمتگاری کے اس کو باہر جانا مردوں سے اختلاط کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے محفوظ رہنا بہ نسبت حرہ کے مشکل ہے اور نیز سزا بقدر نعمت ہوتی ہے۔ فاذا کی شرط سے بعض نے یہ لکھا ہے کہ اگر لونڈی نکاح میں نہ آئی ہو اور پھر زنا کرے تو اس پر حد نہیں ماری جائے گی ہاں تعزیر ہوگی۔ چناچہ طائوس اور سعید اور ابو عبید اور دائود ظاہری کا یہی مذہب ہے مگر بحکم حدیث صحیحین (کہ جس کو ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا کہ اگر لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرو پھر زنا کرے تو پھر حد قائم کرو اور صحیح مسلم میں ہے لونڈی غلاموں پر حد قائم کرو خواہ وہ محصن ہوں یا نہ ہوں) یہ غلط ہے احصن کے معنی بعض نے مسلمان ہونے کے لئے ہیں کما ھو مروی عن ابن مسعود ؓ وغیرہ
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ (یہ) چاہتا ہے کہ جو (نیک لوگ) تم سے پہلے ہو گذرے ہیں ان کا طریقہ تم کو بتائے اور ان کے رستے (پر) تم کو چلائے اور تم پر مہربانی کرے اور اللہ خبردار حکمت والا ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور اللہ تو تم پر مہربانی کرنا چاہتا ہے اور جو شہوت کے بندے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (سیدھے رستے پر) بہت دور جا پڑو

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

(اور) اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے (کیونکہ) انسان ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔

ترکیب : یرید کا مفہوم ذلک محذوف ‘ لیبتین کالام یرید سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ لام زائدہ ہو تقدیرہ یریدان یتبیّن ویرید الذین یتبعون معطوف ہے واللّٰہ یریدان یتوب پر۔ ضعیفًا حال ہے انسان سے اور بعض کہتے ہیں تمیز ہے وفیہ مافیہ۔ تفسیر : لونڈیوں سے نکاح کی اجازت کے بعد یہ بھی فرما دیا تھا کہ یہ اس کے لئے ہے کہ جس کو حرامکاری میں گرفتار ہونے کا ڈر ہو ورنہ صبر کرنا تو بہتر ہے کیونکہ لونڈیوں کی عادتیں اچھی نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ یہ احکام اور نصائح ہم تمہارے فائدہ کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ تم صالحین اور راستبازوں کے طریقہ پر چل کر مقصود تک پہنچو۔ ویتوب علیکم سے یہی مراد ہے اور جو تمہیں کہیں شبہ ہو کہ فلاں چیز کو کیوں حلال کیا فلاں کو کیوں حرام کیا اور اس کی حکمت تمہاری سمجھ میں نہ آوے تو تم وسوسہ شیطانی میں نہ پڑو بلکہ یہ خیال کرلو کہ اللہ علیم ہے ہر چیز کی ابتداء انتہاء اس کو معلوم ہے اور نیز حکیم ہے۔ ہر امر میں ضرور حکمت مرعی رکھتا ہے۔ پھر جو اس نے حکم دیا ہے اس میں ضرور کچھ نہ کچھ حکمت ہے۔ خدا تو ان احکام کے بیان کرنے اور زنا سے بچنے کے لئے رستہ نیک بتانے میں تم پر مہربانی کر رہا ہے اور شہوات و لذات کے فریفتہ یہ چاہتے ہیں کہ تم کو راہ راست سے بہت ہی دور لے جا کر ڈال دیں کیونکہ مجوسی ‘ یہودی ‘ عیسائی ‘ مشرکین فرقوں میں بڑی آزادی ہے۔ خدا تمہارے لئے آسانی کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان جبلی طور پر خواہش کے ساتھ مقابلہ کرنے میں نہایت کمزور ہے۔ بہت لوگ دیو شہوت کے مقابلہ میں ذرا بھی نہیں ٹھہر سکتے۔ انسان کے لئے جس طرح شتر بےمہار ہو کر لذات و شہوات میں آزادانہ کامرانی کرنا بلا قید حلال و حرام اور پاک و ناپاک بہائم جیسی زندگی ہے جو کمالات روحانیہ سے محروم رکھتی ہے جیسا کہ یورپ کی قوموں میں پولوسی مذہب سے پیدا ہے۔ اسی طرح مباح اور جائز اشیاء کو بھی از خود اپنے اوپر حرام کرکے معیشت کے دائرہ کو تنگ کرلینا ہے۔ جیسا کہ ہنود میں برہمنوں نے کر رکھا ہے اور اس کے ہاں چچا ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹی سے نکاح ‘ ممنوع غیر کے ہاتھ لگ جانے سے ان کا کھانا پینا ناپاک ‘ بغیر نہائے خونی سردی ہو یا گرمی جنابت ہو یا نہ ہو کھاناپینا ممنوع وغیرہ دنیا میں قومیت کو برباد کرنے والی چیز ہے۔ یہ کام حضرات انبیاء کا ہے۔ ہر چیز کی حلت و حرمت کا نتیجہ روحانی بلکہ جسمانی وہی خوب سمجھ سکتے ہیں جن قوموں نے یہ کام اوروں کے سپرد کیا وہ گمراہ ہوگئیں۔ اسلام نے یہ خدمت حضرات انبیاء بالخصوص خاتم المرسلین ﷺ کے ساتھ مخصوص رکھی۔ اس لئے وہ اس افراط وتفریط سے محفوظ ہے جس میں ہر قسم سے انسان کے لئے سہولت بھی ملحوظ رکھی ہے مگر اور قومیں مسلمانوں کو بھی اپنے رستہ پر لے جانے کی کوشش کرتی ہیں جو مسلمان اس طریقہ انبیاء کو چھوڑ کر جس قدران کے طریقہ کو اختیار کرے گا اسی قدر گمراہی میں پڑ کر راہ راست سے دور جا پڑے گا اور ایسا واقعہ ہوا بھی ہے جن لوگوں پر افراط کی ہوا لگی وہ یورپ کی قوموں کی طرح بےقدر ہوگئی یہاں تک کہ فرائض بھی چھوڑ بیٹھے اور جن پر ہنود کا اثر پڑا ان میں ہزاروں رسوم بیجا پیدا ہوگئے۔ شدہ شدہ ان کے مذہبی قوانین بھی اسی رنگ میں رنگین ہوگئے بلکہ جس طرح وہ اپنے بزرگوں کی پرستش کرتے ہیں یہ بھی اپنے بزرگوں کی پرستش کرنے لگے۔ تعزیہ پرستی ‘ قبر پرستی ‘ فال اور ٹوٹکوں کی پابندی ان میں پیدا ہوگئی۔ آیت کے الفاظ میں دونوں فرقوں میں اہل افراط وتفریط کی طرف اور درمیانی رستہ کی طرف کس خوبی سے اشارہ ہے۔ درمیانی رستہ کی طرف یرید اللّٰہ لیبین لکم سنن الذین من قبلکم ای طریق الانبیاء السابقین میں اشارہ ہے اور افراط کی طرف ویرید الذین یتبعون الشہوات ان تمیلوا میلاً عظیما میں اشارہ ہے اور دراصل یہ آزادی بہت ہی دور لے جا کر ڈال دیتی ہے اور تفریط کی طرف یرید اللّٰہ ان یخفف عنکم میں اشارہ ہے کہ انہوں نے تو رستہ بھاری اور مشکل کردیا۔ خدا آسانی کرنا چاہتا ہے وخلق الانسان ضعیفا اس کی علت ہے کہ انسان ایسی دشواری کا متحمل ہونے میں ضعیف ہے۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مسلمانو ! تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا جایا کرو (ہاں) اگر آپس کی رضامندی سے سودا ہو (تو کچھ مضائقہ نہیں) اور نہ آپس میں خونریزی نہ کیا کرو (بےشک) خدا کی تم پر بڑی مہربانی ہے

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی کام سرکش اور ظالم بن کر کرے گا سو ہم عنقریب اس کو آگ میں دھکیل دیں گے اور یہ بات اللہ پر (بہت) آسان ہے

ترکیب : بینکم ثابت سے متعلق ہو کر حال ہوا اموال سے۔ بالباطل۔ لاتاکلوا سے متعلق ہے الاستثناء منقطع تکون کا اسم ضمیر جو اموال کی طرف پھرتی ہے تجارت خبر بعض نے کان تامہ قرار دے کر تجارۃ کو بالرفع بھی پڑھا ہے عن تراض موصوف منکم صفت مجموعہ تجارۃ کی صفت ومن یفعل مرفوع بالابتداء فسوف خبر مدخلا بالضم مصدروبالفتح ظرف۔ تفسیر : جبکہ عورتوں کے متعلق نکاح کے احکام بیان کئے گئے اور مصارف مہر ادا کرنے کی تاکید فرمائی گئی تو اس کے بعد جو کچھ باہمی کج اخلاقی اور جورو خصم کی بدمزگی سے برے نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کی اصلاح فرماتا ہے کہ تم باہم اپنے مال دغا فریب کے طور پر نہ کھا جایا کرو۔ نہ بیوی میاں کے مال میں ایسا کرے نہ میاں بیوی کے مال میں ایسا کرے۔ ہاں باہم رضامندی سے تجارت ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور نہ میاں کسی بات پر ناراض ہو کر یا کسی طمع فاسد سے یا کسی بدگمانی سے بیوی کو قتل کردیا کرے نہ بیوی میاں کا مال لینے کی وجہ سے یا کسی اور شخص سے نکاح کرنے کے لئے میاں کو زہر سے یا کسی اور ترکیب سے قتل کرے اور جو ایسا کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے اور خدا کو تم سے محبت اور مہربانی ہے۔ اس کی محبوب چیزوں کو قتل کرنا برا ہے یا یوں کہو نکاح میں مالکانہ صرف تھا اس کے ساتھ اور ناجائز تصرفات کا منع بھی مناسب ہو۔ اپنے مالوں کو باطل طور سے نہ کھائو اس میں اپنا ذاتی مال بھی آگیا۔ اس میں اسراف اور طرح طرح کی فضول خرچی کرنا جو عموماً شادی بیا ہوں میں ہوتی ہیں باطل طور سے کھانا ہے جو انجام کار اپنے آپ کو ہلاک کرتا ہے لا تقتلوا انفسکم اس کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس میں غیر کا مال بھی آگیا کیونکہ برادران دینی یا بنی آدم بمنزلہ نفس واحد کے ہیں۔ ان کا مال باطل طور سے کھانا یہ ہے کہ چوری ٗ قذاقی ٗ غصب ٗ رشوت سے یا انکارِ حق کرکے یا کوئی فریب دے کر کسی کا مال کھایا جاوے اس میں سب ناجائز طریق مراد ہیں سو ایسا نہ کرو۔ ہاں تجارت کا کچھ مضائقہ نہیں خواہ اس میں بائع کو فائدہ مشتری کو نقصان ہو یا بالعکس یا نہ ہو اور جو کوئی ایسا کرتا ہے تو اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے۔ لاتقتلوا انفسکم بھی عام ہے۔ خودکشی کرنا جیسا کہ رنج کی حالت میں کوتاہ اندیش کرتے ہیں یا بہ نیت تقرب کسی دریا میں ڈوب مرنا یا آگ میں جل مرنا یا برف میں دب جانا جیسا کہ ہنود کرتے ہیں اس میں شامل ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو اپنے آپ کو قتل کرے گا اسی چیز سے اس کو حشر تک اس عالم میں عذاب دیا جاوے گا اور اس میں غیر کا قتل کرنا بھی مراد ہے کیونکہ سب بنی آدم بمنزلہ نفس واحد ہیں۔ سو یہ بھی حرام ہے۔ اول تو اس فعل سے اس طور سے منع فرماتا ہے کہ اللہ کی تم پر مہربانی ہے۔ انسان مظہر اسرار رحمانی ہے اور یہ مخلوق اس کی عیال 1 ؎ ہے۔ اس کو اپنے ہر ایک بندہ پر رحمت کمال ہے جس طرح کہ ماں باپ کو اپنے بال بچوں پر ہوتی ہے۔ پھر دیکھو ان کا قتل کرنا ‘ ناجائز طور سے مال کھا جانا ‘ ماں باپ کو کہ جس کا تعلق خالق مخلوقیت کا نہیں کس قدر برا معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی اشارہ ہے کہ ہم نے تمہاری توبہ بنی اسرائیل کی طرح قتل نفس مقرر نہیں کی کیونکہ ہم تم پر مہربان ہیں اس کے بعد اس کی سزا سنا کر ڈراتا ہے کہ ایسے کے لئے جہنم ہے۔ عدوانا وظلما سے اس طرف اشارہ ہے کہ قصاص وغیرہ حقوق میں قتل مباح ہے۔ اس گناہ کے بعد توبہ کی رغبت دلاتا ہے کہ اگر تم گناہ کبائر سے بچتے رہو گے تو ہم تمہارے پہلے گناہ معاف کردیں گے خواہ صغائر ہوں خواہ کبائر بشرطیکہ حقوق عباد نہ ہوں یا صغائر کو معاف کردیں گے۔ کبائر شرک کرنا ‘ قتل کرنا ‘ چوری کرنا ‘ زنا کرنا ‘ سحر کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا وغیرہ جن کی تشریح احادیث میں موجود ہے کبائر سے بچنے کی یوں قید لگائی کہ کبائر صغائر سب سے بچنا بجز خاصان خدا ہر ایک کا کام نہیں۔
Ayahs 4:31–32

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم ممنوعات میں سے بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو گے تو ہم تمہارے گناہ (صغائر) دور کردیں گے اور (علاوہ اس کے) تم کو عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جس چیز میں کہ خدا نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اس کو ہوس نہ کیا کرو۔ مردوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کو اپنی کمائی کا حصہ ہے اور اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو۔ بیشک اللہ ہر ایک چیز جانتا ہے۔

ترکیب : مابمعنی الذی یا نکرہ موصوفہ اور عائد۔ بہ میں ضمیر ہے بعضکم مفعول ہے ‘ فضل کا ‘ نصیب مبتداء للرجال خبر مقدم مما کامن نصیب سے متعلق ہے۔ ولکل کا مضاف الیہ محذوف ای لکل احد ‘ جعل کا مفعول اول موالی جمع مولی ہے اور ثانی لکل ای جعلنا وارثا لکل احد مما ترک یا تو مال محذوف کی صفت ہے ای من مال ترک الوالدان یا متعلق ہے یرثون محذوف سے۔ والذین عقدت الخ مبتداء فاتوھم خبر جملہ کا عطف کلام سابق پر ہے۔ : احکام کے بعد معاملات جو برے نتائج پیدا ہوجاتے ہیں دغا فریب سے مال اور کسی کی بیوی پر دست تطاول دراز کرنا جس کا آخری نتیجہ مارپیٹ اور آخر قتل تک نوبت پہنچتی ہے اس انجام کی خرابی جتا کر ان آیات میں کن تہدید آمیز الفاظ سے روکا جاتا ہے۔ 12 منہ 1 ؎ حالانکہ وہ عیال و اطفال سب سے پاک ہے۔ لم یلد ولم یولد 12 منہ تفسیر : پہلی آیت میں قتل کرنے اور ناحق کسی کے مال کھانے سے منع فرمایا تھا اور عجیب لطف کے ساتھ ممانعت کی تھی۔ اس جگہ نفوس کی اصلاح اور اس قتل و ناحق مال خوری کے مادہ کو کہ جو اکثر حسد و رشک ہے قطع کرتا ہے کیونکہ پیشتر انسان جب کسی مال کی طرف یا اس کے رتبہ و منصب خداداد کی طرف دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو کم مایہ جان کر ان کے دل میں لالچ اور حسد کا شعلہ بھڑکا کرتا ہے جو اس کو اس کے قتل کرنے یا مال مارنے پر آمادہ کرکے دنیا اور آخرت کی سعادت سے محروم کردیا کرتا ہے۔ اس لئے اس مرض کی دوا تعلیم فرماتا ہے کہ تم ہر ایک فضیلت و منصب مختصہ کی دل میں ہوس نہ کیا کرو جو ہر وقت سوخت و گداز اور غمگینی اور خدا کی ناشکری کا باعث ہوجاتی ہے اور انجام کار حسد و لالچ پیدا کرکے قتل اور ناحق مال مارنے وغیرہ فسادات میں مبتلا کردیتی ہے بلکہ رضائے الٰہی اور قسمت ازلی پر راضی و شاکر ہو کر اس سے اس کی عنایت اور فضل کا سوال کیا کرو۔ وہ دے گا اور یہ جان لو کہ ہر مرد و عورت کو اس کی جو کچھ تقدیر میں ہے وہی ملتا ہے اور ہر ایک کو جو خدا تعالیٰ ویسا مال و نعمت نہیں دیتا تو اس میں مصلحت و حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے بکل شیء علیما واضح ہو کہ جب انسان کسی کو مال و نعمت اولاد و تندرستی میں اپنے سے فائق دیکھتا ہے تو اس کے لئے دو باتیں پیدا ہوتی ہیں یا تو یہ اس کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اس کو حسد کہتے ہیں سو یہ حرام ہے کیونکہ یہ تمام فسادات قطع محبت و مؤدت کی جڑ ہونے کے علاوہ خود اس کے لئے بھی ہر وقت جلنے کا باعث ہوتا ہے یا یہ کہ زوال تو نہیں چاہتا مگر ویسا اپنے لئے بھی چاہتا ہے اس کو غبطہ کہتے ہیں گرچہ یہ حرام نہیں مگر انجام کار ایسی آرزئوں کا دل میں رکھنا بھی خدا سے ناراضی اور ناشکری اور دنیا میں ہر وقت قلق و اضطراب کا باعث ہوجاتا ہے کیونکہ وہ کون ہے کہ جس کی تمام آرزوئیں حاصل ہوگئی ہیں ؟ بلکہ ع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ اس لئے کسی عارف نے نفس کو ان باتوں میں ہر وقت خدا سے لڑائی اور ناراضی کرتے دیکھ کر یہ کہا ہے سرمد گلہ اختصارمے باید کرد یک کارازیں دو کار می باید کرد یا تن برضائے دوست مے باید داد یا قطع نظر زیار مے باید کرد احادیث میں بھی ایسے مضامین بکثرت ہیں اس لئے ان سب رنجوں سے نجات پانے کے لئے یہ فرما دیا ولا تتمنوا یا یوں کہو میراث کے بارے میں لوگوں کے خدا نے کم زیادہ حسب مصلحت حصے مقرر کئے تھے۔ اس پر کم حصے والے کہتے تھے کہ ہم کو کم کیوں دیا بلکہ مجاہد نے روایت کیا ہے کہ ام سلمہ ؓ نے حضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہم سے مردوں کو دو چند میراث دلائی کاش ہم پیدا ہی نہ ہوتیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ ہر میت کے لئے ہم نے اس کی وارث موالی مقرر کئے ہیں۔ اس کی مصلحت ہم خوب جانتے ہیں یا یوں کہو کہ عورت و مرد کے حقوق بیان فرما کر مردوں کو فضیلت دی تھی جس سے عورتوں کے دل میں مساوات کی آرزو پیدا ہونا ممکن تھا۔ اس لئے اس خیال سے روک دیا کیونکہ ایک کو دوسرے پر برتری نہ ہو تو انتظام عالم درہم برہم ہوجائے۔ موالی جمع مولی جس کے معنی آزاد کرنے والے اور آزاد کئے گئے کے ہیں اور ابن عم اور عصبہ کو بھی کہتے ہیں۔ یہاں عصبات مراد ہیں یا عموماً وارث۔ والذین عقدت الخ اسلام میں پہلے جن میں بھائی چارہ ہوجاتا تھا۔ وہی وارث ہوتے تھے پھر جبکہ آیات میراث نازل ہوئیں تو اقارب کے لئے میراث رہ گئی اور بھائی چارہ والے لوگوں کو کہ جن سے عقد ایمان یعنی باہم ہم قسمی ہوگئے کچھ بھی نہیں دیتے تھے اس لئے یہاں یا تو بطور صلہ محبت ان کے لئے دینا فرمایا کہ جو ان کی تقدیر میں ہے وہ دے دو (نصیبہم کے یہ معنی ہیں) یا اور صورت نہ ہونے اقارب کے وہ وارث ہیں۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور ہم نے ماں باپ اوراقارب کے ترکہ میں ہر ایک کے لئے وارث بنا دیے ہیں اور جن 2 ؎ سے تم نے عہد باندھ لیا ہے ان کو (بھی) ان کا حصہ دے دیا کرو۔ بیشک اللہ کے روبرو ہر چیز حاضر ہے۔

؎ ابتدائِ اسلام میں لوگ خویش و اقارب چھوڑ کر مدینہ میں آرہے ہیں آنحضرت ﷺ نے مہاجرین کا آپس میں رشتہ قائم کردیا تھا۔ یہ تھا ان کا عہد ان میں سے ایک دوسرے کا وارث ہوتا تھا جب آیت میراث اتری تو یہ حکم جاتا رہا جس کے جو اصلی وارث تھے وہی میراث کے مستحق ٹھہرائے گئے مگر ان لوگوں کے لئے بھی عہد کے موافق سلوک کرنے کا حکم باقی رہا۔ 12 منہ