6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 6:142–143

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور اس نے جو پاؤں میں سے ایسے جانور پیدا فرمائے جو بوجھ اٹھانے والے ہیں، اور ایسے جانور بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہیں۔ اللہ نے جو تمہیں عطا فرمایا اس میں سے کھاؤ، شیطان کے قدموں کا اتباع نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

آٹھ طرح کے نر اور مادہ پیدا فرمائے کیا بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو ، آپ فرمایئے کہ اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام قرار دیا یا دونوں مادہ کو یا اس بچہ کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہوں، تم مجھے کسی دلیل سے بتاؤ اگر سچے ہو۔

(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابو عبید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حمولہ وہ جانور ہے جن پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ متلا اونٹ وغیرہ اور فرش سے مراد وہ چھوٹے اونٹ میں جن پر بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حمولہ سے مراد ہے بڑا اونٹ اور فرش سے مراد ہے چھوٹے اونٹ۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن الانعام حمولۃ وفرشا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد خالص اونٹ ہیں۔ اور حمولہ سے مراد مادہ اونٹ ہیں جن پر بوجھ اٹھایا جاتا ہے۔ اور فرش سے مراد وہ جانور ہیں جن کو کھایا جاتا ہے۔ (4) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت حمولۃ وفرشا کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا لفظ آیت فرشا سے مراد چوپاؤں میں سے چھوٹے بچے کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں۔ کیا تو نے امیہ بن ابی صلت کو نہیں سنا وہ کہتا ہے : لیتنی کنت قبل ما قدر آنی فی قلال الجبال ادعی الحمولا ترجمہ : اس سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتا کاش میں پہاڑوں کی چوٹیوں میں اونٹ چرا رہا ہوتا۔ (5) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت حمولۃ سے مراد ہے اونٹ، گھوڑا، خچر اور گدھا اور ہر وہ چیز جس پر بوجھ لادا جاتا ہے اور لفظ آیت فرشا سے مراد ہے بھیڑ بکریاں۔ (6) امام عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حمولۃ وفرشا کے بارے میں فرمایا کہ لفظ آیت حمولۃ سے اونٹ اور گائے مراد ہے اور لفظ آیت فرشا سے مراد بھیڑیں اور بکریاں ہیں۔ آٹھ قسم کے جوڑے
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو پیدا فرمائے آپ فرمایئے ! کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام قرار دیا ہے یا دونوں مادہ کو یا اس بچہ کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہیں۔ کیا تم حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس کی وصیت فرمائی۔ سو اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا، تاکہ بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کریں بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں بتاتا۔

(1) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آٹھ جوڑے ہیں اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری میں سے۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ نے اس قول لفظ آیت ثمنیۃ ازواج کے بارے میں فرمایا کہ تمہارے آٹھ جوڑے نازل کئے گئے۔ اس میں سے جو شمار کئے جاتے ہیں نر بھی اور مادہ بھی۔ (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ثمنیۃ ازواج کے بارے میں فرمایا کہ نر اور مادہ دو جوڑے ہوتے ہیں۔ (4) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ثمنیۃ ازواج کے بارے میں فرمایا کہ یہ ان جانوروں کے بارے میں نازل ہوئی جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا بحیرہ اور سائبہ وغیرہ۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے لیث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ بھینس اور بختی (اونٹ) آٹھ جوڑوں میں شامل ہیں۔ (6) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعز اثنین کے بارے میں فرمایا کہ یہ چار جوڑے ہیں لفظ آیت قلء الذکرین حرم ام الانثیین یعنی میں نے اس میں سے کسی چیز کو حرام نہیں کیا۔ لفظ آیت اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین یعنی رحم صرف نر یا مادہ کو لئے ہوتا ہے۔ پھر تم کیوں بعض کو حرام کرتے ہو اور بعض کو حلال کرتے ہو (اور) لفظ آیت نبؤنی بعلم ان کنتم صدقین یعنی یہ سب حلال ہیں یعنی جن کا پہلے ذکر کیا ان چیزوں میں سے جن کو جاہلیت والوں نے حرام قرار دیا ہے۔ (7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیک نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اما اشتملت علیہ ارھام الانثیین کے بارے میں فرمایا کہ جو کچھ رحم نے بوجھ اٹھایا۔ (8) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیتء الذکرین حرم کے بارے میں فرمایا کہ اس کو ذکر کیا گیا اس وجہ سے جو انہوں نے چوپاؤں میں سے حرام کرلیا تھا۔ اور وہ کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ہم کو حکم فرمایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا لیضل الناس بغیر علم
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے جو کچھ میری طرف وحی بھیجی گئی میں اس میں کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔ سوائے اس کے کہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو۔ کیونکہ بلاشبہ وہ ناپاک ہے یا ایسی چیز کو حرام پاتا ہوں جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو سو جو شخص حالت اضطراری میں ہو اس حال میں کہ باغی اور حد سے آگے بڑھنے والا نہیں سو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

حرام گوشت اور اجزاء (1) امام عبد بن حمید نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت والے لوگ کچھ چیزوں کو حرام کرلیتے تھے اور کچھ چیزوں کو حلال کرلیتے تھے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما (2) امام عبد بن حمید، ابو داؤد، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت والے کچھ چیزوں کو کھالیتے تھے اور کچھ چیزوں کو ناپاک اور غلیظ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا اپنی کتاب کو نازل فرمایا اس کے حلال چیزوں کو حلال قرار دیا۔ اور حرام چیزوں کو حرام قرار دیا۔ پس جس کو حلال کیا تو وہ حلال ہے اور جس کو حرام کیا تو وہ حرام ہے اور جس سے خاموشی اختیار کی تو وہ اس کی جانب سے معاف نہیں پھر یہ آیت تلاوت کی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما آیت کے آخر تک۔ (3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما تلاوت فرمائی اور فرمایا اس کے سوا جو کچھ ہے وہ حلال ہے۔ (4) امام بخاری، ابو داؤد اور ابن منذر، نحاس اور ابو الشیخ نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن زید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے جابر بن زبیر ؓ سے پوچھا کہ لوگ گمان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا خیبر کے وقت تو انہوں نے فرمایا اس بات کو حکم بن عمرو الغفاری ؓ نے ہمارے پاس بصرہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایسے ہی کہا تھا۔ لیکن بحر بن عباس ؓ نے اس کا نکار کیا اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما الایہ (5) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چوپاؤں میں سے کوئی بھی حرام نہیں۔ مگر جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمائی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما الایہ حرام چیز ناپاک بھی ہوتی ہے (6) امام سعید بن منصور، ابو داؤد، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ قنفذ (یعنی سیہ) کے کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما الایہ ایک شیخ نے ان کے پاس فرمایا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ بات نبی ﷺ کے پاس ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا ایک ناپاک نجس چیز ہے ناپاک چیزوں میں سے ابن عمر ؓ نے فرمایا اگر نبی ﷺ نے ایسا فرمایا تھا تو وہ اس طرح ہے جیسے کہ سب نے فرمایا۔ (7) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب پوچھا گیا دانتوں سے چیر پھاڑ کرنے والے درندوں کے بارے میں ؟ (جسے شیر بھیڑ یا چیتا لومڑی کتا وغیرہ) اور ہر پرندے پنجوں سے شکار کرنے والے کے بارے میں تو انہوں نے (یہ آیت) تلاوت کی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما (الایہ) (8) امام احمد، بخاری، نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سودہ بنت زمعہ ؓ کی بکری مرگئی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ بکری مرگئی ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے (اس کی کھال) کا مشکیزہ کیوں نہ بنایا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس کی کھال کا مشکیزہ بنا سکتے ہیں حالانکہ وہ مرگئی ہے۔ تو نبی ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ بلاشبہ تم اس کو استعمال نہیں کرسکتے لیکن تم اس کی دباغت کرنے کے بعد اس سے نفع حاصل کرسکتے ہو۔ تو انہوں نے اس کی طرف کسی کو بھیج کر اس کی کھال اتروائی پھر اس کو دباغت دیدی۔ پھر اس سے ایک مشکیزہ بنا لیا۔ یہاں تک کہ وہ (مدت کے بعد) ان کے پاس پھٹ گئی۔ (9) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ آیت کے آخر تک اور فرمایا بلاشبہ مردار سے وہ چیز حرام ہے جس کو کھایا جاتا ہے۔ اور وہ ہے گوشت۔ لیکن کھال یا کھال سے بنا ہوا برتن، دانت پڑی بال اور اون تو (یہ چیزیں) حلال ہیں۔ (10) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت والے جب جانور کی گردن کی رگوں کو ذبح کرتے تھے۔ تو اس کا خون لے کر کھا جاتے تھے۔ اور کہتے تھے وہ بہتا ہوا خون ہے۔ (11) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ خون حرام ہے جو بہتا ہوا ہے۔ اور وہ گوشت جو خون کے ساتھ مل جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (12) امام سعید بن منصور، عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ اگر یہ آیت لفظ آیت اودما مسفوحا نہ ہوتی تو مسلمان لوگوں کے ساتھ وہی کچھ کرتے جو کچھ ان کے ساتھ یہودی کررہے ہیں۔ (13) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اودما مسفوحا کے بارے میں فرمایا کہ لفظ آیت المسفوح سے مراد ہے وہ خون جو بہتا ہے اور کچھ حرج نہیں جو اس میں سے رگوں میں رہ جاتا ہے۔ (14) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تلی کھائی جاسکتی ہے ؟ فرمایا ہاں (کھا لو) اس نے کہا کیا دم کا لفظ اس کو شامل نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہا اللہ تعالیٰ نے بہنے والے خون کو حرام فرمایا۔ (15) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابو مجلز سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا اس خون کے بارے میں جو بکری کے مذبح (گردن) کی جگہ میں ہوتا ہے یا وہ خون جو ہانڈی کے اوپر ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کچھ حرج نہیں کیونکہ صرف بہنے والے خون سے منع کیا گیا۔ (16) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عمر اور عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ہر شے والی چیز کے کھانے میں کوئی حرج نہیں مگر جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا یعنی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما الایہ (17) امام ابو الشیخ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے ہاتھی اور شیر کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی الایہ (18) امام ابن ابی شیبہ اور ابو الشیخ نے ابی الحنفیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے جریث (یعنی بام مچھلی) کے کھانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما تلاوت فرمائی۔ (19) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کتا بھیڑیا بلی اور اس جیسے دوسرے درندوں کی قیمت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم (المائدہ آیت 101) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ (کئی) چیزوں کو ناپسند کرتے تھے مگر ان کو حرام نہیں کہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے کتاب کو اتارا اس میں حلال چیزوں کو حلال قرار دیا اور حرام کو حرام قرار دیا۔ اور اپنی کتاب میں نازل فرمایا لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرماعلی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ اودما مسفوحا اولحم خنزیر (20) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم اور نسائی، ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔ (21) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم اور نسائی نے ابو ثعلبہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے گھریلو گدھے کے گوشت کو حرام فرما دیا۔ (22) امام ابن ابی شیبہ، بخاری اور مسلم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آنے والا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے گدھے کو گوشت کھایا ہے۔ پھر ایک دوسرا آنے والا آیا اس نے کہا کیا آپ نے گدھوں کو حرام کردیا ہے ؟ تو آپ نے ایک آواز لگانے والے کو حکم فرمایا تو اس نے لوگوں میں یہ آواز لگائی۔ بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے تم کو منع کیا ہے گدھے کے گوشت سے کیونکہ ناپاک ہیں تو ہانڈیاں الٹ دی گئی۔ حالانکہ وہ جوش مار رہی تھیں (گدھوں کے) گوشت سے۔ (23) امام مالک، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے ابو ثعلبہ خشی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دانتوں سے چھیڑ پھاڑ کرنے والے درندوں کے کھانے سے منع فرمایا۔ (24) امام مسلم، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن دانتوں سے چھیڑ پھاڑ کرنے والے درندوں کے کھانے سے اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندے (کھانے) سے منع فرمایا۔ (25) امام ابو داؤد نے خالد بن ولید ؓ سے روایت کیا کہ خیبر کے دن میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا یہودی آئے اور انہوں نے شکایت کی کہ لوگ ہمارے باڑوں میں جھانکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار معاہدین کے اموال حلال نہیں ہیں مگر اس کے حق کے ساتھ اور تم پر حرام ہیں گھریلو گدھے گھوڑے اور خچر اور ذی ناب درندے اور ذی مخالب پرندے ہیں۔ (26) امام ابن ابی شیبہ اور ترمذی نے (اور ترمذی نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کو حرام فرما دیا اور خچروں کے گوشت کو اور ہر ذی باب درندے کو اور ہر ذی مخلب پرندے اور جانور کو باندھ کر اس کو تیروں (یا گولیوں) سے مارنے کو حرام فرمادیا۔ (27) امام ابن ابی شیبہ اور ترمذی نے (اور ترمذی نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے خیبر کے دن ہر ذی ناب درندے کو حرام قرار دیا اور حرام فرمادیا جانور کو باندھ کر اس کو تیروں سے مارنے کو یا جھپٹ کر مال لینے کو اور کسی کا مال لوٹ لینے کو۔ گدھے کا گوشت حرام ہے (28) امام ترمذی نے عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ہر ذی ناب درندے سے اور ہر ذی مخلب پرندے سے اور پالتو گدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔ (29) امام عبد الرزاق نے مصنف میں مکحول (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا اور حاملہ عورتوں کے قریب آنے سے منع فرمایا اور غنیمت کے مال کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے۔ اور ہر ذی ناب درندے کے کھانے سے بھی منع فرمایا۔ (30) امام ابن ابی شیبہ نے قاسم اور مکحول کے طریق سے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے کھانے سے اور ہر ذی ناب درندے کے کھانے سے منع فرمایا۔ اور حاملہ عورتوں کے ساتھ جماع کرنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ بچہ کو جن لیں۔ اور مال غنیمت کے حصوں کو بیچنے سے (منع فرمایا) یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دئیے جائیں۔ اور کھجور (کے پھل) کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کا پھل پختہ نہ ہوجائے اور اس دن لعنت فرمائی بالوں میں غیر کے بال لگوانے اور لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی اور اپنے چہرے کو نوچنے والی اور اپنے گریبان کو پھاڑنے والی عورت پر۔ (31) امام ابوداؤد، ترمذی، اور ابن ماجہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے بلی کے کھانے سے اور اس کی قیمت کے کھانے سے منع فرمایا۔ (32) امام ابو داؤد نے عبد الرحمن بن شبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے گوہ کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (33) امام مالک، شافعی، ابن ابی شیبہ، بخاری، نسائی اور ابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے گوہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا میں اس کو کھانے والا نہیں ہوں اور نہ میں اس کو حرام کرتا ہوں۔ (34) امام مالک، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے خالد بن ولید ؓ سے روایت کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میمونہ کے گھر میں داخل ہوئے۔ آپ کے پاس گوہ بھنی ہوئی لائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو گوہ کی طرف بڑھایا۔ اور فرمایا بعض عورتوں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی ہے ساتھ اس چیز کے جو آپ کھانے کا ارادہ فرما رہے تھے۔ ان عورتوں نے کہا یہ گوہ ہے یا رسول اللہ آپ نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا وہ حرام ہے آپ نے فرمایا نہیں لیکن یہ میری قوم کی زمین سے نہیں ہے۔ لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ اسے چھوڑ دوں (یعنی نہ کھاؤ) خالد ؓ نے بیان کیا کہ میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اسے کھانے لگا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔ گوہ کھانے کے متعلق روایات (35) امام ابن ابی شیبہ، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے ثابت بن ودیعہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک لشکر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم نے کئی گو ہیں پکڑیں میں نے ان میں سے ایک گوہ کو بھون کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا آپ نے ایک لکڑی لی اور اس کے ساتھ انگلیوں کو شمار فرمایا پھر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک قوم کی شکلیں مسخ کر کے انہیں زمین پر بھٹکنے والے جانور بنا دیا میں نہیں جانتا کہ یہ کون سا جانور ہے آپ نے نہ اس کو کھایا اور نہ اس سے منع کیا۔ (36) امام ابو داؤد نے خالد بن حویرث (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر وصفاح کے مقام پر تھے ایک آدمی خرگوش لے آیا جو اس نے شکار کیا تھا ان سے کہا آپ (اس کے بارے میں) کیا کہتے ہیں انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کی طرف لایا گیا اور آپ تشریف فرما تھے آپ نے اس کو نہ کھایا اور نہ اس کے کھانے سے منع فرمایا۔ اور آپ نے یہ گمان کیا کہ اس کو حیض کا خون آتا ہے۔ (37) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ابو داؤد اور ترمذی اور نسائی اور ابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ایک خرگوش کو بھڑکا کر نکالا اور ہم مرالظہران میں تھے۔ صحابہ ؓ (اس کے پیچھے) دوڑتے دوڑتے تھک گئے اور اس کو پکڑ لیا۔ میں اس کو ابو طلحہ کے پاس لے آیا اور اس کو ذبح کیا ہم نے اس کے دونوں رانوں کو نبی ﷺ کے پاس بھیج دیئے تو آپ نے اس کو قبول فرمایا۔ (38) امام ابن ابی شیبہ اور ترمذی نے (اور آپ نے اس کی ضعیف بھی کیا ہے) اور ابن ماجہ نے خزیمہ بن جزی السلمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بجو کے کھانے کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کیا کوئی بجو کو کھائے گا۔ اور میں نے آپ سے بھیڑئیے کے کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا کوئی ایسا آدمی بھیڑیئے کو کھائے جس میں خیر ہو۔ اور ابن ماجہ کے الفاظ میں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ میں آپ سے زمین کی اجناس کے بارے میں سوال کروں۔ آپ لومڑی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کون لومڑی کو کھاتا ہے۔ میں نے پھر کہا آپ گوہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کرتا ہوں۔ میں نے پھر کہا ایسا کیوں ہے۔ یا رسول اللہ آپ نے فرمایا امتوں میں سے۔ ایک امت گم ہوگئی۔ اور میں نے ایک مخلوق کو دیکھا جس نے مجھے شک میں کردیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ خرگوش کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ میں اس کو حرام کرتا ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے فرمایا مجھ کو خبر دی گئی کہ اس کو خون آتا ہے۔ (39) امام ابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ کوے کو کون کھائے گا۔ حالانکہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے فاسق کا نام دیا۔ اللہ کی قسم وہ پاکیزہ چیزوں میں سے نہیں ہے۔ (40) امام ابو داؤد اور ترمذی نے ابراہیم بن عمرو بن سفینہ سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا ہے۔ (41) امام بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ (42) امام ابو داؤد اور ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے عبد الرحمن بن ابی عمار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے جابر ؓ سے کہا کیا میں بجو کا شکار کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے کہا میں اس کو کھالوں ؟ فرمایا ہاں میں نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے فرمایا ہاں (آپ نے اسی طرح فرمایا) ۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کردیا اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کردیں۔ سوائے اس کے جو ان کی پشت پر یا ان کی آنتوں پر لگی ہوئی ہو یا جو ہڈی کے ساتھ مل جائے یہ ہم نے ان کی بغاوت کی وجہ سے ان کو جزا دی۔ اور بیشک ہم سچے ہیں۔

یہود پر چربی کھانا حرام تھا (1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ جانور ہے جو کھلی ہوئی انگلیوں والا نہ ہو۔ یعنی اس کی انگلیاں جدا جدا نہ ہوں۔ جیسے اونٹ اور شتر مرغ وغیرہ۔ (2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر یعنی اونٹ اور شتر مرغ وغیرہ مراد ہیں۔ (3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حرمنا کل ذی ظفر کے بارے میں فرمایا کہ کہا جاتا تھا کہ وہ اونٹ اور شتر مرغ، پرندے اور مچھلیوں میں سے کچھ چیزیں ہیں۔ (4) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حرمنا کل ذی ظفر کے بارے میں فرمایا ہر وہ جانور چوپاؤں میں سے جس کے پنجے کھلے نہیں ہم نے اسے حرام کردیا اور جس کے پنجے کھلے ہوئے ہیں یہودی اسے کھاتے ہیں فرمایا مرغی اور چڑیا کی انگلیاں کھلی ہیں یہودی اس کو کھاتے ہیں۔ اونٹ کے پاؤں نے اس پنجے کو نہیں کھولا اور نہ شتر مرغ کے پاؤں کے پنجے کھلے ہیں۔ اور نہ گرگٹ کے پاؤں نے کھولا۔ اور یہودی نہیں کھاتے اونٹ کو شتر مرغ کو اور نہ گرگٹ کو اور ہر وہ جانور نہیں کھاتے کہ جس کے پاؤں کھلے ہوئے نہ ہوں۔ اسی طرح وہ وحشی گدھے کو بھی نہیں کھاتے۔ (5) امام ابو الشیک نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر میں سے مرغ بھی ہے۔ (6) امام ابو الشیخ نے ابن جریج سے روایت کیا کہ لفظ آیت حرمنا کل ذی ظفر سے مراد ہے کہ ہم نے چوپاؤں میں سے ہو وہ جانور حرام کردیا جس کے پاؤں کھلے ہوں اور جن کے پاؤں کھلے نہ ہوں انہیں وہ کھائیں اور اونٹ کو نہ کھاتے تھے۔ اور نہ شتر مرغ کو اور نہ بطخ کو اور نہ مرغابی کو اور نہ وحشی گدھے کو۔ (7) امام بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو قتل کردے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام کردیا تو وہ اس کو پگھلا لیتے۔ پھر اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھا جاتے۔ یہود کی چربی کھانے کا ناجائز حیلہ (8) امام ابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے اور ان پر چربی کو حرام کیا گیا۔ تو انہوں نے اس کو بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھا گئے۔ (9) امام بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ان پر چربی حرام کی گئی تو وہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھا گئے۔ (10) امام ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو قتل کرتے اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام کردیا تو وہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔ (11) امام ابو داؤد، ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر تین بار لعنت کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تین مرتبہ چربی کو حرام قرار دیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا انہوں نے اس کو بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے اور اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام فرمایا تو اس کی قیمت بھی ان پر حرام کردی۔ (12) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظھورھما کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مرادجو اس کی پیٹھ پر ہو۔ ” اوحوایا “ سے مراد آئیں۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھما کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر آنتیں اور گردوں کی چربی حرام کردی۔ (14) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ان پر آنتیں، اوجھڑی اور گردہ کی چربی بھی اور ہر وہ چربی جس میں ہڈی نہ ہو حرام کردی۔ (15) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الا ما حملت ظھورھما کے بارے میں فرمایا کہ اس سے دنبہ کی چکی مراد ہے لفظ آیت اوالحوایا یعنی مینگنی نکلنے کی جگہ (آنتیں) لفظ آیت اوما اختلط بعظم یعنی جو چربی ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ (16) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اوالحوایا سے مراد ہے آنتیں یعنی مینگنی نکلنے کی جگہ۔ (17) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اوالحوایا سے مراد ہے کہ آنتیں اور پیٹ میں آنتیں جمع ہونے کی جگہ لفظ آیت اوما اختلط بعظم یعنی وہ چربی جو ہڈی سے چمٹی ہوئی ہے۔ (18) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت حوایا سے مراد ہے وہ جگہ جس میں آنتیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان میں دودھ کی رگیں ہوتی ہیں اس مقام کو کلام عرب میں مرابض پکارا جاتا ہے۔ دنبہ کی چکلی حلال ہے (19) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اوما اختلط بعظم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد دنبہ کی چکلی ہے اور چکلی کی چربی ملی ہوتی ہے دم کی ہڈی کے ساتھ اور وہ حلال ہے۔ اور ہر چربی ٹانگوں کی، پہلوں کی، سر کی، آنکھ کی، کان کی (وہ حلال ہے) کیونکہ وہ چربی ہڈی کے ساتھ ملی ہوتی ہے وہ ان کے لئے حلال ہے اور حرام کی گئی ہے ان پر آنتوں اور گردوں کی چربی اور یہ وہ چیز جو اس طرح ہو وہ ہڈی میں نہیں ہے (یعنی ہر وہ چربی جو ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہو ان پر حرام ہے) ۔ (20) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ذلک جزینھم ببعضیھم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ان پر سزا کے طور پر ان کی سرکشی کی وجہ سے تو ان پر سے شدید حکم نازل فرمایا۔ حالانکہ یہ چربی فی الحقیقہ نجس اور ناپاک نہ تھی۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

سو اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ فرمادیں کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ اور اس کا عذاب مجرموں سے نہیں ٹالا جائے گا۔

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فان کذبوک سے مراد ہیں یہودی (یعنی اگر آپ کو یہودی جھٹلائیں) (2) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہودی گوشت کے بارے میں کہتے تھے کہ اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اس کو حرام کیا تھا۔ اس لئے ہم بھی اس کو حرام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فان کذبوک فقل ربکم
Ayahs 6:148–149

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جن لوگوں نے شرک کیا وہ عنقریب یوں کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے، اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ آپ فرما دیجئے کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے۔ سو تم اسے ہمارے سامنے ظاہر کرو۔ تم صرف گمان کے پیچھے چلتے ہو اور صرف اٹکل سے باتیں کرتے ہو۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ اللہ ہی کے لئے ہے حجت بالغہ۔ سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت سیقول الذین اشرکوا لو شآء اللہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قریش کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام کیا ہے۔ وہ اس سے مراد لیتے ہیں بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حامی (گو یا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے تھے) (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمیدد، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شر تقدیر، میں سے نہیں ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل تقدیر کے درمیان یہ آیت لفظ آیت سیقول الذین اشراکوا لو شآء اللہ ما اشرکنا سے لے کر لفظ آیت قل فللہ الحجۃ البالغۃ فلو شآء لھدکم اجمعین فیصلہ کرنے والی ہے پھر ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ عاجز ہونا اور عقل مند ہونا تقدیر میں سے ہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے علی بن زید (رح) سے روایت کیا کہ قدریہ کی دلیل اس آیت کے ساتھ ختم ہوگئی (یعنی) لفظ آیت قل فللہ الحجۃ البالغۃ فلو شآء لھدکم اجمعین (4) امام ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل فللہ الحجۃ البالغۃ سے مراد ہے غالب دلیل۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ لے آؤ اپنے گواہوں کو جو اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ بیشک اللہ نے ان چیزوں کو حرام قراردیا۔ سو اگر وہ گواہی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں، اور آپ ان لوگوں کی خواہش کا اتباع نہ کریں جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور دوسروں کو اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھلم شھداء کم سے مراد ہے کہ تم مجھے اپنا گواہ دکھاؤ۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الذین یشھدون ان اللہ حرام ھذا سے مراد ہے کہ اے گواہ لاؤ جو گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان بحائر اور سوائب کو حرام فرمایا۔
Ayahs 6:151–152

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ آؤ میں تمہیں وہ چیز پڑھ کر بتاؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو، اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تم کو رزق دیں گے اور ان کو بھی، اور مت قریب جاؤ بےحیائی کے کاموں کے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور مت قتل کرو اس جان کو جسے اللہ نے حرام قرار دیا مگر حق کے ساتھ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اسی طریقہ سے جو اچھا ہو۔ یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ عمل کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو اگرچہ وہ تمہارا قرابت دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو، یہ وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

حرام باتوں کی اجمالی فہرست (1) امام ترمذی، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ محمد ﷺ کی وصیت کی طرف دیکھے کہ اس پر مہر بھی ہے تو اس کو چاہئے کہ ان آیات کو پڑھے لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم سے لے کر لفظ آیت لعلھم یتقون تک۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم نے (امام حاکم نے تصحیح اور ترمذی نے تحسین کی ہے) عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون مجھ سے بیعت کرتا ہے ان تین آیات پر ؟ پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم تین آیات تک پھر فرمایا جو ان کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔ اور جس نے ان میں سے کسی چیز کی کمی کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں پکڑ لیا تو وہی اس کی سزا ہوگی اور جس کسی کو آخرت تک موخر کردیا تو اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے اگر چاہے تو اس کو پکڑے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرمائے۔ (3) امام عبد بن حمید، ابو عبید اور ابن منذر نے منذر الثوری (رح) سے روایت کیا کہ ربیع بن خشیم نے فرمایا کیا تجھ کو یہ بات خوش لگے گی کہ تو محمد ﷺ کے مہر لگے ہوئے صحیفہ کو پالے۔ میں نے کہا ہاں پھر انہوں نے سورة انعام کے آخر سے ان آیات کو پڑھا لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم آیات کے آخر تک۔ (4) امام ابن ابی شیبہ، ابن الضریس اور ابن منذر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ رات میں سب سے پہلے یہ آیات نازل ہوئی اور یہ دس آیات وہ ہیں جو سورة انعام کے آخر میں نازل کی گئیں۔ یعنی لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم اس کے آخر تک۔ (5) امام ابو الشیخ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عدی بن الجبار (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ نے سنا کہ ایک آدمی پڑھ رہا ہے لفظ آیت تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الاتشرکوا بہ شیئا کعب ؓ نے اس سے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں کعب کی جان ہے یہ تو ریت میں پہلی آیت ہے۔ لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم آیات کے آخر تک۔ (6) امام ابن سعد نے مزاحم بن زفر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ربیع بن خشیم سے کہا محمد کو وصیت کیجئے کہ انہوں نے فرمایا میرے پاس صحیفہ لے آؤ تو اس میں لکھا ہوا تھا لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الآیات اس آدمی نے کہا میں تو آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ مجھے وصیت فرمائیں۔ تو انہوں نے فرمایا ان آیات کو لازم پکڑ لو یعنی ان آیات پر عمل کرو یہی میری وصیت ہے۔ (7) امام ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم فرمایا کہ اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرو (یعنی ان کو توحید کی دعوت دو ) تو آپ منی کی طرف نکلے میں اور ابوبکر ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے اور ابوبکر انساب کے ماہر تھے۔ تو وہ ان کے گھروں اور ان کے خیموں کے باہر ٹھہر گئے۔ انہوں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے بھی سلام کا جواب دیا۔ اس قوم میں مفروق بن عمروھانی بن قبیصہ مثنی بن حارث اور نعمان بن شریک تھے اور قوم میں مفروق ابوبکر کے زیادہ قریب تھے اور مفروق غالب آچکا تھا پوری قوم پر گفتگو میں اور خوش زبانی میں وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا کس چیز کی طرف تو بلاتا ہے اے قریش کے بھائی۔ تو رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور ان کے پاس بیٹھ گئے اور ابوبکر کھڑے ہو کر اپنے کپڑے سے آپ پر سایہ کر رہے تھے نبی ﷺ نے فرمایا میں تم کو بلاتا ہوں اس بات کی گواہی کی طرف اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر تم مجھے پناہ دو اور میری مدد کرو اور میری حفاظت کرو یہاں تک کہ میں اللہ کا حق ادا کروں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ قریش غالب آچکے ہیں اللہ کے حکم پر اور انہوں نے اللہ کے رسول کو جھٹلا دیا ہے۔ اور وہ باطل کے سبب بےپرواہ ہوگئے ہیں اس حق سے، اور اللہ تعالیٰ وہی بےپرواہ ہے اور تعریف کیا ہوا ہے۔ اس نے کہا اور کس چیز کی طرف آپ بلاتے ہیں اے قریش کے بھائی ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئا سے لے کر لفظ آیت تنقون تک تو مفروق نے ان سے کہا اور بھی کسی چیز کی طرف آپ بلاتے ہیں اے قریش کے بھائی اللہ کی قسم یہ زمین والوں کے کلام میں سے نہیں ہے۔ اگر یہ ان کے کلام میں ہوتا تو ہم اس کو پہچان لیتے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) بھی تلاوت فرمائی لفظ آیت ان اللہ یامر بالعدل والاحسان (النحل آیت 90) الایہ۔ مفروق نے ان سے کہا آپ نے دعوت دی ہے اللہ کی قسم قریشیو ! مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی طرف افسوس ہے تیری قوم پر کہ انہوں نے تجھ کو جھٹلا دیا اور تیری مخالفت کی۔ اور ھانی بن قبیصہ نے کہا میں نے تیری بات کو سنا اور میں نے تیری بات کو اچھا جانا اے قریش کے بھائی اور میں پسند کرتا ہوں اس چیز کو جس کے بارے میں تو نے بات کی پھر ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم کچھ دیر اس حالت میں ٹھہرے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے شہر اور ان کے اموال تم کو عطا کرے گا یعنی فارس کی زمین اور کسری کی نہریں تم کو عطا کردے گا۔ اور تم ان کی بیٹیوں کو بیاہ کر لاؤ گے کیا تم اللہ کی تسبیح اور اس کی پاکی بیان نہیں کرتے ؟ نعمان بن شریک نے آپ سے عرض کیا اللہ کی قسم اے قریشی یہ سب کچھ آپ کے لئے ہے تو رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (الآیہ) پھر رسول اللہ ﷺ ابوبکر کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ( 8) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تقتلوا اولادکم من املاق یعنی فاقہ کے خوف سے (اپنی اولاد کو قتل نہ کرو) پھر فرمایا زمانہ جاہلیت کے لوگ اپنی بیٹیوں کو فاقہ کے خوف سے قتل کردیتے تھے (اور فرمایا) لفظ آیت ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منھا وما بطن یعنی برائی کے قریب نہ جاؤ چھپ کر اور اعلانیہ طور پر۔ (9) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تقتلوا اولادکم من املاق کے بارے میں فرمایا کہ غربت کے خوف سے (اپنی اولاد کو قتل نہ کرو) یعنی لفظ آیت ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منھا وما بطن یعنی زمانہ جاہلیت میں چھپ کر زنا کرنے کو عیب نہیں سمجھتے تھے اور اعلانیہ طور پر اس کو برا سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے زنا کو پوشیدہ طور پر اور کھلے طور پر حرام فرمادیا۔ ظاہری و باطنی گناہوں سے اجتناب (10) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء کے طریق سے ابن عباس سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تقتلوا الفواحش ما ظھر منھا یعنی اعلانیہ طور پر اور لفظ آیت وما بطن یعنی چھپے طور پر (برائی کے قریب نہ جاؤ) (11) امام ابن ابی حاتم نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بتاؤ کہ زنا چوری اور شراب پینا ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ (سب) برے کام ہیں ا اور ان میں سزا ہے۔ (12) امام ابن ابی حاتم نے ابو حازم رھاوی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے مولا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے لوگوں کا سوال برے کاموں کے بارے میں ہے۔ (13) امام ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن جابر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو برے کاموں میں سے یہ بات پہنچی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں منع فرمایا کہ کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے۔ جب وہ اس کے لئے بچہ پیدا کرچکے تو اس کو طلاق دیدے بغیر کسی وجہ کے۔ (14) امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تقربوا الفواحش ما ظھر منھا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ماؤں اور بیٹیوں سے نکاح کرنا ہے۔ اور لفظ آیت وما بطن سے مراد ہے زنا۔ (15) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تقربوا الفواحش ما ظھرمنھا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد لوگوں کا ظلم ہے اور لفظ آیت وما بطن سے مراد ہے زنا اور چوری۔ (16) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تقتلوا النفس کے بارے میں فرمایا یعنی مومن کی جان کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا قتل کرنا حرام فرمادیا مگر حق کے ساتھ۔ (17) امام احمد، نسائی، ابن قانع، بغوی، ابن مردویہ نے سلمہ بن قیس اشجعی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا خبردار وہ چار چیزیں ہیں (ان سے بچو) کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمادیا اور زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو۔ راوی فرماتے ہیں کہ اس وقت مجھ سے زیادہ کوئی حریص نہیں تھا جب میں نے ان کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ (18) امام ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا یعنی لفظ آیت ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن میں احسن سے مراد مال کی تجارت اور اس میں نفع کی طلب کرنا۔ (19) امام ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن یعنی یتیم کے لئے ہی اس کے مال میں رغبت اور خواہش رکھنا ہے۔ یتیم کا مال کھانا حرام ہے (20) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن یعنی اچھا طریقہ وہ ہے کہ مروجہ طریقہ سے کھائے اگر وہ فقیر اور مفلس ہوجائے اور اگر غنی ہو تو نہ کھائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ومن کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیا کل بالمعروف (النساء آیت 60) کپڑا پہنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کپڑا پہنانے کے بارے میں کوئی ذکر نہیں فرمایا صرف کھانے کا ذکر فرمایا ہے۔ (21) امام ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تقربوا مال الیتیم کے بارے میں فرمایا کہ اس کے لئے (جائز) نہیں کہ اس کے مال میں سے ٹوپی یا پگڑی پہنے۔ مگر یہ کہ اس کا سامان اس کے سامان کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ (22) امام ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حتی یبلغ اشدہ کے بارے میں فرمایا یعنی جوان اور بالغ ہونا یہ ہے کہ جب اس کے لئے نیکیاں اور اس پر برائیاں لکھی جائیں۔ (23) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حتی یبلغ اشدہ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد پندرہ سال کی عمر کو پہنچنا ہے۔ (24) امام ابو الشیخ نے ربیعہ بن ابی عبد الرحمن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ لفظ آیت اشد سے مراد جوان اور بالغ ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ہے۔ لفظ آیت وابتلوا الیتمی حتی اذا بلغوا النکاح (النساء آیت 6) (25) امام ابو الشیخ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الاشد سے مراد ہے بالغ ہونا۔ (26) امام ابن مردویہ نے سعیب بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) لفظ آیت واوفوا الکیل والمیزان بالقسط لا نکلف نفسا الا وسعھا تلاوت فرمائی اور فرمایا جس شخص نے اپنی طاقت کے مطابق ناپ تول پورا کردیا اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اس کی نیت کی صحت کو ان دونوں کا پورا کرنے کی تو نہیں پکڑا جائے گا اور یہی مطلب ہے اس کا۔ (27) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واوفوا الکیل والمیزان بالقسط کے بارے میں فرمایا کہ قسط سے مراد عدل ہے۔ (اور فرمایا) لفظ آیت لا نکلف نفسا الا وسعھا سے مراد طاقت ہے۔ (28) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت بالقسط سے مراد عدل ہے۔ (29) امام ترمذی، ابن عدی، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے تاجروں کے گروہ ! بلاشبہ تمہیں ایک معاملہ سپرد کیا ہے کہ جس میں تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں اور وہ ہیں ناپ اور تول۔ (30) امام ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی قوم (جب) ناپ اور تول میں کمی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر بھوک کو مسلط کردیتے ہیں۔ (31) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا قبلتم فاعدلوا یعنی حق بات کہو۔ (32) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا قلتم فاعدلوا ولو کان ذا قربی یعنی اگرچہ تیرے رشتہ دار ہوں تو اس میں بھی حق بات کہو۔
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کی اتباع کرو۔ اور مت اتباع کرو دوسرے راستوں کا سو وہ راستے تمہیں اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمہیں تاکیدی حکم دیا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

(1) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل کے بارے میں فرمایا کہ تم جان لو کہ راستہ ایک ہی راستہ ہے جس پر ہدایت یافتہ جماعت ہے اور اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ اور بلاشبہ ابلیس نے مختلف راستے بنائے ان پر جمع ہونا گمراہی ہے اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ (2) امام احمد، عبد بن حمید، نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور حاکم نے (حکم نے تصحیح بھی کی) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ایک خط کھینچا پھر فرمایا یہ اللہ کا راستہ سیدھا ہے پھر کئی خطوط کھینچے اس کے دائیں طرف سے ایک خط کھینچا اور اس کے بائیں طرف سے ایک خط کھینچا پھر فرمایا یہ راستے ہیں کہ اس میں سے کوئی ایسا راستہ نہیں مگر یہ اس پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ سیدھا راستہ (صراط مستقیم) کی پہچان (3) امام احمد، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو آپ نے اپنے سامنے اس طرح ایک خط کھینچا اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے۔ اور دو خط اس کی دائیں طرف سے اور دو خط بائیں طرف سے تھے اور فرمایا یہ شیطان کے راستے ہیں۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ درمیان والے راستے پر رکھ کر یہ آیت لفظ آیت وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ تلاوت فرمائی۔ (4) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا سیدھا راستہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم کو محمد ﷺ نے ایک قریب ترین راستے پر چھوڑا ہے کہ اس کے ایک طرف جنت ہے اور اس کے دائیں طرف تیز رفتار گھوڑا ہے اور اس کی بائیں طرف ایک تیز رفتار گھوڑا ہے۔ اور پھر کچھ لوگ بلا رہے ہیں جو شخص ان کے پاس سے گزرتا ہے پس جس شخص نے اس تیز رفتار گھوڑے کو لیا تو وہ پہنچ گیا آگ کی طرف اور جس نے شخص نے سیدھے راستے کو لیا تو وہ جنت کی طرف پہنچ گیا۔ پھر ابن مسعود ؓ نے (یہ آیت) لفظ آیت وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ پڑھی۔ (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تتبعوا السبل میں سبل سے مراد ہے گمراھیاں (کہ ان کی پیروی نہ کرو) (6) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تتبعوا السبل سے مراد ہیں بدعات اور شبہات (کہ ان کی پیروی نہ کرو)
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جس سے اچھے عمل کرنے والوں پر نعمت پوری ہوگئی۔ اور جس میں ہر چیز کا تفصیلی بیان ہے اور جو ہدایت ہے اور رحمت ہے تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات کا یقین کریں۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت تماما علی الذی احسن کے بارے میں فرمایا یعنی ہم ایمان والے نیک لوگ پر نعمت پوری کردیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابو ضحر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تماما علی الذی احسن یعنی تاکہ وہ نعمت پوری کردیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر ہے۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تماما علی الذی احسن یعنی تاکہ ان پر اپنی نعمت اور اپنا احسان کو پورا کردیں۔ (4) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تماما علی الذی احسن یعنی جس نے نیک عمل کیا دنیا میں تو اللہ تعالیٰ پوری کردے گا نعمت کو آخرت میں اس کے لئے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ پوری ہوگی اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی عزت وافزائی قیامت کے دن اور لفظ آیت وتفصیلا لکل شیء سے مراد ہے ہر چیز کی تفصیل اور بیان ہے۔ اور اس میں حلال کو حرام سب اشیاء شامل ہیں۔ (5) امام ابن الانباری نے مصاحف میں ہارون (رح) سے روایت کیا کہ حسن ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت تماما علی المحسنین (6) امام ابن الانباری نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت تماما علی الذی احسن (7) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتفصیلا لکل شیء سے مراد ہے کہ جو اس کے ذریعہ حکم کیا گیا اور جو اس سے منع کیا گیا۔ (8) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تختیوں کو پھینکا کہ انہوں نے ہدایت اور رحمت کو پا لیا اور تفصیل ختم ہوگئی۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ کتاب ہم نے نازل کی ہو بابرکت ہے سو اس کا اتباع کرو اور ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت ہو۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھذا کتب انزلنہ مبرک کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ قرآن ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر اتارا لفظ آیت فاتبعوہ واتقوا یعنی اس کی تابعداری کرو جو چیز اس میں حلال کی گئی اور بچو تم ان چیز سے جو حرام کی گئی۔ (2) امام ابن ابی شیبہ اور احمد نے زھد میں اور ابن فریس، محمد بن نصر، اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ یہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت قبول کرلی گئی۔ اور جو کچھ اس نے حلال کیا وہ تصدیق شدہ ہے۔ اور جس شخص نے اس کو امام بنایا اس کو لے جاتا ہے جنت کی طرف اور جس نے اس کو پس پشت ڈال دیا اس کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جائے گا۔ قرآن پر عمل نہ کرنے کی سزاء (3) امام ابن ابی شیبہ اور احمد نے زھد میں اور محمد بن نصر، طبرانی نے ابن ابی شیبہ اور ابن ضریس اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن کو ایک آدمی کے مشابہ بنایا جائے گا۔ پھر ایک آدمی کو لایا جائے گا جو حامل قرآن تو ہوگا۔ مگر اس کا عمل احکام کے خلاف ہوگا۔ تو قرآن اس سے جھگڑنے لگے گا اور کہے گا اے میرے رب میں نے اسے اپنے آپ اٹھوائے رکھا۔ (لیکن) اس کا مجھے اٹھانا برا ہے۔ اور اس نے میری حدود سے تجاوز کیا۔ اور اس نے فرائض کو ضائع کیا اور میرے بیان کردہ گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اور میری اطاعت کو چھوڑ دیا۔ اور برابر اس پر دلائل قائم کرتا رہے گا یہاں تک کہ کہا جائے گا۔ تو اس نے اپنی مرضی کا معاملہ کر پس وہ اس کو اس کے ہاتھ سے پکڑ کرلے جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کو ناک کے بل آگ میں اوندھے منہ گرا دے گا۔ ایک اور نیک آدمی لایا جائے گا اس نے قرآن کو اٹھایا تھا (یعنی قاری حافظ بنا) اور اس کے حکم کی حفاظت کی پھر ایک مثالی شکل میں قرآن اس کے قریب کھڑا ہوگا۔ وہ کہے گا اے میرے رب میں نے اپنا بوجھ اس کے سر پر ڈالے رکھا اس نے میری حدود کی حفاظت کی اور میرے بیان کردہ فرائض پر عمل کیا اور میرے بیان کردہ گناہوں سے بچا رہا اور میری اطاعت کی پیروی کی۔ تو وہ برابر اس کے حق میں دلائل دیتا رہے گا یہاں تک کہ اس سے کہا جائے گا تو اس کے ساتھ اپنی پسند کا معاملہ کر وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کرلے جائے گا اور اس کو ریشم کا جبہ پہنائے گا اور اس پر شاہانہ تاج سجائے گا اور اس کو شراب کے گلاس سے پلائے گا۔ (4) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ضریس نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ یہ قرآن تمہارے لئے نصیحت ہے اور تمہارے اوپر بوجھ ہے۔ اس کو سیکھو اور اس کی تابعداری کرو اگر تم قرآن کی تابعداری کرو گے تو وہ تم کو جنت کے باغ میں لے جائے گا۔ اور اگر قرآن نے تمہارا پیچھا کیا تو تمہاری پیٹھوں میں نیزے مارے گا یہاں تک کہ تم کو آگ میں ڈال دے گا۔
Ayahs 6:156–157

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

: اس واسطے کہ کبھی تم کہنے لگو کہ کتاب جو اتری تھی سو انہیں دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا تم یوں کہنے لگتے کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان لوگوں سے بڑھ کر زیادہ ہدایت پر چلنے والے ہوتے۔ سو تمہارے رب کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے سو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے روکے ہم عنقریب ان کو بڑے عذاب کی سزا دیں گے جو ہماری آیات سے روکتے ہیں اس سبب سے کہ وہ روکا کرتے تھے۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ان تقولوا انما انزل الکتب علی طائفتین من قبلنا کے بارے میں فرمایا کہ یہود و نصاری ڈرتے تھے کہ قریش اس بات کو کہیں گے۔ (2) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت علی طائفتین من قبلنا سے یہود و نصاری مراد ہیں (اور فرمایا) لفظ آیت وان کنا عن دراستھم یعنی ان کی تلاوت سے (غافل تھے) (3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اوتقولوا انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منھم کے بارے میں فرمایا کہ یہ عرب کے کافروں کا قول تھا۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فقد جآء کم بینۃ من ربکم کے بارے میں فرمایا (اب) تمہارے پاس واضح عربی زبان روشن دلیل آچکی (قرآن مجید کی شکل میں) جبکہ وہ دونوں جماعتوں (یعنی یہود و نصاری) پر نازل ہونے والی کتابوں کے پڑھنے پڑھانے کو نہ جانتے تھے۔ (5) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وصدف عنھا کے بارے میں فرمایا جس نے ان سے اعراض کیا منہ پھیرلیا۔ (6) امام عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے کہ وہ اعراض کرتے ہیں منہ موڑ لیتے ہیں۔