6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 6:65–67

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیج دے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا بھڑا دے تم کو مختلف جماعتیں کر کے اور چکھا دے ایک کو دوسرے کی سختی، آپ دیکھ لیجئے کہ ہم کیسے مختلف پہلوؤں سے آیات کو بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں۔

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور آپ کی قوم نے اسے جھٹلایا حالانکہ وہ حق ہے۔ آپ فرما دیجئے کہ میں تم پر داروغہ بنا کر مقرر نہیں کیا گیا۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر ایک خبر کا وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم سے مراد امراء کی جانب سے آنے والے عذاب ہے اور لفظ آیت تحت ارجلکم سے مراد وہ اذیت اور تکلیف ہے جو تمہارے گھٹیا لوگوں کی جانب ہے پہنچے لفظ آیت اویلبسکم شیعا سے مراد مختلف خواہشات رکھنے والے لوگوں میں غلط ملط ہونا اور لفظ آیت ویذیق بعضکم باس بعض یعنی وہ تم میں سے بعض کو بعض پر قتل اور عذاب کے ساتھ مسلط کردے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم یعنی برے آئمہ (اور) لفظ آیت اومن تحت ارجلکم یعنی برے خدام۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت عذابا من فوقکم یعنی وہ عذاب جو مالدار اور تمہارے باعزت لوگوں کی طرف سے پہنچے لفظ آیت اومن تحت ارجلکم یعنی تمہارے نیچے کے لوگوں اور تمہارے غلاموں کی جانب سے پہنچے۔ (4) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت عذابا من فوقکم یعنی پتھر وغیرہ برسانا لفظ آیت او من تحت ارجلکم یعنی زمین میں دھنسا دینا۔ (5) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم یعنی چیخ پتھر اور ہوا کا عذاب لفظ آیت ویذیق بعضکم باس بعض سے مراد اہل اقرار کا عذاب ہے۔ (6) امام ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت عذابا من فوقکم یعنی پتھر لفظ آیت اومن تحت ارجلکم یعنی زمین میں دھنسا دینا لفظ آیت اویلبسکم شیعا یعنی (آپس میں) اختلاف میں مختلف خواہشات۔ (7) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس امت کے اہل قرار کے عذاب تلوار سے ہے اور لفظ آیت او یلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض اور جھٹلانے والے کا عذاب شدید چیخ اور زلزلہ سے ہوگا۔ (8) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، بخاری، ترمذی نسائی، نعیم بن حماد نے فتن میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اے اللہ) میں تیری ذات سے پناہ مانگتا ہوں لفظ آیت اومن تحت ارجلکم فرمایا میں تیری ذات سے پناہ مانگتا ہوں لفظ آیت اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض فرمایا یہ آسان اور نرم ہے۔ (9) امام ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت قل ھوالقادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم اومن تحت ارجلکم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور لفظ آیت اویلبسکم شیعا (جو یہ الفاظ اترے) تو فرمایا یہ آسان ہے اگر میں نے اس سے پناہ مانگی تو اللہ تعالیٰ پناہ دے گا۔ (10) امام احمد، ترمذی (اس کو آپ نے حسن بھی کہا ہے) نعیم بن حماد نے فتن میں، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اس آیت یعنی لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم اومن تحت ارجلکم کے بارے میں فرمایا۔ بلاشبہ اس طرح ہونے والا ہے اور اس کے بعد اس کی کوئی تاویل نہیں۔ (11) امام ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں ابو العالیہ کے طریق سے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل ہو القادر الایہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ چار چیزوں کا ذکر ہے اور ہر ایک میں ان میں سے عذاب ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک لامحالہ واقع ہونے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد وہ تو گزر چکے ہیں پچیس سال کے دوران اور وہ یہ ہیں کہ متفرق گروہ آپس میں غلط ملط ہوئے اور بعض نے بعض کی لڑائی کو چکھا۔ اور دو واقعات باقی ہیں جو ضرورواقع ہوں گے زمین میں دھنسا دینا اور پتھر برسانا۔ امت کے حق میں دعاء (12) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت قل ھو القادر نازل ہوئی تو آپ نے وضو فرمایا پھر فرمایا اے اللہ ! میری امت پر ان کے اوپر سے عذاب نہ بھیج۔ اور نہ ان کے پاؤں کے نیچے سے اور نہ ان کو گروہوں میں بانٹ دے۔ اور نہ ان کے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا جبرئیل تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو پناہ دے دی ہے۔ ان کے اوپر سے عذاب بھیجنے سے یا ان کے نیچے سے (یعنی پاؤں کی جانب سے) (13) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میری امت سے چاروں چیزوں کو منع فرمادے۔ تو ان سے دو چیزوں کو منع کردیا گیا۔ اور ان میں سے دو چیزوں کو اٹھانے سے انکار فرما دیا۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ آسمان سے پتھر برسنے کو اٹھا لیا جائے۔ اور زمین میں غرق ہونے کو بھی اور ان کو خلط ملط نہ کیجئے گروہوں میں اور ان کو آپس میں ایک دوسرے کی شدت نہ چکھائی جائے تو اس نے پتھر برسنے اور غرق ہونے کو اٹھا لیا گیا اور قتل اور فساد کو اٹھانے سے انکار فرما دیا۔ (14) امام ابن ابی شیبہ، احمد، مسلم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ایک دن عالیہ کی جانب سے تشریف لائے یہاں تک کہ جب مسجد بنو معاویہ سے گزرے آپ اس میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور اپنے رب سے لمبی دعا فرمائی پھر ہمارے پاس لوٹ آئے اور فرمایا میں نے اپنے رب سے تین سوال کئے دو مجھ کو دے دیئے گئے اور ایک سے منع کردیا گیا۔ میں نے سوال کیا کہ میری امت غرق میں ہلاک نہ ہو تو نے یہ بھی عطا فرمادیا اور میں نے سوال کیا کہ میری امت قحط سے ہلاک نہ ہو تو نے یہ بھی مجھے عطا فرما دیا اور میں نے سوال کیا کہ آپس میں ان کے درمیان قتل و غارت نہ ہو تو اس سے منع کردیا گیا۔ (15) امام ابن مردویہ نے معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا تم آپس میں یہ باتیں کرتے ہو کون تم میں سے سب سے آخر میں ہوگا وفات کے لحاظ سے ہم نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا میں وفات کے لحاظ سے تم سے پہلے ہوں گا اور تم میرے پیچھے آؤ گے۔ گروہ در گروہ ہو کر کہ بعض تمہارا بعض کو ہلاک کرے گا۔ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم یہاں تک کہ اس آیت میں پہنچے یعنی لفظ آیت لکل بنا مستقر وسوف تعلمون مشرق و مغرب کی سیر (16) امام احمد، عبد بن حمید، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) اور لفظ حاکم کے ہیں اور ابن مردویہ نے ثابان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے رب نے میرے لئے زمین لپیٹ دی۔ یہاں تک کہ میں نے اس کی مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور مجھ کو سرخ اور سفید دو خزانے عطا فرمائے۔ اور میری امت عنقریب اس کی مالک ہوجائے گی۔ جو کچھ اس میں سے میرے لئے لپیٹ دیا گیا۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے سوال کیا کہ اس کو ہلات نہ کیا جائے قحط سالی سے تو (یہ چیز) مجھ کو عطا کردی گئی۔ اور میں نے سوال کیا کہ اس پر غیر دشمن کو مسلط نہ کیا جائے۔ تو یہ چیز بھی مجھ کو عطا کردی گئی۔ اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ ان کا بعض، بعض کی لڑائی کو نہ چکھے۔ تو یہ چیز مجھ سے منع کردی گئی۔ اور فرمایا اے محمد ایسے فیصلہ فرما دیئے ہیں جن کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے تجھ کو تیری امت کے لئے یہ چیز دے دی ہے کہ میں اس کو قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا۔ اور ان پر کوئی بیرونی دشمن کو مسلط نہیں کروں گا کہ جو عمومی طور پر ان کو قتل کرنے لگے اگرچہ وہ لوگ زمین کی مختلف اطراف سے جمع ہوجائیں البتہ ان میں سے بعض بعض کو قتل کریں گے اور ان کا بعض دوسروں کو قید بنائیں گے۔ اور اس میں اپنی امت پر نہیں ڈرتا ہوں مگر گمراہ کرنے والے آئمہ سے اور ہرگز قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ میری امت میں سے کچھ قبائل مشرکین سے مل جائیں گے۔ یہاں تک کہ کچھ قبائل میری امت میں سے بتوں کی عبادت کریں گے جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر قیامت تک ان سے نہیں اٹھائی جائے گی۔ اور آپ نے فرمایا یہ سب واقعات سو سال میں پائے جائیں گے عنقریب میری امت میں تیس کذاب نکلیں گے ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی سے اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ اور میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی۔ جو حق پر قتال کریں گے تو وہ غالب رہیں گے۔ مخالفین ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (یعنی قیامت) آجائے گی۔ پھر فرمایا یہ یقینی امر ہے کہ جنت والوں میں سے کوئی آدمی اس سے پھلوں کو توڑے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس طرح کا پھل پیدا فرمادے گا۔ اور آپ نے فرمایا کوئی دینار جس کو آدمی خرچ کرتا ہے زیادہ بڑھا ہوا نہیں ہے۔ اس کے لحاظ سے اس دینار میں جو وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔ پھر وہ دینار جس کو وہ اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے۔ پھر وہ دینار جو اللہ کے راستے میں ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے پھر فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کا نبی اللہ سے مانگنے میں بڑی شان والا ہے۔ قیامت کے دن جاہلیت والے اپنے بتوں کو اپنی پٹھون پر لادے ہوئے آئیں گے ان کا رب ان سے سوال کرے گا کیا تم ان کی زیارت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب آپ نے ہمارے لئے رسول نہیں بھیجا اور ہمارے پاس کوئی حکم ہیں آیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم بتاؤ اگر میں تم کو کس کام کا حکم کروں تو کیا تم میرا کہنا مانوں گے۔ وہ کہیں گے ہاں ! تو اس بات پر اللہ تعالیٰ ان سے پکا وعدہ لیں گے۔ اور ان کو حکم دیں گے کہ وہ جہنم کی طرف چلے جائیں اور اس میں داخل ہوجائیں۔ وہ چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس (جہنم) کے پاس آئیں گے اور اس کے غیظ و غضب اور چلانے کو دیکھیں گے تو وہ بھاگ جائیں گے اور اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو اس سے جدا کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم نے میرے ساتھ یہ عہد نہیں کیا تم یقیناً میری اطاعت اور فرمانبرداری کرو گے تم چلے جاؤ اس کی طرف اور اس میں داخل ہوجاؤ پس وہ چل پڑے یہاں تک کہ جب اس کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے متفرق ہوجائیں گے اور پھر واپس لوٹ آئیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے۔ داخل ہوجاؤ اس میں ذلیل ہو کر نبی ﷺ نے فرمایا اگر پہلی مرتبہ داخل ہوجائے تو (آگ) ان پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے گی۔ رسول اللہ ﷺ کی امت کے لئے تیں دعائیں (17) امام احمد اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) عبد اللہ بن عبداللہ بن جابر عتیک سے اور انہوں نے جابر بن عتیک (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس اور بنو معاویہ کے پاس آئے اور یہ ایک بستی ہے انصار کی بستیوں میں سے مجھ سے فرمایا کیا تو جانتا ہے تمہاری اس مسجد میں رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی تھی میں نے کہا ہاں۔ میں نے ان کو اس میں سے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا پھر پوچھا کیا تو جانتا ہے کون سی تین دعائیں تھیں جو رسول اللہ ﷺ نے اس میں کی تھیں میں نے کہا ہاں مجھ کو بتاؤ میں نے کہا یہ دعا کی تھی اللہ تعالیٰ ان پر کسی بیرونی دشمن کو غلبہ نہ دے۔ اور نہ ان کو ہلاک کیا جائے قحط سالی سے تو یہ مجھ کو دے دی گئیں اور یہ بھی دعا کی کہ ان کے درمیان آپس میں لڑائی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس سے روک دیا۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا تو نے سچ کہا قیامت کے دن تک برابر فتنہ فساد رہے گا۔ (18) امام احمد، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابو نضرہ غفاری ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے اپنی رب سے چار چیزوں کا سوال کیا۔ تین چیزیں مجھ کو عطا کردی گئیں۔ اور ایک چیز سے روک دیا گیا میں نے اللہ سے سوال کیا کہ میری امت گمراہی میں جمع نہ ہوگی تو یہ چیز مجھ کو عطا کردی گئی اور میں نے اللہ سے سوال کیا کہ ان پر کسی بیرونی دشمن کا غلبہ نہ ہو تو اس کو بھی عطا کردیا گیا۔ اور میں نے اللہ سے سوال کیا کہ ان کو قحط سالی سے ہلاک نہ فرمائیں جیسے کہ آپ نے دوسری امتوں کو ہلاک کیا تو یہ چیز بھی مجھ کو دے دی گئی۔ اور میں نے اللہ سے سوال کیا اللہ تعالیٰ ان کے مختلف گروپوں کو خلط ملط نہ کرے اور ان کے بعض کو بعض کی لڑائی نہ چکھائے تو اس سے منع فرمایا۔ (19) امام احمد، نسائی اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا میں نے نماز پڑھی ہے رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے میں نے اپنے رب سے تین سوال کئے۔ دو مجھ کو عطا فرما دیئے اور ایک کا انکار فرمادیا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ میری امت قحط سالی میں مبتلا نہ ہو تو اسے قبول کرلیا گیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان پر دشمنی کا غلبہ نہ ہو تو اسے بھی قبول کرلیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان مختلف گروہوں کو خلط ملط نہ کرے۔ اس کا انکار کردیا گیا۔ (20) امام ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ حرہ بنو معاویہ کی طرف تشریف لے گئے میں آپ کے قدموں کے نشانوں پر چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ وہاں پہنچے آپ نے آٹھ رکعات چاشت کی نماز پڑھی۔ ان میں لمبائی اختیار فرمائی (یعنی لمبی رکعتیں پڑھیں) پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا مجھ کو دو عطا فرمادیں اور ایک سے منع کردیا گیا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ میری امت پر کسی بیرونی امت کو مسلط نہ کرے تو مجھ کو یہ چیز دے دی گئی۔ اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان کو غرق کرنے سے ہلاک نہ کرے تو یہ بھی مجھ کو دے دی گئی اور میں نے تیسرا سوال کیا کہ ان کے درمیان آپس میں لڑائی نہ ہو تو مجھ سے اللہ تعالیٰ نے روک لیا۔ (21) امام ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ دو چیزیں مجھ کو عطا فرمادیں اور ایک سے منع کردیا گیا میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا تو ایسا کردیا گیا اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت پر کسی دشمنی کو مسلط نہ کرے تو ایسا کردیا گیا۔ اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کے بعض افراد بعض کو ہلاک نہ کریں تو اس سے منع کردیا گیا۔ (22) امام ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے نماز پڑھی رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے۔ اور میں نے دعا کی رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے یہاں تک کہ میرے لئے جنت کھول دی گئی میں نے انگوروں کو دیکھا اور میں جھکاتا کہ اس میں سے کوئی چیز لے لوں تو مجھ آگ سے ڈرایا گیا۔ میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ دو مجھ کو دے دی گئیں۔ اور ایک کو مجھ سے روک دیا گیا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ میری امت پر اس کے دشمن کا غلبہ نہ ہو تو ایسا کردیاگا۔ اور میں نے ان سے سوال کیا کہ اس کو قحط سالی سے ہلاک نہ کیا جائے تو ایسا کردیا گیا اور میں نے اس سے سوال کیا کہ اسے مختلف گروہوں میں خلط ملط نہ کرے۔ اور ان کا بعض بعض کی لڑائی کو نہ چکھے تو اس کو مجھ سے روک دیا گیا۔ (23) امام ابن مردویہ نے عبد اللہ بن شداد (رح) سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل اور سعد بن معاذ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو گم کردیا تو ان کو حرہ میں نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں ان کے پاس آیا اور کھانسا جب آپ فارغ ہوئے تو میں نے کہا یا رسول اللہ میں نے آپ کو ایسی نماز پڑھتے دیکھا ہے کہ آپ نے ایسی نماز کبھی نہیں پڑھی۔ آپ نے فرمایا میں نے نماز پڑھی رغبت کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے میں نے اپنے رب سے اس میں تین سوال کئے۔ مجھ کو دو دے دئیے گئے۔ اور ایک کو مجھ سے روک دیا گیا۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ میری امت بھوک سے ہلاک نہ ہو تو ایسا کردیا گیا۔ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین اور میں نے اس سے سوال کیا کہ ان پر دشمن کو مسلط نہ کرے تو ایسا کردیا گیا۔ پھر آپ نے پڑھا لفظ آیت ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق آیت کے آخر تک اور میں نے اس سے سوال کیا کہ اس کے درمیان (آپس میں) لڑائی نہ ہو تو مجھ کو منع کردیا گیا۔ پھر آپ نے اسے پڑھا لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم آیت کے آخر تک پھر فرمایا برابر یہ دین پر غالب رہے گا۔ جنہوں نے اس سے دوری اختیار کی۔ نماز میں دلجمعی اور دھیان (24) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ترمذی (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے خباب بن ارت ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اویلبسکم شیعا کے بارے میں فرمایا کہ خباب نے تاک کر دیکھا نبی ﷺ کو اس حال میں کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ حتی کہ جب صبح ہوئی تو ان سے عرض کیا اے اللہ کے نبی میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ اس رات میں آپ نے ایسی نماز پڑھی کہ میں نے آپ کو کبھی ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا آپ نے فرمایا ہاں یہ نماز تھی رغبت کے ساتھ اور خوف کے ساتھ میں نے اس میں اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ دو مجھ کو عطا فرمادیں اور ایک سے منع کردیا میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم کو ہلاک نہ فرمائیں جیسے تم سے پہلے امتوں کو ہلاک کردیا گیا۔ تو یہ مجھ کو عطا فرما دیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم پر کوئی بیرونی دشمن مسلط نہ کرے۔ تو یہ بھی مجھ کو عطا فرمادیا۔ اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ہمیں مختلف گروہوں میں خلط ملط نہ کرے تو مجھ کو منع کردیا گیا۔ (25) امام ابن جریر اور ابن مردویہ نافع بن خالد خزاعی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے پوری رکوع اور سجود کے ساتھ ہلکی نماز پڑھی پھر فرمایا یہ رغبت کی نماز تھی۔ میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ دو چیزیں مجھ کو دے دی گئیں۔ اور ایک باقی رہ گئی میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا۔ کہ وہ تم کو ایسا عذاب نہیں پہنچائیں گے جو تم سے پہلے (لوگوں کو) پہنچا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو یہ عطا فرمایا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ تم پر ایسا دشمن مسلط نہ ہوجائے جو تمہارے سازوسامان اور ہر چیز کو مباح کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی قبول فرمایا پھر میں نے سوال کیا کہ وہ تمہیں مختلف گروہوں میں خلط ملط نہ کرے۔ ایک کو دوسرے کی جنگ کا مزا چکھا دے تو اس سے منع کردیا گیا۔ (26) امام طبرانی نے خالد خزاعی ؓ سے روایت کیا کہ جو اصحاب شجرہ میں سے تھے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی نماز کو ہلکا فرمایا اور بیٹھ گئے۔ اور طویل قعدہ فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ آپ نے اپنی نماز میں بیٹھنے کو لمبا فرمایا آپ نے فرمایا یہ رغبت اور رہبت والی نماز تھی میں نے اللہ تعالیٰ سے اس میں تین چیزوں کا سوال کیا۔ دو چیزیں مجھ کو دے دی گئیں اور ایک چیز سے مجھ کو منع کردیا گیا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ وہ تم کو ایسے عذاب سے ہلاک نہ کر دے جو تم سے پہلے لوگوں کو بھیجا تو یہ بھی مجھ کو عطا فرمادیا۔ اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان پر دشمن کو مسلط نہ کردے کہ وہ اس کو تباہ و برباد کردے۔ تو یہ بھی مجھ کو عطا فرمادیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ تمہیں مختلف گروہوں میں خلط ملط نہ کرے۔ بعض کی شدت اور سختی دوسرے بعض کو نہ چکھائے تو اس سے مجھ کو منع کردیا گیا۔ (27) امام نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں ضرار بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت اذیلبسکم شیعا کے بارے میں فرمایا کہ چار فتنے ہوں گے۔ پہلا فتنہ آئے گا تو خونوں کو اس میں خلل کردیا جائے گا۔ اور دوسرے فتنہ میں خون کو اور مالوں کو حلال کردیا جائے گا اور تیسرے فتنہ میں خونوں کو مالوں کو اور شرم گاہوں کو حلال کردیا جائے گا۔ اور چوتھا فتنہ اندھا ظلم ہوگا۔ جو سمندر کی موجوں کی طرح جوش مار کر ہر طرف پھیل جائے گا۔ یہاں تک کہ عرب کا کوئی گھر نہیں بچے گا۔ مگر وہ اس میں وہ داخل ہوگا۔ دین اسلام کے پھیلنے کے بارے میں پیشنگوئی (28) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے شداد بن اوس ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کے مشارق اور اس کے مغارب کو دیکھا اور میری امت کا ملک (یعنی بادشاہ) عنقریب وہاں پہنچے گا۔ جہاں تک میرے لئے زمین کو لپیٹا گیا ہے اور مجھ کو دو خزانے سرخ اور سفید عطا فرمائے۔ اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری قوم قحط سالی سے ہلاک نہ ہو اور تم کو مختلف گروہوں میں خلط ملط نہ کرے۔ اور ایک کو دوسرے کی جنگ کا مزہ نہ چکھائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ﷺ جب میں کوئی فیصلہ کردیتا ہوں۔ تو اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ اور میں نے تیری امت کو یہ عطا کردیا ہے کہ ان کو قحط سالی سے ہلاک نہیں کروں گا۔ اور ان پر بیرونی دشمن کو مسلط نہیں کروں گا کہ وہ ان کو ہلاک کردے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو بعض کو ہلاک کر دے گا۔ اور ان کا بعض بعض کو قتل کردے گا۔ اور ان کا بعض بعض کو قیدی بنائے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں اپنی امت پر گمراہ کرنے والے آئمہ سے ڈرتا ہوں جب میری امت میں سے تلوار رکھ دی جائے تو پھر ان سے قیامت کے دن تک نہیں اٹھائی جائے گی۔ (29) امام ابن ابی شیبہ، احمد، ابن ماجہ، ابن منذر اور الفاظ امام ابن منذر کے ہیں اور ابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس کے قیام کو اس کے رکوع کو اور اس کے سجود کو خوب لمبا فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آج آپ نے نماز کو اتنا لمبا فرمایا ؟ آپ نے فرمایا یہ رغبت اور رھبت کی نماز تھی۔ میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا۔ دو مجھ کو عطا فرمادیں اور ایک چیز مجھ سے روک لی گئی میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت پر بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو ان کے عام لوگوں کو ہلاک کردے اور یہ چیز مجھ کو عطا فرمادی اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان پر قحط سالی مسلط نہ کرے جو ان کے عام لوگوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز بھی مجھ کو عطا فرمادی۔ اور احمد اور ابن ماجہ کے یہ الفاظ ہیں۔ اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان کے درمیان (آپس میں) لڑائی نہ ہو۔ تو اس سے مجھ کو روک دیا گیا۔ (یعنی اسے قبول نہیں فرمایا) چار سوالات میں سے تین قبول ہوئے (30) امام ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے چار چیزوں کا سوال کیا مجھ کو تین چیزیں عطا فرمادیں اور ایک چیز کو مجھ سے منع کردیا میں نے ان سے سوال کیا کہ میری امت کسی کفر میں مبتلا نہ ہو تو یہ چیز مجھ کو عطا فرمادی اور میں نے ان سے سوال کیا کہ اس پر کسی بیرونی دشمن کا غلبہ نہ ہو کہ یہ بھی مجھ کو عطا فرمادیا اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان کو ایسا عذاب نہ دے جو ان سے پہلی امتوں کو عذاب دیا گیا۔ تو یہ بھی مجھ کو عطا فرمادیا۔ اور میں نے ان سے سوال کیا کہ ان کے درمیان (آپس میں) لڑائی نہ ہو تو اسے منع کردیا گیا۔ (31) امام ابن جریر نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور وضو فرمایا اور اپنے رب سے سوال کیا کہ ان پر عذاب نہ بھیجے ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور اس امت کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے اور بعض کی شدت بعض کو نہ چکھائے جیسے کہ بنی اسرائیل کو چکھایا۔ جبرئیل آپ کی طرف اترے ا اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ نے اپنے رب سے چار چیزوں کا سوال کیا ہے۔ دو چیزیں آپ کو دے دی گئیں اور دو چیزوں سے منع کردیا گیا۔ ان پر ہرگز ان کے اوپر اور ان کے نیچے سے ایسا عذاب نہیں آئے گا کہ ان کو جڑ سے کاٹ دے۔ یہ دونوں عذاب ہیں ہر امت کے لئے جو جمع ہوئی اپنے نبی کو جھٹلانے پر اور اپنے رب کی کتاب کو رد کردیا۔ لیکن ان کو مختلف گروہوں میں خلط ملط کردے گا اور بعض بعض کی لڑائی کا مزا چکھا دے گا یہ دونوں عذاب ہیں جو کتابوں کا اقرار کرتے ہیں اور انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں لیکن وہ اپنے گناہوں کے بدلے عذاب دیئے جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ لفظ آیت فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون یعنی ہم تیری امت میں سے بدلہ لیں گے۔ یا ہم تجھ کو دکھائیں گے۔ وہ چیز جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا تھا عذاب میں سے حالانکہ آپ زندہ ہیں ہم اس پر قدرت رکھنے والے ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے رب سے رجوع کرتے ہوئے فرمایا کون سی مصیبت زیادہ سخت ہوگی اس سے کہ میں اپنی امت کو دیکھوں کہ بعض بعض کو عذاب دے رہا ہے اور آپ کی طرف وحی کی گئی لفظ آیت الم احسب الناس ان یترکوا (دو آیتیں) اور آپ ﷺ کو بتایا کہ آپ کی امت کو فتنوں کے لئے خاص نہیں کیا گیا۔ دوسری امتوں کے علاوہ بلکہ عنقریب اس امت کو بھی مبتلا کیا جائے گا جیسے دوسری امتوں کو مبتلا کیا گیا۔ پھر ان پر اتارا گیا لفظ آیت قل رب اما ترینی ما یوعدون رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین اللہ کے نبی ﷺ نے پناہ مانگی تو ان کو اللہ نے پناہ دے دی آپ کو نہیں دکھایا گیا آپ کی امت میں سے مگر اتفاق و اتحاد کو الفت و محبت کو اور اطاعت و عبادت کو پھر ان پر آیت نازل ہوئی اس میں ڈرایا گیا اصحاب فتنہ کو اور آپ کو خبر دی گئی کہ بعض لوگ ہی اس فتنہ میں مبتلا نہ ہوں گے۔ اور فرمایا لفظ آیت واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ واعلموا ان اللہ شدید العقاب پس نبی ﷺ کے بعد آپ کی امت کے کئی گروہ ان فتنوں میں مبتلا ہوئے اور کئی ان سے محفوظ رہے۔ (32) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بعد کافر ہو کہ نہ لوٹ جانا کہ بعض تمہارا بعض کی گردنوں کو تلواروں سے مارنے لگے صحابہ نے کہا کیا ہم گواہی نہیں دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ فرمایا ہاں بعض لوگوں نے کہا یہ ہمیشہ نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت انظر کیف نصرف الایت لعلھم یفقھون و کذب بہ قومک وھو الحق سے لے کر لفظ آیت وسوف تعلمون تک۔ (33) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت عذابا من فوقکم او من تحت ارجلکم یہ مشرکین کے لئے ہے (اور) لفظ آیت اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض یہ مسلمانوں کے لئے ہے۔ (34) امام ابن ابی حاتم اور ابن قانع نے معجم میں ابن اسحاق سے اور انہوں نے عبد اللہ بن ابی بکر (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سہیل ؓ نے اپنے والد کے پاس یہ آیت پڑھی لفظ آیت وکذب بہ قومک وھو الحق قل لست علیکم بوکیل اور فرمایا اللہ کی قسم اے میرے بیٹے اگر تو وہاں ہوتا جب ہم مکہ مکرمہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو اس سے وہ کچھ سمجھتا جو میں آج سمجھا ہوں اور میں اس وقت اسلام لا چکا تھا۔ (35) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذب بہ قومک یعنی قریش نے قرآن کو جھٹلایا لفظ آیت وھو الحق حالانکہ وہ سچ ہے اور لفظ آیت بوکیل اس کا معنی ہے حفاظت کرنے والا اور لفظ آیت لکل نبا مستقر یعنی قرآن کی خبر کا ظہور بدر کا دن اسی عذاب اور شدت کی صورت میں ہوا جو ان کے لئے عذاب تیار کیا گیا تھا۔ (36) امام نحاس نے ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل لست علیکم بوکیل کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت منسوخ کردی گئی آیۃ السیف یعنی لفظ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے۔ (37) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لکل نبا مستقر یعنی حقیقتا کہ نبا سے مراد حقیقت ہے۔ (38) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت لکل نبا مستقر یعنی اس کی سزا کو روک لیا گیا یہاں تک کہ گناہ کا عمل اس سزا کو آزاد کرالیتا ہے (یعنی گناہ کرنے پر سزا دی جاتی ہے) (39) امام ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت نبا مستقر وسوف تعلمون کے بارے میں فرمایا کہ ایک فعل ہے اور حقیقت ہے کہ جو کچھ بھی دنیا میں ہوا ہے اور جو کچھ آخرت میں ہوگا۔ (40) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لکل نبا مستقر وسوف تعلمون کے بارے میں فرمایا کہ ہر خبر کے لئے ایک حقیقت ہے لیکن دنیا میں عنقریب تم اس کو دیکھ لو گے۔ اور آخرت میں بھی عنقریب وہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے گی۔
Ayahs 6:68–69

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور اے مخاطب ! جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں عیب جوئی کرتے ہیں تو ان سے کنارہ ہوجا ! یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں۔ اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور جو لوگ احتیاط کرتے ہیں ان پر ظالموں کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں ہے لیکن نصیحت ہے تاکہ وہ ڈرنے لگیں۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا کے بارے میں فرمایا اسی طرح بھی قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم فرمایا جماعت کے ساتھ (رہنے کو) اور ان کو منع فرمایا اختلاف سے اور فرقہ بندی سے اور ان کو خبر دی کہ اس سے پہلے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اللہ کے دین میں جھگڑا کرنے کی وجہ سے۔ دین کا مذاق اڑانے والوں کی مجلس میں بیٹھنا حرام ہے (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم یعنی اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جو اللہ کی آیات میں عیب جوئی کرتے ہیں۔ ان کو جھٹلاتے ہیں۔ اگر تو بھول جائے تو یاد آنے کے بعد مت بیٹھو ظالم قوموں کے ساتھ۔ (3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا یعنی وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں تو محمد ﷺ کو ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع فرمایا مگر یہ آپ بھول جائیں جب یاد آئے تو کھڑے ہوجائیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین (4) امام عبد بن حمید، ابو داؤد نے ناسخ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) و سعید بن جبیر (رح) دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں یعنی مشرکین (پھر فرمایا) لفظ آیت واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری یاد آنے کے بعد پھر فرمایا اگر تو بھول جائے پھر یاد آنے کے بعد ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ لفظ آیت وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیء یعنی تجھ پر کوئی الزام نہیں جو وہ لوگ عیب جوئی کرتے ہیں اللہ کی آیات میں پھر فرمایا لفظ آیت ولکن ذکری لعلھم یتقون یعنی ان کو یہ بات یاد دلاؤ اور ان کو خبر دو کہ تمہارے لئے یہ طریقہ باعث اذیت و تکلیف ہوگا تاکہ وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کرنے یا باز آجائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت وقد نزل علیکم فی الکتب الایہ (النساء آیت 24) (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین جب مؤمنین کے ساتھ بیٹھ جاتے تو نبی کریم ﷺ اور قرآن کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ (6) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن سعید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم یعنی یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ آیت اہل اھواء کے بارے میں نازل ہوئی۔ (7) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو نعیم نے حلیہ میں ابو جعفر (رح) سے روایت کیا کہ فتنہ فساد کرنے والوں کے پاس نہ بیٹھو کیونکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں عیب جوئی کرتے ہیں۔ (8) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے محمد بن علی (رح) سے روایت کیا کہ اصحاب الاھواء (یعنی اپنی خواہشات پر چلنے والے) ان لوگوں میں سے ہیں جو اللہ کی آیات میں عیب جوئی کرتے ہیں۔ مشرکین سے اعراض کا حکم (9) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نبی ﷺ کے پاس بیٹھ جاتے تھے اور اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان سے وہ کلام سنیں۔ جب وہ سنتے تھے تو مذاق اڑاتے تھے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم یعنی جب وہ مذاق اڑانا شروع کریں تو ان سے کھڑے ہوجاؤ تاکہ اس سے باز رہیں۔ اور ان سے کہو مذاق مت اڑاؤ اور کھڑے ہوجاؤ (وہاں نہ بیٹھو) اسی کو فرمایا لفظ آیت لعلھم یتقون یعنی اگر وہ عیب جوئی کریں تو کھڑے ہوجاؤ اور اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیء یعنی اگر تم ان کے ساتھ بیٹھے ہو تو مت بیٹھو۔ (کھڑے ہوجاؤ) پھر مدینہ منورہ میں اس قول نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ یعنی لفظ آیت وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم سے لے کر لفظ آیت انکم اذاقتلتم تک اور یہ حکم اس آیت یعنی لفظ آیت وما علی الذین یتقون من حسانھم من شیء کے لئے ناسخ ہے۔ (10) امام فریابی اور ابو نصر السجزی نے الابانۃ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا وہ اھل کتاب مراد ہیں۔ منع کیا گیا ان کے ساتھ بیٹھنے کو جب سنو تم کے وہ قرآن کے بارے میں خلاف حق کہتے ہیں۔ (11) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی جھوٹ کا ایسا کلمہ کہتا ہے کہ اس سے مجلس کے لوگ سنیں تو اللہ تعالیٰ پر ناراض ہوتے ہیں یہ بات ابراہیم نخعی کو بتائی گئی تو انہوں نے فرمایا اس سنے سچ کہا کیا کتاب اللہ میں اس طرح نہیں ہے (ضرور ہے) یعنی لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم (12) امام ابو الشیخ نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ مکہ میں مشرکین جب نبی ﷺ کے اصحاب سے قرآن سنتے تھے تو عیب جوئی کرتے اور مذاق اڑاتے مسلمانوں نے کہا ان کے ساتھ مجالست صحیح نہیں ہم ان کی باتیں سنتے وقت اٹھنے سے ڈرتے ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں اور ان پر کوئی اعتراض نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں (یہ آیت) اتاری لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم (13) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا کو منسوخ کردیا اس آیت نے جو سورة النساء میں ہے یعنی لفظ آیت وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بھا اسے کے بعد پھر حکم نازل ہوا لفظ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (14) امام نحاس نے ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیء یہ مکی آیت ہے اس کی مدینہ کی آیت نے منسوخ کردیا یعنی لفظ آیت وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بھا (15) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیء وہ بیٹھیں لیکن تم نہ بیٹھو۔ (وہاں سے چلے جاؤ) (16) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کے ساتھ منافقوں نے بیٹھنا شروع کردیا۔ جب وہ قرآن کو سنتے تو عیب جوئی کرتے اور مذاق اڑاتے جیسے مکہ میں مشرکین کا بھی یہی کام تھا۔ مسلمانوں نے کہا ہم پر کوئی حرج نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ان کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دی ہے۔ اور ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ان کی بےہودہ بحثوں کی تو یہ آیت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (جس سے یہ رخصت ختم کردی گئی) (17) امام ابن ابی شیبہ نے ہشام بن عروہ بن عبد العزیز (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبد العزیز ایک قوم کے پاس تشریف لائے ان کے ساتھ شراب پر ایک روزے دار آدمی بیٹھا ہوا تھا تو آپ نے اس کو مارا اور فرمایا لفظ آیت فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرۃ
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور چھوڑ دے ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈالا ہے اور قرآن کے ذریعہ ان کو نصیحت کیجئے تاکہ کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے نہ پھنس جائے جس کے لئے اللہ کے علاوہ کوئی حمایتی اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا۔ اور اگر نفس ہر طرح سے جان کا بدلہ دے تو اس سے نہ لیا جاتے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اعمال کی وجہ سے پھنس گئے۔ ان کے لئے پینا ہے گرم پانی سے اور دردناک عذاب ہے کفر کرنے کی وجہ سے۔

دین کا مذاق اڑانے والے دھوکہ میں ہیں (1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا اس قول کی طرح ہے لفظ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا (المدثر) (2) امام عبدبن حمید، ابو داؤد نے ناسخ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور نحاس نے ناسخ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا کے بارے میں فرمایا کہ پھر سورة براۃ میں ان کو قتل کرنے کا حکم نازل ہوا اور فرمایا لفظ آیت فا قتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اتخذوا دینھم لعبا ولھوا سے مراد کھانا اور پینا ہے (یعنی جنہوں نے اپنے دین کو کھانے کا ذریعہ بنا لیا ہے) (4) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ان تبسل کا معنی ہے لفظ آیت ان تفضح (تا کہ رسوا نہ کیا جائے) اور لفظ آیت ابسلوا کا معنی ہے لفظ آیت فضحوا (یعنی وہ لوگ جن کو رسوا کیا گیا ) (5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ان تبسل کا مطلب ہے لفظ آیت تسلمتا کہ کوئی آدمی اپنے عملوں کے سپرد نہ کردیا جائے اور لفظ آیت ابسلوا بما کسبوا کا مطلب ہوگا کہ جن کو ان کے جرموں کے حوالے کردیا گیا۔ (6) امام طستی نے نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کیا کہ مجھے اللہ عزوجل کے اس قول لفظ آیت ان تبسل نفس کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے اگر کسی آدمی کو اس کے عملوں کے بدلے دوزخ میں روک لیا جائے۔ عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے زہیر کا یہ قول نہیں سنا وہ کہتا ہے وفار قتک برھن لا فکاک لہ یوم الوداع وقلبی مبسل علقا ترجمہ : اور تیرا جدا ہونا رہن کے ساتھ کہ نہیں ہے چھڑایا جانا اس کے لئے الوداع کے دن اور میرا دل معلق کرکے روک لیا گیا۔ (7) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ان تبسل نفس کے بارے میں فرمایا (اس سے مراد وہ نفس ہے جسے پکڑ لیا جائے اور قید کرلیا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وان تعدل کل عدل لا یوخذ منھا کے بارے میں فرمایا اگر وہ زمین بھر کر سونا لے آئے تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ (8) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا کہ لفظ آیت اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا یعنی یہی لوگ پکڑے جائیں گے جو کچھ انہوں نے کمایا۔ (9) امام ابو الشیخ نے سفیان بن حسین (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ابسلوا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کا مطلب لفظ آیت اخذوا یا اسلموا ہے۔ یعنی وہ رسوا کئے گئے یا وہ حوالے کئے گئے کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا ؟ فان أقفرت منھم فانھم بسل ترجمہ : پس اگر تو ان سے الگ تھلک ہوگیا تو وہ رسوا ہوجائیں گے۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کیا ہم پکاریں اللہ کے سوا جو ہمیں نفع نہیں دیتا اور جو ہمیں ضرر نہیں دیتا، اور کیا ہم اس کے بعد الٹے پاؤں لوٹا دیئے جائیں جبکہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، کیا ہم اس شخص کی طرح ہوجائیں جسے شیاطین نے جنگل میں بےراہ کردیا ہو۔ اس حال میں کہ حیران ہو کر بھٹکتا پھر رہا ہو۔ اس کے ساتھی ہیں جو اسے بلاتے ہیں کہ ہدایت کی طرف آجا ہمارے پاس۔ آپ فرمادیجئے بیشک اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے۔ اور ہم کو حکم ہوا ہے کہ ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے فرمانبردار ہوجائیں۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل اندعوا من دون اللہ کہ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا معبودوں کے لئے اور ان بلانے والوں کے لئے جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ جیسے مثال ایک آدمی کی جو راستے سے گم ہوگیا پریشان ہوتے ہوئے اور گمراہ ہوتے ہوئے جب کہ اسے ایک آواز لگانے والا آواز لگائے کہ فلاں بیٹے فلاں کے آجاؤ راستے کی طرف۔ اور اس کے اپنے ساتھی ہیں جو اس کو بلاتے ہیں اے فلاں بیٹے فلاں کے آجاؤ راستے کی طرف۔ اگر اس نے پہلے بلانے والے کو قبول کیا تو راستے کی طرف ہدایت پا جائے گا اور یہ بلانے والا جو اسے گھنے جنگل کی طرف بلا رہا ہے وہ جنات میں سے ہے اسی طرح وہ آدمی جو اللہ کو چھوڑ کر ان معبودوں کی عبادت کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے یہاں تک کہ اسی پر اسے موت آجاتی ہے اور وہ ہلاکت اور ندامت کا سامنا کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت کالذی استھوتہ الشیطین فی الارض یہ مثال ہے اس شخص کی جسے جنوں نے زمین میں بھٹکا دیا ہو۔ وہ اس کو بلاتا ہے اس کے نام اس کے باپ دادا کے نام کے ساتھ اور وہ ان کی اتباع کرتا ہے اور وہ گمان کرتا ہے کہ وہ بھی کچھ ہے۔ وہ صبح کرتا ہے اس حال میں کہ اس کو ڈال دیا گیا ہلاکت میں اور بسا اوقات وہ اسے کھا جاتے ہیں یا پھر زمین کے کسی ایسے تاریک گڑھے میں پھینک دیتے ہیں کہ وہ اس میں پیاسا ہی ہلاک ہوجاتا ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا ان معبودوں کو قبول کیا جن کی پوجا کی جاتی ہے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل اندعوا من دون اللہ یعنی کہ مشرکین نے مومنین سے کہا۔ ہمارے راستے کی اتباع کرو اور محمد ﷺ کے دین کو چھوڑ دو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت قل اندعوا من دون اللہ ما لا ینفعنا اس سے دوسرے (جھوٹے معبود) مراد ہیں اور لفظ آیت ونرد علی اعقابنا بعد اذھدنا اللہ اور وہ ہمارے مثل تھا۔ لفظ آیت کمثل الذی استھوتہ الشیطین فی الارض یہ تمہاری مثال ہے اگر تم نے کفر کیا ایمان کے بعد جیسے کسی آدمی کی مثال جو اپنی قوم کے ساتھ راستے پر تھا۔ وہ راستے سے بھٹک گیا۔ شیطان نے اسے حیرت زدہ کردیا اس کو زمین میں بےراد کردیا۔ اور اس کے ساتھ جو صحیح راستے پر تھا انہوں نے اس کو اپنی طرف بلانا شروع کیا کہتے ہیں ہمارے طرف آجا۔ اور ہم راستے پر ہیں اس نے ان کی طرف آنے سے انکار کردیا پس یہی مثال ہے اس شخص کی جو تم میں سے محمد ﷺ کی اتباع کرتا ہے معرفت کے بعد اور محمد ﷺ وہ ہیں جو ایک راستے کی طرف بلاتے ہیں اور وہ راستہ اسلام ہے۔ (3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا ولا یضرنا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد بت ہیں (اور فرمایا) لفظ آیت کالذی استھوتہ الشیطین فی الارض حیران یعنی وہ آدمی جو بھٹکتا پھرتا ہے اس کے ساتھی اس کو بلاتے ہیں راستے کی طرف یہ مثال ہے اس شخص کی جو ہدایت کے بعد گمراہ ہوگیا۔ شیطان کی اطاعت کرنے والے (4) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت کالذی استھوتہ الشیطین (الایہ) سے مرادوہ آدمی ہے جس نے اللہ کی ہدایت کو قبول نہیں کیا۔ اور وہ آدمی جو شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور زمین میں گناہ کا کام کرتا ہے اور حق سے ہٹ کر گمراہ ہوگیا او اس کے ساتھی ہیں جو اس کو ہدایت کی طرف بلا رہے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس کی اللہ کی ہدایت کی طرف حکم دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کے اولیا کے بارے میں انسانوں میں سے فرماتے ہیں لفظ آیت ان الھدی ھدی اللہ (یعنی ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے) اور گمراہی وہ سے جس کی طرف جن بلا رہے ہیں۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اس علم کی بحث اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کو سکھائی اور وہ اس کے ساتھ گمراہ لوگوں سے جھگڑا کرتے ہیں اور غالب آجاتے ہیں۔ (6) امام ابن الانباری مصاحف میں ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت کالذی استھوتہ الشیطین (7) امام ابن جریر اور ابن الانباری نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ قرأت میں یوں ہے لفظ آیت یدعونہ الی الھدی بینا (8) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت یدعونہ الی الھدی بینا اور فرمایا کہ ہدایت سے مراد راستہ ہے اور وہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ کہ نماز کو قائم کرو اور رب العالمین سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے۔

(1) امام ابو الشیخ نے اوزاعی ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہیں کسی کے گھر کے رہنے والے جو مقرر اوقات پر نماز ادا کرتے ہیں۔ مگر ان میں برکت دی جاتی ہے جیسے کہ برکت دی گئی ابراہیم میں اور آل ابراہیم میں۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے حق کے ساتھ آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا سو وہ ہوجائے گا، اور اس کا فرمان حق ہے اور اسی کے لئے ساری حکومت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا۔ وہ جاننے والا ہے غیب کی چیزوں کو اور ظاہرچیزوں کو اور وہ حکمت والا ہے، خبر رکھنے والا ہے۔

(1) امام ابن مبارک نے زھد میں، عبد بن حمید، ابو داؤد ترمذی (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حسان، حاکم (اور آپ نے تصحیح بھی کی ہے) ابن مردویہ، اور بیہقی نے البعث میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے صور کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری ساری اہل زمین سے سینگ کو نکالنے کے لئے جمع ہوجائیں تو وہ اسے نہ نکال سکیں۔ (3) امام مسدد نے مسند میں، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ صور سینگ کی طرح ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ (4) امام فریابی، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ صور بگل کی طرح ہے۔ (5) امام ابن ماجہ، بزار، ابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سینگ والے دونوں فرشتے صور کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے مسلسل انتظار میں ہیں کہ کب حکم دیئے جاتے ہیں۔ (6) حاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صور والے کی آنکھ جب سے اس کو مقرر کیا گیا مستعد ہے اور عرش کی طرف دیکھ رہی ہے۔ خوف کرتے ہوئے اس بات سے کہ اس کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی حکم دے دیا جائے۔ گویا کہ اس کی آنکھیں روشن ستاروں کی طرح ہیں۔ (7) امام احمد، طبرانی نے الاوسط میں، حاکم اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کیسے خوش ہوں جبکہ صور والا تو سینگ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے، پیشانی جھکائے ہوئے اور کان لگائے ہوئے منتظر کھڑا ہے کہ کب اس کو حکم دیا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ فرمایا تم کہو لفظ آیت حسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا حسبنا اللہ ونعم الوکیل کا ورد (8) امام سعید بن منصور، احمد، عبد بن حمید، ترمذی (اور آپ نے اس کی تحسین بھی کی ہے) ابن منذر، حاکم اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کیسے خوش رہوں جبکہ صور والا تو سینگ کو پکڑے ہوئے ہے پیشانی کو جھکائے ہوئے ہے اور کان لگائے ہوئے ہے کہ کب اس کو حکم دیا جاتا ہے اور وہ صور میں پھونکے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کیا کہیں ؟ فرمایا تم کہو لفظ آیت حسبنا اللہ ونعم الوکین علی اللہ توکلنا (9) امام ابو نعیم نے حلیہ میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کیسے خوش رہوں کہ صور پھونکے والا تو سینگ کو پکڑے ہوئے ہے پیشانی کو جھکائے ہوئے ہے اللہ کے حکم کا انتظار کر رہا ہے کہ کب اس کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صور میں پھونکے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے کیا حکم ہے۔ آپ نے فرمایا لفظ آیت حسبنا اللہ ونعم الوکیل (10) امام بزار اور حاکم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی صبح نہیں ہوتی مگر وہ فرشتے آواز دیتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما۔ اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ روک کر رکھنے والے کے مال کو تلف کرے دو فرشتے مقرر ہیں صور پر جو اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کو حکم ہوتا ہے اور وہ صور پھونکتے ہیں۔ اور وہ فرشتے آواز دیتے ہیں اسے خیر کے متلاشی ادھر آ اور دوسرا کہتا ہے اے شر کے متلاشی رک جا۔ اور دو فرشتے آواز دیتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے ہلاکت ہے مردوں کے لئے عورتوں کی جانب سے اور ہلاکت ہے عورتوں کے لئے مردوں کی جانب سے۔ (11) امام احمد اور حاکم نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے والے دوسرے آسمان پر ہیں۔ ان میں ایک کا سر مشرق میں ہے اور اس کی ٹانگیں مغرب میں ہیں اور وہ انتظار میں ہیں کہ جب ان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صور میں پھونکیں۔ (12) امام عبد بن حمید، طبرانی نے الاوسط میں اور ابو الشیخ نے عظمۃ میں سند حسن کے ساتھ عبد اللہ بن حارث (رح) سے روایت کی ہے کہ میں عائشہ ؓ کے پاس تھا کہ ان کے پاس بڑے عالم کعب ؓ بھی بیٹھے تھے اسرافیل کا ذکر کیا گیا تو عائشہ ؓ نے فرمایا مجھے اسرافیل کے بارے میں بتاؤ کعب ؓ نے کہا آپ کے پاس علم ہے عائشہ نے کہا ہاں ہے مجھے بتاؤ انہوں نے کہا اس کے چار پر ہیں۔ دو پر ہوا میں ہیں اور ایک پر ہے کہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ اور ایک پر ان کے کاندھے پر ہے۔ اور قلم ان کے کان پر ہے۔ جب وحی نازل ہوئی تو قلم نے لکھا پھر فرشتوں نے پڑھا اور صور کا فرشتہ ایک زانو ٹیکے ہوئے اور دوسرا کھڑا کئے ہوئے ہے۔ صور مضبوطی سے پکڑے ہوئے۔ اپنی پیٹھ جو جھکائے ہوئے ہے۔ اس کی حکم دیا گیا ہے کہ جب تو اسرافیل کو دیکھے کہ اس نے اپنے دو پروں کو اکھٹا کرلیا ہے تو صور میں پھونک دے عائشہ نے فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ (13) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے صور کو شیشے کی طرح صاف سفید موتی سے پیدا فرمایا پھر عرش سے فرمایا صور کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔ پھر اللہ نے فرمایا ہوجا فورا اسرافیل (پیدا) ہوگیا اللہ نے اسرافیل کو صور لے لینے کا حکم دیا۔ اسرافیل نے صور کو پکڑ لیا صور میں تمام پیدا ہونے والی روحوں اور سانس لینے والے نفوس کی تعداد کے برابر سوراخ ہیں دو روحیں ایک سوراخ سے نہیں نکلیں گی صور کے وسط میں ایک بہت بڑا سوراخ ہے۔ آسمان زمین کے دائرہ کی طرح۔ اسرافیل اس دہانہ میں اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ پھر اللہ نے اسرافیل سے فرمایا میں نے تجھ کو صور کے ساتھ مقرر کردیا ہے پس تیرے ذمہ ہے صور پھونکنا اور چیخ مارنا۔ چناچہ اسرافیل داخل ہوگئے عرش کے اگلے حصہ میں اور اپنے دایاں پاؤں کو عرش کے نیچے داخل کرلیا اور بایاں قدم کو آگے بڑھالیا ہے۔ اور آنکھ نہیں چھپکائی جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا فرمایا اور انتظار کر رہے ہیں کہ کب ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ (14) امام ابو الشیخ نے ابوبکر ہذلی (رح) سے رواتی کیا کہ فرشتہ صور جس کو اس کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک قدم ساتویں زمین میں ہے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا ہے اور اسرافیل ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے۔ جس سے اللہ نے اس کو پیدا کیا کبھی اس نے آنکھ نہیں جھپکی تو وہ انتظار میں ہے کہ کب اس کو اشارہ ہوا اور وہ صور میں پھونکے۔ (15) امام ابن جریرا ور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یوم ینفخ فی الصور سے مراد پہلا نفخہ ہے کیا تو نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری یعنی پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت فاذا ھم قیام ینظرون (یعنی اچانک وہ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے) (16) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت یوم ینفخ فی الصور یعنی لفظ آیت فی الخلق یعنی جس دن خلق میں پھونکا جائے گا۔ (17) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت علم الغیب والشھادۃ یعنی جاننے والا غیب کا اور حاضر کا وہی ہے جو صور میں پھونکے گا۔ (18) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت علم الغیب والشھادۃ یعنی غیب اور شہادت کو جاننے والا وہ ہے۔ (19) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ شہادہ سے مراد ہے جو تم نے اس کی مخلوق میں سے دیکھ لیا اور غیب وہ ہے جو تم سے غائب ہے ان چیزوں میں سے جن کو تم نے نہیں دیکھا۔