Ayah 6:93(1) امام حاکم نے مستدرک میں شرجیل بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء الآیہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو یہ اپنے رضاعی بھائی عثمان کی طرف بھاگ گیا۔ اور اس کے پاس چھپا رہا یہاں تک کہ جب مکہ والوں کو ایطمنان ہوا تو اس نے اپنے لئے پناہ طلب کی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو خلف اعمی (رح) سے روایت کیا کہ ابن ابی سرح نبی ﷺ کے لئے وحی لکھتا تھا۔ مکہ کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے کہا اے ابن ابی سرح تو ابن ابی کبشہ کے لئے قرآن لکھتا ہے ؟ اس نے کہا میں لکھتا ہوں جسے میں چاہتا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا
(3) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح قریشی کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اسلام لایا اور نبی ﷺ کے لئے وحی لکھتا تھا۔ جب اس کو املا کرائی جاتی (اور کہا جاتا لکھ) لفظ آیت سمیعا بصیرا تو لکھتا لفظ آیت علیما حکیما اور جب کہا جاتا (لکھ) لفظ آیت علیما حکیما تو لکھتا لفظ آیت سمیعا علیما وہ شک میں مبتلا ہوگیا اور کافر ہوگیا اور کہا کہ محمد ﷺ کے پاس وحی آتی ہے تو میرے پاس بھی آتی ہے۔
(4) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور اس جیسے لوگوں کے بارے میں جنہوں نے اس کی مثل دعوی کیا۔ اور جس نے کہا لفظ آیت سانزل مثل ما انزل اللہ فرمایا یہ آیت عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن اظلم یعنی ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت مسیلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(6) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن اظلم کے بارے میں ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ آیت مسیلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(7) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت مسیلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جو مسجع کلام کرتا تھا اور اس کے ساتھ کہانت کرتا تھا۔ اور لفظ آیت سانزل مثل ما انزل اللہ کے الفاظ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئے جو نبی ﷺ کے لئے لکھتا تھا جب اس کو املا کرائی جاتی کہ (لکھ) لفظ آیت عزیز حکیم تو وہ لکھتا لفظ آیت غفور رحیم یعنی اس کو بدل دیتا تھا پھر آپ پر پڑھ دیتا۔ جب واپس جاتاتو کہتا کیا اچھی مساوات اور برابری ہے۔ پھر وہ اسلام سے لوٹ گیا اور قریش سے مل گیا۔
(8) امام عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب لفظ آیت والمرسلت عرفا فالعصفت عصفا نازل ہوئی تو نصر نے کہا جو بنی عبد اللہ میں سے تھا لفظ آیت والطاحنات طحنا والعاجنات عجنا اور (اس طرح کا) بہت قول تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء (الآیہ)
(9) امام ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے قرآن میں سے کوئی چیز مگر عمل کیا اس کے ساتھ ان لوگوں نے جو تم سے پہلے تھے۔ اور عنقریب وہ بھی عمل کریں گے جو تم سے بعد ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ اس آیت سے زیادہ ہو یعنی لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوقال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء اور اس قبلہ کے ماننے والون نے اس پر عمل نہیں کیا یہاں تک کہ المختار بن ابی عبیدہ آیا اور اس نے عمل کیا۔
(10) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیتیں ہیں جن کے ذریعہ کافر کو اس کی موت کے وقت خوشخبری دی جاتی ہے لفظ آیت ولو تری اذالظلمون سے لے کر لفظ آیت تشکرون تک۔
ہر شخص کو موت سے پہلے اپنا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے
(11) امام ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک دن ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور اس آیت لفظ آیت ولو تری اذالظلمون فی غمرت الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الھون بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق وکنتم عن ایتہ تستکبرون کی تلاوت فرمائی پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے نہیں ہے کوئی جان جو دنیا سے جدا ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ دیکھتی ہے اپنے ٹھکانہ کو جنت میں سے یا دوزخ میں سے پھر فرمایا اس وقت اس کے پاس دو صفیں فرشتوں کی ہوتی ہیں جو ہر چیز منظم کرتے ہیں مشرق اور مغرب کے درمیان گویا ان کے چہرے سورج کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں۔ وہ ان کی طرف ایسے ہی دیکھتا ہے جیسے ان کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف دوسری چیزوں کو دیکھتا ہے۔ اگرچہ تم دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہا ہے۔ ان میں ہر فرشتہ کے ساتھ کفن اور خوشبو ہوتی ہے اگر وہ مومن ہوتا ہے تو اس کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پاکیزہ جان نکل اللہ کی رضا مندی اور اس کی جنت کی طرف۔ اللہ تعالیٰ تیرے لیے اکراما ایسی چیز تیار کر رکھی ہے جو تیرے لئے دنیا و مافیھا سے بہتر ہے وہ برابر اس کو خوشخبری دیتے رہتے ہیں اور وہ گھیر لیتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ انتہائی نرمی اور بہت ہی مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں اس والدہ سے بڑھ کر جو اس کو اپنے بچے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کی روح ہر ناخن اور ہر جوڑ کے نیچے سے انتہائی نرمی کے ساتھ نکالتے ہیں باری باری سب اعضا مرجاتے ہیں۔ اور ہر عضو ایک ایک کر کے ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور اس پر یہ حالت آسان ہوتی ہے اگرچہ تم اس کو شدت کی حالت میں دیکھو یہاں تک کہ (روح) حلق تک پہنچ جاتی ہے تو اس طرح باہر آنا اس کے لئے انتہائی عزت و کرامت کا باعث ہوتا ہے جیسے کہ ایک بچے کے لئے رحم سے نکلنا باعث عزت و کرامت ہوتا ہے ان میں سے ایک فرشتہ تیزی سے آگے بڑھتا ہے کہ کون ان میں سے اس کو قبض کرے گا۔ مگر اس کے قبضہ کرنے کا اختیار ملک الموت کے پاس ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت لفظ آیت قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون تلاوت فرمائی پھر فرشتے اس روح کا سفید کفن میں لپیٹ لیتے ہیں کہ اسے اس طرح سینے سے لگا لیتے ہیں جیسے ایک عورت اپنے بچے کو اپنے ساتھ چمٹا لیتی ہے۔ پھر ان میں سے اس کی خوشبو پھوٹی پڑتی ہے جو مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے فرشتے اس کو خوشخبری دیتے ہیں اور کہتے ہیں خوش آمدید اے روح پرور ہوا اور پاکیزہ روح اے اللہ اس روح پر رحمت بھیج اور اس جسم پر رحمت بھیج۔ فرشتے اس روح کو لیکر اوپر چڑھتے ہیں اور اللہ کے لئے (بہت) مخلوق ہے ہوا میں ان کی گنتی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ان میں بھی ایسی پاکیزہ ہوا پھیل جاتی ہے جو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے وہ مخلوق اس پر رحمت کی دعائیں کرتی ہیں اور وہ اس کی خوشخبری دیتے ہیں اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر فرشتہ اس پر رحمت کی دعا کرتا ہے ہر آسمان میں جس آسمان سے یہ گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ الملک الجبار کی بارگاہ میں حاضر ہوجاتی ہے جبار عزوجل فرماتے ہیں مرحبا اے پاکیزہ جان اور (پاکیزہ) جسم جس سے تو نکل کر آئی ہے جب رب عزوجل کسی چیز کے لئے مرحبا فرماتے ہیں تو ہر چیز اس کے لئے کشادہ کردی جاتی ہے اور ہر تنگی اس سے ہٹا دی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس پاکیزہ روح کو لے جاؤ اور اس کو جنت میں داخل کردو اور اس کو اس کا ٹھکانہ دکھاؤ اور اس پر پیش کرو (ہر وہ چیز) جو ہم نے اس کے لئے نعمت اور کرامت میں سے تیار کی ہے اس کو لے کر زمین پر اتر جاؤ کیونکہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے اس (زمین سے) ان کو پیدا کیا اور اس میں ان کو لوٹاؤں گا۔ اور اس میں سے ان کو نکالوں گا دوسری مرتبہ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ وہاں سے نکلنے کو وہ اس پر بڑھ کر ناپسند کرتی ہے جتنا وہ جسم سے نکلتے وقت کرتی ہے اور وہ کہتی ہے مجھے کہاں لئے جا رہے ہو کیا اس جسم کی طرف جس میں میں تھی تو وہ کہتے ہیں ہم اس کا حکم کئے گئے ہیں تو تیرے لئے جانا ضروری ہے تو یہ فرشتے نیچے آتے ہیں اس کو لے کر ان کے غسل اور کفن پہنانے کے فارغ ہونے تک تو وہ اس روح کو داخل کردیتے ہیں جسم اور اس کفن کے درمیان جو کلمہ اللہ تعالیٰ نے کلام کے لئے پیدا کیا ہے۔ کہ جس کے ذریعہ دوست یا کوئی اور گفتگو کرے تو وہ سنتا ہے لیکن اس کے لئے جواب دینے کی اجازت نہیں ہوتی اگر وہ لوگوں کو اظہار محبت کرتا سن لے ان میں سے جو سب سے زیادہ اس کو محبوب تھا۔ اور اس کے عزیزوں رشتہ داروں میں سے تو اس پر کہتا ہے کہ تم ٹھہر جاؤ تم جلدی نہ کرو اور وہ سنتا ہے ان کے جوتوں کی آہٹ کو اور ان کے ہاتھوں کے جھاڑنے کو جب وہ لوگ اس سے لوٹ جاتے ہیں (دفن کے بعد) پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں انتہائی غضب ناک اور سخت گیر جن کو منکر اور نکیر کہا جاتا ہے ان کے ساتھ لوہے کے گرز ہوتے ہیں اگر جن اور انسان سب اس پر جمع ہوجائیں تو ان کو نیچا نہیں دکھا سکتے اور ان کے مقابلے میں یہ سب قلیل اور تھوڑے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں اللہ کے حکم سے اٹھ کر بیٹھ جا۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہے وہ اس وقت ایسی مخلوق کو دیکھتا ہے جو انتہائی خوفناک اور قابل نفرت ہوتی ہے اور اسے ایسی طرف منسوب کرتا ہے جو اس نے اپنی موت کے وقت دیکھا تھا۔ وہ اس سے کہتے ہیں تیر ا رب کون ہے وہ کہتا ہے اللہ پھر وہ کہتا ہے تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہے گا اسلام۔ پھر اس وقت وہ اس کو سخت جھڑکتے ہیں پھر وہ کہتے ہیں تیرا نبی کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے محمد ﷺ اور وہ پسینہ سے شرابور ہوجاتا ہے کہ جس سے اس کے نیچے کی مٹی بھیگ جاتی ہے اور اس کا پاکیزہ پسینہ مشک سے زیادہ خوشبودار ہوتا ہے۔ اس وقت آسمان سے ایک آواز دی جاتی ہے۔ ہلکی آواز کہ میرے بندے نے سچ کہا اور اس کو اس کا سچ بولنا نفع دے گا۔ پھر اس کی قبر کو حد کی نگاہ تک کھلا کردیتے ہیں۔ اور اس کے لئے پھول جمع کردیئے جاتے ہیں۔ اور اس کے لئے ریشم کو بچھا دیتے ہیں۔ اگر قرآن میں سے اس کے پاس کوئی چیز ہوتی ہے تو اس کی روشنی کے لئے کافی ہوتی ہے اور اگر اس کے پاس نہ ہو تو اس کے لئے ایک روشنی سورج کی طرح اس کی قبر میں رکھ دی جاتی ہے اور اس کے لئے جنت کے دروازے اور روشندان کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور وہ اس سے اپنے ٹھکانہ کو دیکھتا ہے جو اس نے آسمان پر چڑھتے وقت دیکھا تھا پھر اس سے کہا جاتا ہے اے آنکھوں کی ٹھنڈک سوجا، پھر وہ اٹھائے جانے کے دن تک سویا رہے گا۔ مگر اس کی یہ نیند ایسے شخص کی نیند کی طرح ہوگی جو چاہت کے ساتھ سوتا ہے۔ اس سے ابھی تک پوری طرح سیراب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ اس میں اپنی نیند میں رہے گا قیامت کے دن تک۔
اگر وہ اس کے علاوہ (یعنی کافر) ہے جب ملک الموت نازل ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ دو صفیں فرشتوں کی صف بستہ ہوتی ہیں اور مشرق اور مغرب کے درمیان ساری زمین کو گھیر لیتے ہیں اس کی آنکھ تیزی سے اوپر کی طرف اٹھ جاتی ہے پھر وہ ان کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھتا اگرچہ تم دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ تمہاری طرف دیکھتا ہے اور (یہ فرشتے) اس پر بہت سختی کرتے ہیں اگرچہ تم دیکھتے ہو کہ وہ اس پر آسانی کرتے ہیں مگر وہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں اے ناپاک روح نکل۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے عبرت ناک سزا اور عذاب اور شدت اور سختی کے ساتھ ہر ناخن اور ہر عضو سے (ہر عضو) ایک ایک کر کے مرجاتا ہے۔ اور اس کی سانس اتنی تیزی سے نکلتی ہے جیسے کانٹے دار سلاخ اون سے نکلتی ہے یہاں تک کہ روح اس کے حلق تک پہنچ جاتی ہے۔ جسم سے نکلتے وقت اس کی حالت اس بچے کی حالت سے زیادہ مکروہ اور ناپسندیدہ ہوتی ہے جو رحم سے نکلتے وقت اس کی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فرشتے اس طرح کے عذاب اور سزا کی خوشخبری بھی سنا رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ (روح) اس کے حلق تک پہنچ جاتی ہے۔ اس میں سے کوئی فرشتہ ایسا نہیں ہوتا جو اس سے بچتا ہو اس سے کراہت کرتے ہوئے پھر ملک الموت اس کی (روح) کو قبض کرلیتا ہے اس فرشتے سے جو اس پر مقرر تھا میں گمان کرتا ہوں کہ یہ پھر فرمایا (پھر اس کی روح کو لپیٹ لیتے ہیں) بدبو اور دھاری دار کپڑے کے ٹکڑے میں جو ساری مخلوق میں زیادہ بدبودار اور کھردرا ہوتا ہے اور اس کی ایسی بدبو پھیل جاتی ہے جو مخلوق سے زیادہ مکروہ پھر ناپسندیدہ ہے۔ اور ملک الموت اپنی ناک کو ڈھانپ لیتے ہیں دوسرے فرشتے بھی اپنی ناکوں کو بند کردیتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں اے اللہ اس روح کو اور اس جسم کو لعنت کر جس سے یہ روح نکلتی ہے۔ جب یہ روح اوپر چڑھتی ہے تو آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں تو ملک الموت اس کو ہوا میں چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین سے قریب ہوتی ہے تو اپنے نشان پر تیزی سے نیچے گرتی ہے پھر اس کو ایک لوہے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اس کے ساتھ تین مرتبہ ایسا کیا جاتا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت ومن یشرک باللہ فکانما خرمن السماء فتخطفہ الطیر اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق اور سحیق سے مراد ہے دور پھر وہ اس کی طرف پہنچتی ہے اور ملک الجبار کے سامنے کھڑی ہوتی ہے وہ فرماتے ہیں اے ناپاک روح تیرے لئے کوئی خوش آمدید نہیں اور نہ اس جسم کو جس سے تو نکلی ہے۔ پھر وہ فرماتے ہیں اس کو جہنم کی طرف لے جاؤ اور اس میں اس کو اس کا ٹھکانہ دکھاؤ اور اس پر پیش کرو ہر وہ چیز جو اس کے لئے عذاب اور عبرت ناک سزائیں اور بیڑیاں تیار کی گئی ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کو زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سے میں نے ان کو پیدا کیا اور اس میں ان کو لوٹا دوں گا اور اسی میں سے ان کو نکالوں گا دوسری مرتبہ لوگوں کے فارغ ہونے کے بعد فرشتے اس کو لے کر نیچے اتر آتے ہیں اور اس روح کو اس کے جسم اور اس کفنوں کے درمیان داخل کردیتے ہیں اس کے دوست رشتہ دار اور دوسرے افراد جو بھی کلام کرتے ہیں تو وہ اس کو سنتا ہے مگر اس کو اجازت نہیں دی جاتی جواب دینے کی اور اگر سنے اس کو لوگوں میں زیادہ عزت والا آدمی اور اس کی طرف زیادہ محبت رکھنے والا آدمی تو وہ کہے گا کہ ان کو نکالو اس کے ساتھ اور جلدی کرو اور اس کو جواب دینے کی اجازت دیجائے تو یقینی طور پر وہ اس پر لعنت کرے گا اور وہ دوست رکھے گا کہ اس کو اسی حال پر چھوڑ دیا جائے جس پر وہ ہے اور قیامت کے دن تک اسے قبر کے گڑھے میں نہ پہنچایا جائے۔ جب وہ قبر میں داخل کردیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو کالے فرشتے نیلی آنکھوں والے غضبناک اور تیز خو آتے ہیں اور ان کے ساتھ لوہے کے ہتھوڑے زنجیریں طوق اور گرز ہوتے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں اٹھ کر بیٹھ جا اللہ کے حکم سے۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے کفن گرپڑتے ہیں اور وہ اپنے پاس خوفناک صورت دیکھتا ہے اور بھول جاتا ہے ان کو جو اس سے پہلے اس نے دیکھا تھا۔ وہ اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون ہے۔ وہ کہتا ہے تو وہ دونوں اس کو اس وقت بہت زیادہ دہشت زدہ کرتے ہیں اس کو پکڑ کر لوہے کے ہتھوڑوں سے اس کو مارتے ہیں اس میں سے کوئی عضو باقی نہیں رہتا جس پر ہتھوڑا واقع نہ ہو وہ اس وقت چیختا ہے اور اس کی چیخ کو ہر مخلوق سنتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی فرشتے یا اس کے علاوہ ہر مخلوق سوائے جنات اور انسانوں کے اور وہ (فرشتے) اس پر یکبارگی لعنت کرتے ہیں اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر جنات اور انسان جمع ہوجائیں تو ان دو کے ہتھوڑوں کے مقابلے میں تو یہ انہیں زیر نہ کرسکیں بلکہ سب ان کے مقابلے میں قلیل اور تھوڑے ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں اٹھ جا اللہ کے حکم سے تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جاتا ہے وہ کہتے ہیں تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا۔ وہ کہتے ہیں تیرا نبی کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میں نے لوگوں سے سنا وہ کہتے ہیں کہ وہ محمد ﷺ ہے۔ وہ کہتے ہیں اب تو کیا کہتا ہے ؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا وہ کہتے ہیں کہ تو نے (کچھ بھی) نہیں جانا۔ اور وہ اس وقت پسینہ پسینہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس کے نیچے مٹی بھیگ جاتی ہے۔ البتہ وہ بدبو ہوتی ہے۔ اس بدبودار لاش (کی طرح) جو تمہارے اندر ہوتی ہے۔ اور اس پر قبر تنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔ وہ فرشتے اس سے کہتے ہیں سو جا جاگنے والے کی نیند کی طرح سانپ اور بچھو بختی اونٹ کی کیچلیوں کی طرح اس کو کاٹتے رہتے ہیں پھر اس کے لئے دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس میں سے آگ میں اپنا ٹھکانہ دیکھتا ہے جہنم کی گرم ہوائیں اس پر چلتی ہیں اور آگ اس کے چہرے کو جھلستی رہے گی صبح اور شام قیامت کے دن تک۔
(12) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غمرات الموت سے مراد ہے سکرات الموت۔
(13) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت والملئکۃ باسطوا ایدیھم یعنی یہ موت کے وقت کی کیفیت ہے اور بسط سے مراد ہے مارنا۔ وہ فرشتے ان کے چہروں اور ان کے پیٹھوں کو ماریں گے۔
(14) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت والملئکۃ باسطوا ایدیھم سے ملک الموت (علیہ السلام) مراد ہیں۔
(15) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت والملئکۃ باسطوا ایدیھم یعنی عذاب کے ساتھ فرشتے اپنے ہاتھوں کو پھیلاتے ہیں۔
(16) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ ملک الموت کے لئے فرشتوں میں بہت سے مددگار ہوتے ہیں پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ولو تری اذالظلمون فی غمرت الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم
(17) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ وہ فرشتے جو لوگوں سے ملتے ہیں وہی ان کو فوت کرتے ہیں اور ان کے لئے ان کی عمریں لکھتے ہیں جب وہ مقرر دن آجاتا ہے تو اسے موت دے دیتے ہیں اور اس کی روح کو کھینچے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ولو تری اذالظلمون فی غمرت الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم اخرجوا انفسکم وھب سے کہا گیا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا لفظ آیت قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم فرمایا ہاں فرشتے جب کسی جان کو فوت کرتے ہیں تو اس کو ملک الموت کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ عاقت یعنی نگران کی طرح ہے۔ یعنی وہ سردار جس کے ماتحت افراد کام کرکے اس تک پہنچا دیتے ہیں۔
(18) امام طستی اور ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت عذاب الھون کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد دائمی اور شدید رسوائی اور ذلت ہے۔ پوچھا گیا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ کیا تو نے شاعر کو کہتے ہوئے نہیں سنا۔
انا وجدنا بلاد اللہ واسعۃ تنجی من الذل والمخزات والھون
ترجمہ : ہم نے پایا اللہ کے شہروں کو کشادہ جو تم کو نجات دیتے ہیں ذلت سے رسوائی سے اور دائمی شدت سے۔
(19) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت عذاب الھون سے مراد ہے ذلت والا عذاب یعنی وہ عذاب دیا جائے گا جس میں ذلت اور شہرت ہوگی۔
(20) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت عذاب الھون یعنی وہ عذاب جو ان کو ذلیل کرے گا۔
Ayah 6:94میدان محشر میں حاضری کی کیفیت
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نضر بن حارث نے کہا عنقریب میرے لئے لات اور عزی سفارش کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ولقد جئتمونا فرادی ساری آیت۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی لفظ آیت ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اور عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہائے افسوس کہ بلاشبہ مردوں اور عورتوں کو اکھٹا اٹھایا جائے گا۔ ان کا بعض بعض کی شرمگاہ کو دیکھے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں سے ہر ایک آدمی کے لئے ایک حال ہوگا جو اسے بےنیاز کردے گا۔ مرد عورتوں کی طرف اور عورتیں مردوں کی طرف نہ دیکھیں گی اور ایک دوسرے سے بالکل غافل ہوں گے۔
(3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ پیدا ہونے کے دن کی طرح تم ہمارے پاس اکیلے آؤ گے یعنی پیدا ہونے کے دن کے بعد سے جو اس میں نقصان ہوگا وہ ہر شے اس کی طرف واپس لوٹا دی جائے گی۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے جمع کئے جائیں گے۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وترکتم ما خولنکم یعنی مال سے اور خادموں سے لفظ آیت ورآء ظھورکم یعنی دنیا میں چھوڑ آئے۔
(6) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ابن آدم قیامت کے دن لایا جائے گا گو یا کہ وہ ایک بڑا متکبر ہوگا اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہاں ہے تو نے کیا جمع کیا ؟ وہ کہے گا اے میرے رب میں نے اس کو جمع کیا اور اس کو زائد مقدار میں چھوڑ دیا تو (مال) تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ کہاں ہے جو اپنی ذات کے لئے آگے بھیجا وہ اور وہ آگے بھیجا ہوئی کسی چیز کو نہ دیکھے گا۔ اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ لفظ آیت ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ وترکتم ما خولنکم ورآء ظھورھم
(7) امام حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) عبد اللہ بن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن زیاد کے پاس ابوالاسود دیلمی اور جبیربن حیۃ موجود تھے۔ اس حرف لفظ آیت لقد تقطع بینکم کو انہوں نے ذکر کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا میرے اور تیرے درمیان (فیصلہ کرنے والا) وہ شخص ہوگا جو ہم پر پہلے داخل ہوگا تو یحییٰ بن معمر داخل ہوئے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ” بینکم “ رفع کے ساتھ ہے۔
(8) امام ابو الشیخ نے الاعرج سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت لقد تقطع بینکم رفع کے ساتھ ہے تمہاری رشتہ داریاں اور تعلقات (ختم ہوجائیں گے)
(9) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت لقد تقطع بینکم نصب کے ساتھ وہ رشتے جو دنیا میں تمہارے درمیان تھے وہ ٹوٹ گئے۔
(10) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لقد تقطع بینکم یعنی ان کے درمیان جو رشتہ داریاں تھیں وہ ٹوٹ گئیں۔
(11) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب حضرت عمر ؓ نے ام کلثوم بنت علی سے شادی کی اور اپنے دوستوں کو اس پر اکٹھا فرمایا تو سب دوستوں نے ان کو مبارک باد دی اور ان کے لئے دعا کی حضرت عمر نے فرمایا میں نے شادی کی ہے مجھے عورتوں کی طرف کوئی حاجت نہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ہر نسب اور تعلق کٹ جائے گا۔ سوائے میرے تعلق اور میرے نسب کے تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان نسبت قائم ہوجائے۔
(12) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لقد تقطع بینکم وضل عنکم ما کنتم تزعمون سے مراد ہے کہ تمہارے سارے رشتے ٹوٹ گئے اور جن رشتہ داروں اور لوگوں کے بارے میں تم دعوی کیا کرتے تھے وہ تم کھو گئے۔
(13) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لقد تقطع بینکم یعنی تمہارے ایک دوسرے سے دنیا میں تعلق ٹوٹ گئے۔
Ayah 6:95(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی پیدا کیا گھٹلی کو اور دانے کو۔
(2) امام عبد الرزاق، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی پھاڑتا ہے دانے کو اور گھٹلی کو سبزے سے۔
(3) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی وہ دو پھٹن جو دانے اور گھٹلی میں پائی جاتی ہے۔
(4) سعید بن منصور، اور ابن منذر نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی وہ پھٹن جو گھٹلی اور دانے میں ہوتی ہے۔
(5) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الحب والنوی یعنی پھاڑنے والا ہے دانے کو کونپل سے اور پھاڑنے والا ہے گھٹلی کو کھجور سے۔
(6) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یخرج الحی من المیت و مخرج المیت یعنی کھجور کو گھٹلی سے اور خوشے کو دانے سے لفظ آیت و مخرج المیت من الحی یعنی گھٹلی کو کھجور سے اور دانے کو خوشے سے۔
(7) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی کہ لوگوں کو زندہ کیا نطفہ سے اور نطفہ جو مردہ ہوتا ہے وہ نکلتا ہے زندہ لوگوں سے اور اسی طرح جانوروں اور نباتات کا سلسلہ بھی اس طرح ہوتا ہے۔ (مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو پیدا فرماتے ہیں)
(8) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فانی تو فکون یعنی کس طرح تم جھوٹ بولتے ہو۔
(9) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فانی تو فکون یعنی کہاں تم پھرے جاتے ہو۔
(10) ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فانی تو فکون یعنی کس طرح تمہاری عقلیں اس سے گمراہ ہوتی ہیں۔
Ayah 6:96(1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی پیدا کیا رات کو اور دن کو۔
(2) ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی دن کے وقت سورج کی روشنی ہے اور رات کے وقت چاند کی روشنی ہے۔
(3) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح سے مراد ہے فجر کا روشن ہونا۔
(4) عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی صبح کو نکالنا ہے۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فالق الاصباح یعنی دن کے نور کو نکالنے والا۔
(6) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعل الیل سکنا یعنی آرام کرتا ہے اس میں ہر پرندہ اور جانور۔
(7) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت والشمس والقمر حسبانا یعنی گنتی دنوں کی مہینوں کی اور سالوں کی۔
(8) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت والشمس والقمر حسبانا یعنی سورج کو اور چاند گھومتے ہیں حساب سے۔
(9) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت حسبانا یعنی روشنی۔
(10) امام ابو الشیخ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت والشمس والقمر حسبانا سے مراد ہے کہ سورج اور چاند خاص حساب کے ساتھ ہیں جب ان کے مقرر دن گزر جائیں گے تو یہ آخری زمانہ ہوگا اور پہلی بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت کی ابتداء ہوگی۔
(11) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں سند واہی کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو پیدا فرمایا آسمان کے نیچے تین فرسخ کی مقدار پر اور وہ ایک موج ہے روکی ہوئی جو قائم ہے ہوا میں اللہ کے حکم سے۔ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکتا وہ جاری ہے تیر کی تیزی کی طرح اس میں سورج چاند اور ستارے چلتے ہیں اس کو فرمایا لفظ آیت کل فی فلک یسبحون (الانبیاء آیت 33) فلک ایک پہیہ کا گھومنا ہے اس سمندر کی گہرائی میں جب اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں کہ سورج گرہن ہوجائے تو سورج گر جاتا ہے پہیہ سے اور اس سمندر کی گہرائی کے ظاہر کرنے کا واقع ہوجاتا ہے۔ جب ارادہ فرماتے ہیں بڑی نشانی پر تو سارے کا سارا نیچے گر جاتا ہے اور پہیہ پر اس میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ اور جب اس سے کم کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس میں سے آدھا یا تہائی یا دو تہائی پانی میں واقع ہوجاتا ہے۔ اور یہ سارا باقی رہتا ہے پہیہ پر جو فرشتے مقرر ہیں وہ دو گروہوں میں مقسم ہیں ایک گروہ سورج میں مشغول ہوجاتا ہے اور اس کو پہیہ پر جاری کرتا ہے۔ اور ایک گروہ پہیہ میں مشغول ہوجاتا ہے اور اس کو سورج کی طرف جاری کرتا ہے۔ جب وہ غروب ہوتا ہے تو اس کو ساتویں آسمان کی طرف اٹھا لیا جاتا ہے فرشتوں کی اڑان کی تیزی میں۔ اور عرش کے نیچے روک لیا جاتا ہے۔ پھر وہ فرشتے اجازت طلب کرتے ہیں کہ اسے کہاں سے طلوع کرنا ہے۔ پھر اس کو لے کر چلتے ہیں اس جگہ میں جو ساتویں آسمان اور جنت کے درجات میں سے نچلے کے درمیان ہوتی ہے۔ فرشتوں کی اڑان کی تیزی میں پھر وہ نیچے اترتا ہے مشرق کی طرف ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف جب وہ اس آسمان دنیا کی طرف پہنچتا ہے تو اس وقت صبح پھوٹتی ہے۔ اور جب پہنچتا ہے آسمان کی اس جانب کی طرف تو اس وقت سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مشرق کی جانب تاریکی کے پردے پیدا فرمائے اور اس کو ساتویں سمندر پر رکھا۔ دنیا کی راتوں کے برابر جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا فرمایا قیامت کے دن تک جب سورج کے غروب کا وقت ہوتا ہے تو وہ فرشتہ متوجہ ہوتا ہے جو رات کو مقرر کیا جاتا ہے۔ وہ اس پردہ کی ظلمت سے ایک مشت ہے غروب آفتاب کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اور وہ اپنی انگلیوں کے درمیان سے اس اندھیرے کو بھیجتا رہتا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے اور وہ نگرانی کرتا ہے شفق جب شفق غیب ہوجائے تو سارے اندھیرے کو بھیج دیتا ہے۔ پھر وہ اپنے پروں کو پھیلاتا ہے تو وہ پہنچ جاتے ہیں زمین کے دونوں قطروں اور آسمان کے کناروں کو پس اس کے پروں کے سبب رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے۔ جب صبح قریب ہوتی ہے تو اپنے پروں کو لپیٹ لیتا ہے پھر وہ سارے اندھیرے کو ملا دیتا ہے۔ اس کے بعض کو بعض کی طرف اپنی ہتھیلیوں سے مشرق کی جانب سے اور اس کو رکھ دیتا ہے مغرب کی جانب ساتویں سمندر پر۔
(12) امام ابو الشیخ نے سند واہ کے ساتھ سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رات کو ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جس کو شراھیل کہا جاتا ہے جب رات کا وقت قریب آجائے تو ایک کالا دھاگہ پکڑ کر اس کو مغرب کی جانب لٹکا دیتا ہے۔ جب اس کی طرف سورج دیکھتا ہے تو اس پر آنکھ جھپکنے سے بھی زیادہ ریزی واجب ہوجاتی ہے۔ اور سورج کو حکم دیا گیا ہے کہ غروب نہ ہو یہاں تک کہ اس دھاگہ کو نہ دیکھے۔ جب غروب ہوجاتا ہے تو رات ہوجاتی ہے۔ وہ دھاگہ برابر لٹکا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ دوسرا فرشتہ آتا ہے جس کو ہر اھیل کہا جاتا ہے۔ سفید دھاگہ کو لے کر اور اس کو طلوع ہونے سے پہلے لٹکا دیتا ہے۔ جب اس کو شراھل دیکھتا ہے تو وہ اپنا دھاگہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اور جب سورج سفید دھاگہ کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے ساتھ طلوع ہوجاتا ہے اور اس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ طلوع نہ ہو یہاں تک کہ سفید دھاگہ دیکھ لے۔ جب طلوع ہوجاتا ہے تو دن آجاتا ہے۔
ذاکرین اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں
(13) امام حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ محبوب اللہ کے بندوں میں سے اللہ کی طرف وہ لوگ ہیں جو نگہداشت کرتے ہیں سورج اور چاند کی اللہ کے ذکر کے لئے۔
(14) امام خطیب نے کتاب النجوم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کی طرف وہ لوگ ہیں جو نگہداشت کرنے والے ہیں سورج اور چاند کی یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اللہ تعالیٰ کو اس کے بندوں کے نزدیک محبوب بنا دیتے ہیں۔
(15) امام ابن شاھین، طبرانی، حاکم اور خطیب نے عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں بہترین بندے وہ ہیں جو نگہداشت کرتے ہیں سورج اور چاند کی اور ستاروں کی اور سالوں کی اللہ کی یاد کے لئے۔
(16) امام احمد نے زھد میں اور خطیب نے ابو داؤد ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کی طرف وہ لوگ ہیں جو سورج اور چاند کی رعایت یعنی نگہداشت کرتے ہیں۔
(17) امام حاکم نے تاریخ میں اور دیلمی نے کمزور سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں اس دن جگہ دیں گے جب ان کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ امانت دار تاجر عادل و امام اور سورج کی نگہداشت کرنے والا دن کو۔
(18) عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے زوائدالزھد میں سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے جس دن ان کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ ایک آدمی جو اپنے بھائی سے ملتا ہے اور کہتا ہے میں تجھ سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ اور دوسرا بھی اسی طرح کہتا ہے اور وہ آدمی جو اللہ کا ذکر کرتا ہے اور اللہ کے خوف سے اس کی آنکھیں بہہ پڑتی ہیں اور وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے اپنے دائیں ہاتھ سے اور اس کو چھپاتا ہے بائیں ہاتھ سے اور وہ آدمی جو صدقہ کرتا ہے اپنے دائیں ہاتھ سے اور اس کو چھپاتا ہے بائیں ہاتھ سے اور وہ آدمی جس کو کوئی عورت بڑے حسب و جمال والی اپنی ذات کی طرف اس کو بلائے (یعنی برے کام کے لئے) تو وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس کا دل مسجدوں سے لگا ہوا ہے اس کی محبت کی وجہ سے اور وہ آدمی جو سورج کی نگہداشت رکھتا ہے نماز کے اوقات کے لئے اور وہ آدمی جب بات کرتا ہے تو علم کے ساتھ بات کرتا ہے اور جب چپ ہوتا ہے تو حلم و برباری کی بنا پر چپ ہوتا ہے۔
(19) امام ابن ابی شیبہ نے مسلم بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی دعاؤں میں یہ دعا تھی۔
لفظ آیت اللھم فالق الصباح وجاعل اللیل سکنا والشمس والقمر حسبانا اقض عنی الدین واعننی من الفقر وامتعننی بسمعی وبصری وقونی فی سبیلک
ترجمہ : اے اللہ صبح کو نکالنے والے اور رات کو سکون بنانے والے سورج اور چاند کو حساب کے ذریعے بنانے والے۔ مجھ سے قرض کو دور کردے۔ اور فقیری سے مالدار بنادے اور مجھے نفع پہنچا میرے کانوں سے اور میری آنکھوں سے اور اپنے راستے میں مجھے طاقتور بنا دے۔
Ayahs 6:97–98(1) امام ابن بای حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھوالذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی ظلمت البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ آدمی رات سے بھٹک جاتا ہے اس حال میں کہ اندھیرے میں ہوتا ہے اور راستے سے ہٹ جاتا ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور خطیب نے کتاب النجوم میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ سیکھو تم ستاروں سے وہ چیز جو تم کو راستہ دکھا دے تمہاری خشکی میں اور تمہاری تری میں پھر رک جاؤ۔ بلاشبہ اللہ کی قسم ان کو نہیں پیدا کیا گیا۔ مگر آسمان کی زینت کے لئے شیطانوں کو مارنے کے لئے۔ اور نشانیوں کے لئے جس سے آدمی راہ پاتا ہے۔ اور نسب میں سے سیکھو جو تم اس کے ذریعہ اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرسکو۔ اور سیکھو تم جو حلال کی گئی ہے تمہاری لئے عورتوں میں سے اور جو تم پر حرام کی گئی ہیں پھر رک جاؤ۔
(3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور خطیب نے کتاب النجوم میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو تین باتوں کے لئے بنایا ہے۔ اس کی بنایا ہے آسمان کی زینت کے لئے اور ان کو رائے کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔ اور اس کو بنایا شیطانوں کو مارنے کے لئے اور جو شخص اس کے علاوہ اس میں سے کسی اور چیز کو لے گا تو اس نے اپنے رائے سے کہا اور اس نے اپنے حصے اور بخت کو نقصان پہنچایا اور اپنے نصیب کو ضائع کیا اور اسے حاصل کرنے کا تکلف کیا جس کے سبب کوئی علم حاصل نہیں ہوسکتا۔ اور لوگ جاہل اور ناواقف ہیں اللہ کے حکم کے ساتھ اور ان ستاروں میں غیب کی باتوں بتانے کو اختیار کرلیا۔ جس نے فلاں فلاں ستارے کے سبب شادی کی۔ اس کا انجام اس طرح ہوگا۔ اور جس نے فلاں فلاں ستارہ کے سبب سفر کیا اس کا انجام اس طرح اور اس طرح ہوگا قسم ہے میری عمر کی کوئی ستارہ ایسا نہیں ہے کہ جس سے کوئی سرخ یا کالا یا لمبا یا ٹھگنا یا حسن و بدصورتی پیدا کیا جاتا ہے۔ اگر کسی ایک کے پاس غیب کا علم ہوتا تو اس کو آدم (علیہ السلام) ضرور جانتے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے نام سکھائے۔
(4) امام ابن مردویہ اور خطیب نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سیکھو تم ستاروں میں سے وہ چیز کہ جس سے تم راہ پا جاؤ خشکی اور دریا کے اندھیروں میں پھر رک جاؤ۔
(5) امام خطیب نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کچھ حرج نہیں کہ آدمی ستاروں سے وہ چیز سیکھ لے جو اس کو راد دکھائے خشکی میں اور تری میں اور چاند کی منزلوں کا بھی علم حاصل کرے۔
(6) ابن ابی حاتم اور مرہبی نے فضل العلم میں حمید الشامی (رح) سے روایت کیا کہ علم نجوم بھی آدم (علیہ السلام) کا علم ہے۔
(7) امام مرہبی نے حسن بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ وہ علم ہے کہ لوگوں نے اس سے ستاروں کو ضائع کردیا۔
(8) امام خطیب نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ستاروں کے حساب کے بارے میں پوچھا اور وہ آدمی آپ کو بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگا۔ عکرمہ ؓ نے فرمایا میں نے ابن عباس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا یہ ایسا علم ہے کہ جس کے ذریعہ لوگ عاجز ہوگئے اور میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ میں اس کو سیکھوں خطیب ؓ نے فرمایا کہ ان کی مراد وہ مباح قسم ہے جو عرب کے لوگ اس کے ساتھ خاص ہوتے ہیں (اس کے سیکھنے میں کوئی حرج نہیں)
(9) امام زبیر بن نے موفقیات میں عبد اللہ بن حفص (رح) سے روایت کیا کہ عرب لوگوں میں کہانت قیافہ شناسی پرندے کو اڑا کر شگون لینا اور ستاروں کا علم اور حساب کا رواج عام تھا۔ اسلام نے کہانیت کو ختم کردیا۔ اور اسلام کے بعد میں باقی خصلتیں باقی رہیں۔
(10) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمۃ میں قرظی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم اہل زمین میں سے کسی ایک کے لئے آسمان میں کوئی ستارہ نہیں لیکن پیچھے لگتے تھے کہانت کی باتوں کے اور ستاروں کو بیماری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
(11) امام ابوداؤد اور خطیب نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے خطبہ دیا اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا اما بعد کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ سورج گرہن اور چاند گرہن اور ان ستاروں کا زوال ہوجانا اپنی جگہ سے زمین والوں میں سے کسی بڑے آدمیوں کی موت کا سبب اٹھتا ہے وہ بلاشبہ انہوں نے جھوٹ کہا لیکن یہ اللہ کی آیات ہیں۔ اس کے ذریعہ اس کے بندے آزمائے جاتے ہیں تاکہ وہ دیکھے کون ان میں سے اس کے لئے توبہ کرتا ہے۔
(12) امام خطیب نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ستاروں کے بارے میں سوال نہ کرو۔ اور قرآن کی تفسیر اپنے رائے سے بیان نہ کرو۔ اور صحابہ میں سے کسی کو گالی نہ دو ۔ کیونکہ یہ خالص ایمان ہے۔
(13) امام ابن مردویہ اور خطیب نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو ستاروں میں غور وفکر سے منع فرمایا اور مجھ کو اچھی طرح پاک علم حاصل کرنے کا حکم فرمایا۔
(14) امام ابن مردویہ، مرہبی اور خطیب نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ستاروں میں غوروفکر سے منع فرمایا۔
(15) امام خطیب نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو ستاروں میں غوروفکر کرنے سے منع فرمایا۔
(16) امام طبرانی، ابو نعیم نے حلیہ میں اور خطیب نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ۔ جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ۔ اور جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو رک جاؤ۔
(17) امام ابو یعلی، ابن مردویہ اور خطیب نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اپنی امت پر دو چیزوں کو خوف رکھتا ہوں کہ تقدیر کو جھٹلانا اور ستاروں کی تصدیق کرنا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے مہارت حاصل کرنا ستاروں (کے علم) میں۔
(18) امام ابن ابی شیبہ، ابو داؤد اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ستاروں کے علم میں سے کچھ حاصل کیا۔ اس نے جادو کا ایک حصہ حاصل کرلیا۔ جتنا اس میں اضافہ ہوگا اتنا یہ بھی بڑھتا جائے گا۔
(19) امام عبد الرزاق نے مصنف میں ابن ابی شیبہ اور خطیب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا وہ قوم جو ستاروں میں دیکھتی ہے اور برجوں کا حساب لگاتی ہے میں ایسا کرنے والوں کو اخلاق والوں میں سے گمان نہیں کرتا۔
(20) امام خطیب نے میمون بن مھران (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ مجھ کو وصیت کیجئے فرمایا میں تجھ کو تقوی کی وصیت کرتا ہوں اور بچ تو علم نجوم سے۔ کیونکہ وہ بلاتا ہے کہانت (یعنی غیب کی خبریں بتانے) کی طرف اور تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی کا تذکرہ کرنے سے بچ مگر خیر کے ساتھ (اس کا تذکرہ کر) ورنہ اللہ تعالیٰ تجھ تو اوندھے منہ جہنم میں گرا دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ دین کو ظاہر فرمایا اور تقدیر کے بارے میں کلام کرنے سے بچ۔ کیونکہ جو اس میں دو آدمی نہیں کلام کرتے مگر دونوں کو گناہ ملتا ہے۔ یا ان دونوں میں سے ایک کو گناہ ملتا ہے۔
(21) خطیب نے کتاب النجوم میں ایک ایسی سند کے ساتھ جسے ضعیف قرار دیا عطاء (رح) سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ سے کہا گیا کیا ستاروں کی کوئی اصل ہے۔ فرمایا ہاں انبیاء میں سے ایک نبی جس کو یوشع بن نون کہا جاتا تھا۔ اس کی قوم نے اس سے کہا ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو ہم کو مخلوق کی پیدائش اور اس کی موت کے بارے میں بتائیے اللہ تعالیٰ نے سورج چاند اور ستاروں کی طرف وحی بھیجی کہ پانی پر چلیں پھر یوشع بن نون کی طرف وحی کی کہ وہ اور اس کی قوم پہاڑ پر چڑھ جائے۔ وہ لوگ پہاڑ پر چڑھ گئے اور پانی پر کھڑے ہوگئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے مخلوق کی پیدائش ان کی موت کو پہچان لیا۔ سورج چاند اور ستاروں کے چلنے اور رات اور دن کے اوقات کے سبب ان میں سے (ہر) ایک نے جان لیا کہ وہ کب مرے گا اور کب مریض ہوگا۔ اور کس کی اولاد ہوگی۔ اور کس کی اولاد نہ ہوگی راوی نے کہا کہ یہ لوگ اپنے زمانہ میں سے کچھ عرصہ تک (اس پر) باقی رہے۔ پھر داؤد (علیہ السلام) نے ان سے کفر پر قتال کیا۔ لڑائی میں داؤد کی طرف وہ لوگ نکلے جن کی موت کا وقت نہیں آیا تھا۔ اور جن کی موت کا وقت آچکا تھا اور ان کے پیچھے گھروں میں رہے۔ جس کی وجہ سے داؤد کے اصحاب میں سے قتال کرتے رہے اور ان میں سے کوئی بھی قتل نہ ہوا۔ داؤد نے فرمایا اے میرے رب میں نے تیری اطاعت پر قتل کیا (دشمنوں سے) اور ان لوگوں نے تیری نافرمانی پر قتل کیا میرے اصحابی قتل ہوگئے اور ان میں سے کوئی بھی قتل نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے ان کو بتادیا تھا مخلوق کی پیدائش اور انکی موت کے بارے میں۔ تیری طرف جو آدمی تھے ان کی موت کا وقت نہیں آیا تھا۔ اور جن کی موت کا وقت حاضر ہوا تھا وہ اپنے گھروں میں رہ گئے اس وجہ سے تیرے اصحاب میں سے قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قتل نہ ہوا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب کس طرح آپ نے ان کو علم عطا فرمایا سورج چاند اور ستاروں کے چلنے سے اور رات اور دن کے اوقات کے بدلنے سے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا اور سورج کو ان پر روک دیا۔ اس کے سبب دن زیادہ ہوگیا اور اس زیادتی نے رات اور دن کو خلط ملط کردیا انہوں نے زیادتی کی مقدار کو نہیں پہچانا تو اس دن کا حساب گڈ مڈ ہوگیا۔ علی ؓ نے فرمایا اس وجہ سے ستاروں میں نظر کرنا ناپسند یدہ ہوگیا۔
(22) امام مرہبی نے فضل العلم میں حسن بن علی ؓ سے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر خیبر کو فتح فرمایا تو آپ نے کمان منگوائی اور اس کے سہارے کھڑے ہوگئے۔ اور آپ نے اللہ کی حمد بیان فرمائی اور اس چیز کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و نصرت اور مدد سے نوازا تھا۔ پھر ان چیزوں سے منع فرمایا بدکاری کے لہر سے، سونے کی انگوٹھی سے، گدھوں کے نشانات سے۔ سخت اور کھدرا لباس پہننے سے، کتے کی قیمت سے، گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے، سونے کو سونے سے اور چاندی کو چاندی سے تبدیل کرنے سے اس طرح پر کہ ان کے درمیان زیادتی پائی جاتی ہے اور ستاروں میں غوروفکر کرنے سے۔
(23) امام مرہبی نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا تو نجوم کی تعلیم نہ کرو کیونکہ یہ کہانت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
ستاروں کی تاثیرات پر اعتقاد نہ رکھیں
(24) امام ابن مردویہ نے حسن کے طریق سے عباس بن عبد المطلب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس جزیرہ کو شرک سے پاک کردیا ہے جب تک ان کو ستارے گمراہ نہ کریں۔
(25) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابو جاد کی حروف کو سیکھنے والا ستاروں کے بارے میں اس کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے نزدیک (خیر کا) کوئی حصہ نہ ہوگا۔
اما قولہ : لفظ آیت وھو الذی انشاکم من نفس واحدۃ
(26) امام ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ نے) اپنے آگے آدم کو کھڑا کیا پھر اس کے دائیں کندھے پر ہاتھ مارا تو ان کی حالت میں سے ساری اولاد نکل آئی یہاں تک کہ انہوں نے زمین کو بھر دیا۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت فمستقر ومستودع
(27) سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فمستقر ومستودع کے بارے میں فرمایا مستقر وہ جگہ جو رحم میں ہوتی ہے اور مستودع وہ امانت کی جگہ ہے جو مردوں اور چوپاؤں کی صلبوں میں رکھی جاتی ہے۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے مستقر وہ جگہ ہے جو رحم میں ہے اور زمین کے ظاہر اور باطن میں جو چیز زندہ ہیں اور جو مرچکی ہیں۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے۔ مستقر وہ جگہ ہے جو زمین میں ہے اور مستودع وہ جگہ ہے جو صلب میں ہے۔
(28) امام عبد الرزاق، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فمستقر ومستودع کے بارے میں فرمایا کہ ان کے ٹھہرنے کی جگہ دنیا میں ہے اور ان کے امانت رکھنے کی جگہ آخرت میں ہے۔
(29) امام فریابی، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مستقر سے مراد رحم ہے اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جس میں وہ مرے گا۔
(30) امام عبد الرزاق، سعید بن منصور اور ابن منذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی کی کسی زمین پر موت آتی ہے تو کوئی ضرورت اسے وہاں تک پہنچا دیتی ہے۔ جب وہ اپنی مقررہ جگہ پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی روح قبض کرلی جاتی ہے اور زمین قیامت کے دن کہے گی یہ وہ ہے جس کو تو نے مجھ میں امانت رکھا تھا۔
(31) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) اور قتادہ (رح) دونوں حضرات سے روایت کیا کہ انہوں نے مستقر ومستودع کے بارے میں فرمایا کہ مستقر قبر میں ہے اور مستودع دنیا میں ہے قریب ہے کہ اسے اپنے صاحب کے ساتھ ملا دیا جائے۔
(32) امام ابو الشیخ نے عوف (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مستقر اور ہر مستودع کے بارے میں قیامت کے دن تک مجھے اس طرح خبر دی گئی جیسے کہ آدم کو سارے اسماء کا علم تھا۔
(33) امام ابو الشیخ نے ابن عباس (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص کو اس کے دانت میں شکایت ہو تو وہ اپنے ہاتھ کو اس پر رکھ کر (یہ آیت) پڑھے لفظ آیت وھو الذی انشاکم من نفس واحدۃ الایہ
(34) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا لفظ آیت فمستقر قاف کے نصب کے ساتھ۔
(35) امام عبد الرزاق نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے مجھ سے فرمایا کیا تو نے شادی کی ہے ؟ میں نے کہا نہیں آج تک میرے دل میں اس کا میلان پیدا نہیں ہوا انہوں نے فرمایا اگر وہ تیری صلب میں امانت ہے تو وہ یقینی طور پر نکلے گی۔
(36) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد فصلنا الایت سے مراد ہے ہم نے آیات کو بیان کردیا ہے لفظ آیت لقوم یفقھون (یعنی اس قوم کے لئے جو سمجھتی ہے)
Ayah 6:99(1) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان دانیۃ سے مراد ہے قریب ہونا۔
(2) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان دانیۃ سے مراد ہے چھوٹی کھجوریں آپس میں ملی ہوئی جن کے خوشے زمین کے ساتھ ہوتے ہیں۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان سے مراد ہے کھجوروں کے بڑے گچھے اور لفظ آیت دانیۃ سے مراد ہے لفظ آیت منصوبۃ یعنی لگایا گیا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان دانیۃ سے مراد ہے وہ خوشہ جو گابھے سے لٹک رہا ہو۔
(5) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قنوان یعنی کھجور کے گچھے اور لفظ آیت دانیۃ یعنی لٹکے ہوئے۔
(6) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت مشتبھا وغیر متشابہ اس کے پتے ایک جیسے ہوتے ہیں اور اس کے پھل مختلف ہوتے ہیں۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انظروا الی ثمرہ اذا اثمر یعنی اس کا پکنا اور اس کے انگور کی طرف دیکھو۔
(8) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت انظروا الی ثمرہ اذا اثمر ثاء اور میم کے نصب کے ساتھ اور لفظ آیت وینعہ یاء کے نصب کے ساتھ پڑھا۔
(9) امام ابو الشیخ نے محمد مسعر (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں پر فرض ہے جب پھل نکلے اور وہ بھی نکلیں اور اس کی طرف دیکھیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت انظروا الی ثمرہ اذا اثمر وینعہ
(10) امام ابو عبید، ابن منذر اور ابن ابی منذر اور ابن ابی حاتم نے براء ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وینعہ سے مراد ہے اس کا پکنا۔
(11) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وینعہ سے مراد ہے اس کا پکنا۔
(12) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وینعہ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس کا پکنا اور اس کا آخری حد تک پہنچنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔
اذا ما مشت وسط النساء تأودت کما اھتز غصن ناعم انبت یانع
ترجمہ : وہ عورتوں کے درمیان چلتی ہے تو جھک جاتی ہے جیسے کہ نرم ٹہنی حرکت کرتی ہے پکے ہوئے پھل سے لدی ہوئی۔