Ayahs 6:35–37(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض میں نفق سے مراد مزنگ ہے۔ آپ اس میں چلے جائیں پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لے آئیں۔ آپ (ایک سیڑھی) بنالیں لفظ آیت فی السمآء (آسمان میں) اور پھر اس پر آپ چڑھ جائیں لفظ آیت فتاتیھم بایۃ آپ ان کے پاس افضل معجزہ لے آئیں۔ تو ایسا کرلیں لفظ آیت ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی اللہ تعالیٰ سبحانہ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت نفقا فی الارض یعنی سرنگ لفظ آیت وسلم ا فی السمآء یعنی سیڑھی۔
(3) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے کہا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ان تبتغی نفقا فی الارض کا مطلب بتائیے تو فرمایا نفقا سے مراد زمین میں خفیہ راستہ کہ تو بھاگ کر اس میں جاسکتا ہے۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو عدی بن زید کو نہیں سنا۔
فدس لھا علی الانفاق عمرو بشکتہ وما خشیت کمینا
ترجمہ : پس عمرو نے اپنے سفر کے دوران اس زمین کے خفیہ راستوں (سرنگوں) پر چھپا دیا اور وہ گھات لگانے والوں سے نہ ڈریں۔
(4) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انما یستجیب الذین یسمعون سے مومنین مراد ہیں اور لفظ آیت والموتیٰ سے کفار مراد ہیں۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انما یستجیب الذین یسمعون یعنی مومن لوگ سنتے ہیں نصیحت کے لئے اور لفظ آیت الموتی یعنی کفار (مردہ ہیں) جب اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے مردوں کے ساتھ۔
(6) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انما یستجیب الذین یسمعون کے بارے میں فرمایا یہ مثال مومن کی ہے جو کتاب اللہ کو سنتا ہے۔ اس سے نفع حاصل کرتا ہے اور اس کو پکڑتا ہے اور اس کو سمجھتا ہے۔ اور وہ زندہ دل اور زندہ آنکھوں والا ہے۔ (پھر فرمایا) لفظ آیت والذین کذبوا بایتنا صم وبکم یہ کافر کی مثال ہے جو گونگا ہے بہرہ ہے نہ ہدایت کو دیکھتا ہے اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے۔
Ayah 6:38(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الا امم امثالکم سے مراد مختلف قسمیں ہیں جو اپنے ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وما من دابۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجنا حیہ الا امم امثالکم سے مراد ہے کہ پرندے علیحدہ امت ہیں انسان علیحدہ امت ہیں اور جنات ایک علیحدہ امت ہیں۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الا امم امثالکم یعنی تمہاری مثل امتیں پیدا فرمائیں۔
ہر مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے
(4) امام ابن جریر، اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا چیونٹی سے لے کر جتنے جانور بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ان کے رنگ اوراقسام مختلف ہیں۔
(5) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ما فرطنا فی الکتب من شیء یعنی ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی مگر ہم نے اس کو لکھ دیا ہے ام الکتاب (یعنی لوح محفوظ) میں۔
(6) امام عبد الرزاق اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت مافرطنا فی الکتب من شیء یعنی کتاب میں سے جو آپ کے پاس ہے کوئی چیز نہیں چھوڑی۔
(7) امام بیہقی نے شعب میں خطیب نے تالی التلیخ میں اور ابن عساکر نے عبد اللہ بن زیاد البکری (رح) سے روایت کیا کہ میں بشر المازنین کے دو بیٹوں کے پاس حاضر ہوا جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ تم دونوں پر رحم فرمائے ہم میں سے ایک آدمی جانور پر سوار ہوتا ہے۔ اس کو کوڑے سے مارتا ہے یا اس کو روکتا ہے لگام کے ساتھ کیا تم نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں عبد اللہ نے فرمایا مجھ کو ایک عورت نے اندر سے آواز دی۔ اس نے کہا اے یہ آدمی اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں لفظ آیت وما من دآبۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم ما فرطنا فی الکتب من شیء ثم الی ربھم یحشرون پھر دونوں نے کہا یہ ہماری بہن ہے۔ جو ہم سے بڑی ہے اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو پایا۔
(8) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ما فرطنا فی الکتب من شیء یعنی ہم کتاب سے غافل نہیں ہیں نہیں ہے کوئی چیز مگر وہ اس کتاب میں موجود ہے۔
(9) ابو الشیخ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ سوال کیا گیا کہ جانوروں کی روح کون قبض کرتا ہے۔ فرمایا ملک الموت یہ بات حسن ؓ کو پہنچی تو فرمایا سچ کہا اور یہ بات بھی اللہ کی کتاب میں ہے۔ پھر یہ آیت لفظ آیت وما من دآبۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجنا حیہ الا امم امثالکم
(10) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت الی ربھم یحشرون یعنی جانوروں کی موت اس کا اکٹھا کرنا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں فرمایا حشر سے مراد موت ہے۔
(11) امام عبد الرزاق، ابو عبید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی قرار دیا) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی جانور یا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ عنقریب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ پھر اس کے بعض کے لئے بعض سے قصاص لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ بغیر سینگ والی بکری کے لئے سینگ والی بکری سے قصاص لیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا مٹی ہوجاؤ۔ تو اس وقت کافر کہیں گے آئے کاش میں بھی مٹی ہوجاتا اگر تم چاہو تو پڑھ لو لفظ آیت وما من دآبۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم سے لے کر لفظ آیت یحشرون تک۔
ظلم کرنے والے سینگ والے جانور سے بھی بدلہ لیا جائے گا
(12) امام ابن جریر نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس دو بکریوں نے آپس میں ٹکر ماری مجھ سے آپ نے فرمایا اے ابوذر کیا تو جانتا ہے اس بارے میں کہ یہ کیوں ایک دوسرے کو سینگ مارتی ہیں میں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور عنقریب ان کے درمیان فیصلہ بھی فرمائے گا۔ ابوذر نے کہ جب رسول اللہ ﷺ فرما کر ہم سے جدا ہوئے تو آسمان میں اڑنے والا کوئی ایسا پرندہ نہیں تھا جس کا ذکر آپ نے ہمارے سامنے نہ فرمایا یعنی سب کے اسماء ہم کو بتا دیئے۔
Ayahs 6:39–42(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت والذین کذبوا بایتنا صم و بکم کے بارے میں فرمایا یہ کافر کی مثال ہے جو بہرا ہے اور گونگا ہے ہدایت کو نہیں دیکھتا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے بہرا ہے حق (بات کے سننے) سے (کفر کے) اندھیروں میں ایسا بھٹکا ہوا ہے کہ اس سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو یوسف المدنی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید کے اعتبار سے ابن آدم مجھ پر مشیت منسوخ ہے یعنی انسان کی مشیت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اس آیت لفظ آیت من یشا اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی صراط المستقیم نے انسان کی مشیت کو منسوخ کردیا۔
(3) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فاخذنھم بالباسآء والضرآء کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے بادشاہ کا خوف یا قیمت کا مہنگاہ ہوجانا واللہ اعلم۔
Ayah 6:43(1) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فلولا اذجاء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دل کی سختی کو مسلط کردیا جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ذلیل و رسوا ہوگئے اور تم دل کے سختی کے سبب اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سامنے پیش نہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی تم سے پہلے قوموں میں عیب تھا۔
Ayahs 6:44–45(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلما نسوا ما ذکروا بہ یعنی ان لوگوں نے چھوڑ دیا جو ان کو یاد دلایا گیا تھا۔
(2) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اور اپنے رسولوں کی طرف بلایا تو انہوں نے انکار کردیا اور اسے ان پر واپس لوٹا دیا۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء سے مراد ہے۔ پہلے زمانہ کے لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) عطا کی جانے والی دینوی خوشحالی اور اس کی راحتیں ہیں۔
(4) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی آسودگی اور رزق کی وسعت۔
(5) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت حتی اذا فرحوا بما اوتوا یعنی جب رزق میں سے دئیے گئے لفظ آیت اخذنھم بغتۃ فاذا ھم مبلسون یعنی ہلاک ہونے لگے اپنی حالت تبدیل ہونے کے سبب لفظ آیت فقطع دابر القوم الذین ظلموا یعنی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا۔
(6) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن نصر الحارثی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اخذنھم بغتۃ یعنی ان کو بیس سال مہلت دی گئی۔
(7) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاذا ھم مبلسون یعنی مبلس سے مراد ایسی اذیت ناک اور پریشان کن مشقت ہے جس کے سبب ایسا شر ظاہر ہو جس کا ہٹایا نہ جاسکے اور مبلس زیادہ سخت ہے مستکبر سے اور لفظ آیت فقطع دابر القوم الذین ظلموا یعنی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔
(8) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاذا ھم مبلسون یعنی وہ رنجیدہ ہوگئے اور دوسرے لفظ میں فرمایا ناامید ہوگئے۔
(9) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ابلاس کا معنی ہے چہروں کا تبدیل کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے چہرہ کو تبدیل کردیا ہے اس لئے اس کا نام ابلیس ہے۔
(10) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور طبرانی نے کبیر میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو دنیا میں دے رہے ہیں اور وہ اپنے گناہوں پر قائم ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے تو یہ استدراج ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیء اور وہ آیت جو اس کے بعد ہے۔
ظلم اور شر کسی عذاب کو دعوت دینا ہے
(11) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی قوم کو باقی رکھنے اور بڑھانے کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان کو میانہ روی اور پاکبازی عطا فرماتے ہیں اور جب کسی قوم کو ختم کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر خیانت کا دروازہ کھول دیتے ہیں لفظ آیت حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتۃ فاذا ھم مبلسون فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین
(12) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جس پر وسعت کردی۔ اسے گمان نہ ہو۔ کوئی تدبیر کی جا رہی ہے تو اس کو کوئی دیکھنے والا نہیں اور جس پر تنگی کی گئی اور اسے یہ گمان نہ ہو کہ اس پر نظر رکھی پھر اس پر کوئی دیکھنے والا نہیں ہوگا پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیء اور حسن نے فرمایا اور کسی قوم کے ساتھ مکریہ ہے اور کعبہ کے رب کی قسم ان کی حاجتیں ان کو دے دی جائیں اور پھر ان کو پکڑ لیا جائے۔
(13) امام ابن منذر نے جعفر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد کی طرف وحی کی۔ ہر حال میں مجھ سے ڈرو اور زیادہ ڈرو جب تمہارے اوپر میرے احسانات اور نعمتیں وافر ہوجائیں۔ اس وقت میں تم کو نہیں پچھاڑوں گا اور پھر تمہاری طرف نہیں دیکھوں گا۔
(14) بیہقی نے شعب میں ابو حازم (رح) سے روایت کیا کہ جب تو دیکھے کہ اللہ تعالیٰ لگاتار تجھ پر نعمتیں فرما رہے ہیں اور تو اس کی نافرمانی کر رہا ہے تو اس سے ڈرو۔ پھر فرمایا ہر وہ نعمت جو اللہ عزوجل سے قریب نہ کرے تو وہ آزمائش ہے۔
(15) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتۃ یعنی اللہ کے حکم کی قوم نے بغاوت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نہیں پکڑتے کسی قوم کو کبھی بھی مگر ان کے بےغم ہونے اور ان کی غفلت اور ان کی آسودہ حالی کے وقت۔ پس تم دھوکہ نہ کھاؤ اللہ کے بارے میں کیونکہ فاسق قوم ہی اس کے بارے میں دھوکہ کھاتی ہے۔
(16) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے فرمایا کہ مچھر زندہ رہتا ہے جب تک بھوکا رہے۔ اور جب اس کا پیٹ بھرتا ہے تو اس کو موت آجاتی ہے۔ اس طرح ابن آدم جب دنیا کے سازوسامان سے بھر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس وقت اس کو پکڑ لیتے ہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتۃ
(17) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت فقطع دابر القوم الذین ظلموا کے بارے میں پوچھا کہ مجھ کو اس بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا ان کی جڑیں کاٹ دی گئی اور ان کو بالکل ختم کردیا گیا، کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے زھیر کا قول نہیں سنا اور وہ کہتا ہے
القائد الخیل منکو بادوا برھا محکومۃ بحکام العدوا لانفا
ترجمہ : گھڑ سوار دستے کا فائدہ ہے جن کے پچھلے پاؤں زخمی ہیں انہیں چمڑے اور ریشم کی لگامیں دی گئی ہیں۔
Ayahs 6:46–50(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے وہ لوگ اعراض کرتے ہیں۔
(2) امام طستی سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یصدفون کے بارے میں پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سفیان بن حارث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
عجبت لحکم اللہ فینا وقد بدا لہ صدفنا عن کل حق منزل
ترجمہ : میں نے تعجب کیا اللہ کے حکم کے لئے جو ہمارے بارے میں ہوا حالانکہ اس پر یہ امر ظاہر ہوچکا ہے کہ ہم نے ہر نازل شدہ حق سے اعراض کیا۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون یعنی وہ اعراض کرتے ہیں اور لفظ آیت قل ارء یتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتۃ یعنی اچانک تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا جبکہ تم امن میں رہ رہے ہو۔ لفظ آیت اوجھرۃ اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے ہیں اور لفظ آیت قل ھل یستوی الاعمی والبصیر یعنی گمراہ ہونے والا اور ہدایت پانے والا (برابر نہیں ہوسکتے)
(4) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھو فسق کا لفظ قرآن میں اس کا معنی ہے جھوٹ۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھل یستوی الاعمی والبصیر میں اعمی سے مراد ہے کافر جو اللہ تعالیٰ کے حق سے اندھا ہے اور اس کے حکم سے اور اس کی نعمتوں سے جو اس پر ہیں لفظ آیت والبصیر سے مراد وہ مومن بندہ جو دیکھتا ہے ایسا دیکھنا جس نے اس کو نفع دیا اور ایک اللہ کی توحید پر اعتقاد رکھا۔ اور اپنے رب کی اطاعت کے ساتھ عمل کئے ان نعمتوں سے خوف نفع اٹھایا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائیں۔
Ayahs 6:51–56(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ اعلم بالظلمین تک۔
(2) امام ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ قرظہ بن عبد، عمرو بن نوفل، حارث بن عامر بن نوفل، معظم بن عدی بن الخیار بن نوفل جو عبد مناف میں سے کفار کے اشراف میں سے تھے۔ ابو طالب کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا اگر تیرا بھتیجا ہم سے ان غلاموں کو ہٹا دے جو ہمارے غلام اور ہمارے دست نگر ہیں۔ تو ان کی عزت ہمارے سینوں میں بڑھ جائے گی۔ اور ہماری طرف سے اس کے لئے زیادہ فرمانبرداری ہوگی۔ اور ہم اس کی پیروی اور اس کی تصدیق میں زیادہ قریب ہوں گے۔ ابو طالب نے یہ بات نبی ﷺ کو بتائی عمر بن خطاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ اگر آپ ایسا کرلیں جیسا ہو چاہتے ہیں تاکہ ہم ان کی بات کی سچائی کو پرکھ سکیں تو اللہ تعالیٰ نے لفظ آیت وانذربہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت الیس اللہ باعلم بالشکرین تک آیات نازل فرمائیں۔ کہ یہ لوگ تھے بلال، عمار بن یاسر، سالم بن ابی حذیفہ، صبحا مولی اسید اور ابن مسعود کے اتحادیوں میں سے مقداد بن عمرو، واقد بن عبداللہ حنظلی، عمرو بن عبد عمر، ذوالشمالین اور مرثد بن ابی مرثد اور ان کی طرح کے اور لوگ بھی تھے۔ قریش میں سے آئمہ الکفر اور موالی اور حلفاء کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی فرمایا لفظ آیت وکذلک فتنا بعضھم ببعض لیقولوا الایہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو عمر بن خطاب متوجہ ہوئے اور انہوں نے اپنی بات سے عذر پیش کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت واذا جاءک الذین یومنون بایتنا
اللہ کے ہاں غریب امیر کی تفریق نہیں
(3) امام ابن ابی شیبہ، ابن ماجہ، ابو یعلی، ابو نعیم نے حلیہ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں خباب ؓ سے روایت کیا کہ اقرع بن حابس تمیمی، عینیہ بن حصن الفرازی آئے اور انہوں نے نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا پایا بلال کو صہیب کو عمار کو اور خباب کو اور کچھ لوگ ضعیف مومنین میں سے جب انہوں نے ان لوگوں کو آپ کے گرد بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کو حقیر جانا اور آپ کے پاس آئے اور آپ کی خلوت میں بیٹھنے کی گزارش کی۔ اور انہوں نے کہا ہم اس بات کو محبوب رکھتے ہیں کہ ہمارے لئے بیٹھنے کی علیحدہ جگہ بنا لیں۔ تاکہ عرب کے لوگ ہماری فضیلت کو جان لیں کیونکہ عرب کے وفد عنقریب آپ کے پاس آئیں گے۔ ہم کو شرم آتی ہے اگر ہم کو عرب کے لوگ ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں۔ جب ہم آپ کے پاس آئیں تو یہ لوگ ہم سے دور ہوجائیں۔ جب ہم فارغ ہوجائیں تو پھر آپ ان کے پاس چاہیں تو بیٹھ جائیں اگر آپ چاہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں (ٹھیک ہے) انہوں نے کہا ہمارے لئے اس بارے میں کچھ لکھ دیجئے آپ نے کاغذ منگوایا اور علی ؓ کو بلوایا تاکہ وہ لکھیں اور ہم ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ اچانک جبرئیل (یہ آیت) لے کر نازل ہوئے لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی سے لے کر لفظ آیت فقل سلم علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ تو رسول اللہ ﷺ نے وہ کاغذ اپنے ہاتھ مبارک سے نیچے ڈال دیا۔ پھر آپ نے بلوایا تو ہم آپ کے پاس آگئے۔ اور آپ پڑھ رہے تھے لفظ آیت فقل سلم علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ ہم آپ کے پاس بیٹھ گئے جب آپ نے کھڑا ہونے کا ارادہ فرمایا تو آپ کھڑے ہوگئے اور ہم کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ الایہ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے جب وہ وقت پہنچ جاتا کہ جس میں آپ کھڑے ہوجاتے تو آپ ہم کو چھوڑ دیتے یہاں تک کہ کھڑے ہوجاتے۔
(4) زبیر بن بکار نے اخبار المدینہ میں عمر بن عبد اللہ بن مھاجر (رح) جو عفرہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان سے توبہ کے ستونوں کے بارے میں فرمایا کہ نبی ﷺ کی اکثر نفل نماز اس کی طرف ہوتی تھی۔ جب آپ صبح کی نماز ادا فرما لیتے تو اس کی طرف تشریف لے جاتے۔ پھر ضحفاء مساکین تکلیف والے اور نبی ﷺ کے مہمان اور مولفتہ القلوب تمام لوگ اس کے پاس آئے وہ جگہ بھی آتے جن کا رات کا گزارنا مسجد میں تھا راوی نے کہا اور یہ لوگ آپ کے ارد گرد حلقہ بنا لیتے اور آپ بھی صبح کی نماز کے مصلے سے ان کی طرف تشریف لے جاتے۔ اور ان پر تلاوت فرماتے جو اللہ تعالیٰ نے رات میں آپ پر اتارا تھا اور آپ ان کو گفتگو فرماتے اور وہ لوگ آپ سے باتیں کرتے رہتے یہاں تک کہ جب سورج طلوع ہوتا تو آپ کے پاس مال والے اور خوشحال لوگ آتے جب وہ آپ کو اپنے لئے فارغ اور تنہا نہ پاتے (تا کہ علیحدہ ہو کر آپ سے بات کریں) تو ان کے دلوں نے آپ کی طرف خواہش کی۔ اور آپ کے دل نے ان کی طرف خواہش کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ جب ان کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا۔ تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ ان لوگوں کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم آپ کے ساتھی اور آپ کے بھائی ہوں گے۔ اور ہم آپ سے جدا نہیں ہوں گے۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی
(5) امام فریابی، احمد، عبد بن حمید، ومسلم نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حبان، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم ابو نعیم نے حلیہ میں بیہقی نے دلائل میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت چھ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی میں، عبد اللہ بن مسعود، بلال، ھذیل، میں سے ایک آدمی اور دو اور آدمی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ ان (غریب لوگوں) کو ہٹالیں۔ ہم کو شرم آتی ہے کہ ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ نبی ﷺ کے دل میں اتنا سا خیال واقع ہوا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ واقع ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی سے لے کر لفظ آیت الیس اللہ باعلم بالشکرین
(6) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی سے مراد وہ نماز پڑھنے والے۔ حضرت بلال اور ابن ابی عبید تھے۔ دونوں محمد ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے قریش نے ان سے حقارت کرتے ہوئے کہا اگر یہ دونوں اور ان دونوں کی طرح (دوسرے غریب مسلمان) نہ ہوتے تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھتے تو ان کے ہٹانے سے منع کردیا گیا۔ یہاں تک کہ فرمایا لفظ آیت الیس اللہ باعلم بالشکرین
(7) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس کی طرف آگے بڑھ جاتے تھے۔ ان میں سے بلال، صہیب سلمان تھے آپ کی قوم میں سے کچھ سردار اور بڑے لوگ حاضر ہوئے۔ ان (غریب مسلمانوں) نے مجلس کو گھیرے کی وجہ سے یہ لوگ ایک کونے میں بیٹھ جاتے۔ اور کہتے لگے صہیب سلیمان فارسی اور بلال حبشی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم آتے ہیں تو ہم ایک کونے میں بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی کہ ہم اپنی قوم کے سردار اور بڑے لوگ ہیں (اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو) ہم آپ سے قریب ہوجاتے ؟ راوی نے کہا کہ آپ نے ایسا کرنے کا ارادہ فرمالیا مگر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم
(8) امام ابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریش کے بڑے لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس بلال، سلمان، صہیب اور انہی کی طرح دیگر افراد ام عبد کے بیٹے، عمار اور خباب بیٹھے ہوئے تھے۔ جب ان (غریب مسلمانوں) نے (آپ کے گرد) احاطہ کرلیا تو قریش کے بڑے لوگوں نے کہا کہ بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب اور اگر آپ ان کو ہٹا دیتے تو ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی یریدون وجھہ
(9) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی کے بارے میں فرمایا یعنی وہ عبادت کرتے ہیں اپنے رب کی صبح اور شام کو یعنی فرض نماز (پڑھتے ہیں)
(10) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی کے بارے میں فرمایا کہ اس سے فرض نماز مراد ہے۔ یعنی صبح اور عصر کی نماز۔
(11) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی کے بارے میں فرمایا کہ ان سے ذکر والے مراد ہیں کہ ان کو ذکر سے نہ ہٹاؤ سفیان ؓ نے فرمایا کہ یہ فقیر لوگ مراد ہیں (آپ ان کو دور نہ کیجئے)
(12) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک فتنا بعضھم ببعض کے بارے میں فرمایا کہ ان کے بعض کو غنی اور ان کے بعض کو فقیر بنا دیا گیا۔ غنی لوگوں نے فقیر لوگوں سے کہا لفظ آیت اھولاء من اللہ علیھم من بیننا یعنی ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی۔ اور یہ انہوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا۔
(13) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک فتنا بعضھم ببعض یعنی ہم نے ان کے بعض کو بعض کی وجہ سے آزمایا۔
(14) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اھولاء من اللہ علیھم من بیننا یعنی اگر ان کو اللہ کے نزدیک کوئی عزت حاصل ہوتی تو ان کو یہ شریعت نہ پہنچتی۔
(15) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک بعضھم ببعض کے بارے میں فرمایا کہ غریب لوگ جو نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو بڑے لوگوں نے کہا کہ ہم آپ پر ایمان لائیں گے (لیکن) جب ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے تو یہ لوگ ہم سے پیچھے ہوجائیں اور ان کو چاہئے کہ یہ لوگ ہمارے پیچھے نماز پڑھیں۔
(16) امام فریابی، عبد بن حمید، مسدد نے مسند میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ماہان ؓ سے روایت کیا کہ ایک قوم نبی ﷺ کے پاس آئی اور انہوں نے کہا ہم لوگ بڑے گناہوں کو پہنچے ہیں۔ آپ نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا۔ تو یہ لوگ لوٹ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت اتاری) لفظ آیت واذا جاءک الذین یومنون بایتنا (الایہ) آپ نے ان کو بلوایا اور ان پر ان آیات کو پڑھا۔
(17) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت سلم علیکم کے بارے میں خبر دی گئی کہ جب لوگ نبی ﷺ پر داخل ہوتے تھے تو آپ ﷺ پہلے انہیں فرماتے لفظ آیت سلم علیکم اور جب آپ ان سے ملاقات کرتے تو اسی طرح فرماتے۔
(18) امام عبد الرزاق، ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نفصل الایت یعنی ہم اس طرح آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔
(19) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتستبین سبیل المجرمین سے مراد ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو ان لوگوں کے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت قد ضللت اذا وما انا من المھتدین
(20) امام ابن ابی شیبہ، بخاری، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی حاتم نے ھزیل بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابو موسیٰ اور سلمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے بیٹی، بیٹے کی بیٹی اور بہن کے حصوں کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا بیٹی کے لئے آدھا اور بہن کے لئے آدھا اور کہا تو عبد اللہ کے پاس جا کر پوچھ لے۔ عنقریب وہ بھی ہمارے موافقت کریں گے۔ وہ آدمی عبد اللہ ؓ کے پاس آیا اور اس کی بتایا تو انہوں نے فرمایا لفظ آیت قد ضللت اذا وما انا من المھتدین اور میں اس بارے میں ضرور فیصلہ کروں گا رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق (پھر فرمایا) بیٹی کے لئے آدھا اور بیٹے کی بیٹی کے لئے چھٹا اور باقی بہن کے لئے۔
Ayahs 6:57–58(1) امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت یقضی الحق (یعنی وہی حق فیصلے کرتا ہے)
(2) امام دار قطنی نے الافراد میں اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو یوں پڑھایا لفظ آیت یقص الحق وھو خیر الفصلین
(3) امام سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت یقص الحق اور وہ فرماتے تھے لفظ آیت نحن نقص علیک احسن القصص
(4) امام ابن الانصاری نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں لفظ آیت یقص الحق ہی ہے۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ کی قرأت میں لفظ آیت یقص الحق ہے۔
(6) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھتے تھے لفظ آیت یقص الحق اور فرمایا اگر اس جگہ لفظ آیت یقضی ہو تو وہ بھی حق ہے۔
(7) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لیقضی الامر بینی وبینکم کے بارے میں فرمایا البتہ قیامت قائم ہوگی۔
Ayah 6:59(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعندہ مفاتح الغیب یعنی غیب کے خزانے (اسی کے پاس ہیں)
(2) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعندہ مفاتح الغیب سے مراد پانچ چیزیں ہیں (جسے فرمایا) لفظ آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث سے لے کر لفظ آیت ان اللہ علیم خبیر (لقمان آیت 24)
(3) امام احمد، بخاری، فحشیش بن اصرم نے الاستقامۃ میں ابن ابی حاتم ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کی چابیاں پانچ ہیں اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ارحام سے بچے کی ولادت کب ہوگی۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کی کب بارش آئے گی۔ اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔
غیب کی پانچ باتیں
(4) امام ابن جریر اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز تمہارے نبی ﷺ کو دی گئی مگر غیب کی پانچ چابیاں نہیں دی گئی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث آخر آیت تک (لقمان آیت 34)
(5) امام ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد اللہ عزوجل کا یہ قول ہے لفظ آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث آیت کے آخر تک۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا
(6) امام مسدد نے مسند میں، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا کے بارے میں فرمایا جو درخت اپنے تنے پر کھڑا ہوا ہے اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔ جو چیز اس میں سے گرتی ہے وہ اس کو جانتا ہے اسی وقت وہ اس کو گنتا ہے پھر اس کے علم کو اٹھا لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہتر اور زیادہ جاننے والا ہے۔
(7) امام ابو الشیخ نے محمد بن حجادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا یعنی اللہ تبارک تعالیٰ کے لئے عرش کے نیچے ایک درخت ہے کوئی مخلوق ایسی نہیں کہ اس کے لئے اس میں ایک پتہ ہوتا ہے جب اس کا پتہ گر جاتا ہے تو اس کے جسم سے روخ نکل جاتی ہے اسی کو فرمایا لفظ آیت وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا
(8) امام خطیب نے تاریخ میں سند ضعیف کے ساتھ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی اور نہ کوئی پھل درختوں پر ہوتا ہے۔ مگر اس پر لکھا ہوا ہوتا ہے لفظ آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ رزق ہے فلاں بن فلاں کا اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت ولا حبۃ فی ظلمت
(9) امام ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ تیسری زمین کے نیچے اور چوتھی زمین کے اوپر جنت ہیں اگر وہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائیں تم ان کے سب کو نہ دیکھ سکو۔ اس کے کانوں میں سے ہر کونے پر اللہ کی انگوٹھیوں میں سے ایک انگوٹھی ہے اور ہر انگوٹھی میں سے ایک فرشتہ مقرر ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف ہر دن ایک فرشتہ بھیجتے ہیں اپنے پاس سے تاکہ وہ اسے یاد کرے جو کچھ تیرے پاس ہے۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین
(10) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عبد اللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ نہیں یہ زمین میں کوئی چھوٹا درخت یا بڑا نہیں اور نہ ہی پھوٹنے والا کوئی کونپل ہے۔ چاہے تر ہو یا خشک مگر اس پر اس فرشتے مقرر ہے جو ہر روز اللہ کے پاس اس کا علم لے کر آتا ہے۔ جب وہ سبز اور تر ہو کر تو اس کی رطوبت کی خبر لاتا ہے اور جب وہ خشک ہو تو اس کی خشکی کی خبر لاتا ہے۔ اعشمی (رح) نے فرمایا اور اس کا تذکرہ اللہ کی کتاب میں ہے۔ یعنی لفظ آیت ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین
(11) امام ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے کوئی درخت یا سوئی کی جگہ مگر ایک فرشتہ اس پر مقرر ہوتا ہے جو اس کے بارے میں معلومات پیش کرتا ہے۔ کیونکہ آسمان کے فرشتے مٹی کے ذرات کی تعداد سے زیادہ ہیں۔
(12) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت لفظ آیت ولا رطب ولا یابس تلاوت فرمائی۔ اور فرمایا تر اور خشک ہر چیز میں سے قرآن کریم موجود ہے۔
لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی ہوتی ہے
(13) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا فرمایا اور ایک دوات ہے اور تختیوں کو پیدا فرمایا اور ان میں دنیا کے تمام کام لکھ دیئے اس کے ختم ہونے تک یعنی مخلوق میں سے جسے پیدا کرتا ہے یا رزق حلال ہے یا حرام ہے یا اس کا عمل نیک ہوگا یا برا ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین پھر وہ کتاب حفظ کے سپرد کردی اور اپنی مخلوق کو بھی حفظ کے سپرد کردیا اور حفظ یعنی کراما کاتبین وہ تمام اعمال لکھتے ہیں جو تم ہر دن اور رات میں کرتے ہو اور مخلوق ہو اور مخلوق سے وہی کچھ واقع ہوتا ہے جس کا اسے پابند بنایا گیا ہے اور اتنا ہی رزق میں سے حصہ اسے دیا جاتا ہے۔ جو اس کے لئے مقرر کیا گیا۔ ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے وہ کچھ کر گزرتا ہے جو کتاب میں لکھا ہے۔ اور ہمارے کرنے سے پہلے ہمارے ہر عمل کو لکھ دیا گیا۔ کسی کو باقی نہیں چھوڑا۔ آپ نے فرمایا کیا تم عرب نہیں ہو ؟ کیا نسخۃ وہی چیز نہیں ہوتی جس سے فارغ ہوا جائے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون (الجاشیہ)
(14) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو عمران الجونی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انی علی بینۃ من ربی میں لفظ آیت علی بینۃ سے مراد ہے لفظ آیت علی ثقۃ یعنی پختہ یقین اور پختہ اعتماد۔
(15) امام ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن جریر ابن منذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں تھا لفظ آیت یقضی الحق وھو اسراع الفصلین
(16) امام ابی ابی حاتم نے الاصمعی (رح) سے روایت کیا کہ ابو عمرو نے یوں پڑھا لفظ آیت ویقضی الحق اور فرمایا کہ فیصلہ نہیں ہوگا مگر قضا کے بعد۔
(17) امام ابن ابی حاتم نے حسن بن صالح بن حی کے طریق سے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت یقضی الحق وھو خیر الفصلین ابن حی نے کہا کہ فیصلہ نہیں ہوگا مگر قضا کے بعد۔
Ayah 6:60(1) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ ہے جب وہ سو جاتا ہے تو اس کی جان لے لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اجازت فرماتے ہیں اس کی روح قبض کرتے ہیں تو اس کو قبض کرلیتا ہے ورنہ اسے واپس لوٹا دیتا ہے یہی مفہوم ہے لفظ آیت وھو الذی یتوفکم کا۔
نیند میں روح قبض ہونا
(2) امام ابی ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمۃ میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھو الذی یتوفکم بالیل یعنی جانوں کو قبض کردیا جاتا ہے انکی نیند کے وقت کوئی رات ایسی نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ سب روحوں کو قبض کرلیتے ہیں اور ہر جان سے سوال کرتے ہیں ان اعمال میں سے جو اس کے ساتھی (یعنی جسم) نے دن میں کام کیا ہے۔ پھر ملک الموت کو بلایا جاتا ہے۔ تو اس سے فرماتے ہیں اس کو قبض کرلے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جس میں ملک الموت لوگوں کی زندگی کی کتاب میں نہ دیکھتے ہوں کہنے والا کہتا ہے تین مرتبہ اور کہنے والا کہتا ہے پانچ مرتبہ (دیکھتا ہے)
(3) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھو الذی یتوفکم کے بارے میں فرمایا کہ رات کو ان کی وفات ان کی نیند ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو تو وہ کہتا ہے تم نے دن میں کیا کمایا (یعنی کیا عمل کئے) لفظ آیت ثم یبعثکم فیہ یعنی دن میں (پھر اٹھا دیتا ہے) لفظ آیت لیقضی اجل مسمی (تا کہ مقرر معاد پوری کردی جائے) اور وہ موت ہے۔
(4) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھو الذی یتوفکم بالیل کے بارے میں فرمایا یعنی اس سے انکی نیند مراد ہے لفظ آیت ویعلم ما جرحتم یعنی جو کچھ تم نے دن میں گناہ کئے لفظ آیت ثم یبعثکم فیہ پھر وہ اٹھاتا ہے دن کے وقت اور لفظ آیت بعث سے مراد ہے بیداری۔
(5) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ویعلم ما جرحتم کے بارے میں فرمایا جو کچھ تم نے گناہ کئے۔
(6) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ بن کثیر (رح) نے لفظ آیت لیقضی اجل مسمی کے بارے میں فرمایا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان کی مدت عمر کو پورا کردیں۔
Ayahs 6:61–62(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت علیکم حفظۃ کے بارے میں فرمایا کہ وہ پیچھے آنے والے فرشتے ہیں جو بندے اور اس کے ہر عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ویرسل علیکم حفظۃ کے بارے میں فرمایا اے ابن آدم اپنے عمل اپنے رزق اور اپنی مدت کی حفاظت تجھ پر لازم ہے۔ کیونکہ جب یہ ختم ہوجائے گی تو تجھے اپنے رب کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت توفتہ رسلنا یعنی وہ فرشتے جو ملک الموت کے مددگار ہیں۔
(4) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت توفتہ رسلنا یعنی فرشتے جانوں کو قبض کرتے ہیں پھر ان کو ملک الموت کے جاتا ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ پھر بعد میں ملک الموت ان سے لے لیتا ہے۔
(5) عبد الرزاق، ابن جریر، اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ملک الموت کے لئے زمین مثل طثت کے کردی گئی وہ جہاں سے چاہتے ہیں لے لیتے ہیں اور ان کے لئے بہت سے مددگار بنا دیئے گئے ہیں جو روحوں کو قبض کرتے ہیں پھر ان میں ملک الموت قبض کرلیتے ہیں۔
(6) عبد الرزاق، ابن جریر اور ابو الشیخ نے عظمۃ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت توفتہ رسلنا کے بارے میں فرمایا کہ ملک الموت کے بھیجے ہوئے (یعنی قاصد) ہوتے ہیں۔ پہلے وہی روحوں کو قبض کرتے ہیں ان کو ملک الموت کے حوالے کردیتے ہیں۔
(7) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا ہے ملک الموت وہ ہے جو موت کا والی اور مختار ہے اگر (میت) مومن ہے تو وہ اس کو رحمت کے فرشتوں کو دے دیتا ہے اور اگر کافر ہے تو عذاب کے فرشتوں کو دے دیتا ہے۔
(8) عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نہیں ہیں کوئی بالوں کے گھر میں رہنے والے اور نہ مٹی کے گھر میں رہنے والے مگر ملک الموت ان پر ہر دن دو مرتبہ چکر لگاتا ہے۔
(9) ابن جریر اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ ان سے ملک الموت کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ اکیلا ہے کہ سب روحوں کو قبض کرنے کے لئے تو ارشاد فرمایا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی نہیں سنا لفظ آیت حتی اذا جاء تھم یتوفونھم (الاعراف آیت 37) اور فرمایا لفظ آیت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون سوائے ملک الموت کے کہ وہ ان سب کے رئیس ہیں اور ان کا ہر قدم مشرق سے مغرب تک ہوتا ہے پوچھا گیا مؤمنین کی روحیں کہاں ہوتی ہیں ؟ فرمایا جنت میں سدرۃ کے پاس۔
(10) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم لا تفرطون یعنی وہ (وقت کو) ضائع نہیں کرتے۔
(11) ابن ابی حاتم نے قیس (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ ، عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم اپنے آپ کو کیسے پاتے ہو ؟ فرمایا لوٹا یا ہوا اپنے حقیقی مولیٰ کی طرف فرمایا تو خوش نصیب ہے (واللہ اعلم)
Ayahs 6:63–64(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ خشکی اور تری کے غم سے (کو ن تم کو بچا تا ہے)
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا وخفیۃ کے بارے میں فرمایا کہ جب کوئی بندہ راستے کو گم کردیتا ہے (یعنی راستے سے بھٹک جاتا ہے) اور وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور کہتا ہے لفظ آیت لئن انجنا من ھذہ لنکونن من الشکرین (کہ اگر تو ہم کو نجات دیدے تو ہم ضرور شکر گزار بندے بن جائیں گے)