6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 6:74

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آذر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ بلاشبہ میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آزر بت ہے۔ اور ابراہیم کے والد کا نام یازر تھا۔ آپ کی ماں کا نام مثلی تھا۔ آپ کی بیوی کا نام سارہ تھا۔ اور آپ کی باندی اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کا نام ھاجرہ تھا اور داؤد بن امین تھے اور نوح بن لمک تھے اور یونس بن متی تھے۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آزر ان کا باپ نہیں ہے لیکن یہ ایک بت کا نام ہے۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے یسری (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا۔ اور بت کا نام آزر تھا۔ (4) امام ابن ابی منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذقال ابراہیم لابیہ ازر میں آزر آپ کا باپ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بت ہے۔ لیکن لفظ آیت اذقال ابراہیم لابیہ آزر میں وہ معبود (باطل) مراد ہیں۔ اور یہ نزول قرآن سے پہلے کا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ابراہیم بن تیرح ہیں۔ (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سلمان التیمی سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت واذقال ابراہیم لابیہ آزر مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ کلمات سخت ہیں اور یہ بدترین کلمات ہیں جو ابراہیم نے اپنے والد (یعنی چچا) کو کہے۔ (6) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذقال ابراہیم لابیہ آزر اتتخذ اصناما الھۃ کے بارے میں فرمایا وہ کہتا تھا میں مدد کرتا ہوں کیا تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں سے مدد مانگا کرتا ہے۔ ایسا مت کر اور وہ فرماتے تھے کہ ابراہیم کے والد کا نام آزر نہیں تھا۔ اس کا نام تارح تھا ابو ذرعہ (رح) نے کہا کہ آزر دو ہمزوں کے ساتھ ہے یعنی اء زر۔ (7) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آزر ابراہیم کے والد تھے۔
Ayahs 6:75–79

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں کی اور زمین کی مخلوقات دکھائیں۔ تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب اس پر رات کی تاریکی چھا گئی تو ایک ستارہ دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ ستارہ غروب ہوگیا تو یوں کہا کہ میں غائب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ غروب ہوگیا تو کہا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ کرتا تو میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہوجاتا۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب سورج غروب ہوگیا تو کہا اے میری قوم ! میں ان چیزوں سے بری ہوں، جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

بیشک میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف موڑا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، میں سب کو چھوڑ کر اسی کی طرف مائل ہونے والا ہوں، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض سے مراد سورج چاند اور ستارے ہیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ کھول دیا گیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان تھا یہاں تک کہ ان کی طرف دیکھا ایک چٹان اور وہ چٹان ایک مچھلی پر تھی اور یہ مچھلی وہی ہے جس میں سے لوگوں کا کھانا ہے اور مچھلی ایک زنجیر میں تھی اور زنجیر عزت والی انگوٹھی میں ہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ بادشاہ آسمانوں کا اور زمین کا پھر فرمایا ان دونوں کی بادشاہت مراد ہے۔ (4) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ وہ بادشاہ ہے آسمانوں کا اور زمین کا لیکن اس کو نبطی زبان میں ملکوت کہتے ہیں۔ (5) امام آدم بن ابی ایاس، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ یہ نشانیاں تھیں ان کے لئے ساتویں آسمان میں ظاہر کردی گئی اور آپ نے ان (سب) چیزوں کی طرف دیکھا جو ان میں تھیں۔ یہاں تک کہ ان کی نگاہ عرش تک پہنچی۔ پھر ان کے لئے ساتوں زمین کھول دی گئیں۔ ان (سب) چیزوں کی طرف دیکھا جو ان میں تھیں۔ (6) امام سعید بن منصور، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ ابراہیم ایک چٹان پر کھڑے ہوئے۔ ان کے لئے ساتوں آسمان کھول دیئے گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے عرش کی طرف دیکھا اور جنت میں اپنی منزل کی طرف بھی دیکھا پھر ان کے لئے ساتویں زمین کو کھول دیا گیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک چٹان کو دیکھا کہ جس پر زمینیں تھیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت اتینہ اجرہ فی الدنیا (العنکبوت آیت 37) اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہونا (7) امام احمد، ابن جریر، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں عبد الرحمن بن عائش حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ بعض اصحاب النبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ میں نے اپنے رب کو انتہائی حسین صورت میں دیکھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کس بارے میں ملئا اعلی جھگڑ رہے ہیں (یعنی بحث کر رہے ہیں) اے محمد ﷺ میں نے عرض کیا اے میرے رب آپ مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنی چھاتی کے درمیان پایا۔ فرمایا پھر میں نے جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں تھا پھر (یہ آیت) تلاوت کی لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض ولیکون من الموقنین پھر فرمایا اے محمد ﷺ کس بارے میں ملئا اعلی بحث کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا درجات کفارات کے بارے میں پوچھا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا جماعات کی طرف قدموں کو نقل کرنا اور مسجدوں میں مجالس قائم کرنا نمازوں کے بعد اور پورا وضو کرنا جو شخص ایسا کرے گا خیر کے ساتھ زندہ رہے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا۔ اور وہ اپنی خطاؤں سے (اس قدر پاک ہوجائے گا) جسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اس کو جنا تھا لیکن درجات تو اس سے مراد سلام کو عام کرنا یعنی (سلام کی کثرت سے کرنا) اور (بھوکوں کو) کھانا کھلانا اور رات کو نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں۔ فرمایا کہہ دیجئے اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں پاکیزہ چیزوں کا۔ برے کاموں کے چھوڑنے کا مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ مجھ کو بخش دے اور تو مجھ پر رحم فرما۔ اور جب آپ ارادہ کریں فتنہ کا کسی قوم میں تو مجھ کو بغیر فتنہ میں ڈالے فوت کردینا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ان عورتوں کو بھی سکھاؤ بلاشبہ ان کا بھی حق ہے۔ (8) امام ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ابراہیم نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت کو دیکھا اوپر سے ایک آدمی کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا اللہ کے گناہوں میں سے آپ نے بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر اوپر سے دوسرے شخص کو دیکھا گناہ کرتے ہوئے اللہ کے گناہوں میں سے اس پر بددعا کی تو وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ پھر تیسرے آدمی کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا اس کے لئے بددعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اے ابراہیم تو ایسا آدمی ہے جس کی دعا قبول کی جاتی ہے میرے بندوں پر بددعا نہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے تین حالتوں میں سے ایک پر ہوں گے۔ یا تو وہ مجھ سے توبہ کرے گا تو میں اس کی توبہ قبول کرلوں گا یا اس کی نسل میں سے ایسی اولاد پیدا کردوں گا جو زمین کو تسبیح وتحمید سے بھر دے گی یا میں اس کو اسی حالت میں موت دے دوں گا۔ اگر میں نے چاہا اس کو معاف کردوں گا اگر چاہا تو اس کو سزا دوں گا۔ (9) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں کی بادشاہی کے مشاہد کے لئے اٹھایا گیا اور اوپر سے ایک آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس پر بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا پھر اوپر اٹھایا گیا تو اور ایک آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے اس پر بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر اور اوپر اٹھایا گیا تو اوپر سے ایک اور بندے کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بددعا کرنے کا ارادہ کیا تو ان کے رب نے ان سے فرمایا اے ابراہیم ٹھہر جا۔ تو ایسا بندہ ہے کہ جس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ میرا تعلق اپنے گناہگار بندوں سے تین طرح کا ہے۔ یا وہ میری طرف توبہ کرلے گا تو میں اس کی توبہ قبول کرلوں گا یا میں اس کی صلب سے پاکیزہ اولاد پیدا کروں گا پھر وہ اسی طرح موجود سرکشی کی حالت پر رہے گا۔ اور میں اس کے پیچھے رہوں گا۔ (یعنی اسی حالت میں اس کی روح قبض کر کے اپنی مرضی کے مطابق اس سے سلوک کروں گا) ۔ (10) امام عبد بن حمیدد اور ابن ابی حاتم نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا ابراہیم کو آسمان کی طرف اٹھایا گیا انہوں نے اس سے نیچے دیکھا تو ایک آدمی کو ایک فاحشہ عورت پر دیکھا (جو زنا کر رہا تھا) اس کے لئے بددعا کی تو وہ دھنسا دیا گیا۔ یہاں تک کہ سات آدمیوں پر بددعا کی تو ان کو دھنسایا گیا۔ تو آواز دی گئی اے ابراہیم میرے بندوں سے تین مرتبہ نرمی اختیار کر۔ میرا تعلق اپنے بندے سے تین طرح کا ہوتا ہے۔ یا تو وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کرلوں گا۔ پھر میں اس کی نسل سے مومن اولاد نکالوں گا۔ یا وہ کفر کرتا رہے گا تو اس کو جہنم (کا عذاب) کافی ہے۔ (11) ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں شہر بن حوشب کے طریق سے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ابراہیم نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت کو دیکھا تو ایک بندے کو گناہ کرتے دیکھا اس پر بددعا کی۔ پھر ایک بندہ کو گناہ کرتے دیکھا اس پر بددعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے ابراہیم بیشک تو ایک ایسا بندہ ہے جس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ کسی پر بددعا نہ کر۔ میرا تعلق اپنے بندے سے تین طرح کا ہوتا ہے یا تو وہ اپنی آخری عمر میں توبہ کرلے گا تو میں اس کی توبہ قبول کرلوں گا۔ اور اگر (توبہ) سے منہ پھیر لیتا ہے تو اس کے پیچھے جہنم ہے۔ (12) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابو الشیخ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت دیکھی تو ایک آدمی کو فاحشہ عورت پر دیکھا اس پر بددعا کی وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر دوسرے آدمی کو فاحشہ عورت پر دیکھا اس پر بددعا کی وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر تیسرے آدمی کو فاحشہ عورت پر دیکھا اس کے لئے بددعا کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی۔ اے ابراہیم ٹھہر جا تو ایک ایسا آدمی ہے کہ تیرے لئے دعا قبول کی جاتی ہے اور میرا تعلق اپنے بندے سے تین طرح کا ہے اگر وہ موت سے پہلے توبہ کرلے گا تو میں قبول کرلوں گا۔ یا اس کی نسل میں ایسی اولاد پیدا کرتا ہوں جو مجھ کو یاد کرتی ہے اور اگر وہ (توبہ سے) منہ پھیرتا ہے تو اس کے پیچھے جہنم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے تین طرح کا تعلق (13) امام بیہقی نے شعب میں عطاء (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم کو آسمانوں کی سلطنت کی طرف اٹھایا گیا تو ایک آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اس پر بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر اوپر اٹھایا گیا ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا اس پر بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا۔ اور پھر اور اوپر اٹھایا گیا ایک آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا تو اس پر بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا۔ پھر ایک آدمی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اس پر بددعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا کہا گیا اے ابراہیم ٹھہر جاؤ تو ایک ایسا آدمی ہے کہ تیری دعا قبول کی جاتی ہے۔ اور میرا تعلق اپنے بندوں سے تین طرح کا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے گا تو میں اس کی توبہ قبول کرلوں گا۔ یا اس میں سے نیک اولاد پیدا کروں گا جو میری عبادت کرے گی۔ یا پھر وہ اسی حالت میں سرکشی کرتا رہے گا جس میں وہ ہے تو جہنم اس کے پیچھے ہے۔ (14) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض ولیکون من الموقنین کے بارے میں فرمایا یعنی آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا لفظ آیت ولیکون من الموقنین جب ظاہر ہوگیا معاملہ اس کا پوشیدہ بھی اور اس کا اعلانیہ بھی اور کوئی چیز ان پر چھپی نہیں رہی مخلوق کے اعمال میں سے۔ جب گناہ گار لوگوں کو لعنت کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی حالت پر لوٹا دیا جس پر آپ پہلے تھے۔ (15) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک جابر اور متکبر حکمران سے بھاگ کر ایک تہہ خانے میں پناہ لی تو آپ کا رزق آپ کے اعضاء میں رکھ دیا گیا جب بھی آپ کوئی انگلی چوستے تھے تو اللہ تعالیٰ اسی سے آپکو خوراک عطا فرما دیتا۔ جب آپ اس تہ خانے سے باہر آئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی دکھائی آپ کو سورج چاند ستارے بادل اور بہت بڑی مخلوق کا مشاہدہ کرایا۔ اور زمین کی بادشاہی بھی دکھائی۔ چناچہ آپ نے پہاڑوں سمندروں دریاؤں درختوں ہر قسم کے چوپائے دیگر کیڑے مکوڑے اور عظیم مخلوق کا مشاہدہ فرمایا لفظ آیت فلما جن علیہ الیل راکوکبا پھر جب ان پر رات چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا بیان کیا گیا کہ وہ ستارہ زہراہ تھا وہ عشاء کے وقت طلوع ہوا۔ لفظ آیت قال ھذا ربی فلما افل قال لا احب الافلین فرمایا کہ یہ میرا رب ہے پھر جب وہ ڈوب گیا تو فرمایا میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ آپ نے جان لیا کہ آپ کا رب تو دائمی ہے ہمیشہ رہنے والا ہے وہ کبھی بھی زائل اور ختم نہیں ہوگا۔ لفظ آیت لما را القمر بازغا قال ھذا ربی پھر جب چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا کیا یہ میرا رب ہے ؟ یعنی آپ نے پہلی تخلیق سے مزید بڑی تخلیق کا مشاہدہ کیا۔ تو پھر سوالیہ انداز میں فرمایا کیا یہ میرا رب ہے لیکن پھر جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں بھی ضرور اس قوم سے ہوجاتا۔ پھر جب سورج کو جگمگاتے ہوئے دیکھا یعنی ایک ایسی تخلیق کا مشاہدہ فرمایا جو جسامت کے اعتبار سے پہلی دونوں سے بڑی اور اعظم ہے۔ ان سے بڑھ کر منور اور روشن ہے تو پھر فرمایا کیا یہ میرا رب ہے یہ تو ان سے بڑا ہے۔ (16) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم کے حال میں سے یہ تھا کہ پہلا بادشاہ جو زمین پر اس کے مشرق اور اس کے مغرب کا بادشاہ تھا۔ وہ نمرود بن کنعان بن کوش بن سام بن نوح تھا۔ وہ بادشاہ جن کی پوری زمین پر بادشاہی تھی وہ چار ہیں۔ ابن کنعان سلیمان بن داؤد القرنین بخت نصر دو مسلمان اور دو کافر تھے (ہوا یہ کہ) ایک ستارہ نمرود پر طلوع ہوا جس سے سورج اور چاند کی روشنی چلی گئی۔ وہ اس سے گھبرایا اور اس نے جادو گر کا ہن قافیہ شناس اور جانچ پرکھ کو بلوایا اور ان سے اس بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا تیرے ملک میں ایک آدمی نکلے گا۔ اس کی وجہ سے تیری اور تیرے ملک کی ہلاکت ہوگی۔ اس کا مسکن بابل کوفہ ہوگا۔ وہ اس بستی سے دوسری بستی کی طرف نکلا مردوں کو نکال دیا اور عورتوں کو چھوڑ دیا اور حکم دیا جو بچہ پیدا ہو اس کو ذبح کریں۔ (اس طرح) اس نے ان کے بچوں کو ذبح کردیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ پھر اس کو شہر میں جانے کو ضرورت پیش آئی۔ آزر ابراہیم کے والد اسے کسی پر اعتبار نہیں تھا۔ اس کو بلایا اور بھیجا اس سے کہا دیکھو اپنی بیوی پر واقع نہ ہوجانا۔ آزرنے کہا میں زیادہ حریص ہوں اپنے دین کے ساتھ جب وہ بستی میں داخل ہوا اپنی بیوی پر نظر پڑی تو اپنے آپ کو قابو نہ کرسکا اور اس پر واقع ہوگیا اس کو لے کر کوفہ اور بصرہ کے درمیان ایک بستی میں چلے گئے جس کو آزر کہا جاتا تھا۔ اس کو ایک تہہ خانہ میں رکھ دیا۔ اس کے کھانے اور دوسری ضروریات کی نگہداشت کرتا رہتا تھا۔ بادشاہ پر جب معاملہ لمبا ہوگیا تو اس نے کہا جادوگر کی بات جھوٹوں میں ہے۔ لوٹ جاؤ اپنے شہروں کو سب لوگ (اپنے گھروں کو) لوٹ آئے اور ابراہیم ولادت باسعادت ہوئی اور آپ اتنی تیزی سے جوان ہوئے گویا ایک دن ایک ہفتہ کے برابر ایک ہفتہ ایک ماہ کے برابر ہے۔ اس کی جوانی سے سرعت سے بادشاہ اس بات کو بھول گیا ابراہیم بڑے ہوگئے اور ان کے اور ان کے والدین کے علاوہ کوئی مخلوق نہیں دیکھی تھی۔ ابراہیم کے والد نے کہا اپنے ساتھیوں سے۔ میرا ایک بیٹا ہے میں نے اس کو چھپایا ہے۔ تو کیا تم اس پر بادشاہ کو خوف زدہ کرو گے، کہ میں اس کو (یعنی اپنے بیٹے کو) لے آؤں انہوں نے کہا اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ وہ گیا اور اس کو باہر نکال لایا۔ جب لڑکا تہہ خانہ سے نکلا تو دیکھا چوپاؤں کو (دوسرے) جانوروں کو اور مخلوق کو تو اس نے اپنے باپ سے پوچھنا شروع کیا اور کہتا رہا یہ کیا ہے تو وہ اس کو بتاتا اونٹ کے بارے میں کہ وہ اونٹ ہے اور گائے کے بارے میں کہ وہ گائے ہے۔ اور گھوڑے کے بارے میں کہ وہ گھوڑا ہے۔ اور بکری کے بارے میں کہ وہ بکری ہے۔ پھر اس نے کہا کہ ان (ساری مخلوق) کے لئے ضروری ہے کہ ان کا کوئی پالنے والا ہو۔ تہہ خانہ سے جب نکلے تو سورج غروب ہوچکا تھا اور آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو اچانک وہ ایک مشتری (ستارہ) تھا فرمایا یہ میرا رب ہے۔ کچھ دیر بعد وہ غائب ہوگیا۔ تو فرمایا میں ایسے کو پسند نہیں کرتا جو غائب ہوجاتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا مہینہ کے آخر میں تشریف لائے۔ اس لئے چاند نہیں دکھائی دیا ستارہ سے پہلے۔ جب آخری رات ہوئی چاند کو چمکتا ہوا دیکھا وہ طلوع ہوچکا تھا۔ فرمایا یہ میرا رب ہے۔ جب وہ چھپ گیا (اور) غائب ہوگیا لفظ آیت قال لئن لم یھدنی ربی لا کونن من القوم الضالین پھر جب صبح کو سورج چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا لفظ آیت قال ھذا ربی ھذا اکبر اور فرمایا لفظ آیت فلما افلت قال یقوم انی بری مما تشرکون اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تو اسلام لے آیا فرمایا میں فرمانبردار ہوگا رب العالمین کے لئے۔ ابراہیم نے اپنی قوم کو بلایا اور انکو ڈرانا شروع کیا اور ان کے والد بتوں کو بناتے اور اپنی اولاد کو دیتے تھے تو وہ ان کو بیچ دیتے تھے۔ ان کو بھی ایک بت دیا تو انہوں نے آواز لگائی کون اس کو خریدے گا جو نہ نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ ان کے بھائی اپنے بتوں کو بیچ کر واپس لوٹتے تھے۔ ابراہیم اپنے بتوں کو اپنی اصلی حالت میں واپس لے آتے۔ پھر اپنے باپ کو حق کی دعوت دی اور فرمایا لفظ آیت یابت لم تعبد ما لا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا پھر ابراہیم بت خانہ کی طرف لوٹے اچانک وہ بت بڑے کمرے میں تھے۔ کمرے کے دروازے کے سامنے بڑا بت تھا اس کی ایک جانب کی طرف اس سے چھوٹا بت تھا اس کے بعض بت بعض کی جانب تھے۔ ہر بت اس میں چھوٹے بت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ بڑے ہال کے دروازہ کو پہنچتے تھے۔ اچانک انہوں نے ایک کھانا اپنے معبودوں کے آگے رکھ دیا اور کہا جب ہم لوٹیں گے تو ہمارے خدا اپنے کھانے اور اپنے پینے سے رک چکے ہوں گے (یعنی کھاچکے ہوں گے) جب ان کی طرف ابراہیم نے دیکھا اور جو ان بتوں کے آگے تھا کھانے میں سے فرمایا کیا تم نہیں کھاتے ہو۔ جب انہوں نے جواب نہ دیا تو فرمایا تمہیں کیا ہوا کہ تم بولتے نہیں۔ پھر ابراہیم اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو (توحید کی طرف) بلایا آپ اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ڈراتے رہے ان لوگوں نے ان کو ایک گھر میں بند کردیا۔ اور ان کے لئے لکڑیاں جمع کیں۔ یہاں تک کہ ایک مریض عورت یہ کہتی تھی اگر اللہ نے مجھے عافیت دی تو میں ابراہیم کے لئے ضرور لکڑیاں جمع کروں گی جب انہوں نے جمع کرلیں اور لکڑیوں کی کثرت ہوگئی یہاں تک کہ اگر ایک پرندہ اوپر سے گزرے تو وہ جل جائے شعلوں کی شدت اس کی بھڑک اور اس کی گرمی سے۔ اب انہوں نے ان کو ڈالنے کا ارادہ کیا۔ تو ان کو ایک عمارت کی چوٹی پر لے گئے۔ ابراہیم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو آسمان پہاڑ اور فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ابراہیم تیری وجہ سے جلائے جا رہے ہیں۔ اللہ نے فرمایا میں اس کو زیادہ جانتا ہوں۔ اگر وہ تم کو پکارے تو اس کی مدد کرو اور ابراہیم نے فرمایا جب انہوں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اے اللہ تو اکیلا آسمان میں اور میں اکیلا ہوں زمین میں میرے علاوہ کوئی تیری عبادت نہیں کرتا۔ اللہ میرے لئے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ انہوں نے ان کو آگ میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آواز دی اور فرمایا لفظ آیت ینار کونی بردا وسلم ا علی ابراہیم اے آگ تو ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا ابراہیم پر اور جبرئیل وہی آواز دینے والے تھے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر ٹھنڈک پیچھے سلامتی نہ ہوتی تو ابراہیم سردی سے مرجاتے اور زمین پر کوئی آگ باقی نہیں رہی مگر وہ بجھ گئی میں نے گمان کیا کہ اللہ کی فرمانبرداری ہوگئی جب آگ بجھ گئی تو لوگوں نے ابراہیم کی طرف دیکھا اچانک (زندہ ہے) اور ایک دوسرا آدمی اس کے ساتھ ہے۔ اور ابراہیم کا سر اس کی گود میں ہے۔ اس کی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہا ہے۔ اور ذکر کیا گیا کہ یہ آدمی سائے کا فرشتہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کو اتارا تاکہ اس کے ذریعہ آدم کے بیٹے نفع اٹھائے لوگوں نے ابراہیم کو نکالا اور ان کو بادشاہ کے پاس لے گئے۔ اس سے پہلے اس کے پاس جانا نہیں ہوا تھا اور اس سے بات کی۔ (17) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت رای کوکبا میں کوکب سے مراد ہے مشتری ستارہ۔ اور وہ مغرب کے وقت قبلہ کی طرف طلوع ہوتا ہے۔ (18) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے زید بن علی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت رای کوکبا میں کوکب سے مراد زہرہ ستارہ ہے۔ (19) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلما افل ای ذھب یعنی وہ چلا گیا۔ (20) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت فلما افلت کے بارے میں بتایئے فرمایا جب سورج آسمان کے وسط سے زائل ہوگیا۔ عرض کیا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے کعب ابن مالک انصاری کو نہیں سنا۔ اور وہ نبی ﷺ کا مرثیہ کہتے ہوئے کہتا ہے، فتغیر القمر المنسیر لفقدہ والشمس قد کسفت وکاوت تافل ترجمہ : چمکتا ہوا چاند اپنے غروب ہونے کے سبب متغیر ہوگیا اور سورج گرہن زدہ ہوا اور زائل ہونے کے قریب ہوگیا۔ پھر پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت حنیفا کے بارے میں بتائیے فرمایا خالص دین پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حمزہ بن عبد المطلب کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا حمدت اللہ حین ھدی فوادی الی الاسلام والدین الحنیف ترجمہ : میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کی جب اس نے میرے دل کو اسلام اور خالص دین کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اور فرمایا کہ ایک اور آدمی نے بنو عبد المطلب اور ان کی فضیلت کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے اقیمولنا دینا حنیفا فانتھوا لنا غایۃ قد نھتدی بالذوائب ترجمہ : تم ہمارے لئے خالص دین قائم کرو پس تم ہماری منزل ہو ہم سواریوں سمیت ہدایت پاتے ہیں۔ (21) امام ابو الشیخ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت حنیفا سے مراد ہے لفظ آیت مخلصا یعنی خالص ہوکر۔ (22) امام مسلم نسائی اور ابن مردویہ نے عیاض بن حمار المجاشعی ؓ سے روایت کیا کہ وہ نبی ﷺ کے خطبہ کے وقت حاضر تھے۔ انہوں نے اس کو سنا کہ آپ فرما رہے تھے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم فرمایا ہے کہ میں تم کو وہ چیز سکھاؤں جو تم اپنے دین میں سے نہیں جانتے ان چیزوں میں سے جو مجھ کو آج کے دن سکھایا گیا۔ ہر قوم کا وہ مال جو تو نے غلام کو دیا وہ اس کے لئے حلال ہے۔ میں نے اپنے سب بندوں کو حنیف پیدا کیا۔ پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور ان کو ان کے دین سے پھیر دیا۔ اور ان پر حرام کردیا۔ جو میں نے ان کے لئے حلال کیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ شریک ٹھہراتے جب تک کہ کوئی دلیل اور حجت نازل نہ کروں۔ (23) امام احمد، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن مردویہ اور امام بیہقی نے سنن میں علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے پھر فرماتے لفظ آیت وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین لا شریک لہ وبذلک امرت انا اول المسلمین
Ayahs 6:80–81

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس کی قوم نے حجب بازی کی تو اس نے جواب میں کہا کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حجت بازی کرتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت عطا فرمادی، اور میں ان سے نہیں ڈرتا جن کو تم اس کا شریک بناتے ہو مگر ہاں جو کچھ میرا رب چاہے، میرے پروردگار کا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں کیونکر ان سے ڈروں جنہیں تم نے شریک بنایا ہوا ہے حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنا لیا ہے جس کی کوئی دلیل تم پر اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ سو دونوں فریقوں میں کون امن کا مستحق ہے اگر تم جانتے ہو۔

(1) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحاجہ قومہ یعنی آپ کی قوم آپ سے جھگڑنے لگی۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قال اتحاجونی یعنی کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو۔ (3) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت اتحاجونی نون مشدد کے ساتھ۔ (4) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت وحاجہ قومہ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارا اور پھر فرمایا لفظ آیت وحاجہ قومہ قال اتحاجونی فی اللہ وقد ھدن یعنی میں نے اپنے رب کو پہچان لیا انہوں نے آپ کو اپنے معبودوں کے ذریعہ ڈرایا کہ ان کی طرف سے ان کو کوئی مصیبت نہ پہنچ جائے۔ (اور فرمایا) لفظ آیت ولا اخاف ماتشرکون بہ پھر فرمایا لفظ آیت وکیف اخاف ما اشرکتم ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ یعنی میں ان سے نہیں ڈرتا جنہیں تم شریک بناتے ہو اور پھر فرمایا اے مشرکو ! میں کیسے ڈروں ان سے جن کو تم نے شریک بنایا ہے حالانکہ تم نہیں ڈرتے اس سے کہ تم نے شریک بنایا۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فای الفریقین احق بالامن یہ قول ابراہیم کا ہے جب ان سے پوچھا کہ دو فریقوں میں سے کوئی زیادہ حقدار ہے امن کا اور یہ ابراہیم کی حجت میں سے ہے۔ (6) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فای الفریقین احق بالامن کیا جو غیر اللہ سے ڈرتا ہے اور اس ذات سے نہیں ڈرتا یا جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کے غیر سے (کسی سے) نہیں ڈرتا اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لئے امان ہے اور وہی راہ یافتہ ہیں۔

(1) امام احمد بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، دارقطنی نے الافراد میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم تو لوگوں پر یہ حکم بھاری گزرا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہ کیا ہو آپ نے فرمایا یہ وہ نہیں ہے جو تم مراد لیتے ہو۔ کیا تم نے نہیں سنا نیک بندے نے کیا کہا کہ لفظ آیت ان الشرک لظلم عظیم اس سے مراد شرک ہے۔ (2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم فرمایا تم کیا کہتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا اس کا معنی کہ انہوں نے ظلم نہیں کیا فرمایا تم کو یہ امر انتہائی بھاری محسوس ہوا ہے یہاں ظلم سے مراد شرک ہے کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا لفظ آیت ان الشرک لظلم عظیم (3) امام ابو الشیخ نے عمر بن خطاب سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ولم یلبسوا ایمانھم بظلم یعنی ظلم سے مراد شرک ہے۔ (4) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابو عبید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لم یلبسوا ایمانھم بظلم میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ (5) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت لفظ آیت ولم یلبسوا ایمانھم بظلم کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا اس سے مراد شرک ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا لفظ آیت ان الشرک لظلم عظیم (6) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے چند طریق سے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لم یلبسوا ایمانھم بظلم سے مراد شرک ہے۔ سب سے بڑا ظلم شرک ہے (7) امام ابن منذر، حاکم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو اپنے مصحف کو کھول کر پڑھتے ایک دن وہ داخل ہوئے اور سورة انعام پڑھی اور اس آیت پر آئے۔ لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم آیت کے آخر تک تو جلدی سے پاؤں اٹھایا اپنی چادر کو پکڑا پھر ابی بن کعب کے پاس آئے فرمایا اے ابو المنذر میں اس آیت لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم پر آیا۔ ہم نے دیکھا کہ ہم ظلم کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اے امیر المومنین یہ ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت ان الشرک لظلم عظیم اس سے مراد شرک ہے۔ (8) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لم یلبسوا ایمانھم بظلم سے مراد شرک ہے۔ (9) امام عبد بن حمید، اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولم یلبسوا ایمانھم بظلم یعنی ظلم سے مراد بتوں کی عبادت کرنا ہے۔ (10) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لم یلبسوا ایمانھم بظلم یعنی انہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ (11) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کیا ہے) اور ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم یہ آیت ابراہیم اور ان کے اصحاب کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی۔ یہ اس امت کے بارے میں نہیں ہے۔ (12) امام احمد، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں جریر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔ جب ہم مدینہ منورہ سے نکلے۔ تو ایک سوار ہماری طرف آرہا تھا۔ وہ ہماری طرف پہنچا اور ہم کو سلام کیا نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تو کہاں سے آیا ہے۔ اس نے کہا اپنے اہل و عیال سے اپنی اولاد سے اور اپنے کنبہ سے آرہا ہوں اور میں رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تو نے اس کو پا لیا۔ اس نے کہا مجھ کو بتایئے ایمان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں تو نماز کو قائم کر اور زکوٰۃ کو ادا کر رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر اس نے کہا میں نے اقرار کرلیا پھر اس کے اونٹ کے اگلے پاؤں شکاری کے جال ایک خالی کنویں میں داخل ہوگئے۔ وہ اونٹ گرا تو آدمی اپنی کھوپڑی کے بل نیچے آگرا اور مرگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے تھوڑا عمل کیا اور کثیر اجر پایا۔ یہ ان لوگوں میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون میں نے حورعین کو دیکھا کہ وہ اس کے منہ میں جنت کے پھل ڈال رہی ہے اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ آدمی بھوکا فوت ہوا۔ ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ ملوث نہ کرنے کی فضیلت (13) امام حکیم ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور رات کو چل رہے تھے اچانک ایک دیہاتی آپ کے پاس آگیا اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں نکلا اپنے شہر سے اور اپنی اولاد سے تاکہ میں آپ کی ہدایت کے ساتھ ہدایت حاصل کروں آپ کے قول کو مضبوطی سے تھام لوں لہذا آپ مجھ پر پیش کیجئے۔ آپ خالی زمین کے سوراخ میں داخل ہوگئے جس سے وہ دیہاتی نیچے آگرا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کے بارے میں سنا جس کا عمل تھوڑا ہے اور اس کا اجر بہت زیادہ ہو یہ (آدمی) ان میں سے ہے کیا تم نے سنا ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم یعنی شرک کے ساتھ ملوث نہیں کیا یہ (آدمی) ان میں سے ہے۔ (14) امام ابن ابی حاتم نے بکر بن سوادہ (رح) سے روایت کیا کہ دشمن میں سے ایک آدمی نے مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا اور ایک آدمی کو قتل کردیا۔ پھر اس نے ہتھیار اٹھایا اور دوسرے کو قتل کردیا۔ پھر اس نے ہتھیار اٹھایا اور تیسرے کو قتل کردیا پھر اس نے کہا کیا اس کے بعد اسلام مجھ کو نفع دے گا۔ صحابہ نے کہا ہم نہیں جانتے یہ بات رسول اللہ ﷺ انہوں نے ذکر کی کیا آپ نے فرمایا ہاں (چنانچہ وہ اسلام لے آیا) (اس کے بعد) اس نے اپنے گھوڑے کو دوڑایا اور مسلمانوں میں داخل ہوگیا پھر اپنے ساتھیوں پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ پھر دوسرے کو قتل کردیا پھر خود بھی شہید ہوگیا راوی نے کہا صحابہ کرام یہ خیال کرتے تھے یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی یعنی لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم (15) امام عبد بن حمید نے ابراہیم تمیمی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا آپ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آیا اور مسلمان ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر ٹھہرا تھا یہاں تک کہ اس نے قتال کیا۔ اور شہید ہوگیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم یعنی شرک کے ساتھ ملوث نہیں کیا۔ (16) امام بغوی نے معجم میں، ابن ابی حاتم، ابن قانع، طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں سنجرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی امتحان میں مبتلا کیا گیا پھر اس نے صبر کیا۔ جس کو دیا گیا تو اس نے شکر کیا۔ جس پر ظلم کیا تو اس نے معاف کردیا۔ اور جس نے ظلم کیا اور پھر معافی مانگ لی پھر نبی ﷺ خاموش رہے کہا گیا یا رسول اللہ یہ کس کے لئے کہا ہے۔ آپ نے فرمایا لفظ آیت اولئک لھم الامن وھم مھتدون
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری حجت تھی جو ہم نے ابراہین کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی۔ ہم جس کو چاہیں مرتبوں کے اعتبار سے بلند کرتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب حکمت والا علم والا ہے۔

(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتلک حجتنا اتینھا ابراھیم علی قومہ یعنی یہ آیت اس جھگڑے کے بارے میں ہے جو ابراہیم اور ان کی قوم کے درمیان تھا۔ اور یہ وہی جھگڑا ہے جو آپ کے اور اس جابر و سرکش حکمران نمرود کے درمیان تھا۔ (2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتلک حجتنا اتینھا ابراہیم علی قومہ (اور وہ ہمارے) دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دی تھی ان کی قوم پر یعنی ان کے جھگڑا کرنے والوں پر۔ (3) امام ابو الشیخ نے مالک بن انس کے طریق سے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتلک حجتنا اتینھا ابراہیم علی قومہ یعنی (یہ دلیل تھی) ان کے جھگڑا کرنے والوں پر۔ (4) امام ابو الشیخ نے مالک بن انس کے طریق سے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت نرفع درجت من نشآء یعنی علم کے ذریعہ (ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں) (5) امام ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ علماء کے لئے ایسے ہی درجات ہیں جیسے شہداء کے درجات۔
Ayahs 6:84–88

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ایک کو ہم نے ہدایت دی۔ اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی اور ان کی ذریت سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو۔ اور ہم اسی طرح نیک کاروں کو جزا دیتے ہیں۔

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا کو اور یحییٰ کو اور عیسیٰ کو اور الیاس کو، سب صالحین میں سے ہیں۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل کو اور الیسع کو اور یونس کو اور لوط کو۔ اور سب کو ہم نے فضیلت دی جہانوں پر۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے کچھ باپ دادوں اور کچھ اولاد اور کچھ بھائیوں کو اور ہم نے ان کو چن لیا اور ان کو ہدایت دی سیدھے راستے کی طرف۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔ اگر یہ حضرات شرک اختیار کرلیتے تو جو اعمال کیا کرتے تھے وہ سب حبط ہوجاتے۔

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو الحرب بن ابوالاسود (رح) سے روایت کیا کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کی طرف لکھ بھیجا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حسن اور حسین ؓ نبی ﷺ کی اولاد میں سے ہیں اور تو اس کو اللہ کی کتاب میں پاتا ہے۔ اور میں نے اس کو اول سے لے کر آخر تک پڑھا ہے۔ مگر میں نے اس کو نہیں پایا۔ تو یحییٰ بن یعمر نے فرمایا کیا تو نے سورة انعام نہیں پڑھی لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت ویحییٰ و عیسیٰ تک اور فرمایا کیا عیسیٰ ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں ہیں حالانکہ وہ ان کے باپ نہیں ہیں حجاج نے کہا تو نے سچ کہا ہے۔ (2) امام ابو الشیخ، حاکم اور بیہقی نے عبد المالک بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ یحییٰ بن یعمر حجاج کے پاس آئے حسین ؓ کا ذکر کیا یا تو حجاج نے کہا وہ نبی ﷺ کی اولاد میں سے نہیں ہے یحییٰ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا ہے حجاج نے کہا میرے پاس اس بات کے گواہ لاؤ جو آپ نے بات کہی ہے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت و عیسیٰ والیاس تک کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں اس کی ماں کی طرف سے حجاج نے کہا آپ نے سچ کہا۔ (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ ماموں والد ہے۔ اور چچا بھی والد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کا نسب اس کے ماماؤں کی طرف کیا ہے اور فرمایا لفظ آیت ومن ذریتہ سے لے کر لفظ آیت و زکریا ویحییٰ و عیسیٰ تک۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب کلا ھدینا ونوحا ھدینا اور ابراہیم کے بارے میں فرمایا لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت واسمعیل والیسع ویونس ولوطا وکلا فضلنا علی العلمین تک پھر ان انبیاء کے بارے میں فرمایا جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نام لیا اور فرمایا لفظ آیت فبھدھم اقتدہ (یعنی انہی کے طریقہ پر آپ بھی چلیں) (5) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واجتبینھم سے مراد ہے لفظ آیت اخلصناھم (یعنی ہم نے ان کو خالص کرلیا) (6) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو اشرکوا لحبط عنھم ما کانوا یعملون سے ان لوگوں کا ارادہ فرمایا کہ جن کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کو ہدایت دی اور ہم نے ان کو فضیلت دی ہے۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ حضرات ہیں جن کو ہم نے کتاب دی اور حکمت اور نبوت عطا کی، سو اگر زمانہ موجود کے لوگ نبوت کا انکار کریں تو ہم نے اس کے لئے بہت سے لوگ ایسے مقرر کردیئے ہیں جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ہیں۔

(1) امام ابن ابی حاتم نے حوثرہ بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کو سنا کہ اس نے حسن (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت اولئک الذین اتینھم الکتب والحکم والنبوۃ کے بارے میں سوال کیا اے ابو سعید یہ کون لوگ ہیں فرمایا وہ لوگ ہیں جو اس آیت کے شروع میں ہیں (یعنی آیت کے شروع میں جن کا ذکر کیا گیا) (2) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اولئک الذین اتینھم الکتب والحکم کے بارے میں فرمایا کہ لفظ آیت الحکم سے مراد ہے عقل اور سمجھ۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فان یکفر بھا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مکہ (اے مرد ہیں فرماتے ہیں) اگر انہوں نے قرآن کا انکار کیا لفظ آیت فقد وکلنا بھا قوما لیسوا بھا بکفرین (ہم نے اس کے لئے ایسے بہت لوگ مقرر کردیئے ہیں جو اس کا انکار نہیں کرتے) یعنی مدینہ والے اور انصار۔ (4) امام عبد الرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فان یکفر بھا ھولآء سے اہل مکہ اور کفار قریش مراد ہیں (پھر فرمایا) لفظ آیت فقد وکلنا بھا قوما لیسوا بھا بکفرین اور اس سے مراد انبیاء ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اٹھارہ بیوں کو بیان فرمایا اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فبھدھم اقتدہ (5) امام ابی ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو جاء العطاری سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فان یکفربھا ھولآء فقد وکلنابھا قوما لیسوا بھا بکفرین کے بارے میں فرمایا اس سے فرشتے مراد ہیں۔ (6) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایمان والوں نے اختیار کرلیا تھا ایمان کو یعنی پہلے اس سے کہ ان کے پاس رسول اللہ تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کو نازل فرمایا تو مکہ والوں نے اس کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فان یکفربھا ھولآء فقد وکلنابھا قوما لیسوا بھا بکفرین (7) امام عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں انہوں نے فرمایا اگر مکہ والوں نے اس (قرآن کا) انکار کیا ہے تو ہم نے اہل مدینہ میں سے انصار کو مقرر کردیا ہے اس کے ماننے کے لئے۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی سو آپ ان کی ہدایت کا اقتداء کریں۔ آپ فرما دیجئے کہ میں تو اس پر تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا یہ تو صرف نصیحت ہے جہانوں کے لئے۔

(1) امام سعید بن منصوری، بخاری، نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت اولئک الذین ھدی اللہ فبھدھم اقتدہ یعنی رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ ان انبیاء کی ہدایت کی اقتداء کریں اور آپ سورة ص میں سجدہ کرتے تھے۔ اور ابن ابی حاتم کے الفاظ میں صحابہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس سے پوشھا اس سجدہ کے بارے میں جو سورة ص میں ہے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ تمہارے نبی کو حکم کیا گیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی اقتداء کریں۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا پھر اس بات کا حکم فرمایا کہ آپ ان کی اقتدا کریں۔ (3) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت فبھدھم اقتدہ کو وصل کلام میں ظاہر کر کے پڑھا ہے۔ اور اس میں ادغام نہیں کیا۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل لا اسئلکم علیہ اجرا کے بارے میں فرمایا اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجئے کہ میں تم سے سوال نہیں کرتا کسی دنیا کے سامان کا اس دین کے بدلے میں جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں۔ واللہ اعلم
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسے پہچاننی تھی جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی بھی چیز نازل نہیں فرمائی، آپ فرما دیجئے کہ کس نے اتاری وہ کتاب جسے موسیٰ لے کر آئے جو نور تھی اور لوگوں کے لئے ہدایت تھی۔ تم نے اسے الگ الگ ورقوں میں کر رکھا ہے جنہیں تم ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپاتے ہو اور تم کو وہ باتیں بتائی گئی ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں جانا۔ آپ فرمادیجئے کہ اللہ نے نازل فرمایا۔ پھر ان کو چھوڑ دیجئے اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں گے۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جو ایمان نہیں لاتے اللہ کی اس قدرت کے ساتھ سو جو شخص ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تو اس نے اللہ تعالیٰ کو پہچان لیا۔ اور جو شخص اس کے ساتھ ایمان نہیں لاتا تو وہ ایمان نہیں لایا اللہ کے ساتھ اس کی ذات کو پہچانتے ہوئے (پھر فرمایا) لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ اذقالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیء یعنی بنی اسرائیل میں سے یہود نے کہا اے محمد ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے تیرے اوپر کتاب نازل کی ہے فرمایا ہاں تو کہنے لگے اللہ کی قسم اللہ نے آسمان سے کوئی کتاب نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اے محمد ﷺ فرمادیجئے لفظ آیت من انزل الکتب الذی جآء بہ موسیٰ نورا وھدی للناس سے لے کر لفظ آیت انتم ولا اباوکم قل اللہ تک۔ (2) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ یعنی انہوں نے نہیں پہچانا کہ اللہ کی عظمت شان کیا ہے کیونکہ انہوں نے اسے جھٹلادیا۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ یعنی انہوں نے اللہ کی تعظیم نہیں کی جیسے حق تھا اس کی تعظیم کا۔ (4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ اذقالوا ماانزل اللہ علیہ بشر من شیء یہ بات قریش کے مشرکین نے کہی۔ (5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اذ قالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیء اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ فخاص یہودی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ (6) امام ابن جریر اور ابن منذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت اذقالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیء مالک بن الصیف کے بارے میں نازل ہوئی۔ موٹے عالم سے اللہ کا بغض رکھنا (7) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی یہودیوں میں سے آیا جس کو مالک بن الصیف کہا جاتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ سے جھگڑا کیا تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا میں تجھے اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تورات کو موسیٰ پر نازل فرمایا کیا تو تورات میں اس بات کو پاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم سے بغض رکھتے ہیں اور وہ موٹا عالم تھا۔ یہ سن کر وہ غضبناک ہوگیا اور کہنے لگا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نہیں اتاری۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا ہلاکت ہو تجھ پر کیا موسیٰ پر (کتاب نہیں اتری گئی) تو اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نہیں اتاری۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ (8) امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہود میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اس حال میں کہ آپ گوٹھ مار کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم ہمارے لئے کیوں کتاب نہیں لاتا آسمان سے۔ جیسے موسیٰ تختیاں لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا یعنی لفظ آیت یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (النساء آیت 153) یہود میں سے ایک آدمی تیزی کے ساتھ انگلیوں کے بل اٹھا اور کہہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور موسیٰ پر اور عیسیٰ پر اور نہ کسی اور پر کوئی چیز نازل کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ (9) امام ابو الشیخ نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حکم فرمایا کہ اہل کتاب سے اپنے بارے میں پوچھیں کہ تم اپنی کتابوں میں کیسے پاتے ہو۔ تو ان کو حسد سوار ہوگیا کہ وہ اللہ کی کتاب کا اور اس کے رسولوں کا انکار کرکے کہنے لگے لفظ آیت ما انزل اللہ علی بشر من شیء تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت وما قدروا اللہ حق قدرہ پھر فرمایا اے محمد تم رجوع کرو اپنے لئے خبیر کی طرف (یعنی اللہ کی طرف) پھر یہ آیت اتاری کہ لفظ آیت الرحمن فسئل بہ خبیرا اور فرمایا لفظ آیت ولا ینبئک مثل خبیرا (فاطر آیت 14) (10) امام بیہقی نے شعب میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ زیادہ گوشت کھانے والے (یعنی موٹے) گھر والوں اور موٹے عالم سے بغض رکھتے ہیں۔ (11) امام بیہقی نے جعدہ الجشمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ ایک آدمی آپ کو اپنا خواب بیان کررہا تھا۔ اس نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنے پیٹ کو کسی چیز کے ساتھ جو اس کے ہاتھ میں تھی لگائے ہوئے ہے اور کہہ رہتا ہے۔ اگر اس کا بعض اس کے غیر میں ہوتا تو یہ فرشتے سے بہتر ہوتا۔ (12) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیرا سے یہودی مراد ہیں اور لفظ آیت وعلمتم مالم تعلموا انتم ولا اباوکم سے مسلمان مراد ہیں۔ (13) امام ابن ابی منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیرا کے بارے میں فرمایا یہ یہودیوں کی ان چیزوں کے بارے میں ہے جو انہوں نے تورات سے ظاہر کیں اور جو محمد ﷺ کے بارے میں چھپایا۔ (14) امام عبدبن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت تجعلونہ قراطیس تبدونھا و تخفون کثیرا یعنی اے گروہ عرب تم کو بتادیا گیا لفظ آیت مالم تعلموا انتم ولا اباؤکم (جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے نہیں جانا) (15) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا کہ لفظ آیت وعلمتم مالم تعلموا انتم ولا اباؤکم سے یہودی مراد ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو علم دیا لیکن اس کی پیروی نہیں کی نہ اس کو لیا اور نہ اس کے ساتھ عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی ان کے اس عمل کے بارے میں۔
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے بڑی برکت والی ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اور تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے رہنے والوں کو ڈرائیں، اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں۔

(1) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھذا کتب انزلنہ مبرک سے مراد یہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت مصدق الذی بین یدیہ یعنی یہ قرآن مجید ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ام القری ومن حولھا سے مراد ہے مکہ اور اس کے ارد گرد کے وہ دیہات جو مشرق سے مغرب کی جانب ہیں۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے عطاء و عمرو بن دینارحمۃ اللہ علیہا دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو بھیجا اس نے پانی کو پھاڑ دیا تو یہ بیت اللہ کی جگہ ظاہر ہوئی سفید جزیرہ کی طرح پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے زمین کو پھیلا دیا اسی لئے یہ بستیوں کی ماں ہے۔ (5) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ام القری سے مراد مکہ ہے۔ یہ ام القری اس لئے نام دیا گیا کہ سب سے پہلا گھر اسی میں بنایا گیا۔ زمین مکہ سے پھیلائی گئی ہے (6) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ام القری کے بارے میں فرمایا کہ وہ مکہ ہے پھر فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ زمین مکہ سے پھیلائی گئی۔ (7) امام ابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ام القری مکہ ہے۔