Ayahs 6:100–102(1) امام ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلوا للہ شرکاء الجن وخلقھم انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا دیا حالانکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا فرمایا لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت بغیر علم یعنی انہوں نے اللہ کے لئے جھوٹ گھڑے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت یعنی انہوں نے ان کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا دیں۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا یعنی انہوں نے جھوٹ بولا۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت سے مراد ہے کہ عرب نے کہا فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہود و نصاری نے کہا مسیح اور عزیز اللہ کے بیٹے ہیں۔
(5) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وخرقوالہ بنین وبنت یعنی انہوں نے اللہ کے لئے جھوٹ بولا اور یہود و نصاری نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور عرب کے مشرک لات اور عزی کے عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے عزی اللہ کی بیٹیاں ہیں فرمایا لفظ آیت سبحنہ و تعلی عما یصفون یعنی اللہ کی ذات پاک ہے اور بلند ہے ان باتوں سے جو وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
(6) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وخرقوا لہ بنین وبنت کے بارے میں بتائیے فرمایا وہ اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں بیٹے اور بیٹیوں کا اس پر جھوٹ باندھتے ہوئے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔
اخترق القول بھا لاھیا مستقبلا اشعت عذب الکلام
ترجمہ : جھوٹ گھڑ لیا اس نے مستقبل سے غافل اور کلام کے مٹھاس کو پراگندہ کردیا۔
(7) امام ابو الشیخ نے یحییٰ بن یعمر سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وجعلوا للہ شرکاء الجن وخلقھم تخفیف کے ساتھ اور فرماتے تھے کہ انہوں نے اللہ کے لئے شریک بنا دیئے جس نے ان کو پیدا فرمایا۔
(8) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت وخلقھم تشدید کے ساتھ فرماتے تھے (حالانکہ کہ) اسی نے ان کو پیدا فرمایا۔
(9) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا لفظ آیت خرقوا کیا ہے بلاشبہ وہ خفیف ہے آدمی (جب) بہت زیادہ جھوٹ بولتا ہے تو پوری قوم میں یہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ فلاں نے افترا باری کی اس نے جھوٹ گھڑ لیا ہے۔
Ayah 6:103(1) امام ابن ابی حاتم، عقیلی، ابن عدی، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت لا تدرکہ الابصار کے بارے میں فرمایا کہ انسان جن شیاطین اور فرشتے جب سے پیدا کئے گئے ہیں ان کے فنا کئے جانے تک ان کی ایک ہی صف بنا دی جائے تو وہ کبھی اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکیں ذہبی نے کہا یہ حدیث منکر ہے۔
(2) امام ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم نے اور اس کی تصحیح بھی کی ہے ابن مردویہ اور لالکائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا عکرمہ ؓ نے کہا میں نے ان سے کہا کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ؟ لفظ آیت لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار انہوں نے فرمایا وہ ایک نور ہے جب وہ اپنے نور سے تجلی فرماتے ہیں تو کوئی چیز اس کو نہیں پاسکتی۔ اور دوسرے الفاظ میں یوں ہے یعنی اللہ تعالیٰ جب اپنی کیفیت کے ساتھ تجلی فرماتے ہیں تو آنکھ اس پر نہیں ٹھہر سکتی۔ (جو نظارے کی تاب لاسکے)
(3) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت لاتدر کہ الابصار یعنی کسی کی بھی آنکھ احاطہ نہیں کرسکتی اللہ کے ساتھ یعنی اللہ کی ذات کو نہیں دیکھ سکتی۔
(4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ اس وقت ایک آدمی نے ان سے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا لفظ آیت لاتدر کہ الابصار عکرمہ نے اس سے کہا کیا تو آسمان نہیں دیکھتا ہے ؟ اس نے کہا ہاں پھر انہوں نے فرمایا پھر سب کچھ دیکھا جاسکتا ہے۔
(5) امام عبدبن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تدرکہ الابصار یعنی اللہ تعالیٰ اس سے برتر اور اعظم ہے کہ آنکھیں اس کا احاطہ کرسکیں۔
(6) امام ابو الشیخ اور بیہقی نے کتاب الرؤیہ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تدرکہ الابصار یعنی دنیا کی نظریں اس کو نہیں گھیر سکتیں اور حسن نے فرمایا اس کو اہل جنت جنت میں دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ پھر فرمایا وہ لوگ دیکھ رہے ہوں گے اللہ کے چہرہ مبارک کی طرف۔
(7) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار اس کو کوئی چیز نہیں دیکھ سکتی اور وہ ساری مخلوق کو دیکھتا ہے۔
(8) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے اسمعیل بن علیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لا تدرکہ الابصار یعنی دنیا میں نظریں اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
(9) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور لالکائی سے عبد الرحمن بن مھدی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو الحسین یحییٰ بن حصین (رح) جو مکہ کے قاری تھے۔ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لفظ آیت لاتدر کہ الابصار سے مراد ہے عقل کی آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
(10) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لاتدر کہ الابصار کے بارے میں فرمایا کہ ایک عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ میرے لئے اپنے رب کے پاس سفارش کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا کیا تو جانتی ہے کہ تو کس ذات سے سفارش طلب کر رہی ہے۔ کہ گھر لیا ہے اس کی کرسی نے آسمان کو اور زمین کو پھر اس پر جلوہ افروز ہوئے چار انگلیوں کو مقدار بھی اس میں سے کچھ زائد اور فالتو نہیں۔ پھر فرمایا اس کے لئے چڑچڑانا جیسے نیا کجاوہ چڑچڑاتا ہے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت لاتدر کہ الابصار اس کی لگاؤ رک جائے گی۔ آسمان کے کناروں پر پہنچنے سے پہلے۔ وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے قیامت کے قائم ہوجانے کا علم ایک جن کو ہوگا اچانک آسمان کے کنارے گرچکے ہوں گے۔ کوئی راستہ نہیں پائے گا۔ جو مشرق مغرب یمن اور شام کی طرف لے جاسکتا ہے۔
Ayahs 6:104–106(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد جآء کم بصائر یعنی دلائل لفظ آیت فمن ابصر فلنفسہ یعنی جو شخص ہدایت حاصل کرے تو اس نے اپنی ذات کے لئے ہدایت حاصل کی اور لفظ آیت ومن عمی یعنی جو گمراہ ہو لفظ آیت فعیلیھا تو وہ اسی پر ہے واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت ولیقولوا درست
(2) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن مردویہ اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس حرف کو یوں پڑھا لفظ آیت دارست یعنی دال کے بعد الف ہے سین ساکن اور تا پر نصب ہے۔
(3) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت درست کے بارے میں فرمایا کہ اس کا معنی ہے قرآن اور لفظ آیت تقلت یعنی آپ نے پڑھا اور سیکھا۔
(4) سعید بن منصور، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، عبد الرزاق اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت دارست کے بارے میں فرمایا میں نے خوب جھگڑا کیا اور مجادلہ کیا اور میں نے تلاوت کی۔
(5) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولیقولوا درست سے مراد ہے لفظ آیت ناقھت یعنی آپ سمجھانے میں غالب رہے اس حال میں کہ آپ نے یہود کو پڑھ کر سنایا اور انہوں نے آپ پر پڑھا۔
(6) سعید بن منصور، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، اور ابو الشیخ نے عمرو بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبد اللہ بن زبیر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ یہاں ہمارے بچے پڑھتے ہیں۔ لفظ آیت دارست اور حالانکہ وہ ہے لفظ آیت دارست یعنی سین کی فتح اور تاء کی جزم کے ساتھ اور وہ پڑھتے ہیں لفظ آیت وحرم علی قریۃ (الانبیاء آیت 29) حالانکہ وہ ہے لفظ آیت و حرام اور وہ پڑھتے ہیں لفظ آیت فی عین حمیۃ حالانکہ وہ ہے لفظ آیت حامیۃ عمرو نے کہا کہ ابن عباس ؓ ان سب میں مخالف فرماتے تھے۔
(7) امام ابن مردویہ اور حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھوایا لفظ آیت ولیقولوا درست یعنی سین کی جزم اور تاء کے نصب کے ساتھ۔
(8) امام ابو الشیخ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت درست وہ فرماتے ہیں آپ نے یہود کو خوب پڑھا اور ان کو خوب سمجھایا اور ابی کے حرف میں یوں ہے۔ لفظ آیت ولیقولوا درس بمعنی تعلیم یعنی سیکھتا ہے۔
(9) امام ابو عبید اور ابن جریر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ اور ابن مسعود ؓ کے قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ولیقولوا درس یعنی نبی ﷺ نے پڑھا۔
(10) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت درست یعنی آپ نے خوب علم حاصل کیا۔
(11) امام عبد بن حمید، ابن جریر نے ابو اسحاق ھمدانی (رح) سے روایت کی ہے کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت میں ہے لفظ آیت درست بغیر الف کے۔ سین کے نصب اور تاء کے وقف کے ساتھ۔
(12) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ولیقولوا درست یعنی آپ نے مٹادیا اور ختم کردیا۔
(13) امام سعید بن منصور نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے لفظ آیت درست تشدید کے ساتھ۔
(14) امام ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت درست اور بطور مثال کے یہ بیان کرتے تھے لفظ آیت دارس کطعم الصاب والعلقم (یعنی اس نے صاحب اور حنظل کے ذائقہ کی طرح پڑھا۔
(15) ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولیقولوا درست تاکہ وہ کہیں کہ آپ نے پڑھا اور سمجھا اس طرح آپ کو قریش کہتے تھے۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت واعرض عن المشرکین
(16) ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واعرض عن المشرکین یعنی ان سے رک جاؤ اور یہ (حکم) منسوخ ہے قتال (والی آیت) نے اس کو منسوخ کردیا۔ یعنی لفظ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم (التوبہ آیت 5)
Ayah 6:107(1) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولوشاء اللہ ما اشرکوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وماانت علیھم بوکیل میں وکیل کا معنی ہے حفیظ یعنی حفاظت کرنے والا۔
Ayah 6:108بتوں کو گالی دینے کی ممانعت
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولاتسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ کے بارے میں فرمایا کہ کافروں نے کہا اے محمد ! تم ضرور باز آجاؤ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے یا پھر ہم تیرے رب کو ضرور برا کہیں گے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو برا کہنے سے منع فرمادیا اور فرمایا لفظ آیت عدوا بغیر علم
(2) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب ابو طالب کے انتقال کا وقت قریب آیا تو قریش نے کہا چلو اس شخص سے مل کر کہیں کے اپنے بھتیجے سے ہم کو روک دے کیونکہ ہم کو شرم آتی ہے کہ اس شخص کے مرنے کے بعد جب اس کے بھتیجا کو قتل کردیں تو لوگ کہنے لگے کہ چچا اس کی حفاظت کرتا تھا چچا مرگیا تو لوگوں نے اس کو مار ڈالا چناچہ ابو سفیان، ابو جہل نضر بن حارث، امیہ بن خلف، ابی بن خلف، عقبہ بن ابی معیط، عمرو بن عاص اور اسود بن ابو النجتری چلے۔ انہوں نے ان میں سے ایک آدمی کو بھیجا جس کو مطلب کہا جاتا تھا انہوں نے کہا ہمارے لئے ابو طالب سے اجازت لو وہ ابو طالب کے پاس آیا اور کہا یہ تیری قوم کے سردار ہیں تیرے پاس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں ابو طالب نے ان کو اندر آنے کی اجازت دیدی اور وہ لوگ داخل ہوگئے ان لوگون نے کہا اے ابو طالب آپ ہمارے بزرگ اور سردار ہیں مگر محمد ﷺ نے ہم کو اور ہمارے معبودوں کو دکھ دے رکھا ہے۔ ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ تم اس کو بلاؤ اور ہمارے معبودوں کے ذکر سے اس کو منع کرو اور ہم بھی اس کے معبود کو چھوڑ دیں گے۔ (کچھ نہیں کہیں گے) ابو طالب نے بلوایا۔ نبی ﷺ تشریف لے آئے ابو طالب نے کہا یہ تیری قوم اور تیرے چچا کے بیٹے ہیں رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے کہا ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ تو ہم کو اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ دے۔ اور ہم تجھ کو اور تیرے معبود کو چھوڑ دیں گے نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں تیری یہ بات مان لوں تو کیا تم بھی میری ایک بات مان لوگے۔ جس کو مان لینے کے بعد تم عرب کے مالک بن جاؤگے اور اس کے سبب عجم کا مزاج بھی تمہارے قریب ہوجائے گا۔ ابو جہل نے کہا تیرے باپ کی قسم ہم وہ اور اس کی مثل دیں اور بھی کہیں گے بتائیے وہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا تم کہو لفظ آیت لا الہ الا اللہ قریش نے انکار کردیا اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ ابو طالب نے کہا اس کے علاوہ کوئی اور بات کہو (یہ مان لیں گے) تیری قوم اس سے گھبرا گئی ہے۔ آپ نے فرمایا اے چچا میں کوئی اور بات کہنے والا نہیں یہاں تک کہ وہ سورج کو لے کر میرے ہاتھ پر رکھ دیں اگر وہ سورج کو لے کر میرے ہاتھ میں رکھ دیں تو میں ان کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کے ارادہ سے اس کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ اس پر قریش غضب ناک ہوگئے اور کہنے لگے تجھے چاہئے کہ ضرور ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے باز آجائے ورنہ ہم تجھے اور جو تجھ کو حکم دیتا ہے اس کو برا کہیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم
(3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان کافروں کے بتوں کو برا کہتے تھے تو کافر بھی اللہ تعالیٰ کو برا بھلا کہنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ
(4) امام ابو الشیخ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت کذلک زینا لکل امۃ عملھم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مزین کردیئے ہیں ہر امت کے لئے ان کے عملوں کو جو وہ عمل کرتے ہیں یہاں تک کہ اس پر وہ مرجاتے ہیں۔
Ayahs 6:109–111(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے بارے میں نازل ہوا لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا قل انما الایت عنداللہ وما یشعرکم اے مسلمانوں کی جماعت لفظ آیت انھا اذا جآءت لا یومنون تمہیں کیا خبر کہ جب یہ نشانی آجائے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جانے گا تو ان کو مجبور کردے گا اسلام پر۔
(2) امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کی اور کہا اے محمد ﷺ آپ ہم کو بتاتے ہیں کہ موسیٰ کے پاس ایک لاٹھی تھی جس کو پتھر پر مارتے تھے اور عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیتے تھے۔ اور شمود والوں کے لئے ایک اونٹنی تھی۔ آپ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لے آئے تاکہ ہم تیری تصدیق کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم کس چیز کو پسند کرتے ہو کہ تمہارے پاس آجائے۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے صفا (پہاڑی) سونے کی بنا دیجئے۔ آپ نے فرمایا اگر میں نے ایسا کردیا تو تم لوگ میری تصدیق کرو گے کہنے لگے ہاں اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا کردیا تو ہم ضرور سب کے سب آپ کی اتباع کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر دعا کرنے لگے۔ جبرئیل تشریف لائے اور فرمایا اگر آپ چاہیں تو (صفا پہاڑ) سونے کا بن جائے پھر اگر انہوں نے اس وقت تصدیق نہ کی تو ہم ان کو ضرور عذاب دیں گے اور اگر آپ چاہیں تو انہیں چھوڑے رکھیں یہاں تک کہ ان میں جو توبہ کرنے والے ہیں وہ توبہ کرلیں آپ نے فرمایا بلکہ ان میں جو توبہ کرنے والے ہیں وہ توبہ کرلیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائیں لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ سے لے کر لفظ آیت ولکن اکثرھم یجھلون تک۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ مذاق کرنے والوں کے بارے میں ہے ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک معجزے کے بارے میں سوال کیا ان کے بارے میں نازل ہوا لفظ آیت واقسموا باللہ سے لے کر لفظ آیت ولکن اکثرھم یجھلون تک۔
(4) امام ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت القسم سے مراد یمین ہے (یعنی قسم کھانا) پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم
(5) امام ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت القسم سے مراد یمن ہے (یعنی قسم کھانا)
(6) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا کے بارے میں فرمایا کہ قریش نے محمد ﷺ سے سوال کیا کہ ان کے پاس ایک نشانی لے آئیں پھر آپ نے قسم کھالی کہ ہم ضرور ایمان لائیں گے۔ لفظ آیت قل انما الایت عند اللہ وما یشعرکم مجاہد نے فرمایا تم کیسے جانتے ہو ؟ پھر ان کے بارے میں ثابت کردیا جیسا کہ پہلی مرتبہ ان کے اور اس کے درمیان حائل ہوئے لفظ آیت ونقلب افدتھم کہ ہم ان کی قسم اور ان کے درمیان حائل ہوجائیں گے۔ اگرچہ تمام نشانیاں معجزات کے لئے ظاہر ہوجائیں۔ اور ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔ لفظ آیت ونذرھم فی طغیانھم یعمھون یعنی وہ شرک میں پڑے ہوئے ہیں۔
(7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ایک اور سند سے مجاہد (رح) سے لفظ آیت وما یشعرکم کے بارے میں فرمایا کیا تم کو خبر ہے کہ تم ایمان لاؤ گے جب وہ علامت اور نشانی ظاہر ہوگی پھر خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ لفظ آیت انھا اذا جآءت لا یومنون یعنی وہ علامت ظاہر ہوگی تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
(8) امام ابو الشیخ نے نضر بن شمیل (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے خلیل بن احمد (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وما یشعرکم انھا اذاجآءت لا یومنون کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ لعلھا کے معنی میں ہے۔ کیا تو جانتے نہیں کہ تو یہ کہتا ہے کہ تو فلاں فلاں چیز لے کر واپس آتو وہ جواب دیتا ہے لبیک شاید ایسا ہو۔
(9) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ونقلب افدتھم وانصارھم کما لم یومنوا بہ اول مرۃ یعنی جب مشرکوں نے انکار کیا اس چیز کا جو اللہ تعالیٰ نے اتارا تو ان کے دل ثابت نہ رہ سکے کیس چیز پر اور ہر حکم سے پھرگئے۔
(10) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ونقلب افدتھم کے بارے میں فرمایا کہ ان کے پاس محمد ﷺ واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کی آنکھوں کو اور ان کے دلوں کو پلٹ دیا اور اگر ان کے پاس ہر نشانی اس طرح کی آجائے تو وہ نہ ایمان لائیں گے مگر جو اللہ تعالیٰ چاہیں۔
(11) امام ابن مبارک اور احمد نے زہد میں، ابن ابی شیبہ، بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر ام الدرداء ؓ سے روایت کیا کہ ابو الدادار ؓ جو جب موت حاضر ہوئی تو یہ کہنے لگے کون عمل کرتا ہے میرے اس دن کی طرح کون عمل کرتا ہے میری اس طرح کی گھڑی کی طرح کون عمل کرتا ہے میرے اس طرح کے ٹھکانے کی طرح۔ پھر فرمایا لفظ آیت ونقلب افدتھم وابصارھم کمالم یومنوا بہ اول مرۃ ونذرھم فی طغیانھم یعمھون پھر اس پر غشی طاری ہوگئی۔ پھر افاقہ ہوا تو یہی آیت پڑھنے لگے یہاں تک کہ فوت ہوگئے۔
(12) امام ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحشرنا علیھم کل شیء قبلا یعنی آنکھوں کے سامنے لفظ آیت ماکانوا لیومنوا یعنی بدبخت لوگ (پھر بھی ایمان نہ لائیں گے) لفظ آیت الا ان یشآء اللہ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا یعنی وہ نیک بخت لوگ کہ ان کے عمل کے بارے میں یہ بات گزر چلی ہے کہ وہ ایمان میں داخل ہوں گے۔
(13) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحشرنا علیھم کل شیء قبلا یعنی وہ ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں (تب بھی) ایمان نہیں لائیں گے۔
(14) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحشرنا علیھم کل شیء قبلا سے مراد لفظ آیت افواجا قلیلا یعنی (ان کے سامنے) ہر چیز گروہ در گروہ جمع کردیتے تب بھی ایمان نہ لاتے۔
Ayahs 6:112–113برائی دعوت شیطانی عمل ہے
(1) امام احمد، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر تو اللہ سے پناہ مانگ جن اور انسان کے شیطانوں کے شر سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا انسانوں میں سے بھی شیاطین ہیں آپ نے فرمایا ہاں (اور یہ آیت پڑھی) لفظ آیت شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا
(2) امام احمد، ابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو نبی ﷺ نے فرمایا تو پناہ مانگ انسان اور جن کے شیطانوں سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اور انسان میں بھی شیاطین ہیں ؟ فرمایا ہاں !۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن کے بارے میں فرمایا کہ جنوں کے لئے شیاطین ہیں جو ان کو گمراہ کرتے ہیں جس طرح انسانوں کے شیاطیں ان کو گمراہ کرتے ہیں باہم ملاقات کرتے ہیں انسان کا شیطان اور جن کا شیطان اور یہ اس کو کہتا ہے میں نے اس کو اس طرح گمراہ کیا (اور وہ کہتا ہے) میں نے اس کو اس طرح گمراہ کیا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا ابن عباس نے فرمایا جنات وہ تو جان ہیں یہ شیاطیں نہیں ہیں اور شیاطین ابلیس کی اولاد ہیں اور وہ نہیں مرتے ہیں مگر ابلیس کے ساتھ اور جنات مرتے رہتے ہیں ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں۔
(4) امام ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کاہن انسانوں میں سے شیاطین ہیں۔
(5) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت بعضھم الی بعض کے بارے میں فرمایا کہ جنوں کے شیاطین انسانوں کے شیاطین کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیءھم
(6) امام عبد الرزاق اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت شیطین الانس والجن کے بارے میں فرمایا شیاطین انسانوں میں سے اور شیاطین جنوں میں سے لفظ آیت یوحی بعضھم الی بعض (یعنی ان کے بعض بعض کو چپکے چپکے سکھاتا ہے) ۔
(7) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت زخرف القول غرورا کے بارے میں فرمایا کہ ایسی بات جو ہلاک کرنے والی ہو۔
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت زخرف القول غرورا یعنی ایسی بات جو ہلاکت کا باعث ہو۔
(9) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت زخرف القول غرورا یعنی ان کا بعض بعض سے چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں تاکہ وہ ان کی پیروی کریں ان کے فتنے میں۔
(10) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن منذر، ابو نصر السجزی نے الابانہ میں اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا جنوں کے شیاطین دل میں ڈالتے ہیں انسانوں کے شیاطین کی طرف جو انسانوں میں سے کافر ہوتے ہیں اور فرمایا لفظ آیت زخرف القول غرورا باطل کو مزین کرتے ہیں زبانوں سے۔
(11) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت زخرف القول کے بارے میں فرمایا کہ تم بات کو خوشنما بناؤ اور اسے خوب آراستہ کرو۔ اور فرمایا لفظ آیت غرورا اس کے ذریعے انسانوں اور جنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
(12) امام ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا لفظ آیت زخرف سے مراد ہے مزین کرنا اس طرح پر کہ ان کے لئے اس دھوکہ کو خوب مزین کرتے ہیں جسے ابلیس نے آدم کے لئے اپنے فریب کو خوب مزین کیا تھا اور ان کے سامنے قسم کھائی کہ بیشک وہ خیر خواہوں میں سے ہے۔
(13) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتصغی تاکہ مائل ہوجائیں۔
(14) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتصغی الیہ افدۃ تاکہ اس کی طرف ان کے دل جھک جائیں۔ (اور) لفظ آیت ولیقترفوا تاکہ وہ (برے اعمال) کرتے رہیں۔
(15) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولتصغی الیہ افدۃ الذین لا یومنون بالاخرۃ تاکہ مائل ہوجائیں اس کی طرف کفار کے دل لفظ آیت ولیرضوہ تاکہ وہ اسے پسند کریں لفظ آیت ولیقترفوا ما ھم مقترفون یعنی تاکہ وہ (برے) عمل کرتے رہیں جو وہ اب کر رہے ہیں۔
جھوٹ بول کر دھوکہ دینا بڑا گناہ ہے
(16) امام طستی اور ابن الانباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ ابن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت زخرف القول غرورا کے بارے میں بتائیے فرمایا لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے جھوٹی بات کرنا پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا کیا تو نے اوس بن حجر کو کہتے ہوئے نہیں سنا
لم یغروکم غرورا ولکن یرفع الال جمعکم والدھاء
ترجمہ : انہوں نے تم سے جھوٹی بات نہیں کی البتہ نیزہ زنی اور دانش مندی تمہارے قبائل کو رفعت عطا کر رہی ہے۔
اور زھیر بن ابی سلمی نے فرمایا :
فلا یغرنک دنیا ان سمعت بھا عند امری سروہ فی الناس مغمور
ترجمہ : دنیا تجھے دھوکہ میں نہ ڈالے جس کے بارے میں تو یہ سنے کہ وہ ایسے آدمی کے پاس ہے جس کا فضل و شرف لوگوں میں معروف نہیں۔
پھر پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ولتصغی الیہ افدۃ الذین لا یومنون کے بارے میں بتائیے کہ لفظ آیت تصغی کیا ہے۔ فرمایا تاکہ ان کے دل اس کی طرف مائل ہوجائیں۔ اس میں فطامی نے فرمایا۔
واذا سمعن ھما ھما من رفقۃ ومن النجوم غوابرلم تخفق
ترجمہ : اور جب وہ رفقاء سے اہم اور ضروری بات سنتی ہے اور ستاروں میں سے کچھ ابھی باقی ہیں غروب نہیں ہوئے۔
اصغت الیہ ھجائن بخدودھا اذانھن الی الحداۃ السوق
ترجمہ : کمینہ فطرت عورتیں اپنے رخساروں کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں اور ان کے کان لمبی پنڈلیوں والی چالوں کی طرف ہوتے ہیں۔
پھر فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ولیقترفوا ما ھم مقترفون کے بارے میں بتائیے فرمایا تاکہ وہ (برے اعمال) کرتے رہیں جو وہ کر رہے ہیں اس لئے کہ قیامت کے دن ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ عرض کیا کہ عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا کیا تو نے لبید بن ربیعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
وإنی لاتی ما اتیت واننی لما اقترفت نفسی علی لراھب
ترجمہ : بیشک میں کام کرنے والا ہوں جو کرنے والا ہوں اور جب میرا نفس میرے خلاف کوئی کام کرے تو میں ڈرنے والا ہوں۔
Ayah 6:114(1) امام عبد الرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھوالذی انزل الیکم الکتب مفصلا سے مراد ہے لفظ آیت مبینا یعنی انتہائی واضح۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے مالک بن انس کے طریق سے ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب کو نازل فرمایا اور اس میں سنت کے لئے جگہ چھوڑ دی اور رسول اللہ ﷺ نے سنت بیان فرمائی اور اس میں ایک جگہ رائے کے لئے چھوڑ دی۔
Ayahs 6:115–117(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا کے بارے میں فرمایا کہ آپ کے رب کی طرف پوری ہوگئی سچائی کے ساتھ جس کا اس نے فیصلہ کیا اور انصاف کے ساتھ جس کا اس نے فیصلہ فرمایا۔
(2) امام ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابو نصرالسجزی نے الابانہ میں محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا کہ لفظ آیت لامبدل لکلمتہ یعنی کسی چیز کے لئے تبدیلی نہیں ہے دنیا میں اور آخرت میں جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا لفظ آیت ما یبدل القول لدی
(3) امام ابن مردویہ نے ابو الیمان جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے دن مسجد حرام میں داخل ہوئے اور آپ کے پاس ایک لاٹھی تھی۔ ہر قوم کے لئے ایک بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے۔ آپ نے اسے باری باری اس بت کے قریب کرتے اور بت کے سینے میں عصا مبارک مار کر اسے زخمی کردیتے۔ جب بھی آپ کسی بت کو گراتے تو آپ کے پیچھے ہتھوڑے مارنے والے آجاتے یہاں تک کہ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے اور اس کو اٹھا کر مسجد کے باہر پھینک دیتے۔ اور نبی ﷺ فرماتے تھے۔ لفظ آیت وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لامبدل کلمتہ وھو السمیع العلیم
(4) امام ابن مردویہ اور ابن النجار نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے لفظ آیت وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا کے بارے میں فرمایا کہ اس میں کلمہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔
(5) امام بخاری، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ حسن و حسین ؓ کے لئے (ان الفاظ کے ساتھ) پناہ مانگا کرتے تھے :
اعیذ کما بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ
ترجمہ : یعنی میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے پورے کلموں کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر ایک بدنظر سے جو دیوانہ بنا دے۔
پھر فرماتے کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسماعیل اور اسحاق کے لئے انہی کلمات کے ساتھ پناہ مانگتے تھے۔
(6) امام ابن ابی شیبہ، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور بیہقی نے خولہ بنت حکیم ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ کلمات کہے :
اعوذ بکلمات اللہ التامات کلھا من شرماخلق
(یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے ان پورے کلمات کے ساتھ ہر اس شر سے جو پیدا فرمایا) اس کو کوئی چیز ضرر نہیں دے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے چلا جائے۔
پناہ مانگنے کے کلمات
(7) امام مسلم، نسائی اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ گزشتہ رات مجھے ایک بچھو نے کاٹ لیا آپ نے فرمایا اگر تو یہ کلمات کہہ لیتا جب تو نے شام کی۔
اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق
تو تجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔
(8) امام ابو داؤد اور نسائی، ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بستر پر لیٹتے وقت یہ کلمات پڑھتے تھے۔
اللھم انی اعوذ بوجھک الکریم وکلماتک التامۃ من شرما أن اخذبنا صیتہ اللہم انت تکشف المغرم والماظم اللھم لا یھزم جندک ولا یخلف وعدک ولا ینفع ذا الجدمنک الجد سبحانک وبحمدک
ترجمہ : اے اللہ میں آپ کی ذات کریم کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور آپ کے پورے کلمات کے ساتھ اس شر سے کہ جن کو آپ اس کی پیشانی سے پکڑنے والے نہیں ہیں اے اللہ آپ ہی دور کرنے والے ہیں قرض اور گناہ کو۔ اے اللہ ! تیرے لشکر کو شکست نہیں ہوتی اور تیرے وعدے کے خلاف نہیں ہوتا ہے اور تیرے سامنے تو نگر کی تو نگری کچھ کام نہیں آئے گی۔ اور اللہ تیری ذات پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔
رات کو بےخوابی کا علاج
(9) امام ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے محمد بن یحییٰ بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ ولید بن ولید نے رسول اللہ ﷺ سے رات کو نیند نہ آنے کی شکایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا جب تو اپنے بستر پر آئے تو (یہ کلمات) پڑھ لے۔
اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ ومن شرعبادہ ومن ھمزات الشیاطین وان یحضرون
ترجمہ : (یعنی میں اللہ کے اس پورے کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اس کے غضب سے اور اس کی سزا سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ حاضر ہوں) بلاشبہ بےخوابی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اور سانپ یا بچھو تیرے قریب نہیں آئے گا۔
(10) امام ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابو التیاح سے روایت کی کہ ایک آدمی نے عبد الرحمن بن خنبش ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے جب آپ کے قریب شیاطین آتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں شیاطین پہاڑوں سے اور وادیوں سے اترتے جو رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کرتے ہوئے آتے اور ان میں سے ایک شیطان تھا جس کے پاس آگ کے شعلے تھے۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کو جلا دیں جب ان کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو ان سے گھبراگئے۔ جبرئیل تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کہئے۔ فرمایا میں کہا کہوں ؟ جبرئیل نے فرمایا آپ یوں فرمائیے :
اعوذبکلمات اللہ التامۃ اللاتی لا یجاوزھن برولافاجر من شرما خلق وبرأ وذرأ ومن شرما ما ینزل من السماء ومن شرما یعرج فیھا ومن شرما ذرأفی الارض وما یخرج منھا ومن شرفتن اللیل والنھار ومن شرکل طارق إلا طار قایطرن بخیر یارحمن۔
یعنی میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے ان پورے کلمات کے ساتھ جو ان کلموں سے باہر نہیں ہوسکتا کوئی نیک یا بد اور اس چیز کے شر سے جن کو اس نے بنایا اور پیدا کیا اور نکالا اور اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں اوپر چڑھتی ہے۔ اور اس چیز کے شر سے جو زمین میں پیدا ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور رات اور دن کے فتنے کے شر سے اور ہر رات کے گرنے والی آفت سے مگر جو خیریت اور بھلائی کے ساتھ (اے رحمن) پھر آپ نے فرمایا کہ شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دیدی۔
(11) امام نسائی اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب جن والی رات تھی تو ایک دیو جنات میں سے اپنے ہاتھ میں آگ کا شعلہ لے کر آیا۔ نبی ﷺ نے قرآن پڑھنا شروع کیا وہ قریب آتا جا رہا تھا۔ تو جبرئیل نے آپ سے فرمایا کیا میں نے آپ کو وہ کلمات نہیں سکھائے تھے جن کو آپ پڑھیں تو یہ منہ کے بل گرپڑے۔ اور آگ کا شعلہ بجھ جائے۔ آپ (یہ کلمات) پڑھیے۔
اعوذ بوجہ اللہ الکریم و کلمات اللہ التامات التی لا یجاوزھن برولا فاجر من شرما ینزل من السماء ومن شرما تعرج فیھا ومن شرما ذرأفی الارض ومن شرما یخرج منھا ومن شرفتن اللیل والنھار ومن شر طوارق اللیل ومن شرکل طارق الاطارقا یطرق بخیر یارحمن
جب آپ نے یہ پڑھا تو وہ منہ کے بل گرپڑا اور اس کا شعلہ بجھ گیا۔
(12) امام ابن ابی شیبہ نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو جنات آپ سے ملے اس حال میں کہ وہ آگ کے انگارے پھینک رہے تھے۔ جبرئیل نے فرمایا اے محمد ﷺ پناہ مانگئے۔ پناہ مانگئے تو آپ نے ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگی تو وہ آپ سے دور ہٹ گئے وہ کلمات یہ تھے۔
اعوذبکلمات اللہ التامات التی لا یجاوزھم برولا فاجرمن شرما نزل من السماء وما یعرج فیھا ومن شرما بت فی الارض وما یخرج منھا ومن شر اللیل والنھار ومن شر کل طارق الاطارقا طرق بخیر یارحمن
Ayahs 6:118–120(1) امام ابو داؤد، ترمذی نے (اور اس کی تحسین بھی کی ہے) بزار، ابن جریر اور ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ کیا ہم کھائیں ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے خود قتل کیا اور ہم ان چیزوں میں سے نہ کھائیں جن کو اللہ تعالیٰ مارتے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایتہ مومنین سے لے کر لفظ آیت وان اطعتموھم انکم لمشرکون
(2) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا کیونکہ وہ حلال ہے لفظ آیت ان کنتم بایتہ مومنین یعنی اگر تم قرآن کی تصدیق کرنے والے ہو۔ لفظ آیت وما لکم الا تاکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ یعنی جن پر اللہ کا نام لیا گیا۔ لفظ آیت وقد فصل لکم ما حرم علیکم الا ما اضطررتم الیہ یعنی جو حرام کیا گیا تم پر مردار سے لفظ آیت وان کثیرا یعنی بہت لوگ عرب کے مشرکین میں سے لفظ آیت لیضلون باھوآءھم بغیر علم یعنی ذبائح کے حکم میں اور اس کے علاوہ دوسرے حکم میں گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے لفظ آیت ان ربک ھواعلم بالمعتدین یعنی بلاشبہ رب تیرا خوف جانتا ہے۔ حد سے نکلنے والوں کو۔
(3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقد فصل لکم یعنی بیان کردیا گیا تمہارے لئے لفظ آیت ما حرم علیکم الا ما اضطررتم الیہ مگر جو مجبور ہوگئے تم اس کی طرف مردار خون اور سور کے گوشت میں سے۔
(4) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت وقد فصل لکم صاد کو مشددفا کے نصب کے ساتھ اور لفظ آیت ماحرم علیکم حاء کے رفع اور راء کے کسرہ کے ساتھ لفظ آیت وان کثیرا لیضلون یاء کے رفع کے ساتھ۔
(5) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وذروا ظاہر الاثم سے مراد ہے ماؤں اور بیٹیوں کا نکاح لفظ آیت و باطنہ سے مراد ہے زنا۔
(6) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وذروا ظاھر الاثم و باطنہ اس میں سے ظاہر (گناہ) یہ ہے لفظ آیت ولا تنکحوا ما نکح ابآوکم من النساء (النساء آیت 22) اور لفظ آیت حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخوتکم الایہ تم ان عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا اور تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور باطن سے مراد زنا ہے۔
(7) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وذروا ظاھر الاثم و باطنہ کے بارے میں فرمایا یعنی کہ تم اعلانیہ اور چھپ کر گناہ کرنا چھوڑ دو ۔
(8) ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وذروا ظاھر الاثم و باطنہ یعنی ان سے مراد وہ گناہ ہیں جن کے بارے میں انسان اپنے دل میں تصور کرتا ہے اور پھر ان پر وہ علم کرتا ہے۔
(9) ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وذروا ظاہر الاثم و باطنہ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ظاہری گناہ سے بھی اور چھپے ہوئے گناہ سے بھی کہ اس پر عمل کیا جائے۔
Ayah 6:121جانور حلال کرنے کے لئے بسم اللہ پڑھنا لازم ہے
(1) فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو داؤد، ابن ماجہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس، ابو الشیخ، ابن مردویہ، طبرانی، حاکم اور بیہقی نے سنن میں (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکوں نے کہا اور دوسرے الفاظ میں یہودیوں نے کہا تم نہیں کھاتے ہو ان چیزوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے قتل کیا اور تم کھاتے ہو ان چیزوں میں سے جن کو تم نے قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ
(2) عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے محمد ﷺ کے اصحاب سے کہا جس کو تم ذبح کرتے ہو اس کو تم کھاتے ہو جو خود مرا جاتا ہے اب کون مارتا ہے ؟ صحابہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ (اس کو مارتے ہیں) کہنے لگے جس کو اللہ تعالیٰ قتل کریں اس کو تم حرام کردیتے ہو اور جس کو تم قتل کرتے ہو اس کو تم حلال کرلیتے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ ونہ لفسق
دین پر اعتراض کی تعلیم شیطانی عمل ہے
(3) ابن جریر، ابو الشیخ، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ تو فارس والوں نے قریش مکہ کی طرف پیغام بھیجا کہ محمد ﷺ کے ساتھ بحث کرو اور اس سے کہو کہ جو اپنے ہاتھ سے چھری کے ساتھ ذبح کرتا ہے وہ تو حلال ہے اور جو اللہ تعالیٰ ذبح فرمائیں سونے کی کیل سے یعنی جو مردار ہوجائے تو وہ حرام ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت وان الشیطین لیوحون الی اولءھم لیجادلوکم فرمایا یعنی شیاطین فارس والوں میں سے اور ان کے دوست میں سے دلوں میں اعتراض ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں۔
(4) ابو داؤد نے ناسخ میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین تم سے جھگڑا کرتے ہیں اور کہا شیاطین سے مراد فارس ہیں اور لفظ آیت اولءھم سے مراد قریش ہیں۔
(5) ابو داؤد اور ناسخ میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہم کو بتائیے اس بکری کے بارے میں جب وہ مرجائے تو اسے کون مارتا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مارتا ہے۔ تو کہنے لگے آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ جس کو آپ نے مارا یا تیرے اصحاب نے وہ تو حلال ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے مارا وہ حرام ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ
(6) ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ سے مراد ہے مردار۔
(7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیاطین تعلیم کرتے ہیں اپنے دوستوں کو مشرکین میں سے کہ تم کہو کہ تم کھاتے ہو جس کو تم مارتے ہو اور تم نہیں کھاتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ مارتے ہیں ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس کو تم ذبح کرتے ہو تو اس پر اللہ کا نام لیتے ہو اور جو مرجاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاتا (اس وجہ سے وہ حرام ہے)
(8) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا انہوں نے کہا اے محمد ﷺ جس کو تم قتل کرتے ہو اور ذبح کرتے ہو اس کو تم کھاتے ہو اور جس کو تمہارا رب قتل کرے اس کو تم حرام قرار دیتے ہو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق وان الشیطین لیوحون الی اولیءھم لیجادلوکم وان اطعتموھم یعنی ہر اس چیز میں سے جس سے تم کو منع کیا تو تم اس وقت مشرک ہوجاؤگے (اگر تم نے ان کا کہنا مانا)
(9) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کے دشمن ابلیس نے ارادہ کیا اپنے دوستوں کی طرف گمراہ لوگوں میں سے اور اس نے کہا بحث کرو محمد ﷺ کے اصحاب سے مردار کے بارے میں تو انہوں نے کہا کہ جس کو تم قتل کرتے ہو اور ذبح کرتے ہو اس کو تم کھاتے ہو اور جس کو اللہ تعالیٰ ماردے اس کو تم نہیں کھاتے ہو اور تم گمان کرتے ہو کہ تم اللہ کے حکم کی تابعداری کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت وان اطعتموھم انکم لمشرکون اللہ کی قسم ہم جانتے ہیں کہ شرک صرف تین صورتوں میں سے ایک میں ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے کو پکارا جائے یا غیر اللہ کے لئے سجدہ کیا جائے یا ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے۔
(10) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیءھم یعنی ابلیس دل میں ڈالتا ہے قریش کے مشرکین کی طرف۔
(11) امام سعید بن منصور، عبد الرزاق، عبدبن حمید اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے ذبح کیا اور اس پر اللہ کا نام لینا بھول گیا تو اس کو چاہئے کہ ذبح کے بعد بھی اس پر اللہ کا نام لے اور اس کو کھالے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے جبکہ اس نے فطرت پر ذبح کیا کیونکہ اللہ کا نام مسلمان کے دل میں ہے۔
(12) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے ذبح کیا اور اللہ کا نام لینا بھول گیا۔ انہوں نے فرمایا کچھ حرج نہیں کہا گیا اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہاں گیا کہ لفظ آیت ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ فرمایا کیونکہ تم نے ذبح کیا اپنے دین کے مطابق۔
(13) امام ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ کے بارے میں فرمایا کہ ان ذبائح سے منع کردیا گیا جس کو بتوں پر ذبح کرتے تھے۔ مجوسیوں کے ذبائح سے بھی منع کیا گیا۔
(14) امام عبد بن حمید نے راشد بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کا ذبیحہ حلال ہے چاہے اس پر اللہ کا نام لے یا نہ لے۔ جب کہ وہ جان بوجھ کر ایسا نہ کرے اور اسی طرح شکار (کا حکم ہے)
(15) امام عبد الرزاق اور عبدبن حمید نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک قسم اسلام لائی تھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں یہ لوگ مدینہ میں بیچنے کے لئے گوشت لے آئے نبی ﷺ کے اصحاب کے دلوں میں کچھ نفرت سی ہوئی اور کہا شاید کہ انہوں نے (ذبح کرنے کے وقت) بسم اللہ نہیں پڑھی۔ تو صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم خود بسم اللہ پڑھ لو اور کھالو۔
(16) امام بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی مسلمان ذبح کرے اور اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اس کو کھالے کیونکہ مسلمان کے اندر اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
(17) امام ابن عدی اور بیہقی نے (اور بیہقی نے تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ آپ بتائیے ایک آدمی ہم میں سے ذبح کرتا ہے اور اللہ کا نام لینا بھول جاتا ہے تو آپ نے فرمایا اللہ کا نام پر مسلمان پر ہے (یعنی ہر مسلمان کے دل میں اللہ کا نام موجود ہے)
(18) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان کے ساتھ اللہ کا ذکر ہے اگر وہ ذبح کرے اور تسمیہ بھول جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ بسم اللہ پڑھے اور کھالے۔ اگر مجوسی اپنے ذبیحہ پر اللہ کا نام لے تب بھی وہ کھایا نہیں جاتا۔
(19) ابو داؤد، بیہقی نے سنن میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس سے (یہ حکم) مستثنی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم (یعنی ان لوگوں کا کھانا بھی تمہارے لئے حلال ہے جن کو کتاب دی گئی) ۔
(20) امام عبد بن حمید نے عبد اللہ بن یزید خطمی سے روایت کیا کہ مسلمانوں کے اور اہل کتاب کے وہ ذبائح کھاؤ جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
(21) امام عبد بن حمید نے محمد بن سیرین سے روایت کیا کہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں جو ذبح کرتا ہے اور تسمیہ بھول جاتا ہے یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ نہیں کھائے گا۔
(22) امام نحاس نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ مت کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔
(23) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابلیس نے کہا اے میرے رب آپ نے اپنی ہر مخلوق کے لئے رزق کو بیان فرمایا اور میرا رزق کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرا رزق ان چیزوں میں سے جن پر میرا نام نہ لیا گیا ہو۔
یہود و نصاری کا ذبیحہ
(24) امام عبد الرزاق نے مصنف میں معمر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر سے یہودی اور نصاری کے ذبیحہ کے بارے میں پوچھا اور ان پر یہ آیت تلاوت کی لفظ آیت احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتب اور یہ آیت بھی تلاوت کی لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ اور یہ آیت بھی تلاوت کی لفظ آیت وما اھل بہ لغیر اللہ (البقرہ آیت 173) راوی نے کہا ہے کہ وہ آدمی متردد ہوگیا ابن عمر نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہود نصاری اور عرب کے کافروں پر لعنت بھیجی ہے۔ یہ اور ان کے ساتھی مجھ سے سوال کرتے ہیں جب میں ان سے موافقت نہیں کروں گا۔ تو یہ مجھ سے جھگڑا کریں گے۔
(25) امام ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اتارا لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ پھر اس کو رب عزوجل نے منسوخ کردیا اور مسلمانوں پر رحم کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت الیوم احل لم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم کو اس آیت کے ساتھ اس سے حکم کو منسوخ کردیا اور اہل کتاب کا کھانا حلال فرمادیا۔
(26) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان اطعتموھم یعنی اگر تم ان کی اطاعت کرنے لگو مردار کے کھانے میں اور اسے حلال کرتے ہوئے تو لفظ آیت انکم لمشرکون تو تم ان کی طرح مشرک ہو جاؤگے۔
(27) امام ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وان اطعتموھم انکم لمشرکون کے بارے میں فرمایا پوچھا گیا اور کہا گیا کہ خوارج یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ امراء کے بارے میں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ان لوگوں نے جھوٹ بولا یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ کئی لوگ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے جھگڑتے تھے اور کہتے تھے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ماردیں اس کو نہیں کھاتے ہو یعنی مردار کو اور جس کو تم خود مارتے ہو اس میں سے کھاتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ سے لے کر لفظ آیت انکم لمشرکون تک فرمایا اگر تم مردار کو کھاؤ گے اور ان کی اطاعت کرو گے تو تم مشرک ہوجاؤگے۔
(28) امام ابن ابی حاتم نے ابن عمر سے روایت کیا کہ کہا گیا کہ مختار گمان کرتا ہے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے فرمایا اس نے سچ کہا لفظ آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیء ھم
(29) امام ابن ابی حاتم نے ابو زمبل (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور مختار بن ابی عبد اللہ نے حج کیا ایک آدمی نے آکر کہا اے ابن عباس ابو اسحاق گمان کرتا ہے کہ اس کی طرف رات کو وحی ہوتی ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا اس نے سچ کہا اور میں نے کہا ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس نے سچ کہا پھر ابن عباس ؓ نے فرمایا وحی دو قسم پر ہے ایک اللہ تعالیٰ کی وحی اور ایک شیطان کی وحی اللہ کی وحی ہوئی محمد ﷺ کی طرف اور شیطان کی وحی ہوئی اس کے دوستوں کی طرف پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیءھم