Ayah 6:122(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ کے بارے میں فرمایا کہ کافر گمراہ تھا ہم نے اس کی ہدایت دی لفظ آیت وجعلنا لہ نورا میں نور سے مراد ہے قرآن لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت میں ظلمات سے مراد ہے کفر ار گمراہی۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اومن کان میتا یعنی جو شخص گمراہ ہو لفظ آیت فاحیینہ پھر ہم نے اس کو ہدایت دی لفظ آیت وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس یعنی ہدایت (کے ساتھ لوگوں میں چلتا ہے) لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت یعنی ہمیشہ گمراہی میں تو پڑا ہوا ہے۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔
(4) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد عمر بن خطاب ؓ ہیں لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا سے ابو جہل بن ہشام مراد ہے۔
(5) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کے بارے میں فرمایا (یہ آیت) عمر بن خطاب ؓ اور ابو جہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی دونوں مردہ تھے اپنی گمراہی میں تو اللہ تعالیٰ نے عمر کو زندہ کردیا۔ اسلام کی وجہ سے اور ان کو عزت دی اور ابو جہل کو اس کی اپنی موت اور گمراہی پر برقرار رکھا اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے دعا کرتے ہوئے فرمایا :
اللھم اعز الاسلام بأنی بابی جھل بن ہشام او بعمر بن خطاب
(6) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ سے مراد عمر بن خطاب ہیں (اور) لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت سے ابو جہل بن ہشام مراد ہے۔
(7) امام ابو الشیخ نے ابو سنان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ کہ یہ عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
(8) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس سے مراد یہ مومن ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک دلیل ہے۔ اسی کے ساتھ وہ عمل کرتا ہے اسی کو وہ بدلہ رکھتا ہے۔ اور اسی کی طرف انتہا کرتا ہے اور وہ ہے اللہ کی کتاب لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا یعنی کافر کی مثال ہے جو اپنی گمراہی میں سرگرداں ہے اور وہ اسی میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اور نہیں پاتا اس سے نکلنے کا کوئی راستہ اور نہ کوئی گزر گاہ۔
(9) امام عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس میں نور سے مراد قرآن ہے۔
Ayah 6:123(1) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت وکذلک جعلنا فی کل قریۃ اکبر مجرمیھا مذاق کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت جعلنا فی کل قریۃ اکبر مجرمنھا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ہم نے ہر بستی میں ان کے شریر لوگوں کو تسلط دیا۔ جنہوں نے اس میں نافرمانی کی۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو ہم نے ان کو عذاب میں ہلاک کردیا۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اکبر مجرمنھا سے ان کے بڑے لوگ مراد ہیں۔
Ayah 6:124(1) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ کے بارے میں فرمایا کہ جب محمد ﷺ ان کو ایسی چیز کی دعوت دیتے جو انہیں اپنی حقانیت کی طرف بلاتی وہ تو آپ کو یہ کہتے اگر یہ دین سچا ہوتا تو ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو زیادہ حقدار ہیں (اس دین کے) جو محمد ﷺ لے کر آئے اور کہتے لفظ آیت لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (یعنی یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا) ۔
اماقولہ تعالیٰ : لفظ آیت اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ
(2) امام احمد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں میں دیکھا تو محمد ﷺ کے دل کو بندوں کے دلوں سے بہتر پایا۔ پھر اس کو اپنی ذات کے لئے چن لیا اور اس کو اپنی رسالت کے لئے مبعوث فرمایا۔ پھر بندوں کے دلوں میں دیکھا محمد ﷺ کے دل کے بعد تو آپ کے صحابہ کے دلوں کو دوسرے بندوں کے دلوں سے بہتر پایا اور ان کو اپنے نبی کے وزراء بنا دیا جو اس کے دین کے لئے لڑتے ہیں پس وہ چیز جسے مسلمان اچھا دیکھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہوتی ہے۔ اور جس کو وہ برا دیکھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہوتی ہے۔
ابن عباس ؓ کی سیرت و صورت
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن ابی حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس کو دیکھا اور وہ مسجد کے دروازے سے داخل ہو رہے تھے جب اس کی نظر آپ پر پڑی تو پھر دیکھتا ہی رہا اور پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس ؓ کے بیٹے ہیں تو اس نے کہا لفظ آیت اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ
(4) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت سیصیب الذین اجرموا کے بارے میں فرمایا کہ لفظ آیت اجرموا سے مراد ہے جنہوں نے شرک کیا اور ” صغار “ سے مراد ہے ذلت، حقارت۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت صغار کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ذلت۔
(6) امام ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ لفظ آیت بما کانوا یمکرون یعنی بوجہ ان مکروں کے جو وہ اللہ کے دین کے ساتھ اس کے نبی کے ساتھ اور اس کے ایمان والے بندوں کے ساتھ کرتے تھے۔
Ayah 6:125(1) امام ابن مبارک نے زھد میں، عبد الرزاق، فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو جعفر المدائنی (رح) سے روایت کیا کہ جو بنو ہاشم میں سے ایک مرد ہیں وہ محمد بن علی نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کون سے ایمان والے زیادہ عقلمند ہیں۔ آپ نے فرمایا جو اکثر موت کو یاد کرنے والے ہوں اور ان میں سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اس کے بعد آنے والی زندگی کے لئے تیاری کرنے والے ہیں۔ راوی نے کہا پھر نبی ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا یعنی لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام اور انہوں نے کہا کس طرح اس کا سینہ کھل جاتا ہے یا رسول اللہ آپ نے فرمایا ایک نور اس میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور کشادہ ہوجاتا ہے۔ پھر انہوں نے کہا کیا اس کی کوئی نشانی ہے کہ جس سے اس کو پہچان لیا جائے آپ نے فرمایا (نشانی یہ ہے) کہ اس کا میلان ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف ہوتا ہے۔ اور دھوکہ والے گھر (یعنی دنیا) سے دور رہتا ہے اور موت کے ملنے سے پہلے موت کی تیاری کرنا ہے۔
(2) امام عبد بن حمید نے فضیل (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا اور کہا یا رسول اللہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ کے بارے میں بتائیے کس طرح یہ کشادگی ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے دل میں ایک نور ڈال دیتے ہیں تو اس سے اس کا سینہ کشادہ ہوجاتا ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے کہ جس کے ذریعہ اس کو پہچانا جائے آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا وہ نشانی کون سی ہے ؟ فرمایا دھوکہ والے گھر (یعنی دنیا سے) دور رہنا۔ اور ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف رجوع کرنا۔ اور موت کے آنے سے پہلے موت کے لئے اچھی تیاری کرنا۔
(3) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب ذکر الموت میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام نازل ہوئی تو ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی طرف کھڑا ہوا اور کہا کیا اس آیت کے لئے کوئی نشانی ہے کہ جس کے ذریعہ اس کو پہچانا جائے آپ نے فرمایا ہاں ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف رجوع کرنا اور دھوکہ والے گھر (یعنی دنیا) سے دور رہنا اور موت کے لئے تیاری کرنا اس کے آنے سے پہلے۔
(4) امام ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا، ابن جریر، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے شعب میں چند طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یہ آیت لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نور کو دل میں داخل فرمادیتے ہیں تو وہ کھل جاتا ہے اور کشادہ ہوجاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کیا اس کی کوئی نشانی ہے کہ جس کے ذریعہ اس کو پہچانا جائے آپ نے فرمایا ہمیشہ رہنے والے گھر (یعنی آخرت) کی طرف رجوع کرنا اور دھوکہ والے گھر (یعنی دنیا) سے دور رہنا اور موت کے نازل ہونے سے پہلے موت کی تیاری کرنا۔
(5) امام ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ کون سے ایمان والے لوگ زیادہ عقل مند ہیں ؟ آپ نے فرمایا ان میں اکثر موت کو یاد کرنے والے اور ان میں سے اس کے لئے اچھی تیاری کرنے والے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت فمن یرد اللہ ین یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام میں نے کہا اور کس طرح اس کا سینہ کھل جاتا ہے اسلام کے لئے ؟ آپ نے فرمایا ایک نور جو اس کے دل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور وہ نور جس دل میں واقع ہوتا ہے تو اس کو سینہ کھل جاتا ہے اور کشادہ ہوجاتا ہے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کو پہچانا جائے ؟ آپ نے فرمایا ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف رجوع کرنا۔ اور دھوکہ والے گھر سے دور رہنا اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرنا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بری ہے وہ قوم جو عدل قائم نہیں کریں گے۔ بری ہے وہ قول جو قتل کریں گے ان لوگوں کو جو انصاف کا حکم دیں گے۔
ایمانی نور سے دل کا منور ہونا
(6) امام سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں عبد اللہ بن المسور (رح) سے روایت کیا کہ جو جعفر بن ابی طالب کی اولاد میں سے تھے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام تلاوت فرمائی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کھل جانا کیا ہے آپ نے فرمایا یہ ایک نور ہے جو دل میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے اس کا دل کشادہ ہوجاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کیا اس کی کوئی نشانی ہے کہ جس کے ذریعہ اس کو پہچانا جائے ؟ فرمایا ہاں ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف رجوع کرنا دھوکہ والے گھر سے دور رہنا اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرنا۔
(7) امام عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام کے بارے میں فرمایا کہ اس کا دل وسیع ہوجاتا ہے توحید اور ایمان کے لئے (اور فرمایا) لفظ آیت ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا یعنی اس کے دل میں شک پیدا کردیتا ہے لفظ آیت کانما یصعد فی السمآء یعنی آدم کے بیٹا طاقت نہیں رکھتا کہ وہ آسمان پر پہنچے اسی طرح وہ طاقت نہیں رکھتا کہ اس کے دل میں توحید اور ایمان داخل ہوجائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں داخل فرمادیتے ہیں۔
(8) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابو الصلت ثقفی سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب ؓ سے یہ آیت لفظ آیت ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا پڑھی راء کو منصوب پڑھا۔ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے حرجا کو جر کے ساتھ پڑھا۔ عمر نے فرمایا ایک آدمی کو کنانہ قبیلہ میں سے تلاش کرو اور انہوں نے اس کو چرواہا بنا رکھا ہے۔ لیکن وہ وریج قبیلہ میں سے ہے اس نے کہا ہمارے اندد حرجہ اس درخت کو کہتے ہیں جو درختوں کے اتنا اندر ہوئے وہاں تک نہ کوئی چرنے والا مویشی پہنچتا نہ جنگلی چوپایہ اور نہ کوئی اور چیز عمر ؓ نے فرمایا منافق کا دل بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ کوئی خیر اس تک نہ پہنچ سکتی۔
(9) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ضیقا حرجا را کے کسرہ کے ساتھ۔
(10) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ضیقا حرجا سے مراد ہے لفظ آیت متلبسا شک کرنے والا۔
(11) امام ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ضیقا حرجا سے مراد ہے یعنی لا الہ الا اللہ کے ساتھ کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ اس کو اپنے دل میں داخل کرے۔ وہ نہیں پاتا اس کے لئے اپنے سینے میں کوئی گنجائش۔
(12) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کانما یصعد فی السمآء گویا وہ اپنے اوپر انتہائی زبردستی کرتے ہوئے آسمان کی طرف چڑھ رہا ہے۔
(13) امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا یعنی جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس پر تنگ کردیتے ہیں یہاں تک کہ اسلام کو اس پر تنگ کردیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام تو وسعت والا ہے اور اسی لئے آپ جس وقت یہ آیت پڑھتے یہ آیت لفظ آیت وما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج آیت 78) اور فرماتے کہ اسلام میں کوئی تنگی نہیں۔
(14) امام عبد الرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یجعل صدرہ ضیقا حرجا کے بارے میں فرمایا یعنی اس میں حرج کے لئے کوئی گزرگاہ نہیں۔ لفظ آیت کانما یصعد فی السمآء یعنی اس کی مثال اس شخص کی ہے جو آسمان پر چڑھنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔
(15) امام عبدبن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کذلک یجعل اللہ الرجس سے مراد ہے کہ جس میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہو۔
Ayahs 6:126–127(1) امام عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد فصلنا الایت یعنی ہم نے آیات کھول کر بیان کردی اور لفظ آیت لھم دارالسلم یعنی جنت۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے جابر بن زید سے روایت کیا کہ لفظ آیت السلم سے مراد ہے اللہ کی ذات۔
(3) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لھم دار السلم کہ اللہ تعالیٰ ہی سلام ہیں اور ان کا گھر جنت ہے۔
Ayah 6:128(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد استکثرتم من الانس یعنی تمہارے گمراہ کرنے میں انہوں نے خاص طور پر (حصہ لیا) یعنی تم نے ان میں سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت قال النار مثوکم خلدین فیھا الا ماشآء اللہ فرمایا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ کسی کو نہیں چاہئے کہ وہ اللہ پر فیصلہ کرے اس کی مخلوق میں کہ وہ ان کو جنت میں نہیں داخل کرے گا اور ان کو جہنم میں داخل نہیں کرے گا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یمعشر الجن قد استکثرتم من الانس کے بارے میں فرمایا کہ تم نے اپنے رب کے نزدیک دوزخ والوں کو بہت زیادہ کردیا ہے قیامت کے دن (اور فرمایا) لفظ آیت وقال اولیو ھم من الانس ربنا استمتع بعضنا ببعض حسن نے فرمایا کہ ان میں سے بعض کے بعض سے نفع نہیں اٹھایا۔ مگر یہ قیامت کے دن کہیں گے (جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا) لفظ آیت وقال اولیوھم من الانس ربنا استمتع بعضنا ببعض اور حسن نے فرمایا اور نہیں تھا ان کے بعض کا نفع اٹھانا بعض سے مگر یہ کہ جن نے حکم کیا اور انسان نے عمل کیا۔
(3) امام سعید بن منصور، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ربنا استمتع بعضنا ببعض کے بارے میں فرمایا وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم ساتھیوں نے دنیا میں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا لفظ آیت وبلغنا اجلنا الذی اجلت لنا یعنی موت کی مقررہ مدت تک پہنچ گئے۔
(4) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج سے روایت کیا کہ لفظ آیت ربنا استمتع بعضنا ببعض یعنی کہ ایک آدمی جاہلیت میں کسی زمین میں اترتا تھا اور کہتا تھا کہ میں پناہ مانگتا ہوں اس وادی کے بڑے (جن) سے یہی ان کا ایک دوسرے سے نفع ہے اور یہ کل قیامت کے دن عذر کریں گے اور لفظ آیت وبلغنا اجلنا الذی اجلت لنا یعنی موت کی مقررہ مدت۔
Ayah 6:129(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین یعنی جنات میں سے ظلم کرنے والے اور انسانوں میں سے ظلم کرنے والوں کو ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین اور فرمایا کہ ہم مسلط کردیتے ہیں ظلم کرنے والے جنوں کو ظلم کرنے والے انسانوں پر۔
(2) امام عبد الرزاق، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا کہ اللہ تعالیٰ مسلط کردیتے ہیں بعض ظالموں کو بعض پر دنیا میں اور جہنم میں بھی بعض بعض کی اتباع کریں گے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حاکم مقرر کرتا ہے لوگوں کے درمیان ان کے اعمال کے مطابق سو مومن دوست ہوتا ہے مومن کا وہ جہاں کہیں بھی ہو۔ اور کافر دوست ہوتا ہے کافر کا جہاں کہیں بھی ہو۔ ایمان محض آرزو سے ثابت نہیں ہوتا۔ اور نہ زیب و آرائش سے۔ اور میری عمر کی قسم اگر تو اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرے اور تجھے اللہ کی اطاعت کرنے والوں کی پہچان نہ بھی ہوئی تو یہ بات تجھ کو نقصان نہیں دے گی۔ اور تو نے اللہ کی نافرمانی والے عمل کئے اور اللہ کی اطاعت کرنے والوں سے دوستی لگائی تو تجھے یہ بات کچھ بھی نفع نہیں دے گی۔
(4) امام ابو الشیخ نے منصور بن ابو الاسود (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اعمش سے پوچھا اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا کے بارے میں تم نے سنا ہے کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا میں نے ان سے سنا کہ وہ کہتے ہیں جب لوگ فساد کریں تو اس کے برے لوگوں کو ان پر حاکم بنا دیا جاتا ہے۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے روایت کیا مالک بن دینار نے فرمایا میں نے زبور میں پڑھا میں انتقام لیتا ہوں منافق کا منافق سے پھر میں سب منافقوں سے انتقام لوں گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے اللہ تعالیٰ کا قول لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا بما کانوا یکسبون
(6) امام حاکم نے تاریخ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں یحییٰ بن ہاشم کے طریق سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا مجھ سے بیان کیا یونس بن ابی اسحاق نے اور یونس بن ابی اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جیسے تم ہوتے ہو اسی طرح تم پر حاکم مقرر کئے جاتے ہیں بیہقی نے کہا یہ روایت منقطع ہے اور یحییٰ ضعیف ہے۔
(7) امام بیہقی نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ کے لئے ایک بادشاہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھیجتے ہیں ان کے رہنے والوں کے دلوں کی کیفیت کے مطابق جب (اللہ تعالیٰ ) ان کی اصلاح کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر ایک اصلاح کرنے والا نیک حاکم ان کی طرف بھیجتے ہیں اور جب ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان پر عیش پرست حکمران بھیج دیتے ہیں۔
(8) امام بیہقی نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا ہمارے لئے اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ تم سے اپنی رضا مندی اور اپنی زندگی کی کوئی واضح علامت بیان فرمائے۔ موسیٰ نے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ان کو خبر دیجئے کہ میری ان سے رضا مندی کی علامت یہ ہے کہ ان پر ان کے نیک لوگوں کو حکمران بناؤں اور ناراضگی کی علامت میری کہ ان کے برے لوگوں کو ان پر حکمران بناؤں۔
باران رحمت اللہ کی رضاء کی علامت ہے
(9) امام بیہقی نے عبد الملک بن قریب الاصمعی سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا اور انہوں نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے رویت کیا کہ انہوں نے فرمایا مجھے یہ بتایا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) یا عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب کہ تیری رضا مندی کی کیا علامت ہے تیری اپنی مخلوق سے فرمایا اگر میں ان پر بارش نازل کروں ان کی کھیتی کے وقت اور اس کو روک لوں ان کے کاٹنے کے وقت اور میں ان کے معاملات میں ان سے حلیم الطبع اپنوں کے سپرد کردوں اور ان کو غنیمت کے مالوں کو ان کے مستحق لوگوں کے ہاتھوں میں دیدوں۔ پھر عرض کیا اے میرے رب تیری ناراضگی کی علامت کیا ہے ؟ فرمایا اگر میں ان پر بارش نازل کروں ان کی کٹائی کے وقت اور اس کو روک لوں ان کی کھیتی کے وقت اور ان کے امور حوالے کردوں ان کے بیوقوفوں کی طرف۔ اور ان کے غنیمت کے مال کو ان کے بخیل لوگوں کے سپرد کردوں (تو سمجھ لو کہ میں ناراض ہوں)
Ayahs 6:130–131(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم یعنی جنوں میں سے کوئی رسول نہیں بلاشبہ رسول انسانوں میں سے ہیں اور ایک ڈرانے والا ہوتا ہے جنوں میں اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین (الاحقاف آیت 29) یعنی پھر جب تلاوت ہوچکی تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔
(2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت رسل منکم یعنی رسولوں کے پیغامبر لفظ آیت ولوا الی قومھم منذرین (پھر وہ گئے اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے)
(3) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے جن سے پوچھا کیا تمہارے اندر کوئی نبی تھا نبی ﷺ کی مبعث سے پہلے۔ اس نے کہا تو نے اللہ کا قول نہیں سنا لفظ آیت یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم یعنی اس سے معلوم ہوا کہ رسول انسانوں میں سے تھے اور رسول جنوں میں سے بھی تھے لفظ آیت قالوا بلی کہنے لگے کیوں نہیں رسول تھے۔
Ayahs 6:132–133(1) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے عظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جنات جنت میں داخل ہوں گے اور وہ کھائیں گے اور پئیں گے۔
(2) امام ابن منذر نے لیث (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جنات کے لئے کوئی ثواب نہیں۔
(3) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں لبث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان جنات نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ آگ میں یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا پھر اس کو دوبارہ نہیں لے جائیں گے اور نہ اس کی اولاد کو لے جائیں گے۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جن کے لئے ثواب ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے لفظ آیت ولکل درجت مما عملوا
(5) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو الشیخ نے عظمہ میں وھب بن منبہ سے اسی طرح روایت کیا وہ مخلوق جو ساری جت میں جائے گی۔ وہ مخلوق جو ساری آگ میں جائے گی۔ اور دو مخلوق ایسی ہیں جو جنت میں اور دوزخ دونوں میں جائیں گی۔ وہ لوگ جو سب جنت میں جائیں گے وہ فرشتے ہیں اور وہ لوگ جو سب آگ میں جائیں گے وہ شیاطین ہیں۔ اور وہ لوگ جو جنت اور دوزخ دونوں میں جائیں گے وہ جنات اور انسان ہیں ان کے لئے ثواب ہے اور سزا بھی ہے۔
(6) حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی، حاکم اللالکائی نے السنۃ میں بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو ثعلبہ خشی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنات تین قسموں میں سے ہیں ایک قسم جن کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم سانپوں اور کتوں کی شکل میں ہیں۔ تیسری قسم جو کبھی بعض مقامات پر سکونت اختیار کرتے ہیں اور کبھی وہاں سے کوچ کرجاتے ہیں۔
(7) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کی کہ جنات ابلیس کی اولاد میں سے ہیں اور انسان آدم کی اولاد میں سے ہیں ان میں بھی مومن ہیں اور ان میں بھی مومن ہیں۔ اور وہ دونوں شریک ہیں ثواب میں اور عذاب میں اور جو ان میں اور ان میں مومن ہیں وہ اللہ کے دوست ہیں اور ان میں جو کافر ہیں وہ شیطان ہیں۔
جنات کی تین اقسام
(8) امام ابن ابی حاتم نے ابن انعم (رح) سے روایت کیا کہ جنات کی تین قسمیں ہیں ایک قسم وہ کہ ان کے لئے ثواب ہے اور ان پر عذاب بھی ہے اور دوسری قسم وہ ہے جو اڑتے رہتے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان اور تیسری قسم سانپ اور کتے ہیں اور انسان کی بھی تین قسمیں ہیں ایک وہ قسم ہے جن کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرمائیں گے۔ اور دوسری قسم وہ ہے کہ جو چوپاؤں کی مانند ہیں بلکہ وہ ان سے بھی راہ بھٹکنے والے اور گمراہ ہیں۔ اور تیسری قسم وہ ہے جو انسانوں کی صورت میں ہیں مگر ان کے دل شیطانی ہیں (یعنی ان کے دل شیطانوں جیسے ہیں)
(9) امام ابن جریر نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ جنات کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ کھاتے ہیں اور پیتے ہیں اور وہ مارتے ہیں اور نکاح کرتے ہیں انہوں نے فرمایا وہ کئی جن ہیں جو خالص جن ہے نہ وہ کھاتے نہ پیتے ہیں نہ مرتے ہیں اور نہ ان کی اولاد ہوتی ہے۔ اور ان میں ایسے اجناس بھی ہے جو کھاتے بھی ہیں اور پیتے بھی ہیں نکاح بھی کرتے ہیں اور مرتے بھی ہیں یہ سعالی اور عدل والے ہیں۔
(10) امام ابو الشیک نے یزید بن حامد سے روایت کیا کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ ان کی چھت میں مسلمان جنات کے گھر والے بھی ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی صبح کا کھانا رکھتے ہیں تو وہ نیچے اتر کر ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور جب وہ اپنا شام کا کھانا رکھتے ہیں تو وہ نیچے آکر ان کے ساتھ شام کا کھانا کھاتے ہیں۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین
(11) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے أبان بن عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ ذریت کا معنی اصل، اور ذریت کا معنی نسل بھی ہے۔
Ayah 6:134(1) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الامل میں ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الشعب میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ اسامہ بن زید نے ایک باندی سو دینار میں ایک ماہ کے ادھار پر خریدی میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کیا تم تعجب نہیں کرتے اسامہ پر جو خریدنے والا ہے ایک ماہ (کے ادھار پر) بلاشبہ اسامہ لمبی امید لئے ہوئے ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میری آنکھیں نہیں جھپکتیں اور میں گمان کرتا ہوں میرے ہونٹ جو ملتے ہیں یہاں تک کہ میں اتنی دیر میں قبض کرلیا جاؤں (یعنی مجھے موت آجائے) اور میری آنکھیں بلند نہیں ہوتی۔ اور میں گمان کرتا ہوں کہ ان کے نیچے ہونے سے پہلے میں قبض کرلیا جاؤں اور میں کوئی لقمہ نہیں لیتا ہوں اور میں یہ گمان کرتا ہوں کہ میں اس کو چھپاؤں گا یہاں تک کہ میرے گلے میں موت کے سبب اٹک جائے گا اے آدم کے بیٹے اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے لفظ آیت ان ماتوعدون لات وما انتم بمعجزین
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما انتم بمعجزین یعنی تم بھاگنے والے نہیں ہو (کہ موت سے بھاگ جاؤ)
Ayah 6:135(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت علی مکانتکم یعنی لفظ آیت علی ناحیتکم اپنی طرف پر۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت علی مکانتکم یعنی اپنے طریقے اور طرف پر عمل کئے جاؤ۔
Ayah 6:136(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وجعلوا للہ مما ذرا کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے پھلوں کو اپنے پانی میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے بنایا اور ایک حصہ شیطان اور بتوں کے لئے بنایا اگر اس پھل میں سے کچھ گر جاتا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے مقرر کیا تھا شیطان کے حصہ میں تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اگر شیطان کے حصہ میں سے کچھ گر جاتا اللہ تعالیٰ کے حصہ میں تو اس کو شیطان کے حصہ میں لوٹا دیتے۔ اور اگر اللہ کے حصہ میں سے کچھ پانی بہہ پڑتا شیطان کے حصہ میں تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر شیطان کے حصہ میں سے کچھ پانی بہہ پڑتا اللہ تعالیٰ کے حصہ میں سے اس کو ہٹا دیتے یہ وہ حصہ ہے جو انہوں نے اللہ کے لئے بنایا تھا کھیتی میں سے اور پانی کے پلانے میں سے۔ لیکن جو انہوں نے شیطان کے لئے بنایا تھا جانوروں میں سے اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے لفظ آیت ما جعل اللہ من بحیرہ (المائدہ آیت 103)
بتوں کے نام پر چڑھاوا چڑھانا حرام ہے
(2) امام ابن ابی حاتم، عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا کے بارے میں فرمایا وہ لوگ جب کوئی کھیتی بوتے تھے یا ان کا کوئی پھل ہوتا تھا تو اس میں سے اللہ کے لئے حصہ اور بتوں کے لئے حصہ مقرر کردیتے تھے۔ پس جو کچھ کھیتی میں سے یا پھل میں سے یا کسی چیز میں سے بتوں کے حصہ میں سے ہوتا تھا تو اس کی حفاظت کرتے تھے اور گن گن کر رکھتے تھے۔ اور اگر بتوں کے حصہ میں سے پانی آگے بڑھ جاتا اور اللہ تعالیٰ کے لئے مقرر کردہ حصہ میں سے کسی چیز کو سیراب کردیتا تو وہ اس کو بتوں کے لئے کردیتے تھے اور اگر کوئی چیز کھیتی میں سے یا پھل میں سے اللہ تعالیٰ کے حصہ میں سے گر جاتی اور بتوں کے حصہ میں مل جاتی تو کہتے یہ فقیر ہے۔ (یعنی بت) اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہ لوٹاتے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے حص میں سے پانی آگے بڑھ جاتا اور بتوں کے حصہ کو سیراب کردیتا تو اس کو بتوں کو لئے چھوڑ دیتے۔ اور اپنے جانوروں میں سے بحیرہ (کان کاٹ کر چھوڑی ہوئی) سائبہ (بتوں کے نام پر آزاد چھوڑی ہوئی) وصیلہ (مسلسل دس سال بچے دینے والی) اور (جس اونٹ کی پشت سے دس بورے ہوتے) کو انہوں نے حرام کرلیا اور انہوں نے ان کو بتوں کے لئے کردیا۔ اور یہ گمان کرتے تھے کہ انہوں نے ان (جانوروں) کو اللہ کے لئے حرام کیا ہے۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث کے بارے میں فرمایا ان لوگوں نے کھیتی میں سے اللہ تعالیٰ کے لئے اور اپنے مشرکوں اور اپنے بتوں کے لئے حصے مقرر کر رکھے تھے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے حصہ میں سے ہوا لے جاتی ان کے بتوں کے حصوں کی طرف تو اس کو چھوڑ دیتے اور کہتے کہ اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ اور اگر بتوں کے حصے میں سے ہوا لے جاتی اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف تو اس کو لے لیتے اور جانور (جن کو انہوں نے حرام کیا تھا) وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا (یعنی) بحیرہ اور سائبہ۔
Ayah 6:137(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے اپنی اولاد کو قتل کرنا مزین کردیا گیا (یعنی وہ اپنی اولاد کے قتل کرنے کو اچھا کام سمجھتے تھے) ۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم کے بارے میں فرمایا کہ ان کے شیاطین ان کو حکم کرتے تھے کہ اپنی اولاد کو زندہ درگور کرو مفلسی کے ڈر سے۔
Ayah 6:138(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر کے بارے میں فرمایا کہ (اس میں) حجر سے مراد ہے کہ جو انہوں نے حرام کیا وصیلہ سے اور اسی جیسے دیگر وہ جانور ہیں جو انہوں نے حرام کر رکھے تھے اور اس سے مراد ان چیزوں کو حرام قرار دینا ہے جو انہوں نے حرام کی ہوئی تھیں۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر یعنی جو کچھ انہوں نے اللہ کے لئے اپنے شرکاء کے لئے رکھا تھا۔
(3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحرث حجر میں لفظ آیت حجر سے مراد ہے حرام۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اس کھیتی کو اپنے معبودوں کے لئے روک رکھا تھا۔ اور لفظ آیت لا یطعمھا الا من نشآء بزعمھم وہ کہتے ہیں کہ وہ اس کو عورتوں سے روک لیں گے۔ اور اس کی مردوں کے لئے خاص کردیں گے۔ اور ہم چاہیں تو اس میں لڑکیوں کے لئے حصہ بنادیں گے۔ اور اگر ہم چاہیں تو ہم ایسا نہ کریں اور یہ حکم انہوں نے اللہ تعالیٰ پر (اپنے پاس سے) گھڑ لیا تھا۔
(5) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجرلا یطعمھا لا من نشآء بزعمھم کے بارے میں فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے کہ اس کو ہم کھائیں مگر جس کو ہم چاہیں (اس کے لئے حلال ہے) اور فرمایا لفظ آیت وانعام حرمت ظھورھا یعنی بحیرہ، سائبہ اور حامی وغیرہ ہیں اور لفظ آیت وانعام حرمت ظھورھا وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیھا یعنی ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے نہ اس وقت جب وہ پیدا ہوئے اور نہ اس وقت جب اس کو ذبح کرتے۔
(6) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو وائل سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وانعام حرمت ظھورھا کے بارے میں فرمایا جب وہ ان پر حج نہیں کرتے تھے اور وہ بحیرہ وغیرہ تھے۔
(7) امام ابو الشیخ نے ابن بن عثمان (رح) سے یوں پڑھا لفظ آیت ھذہ انعام وحرث حجر
(8) امام سعید بن منصور، ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وحرث حرج
(9) امام سعید بن منصور اور ابن منذر نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت انعام وحرث حرج
(10) امام عبد بن حمید نے عاصم سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت بزعمھم ان دونوں میں زاء کے نصب کے ساتھ۔
(11) امام ابو عبید اور ابن الانباری نے مصاحف میں ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ھذہ انعام وحرث حجر
(12) امام ابن الانباری نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت وحرث حجر حاء کے ضمہ کے ساتھ۔
Ayah 6:139(1) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا مافی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا سے دودھ مراد ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا سے سائبہ اور بحیرہ مراد ہے اور لفظ آیت و محرم علی ازواجنا یعنی عورتوں پر (حرام ہے) لفظ آیت سیجزیھم وصفھم یعنی اس بارے میں ان کی جھوٹی بات پر (اللہ تعالیٰ اس کو سزا دیں گے)
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وقالوا ما فی بطون ھذھ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد بحیرہ کا دودھ ہے جو مردوں کے لئے ہوتا تھا سوائے عورتوں کے اگر وہ مردار ہوتا تو اس میں ان کے مرد اور ان کی عورتیں سب شریک ہوتے لفظ آیت سیجزیھم وصفھم یعنی ان کے جھوٹ کی (اللہ تعالیٰ ان کو عنقریب سزا دیں گے)
(4) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا کے بارے میں فرمایا کہ بکری جب نر بچہ جنتی تھی تو اس کو ذبح کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ مردوں کے لئے ہے سوائے عورتون کے اگر وہ مادہ جنتی تھی تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور ذبح نہ کرتے تھے اور اگر وہ بچے مردہ ہوتا تو اس میں سب شریک ہوتے۔
(5) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وقالوا ما فی بطون ھذھ الانعام کے بارے میں فرمایا کہ دودھ کو وہ اپنی عورتوں پر حرام کردیتے تھے اور ان کے مرد اس کو پیتے تھے بکری جب نر بچہ جنتی تو اس کو ذبح کردیتے اور کہتے یہ (صرف) مردوں کے لئے ہے سوائے عورتوں کے اگر وہ مادہ بچہ جنتی تو اس کو ذبح نہ کرتے۔ اگر وہ میتہ ہوتا تو اس میں سب شریک ہوجاتے۔
(6) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت وان یکن میتۃ تا کے ساتھ جو منصوب منون۔
(7) امام بخاری نے تاریخ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ تم میں سے کوئی مال کی طرف ارادہ کرتا ہے اور اس کو اپنی اولاد میں سے (صرف) مردوں کے لئے کردیتا ہے تو یہ اس طرح سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا
Ayah 6:140(1) امام بخاری، عبد بن حمید اور ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تجھے خوشی ہو کہ تو عرب کے جاہلوں کو تعلیم دے۔ تو سورة انعام میں سے ایک سو تیس آیات سے اوپر والی آیات پڑھائیں ان میں سے یہ بھی ہے لفظ آیت قد خسر الذین قتلوا اولادھم سفھا سے لے کر لفظ آیت وما کانوا مھتدینتک۔
(2) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے عکرمہ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قد خسر الذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو زندہ درگور کردیتے تھے قبیلہ مضر اور ربیعہ میں سے ایک آدمی اپنی بیوی پر یہ شرط لگاتا تھا کہ تو زندہ درگور کردوگی لڑکی ہو تو۔ اور دوسرے (یعنی لڑکے کو) زندہ چھوڑ دوگی۔ جب لڑکی پیدا ہوتی کہ جس کو کل زندہ درگور ہونا ہوتا تو وہ صبح شام کے وقت اپنی بیوی کے پاس آتا ہے۔ اور کہتا تو مجھ پر میری ماں کی طرح سے ہے اگر میں تیری طرف لوٹ کر آؤں تو نے اس کو زندہ درگور نہ کیا۔ تو اس کی بیوی اس کو اپنی عورتوں کے پاس بھیج دیتی۔ وہ اس کے لئے گڑھا کھودتیں اور اس کو اپنے درمیان باری باری لیتیں پس اس طرح جب وہ اسے آنے جانے کے قابل دیکھتیں تو اس کو اس گھڑے میں دھنسا دیتیں اور اس پر مٹی کو برابر کردیتیں۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قد خسر الذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم کے بارے میں فرمایا کہ جاہلیت میں یہ رواج تھا۔ ان میں کئی ایک اپنی بیٹی کو قتل کردیتے تھے ندامت اور فاقہ کے خوف سے اور غذا دیتے تھے اپنے کتے کو اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت ما رزقھم اللہ یعنی انہوں نے حرام بنا لیا بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حامی کو نافذ کرتے ہوئے شیطان کے فیصلے کو مانتے ہوئے اور انہوں نے حصے مقرر کر رکھے تھے اپنے مواشی اور اپنے کھیتوں کے بارے میں اور یہ شیطان کی طرف سے تھا اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہوئے۔
(4) امام ابو الشیخ نے ابو رزین سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت قد ضلوا قبل ذلک وما کانوا مھتدین
Ayah 6:141ہر طرح کے پھل اللہ نے اگائے ہیں
(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھو الذی انشا جنت معروشت وغیر معروشت میں معروشات سے مراد وہ باغیچے ہیں جن کو لوگ چھپر کے طور پر لگاتے تھے۔ (اور فرمایا) لفظ آیت وغیر معروشت سے مراد وہ پھل ہیں جو پہاڑوں اور جنگلوں میں اگتے ہیں۔
(2) امام عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت معروشت سے مراد وہ باغات ہیں جو مکڑی اور بانسری پر چڑھائے گئے ہیں۔ اور لفظ آیت وغیر معروشت سے مراد وہ باغات جو باہر اور ظاہر (جنگلوں) میں ہوں۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت معروشت سے خاص کر انگور (کی بیلیں) مراد ہیں۔
(4) امام ابو الشیخ نے ایک دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت معروشت سے مراد ہے انگور اور اس کے علاوہ دوسری بیلیں جو چھپڑیوں میں چڑھائی جاتی ہیں (اور) لفظ آیت وغیر معروشت یعنی ان میں سے وہ بیلیں جو چھپریوں پر نہیں چڑھائی جاتی۔
(5) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت متشابہ یعنی دیکھنے میں ایک جیسی ہیں (اور) لفظ آیت وغیر متشابہ یعنی ذائقہ میں مختلف ہو۔
(6) امام ابن منذر، نحاس، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ دانے ہیں جو بالی سے نیچے گرجائیں۔
(7) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ اس (آیت کے حکم) کو عشر اور نصف العشر نے منسوخ کردیا۔
(8) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ کھیتی کاٹیں اور جب اپنے گاہنے کے بعد صاف کردیں تو اس میں سے کچھ مقدار دے دیں تو اس حکم کو عشر اور نصف عشر نے منسوخ کردیا۔
(9) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو داؤد نے ناسخ میں اور ابن منذر نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ میں نے سدی (رح) سے اس آیت لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ آیت مکی ہے۔ اس کو عشر اور نصف العشر نے منسوخ کردیا میں نے ان سے کہا آپ نے کن سے سنا فرمایا علماء سے سنا۔
(10) امام نحاس اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ زکوٰۃ کے حکم کے نزول سے پہلے یہ حکم تھا۔ ایک آدمی اپنی کھیتی میں سے دیتا تھا اور جانور چارہ کھانے اور یتیموں اور مسکینوں کو دیتا تھا اور تر اور خشک گھاس کے گھٹے بھی دیتا تھا۔
(11) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زکوٰۃ نے قرآن میں ہر صدقہ کو منسوخ کردیا۔
(12) امام ابو عبید، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید اور ابن منذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ زکوٰۃ نے قرآن میں ہر صدقہ کے حکم کو منسوخ کردیا۔
(13) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، نحاس، ابو الشیخ طبرانی، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ صدقہ کے علاوہ کچھ چیز ایسے لوگوں کو دیتے تھے جو ان کے پاس آکر سوال نہیں کرتے تھے۔
کھیتی کاٹتے وقت مساکین کو حصہ دینا چاہئے
(14) امام سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا جب تو کھیتی کاٹے اور تیرے پاس مساکین حاضر ہوجائیں تو تو بالیوں میں سے کچھ ان کے لئے چھوڑ دے۔ اور جب تو کھیتی کو جمع کرلے تیرے پاس مساکین حاضر ہوجائیں تو تو اس میں سے ان کو کچھ دے دو ۔ غلہ کو بھوسے سے صاف کرے اور تیرے پاس مساکین حاضر ہوجائیں تو اس میں سے ان کو کچھ دے دو ۔ جب تم اس بھوسہ سے صاف کرلو اور اس کو جمع کرلو اور اس کے ناپ کرلو تو اس کی زکوٰۃ کو الگ کردو۔ جب کھجور پک جائے اور تیرے پاس مساکین حاضر ہوجائیں تو ان کو دے دو بکھری اور پکی کھجور میں سے۔ جب ان کو توڑ دو اور مساکین تیرے پاس حاضر ہوجائیں تو ان کے لئے اس میں سے کچھ دے دو ۔ اور جب ان کو جمع کرلو اور اس کو ناپ (یعنی مقدار کو) پہچان لو تو اس کی زکوٰۃ کو الگ کرلو۔
(15) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے میمون بن مھران اور یزید بن اصم دونوں حضرات سے روایت کیا کہ اہل مدینہ کھجوروں (کے پھل) کو کاٹ لیتے تھے تو کھجوروں کے گھچے لا کر مسجد میں لٹکا دیتے تھے سائل آتا تو اس کو ڈنڈے سے مارتا تو اس میں سے کھجوریں نیچے گر پڑتیں۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ
(16) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حماد بن ابی سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اس میں سے پکی کھجور کو کھلاتے تھے۔
(17) امام ابو عبید، ابو داؤد نے ناسخ میں اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ صدقہ ہے غلہ اور پھلوں میں سے۔
(18) امام ابو عبید اور ابن منذر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ بنو تمیم میں سے ایک آدمی نے آکر کہا یا رسول اللہ میں بہت مال اور اہل و عیال والا ہوں اور اپنے پاس مسکین کو حاضر کرنے والا ہوں مجھے بتائیے کہ میں خرچ کروں تو کس طرح کروں ؟ آپ نے فرمایا اپنے مال میں سے زکوٰۃ کو ادا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ ہے تجھ کو پاکیزہ کردے گی اور تیرے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی پیدا کردے گی۔ اور سائل کے حق کو اور پڑوسی کے حق کو اور مسکین کے حق کو پہچان لے گا۔
(19) امام سعید بن منصور اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال میں حق ہے۔
(20) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ زکوٰۃ کے علاوہ بھی دیتے۔ پھر وہ لوگ آپس میں فضول خرچی اور اسراف کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین
(21) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج سے روایت کیا کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کو ایک باغ ملا اس نے کہا آج کے دن میرے پاس جو شخص آئے گا میں اس کو کھاؤں گا۔ اس نے زیادہ کھایا یہاں تک کہ شام ہوگئی۔ اور اس کے لئے کوئی پھل (باقی) نہ رہا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین
(22) امام ابن ابی حاتم نے عمر (رح) جو غفرہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان سے روایت کیا کہ جو چیز تو اللہ کی اطاعت پر خرچ کرے وہ اسراف نہیں۔
(23) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اگر تو ابو قیس کی مثل سونا خرچ کرے اللہ کی اطاعت میں تو یہ اسراف نہ ہوگا۔ اور اگر تو ایک صاع نافرمانی میں خرچ کرے تو یہ اسراف ہے۔
(24) امام عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تسرفوا کے بارے میں فرمایا کہ صدقہ کو نہ روکو ورنہ تم نافرمان ہوجاؤ گے۔
(25) امام ابن ابی حاتم نے عون بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انہ لا یحب المسرفین کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسروں کا مال کھاتا ہے۔
(26) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے اس کا عشر اور حکمرانوں کے لئے فرمایا لفظ آیت ولا تسرفوا یعنی نہ لو اس مال کو جس کا تمہارے لئے حق نہیں ہے اور لفظ آیت انہ لا یحب المسرفین یعنی ان لوگون کا حکم فرمایا کہ اپنا حق ادا کرو اور حکمرانوں کو حکم فرمایا کہ (کسی کا مال) مت لو مگر حق کے ساتھ۔
(27) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تسرفوا کے بارے میں فرمایا کہ اپنا مال (اتنا) مت دو کہ (خود) فقیر بن کر بیٹھ جاؤ۔
(28) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت کلوا من ثمرہ اذا اثمر سے مراد ہے کہ پکی ہوئی کھجوروں اور انگوروں میں سے اور جو کچھ بھی ہو (اس میں یہ خوب کھاؤ) اور جب کاٹنے کا دن ہو تو اس کا حق دو اس کے کاٹنے کے دن میں لفظ آیت ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین سے مراد ہے کہ اسراف یہ ہے کہ اس کا حق نہ دو ۔
(29) امام ابو الشیخ نے ابو بشر (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے ایاس بن معاویہ ؓ کے پاس چکر لگایا اور کہا اسراف کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ اس کے ذریعہ جو کچھ اللہ کے حکم سے تجاوز کیا جائے وہ اسراف ہے سفیان بن حسین نے فرمایا کہ اس کے ذریعہ اللہ کے حکم نے جو کچھ کم کیا جائے وہ اسراف ہے۔
(30) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ صدقہ جس کے بارے میں ہمارے لئے ذکر کیا گیا کہ نبی (علیہ السلام) نے بیان فرمایا وہ فصل جو آسمان کے پانی سے سیراب ہو یا بہنے والے چشمے سے یا جسے نیل سیراب کرے یا پھر زمین بارانی ہو۔ تو اس میں عشر کا مل ہوگا۔ اور جو ڈول کی رسی سے سیراب ہو اس میں نصف عشر ہے۔ یہ اس پیداوار کا حکم ہے جس میں کیل کیا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے جب پیداوار پندرہ وسق کو پہنچ جائے اور یہ تین سو صاع ہوتے ہیں تو اس کے زکوٰۃ بھی فرض ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ ان چیزوں میں سے دیں کہ جو پیداوار میں سے کیل نہیں کی جاتی اس میں اس طرح دیں جس کا کیل کیا جاتا ہے۔
(31) امام ابن ابی حاتم نے نحاس، ابن عدی اور بیہقی نے سنن میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ سے فرض زکوٰۃ مراد ہے۔
(32) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ یعنی جس دن پیداوار کو ناپا جاتا ہے۔ اور پیداوار کی مقدار معلوم ہوتی ہے۔ اس دن فرض زکوٰۃ ادا کرو۔
(33) امام ابن ابی شیبہ، ابو داؤد نے ناسخ میں اور بیہقی نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ سے زکوٰۃ مراد ہے۔