Ayahs 37:149–1591:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاستفتھم “ یعنی اس سے سوال کیجئے یعنی قریش کے مشرکین سے (آیت ) ” الربک البنات ولھم البنون “ (کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ہیں) کیونکہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں اور انہوں نے کہا کہ فرشتے عورتیں ہیں، تو فرمایا (آیت ) ” ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون “ (کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا اور وہ دیکھ رہے تھے) اسی طرح فرمایا (آیت ) ” الا انھم من افکھم لیقولون (151) ولد اللہ وانہم لکذبون (152) اصطفی البنات علی البنین “ (خبردار وہ کہتے ہیں اگر ان کے جھوٹ میں سے یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ وہ البتہ جھوٹے کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کو بیٹوں پر چن لیا ہے یعنی کیسے تمہارے لئے بیٹے بنادیئے اور اپنے لئے بیٹیاں بنادیں ، (آیت ) ” ما لکم کیف تحکمون “ (کیا ہوگیا تم کو کس طرح فیصلے کرتے ہو) بلاشبہ یہ فیصلہ ظلم کا فیصلہ ہے۔ (آیت ) ” افلا تذکرون (155) ام لکم سلطن مبین “ (کیا وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے کیا ان کے لئے کوئی کتاب ہے بیان کرنے والی) کیا کوئی کھلا ہوا عذر ہے (آیت ) ” فاتو بکتبکم “ (لے آؤ تم اپنی کتاب) یعنی اپنا عذر پیش کرو (آیت ) ” ان کنتم صدقین (157) وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا “ (اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور انہوں نے ان کے اور اپنے درمیان جنوں میں سے رشتہ داری رکھی ہے) اللہ کے دشمنوں نے یہ گمان کیا جو برکت والی اور بلند ذات ہے کہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس (آپس میں) بھائی ہیں۔
2:۔ آدم بن ابی ایاس وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا “ (ان لوگوں نے اللہ اور جنات کے درمیان رشتہ قرار دے رکھی ہے) یعنی قریش کے کافروں نے کہا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے پوچھا ان کی مائیں کون ہیں جواب دیا جنوں کے سرداروں کی بیٹیاں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون “ (اور خود جنات جانتے ہیں کہ وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے) یعنی عنقریب وہ حساب کے لئے حاضر کئے جائیں گے۔ اور فرمایا ” جنۃ “ سے مراد ہیں فرشتے۔
3:۔ ابن جویبر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت قریش میں سے تین قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی سلیم خزاعہ اور جہینہ “ (آیت ) ” وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کا معزز جنوں کے ساتھ سسرالی رشتہ قائم کیا ہے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا “ یعنی انہوں نے کہا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا “ یعنی مشرکوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے معزز جنوں سے رشتہ داری قائم کی ہے۔
6:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الجنۃ “ سے مراد ہیں فرشتے۔
7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ ان کو جن کا نام اس لئے دیا گیا کیونکہ فرشتے سب کے سب جن ہیں۔
8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد علمت الجنۃ انہم لمحضرون “ یعنی آگ میں حاضر کئے جائیں گے) (آیت ) ” سبحن اللہ عما یصفون “ (اللہ کی ذات پاک ہے ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں) یعنی ان چیزوں سے جو وہ جھوٹ بولتے ہیں (آیت) ” الا عباد اللہ المخلصین “ مگر اللہ کے خالص بندے یعنی یہ اللہ کی جانب سے جنات اور انسانوں کی تعریف ہے۔
Ayahs 37:160–1641:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانکم “ یعنی اے مشرکین کی جماعت (آیت ) ” وما تعبدون “ یعنی جھوٹے معبودوں کی جو تم عبادت کرتے ہو۔ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ (یعنی تم گمراہ نہیں کرسکتے) یعنی تم نماز پڑھنے والوں کو گمراہ نہیں کرسکتے (آیت ) ” الا من ھو صال الجحیم “ (مگر اسی کو جو جہنم رسید ہونے والا ہے) یعنی اس کو جس کے بارے میں میرے علم میں یہ بات گزر چکی کہ وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوگا۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) واللالکائی (رح) نے السنہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین (162) الامن ھو صال الجحیم “ یعنی نہ تم گمراہ ہو مگر جس کے بارے میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والا ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ یعنی تم گمراہ نہیں ہو۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ یعنی تم اس کو گمراہ نہیں کرسکتے (آیت ) ” الا من ھو صال الجحیم “ مگر جس کے لئے مقدر ہوچکا کہ وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابراہیم تیمی عمر بن عبدالعزیز اور ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو آزمائش میں نہیں ڈالا جائے گا جو جہنم میں داخل ہوگا اور مؤمن کو نہ آزمائش میں دالیں گے اور نہ اس پر مسلط ہوں گے۔
شیطانی وساوس آزمائش ہیں :
7:۔ عبد بن حمید (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ اراداہ فرماتے کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے تو ابلیس کو پیدا نہ فرماتے پھر یہ پڑھا (آیت ) ” ما انتم علیہ بفتنین “ (162) الا من ھو صال الجحیم “۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اے ابلیس کی اولاد تم میرے بندوں میں سے کسی کو بھی آزمائش میں ڈالنے پر ہرگز قادر نہیں ہوگے۔ مگر اس کو جس کو جہنم میں داخل ہونا ہے۔
9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم کسی بندے کو فتنہ میں نہیں ڈال سکتے (آیت) ” الا من ھو صال الجحیم “ (مگر جس نے جہنم میں داخل ہونا ہے )
Ayahs 37:165–1661:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید بن (رح) وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “ (اور ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے (جہاں وہ عبادت کرتا ہے) یعنی فرشتوں کا (آیت ) ” وانا لنحن الضآفون “ (اور ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں (آیت) ” وانا لنحن المسبحون “ (اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں) یعنی فرشتے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا کہ ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اسی آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) کا قول ہے
4:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “ یعنی فرشتوں کا (ایک مقام معین ہے) اور آسمان میں کوئی بھی جگہ نہیں مگر اس پر ایک فرشتہ موجود ہے جو سجدہ کررہا ہے یا کھڑا ہوا ہے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔
5:۔ محمد بن نصر المروزی فی کتاب الصلاۃ وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک پاؤں رکھنے کی جگہ بھی آسمان میں نہیں ہے مگر اس پر ایک فرشتہ سجدہ کررہا ہے یا کھڑا ہوا ہے اور یہ ملائکہ (علیہم السلام) کا قول ہے (آیت ) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “ (164) وانا لنحن الصآفون “۔
6:۔ محمد بن نصر وابن عساکر نے علاء بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا آسمان چرچرایا اور اس کو چرچرانا چاہئے اور آسمان میں ایک قدم رکھنے کے برابر بھی جگہ نہیں مگر یہ کہ اس پر کوئی فرشتہ رکوع یا سجدہ نہ کررہا ہوں پھر (یہ آیت) پڑھی (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ (165) وانا لنحن المسبحون “۔
7:۔ عبد الرزاق (رح) والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں روایت نقل کی کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ آسمان میں سے ایک آسمان ایسا بھی ہے جس میں ایک بالشت جگہ ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ اس پر کسی فرشتے کی پیشانی ہو یا اس کے قدم نہ ہوں وہ کھڑا ہوتا ہے یا سجدہ میں ہوتا ہے پھر (یہ آیت پڑھی ) ۔
(آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ (165 وانا لنحن المسبحون “۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ (165) وانا لنحن المسبحون “۔ یعنی آسمان چرچرایا اور اس پر ملامت نہیں کی جائے گی اس کے چرچرانے پر اور آسمانوں میں سے ایک ایسا آسمان بھی ہے جس میں ایک ہتھیلی کے برابر بھی جگہ خالی نہیں کہ اس پر فرشتے کا چہرہ یا اس کے قدم نہ ہوں۔
آسمان میں فرشتون کی کثرت اور عبادت :
9:۔ الترمذی (وحسنہ) وابن ماجہ وابن مرودیہ (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم، نہیں دیکھتے۔ اور میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے آسمان چرچرایا اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے اور اس میں چار انگلیاں کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے کہ اس میں ایک فرشتہ اپنی پیشانی رکھ کر اللہ کے لئے سجدہ نہ کر رہا ہو۔
10:۔ ابن مردویہ (رح) نے حکیم بن حزام ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے آپ نے فرمایا کیا تم سنتے جو میں سنتا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کیا سنتے ہیں ؟ فرمایا میں آسمان کا چرچرانا سنتا ہوں اور وہ ملامت نہیں کیا جاتا چرچرانے پر ایک قدم کی جگہ بھی اس پر ایسی نہیں مگر اس میں ایک فرشتہ رکوع یا سجدہ کررہا ہے۔
11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مرد اور عورتیں اکٹھے نماز پڑھتے تھے ( یہاں تک کہ یہ آیت) ” وما منا الا لہ مقام معلوم “ نازل ہوئی تو مرد آگے بڑھ گئے اور عورتیں پیچھے ہٹ گئیں۔
12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ ذکر منتشر ہو کر نماز پڑھتے تھے تو اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ (اور ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں) تو ان کو رسول اللہ ﷺ نے صف باندھنے کا حکم دیا۔
13:۔ عبدالرزاق (رح) فی المصنف وابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ یہ بات بیان کی جاتی تھی کہ صحابہ کرام صف نہیں باندھتے تھے یہاں تک کہ یہ (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ نازل ہوئی۔
14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن جریج کے طریق سے ولید بن عبد اللہ بن مغیث (رح) سے روایت کیا کہ لوگ نماز میں صف نہیں باندھتے تھے یہاں تک کہ یہ (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ نازل ہوئی۔
15:۔ عبدالرزاق (رح) نے المصنف میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی جبرائیل تشریف لائے اور فرمایا (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ (165 وانا لنحن المسبحون “۔ جبرائیل آپ ﷺ کے آگے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے پھر ان کے پیچھے مرد کھڑے ہوئے اور مردوں کے پیچھے عورتیں کھڑی ہوئیں آپ نے ان کو چار رکعت ظہر کی پڑھائی، یہاں کہ عصر کا وقت تھا، تو جبرئیل کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا پھر آپ کے پاس آئے جب سورج غروب ہوگیا تو انہوں نے تین رکعت پڑھائیں کہ پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قرأت کی اور تیسری رکعت میں قرأت نہیں سنی گئی، یہاں تک کہ جب عشاء کا وقت ہوا سرخی غالب ہوگئی تو جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور لوگوں کو چار رکعتیں پڑھائیں پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قرأت کی یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو جبرئیل (علیہ السلام) پھر آپ کے پاس تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھائی اور اس میں بلند آواز سے قرأت کی اور قرأت (بھی) لمبی فرمائی۔
16:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا صفیں سیدھی کرلو اے فلاں آگے بڑھو اور فلاں پیچھے ہٹ، اپنے صفوں کو سیدھا کرو اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ فرشتوں کے طریقہ کا ارادہ کیا (پھر یہ تلاوت فرمائی) (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ (165 وانا لنحن المسبحون “۔
17:۔ ابن ابی شیبہ ومسلم و ابوداؤد و نسائی (رح) وابن ماجہ نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس طرح صف نہیں باندھتے جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس صف باندھتے ہیں پھر فرمایا وہ اگلی صفوں کو سیدھا کرتے ہیں اور صف میں سیدھے کھڑے ہوتے ہیں۔
18:۔ مسلم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم کو لوگوں پر تین چیزوں کیساتھ فضیلت دی گئی۔ ہماری صفوں کو فرشتوں کی طرح بنادیا گیا۔ ہمارے لئے زمین کو مسجد بنا دیا گیا اور ہمارے لئے اس مٹی کو پاک بنادیا گیا جب ہم پانی کو نہ پائیں (تو مٹی سے تمیم کرلیں)
نماز میں صفیں سیدھیں کرنے کی تاکید :
19:۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی صفوں کو درست کرلو اور سیدھے ہوجاؤ کیونکہ میں تم کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں انس ؓ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ ہم میں سے ایک اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے سے ملاتا ہے اور اپنے قدم کو اس کے قدم سے (ملاتا ہے ) ۔
20:۔ ابن ابی شیبہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ صفوں کو اس طرح سیدھا کررہے تھے جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے ایک دن آپ نے ایک آدمی کے سینے کو صف سے (آگے) نکلا ہوا دیکھا تو آپ نے فرمایا تم ضرور سیدھا کرو اپنی صفوں کو یا اللہ ضرور تمہارے چہروں کو ایک دوسرے سے مختلف کردیں گے۔
21:۔ احمد وابن ابی شیبہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی صفوں کو سیدھا کرو شیطان تمہارے اندر نہ گھسنے پائے حذف کے بچوں کی طرح پوچھا گیا یا رسول اللہ ! حذف کے بچوں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا کالی بھیڑ جو یمن کے علاقہ میں ہوتی ہے۔
22:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نماز میں ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگاتے تھے اور فرماتے سیدھے جاؤ اور مختلف نہ ہوجاؤ پھر تمہارے دل بھی مختلف ہوجائیں گے۔
23:۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی صفوں کو سیدھا کرو کیونکہ نماز کی خوبصورتی میں سے صف کا سیدھا کرنا ہے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطبہ ارشاد فرمایا اور ہمارے لئے سنتوں کو بیان فرمایا اور ہم کو ہماری نماز سکھائی، پھر فرمایا جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو۔
25:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو سیدھا رکھو اور خالی جگہوں کو پر کرو۔ کیونکہ میں تم کو اپنی پیٹھ پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
26:۔ ابن ابی شیبہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے صف میں خالی جگہ کو پر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کردے گا اور اس کے لئے ایک گھر جنت میں بنائے گا۔
27:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی صفوں کو سیدھا کرو اور اپنے رکوع اور اپنے سجدوں کو اچھی طرح (ادا) کرو۔
صف سیدھی کرنے سے دل سیدھا ہوگا :
28:۔ ابن ابی شیبہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ صفوں کو سیدھا کرو تمہارے دل سیدھے ہوجائیں گے اور تم ایک جگہ جم کر رہو تم رحم کئے جاؤ گے۔
29:۔ محمد بن نصر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت ) ” ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی الیل ونصفہ “ سے لے کر ” علم ان لن تحصوہ “ (المزمل آیت 20) (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بلاشبہ آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی رات اور کبھی تہائی رات سے (نماز تہجد) میں کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ کرتا ہے اسے معلوم ہے کہ تم اس سے نہیں ہوسکتے) تو جبرئیل (علیہ السلام) نے پوچھا کہ کیا حکم تم پر بھاری ہوگیا ؟ فرمایا ہاں پھر فرمایا (آیت ) ” وما منا الا لہ مقام معلوم (164) وانا لنحن الصآفون (165) وانا لنحن المسبحون “ (اور ہم میں سے ہر ایک کا معین مقام ہے اور ہم صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہم اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں)
30:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانا لنحن الصآفون “ سے مراد ہے کہ فرشتوں نے کہا ہم آسمانوں میں صفیں بناتے ہیں (آیت) ” وانا لنحن المسبحون “ یعنی ہم نمازیں پڑھتے ہیں یہ قوم ہے فرشتوں کا وہ بندوں میں اپنا مرتبہ بیان کررہے ہیں۔
Ayahs 37:167–1791:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لوان عندنا ذکرا من الاولین “ (کہ اگر ہمارے پاس کوئی نصیحت کی کتاب پہلے لوگوں کی طرح پر آتی) یعنی جب مشرکین اہل مکہ کے پاس پہلوں کا ذکر اور بعد والوں کا علم آیا تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا انکار کردیا (آیت ) ” فسوف یعلمون “ (عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے ) ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی انہوں نے یہ بات بعثت سے پہلے کی اور یہ بات اہل مکہ کے مشرکین جب ان کے پاس اولین کا ذکر اور آخرین کا علم آیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان کانوا لیقولون “ یعنی یہ بات ان لوگوں نے محمد ﷺ کی بعث سے پہلے کی جب ان کے پاس محمد ﷺ تشریف لائے تو (آیت) ” فکفروا بہ فسوف یعلمون “ (ان کا انکار کردیا کہ عنقریب وہ اپنے انجام کو جان لیں گے) (آیت) ” ولقد سبقت کلمتنا “ (اور البتہ ہمارا حکم پہلے پہلے سے ہوچکا ہے) یعنی انبیاء قتل کئے جاتے تھے جبکہ وہ مدد کئے گئے ہوتے تھے اور مؤمن قتل کئے جاتے ہیں جبکہ ان کی مدد کی جاتی ہے ان کی مدد دلائل کے ساتھ دنیا اور آخرت میں کی گئی اور کوئی نبی کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا اور نہ کوئی قوم (قتل کی گئی) جو ایمان والوں میں سے حق کی طرف دعوت دیتی ہے وہ امت چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم بھیج دیتا ہے جو ان سے مومنوں کا بدلہ لیتی ہے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فتول عنھم حتی حین “ (اب تھوڑے سے وقت کے لئے آپ ان سے بےرخی اختیار کرلیجئے) یعنی موت تک (آیت ) ” وابصرھم فسوف یبصرون “ (اور ان کو دیکھتے رہیے عنقریب وہ (اپنے انجام کو) دیکھ لیں گے) یعنی وہ دیکھیں گے جب دیکھنا ان کو نفع نہیں دے گا۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فتول عنھم حتی حین “ یعنی قیامت کے دن تک (ان سے بےرخی اختیار کیجئے )
6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فتول عنھم حتی حین “ یعنی قیامت کے دن تک۔
7:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فتول عنھم حتی حین “ یعنی (آپ ان سے بےرخی اختیار کیجئے) اس میں حین سے مراد بدر کا دن (آیت ) ” فاذا نزل بساحتھم “ (سو وہ عذاب ان کے میدان میں آنا نازل ہوگا) یعنی ان کے گھروں میں (آیت ) ” فسآء صباح المنذرین “ (سو وہ دن ان لوگوں کا جن کو ڈرایا گیا تھا بہت ہی برا ہوگا) یعنی کتنی بری صبح کرتے ہو۔
8:۔ جویبر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان لوگوں نے کہا اے محمد ! ہم کو عذاب دکھائیے جس کے ساتھ تو ہم کو ڈراتا ہے اسے جلدی لے آتو یہ (آیت) نازل ہوئی (آیت) ” افبعذابنا یستعجلون “ (کیا وہ ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں)
9:۔ احمد و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کے وقت خیبر پر حملہ کیا ان لوگوں نے آپ کی طرف دیکھا تو کہنے لگے محمد اور لشکر، آپ نے فرمایا اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا ہم جب کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں (آیت ) ” فسآء صباح المنذرین “ تو ان کی صبح بری ہوتی ہے ہم نے بستی کے باہر گدھوں کو پکڑا اور ان کو پکا لیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول نے تم کو گھریلوگدھے سے منع فرمایا کیونکہ وہ ناپاک ہے اور شیطان کے عمل میں سے ہے۔
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتول عنھم حتی حین “ یعنی ان سے فرمایا گیا کہ ان سے اعراض کریں۔
11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وابصر فسوف یبصرون “ یعنی وہ قیامت کے دن فرمائیں گے جو کچھ انہوں نے فرمایا (آیت ) ” ابصر وابصرھم “ دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔
Ayahs 37:180–1821:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ “ (آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے) یعنی وہ اپنی ذات کی تسبیح بیان کرتا ہے جب اس پر جھوٹ بولا جاتا ہے اور اس پر بہتان لگایا جاتا ہے۔ (آیت) ” عما یصفون “ یعنی ان باتوں میں سے جو وہ جھوٹ بولتے ہیں (آیت) ” وسلم علی المرسلین “ (اور نماز پیغمبروں پر سلام ہو) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم مجھ پر سلام بھیجو تو سارے پیغمبروں پر سلام بھیجو کیونکہ میں رسولوں میں سے ایک رسول ہوں۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوالعوام کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم مجھ پر سلام بھیجو تو سارے رسولوں پر سلام بھیجو کیونکہ میں بھی ایک رسول ہوں سارے رسولوں کے درمیان۔ ابو العوام نے فرمایا کہ قتادہ ؓ جب یہ (آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182) (آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں اور تمام پیغمبروں پر سلام ہو اور ساری خویباں اللہ ہی کے لئے ہیں تلاوت کرتے تو یہ حدیث ذکر کرتے۔
دیگر پیغمبروں کے سلام کے ساتھ آپ (علیہ السلام) پر سلام :
3:۔ ابن سعد وابن مردویہ (رح) نے سعید کے طریق سے ابو طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم پیغمبروں پر سلام بھیجو تو مجھ پر سلام بھیجو کیونکہ میں بھی رسولوں میں سے ایک رسول ہوں۔
4:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس قول (آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182) سے نماز سے فارغ ہونے کو پہچان لیتے۔
5:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابو یعلی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے سلام پھیرنے کا ارادہ فرماتے تھے تو یہ پڑھتے تھے :
(آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182)
6:۔ الدارقطنی نے الافراد میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان آیات کو پڑھتے تھے :
(آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182)
7:۔ الخطیب نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد یہ پڑھتے تھے :
(آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182)
8:۔ طبرانی (رح) نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد ، (آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182) تین مرتبہ پڑھے تو اس نے اجر کا پورا پیمانہ بھر لیا۔
9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اس بات سے خوش ہو کہ قیامت کے دن اجر میں سے پورا پیمانہ بھرے تو اس کو چاہئے کہ اپنی مجلس کے آخر میں یوں کہے جب کھڑے ہونے کا ارادہ کرے۔
(آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182)
10:۔ بغوی (رح) نے اپنی تفسیر میں ایک اور متصل سند سے علی ؓ سے موقوفا روایت کیا ہے :
11:۔ حمید بن زنجویہ نے (فی ترغیبہ من طریق الاصبع بن نیاقہ) علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ جس کو یہ بات خوش (اچھی لگے کہ وہ پورا پیمانہ بھرے (اجر میں سے) تو اس کو چاہئے کہ ان آیات کو تین مرتبہ پڑھے :
(آیت) ” سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون، (180) وسلم علی المرسلین (181) والحمد للہ رب العلمین (182)
الحمد للہ سورة الصافات مکمل ہوئی :