Ayahs 37:62–681:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زقوم کے درخت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ سے ظالم لوگوں نے بڑا فتنہ کھڑا کردیا۔ ابوجہل نے کہا تمہارا ساتھی (یعنی محمد ﷺ یہ گمان کرتا ہے کہ آگ میں ایک درخت ہوگا جبکہ آگ درخت کو کھا جاتی ہے اور اللہ کی قسم ! ہم جانتے ہیں زقوم کو کہ وہ کھجور اور مکھن ہے تو تم بھی زقوم سے لطف اندوز ہو جب انہوں نے تعجب کیا کہ آگ میں درخت ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم “ (کہ وہ درخت نکلے گا جہنم کی جڑ میں سے) یعنی اس کو آگ سے غذا دی جائے گی اور آگ سے ہی اس کو پیدا کیا جائے گا (آیت ) ” طلعھا کانہ رء وس الشیطین “ (اس کے پھل ایسے ہوں گے جیسے شیطان کے سر) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس درخت کو شیاطین کے سروں سے تشبیہ دی۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا جعلنھا فتنۃ للظلمین “ (ہم نے اس درخت کو کافروں کے لئے آزمائش بنایا ہے) یعنی ابوجھل کا یہ کہنا کہ زقوم کھجور اور مکھن ہے میں زقوم کھاتا ہوں۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” طلعھا کانہ رء وس الشیطین “ میں رؤس سے مراد شیاطین کے بال ہیں جو آسمان تک بلند ہیں۔
4:۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل (فی زوائد الزھد) اور ابن المنذر نے ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ ابن آدم ! زقوم کے درخت میں سے نہیں توڑے گا مگر زقوم اس آدمی کا بھی اتنا ہی گوشت نوچ لے گا۔
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابوجہل رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے جب وہ رک گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” اولی لک فاولی ثم اولی لک فاولی “ (اے انسان ! تیرے لئے افسوس پر افسوس ہے، پھر تیرے لیے افسوس پر افسوس ہے) ابوجہل نے سن لیا اور کہا اے محمد کس کو ڈراتے ہو ؟ فرمایا تجھ کو۔ اس نے کہا کس سے مجھے ڈراتے ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تجھ کو عزیز کریم (یعنی اللہ تعالیٰ ) سے ڈراتا ہوں۔ ابوجہل نے کہا : کیا میں عزیز کریم نہیں ہوں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم (44) ” سے لیکر ” ذق انک انت العزیز الکریم “ (چکھ عذاب کو بلاشبہ تو دنیا میں عزیز اور کریم تھا) جب ابوجہل کو یہ بات پہنچی جو کچھ اس کے بارے میں نازل ہوا، تو اس نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور ان کے لئے مکھن اور کھجور منگوائیں اور کہا اس میں زقوم کو کھاؤ اللہ کی قسم محمد تم کو اس چیز سے ڈراتے ہیں۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت ) ” انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم سے لیکر : (آیت ) ” ثم ان لھم علیھا لشوبا من حمیم “ (پھر ان کو کھولتا ہوا پانی ملا کردیا جائے گا۔ شوب کے بارے میں فرمایا کہ وہ دودھ کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو گویا تو اس کے ساتھ ملاتا ہے۔ (آیت ) ” فان لھم “ یعنی اس درخت کے اوپر سے پھر جو وہ کھاتے ہیں (آیت ) ” لشوبا من حمیم “ یعنی ان کیلئے کھولتا ہوا گرم پانی ملا کردیا جائے گا۔
6:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جہنم کے زقوم میں سے اگر ایک قطرہ زمین کی طرف اتار دیا جائے تو لوگوں کی زندگی بگڑ جاتی ہے۔
7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ثم ان لھم علیھا لشوبا من حمیم “ (پھر بلاشبہ ان کے لئے اس درخت کے اوپر سے کھولتا ہوا پانی ملا کردیا جائے گا) (آیت ) ” لشوبا “ کا معنی ہے ملاوٹ۔
8:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ثم ان لھم علیھا لشوبا من حمیم “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے فرمایا کہ گرم پانی اور بدبودار اور پیپ ملا دی جائے گی۔ پھر فرمایا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔
تلک المکارم لا قعبان من لبن شیبا بماء فعادا بعد ابوالا۔
ترجمہ : وہ مکارم دودھ سے نہیں اٹھے اس میں تو پانی کی آمیزش ہے جو بعد میں پیشاب بن جائے گی۔
9:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لشوبا من حمیم “ سے مراد ہے کہ ان کے کھانے میں ملاوٹ ہوگی۔ اور اس میں کھولتا ہوا گرم پانی ملا کردیا جائے گا۔
10: ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن سورج نصف النہار تک نہیں پہنچے گا لوگ جنت والے اور جہنم والے آجائیں گے اور یہ آیت پڑھی۔ (آیت ) ” ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم “ (کہ ان کا لوٹنا جہنم کی طرف ہوگا)
11:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود (رح) کی قرأت میں یوں ہے (آیت ) ” ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم “۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم “ (یعنی گرم پانی ملا ہوا) (آیت ) ” ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم “ (کہ ان کا لوٹنا جہنم کی طرف ہوگا) اور فرمایا کہ وہ تھکاوٹ میں اور عذاب میں ہوں گے آگ اور گرم پانی کے درمیان اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت ) ” یطوفون بینھا وبین حمیم آن “ (الرحمن آیت 44) (کہ وہ اس کے اور گرم پانی کے درمیان چکر لگائیں گے )
Ayahs 37:69–741:۔ ابن جریر (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنے آباؤاجداد کو پایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم “ یعنی انہوں نے پایا اپنے آباؤاجداد کو۔ (آیت ) ” ضآلین “ یعنی گمراہ (آیت ) ” فھم علی اثرھم یھرعون “ (کہ وہ ان کے نقش قدم پر تیزی سے دوڑے جارہے ہیں یعنی تیزی کے ساتھ۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم الفوا اباء اباء ھم ضآلین “ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو جاہل پایا۔ (آیت ) ” فھم علی اثرھم یھرعون “ (کہ وہ ان کے نقش قدم پر دوڑے جارہے ہیں) یعنی ان کے پیچھے یہ بہت تیز ہوں گے۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین “ (سو دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا) یعنی اللہ تعالیٰ نے کیسے عذاب دیا قوم نوح کو قوم لوط کو قوم صالح کو اور وہ امتیں جن کو عذاب دیا۔
5:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الاعباد اللہ المخلصلین “ (مگر اللہ کے مخلص بندے) یعنی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ سبحان نے چن لیا (اپنی عبادت کیلئے )
Ayahs 37:75–1011:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ (اور ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پکارا سو اہم خوب فریاد سننے والے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا۔
اللہ تعالیٰ ہر پکار سنتے ہیں :
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے جب میرے گھر میں نماز پڑھی تو یہ (آیت ) ” ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون “ پڑھتے ہیں گزرے اور فرمایا اے ہمارے رب نوح (علیہ السلام) نے سچ فرمایا جس کو بلایا جاتا ہے تو ہی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے۔ اور تو ان سے زیادہ قریب ہے جو عطا کرتے ہیں کیا ہی اچھا ہے بلانے والا اور کیا ہی اچھا ہے عطا کرنے والا اور وہ کتنا اچھا ہے جس سے سوال کیا جارہا ہے، اور کتنا اچھا ہے مدد کرنے والا، اور تو ہی ہمارا رب ہے اور تو ہی بہترین مدد کرنے والا ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ونجینہ واھلہ من الکرب العظیم “ (اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو بڑے دکھ سے نجات دی) یعنی طوفان میں غرق ہونے سے۔
4:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلنا ذریتہ ھم البقین “ (اور ہم نے انہیں کی اولاد کو باقی رہنے دیا) یعنی اب سارے لوگ نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں (آیت ) ” وترکنا علیہ فی الاخرین “ (اور ہم نے انکے لئے پیچھے آنے والے لوگوں میں یہ بات رہنے دی) یعنی اللہ تعالیٰ نے انکی اچھی تعریف کو آخرت میں باقی رکھا۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلنا ذریتہ ھم البقین “ سے مراد ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی اولاد کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا (آیت ) ” وترکنا علیہ فی الاخرین “ یعنی ان کو خیر کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔
6:۔ الترمذی (وحسنہ) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردوہ (رح) سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ” وجعلنا ذریتہ ھم البقین “ میں فرمایا (کہ اس سے نوح (علیہ السلام) کے بیٹے مراد ہیں) یعنی سام، حام اور یافث۔
7:۔ ابن سعد واحمد والترمذی (وحسنہ) وابو یعلی (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) والحاکم (وصححہ) نے سمرۃ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سام عرب کے باپ ہیں اور حام حبشیوں کے باپ ہیں اور یافث رومیوں کے باپ ہیں۔
8:۔ البزار وابن ابی حاتم (رح) اور خطیب نے اپنی تلخیص میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کی اولاد تین (بیٹے) تھے : سام، حام، اور یافث۔ سام کی اولاد میں عرب فارسی اور رومی ہیں، اور ان میں خیر ہے اور یافث کی اولاد میں یاجوج ماجوج ترک اور صقالہ ہیں اور ان میں خیر نہیں ہے۔ اور حام کی اولاد میں اقبط بربر اور سوڈانی ہیں۔
9:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ” وجعلنا ذریتہ ھم البقین “ کے بارے میں فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے : سام عرب کے باپ ہیں، حام حبشیوں کے باپ اور یافث رومیوں کے باپ ہیں۔
10:۔ الحاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) نے غسل فرمایا اور اپنے بیٹے کو دیکھا کہ وہ ان کی طرف دیکھ رہا ہے تو انہوں نے فرمایا تو میری طرف دیکھ رہا تھا اس حال میں کہ میں نہا رہا تھا اللہ تعالیٰ تیرے رنگ کو جلادے تو وہ کالا ہوگیا اور سوڈانیوں کا باپ ہے۔
11:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وترکنا علیہ فی الاخرین “ سے مراد ہے سارے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے بعد میں تعریف وثنا چھوڑی۔
12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وترکنا علیہ فی الاخرین “ سے مراد ہے ان پر سلام پڑھا جاتا ہے جیسے فرمایا (آیت ) ” سلم علی نوح فی العلمین “ (کہ نوح (علیہ السلام) پر سلام ہے جہان والوں میں ) ۔
13:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وترکنا علیہ فی الاخرین “ سے مراد ہے اچھی تعریف (یعنی ہم نے بعد میں تعریف چھوڑی)
14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان من شیعتہ “ یعنی اس کی اولاد میں سے۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان من شیعتہ لابرھیم “ (اور اس کے طریقے پر چلنے والوں میں ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے) یعنی ابراھیم (علیہ السلام) بھی نوح (علیہ السلام) کے واضح ستارے اور طریقے پر ہیں۔ (آیت ) ” اذ جآء ربہ بقلب سلیم “ (جب وہ خالص دل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے) یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ قلب سلیم والے ہیں۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان من شیعتہ لابرھیم “ یعنی ان کے دین پر تھے (آیت ) ” اذ جآء ربہ بقلب سلیم “ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو شرک سے محفوظ دل عطا فرمایا (آیت ) ” ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون “ (کیا جھوٹ موٹ کے معبودوں کو اللہ کے سوا تم چاہتے ہو) (آیت ) ” فما ظنکم برب العلمین “ (پس رب العالمین کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے) یعنی جب تم اس سے ملاقات کروگے حالانکہ تم نے اس کے غیر کی عبادت کی ہوگی۔
17:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فنظر نظرۃ فی النجوم “ (سو ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک نگاہ بھر کر ستاروں کو دیکھا) یعنی ایک طوع ہونے والا ستارہ دیکھا تو فرمایا (آیت ) ” انی سقیم “ (کہ میں بیمار ہوں) گویا میرے ہاتھ ستاروں میں ہیں۔ فرمایا یہ ایک کلمہ ہے عرب کے کلام میں سے جو اللہ عزدینہ فرماتے ہیں۔
18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” فنظر نظرۃ فی النجوم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ایک کلمہ ہے عرب کے کلام میں سے جب کوئی آدمی (کسی چیز میں) غور وفکر کرتا ہے اور ستاروں میں غور وفکر کرتا ہے تو اس وقت یہ جملہ بولتا ہے۔
19:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فنظر نظرۃ فی النجوم “ یعنی آپ نے آسمان میں دیکھا (آیت ) ’ ’ فقال انی سقیم “ تو فرمایا میں مطعون ہوں (یعنی طاعون زدہ ہوں)
20:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی سقیم “ میں سقیم کا معنی ہے مریض۔
21:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی سقیم “ میں سقیم کا معنی ہے مطعون یعنی طاعون زدہ۔
22:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی سقیم “ میں سقیم سے مراد ہے مطعون۔
23:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) ” انی سقیم “ سے مراد ہے میں طاعون زدہ ہوں اور وہ لوگ طاعون کے مریض سے بھاگتے تھے۔
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کا توریہ :
24:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ان کے بادشاہ نے ابراھیم (علیہ السلام) کی طرف پیغام بھیجا کہ ہماری عید ہے، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں تو آپ نے ایک ستارے کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ یہ ستارہ کبھی طلوع نہیں ہوتا مگر اسی وقت جب میں بیمار ہوتا ہوں (آیت ) ” فتولوا عنہ مدبرین “ (اس کے بعد قوم والے ابراہیم کی طرف پشت پھر کر چل دیئے )
25:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فتولوا عنہ مدبرین “ سے مراد ہے کہ وہ واپس چلے گئے ” فراغ “ یعنی وہ متوجہ ہوئے (آیت ) ” فراغ الی الھتھم فقال الا تاکلون “ (پھر چپکے چپکے ان کے معبودوں کی طرف لوٹے اور کہا تم کھاتے کیوں نہیں) یعنی وہ ان سے بولنے کا مطالبہ کرتے ہیں (آیت ) ” مالکم لا تنطقون “ (29) فراغ علیہم ضربا بالیمین “ (تم کو کیا ہوگیا تم بولتے کیوں نہیں پھر قوت کے ساتھ ان پر جا پڑے اور مارنے لگے) یعنی ان پر متوجہ ہوئے اور ان کو توڑ ڈالا۔ (آیت ) ” فاقبلوا الیہ یزفون “ پھر وہ لوگ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے (آیت) قال اتعبدون ماتنحتون “ (فرمایا کیا جن کو تم خود تراشتے ہو ان ہی کی پوجا کرتے ہو) یعنی بتوں میں سے (آیت ) ” واللہ خلقکم وما تعلمون “ (یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو اور جو تم کام کرتے ہو ان کو پیدا فرمایا (آیت ) ” فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین “ (انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تدبیر کرنا چاہی تو ہم نے ان کو نیچا کردیا یعنی ذلیل کردیا) یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد ان کو مہلت نہ دی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کردیا۔ (آیت ) ” وقال انی ذاھب الی ربی سیھدین “ (اور فرمایا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں یعنی میں اللہ کی طرف جانے والا اپنے عمل اور اپنے دل اور اپنی وصیت کے ساتھ۔
26:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنی عید کی طرف نکلی اور انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کا ارادہ کیا آپ پہلو کے بل لیٹ گئے (آیت ) ” فقال انی سقیم “ (فرمایا میں بیمار ہوں، میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا اور آسمان کی طرف دیکھنا شروع کیا جب وہ باہر چلے گئے تو آپ ان کے معبودوں پر متوجہ ہوئے اور ان کو توڑ ڈالا۔
27:۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبلوا الیہ “ (پھر وہ لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے) (آیت ) ” یزفون “ سے مراد ہے دوڑتے ہوئے۔
28:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبلوا الیہ یزفون “ (یعنی کھسکتے ہوئے) اور زفیف سے مراد ہے کھسکنا۔
29:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یزفون “ سے مراد ہے کہ وہ دوڑتے ہوئے آئے۔
30:۔ البخاری فی خلق افعال العباد والحاکم اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صانع ہے اور اس کی صفت کو بنانے والا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” واللہ خلقکم وما تعملون “ (اور اللہ نے تم کو پیدا فرمایا اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو (ان چیزوں کو بھی ) ۔
31:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا ابنوالہ بنیانا فالقوہ فی الجحیم “ (وہ لوگ کہنے لگے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ایک عمارت تعمیر کرو اور اس کی دہکتی ہوئی آگ میں اس کو ڈال دو ) اور انہوں نے ان کو ایک گھر میں قید کرلیا اور ان کے لئے لکڑیاں جمع کیں یہاں تک کہ کہ ایک عورت جب مریضہ ہوتی تو کہتی کہ میں تندرست ہوگئی تو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ضرور لکڑیاں جمع کروں گی۔ جب انہوں لکڑیاں جمع کرلیں تو آگ اتنی تیز تھی یہاں تک کہ اگر کوئی پرندہ اس کے اوپر سے گزرتا تو اس کی گرمی کی شدت سے جل جاتا، پھر انہوں نے ان کو (ڈالنے کا) ارادہ کیا تو ان کی عمارت کی بلندی پر اٹھایا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھایا تو آسمان زمین پہاڑوں اور فرشتوں نے کہا : اے اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) کو تیری محبت میں جلایا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اس کو زیادہ جانتا ہوں اگر وہ تم کو پکارے تو تم اس کی مدد کرنا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا اے اللہ ! تو آسمان میں اکیلا ہے اور میں بھی زمین میں اکیلا ہوں زمین میں کوئی ہٹا نہیں میرے سوا تیری عبادت کرے مجھے اللہ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے پھر ہم نے اس کو آواز دی (آیت ) ” ینار کونی برداوسلاما علی ابراھیم “ (اے آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا ابراہیم (علیہ السلام) پر)
32:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقال انی ذاھب الی ربی سیھدین “ (اور فرمایا میں تو اپنی رب کی جانب چلا جاتا ہوں مجھے اچھی جگہ پہنچا دے گا) یعنی جب انہوں نے ہجرت کی تو تو نے یہ دعا فرمائی )
33:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رب ھب لی من الصلحین “ (اے میرے رب ! مجھے صالحین میں سے ایک لڑکا عطا کیجئے یعنی نیک لڑکا۔
34:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ (ہم نے ان کو ایک حلیم المزاج لڑکے کی بشارت دی) یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری سنائی۔
35:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
36:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ یعنی آپ کو حضرت اسحاق کی بشارت دی، اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کی حلیم کے ساتھ تعریف نہیں کی مگر ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی۔
37:۔ ابی ابی حاتم (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ سے اسماعیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسحاق (علیہ السلام) کے نبی ہونے کی خوشخبری دی۔
38:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر نے زہری (رح) کے طریق سے قاسم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ کے بارے میں ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) ہیں جبکہ آپ منی میں تھے اور کعب ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد اسحاق (علیہ السلام) ہیں جبکہ آپ بیت المقدس میں تھے۔
39:۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ سے مراد اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔
40:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ سے مراد اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔
41:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فبشرنہ بغلم حلیم “ سے مراد اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔