37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 37:102–111

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

سو جب وہ لڑکا ایسی عمر کو پہنچا کہ ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے کہا اے میرے چھوٹے سے بیٹے بیشک میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے ذبح کرتا ہوں سو تو غور کرلے تیری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا اے اباجان آپ کو جو حکم ہوا ہے اس پر عمل کرلیجئے، انشاء اللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

سو جب دونوں نے حکم مان لیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو کروٹ کے بل لٹا دیا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم (علیہ السلام)

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تم نے خواب کو سچ کردکھایا بلاشبہ ہم مخلصین کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بلاشبہ یہ کھلا ہوا امتحان ہے

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دے دیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور بعد کے آنے والوں میں ان کے لیے یہ بات رہنے دی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ سلام ہو ابراہیم (علیہ السلام) پر

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم اسی طرح مخلصین کو بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ میں ” السعی “ سے مراد عمل ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ (جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ ان کے ساتھ چلنے پھرنے لگا) یعنی جب ان کے ساتھ کام کرنے لگا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب اپنے والد کے ساتھ چلنے پھرنے لگا۔ 4:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب وہ چلے تو اپنے دل میں غم کو چھپایا اور عبداللہ کی قرأۃ میں ہے (آیت ) ” قال یبنی انی اری فی المنام “ (اے میرے بیٹے میں نے نیند میں دیکھا ہے) 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کیا کہ (آیت ) ” فلما بلغ معہ السعی “ یعنی جب جوان ہوگئے یہاں تک کہ کام کرنے کے قابل ہوگئے تو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کام میں شروع ہوگئے (آیت) ” فلما اسلما “ یعنی جب دونوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا جو حکم دیا گیا تھا (آیت ) ” وتلہ للجبین “ (اور باپ نے اپنے بیٹے کو کروٹ پر لٹایا) یعنی اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے چہرے کو زمین میں رکھ دو تو انہوں ایسا ہی کیا جب آپ نے اپنے ہاتھ کو داخل کیا تاکہ ان کو ذبح کریں (آیت ) ’ ونادینہ ان یابرھیم (104) قدصدقت الرء یا “ (تو ہم نے آپ کو آواز دی اے ابراہیم ! تو خواب کو سچا کردکھایا) تو انہوں نے اپنے ہاتھ کو روک لیا اور اپنے سر کو اوپر اٹھایا تو ایک مینڈھے کو دیکھا کہ ان کی طرف نیچے آرہا ہے یہاں تک کہ وہ ان کے سامنے گرپڑا تو انہوں نے اسی کو ذبح کردیا۔ 6:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے اپنے والد سے عرض کیا جب آپ مجھے ذبح کرلیں تو مجھے سے دور ہٹ جانا ایسا نہ ہو کہ میں تڑپوں اور آپ پر میرے خون کی چھینٹیں پڑجائیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو باندھ دیا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے چھری اٹھائی اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کے پیچھے سے آواز دی گئی۔ (آیت) ” ان یابرھیم (104) قدصدقت الرء یا “ منی میں شیطان کا رکاوٹ بننا : 7:۔ احمد (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابراھیم (علیہ السلام) کو جبرائیل (علیہ السلام) جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے شیطان ان کے سامنے آیا تو آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر اس کو جمرہ قصوی کی طرف لے آتے پھر شیطان ان کے سامنے آیا آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا پھر اس کو جمرہ قصوی کی طرف لے آتے پھر شیطان ان کے سامنے آیا آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں تو وہ زمین میں دھنس گیا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے عرض کیا : اے میرے باپ مجھے باندھ دو تاکہ میں حرکت نہ کروں اور کہیں آپ پر میرے خون کی چھینٹیں نہ پڑجائیں جب آپ مجھے ذبح کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو باندھ دیا پھر جب آپ نے چھری اٹھائی اور ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کو پیچھے سے آواز دی گئی (آیت) ” ان یابرھیم (104) قدصدقت الرء یا “ 8:۔ ابن المنذر والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان من شیعتہ لابرھیم “ سے مراد ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور آپ کے راستہ اور طریقہ پر تھے (آیت ) ” بلغ معہ السعی “ بلکہ وہ بالغ ہوگئے اور کام کے قابل ہوگئے تو ابراہیم (علیہ السلام) کام میں مشغول ہوگئے (آیت) فلما اسلما “ یعنی جب دونوں سے تسلیم کرلیا جو حکم دیا گیا تھا ” وتلہ “ یعنی اس کا چہرہ زمین پر رکھ لیا تو عرض کیا آپ مجھے ذبح نہ کرسکیں گے جبکہ آپ مجھے دیکھ رہے ہوں گے ممکن ہے آپ کو مجھ پر رحم آجائے اور آپ مجھے ذبح نہ کرسکیں اگر میں گھبرانے لگا تو پیچھے ہوجاؤں گا اور آپ سے بچنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن میرے ہاتھوں کو میری گردن کی طرف باندھ دیں پھر میرے چہرے کو زمین کی طرف کردیں جب انہوں نے اپنے ہاتھ کو داخل کیا تاکہ ان کو ذبح کریں ابھی چھری نہ پھیری تھی کہ آپ کو آواز دی گئی (آیت) ” ان یابرھیم (104) قدصدقت الرء یا “ تو انہوں نے اپنے ہاتھ کو روک لیا اور فرمایا (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “ (اور ہم نے ایک برا ذبیحہ اس کے عوض دے دیا) یعنی ایک مینڈھا عظیم (بڑا) یعنی قبول کیا ہوا، اور ابن عباس ؓ نے یہ گمان کیا کہ ذبح ہونے والے اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ 10:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) والبخاری وابن جریر (رح) وابن المنذر و طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبیدبن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں پھر یہ آیت تلاوت کی (آیت ) ” انی اری فی المنام انی اذبحک فانظرماذا تری “ (میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھ کو ذبح کررہا ہوں سو تم بھی سوچ لو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انبیاء علیھم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں جب وہ کسی چیز کو خواب میں دیکھتے ہیں تو اس کام کر ڈالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کا جانور ملنا : س 12:۔ احمد وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو قربانی کا حکم ہوا توسعی کی جگہ کے پاس شیطان ان کے سامنے آیا اس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے مقابلہ کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس پر غالب رہے پھر جبرائیل (علیہ السلام) جمرۃ العقبہ کی طرف لے گئے شیطان پھر ان کے سامن آگیا ابراھیم نے ان کو سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ بھاگ گیا پھر جمرۃ الوسطی کے پاس سامنے آیا تو اس کو سات کنکریاں ماریں (آیت ) ” ثم تلہ للجبین “ (پھر اس کو کڑوت پر لٹایا) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے جسم پر سفید قمیض تھی۔ عرض کیا : اے میرے باپ ! میرے لئے اور کوئی کپڑا نہیں اس کے علاوہ کہ جس میں آپ مجھے کفن دیں اس کو ساتھ لیجئے یہاں تک کہ مجھے اس میں کفن دیجئے آپ اس کی قمیض اتارنے لگے تو پیچھے سے آواز دی گئی (آیت) ” ان یابرھیم (104) قدصدقت الرء یا “ (اے ابراھیم (علیہ السلام) تو نے خواب سچا کردیکھایا) مڑ کر دیکھا تو اچانک ایک سفید بڑی آنکھوں اور بڑی سینگوں والا مینڈھا (کھڑا) تھا تو آپ نے اس کو ذبح کردیا۔ 13:۔ ابن جریر (رح) والحاکم نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ جس کی قربانی دی گئی وہ اسماعیل (علیہ السلام) تھے اور یہودیوں نے گمان کیا کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) ہیں اور یہودیوں نے جھوٹ بولا۔ 14:۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر (رح) وابن المنذر والحاکم (وصححہ) شعبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ 15:۔ سعید بن منصور ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) مجاہد ویوسف بن مالک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسماعیل (علیہ السلام) ہیں 16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) یوسف بن مہران اور ابوالطفیل کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن مسیب (رح) اور سعید بن جبیر (رح) دونوں سے روایت کیا کہ دونوں نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جس کے ذبح کرنے کا ارادہ کیا وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ 18:۔ ابن جریج (رح) نے شعبی، مجاہد، حسن، یوسف بن مہران اور محمد بن کعب قرظی رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “ (اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دے دیا یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک مینڈھا اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے میں ذبح کیا تھا۔ 20:۔ ابن جریر (رح) الآمد فی المغاریہ والخلعہ فی فوائد والحاکم وابن مردویہ (رح) نے ضعیف سند سے عبیداللہ بن سعید صنایحی (رح) سے روایت کیا کہ ہم معاویہ بن ابو سفیان کی مجلس میں حاضر تھے کہ لوگوں نے اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے بارے میں آپس میں تذکرہ کیا کہ ان میں سے کون ذبیح ہے معاویہ ؓ نے فرمایا کہ تم باخبر کے پاس پہنچے ہو (واقعہ یوں ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے ایک دیہاتی آیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ میں اپنے پیچھے گھاس کو خشک اور پانی کو خشک ملک (کی طرح) چھوڑ کر آیا ہوں اہل و عیال ہلاک ہوگئے مویشی ضایع ہوگئے اے ذوبیح کے بیٹے اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو احسان کیا ہے مجھ پر اس میں سے عطا فرمائیے رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا اور اس پر انکار نہیں کیا لوگوں نے کہا : اے امیر المؤمنین ذبیحان کون ہیں ؟ تو فرمایا جب عبدالمطلب نے زمزم کا کنواں کھدوایا تو انہوں نے اللہ کے لئے نذر مانی اگر اس کو کھودنا آسان ہوا تو وہ اپنے بیٹے کو ذبیح کریں گے جب فارغ ہوئے تو بیٹوں کے درمیان قرعہ ڈالا اور وہ دس (بیٹے) تھے قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکلا انہوں نے اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا اس کے ماموں نے روکا جو بنو مخزوم میں سے تھے اور کہنے لگے اپنے رب کو راضی رکھ اور اپنے بیٹے کا فدیہ دے، تو انہوں نئے اس کے فدیہ میں سواونٹیناں ذبح کیں۔ جبکہ دوسرے ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ الصلوۃ والسلام) تھے : 21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جرر (رح) والحاکم (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے دو بیٹوں میں سے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے اور ہم اس کو اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب مذبوح کے قصے سے فارغ ہوئے (آیت ) ” فبشرنھا باسحق “ (اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دی) اور فرمایا (آیت ) ” فبشرنھا باسحق ومن ورآء اسحاق یعقوب “ (ھود آیت 71) اور ہم نے نے اس کو خوشخبری دی اسحاق کی اور اس کے پیچھے یعقوب کی) یعنی حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ذبح کا حکم نہیں دیا اور اس کے لئے اس میں وعدہ کیا ہوا ہے ایک وعدہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو صرف اسماعیل (علیہ السلام) کے ذبح کا حکم دیا ہے۔ 22:۔ الحاکم بسند فیہ الواقدی نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ میں خوات بن جبیر (رح) سے ذبیح اللہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ اسماعیل ہیں جب وہ سات سال کو پہنچے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں اپنے شام کے گھر میں دیکھا کہ وہ اس کو ذبح کررہے ہیں تو آپ براق پر سوار ہو کر اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کو اپنی ماں کے پاس پایا اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر چل دیئے اس حکم کو پورا کرنے کے لئے جو دیا گیا تھا شیطان ایک ایسے آدمی کی صورت میں بن کر آیا کہ جس کو آپ پہچانتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خلق کے دونوں جانب سے ذبح کیا کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تانبے میں ذبح کررہے ہیں انہوں نے چھری کو دو مرتبہ پتھر سے تیز کیا۔ مگر اس نے نہ کاٹا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ کی طرف سے اپنا سراوپر کو اٹھایا کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی بکرا ہے جو ان کے آگے کھڑا ہوا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کھڑا ہوجا تیرا فدیہ نازل ہوچکا ہے۔ پھر اس بکرے کو منی میں ذبح کردیا۔ 23:۔ الحاکم بسند فیہ الواقدی عطا بن یسار کے طریق سے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہا کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ 24:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ ذبیح اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے فرزوق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے منبر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا کہ وہ فرما رہے تھے کہ جس کے ذبیحہ کا حکم دیا گیا تھا وہ اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ 26:۔ ابن اسحاق وابن جریر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ایک آدمی کی طرف پیغام بھیجا جو یہودی تھا پھر وہ اسلام لایا اور اس کا اسلام اچھا رہا وہ یہودیوں کے علماء میں سے تھا اس سے سوال کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے کون سے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس نے کہا اسماعیل (علیہ السلام) کا اللہ کی قسم اے امیر المومنین کہ یہودی اسے خوب جانتے ہیں لیکن عربوں پر حسد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر بیٹے کی قربانی : 27:۔ بزار (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں رب ابراہیم (علیہ السلام) واسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ۔ مجھے ان میں سے چوتھا بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں ڈالے گئے، انہوں نے میری وجہ سے صبر کیا۔ اسحاق (علیہ السلام) نے میرے لئے جان دے دی۔ اور یعقوب (علیہ السلام) سے (ان کے بیٹے) یوسف غائب ہوگئے تھے اور یہ مصیبتیں تجھ کو نہیں پہنچی۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عبید بن عمیر (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب ! لوگ کہتے ہیں : ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے رب۔ کس وجہ سے وہ اس طرح کہتے ہیں ؟ فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے میرے مقابل کسی چیز کو قرار نہیں دیا اور تمام چیزوں پر مجھے اختیار کیا اور اسحاق (علیہ السلام) نے میرے لئے اپنی جان دیدی تو وہ دوسری چیز کو بددرجہ ادنی سخاوت کرے گا اور یعقوب (علیہ السلام) کو میں نے جس آزمائش میں بھی ڈالا تو میرے ساتھ ان کا حسن ظن اور دور ہوگیا۔ 29:۔ دیلمی (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا اور فرمایا مجھے ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی طرح بنا دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ذریعے آزمایا تو انہوں نے صبر کیا اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کے ذریعہ آزمایا انہوں نے صبر کیا اور یعقوب (علیہ السلام) آزمایا انہوں نے صبر کیا۔ 30:۔ دارقطنی فی الافراد والدیلمی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی نے فرمایا کہ ذبح ہونے والے اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ 31:۔ ابن مردویہ (رح) نے بہار ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے صحابی تھے کہ اسحاق ذبح ہونے والے تھے۔ 32:۔ عبد بن حمید (رح) و طبرانی (رح) نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ اسماء بن خارجہ نے ابن مسعود ؓ سے پاس فخر کرتے ہوئے کہا کہ میں عظیم لوگوں کا بیٹا ہوں ابن مسعود ؓ نے فرمایا وہ یوسف بن یعقوب بن اسحاق ہیں ذبیح اللہ بن خلیل ہیں۔ 33:۔ طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے۔ فرمایا یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح اللہ۔ 34:۔ ابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) فی الاوسط ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا کہ (یا تو) میری آدھی امت کو بخش دے یا مجھے شفاعت کا اختیار دیا جائے۔ تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میری ساری امت کو جامع ہوگی، اگر ایک عبد صالح مجھ سے سبقت نہ لے جاتا تو میں اپنی دعا میں جلدی کرتا اللہ تعالیٰ نے جب اسحاق (علیہ السلام) سے ذبح کی مصیبت کو دور کردیا تو ان سے کہا گیا : اے اسحاق کے والد ! سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم شیطان کے برائی پر اکسانے سے پہلے اس میں جلدی نہ کرنا اے اللہ ! جو شخص اس حال میں مرے کہ تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو اس نے بہت اچھا کام کیا اس کی مغفرت فرمادیجئے۔ 35:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) اور بیہقی نے شعب الایمان میں کعب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہا کیا میں آپ کو اسحاق (علیہ السلام) کے بارے میں نہ بتاؤں عرض کیا کیوں نہیں (ضرور بتائیے) فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب دیکھا کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کررہے ہیں، تو شیطان نے کہا اللہ کی قسم اگر اس وقت میں نے آل ابراہیم (علیہ السلام) کو فتنہ میں نہ ڈالا تو پھر کبھی بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو فتنہ میں نہیں ڈال سکوں گا۔ شیطان ایک ایسے آدمی کی شکل بن کر آیا جس کو وہ لوگ پہنچانتے تھے وہ آیا یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) کو لے کر باہر نکل گئے تاکہ ان کو ذبح کریں۔ شیطان (ان کی بیو) سارہ کے پاس آیا اور کہا کہ صبح سویرے ابراہیم (علیہ السلام) کو لے کر کہاں گئے ؟ سارہ نے کہا اپنی بعض ضرورت کیلئے گئے ہیں شیطان نے کہا اللہ کی قسم وہ کسی ضرورت کے لئے نہیں لے گئے) سارہ نے کہا کس لئے صبح کو لے گئے ہیں ؟ شیطان نے کہا تاکہ اس کو ذبح کریں سارہ نے کہا وہ اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کریں گے۔ شیطان نے کہا گمان کیوں نہیں اللہ قسم (وہ ذبح کرنے لے گئے ہیں) سارہ نے کہا وہ اس کو کیوں ذبح کریں گے شیطان نے کہا انہوں نے گمان کیا کہ ان کے رب نے اس کا حکم دیا ہے۔ سارہ نے کہا یہ تو اچھی بات ہے کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔ شیطان وہاں سے نکلا اور اسحاق (علیہ السلام) کو ملا کہ وہ اپنے باپ کے پیچھے چل رہے تھے شیطان نے کہا تیرا باپ صبح سویرے کہاں لئے جارہا ہے ؟ اسحاق (علیہ السلام) نے فرمایا اپنی بعض ضرورت کے لئے شیطان نے کہا نہیں اللہ کی قسم بلکہ صبح سویرے تجھ کو ذبح کرنے کے لئے لے جارہے ہیں۔ اسحاق (علیہ السلام) نے فرمایا میرے باپ کو زیبا نہیں کہ وہ مجھے ذبح کرے شیطان نے کہا کیوں نہیں اسحاق نے فرمایا کیوں (ذبح کریں گے) شیطان نے کہا کہ انہوں نے یہ گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم دیا ہے اسحاق نے فرمایا اللہ کی قسم اگر اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو وہ اس کی اطاعت کریں گے۔ شیطان نے اسحاق کو چھوڑا اور ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف جلدی کی کہنے لگا صبح سویرے اپنے بیٹے کو کہاں لئے جارہے ہوں ؟ فرمایا : اپنی بعض ضرورت کیلئے۔ شیطان نے کہا : نہیں اللہ کی قسم صبح سویرے آپ ان کو ذبح کرنے کے لئے لیے جارہے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں کیوں ان کو ذبح کروں گا ؟ شیطان نے کہا آپ کو گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تو میں ضرور کروں گا شیطان نے (یہ سن کر) ان کو چھوڑ دیا اور ان کا کہنا ماننے سے مایوس ہوگیا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کے لئے پکڑا تو اسحاق (علیہ السلام) سلامت رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا لیا اور اس کے بدلے میں بڑی قربانی کا فدیہ دیا۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کھڑا ہوجا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بچا لیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسحاق (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی میں نے تجھے ایک دعا عطا فرمائی ہے۔ جو میں تیری ضرور قبول کروں گا۔ عرض کیا : بلاشبہ میں آپ سے دعا کروں گا اور آپ میری دعا کو قبول کیجئے کہ جو بندہ اولین اور آخرین میں سے آپ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ آپ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو اس کو آپ جنت میں داخل فرمادیں۔ 36:۔ عبد الرزاق (رح) و سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ 37:۔ عبدالرزاق (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ 38:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری فی تاریخہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے عباس بن عبد المطلب ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ 39:۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) والحاکم (وصححہ) عکرمہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ 40:۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزھد میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے نیند میں اسحاق (علیہ السلام) کے ذبح کرنے کو دیکھا تو اپنے گھر سے منی میں قربانی ہونے کی جگہ کی طرف چلے۔ ایک ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرلی۔ جب ذبح کرنے ہٹادیئے گئے اور مینڈھے کو ذبح کرکے واپس چل دیئے تو دونوں اپنے اپنے گھر ایک ماہ کی مسافت سے ایک رات میں پہنچ گئے۔ اور آپ کے لئے وادیوں اور پہاڑوں کو لپیٹ دیا گیا۔ 41:۔ الحاکم بسند فیہ الواقدی جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کررہے ہیں۔ 42:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ ذبح ہونے والے اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ 43:۔ ابن عساکر نے نوح بن حبیب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے شافعی (رح) کو گفتگو کرتے ہوئے سنا اس سے اچھا کلام میں نے کبھی نہیں سنا میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے سے یہ بیان کیا جو انہوں نے (خواب میں) دیکھا کہ اس بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ اس بات سے ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس معاملے کو سپرد کردے اور صبر اور تسلیم اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرے، اور یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹالنے کی خواہش چھپائے ہوئے تھے تو بیٹے نے جواب دیا (آیت ) ” یابت افعل ما تؤمر ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین “ (اے میرے ابا ! تو کر وہ کام جس کا تو حکم دیا گیا ہے عنقریب تو مجھ کو انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائے گا) امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ معاملہ کو سپرد کرنا صبر ہے اور تسلیم کرنا بھی صبر ہے اور اطاعت کرنا وہ صبر کا اہم جز ہے پس ذبح نے اس کے لئے سن سب چیزوں کو جمع کردیا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مختصر کلام سے چاہا تھا۔ 44:۔ الخطیب نے تالی التخلیص میں فضل بن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کو پہلو کے بل لٹادیا کہ (گردن پر یہ رکھا تو جبرائیل نے چھری کو الٹ دیا بیٹے نے کہا اے میرے باپ ! مجھے باندھ دیجئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے خون کی چھینٹیں آپ پر نہ پڑجائیں پھر فرمایا اے میرے باپ ! مجھے کھول دو کیونکہ مجھے خوف ہے کہ فرشتے میرے خلاف یہ گواہی نہ دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے گھبرا گیا ہوں۔ 45:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے خواب میں کہا گیا کہ اپنی نذر کو پورا کیجئے جو آپ نے نذر مانی تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سارہ میں سے بچہ عطا کیا ہے اب اس کو ذبح کریں (اسحاق پیدا ہو کر بڑے ہوگئے) تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میرے ساتھ چلو تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کی آپ نے چھری اور رسی اٹھائی اور چل دیئے۔ یہاں تک کہ جب پہاڑوں کے درمیان پہنچے تو لڑکے نے کہا اے میرے باپ آپ کی قربان گاہ کہاں ہے ؟ (آیت ) ” قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری، قال یابت افعل ما تؤمر، ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین “ اسحاق (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے میرے باپ مجھے باندھ دیجئے تاکہ میں حرکت نہ کروں مجھ سے اپنے کپڑوں کو سمیٹ لیں یہاں تک کہ میرے خون سے آپ پرچھینٹے نہ پڑیں اس کو سارہ (والدہ محترمہ) دیکھیں گی تو غمگین ہوں گی۔ اور میرے حلق پر چھری چلانے میں جلدی کرنا تاکہ موت مجھ پر آسان ہوجائے جب تو سارہ کے پاس جائے تو اس کو میرے سلام کہنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دل کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ رو رہا تھا اور اسحاق (علیہ السلام) بھی رو رہے تھے پھر انہوں نے آپ کے حلق پر چھری چلائی تو وہ نہ کٹا اللہ تعالیٰ نے اسحاق (علیہ السلام) کے حلق پر تانبے کی ایک چادر رکھ دی جب انہوں نے اس کو دیکھا تو آپ کی پیشانی پر ضرب لگائی اور آپ کی گدی کا کاٹا اور اللہ تعالیٰ کا اس قول (آیت) ” فلما اسلما “ کا یہی مطلب ہے (آیت) ” وتلہ للجبین “ (اور اس کو کروٹ پر لٹادیا) تو آواز دی گئی اے ابراہیم ! (آیت ) ” قد صدقت الرء یا “ (آپ نے خواب سچا کردکھایا) یعنی اسحاق (علیہ السلام) کے بارے میں جب متوجہ ہوئے تو اچانک وہ ایک مینڈھا سامنے تھا آپ نے اس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے سے نیچے اتر آئے اسے بوسہ دیا اور کہنے لگے اے میرے بیٹے ! آج تو مجھ کو عطا ہوا ہے۔ شیطان کا شیطانی وسوسہ : 46:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کے ذبح کرنیکا حکم فرمایا تو اس سے فرمایا اے میرے بیٹے ! چھری لے لو شیطان نے کہا یہ وقت ہے میں آل ابراہیم سے اپنی حاجت کو پورا کرسکتا ہوں تو وہ ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے ایک دوست کی شکل میں ملا اور کہا اے ابراہیم (علیہ السلام) تو کہاں کا ارادہ رکھتا ہے ؟ فرمایا : ایک کام ہے، شیطان نے کہا اللہ کی قسم ! آپ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے جارہے ہیں اس خواب کہ وجہ سے جو آپ نے اس کو دیکھا ہے اور خواب غلط اور صحیح ہوتے ہیں۔ اور اس خواب میں یہ تو نہیں تھا۔ جو آپ نے دیکھا ہے کہ تو اسحاق کو ساتھ لے جارہا ہے۔ شیطان نے جب دیکھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تو اسحاق (علیہ السلام) سے ملا اور کہا : اے اسحاق ! کہا جارہے ہو ؟ فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک حاجت کیلئے۔ شیطان نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تجھ کو ذبح کرنے کے لئے جارہا ہے۔ اسحاق (علیہ السلام) نے فرمایا : وہ کس لئے مجھے ذبح کریں گے ؟ کیا تو نے دیکھا ہے کہ کوئی اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہے۔ شیطان نے کہا کہ وہ تجھے اللہ کے لئے ذبح کرے گا۔ اسحاق (علیہ السلام) نے فرمایا : اگر وہ مجھے اللہ کے لئے ذبح کرے گا تو میں صبر کروں گا۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اس شان کے اہل ہیں شیطان نے جب دیکھا کہ اسحاق سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ تو وہ سارہ کے پاس آیا اور کہا اسحاق کہاں گیا ہے ؟ سارہ نے کہا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی حاجت کے لئے گئے ہیں۔ شیطان نے کہا وہ ان کو ذبح کرنے کیلئے لے گئے ہیں، سارہ نے کہا : کیا تو نے دیکھا ہے کہ کوئی اپنے بیٹے کو ذبح کرتا ہے ؟ شیطان نے کہا : وہ ان کو اللہ کے لئے ذبح کریں گے، سارہ نے کہا : اگر ان کو اللہ کے لئے ذبح کریں گے تو ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) نے دونوں اللہ کے لئے ہیں۔ اور اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اس شام کے اہل ہیں شیطان نے جب دیکھا کہ ان دونوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا تو جمرہ کے پاس آیا اور اتنا پھول گیا کہ اس نے وادی کو بھر دیا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتہ تھا، فرشتے نے کہا : اے براہیم (علیہ السلام) ! اس کو کنکری مارئیے تو انہوں نے سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھی۔ تو شیطان نے آپ کے لئے راستہ کھول دیا۔ پھر وہ چلا یہاں تک کہ تیسرے جمرے کے پاس آیا اور اتنا پھول گیا کہ وہ وادی بند ہوگئی۔ فرشتے نے کہا : اے ابراہیم (علیہ السلام) اس کو کنکری مارئیے تو انہوں نے سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے پیچھے تکبیر پڑھی تو شیطان نے راستہ کھول دیا یہاں تک کہ قربانی کی جگہ پر آگئے۔ 47:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں الکلبی کے طریق سے اور ابوصالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (8 اور 9 ذی الحجہ کو) ترویہ اور عرفہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ان کی نیند میں وحی آئی کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے ؟ صبح کو روزہ رکھا جب عرفہ کی رات تھی تو ان کے پاس وحی آئی تو پہچان لیا کہ وہ خواب ان کے رب کی طرف سے سچا ہے اس لئے اس (میدان کا نام) عرفہ رکھ دیا گیا۔ 48:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلما اسلما “ (جب دونوں نے خدا کے حکم کو تسلیم کرلیا) یعنی جب اس نے اپنی ذات اللہ کے نام کردی اور جب انہوں نے اپنا بیٹا اللہ کے سپرد کردیا (آیت ) ” وتلہ “ یعنی اس کو منہ کے بل گرایا۔ 49:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کیا (آیت ) ” فلما اسلما “ یعنی دونوں ایک کام پر متفق ہوئے (آیت ) ” وتلہ للجبین “ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو منہ کے بل گرالیا۔ 50:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتلہ للجبین “ یعنی اپنے بیٹے کو منہ کے بل گرایا۔ 51:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتلہ للجبین “ یعنی اس کو گرایا۔ 52:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو بیٹے نے کہا اے میرے باپ ! میری پیشانی پکڑ لیجئے۔ اور میرے کندھوں کے درمیان بیٹھ جائیے یہاں تک کہ میں آپ کو تکلیف نہ دوں جب مجھے چھری کی گرمی پہنچی تو انہوں نے ایسا ہی کیا مگر چھری الٹی ہوگئی تو بیٹے نے کہا اے اباجان کیا بات ہے ؟ فرمایا : چھری کو الٹ دیا گیا۔ بیٹے نے کہا : اسے نیزے کی طرف مارو تو انہوں نے ایسا ہی کیا تو چھری مڑگئی۔ بیٹے نے پوچھا کیا ہوا ؟ اے میرے باپ ! فرمایا چھری مڑگئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صڈاقت کو پہچان گئے اور اللہ تعالیٰ نے بڑی قربانی کے ساتھ اس کا بدیہ دیا اور وہ اسحاق (علیہ السلام) تھے۔ 53:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتلہ للجبین “ یعنی اس کو سجدہ کی حالت (میں لٹادیا) 54:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جب انہوں نے چھری کی ان کے حلق پر رکھا تو چھری الٹ گئی اور حلق تانبا بن گیا۔ 55:۔ عبد بن حمید (رح) نے عثمان بن حاضر (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے اسحاق کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کی ماں سارہ کو مسجد الحنیف میں چھوڑا۔ اور اسحاق (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے چلے۔ جب اس جگہ پہنچے جہاں اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو ابراہیم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھ سے دور ہوجاؤ۔ اور اپنے بیٹے اسحاق کا ہاتھ پکڑ کر اس کو علیحدہ لے جا کر کہا اے میرے بیٹے (آیت ) ” قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری “ (میں نے نیند میں دیکھا ہے کہ میں تجھ کو ذبح کررہا ہوں اب تیری کیا رائے ہے) اسحاق (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے باپ میرے رب نے آپ کو حکم فرمایا ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں اے اسحاق ! اسحاق (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” قال یابت افعل ما تؤمر، ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین “ (آپ یہ کام کیجئے جو آپ کو حکم دیا گیا عنقریب آپ مجھے اگر اللہ نے چاہا صبر کرنے والوں میں پائیں گے (آیت ) ” فلما اسلما “ جب دونوں نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرلیا (آیت ) ” وتلہ “ (اور اس کو لٹا دیا) اسحاق (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا اے میرے باپ ! مجھے باندھ دیجئے۔ (ایسا نہ ہو) کہ میرے خون کے چھینٹے آپ پر نہ پڑجائیں آواز دی گئی (آیت) ” ان یابرھیم (104) قد صدقت الرء یا ‘ (اے ابراھیم تو نے خواب سچا کردکھایا) تو ثبیر پہاڑ سے ان پر ایک مینڈھا اترا اور کہا گیا کہ یہ جنت میں چالیس سال چرتا رہا۔ جب اسحاق (علیہ السلام) سے (یہ امتحان ہٹ گیا تو اپنے رب سے دعا مانگی اور اس کی طرف رغبت کی اور اس کی حمد وثنا بیان کی تو ان کی طرف وحی کی گئی کہ آپ دعا کیجئے آپ کی دعاقبول کی جائے گی تو یہ دعا کی : اے اللہ جو شخص دنیا میں اس حال سے نکلے کہ تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو اس کو جنت میں داخل فرما دیں۔ ابن حاضر (رح) سے فرمایا کہ ابراھیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے عرض کیا تھا : اے میرے رب ! اپنی اولاد میں سے کس کو ذبح کروں تو رب تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ان دونوں میں سے جو تیری طرف زیادہ محبوب ہو۔ 56:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب ! لوگ (یوں) کہتے ہیں : ابراہیم ! ، اسحاق اور یعقوب کے رب 249 ! مجھے ان میں چوتھا بنادیجئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ان جیسی آزمائش تجھے نہیں پہنچی کہ ابراہیم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہمیشہ مجھے اختیار کیا اور ان سب کاموں کو پورا کیا جو میں نے اس کو حکم دیا اور اسحاق نے میرے لئے اپنی جان دیدی اور یعقوب (علیہ السلام) کے پسندیدہ بیٹے کو لیا جو طویل مدت تک اس سے غائب رہا پھر بھی وہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہوتے۔ 57:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو لے کر نکلے شیطان ایک آدمی کی صورت بن کر آیا اور کہنے لگا کہاں جارہے ہیں ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : تجھے اس سے کیا غرض، میں اپنی ایک حاجت کے لئے جارہا ہوں کہ اپنے رب کی اطاعت کروں۔ پھر شیطان ان کے بیٹے کی طرف گیا اور وہ ان کے پیچھے چل رہا تھا پوچھا : تو کہاں جارہا ہے ؟ جواب دیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ جارہا ہوں۔ شیطان نے کہا تیرا باپ یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو تیرے ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو اس نے شیطان کو اسی طرح کہا جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا پھر ابراہیم (علیہ السلام) چلے یہاں تک کہ جب پہاڑ پر پہنچے تو اپنے بیٹے سے فرمایا (آیت ) ” قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا تری، قال یابت افعل ما تؤمر، ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین (102) اور کہا اے میرے باپ :! مجھے رسی سے باندھ دیجئے (تاکہ) آپ پر میرے خون کے چھینٹے نہ پڑیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) چھری لے کر کھڑے ہوئے اس پر چلانے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے اور اس کی چھری پھیرنے کی جگہ کو تانبے کا بنادیا جس سے چھری نے نہیں کاٹا۔ پھر امام ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پیچھے دیکھا تو وہ اچانک ایک مینڈھا تھا تو اپنے بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کھڑا ہوجا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیرا فدیہ بھیج دیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے مینڈھے کو ذبح کیا اور اپنے بیٹے کو چھوڑ دیا پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ نے آج کے دن تجھ کو صبر عطا فرمایا جو چاہو سوال کرو تجھ کو دیا جائے گا بیٹے نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ جو کوئی مؤمن بندہ اس حال میں اس سے ملاقات کرے کہ ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ “ کی گواہی دیتا ہو تو اس کی بخش دیجئے اور اس کو جنت میں داخل کردیجئے۔ 58:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “ (اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دیا یعنی وہ ایک مینڈھا جو سفید رنگ کا موٹی آنکھوں اور بڑے سینگوں والا تھا اس کو ببول کے درخت کے ساتھ ثبیر پہاڑ کے دامن میں باندھا گیا تھا۔ 59:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “” بذبح عظیم “ سے مراد ایک مینڈھا ہے جس کو چالیس سال جنت میں چرایا گیا تھا۔ 60:۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ وہ مینڈھا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے کے فدیہ سے دیا گیا وہ جمرہ وسطی کی بائیں جانب سے اس خیموں کی جگہ پر اترا۔ 61:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ چٹان جو منی میں ثبیر پہاڑ کے دامن میں ہے۔ جس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے وہ جانور ذبح کیا جو ان کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کے فدیہ میں آیا تھا۔ جو ان پر ثبیر پہاڑ سے اترا تھا جو بڑی آنکھوں بڑی سینگوں والا مینڈھا تھا اس کی آواز بھی تھی اور یہ وہی مینڈھا تھا جیسے آدم (علیہ السلام) کے بیٹے نے قربانی میں دیا تھا اور اس سے قبول کرلیا گیا تھا اور وہ جنت میں غمگین تھا یہاں تک کہ اسحاق (علیہ السلام) کی طرف سے فدیہ دیا گیا۔ 62:۔ سعید بن منصور واحمد و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں بنو سلیم کی ایک عورت سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن طلحہ ؓ کو بلوایا میں نے عثمان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کس مقصد کے لئے بلایا تھا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے جب میں کعبہ میں داخل ہوا میں بھلا دیا گیا کہ میں تجھ کو حکم کرتا کہ ان دونوں پر پردہ ڈال دیئے تو انہوں نے ان کو ڈھانپ دیا کیونکہ یہ لائق نہیں کہ کعبہ میں ایسی چیز ہو کہ جس سے نماز پڑھنے والے مشغول ہوتے ہوں۔ 63:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کا فدیہ دو ایسے مینڈھوں کے ساتھ دیا جو چت کبرے سینگوں والے اور موٹی آنکھوں والے تھے۔ 64:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “ یعنی قبول کئے گئے مینڈھے کے ساتھ۔ 65:۔ البغوی نے عطاء بن سائب (رح) سے روایت کیا کہ میں بیٹھا ہوا تھا قریش میں سے ایک آدمی کے ساتھ قربان گاہ کے پاس مجھے قریش نے بیان کیا اور مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ وہ مینڈھا جو ابراہیم (علیہ السلام) پر اترا تھا وہ یہی جگہ تھی۔ جنتی مینڈھا کا ذکر : 66:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “ سے مراد ہے کہ ان پر جو مینڈھا جنت سے آیا تھا اس سے پہلے وہ جنت میں چالیس سال تک چرتا رہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو بھیجا تو انہوں نے مینڈھے کا پیچھا کیا تو اسے جمرۃ الاولی کی طرف نکال دیا اور اس کو سات کنکریاں ماریں تو وہ وہاں سے ہٹ گیا اور جمرۃ والوسطی کے پاس آیا پھر اس کو سات کنکریاں ماریں اور اس کو وہاں سے نکالا پھر جمرہ کبری کے پیچھے سے مڑا پھر اسے وہاں سے نکالا پھر اسے پکڑ لیا اسے منی میں قربان ہونے کی جگہ پر لے آئے اور اس کو ذبح کردیا۔ 67:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مینڈھے کا نام جریر تھا۔ 68:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی نے کہا میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو قربان کروں گا ابن عباس ؓ نے فرمای (آیت ) ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ “ (کہ تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں) بہترین نمونہ ہے پھر تلاوت کیا (آیت ) ” فدینہ بذبح عظیم “ پھر اس کو ایک مینڈھے کا حکم فرمایا اور اس نے وہ ذبح کیا۔ 69:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مان لے تو اس کو چاہئے کہ ایک مینڈھا ذبح کردے) پھر یہ آیت تلاوت کی (آیت ) ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ “۔ 70:۔ دیلمی (رح) نے ابن عباس ؓ سے مرفوع روایت کی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسحاق (علیہ السلام) کا فدیہ دیا تو ان کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا اے اسحاق کہ کسی ایک نے ایسا صبر نہیں کیا پہلے اور پچھلے لوگوں میں سے جو گواہی دیتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس کو بخش دیا جائے پھر فرمایا مجھ سے بڑے بھائی اسحاق (علیہ السلام) دعا میں مجھ سے سبقت لے گئے۔
Ayahs 37:112–122

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اسحاق کی بشارت دی کہ وہ نبی ہوں گے صالحین میں سے ہوں گے

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم پر اور اسحاق پر برکت دی، اور ان کی نسل میں سے اچھے لوگ ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو صریحا اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور دونوں کی اور ان کی قوم کو بڑی بےچینی سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی مدد کی سو وہی غالب ہونے والے تھے

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں واضح طور پر بیان کرنے والی کتاب دی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں صراط مستقیم کی ہدایت کی

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں ان دونوں کے بارے میں یہ بات چھوڑ دی

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ سلام ہو موسیٰ پر اور ہارون پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اسی طرح مخلصین کو صلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین “ (اور ہم نے اسحاق کی ان کی بشارت دی کہ نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوں گے) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ذبح کے عوض فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت کی بشارت دی جو ان کے پیدا ہونے کے وقت نہ دی گئی تھی۔ 2:۔ ابن ابی شبیہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق “ سے مراد ہے نبوت کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی نبوت دی جب پیدا ہوئے اور جب نبی بنائے گئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے جبیر بن شیبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن المسیب (رح) سے (آیت ) ” وفدینہ بذبح عظیم “ کے بارے میں پوچھا کیا اس سے اسحاق سے مراد ہیں فرمایا اللہ کی پناہ ! وہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں، اسحاق (علیہ السلام) ان کو ان کے صبر کی وجہ سے عطا کئے گئے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وبشرنہ باسحق نبیا “ سے مراد ہے کہ اس کے بعد ان کو نبوت کی خوشخبری دی گئی جب انہوں نے اللہ کیلئے اپنی جان کو پیش کیا (آیت ) ” وبرکنا علیہ وعلی اسحق، ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین “ (اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکت نازل کی اور اسحاق کو بھی برکت عطا کی۔ اور ان دونوں کی نسل میں نیکوکار بھی ہوئے اور اپنے نفس پر کھلا ہوا ظلم کرنے والے بھی) یعنی مؤمن اور کافر (آیت ) ” ولقد مننا علی موسیٰ وھرون (114) ونجینھما وقومھما من الکرب العظیم “ (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر احسان کیا اور ان دونوں کو ان کی قوم والوں کو ہم نے بڑی مصیبت سے نجات دی) یعنی فرعون والی سے (آیت ) ” واتینھما الکتب المستبین “ (اور ہم نے دونوں کو بالکل واضح کتاب دی) یعنی تورات (آیت ) ” وھدینھما الصراط المستقیم “ (اور دونوں کو سیدھا راستہ دکھایا) یعنی اسلام کا راستہ (آیت ) ” وترکنا علیھما فی الاخرین “ (اور دونوں کا ذکر خیر ہم نے آئندہ قوموں میں رکھا) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی تعریف باقی رکھی دوسرے لوگوں میں (یعنی آئندہ آنے والے لوگوں میں )