37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 37:25–44

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

کیا بات ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ وہ آج سب کے سب ہارمانے ہوئے ہوں گے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض بعض کی طرف متوجہ ہو کر ایک دوسرے سے سوال کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کہیں گے کہ بیشک تم ہمارے پاس بڑے زور دار طریقے سے آیا کرتے تھے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

متبوعین کہیں گے بلکہ بات یہ ہے کہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور تم پر ہمارا کوئی زور نہیں تھا بلکہ بات یہ ہے کہ تم سرکشی کرنے والے تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی، بلاشبہ ہم سب چکھنے والے ہیں

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

سوبلاشبہ ہم نے تمہیں بہکایا بیشک ہم خود بھی گمراہ تھے

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

(32) سو بلاشبہ وہ لوگ آج کے دن عذاب میں شریک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

بلاشبہ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یقینی بات ہے کہ ان کا ڈھنگ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو تکبر کیا کرتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کیا ہم ایک ایسے شخص کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں جو شاعر ہے دیوانہ ہے

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ وہ سچ لے کر آیا اور دوسرے پیغمبروں کی تصدیق کی

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بلاشبہ تم درد ناک عذاب کو چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں انہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

ہاں جو اللہ کے مخلص بندے ہیں ان کا حال دوسرا ہوگا

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے رزق معلوم

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

یعنی میوے ہیں اور وہ باعزت رہیں گے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ آج تم ہمارے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں) یعنی مسخر ہیں (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یعنی ان کا بعض بعض کی طرف متوجہ ہوگا ملامت کرتے ہوئے اور فرمایا کہ کمزور لگے یعنی ان کے چیلے اپنے سرداروں سے کہیں گے (آیت ) ” قالوا انکم کنتم تأتوننا عن الیمین “ (کہ ہم پر تمہاری آوربرے زوروں پر ہوتی تھی) یعنی تم ہم پر غلبہ پاتے تھے اپنی قدرت یعنی طاقت سے (آیت ) ” قالوا بل لم تکونوا مؤمنین “ (وہ سردار کہیں گے ہم نے تم کو گمراہ نہیں کیا بلکہ تم خود ہی مؤمن نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ کے عمل میں (آیت ) ” وما کان لنا علیکم من سلطن، بل کنتم قوم طغین “ (اور ہمارا تم پر کوئی جبر نہیں تھا بلکہ تم خود ہی سرکشی کرنے والے تھے) یعنی تم خود ہی مشرک تھے اللہ تعالیٰ کے علم میں (آیت) ” فحق علینا قول ربنا “ (اب ہم سب پر ہمارے رب کی بات پوری ہوگئی) یعنی ہمارے رب کا فیصلہ ہم پر وارد ہوچکا اس وجہ سے ہم ذلیل (یعنی کمزور) ہیں اور تم عزت والے ہو (آیت) ” انہم یومئذ “ یعنی تم سب کے سب اس زور (آیت ) ” فی العذاب مشترکون “ یعنی عذاب میں شریک ہوں گے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مالکم لا تناصرون “ (تم کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے) یعنی کیا وجہ ہے کہ تم ایک دوسرے کا دفاع نہیں کرتے۔ (آیت ) ” بل ھم الیوم مستسلمون “ (بلکہ آج تو وہ سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں اللہ کے عذاب کے سامنے (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ یعنی انسان جنات سے سوال کریں گے تو انسان جنات سے کہیں گے (آیت) ” انکم کنتم تاتوننا عن الیمین “ یعنی تم بھلائی کے کام کے وقت ہمارے پاس آجاتے اور ہم کو اس سے روک دیتے جنات انسانوں سے کہیں گے (آیت ) ” بل کنتم قوما طغین (40) فحق علینا قول ربنا “ (بلکہ تم خود ہی مؤمن نہیں تھے اب ہم سب پر ہمارے رب کا فیصلہ لازم ہوچکا۔ (کہ ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں) کیا یہ جنات کا قول ہے۔ (آیت ) ” فاغوینکم انا کنا غوین “ (ہم نے تم کو سیدھے راستے میں بھٹکا دیا بلاشبہ ہم گمراہ تھے) یعنی یہ شیاطین کی بات ہوگی گمراہ انسانوں کے لئے (آیت ) ” ویقولون ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون “ (اور کہتے تھے کہ ہم دیوانہ شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں) وہ اس سے محمد ﷺ مراد لیتے تھے (آیت ) ” بل جآء بالحق وصدق المرسلین “ (بلکہ وہ ایک سچا دین لائے تھے اور دوسرے پیغمبروں کی انہوں نے تصدیق کی تھی) یعنی اس سے پہلے رسولوں نے سچ کہا تھا (آیت ) ” انکم لذآئقوا العذاب الالیم “ (اور تم درد ناک عذاب کا ضرور مزہ چکھنے والے ہو) (آیت) ” وما تجزون الا ما کنتم تعلمون (39) الا عباد اللہ المخلصین “ (اور تم کو بدلہ انہی اعمال کا دیا جائے گا جو تم کرتے تھے مگر اللہ کے مخلص بندے۔ یہ اللہ کی تعریف ہے (آیت ) ” اولئک لھم رزق معلوم “ (ان کے لئے ایسا رزق ہے جو معلوم ہے) یعنی جنت۔ 3:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے) یہ اس وقت ہوگا جب وہ ایک دوسرے صور پھونکنے کے وقت اٹھائے جائیں گے۔ 4:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کنتم تاتوننا عن الیمین “ یعنی وہ ان کے پاس آتے تھے ہر اچھے عمل کے وقت تاکہ وہ ان کو اس اچھے عمل سے روک دیں۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تاتوننا عن الیمین “ (یعنی تم ہمارے پاس بڑے زوروں کے ساتھ آتے تھے اس میں الیمین سے مراد حق ہے اور یہ بات کفار شیطانوں سے کہیں گے۔ 6:۔ ابن المنذر وابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل لم تکونوا مؤمنین “ (بلکہ تم خود ہی مؤمن نہ تھے) یعنی اگر تم مؤمن ہوتے تو ہم تم سے محفوظ رہتے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاغوینکم “ (ہم نے تم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا) یعنی شیطانوں نے (آیت ) ” فاغوینکم “ (ہم نے تم کو بھٹکا دیا) دنیا میں (آیت ) ” انا کنا غوین “ (کہ ہم خود بھی گمراہ تھے (آیت ) ” فانھم یومئذ “ بیشک وہ اور جن کو دنیا میں اغوا کیا گیا۔ (آیت ) ” فی العذاب مشترکون “ (اس وجہ سے وہ سب عذاب میں اکٹھے ہوں گے) 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون “ (ان کی حالت یہ تھی جب ان سے کہا جاتا تھا کہ ” لا الہ الا اللہ “ کہو تو وہ تکبیر کرتے تھے) یعنی جب کوئی آدمی شرک نہ کرتا تو تکبر کا اظہار کرتے۔ (آیت ) ” ویقولون ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون “ (اور کہتے تھے کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں) یعنی ایسا شاعر جو عقل نہیں رکھتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی کی سچائی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا (آیت ) ” بل جآء بالحق وصدق المرسلین “ وہ مجنون نہیں ہے بلکہ وہ ایک سچا دین لیکر آیا اور دوسرے رسولوں کی اس نے تصدیق کی) کافروں سے قتال کا حکم : 9:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ ” لا الہ الا اللہ “ کہیں جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کہہ لیا تو اس نے مجھ سے پانے مال اور اپنی جان کو محفوظ کرلیا مگر جو شرعی حق ہے اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا اور ایک قوم کا ذکر کیا جس نے تکبر کیا اور فرمایا (آیت ) ” انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون “ (ان کی حالت یہ تھی کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے تھے) اور فرمایا (آیت ) ’ ’ اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المؤمنین والزمھم کلمۃ التقوی وکانوا احق بھا واھلھا “ (الفتح آیت 26) جب کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی پھر اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی تسکین اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے لائق اور قابل تھے) اور وہ تقوی کا کلمہ ” لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ تھا صلح حدیبیہ کے دن مشرکوں نے اس سے تکبر کا اظہار جس دن رسول اللہ ﷺ نے صلح کا معاہدہ لکھایا تھا۔ 10:۔ البخاری نے اپنی تاریخ میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ ” لا الہ الا اللہ “ جنت کی چابی نہیں ہے فرمایا کیوں نہیں کوئی چابی نہیں ہوتی مگر اس کے دندانے ہوتے ہیں جو شخص اس کے دندانے لاتا ہے تو اس کے لئے تالہ کھول دیا جاتا ہے اور جو شخص دندانے نہ لایا تو اس کیلئے تالا کھولا جاتا ہے۔ 11:۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” الا عباد اللہ المخلصین “ (مگر میرے مخلص بندے) 12:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولئک لھم رزق معلوم “ (کہ ان کے لیے عمدہ رزق ہوگا) یعنی جنت ہوگی۔
Ayahs 37:45–49

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

ان کے پاس شراب کا ایسا جام لایاجائے گا جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا ہوگا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

وہ شراب سفید ہوگی پینے والوں کیلئے لذیذ ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس سے درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی جن کی نظریں نیچی ہوں گی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ بیضے ہیں جو چھپے ہوئے رکھیں ہیں

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر کاس جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا اس سے مراد شراب ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بک اس من معین “ سے مراد ہے شراب کا ایسا جام جسے نچوڑا نہ گیا ہو اور معین سے مراد جاری (آیت ) ” لافیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون “ (اس سے نہ سر چکرائے گا نہ عقل میں فتور آئے گا) یعنی نہ ان کی عقلیں جائیں گی اور نہ ان کے سروں میں درد پڑے گا۔ اور نہ ان کے پیٹوں میں درد ہوگا۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” بک اس من معین “ میں معین سے مراد ہے جاری۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے (آیت ) ” بیضآء “ کے بارے میں یہ قول نقل کیا ہے کہ عبداللہ کی قرأت میں صفراء ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یطاف علیھم بک اس من معین “ (ان کے پاس شراب کا ایسا جام لایا جائے گا جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا ہوا ہوگا اس میں (آیت) ” بک اس من معین “ سے مراد ہے شراب (آیت) ” لافیھا غول “ (اس میں سر نہیں چکرائے گا) یعنی اس میں سر درد نہیں ہوگا (آیت ) ” ولا ھم عنھا ینزفون “ (اور نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا) یعنی ان کی عقلیں ضائع نہیں ہوگی۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شراب میں چار چیزیں ہیں، نشہ، سردرد، قئی اور پیشاب، مگر اللہ تعالیٰ جنت کی شراب کو ان چیزوں سے پاک کردے گا۔ (آیت) ” لافیھا غول “ (اس میں نہ سر چکرائے گا) یعنی ان کی عقلیں نشہ سے خراب نہیں ہوں گی (آیت ) ” ولا ھم عنھا ینزفون “ (اور نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا) کہ اس سے قئی نہیں کریں گے جس طرح دنیا میں شراب پینے والا کیا کرتا تھا جبکہ قے ناپسندیدہ ہے۔ 7:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نافع بن ازرق (رح) سے سوال کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لافیھا غول “ کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ اس میں دنیا کی شراب جیسی بدبو اور ناپسندیدہ نہ ہوگی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا :، کیا تو نے امرؤالقیس کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : رب کاس شربت لا غول فیھا وسقیت الندیم منھا مزاجا : ترجمہ : کتنے ہی جام میں نے پیئے جن میں سردرد نہیں ہوا، اور میں نے ندیم کو اس کا آمیزہ پلایا۔ پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” ولا ھم عنھا ینزفون “ کے بارے میں بتائیے فرمایا کہ اس سے مراد ہے جو نشہ نہ کرتی ہو پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو نہیں سنا اور وہ کہتے ہیں۔ ثم لا ینزفون عنھا ولکن تذھب الھم عنھم والغلیل : ترجمہ : وہ اس شراب کے پینے سے نشے میں نہیں ہوتے اور لیکن ان سے غم اور پیاس دور ہوجاتی ہے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لافیھا غول “ سے مراد ہے ایسی شراب جس میں پیٹ میں درد نہ ہو۔ 9:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لافیھا غول “ سے مراد اس میں پیٹ کا درد نہیں ہوتا (آیت ) ” ولا ھم عنھا ینزفون “ اور نہ ان کی عقلیں ضایع ہوتی ہیں۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا (آیت) ” بک اس من معین “ میں ” المعین “ سے مراد ہے شراب (آیت) ” لافیھا غول “ یعنی اس شراب سے پیٹ کا درد بھی نہ ہوتا (آیت ) ” ولا ھم عنھا ینزفون “ یعنی اس میں کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہوگی اور نہ اس میں کوئی تکلیف ہوگی۔ نیچی نگاہ والی حوریں : 11:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) و بیہقی (رح) نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعندھم قصرت الطرف عین “ (اور ان کے پاس نیچی نظروں والی بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں ہوگی) یعنی یہ اپنے خاوندوں کے علاوہ اپنی نظریں روکے ہوئے ہیں (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ (گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے) یعنی وہ موتی ہیں چھپائے ہوئے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعندھم قصرت الطرف عین “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے علاوہ اپنی نظر کو روکے ہوئے ہوں گی یعنی ان کی نگاہیں اپنے شوہروں تک محدود ہوگی ” عین “ یعنی خوبصورت آنکھوں والی۔ 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” غبن “ سے مراد ہے بڑی آنکھوں والی۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” کانھن بیض مکنون “ (گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے) سے مراد ہے انڈے کی سفیدی جو اس کے اوپر سے اتاری جاتی ہے اور عشاء سے مراد وہ پردہ ہے جو کسی کلغی میں ہوتا ہے۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ یعنی گویا کہ وہ انڈے کے اندورنی حصے کی طرح ہیں۔ 16:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ سے مراد ہے انڈے کی سفیدی جب اس سے چھلکے کو دور کردیا جائے۔ 17:۔ عبدالرزاق (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ سے مراد وہ جھلی ہے جو اوپر والے چھلکے اور انڈے کے گودے کے درمیان ہوتی ہے۔ 18:۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ سے مراد ہے کہ ایسا انڈہ جو اپنے گھونسلے میں ہو۔ 19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وعندھم قصرت الطرف عین “ (اور ان کے پاس نیچی نظروں والی بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی) کہ ان کی نگاہیں اپنے شوہروں پر ہی محدود ہوں گی۔ ان کے علاوہ وہ کسی غیر مرد کا ارادہ نہیں کریں گی۔ 20:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ یعنی وہ محفوظ ہوں گی جس پر ہاتھوں کا گذر نہیں ہوا۔ (یعنی کس نے اس کو ہاتھ نہیں لگایا ہوگا ) 21:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کانھن بیض مکنون “ یعنی وہ انڈا جس کو اپنے پروں سے چھپا لیتا ہے جیسے شتر مرغ کا انڈا جس کو وہ ہوا سے (بچانے کے لئے) پروں میں چھپا لیتا ہے اور وہ سفید زردی مائل ہوتا ہے۔ وہ چمکتا ہے تو اس وجہ سے وہ مکنون ہے۔
Ayahs 37:50–61

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

سو ان میں سے بعض بعض پر متوجہ ہو کر ایک دوسرے سے سوال کریں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہے گا کہ بلاشبہ میرا ایک ساتھی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

وہ کہتا تھا کیا تو تصدیق کرنے والوں میں ہے ؟

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں اپنے کاموں کا بدلہ دیا جائے گا

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

وہ کہے گا کیا تم جھانک کر اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

سو وہ شخص جھان کے گا تو اس کو جہنم کے بیچ میں دیکھ لے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا کہ اللہ کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک ہی کردیتا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا اب ہم کو مرنا نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

یہی بات ہے ناکہ ہم پہلی بار مر چکنے کے بعد نہیں مریں گے اور ہم کو عذاب نہ ہوگا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بلاشبہ یہ بڑی کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

اسی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ (پھر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے) یعنی جنت والے۔ 2:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی کان لی قرین “ (میرا ایک ساتھی تھا) یعنی شیطان۔ جنت کی خریداری کا عجیب واقعہ : 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کا کل مال آٹھ ہزار دینار تھا۔ جو انہوں نے آپس میں تقسیم کرلیا ان میں سے ایک نے ایک ہزار دینار میں زمین خرید لی اور میں ایک ہزار دینار کے بدلے جنت کی زمین خریدتا ہوں۔ (یہ کہہ کر) ایک ہزار دینارصدقہ کردیئے۔ پھر اس کے ساتھی نے ایک ہزار دینار سے ایک گھر بنایا تو اس نے کہا اے اللہ ! فلاں نے ایک ہزار دینار میں گھربنایا ہے اور میں تجھ سے ایک ہزار دینار کے بدلے میں ایک گھر جنت میں خریدتا ہوں (یہ کہہ کر) ایک ہزار دینار صدقہ کردیئے۔ پھر اس کے ساتھی نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس پر ایک ہزار دینار خرچ کئے۔ تو اس نے کہا اے اللہ ! فلاں نے ایک عورت سے شادی کی اور اس پر ایک ہزار دینار خرچ کئے۔ اور میں آپ کی طرف جنت کی عورتوں میں سے ایک ہزار دینار کے بدلے میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیتا ہوں اور ایک ہزار دینار صدقہ کردیئے۔ پھر اس کے ساتھی نے ایک ہزار دینار کے بدلے خادم اور گھر کا سامان خریدا۔ (تو اس نے کہا اے اللہ) میں آپ سے خادم اور سامان جنت میں خرید کرتا ہوں ایک ہزار دینار کے بدلہ میں اور ایک ہزار دینار صدقہ کردیئے۔ پھر اس کو شدید ضرورت پیش آئی تو اس نے کہا اگر میں اپنے اس ساتھی کے پاس جاؤں شاید اس کی طرف سے مجھ پر احسان ہوجائے (یعنی میری حاجت پوری کردے) اور اس کے راستے میں بیٹھ گیا وہ اس کے پاس سے اپنے خدام اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ گزرا تو یہ اس کی طرف کھڑا ہوا اس نے اس کی طرف دیکھا اور اس کو پہنچانتے ہوئے کہا تو فلاں آدمی ہے اس نے کہا ہاں پوچھا تیرا کیا حال ہے۔ اس نے کہا تیرے بعد مجھے کوئی ایک حاجت پیش آگئی۔ میں تیرے پاس آیا ہوں تاکہ تو مجھے کچھ مال دیدے اس نے کہا اس مال کا کیا کیا جو ہم نے آپس میں تقسیم کیا تھا تو نے اس کا آدھا لیا تھا اور میں نے بھی آدھا لیا تھا اس نے کہا تو نے ہزار دینار کے بدلے ایک گھرخریدا اور میں نے ایسا کیا اور ایسا کیا اور سارا واقعہ اس کو سنایا اس نے کہا یا تو اس کی تصدیق کرنے والا ہے (کہ قیامت کے دن ثواب دیا جائے گا) چلا جا اللہ کی قسم ! میں تجھ کو کچھ بھی نہ دوں گا وہ لوٹ آیا پھر ان دونوں کو موت آگئی تو ان کے بارے میں (آیت ) ” فاقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون “ یہاں تک کہ (آیت ) ” ء انا لمدینون “ تک پہنچے۔ (آیت ) ” لمدینون “ سے مراد ہے کہ جن سے حساب لیاجائے گا۔ 4:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) نے فرات بن ثعلبہ البہرانی (رح) سے (آیت ) ” انی کان لی قرین “ کے بارے میں روایت کیا کہ مجھے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ دو آدمی آپس میں شریک تھے ان دونوں کے لئے آٹھ ہزار دینار جمع ہوگئے ان میں سے ایک کا کوئی پیشہ نہیں تھا اور دوسرے کا پیشہ تھا اس نے کہا تیرا کوئی پیشہ نہیں ہے میں تجھ سے اپنا مال الگ کرنا چاہتا ہوں اور اسے تقسیم کرنا چاہتا ہوں، تو اس نے اس سے مال کو تقسیم کردیا پھر اس سے جدا ہوگیا پھر ان میں سے ایک آدمی نے ایک ہزار دینار کے بدلے میں ایک گھر خریدا جو بادشاہ کا تھا اپنے ساتھی کو بلایا پھر کہا اس گھر کے بارے میں تیری کیا رائے ہے۔ میں نے اس کو ایک ہزار کے بدلے میں خرید کیا ہے۔ اس نے کہا کیا ہی اچھا گھر ہے جب وہ باہر نکلا تو اس نے کہا : اے اللہ ! میرے ساتھی نے یہ گھر خریدا ہے اور میں آپ سے جنت میں ایک گھر کا سوال کرتا ہوں اور ایک ہزار دینار صدقہ کردیا۔ پھر وہ ٹھہرا رہا جب تک اللہ نے چاہا وہ ٹھہرے پھر اس نے ایک ہزار دینار کے بدلے میں ایک عورت سے شادی کی۔ اس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس کے لئے کھانا تیار کیا جب وہ اس کے پاس آیا تو کہا کہ میں اس عورت سے ایک ہزار دینار میں شادی کی ہے ساتھی نے کہا ساتھی نے کہا یہ کتنی خوبصورت بیوی ہے جب یہ وہاں سے نکلا تو کہا اے اللہ ! میرے ساتھی نے ایک ہزار دینار کے بدلے میں ایک عورت سے شادی کی ہے اور میں آپ سے حورعین کا سوال کرتا ہوں اور ایک ہزار دینار صدقہ کردیئے پھر وہ امیر آدمی اسی طرح رہا جب تک اللہ نے چاہا پھر اس نے دو باغ دو ہزار دینار کے بدلے میں خریدے پھر اس نے اپنے ساتھی کو دعوت دی اور اس سے کہا کہ میں نے یہ دو باغ دو ہزار دینار کے بدلے میں خریدے ہیں اس نے کہا کہ کتنے اچھے باغ ہیں جب وہ وہاں سے نکلا تو کہا اے میرے رب ! میرے ساتھی نے دو باغ دو ہزار دینار کے بدلے میں خریدے ہیں اور میں آپ سے جنت میں دو باغوں کا سوال کرتا ہوں اور دو ہزار دینار صدقہ کردیئے۔ پھر ان دونوں کے پاس فرشتہ آیا اور دونوں کی روح کو قبض کیا اس صدقہ کرنے والے کو لے گیا اور اس کو ایک گھر داخل کردیا جس کو اس نے بہت پسند کیا دیکھتا ہے کہ ایک عورت اس کے نیچے اپنے حسن کی وجہ سے چمک رہی تھی پھر اس کو باغوں اور دوسری چیزوں کی طرف لے جایا گیا جس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں اس وقت صدقہ کرنے والے نے کہ یہ چیزیں کتنی ہے اس آدمی نے چیزوں کا مشابہ ہیں تو فرشتے نے کہا وہ اس کی تھیں تیرے لئے یہ گھر رہے اور دو باغ ہیں اور عورت ہے وہ جنت والا ساتھی کہے گا (آیت ) ” یقول ائنک لمن المصدقین “ (کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو کہتا تھا کہ وہ قیامت کا اعتقاد رکھنے والوں میں سے ہے) اس نے کہا جائے گا کہ وہ جہنم میں ہے اور کہا جائے گا (آیت) ” ھل انتم مطلعون (54) فاطلع فراہ فی سوآء الجحیم “ (کیا تم جھانک کر اس کو دیکھنا چاہتے ہو سو وہ شخص جھانکے گا تو اپنے ساتھی کو جہنم کے درمیان دیکھے گا) اس وقت وہ کہے گا (آیت ) ” تاللہ ان کدت لتردین “ (اللہ کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کرنے والا تھا اگر میرے رب کا مجھ پر فضل نہ ہوتا ) 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی آپس میں کاروبار میں شریک تھے ان میں سے ایک مؤمن تھا اور دوسرا کافر تھا۔ وہ دونوں چھ ہزار پر آپس میں جدا ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک کو تین ہزار ملے۔ پھر وہ دونوں آپس میں جدا ہوگئے۔ اور ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ پھر دونوں آپس میں ملے کافر نے مؤمن سے کہا تو نے اپنے مال کا کیا کیا ؟ تو نے اس کے ذریعہ کن چیزوں کی تجارت کی ؟ مؤمن نے اس سے کہا نہیں پھر مؤمن نے اس سے پوچھا تو نے کیا کیا ؟ کافر نے کہا کہ میں نے اس مال سے کھجور کے درخت زمین پھل اور نہریں ہزار دینار میں خریدیں ہیں۔ مؤمن نے اس سے کہا اور تو نے واقعی ایسا کیا یعنی (یہ ساری چیزیں خریدیں) اس نے کہا ہاں ! مؤمن لوٹ آیا یہاں تک کہ جب رات ہوئی۔ تو اس نے نماز پڑھی جتنا اللہ نے چاہا جب فارغ ہوا تو ہزار دینار لیے اور اس کو اپنے آگے رکھ کر کہا اے اللہ ! فلاں میرے شریک کافر نے زمین، کھجور کے درخت، پھل اور نہریں خریدیں ہزار دینار کے بدلے میں، پھر وہ مرجاتا ہے اور کل کو ان چیزوں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے پھر مؤمن کہتا ہے اے اللہ ! میں آپ سے اس ہزار دینار کے بدلے میں زمین کھجور کے درخت اور نہریں جنت میں خریدتا ہوں پھر جب صبح ہوئی تو اس نے ہزار دینار کو مساکین میں تقسیم کردیا۔ پھر دونوں اسی طرح رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر دونوں ملے تو کافر نے مؤمن سے کہا تو نے کیا کیا ؟ کیا تو نے اس مال کو اس چیز میں خرچ کیا کہ جس سے تو تجارت کرے اس نے کہا نہیں مؤمن نے پوچھا کیا کیا۔ اس نے کہا میری جائداد تھی کہ اس کا بوجھ مجھ پر زیادہ ہوگیا تھا تو میں نے ایک ہزار دینار میں غلام خرید لئے میرے لئے اس میں کام کرتے ہیں مؤمن نے کہا کیا واقعی تو نے ایسا کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! مؤمن لوٹ آیا جب رات ہوئی تو اس نے اتنی نماز پڑھی جتنا اللہ نے چاہا جب نماز سے فارغ ہوا تو ایک ہزار دینار لیا ان کو اپنے آگے رکھا، پھر کہا اے اللہ ! فلاں نے دینار کے غلاموں میں سے غلام خریدے ہزار دینار کے بدلے میں کل کو وہ مرجائے گا اور ان کو چھوڑ جائے گا یا وہ غلام مرجائیں گے اور اس کو چھوڑ جائیں گے اور اس کو چھوڑ جائیں گے۔ اے اللہ ! میں اس ہزار کے بدلے میں جنت میں غلام خریدتا ہوں جب صبح ہوئی تو اس نے وہ مال مساکین میں تقسیم کردیا، پھر دونوں ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا پھر دونوں ملے تو کافر سے مؤمن نے کہا تو نے اپنے مال میں کیا کیا ؟ کیا اسے ایسی چیز میں لگایا جس میں تو تجارت کرے ؟ اس نے کہا نہیں ! مؤمن نے اس سے پوچھا کہ تو نے اس کا کیا کیا ؟ کافر نے کہا : میرے سارے معاملات مکمل تھے مگر ایک چیز رہتی تھی، فلاں عورت کا شوہر مرگیا تو میں نے اس کو ہزار دینار مہر دیا تو وہ ایک ہزار دینار مہر دیا تو وہ ایک ہزار دینار اور اتنا مال لیکر میرے پاس آئی۔ مؤمن نے اس سے پوچھا تو نے یہ کام کیا ؟ اس نے کہا : ہاں ! مؤمن لوٹ آیا یہاں تک کہ جب رات ہوئی تو اس نے کئی نماز پڑھی جتنا اللہ نے چاہا جب فارغ ہوا تو باقی ہزار دینار اپنے آگے رکھ کر کہا : اے اللہ ! فلاں نے دنیا کی بیویوں کے ساتھ ایک سے شادی کی۔ وہ اس عورت کو چھوڑ کر مرجائے گا یا وہ عورت مرجائے گی اور اس کو چھوڑ جائے گی۔ اے اللہ ! میں تیری طرف اس ہزار دینار کے بدلے میں جنت حورعین کو نکاح کا پیغام دیتا ہوں۔ پھر صبح اٹھ کر ان کو مسکینوں میں تقسیم کردیا تو اب مؤمن اس حال میں باقی رہ گیا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ اس نے روٹی کی قمیض اور ان کی چادر پہنی پھر اپنی قوت کے ساتھ گھڑا کھودنے کا کام شروع کیا ایک آدمی نے اس سے کہا اے اللہ کے بندے تو مشاہرہ پر میرے ہاں مزدوری کرے گا ایک ماہ کے بعد معاوضہ ملے گا۔ تو میرے جانوروں کی خدمت کرے گا اس نے کہا ہاں (ٹھیک ہے) جانوروں کا مالک ہر دن صبح کو میرے اپنے جانوروں کی طرف دیکھتا تھا جب ان میں سے کمزور جانور دیکھتا تو اس کے سر کو پکڑ کر اس کی گردن پر مارتا پھر اس سے کہتا کہ گزشتہ رات تو نے جو چوری کرلی جب اس مؤمن نے اس سختی کو دیکھا تو کہا میں اپنے ساتھی کے پاس جاتا ہوں، اور میں ضرور اس کی زمین میں کام کروں گا وہ مجھے ہر دن اتنا ٹکڑا کھانا کھلائے گا اور مجھے دو کپڑے بھی پہنائے گا جب کپڑے بوسیدہ ہوجائیں گے۔ اس کا ارادہ کرتے ہوئے چل پڑا وہ اس کے دروازے تک پہنچا تو رات ہوچکی تھی وہ کیا دیکھتا ہے کہ بلند جگہ پر ایک محل ہے اور اچانک اس کے اردگرد چوکیدار تھے اس نے ان سے کہا میرے لئے اس محل کے مالک سے اندر آنے کی اجازت مانگو اگر تم ایسا کرو گے تو وہ اس سے خوش ہوگا۔ انہوں نے اس سے کہا چلا جا اگر تو سچا ہے اس کے ایک کونے میں سو جا جب تو صبح کرے گا تو اس سے مل لے گا۔ مؤمن چلا گیا اس نے اپنی آدھی چادر کو اپنے نیچے ڈال لیا اور آدھی کو اپنے اوپر پھر سوگیا جب صبح ہوئی اپنے ساتھی کے پاس آیا اور اس سے ملا اس کا ساتھی سوار ہو کر نکلا اس نے جب اس کو دیکھا تو پہچان لیا ٹھہر گیا اس کو سلام اور مصافحہ کیا پھر اس سے پوچھا کیا تو نے اپنے مال سے وہ کچھ نہ لیا جو میں لیا تھا۔ وہ تیرا مال کہاں ہے ؟ اس نے کہا اس کے بارے میں تو مجھ سے سوال نہ کر پھر اس سے پوچھا تو کیوں آیا اس نے کہا میں تیری اس زمین میں کام کرنے لئے آیا ہوں تو مجھے ہر دن اتنا ٹکڑا روٹی کا دے گا تو مجھے دو نئے کپڑے دے گا جب یہ بوسیدہ ہوجائیں گے اس نے کہا تو مجھ سے اس وقت کوئی بھلائی نہیں پائے گا یہاں تک کہ تو مجھے یہ نہ بتائے گا کہ تو نے اپنے مال کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا : میں نے اس کو قرضہ میں دے دیا ایسے مالک کو جو پورا پورا بدلہ دینے والا ہے پوچھا کون مالک ؟ کہا اللہ جو میرا رب ہے (جس کو میں نے قرض دیا) اس کا ساتھی اس سے مصافحہ کر رہا تھا (یہ بات سن کر) اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا پھر کہا (آیت ) ” ائنک لمن المصدقین (52) ء اذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمدینون “ (کیا تو قیامت اعتقاد رکھنے والا دن میں سے ہے کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا جزا اور سزا پائیں گے) اور اس کو وہاں چھوڑ دیا۔ جب مومن نے یہ دیکھا کہ وہ اس کی طرف مڑ کر دیکھتا ہی نہیں تو لوٹ آیا اور اس کو چھوڑ دیا مؤمن دنیا کی تکلیفوں میں زندگی گزارتا ہے اور کافر خوشحالی کی زندگی گزارتا ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ مؤمن کو جنت میں داخل فرمائیں گے اور وہ گزرے گا تو اچانک وہ مؤمن کھجوروں، نہروں، اور پھلوں کے پاس ہوگا وہ پوچھے گا کہ یہ کس کے لئے ہیں ؟ اس سے کہا جائے گا یہ تیرے لئے ہیں وہ کہے گا : کیا میرے اعمال اس مقام تک پہنچے ہیں کہ مجھے اس قسم کا بدلہ دیا جائے ؟ پھر وہ گزرے گا تو اچانک وہ غلام ہوں گے کہ ان کی تعداد نہیں گنی جاسکے گی، وہ کہے گا کہ یہ کس کے لئے ہیں اس سے کہا جائے گا یہ سب تیرے لئے ہیں وہ کہے گا کہ میرے اعمال اس مقام تک پہنچے ہیں کہ مجھے اس قسم کا بدلہ دیا جائے گا پھر وہ گزرے گا تو اچانک سرخ یاقوت کے قبہ تک پہنچے گا جس میں موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی وہ کہے گا یہ کس کے لئے ہیں وہ کہے گا یہ تیرے لئے ہیں وہ کہے گا کیا میرے اعمال اس درجہ تک پہنچے کہ مجھے اس قسم کا بدلہ دیا جائے گا پھر وہ اپنے شریک کافر کو یاد کرے گا اور کہے گا (آیت ) ” قال قآئل منہم انی کان لی قرین “ (51) یقول ائنک لمن المصدقین “ میرا ایک دوست تھا جو کہتا تھا کہ کیا تو بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہے۔ پس جنت بلند ہے اور جہنم ایک گہرا گڑھا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے شریک کو جہنم کے درمیان دکھائیں گے دوزخ والوں کے درمیان جب اس کو دیکھے گا تو وہ مومن اس کو پہچان لے گا اور کہے گا (آیت ) ” قال تاللہ ان کدت لتردین (56) ولولا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین “ (اللہ کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کرنے والا تھا اگر میرے رب کا مجھ پر فضل نہ ہوتا تو میں بھی ماخوذ لوگوں میں ہوتا (آیت) ” افما نحن بمیتین (58) الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین “ کیا ہم بجز پہلی بار مر چکنے کے پھر کبھی نہیں مریں گے اور نہ ہم کو کبھی عذاب ہوگا (آیت ) ” ان ھذا لھو الفوز العظیم “ بلاشبہ یہ البتہ بڑی کامیابی ہے (آیت) ” لمثل ھذا فلیعمل العملون “ (ایسے ہی نعمت کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے) یعنی جیسے میں نے کئے۔ پھر فرمایا : مؤمن یاد کرے گا ہر اپنے اوپر گزرے ہوئے مصائب کو اور موت کی سختی کو یاد نہیں کرے گا۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ء انا لمدینون “ یعنی ان سے حساب لیا جائے گا۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اسی طرح روایت کیا ہے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھل انتم مطلعون “ (کیا تم جھانک کر اسے دیکھنا چاہتے ہو) یہاں تک کہ وہ لوگ اس کی طرف جھانکیں گے یہاں تک کہ اسے آگ میں دیکھ لیں گے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سوآء الجحیم “ یعنی دوزخ کے درمیان۔ 10:۔ طستی (رح) نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” سوآء الجحیم “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے جہنم کے درمیان پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا۔ وما ھم بسھم فاستوی فی سواءھا وکان قبولا للھو والطوارق : ترجمہ : اس نے ان کو تیر مارا جو اس کے وسط میں جا لگا وہ خواہشات اور خیالات کے قبول کرنے والی جگہ تھی۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) علیہ، ہناد اور ابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاطلع فراہ فی سوآء الجحیم “ یعنی اس نے جھانکا پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوا اور کہا میں نے دیکھا قوم کی کھوپڑیوں کو جوش مارتے ہوئے۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ کعب احبار نے فرمایا کہ جنت میں ایک روشندان ہے جب کوئی جنتی ارادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کی طرف دیکھے آگ میں تو وہ اس روشندان سے اس کی طرف جھانکتا ہے اور (یہ دیکھ کر) اللہ تعالیٰ کا زیادہ شکر کرتا ہے۔ 13:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھل انتم مطلعون “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے رب سے سوال کرے گا کہ وہ اس کو (یعنی اپنے ساتھی کو) جھانک کر دیکھے (آیت ) ” فاطلع فراہ فی سوآء الجحیم “ (وہ شخص جھانکنے لگا تو اپنے ساتھی کو جہنم کے وسط میں دیکھے گا) یعنی اس کے درمیان میں اور اس نے لوگوں کے سرداروں کو دیکھا کہ وہ جہنم کی آگ میں جوش مار رہے ہیں فلاں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ اسے دوست کی پہچان نہ کراتا تو وہ اسے نہ پہچانتا کیونکہ اس کی شکل و صورت میں بدل گئی تھی۔ اس وقت وہ کہے گا (آیت ) ” تاللہ ان کدت لتردین “ (اللہ کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک ہی کردیتا اگر میں تیری اطاعت کرلیتا (آیت ) ” ولولا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین “ (اگر میرے رب کا مجھ پر فضل نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں ہوتا جو حاضر کئے گئے ہیں یعنی آگ میں (آیت ) ” افما نحن بمیتین “ سے لے کر (آیت) ” لھوالفوز العظیم “ تک (یہی بات ہے نہ کہ ہم پہلی بار مر چکنے کے بعد نہیں مریں گے اور نہ ہم کو عذاب ہوگا۔ بلاشبہ یہ بڑی کامیابی ہے) فرمایا یہ جنت والوں کا قول ہے تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” لمثل ھذا فلیعمل العملون “ (ایسی نعمت کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے ) ۔ 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو علم تھا کہ ہر نعمت کو موت کے بعد اس سے الگ کردیا جائے گا اس لئے مومن کہے گا (آیت ) ” افما نحن بمیتین (58) الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین “ کہا گیا نہیں اور وہ کہیں گے (آیت ) ” ان ھذا الفوز العظیم “ (بلاشبہ یہ بڑی کامیابی ہے) 15:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائیں گے (آیت ) ” کلوا اوشربوا ھنیئا ولما کنتم تعلمون “ (کھاؤپیوخوب مزے سے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے) اور اللہ تعالیٰ کا قول ” ھنیئا “ یعنی تم اس میں نہیں مرو گے تو اس وقت وہ کہیں گے (آیت) ” افما نحن بمیتین (58) الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین “ (59) ان ھذا الفوز العظیم “ (60) (آیت ) ” لمثل ھذا فلیعمل العملون “ یعنی بات یہ ہے کہ ہم پہلی بار مرنے کے بعد نہیں مریں گے، اور نہ ہم کو عذاب ہوگا بلاشبہ یہ بڑی کامیابی ہے) 16:۔ ابن مردویہ (رح) نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ کا ہاتھ مبارک میرے ہاتھ میں تھا یہ آپ نے ایک جنازہ کو دیکھا آپ نے چلنے میں جلدی کی یہاں تک کہ آپ قبر تک پہنچ گئے پھر آپ اتنا روئے کہ آپ کے آنسوؤں سے مٹی تر ہوگئی۔ پھر فرمایا (آیت ) ” لمثل ھذا فلیعمل العملون “ (ایسی نعمت کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے ) ۔