37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 37:123–132

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور بلاشبہ الیاس پیغمبروں میں سے ہیں

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا بعل کی عبادت کرتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑے ہوئے ہو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

جو اللہ ہے جو تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادوں کا رب ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے انہیں جھٹلایا لہذا وہ ضرور حاضر کیے جائیں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور بعد میں آنے والوں میں ان کے بارے میں یہ بات چھوڑ دی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ سلام ہو الیاس پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

بلاشبہ ہم مخلصین کو ایسے ہی صلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھے

1:۔ ابن عساکر نے جو بیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (اور الیاس (علیہ السلام) بھیجے ہوؤں میں سے ہیں) ان لوگوں نے اس کا بعلبک نام رکھا) کیونکہ ہو بعل کی عبادت کرتے تھے اور ان کی جگہ کا نام البدء تھا تو اس کا بعلبک نام پڑگیا۔ 2:۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے (آیت ) ” وان الیاس لمن المرسلین “ (123) کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو بعلبک کی طرف بھیجا اور وہ قوم بتوں کی عبادت کرتی تھی اور بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے اور ہر بادشاہ ایک علاقہ پر حاکم تھا جس کی وہ آمدنی کھاتا تھا۔ اور وہ بادشاہ جو حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ وہ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی خدمت کرتا اور ان کے راستے پر چلتا تھا اور اپنے ساتھی بادشاہوں میں سے ہدایت پر تھا یہاں تک کہ ان پر کچھ لوگ بت پرستوں میں سے پہنچے ان لوگوں نے اس سے کہا کہ یہ تم کو گمراہی اور جھوٹ کی طرف بلاتا ہے۔ اور اس بادشاہ سے کہا آپ ان بتوں کی عبادت کیجئے جن پر دوسرے بادشاہ عبادت کرتے ہیں اور وہ اسی دین پر ہیں جس پر ہم ہیں کہ وہ لوگ کھاتے ہیں اور پیتے ہیں اور وہ اپنے ملکوں میں مقبول بھی ہیں ان کی دنیا کی آسائش میں کوئی کمی نہیں ہوتی ان کے رب کی طرف سے وہ جو تو گمان کرتا ہے کہ وہ جھوٹ ہے اور ہمیں ان پر کوئی فضیلت نہیں۔ الیاس (علیہ السلام) نے (آیت ) ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا ان کے سر کے اور ان کے کھال کے بال کھڑے ہوگئے الیاس (علیہ السلام) اس کی طرف گئے۔ حسن (رح) نے فرمایا کہ جس نے بادشاہ کے لئے اس معاملہ کو مزین کیا وہ اس کی بیوی تھی۔ پہلے وہ ایک جابر بادشاہ کے نکاح میں تھی اور وہ بادشاہ کنعانین میں سے تھا طویل (قد) اور جسیم اور خوبصورت تھا اس عورت کا خاوند مرگیا تو اس نے اپنے خاوند کی شکل کا سونے کا ایک بت بنادیا۔ اس نے یاقوت کی دو آنکھیں بنائیں اور اس کو ایک تاج مودی اور جواہر سے بنا ہوا پہنا دیا پھر اس کو ایک تخت پر بٹھا دیا اس پر داخل ہوتی تھی تو اس کو دھول دیتی اور اس کو خوشبو لگاتی اور اس کو سجدہ کرتی تھی پھر وہ اس سے باہر نکل جاتی اس کے بعد اس عورت نے اس بادشاہ کے ساتھ شادی کرلی جو الیاس کے ساتھ تھا وہ بدکار عورت تھی اس نے اپنے خاوند پر غلبہ پالیا۔ اور لعل بت کو اس کمرے میں رکھ لیا اور اس کے ستر خادم بنا دیئے کہ وہ اس بت کی عبادت کریں۔ الیاس (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی مگر اس بات نے ان کی سرکشی کو اور زیادہ کردیا الیاس (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ بنی اسرائیل نے انکار کردیا مگر تیرے ساتھ کفر کرنے اور تیرے علاوہ بتوں کی عبادت کرنے سے انکار نہیں کیا۔ پس جو نعمتیں آپ کی طرف سے ہیں ان کو تبدیل کردیجئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے ان کو رزق تیرے ہاتھ میں کردیا ہے۔ تو فرمایا : اے اللہ ان سے بارش کو تین سال روک لیجئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو روک لیا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے بادشاہ کی طرف اپنا ایک ساتھی الیسع کو بھیجا اور فرمایا اس بادشاہ سے کہہ کر الیاس (علیہ السلام) تجھ سے فرماتے ہیں کہ تو نے اللہ کی عبادت چھوڑ کر بعل کی عبادت کو پسند کیا اور تو نے اپنی بیوی کی تابعداری کی اب تو تیار ہوجا عذاب اور مصیبت کے لئے الیسع چلا اور اس کا پیغام بادشاہ کو پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ نے الیسع کو بادشاہ کے شر سے بچایا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو روک لیا۔ یہاں تک ہلاک ہوگئے چوپائے اور جانور اور لوگ بری مشقت میں پڑگئے۔ اور الیاس (علیہ السلام) پہاڑ کی چوٹی کی طرف نکلے اللہ تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام فرماتے اور ان کے لئے ایک چشمہ بہا دیا ان کے لئے بیٹھنے اور وضوء کرنے لئے یہاں تک کہ لوگ سخت مشقت کو پہنچ گئے۔ بادشاہ نے بت کے ستر خادموں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے کہا کہ بت سے سوال کرو کہ ہمارے لئے مصیبت کو دور کردے۔ انہوں نے اپنے بت نکالے ان کے تقریب کے لئے جانور ذبح کئے اور ان پر جھک گئے وہ برابر اس کو پکارتے رہے یہاں تک کہ ان پر مدت لمبی ہوگئی بادشاہ نے ان سے کہا کہ الیاس (علیہ السلام) کا خدا تو ان (بتوں) سے جلدی دعا سن لیتا تھا لوگوں نے الیاس (علیہ السلام) کو تلاش کرنا شروع کردیا وہ تشریف لائے اور فرمایا کیا تم اس بت کو محبوب رکھتے ہو کہ تم سے مصیبت دور ہوجائے انہوں نے کہا ہاں تو فرمایا اپنے بتوں کو نکال دو الیاس (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا فرمائی کہ ان سے مصیبت کو دور کردے تو ایک بادل ڈھال کے برابر بلند ہوا اور وہ دیکھ رہے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان بارش بھیج دی اور ان کی مدد فرمائی انہوں نے (کفر اور شرک سے) توبہ کرلی اور وہ واپس آگئے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ الیاس (علیہ السلام) وہی ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ الیاس (علیہ السلام) وہی ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ 5:۔ ابن عساکر نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ چار انبیاء آج بھی زندہ ہیں دو دنیا میں ہیں الیاس (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) اور دو آسمان میں ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) ۔ 6:۔ ابن عساکر نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) فارس کے وفد میں سے ہیں الیاس (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے ہیں وہ ہر سال موسم حج کے موقع پر آپس میں ملتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کا دنیا کا سفر : 7:۔ ابن عساکر (رح) نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ الیاس (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا فرمائی کہ میں اپنی قوم سے راحت پانا چاہتا ہوں ان سے کہا گیا ایسے دن کا انتظار کرو تو ایک چیز گھوڑے کی صورت میں سامنے آئیگی جب تو وہ جانور دیکھے کہ اس کا رنگ آگ کی رنگ کی طرح ہے تو اس پر سوار ہوجا حضرت الیاس (علیہ السلام) اس دن کا انتظار کرتے رہے تو اچانک وہ چیز گھوڑے کی صورت میں آئی اس کا رنگ آگ کے رنگ جیسا تھا یہاں تک کہ وہ سامنے آکر ٹھہر گئی آپ اس پر سوار ہوگئے وہ آپ کو لے کر چل پڑی یہ آپ کا آخری وقت تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کو داڑی عطا کی، نور کا لباس پہنایا، کھانے اور پینے کی لذت ختم کردی اور فرشتوں میں چلے گئے۔ 8:۔ ابن عساکر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ الیاس (علیہ السلام) کو بےآب وگیاہ جنگلوں اور خضر (علیہ السلام) کو پہاڑوں پر مقرر کیا گیا اور ان دونوں کو دنیا میں پہلے نفخہ تک زندگی عطا کی گئی اور یہ دونوں ہر سال حج کے موقعہ پر جمع ہوتے ہیں۔ 9:۔ الحاکم نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ الیاس (علیہ السلام) پہاڑوں اور جنگلوں میں رہتے ہیں وہ تنہائی میں اپنے رب عزوجل کی عبادت کرتے ہیں ان کا سربھاری، پیٹ چپکا ہوا، پتلی پنڈلیاں سینے میں سرخ بالوں کا گچھا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے شام کی زمین کی طرف بھیج دیا ان کو آسمان کی طرف نہیں اٹھایا اور یہ وہی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ذوالنون کا نام دیا۔ 10:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خضر (علیہ السلام) وہی الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ 11:۔ حاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں (وضعفہ) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ایک منزل پر ہم اترے اچانک اس وادی میں ایک آدمی یوں دعا کررہا تھا : اے اللہ ! محمد ﷺ کی مرحومہ ومغفورہ امت میں سے بنادے جس کو بدلہ دیا جائے گا۔ انس ؓ نے فرمایا میں نے وادی پر اوپر سے جھانکا کیا دیکھتا ہوں کہ اس آدمی کی لمبائی تین سو ہاتھ یا اس سے زیادہ ہے۔ اس نے کہا تو کون ہے ؟ میں نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کا خادم ہوں اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : وہ آپ کی بات کو سن رہے ہیں۔ اس نے کہا : اس کے پاس حاضر ہونا اور میری طرف سے سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ آپ کے بھائی الیاس (علیہ السلام) آپ کو سلام دیتے ہیں۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور سب واقعہ بتادیا۔ آپ تشریف لائے اور ان سے معانقہ کیا اور دونوں باتیں کرنے بیٹھ گئے انہوں نے کہا یارسول اللہ ! میں ہر سال صرف ایک دن کھاتا ہوں اور یہ میرا دن روزنہ نہ رکھنے کا ہے آپ اور میں کھانا کھائیں تو ان دونوں پر آسمان سے دسترخوان نازل ہوا جس میں روٹی مچھلی، اجوائن تھا دونوں نے کھایا اور مجھے بھی کھلایا دونوں نے عصر کی نماز پڑھی پھر مجھے اور رسول اللہ ﷺ کو الوداع کہا پھر میں نے ان کو دیکھا کہ وہ آسمان کی طرف بادل کی رفتار سے چلے گئے (حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ذھبی نے کہا یہ موضوع ہے) اللہ تعالیٰ اپنے ذلیل ورسوا جس نے اس کو گھڑا اور کہا میں یہ گمان نہیں کرتا تھا اور نہ اسے جائز سمجھتا ہوں جہالت حاکم تک بھی پہنچ سکتی ہے اور وہ اسے صحیح قرار دیں۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتدعون بعلا “ میں بعلا سے بت مراد ہے۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتدعون بعلا “ کیا تم پکارتے ہو بت کو رب بنا کر بعل سے رب مراد ہے۔ 14:۔ ابن ابی حاتم (رح) و ابراہیم الحربی نے غریب الحدیث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا وہ گائے کو ہانک کرلے جارہا تھا پوچھا اس کا مالک کون ہے۔ پھر اس کو بلایا اور پوچھا تو کن لوگوں میں سے ہے ؟ اس نے کہا : یمن والوں میں سے۔ پھر فرمایا یہ بھی ایک لغت ہے کہ بعل کا معنی مالک ہے۔ 15:۔ ابن الانباری نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے حمیر (قبیلہ) کے ایک آدمی کا بھاؤ دریافت کیا (یعنی خرید نا چاہا) اور اس سے کہا کہ تو اس کا مالک ہے۔ اس نے کہا : میں اس کا بعل (یعنی مالک) ہوں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا (آیت ) ” اتدعون بعلا “ کا یہ مطلب ہے کہ اپنے مالک کو بلاتا ہے تو کس قبیلہ سے ہے ؟ اس نے کہا حمیز سے۔ 16:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی یہ کہتا ہوا گذرا کون گائے کو پہنچانتا ہے ایک آد میں نے کہا : میں اس کا بعل ہوں (یعنی میں اس کا مالک ہوں) ابن عباس ؓ نے اس سے فرمایا تو گمان کرتا ہے کہ تو گائے کا شوہر ہے ؟ آدمی کہا کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا : (آیت ) ” اتدعون بعلاوتذرون احسن الخالقین “ یعنی تم پکارتے ہو بعل کو اور میں تمہارا رب ہوں۔ ابن عباس ؓ نے اس سے فرمایا تو نے سچ کہا۔ 17:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتدعون بعلا “ یعنی ازدوہ شنوأہ کی لغت میں بعل کا معنی ہے مالک۔ 18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتدعون بعلا “ یعنی بعل ان کا ایک بت تھا وہ لوگ اس کی عبادت کرتے تھے بعلبک میں اور یہ (شہر) دمشق سے آگے ہے اس میں بعل بت تھا جس کی وہ لوگ عبادت کرتے تھے۔ 19:۔ ابن المنذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتدعون بعلا “ کہ یمنی زبان میں بعل سے مراد ہے مالک۔ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہتا ہے : اس کپڑے کا مالک (بعل) کون ہے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے قیس بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اتدعون بعلا “ کے بارے میں سوال کیا ابن عباس ؓ اس سے خاموش رہے پھر اس نے سوال کیا پھر وہ خاموش رہے پھر انہوں نے ایک آدمی کو سنا جو ایک گمشدہ چیز کا اعلان کررہا تھا پھر دوسرے کو سنا وہ کہہ رہا تھا ”’ انا بعلھا “ (میں اس کا مالک ہوں) ابن عباس ؓ نے فرمایا : سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ سنو جو سائل کہہ رہا ہے ” انا بعلھا “ (یعنی) میں اس کا مالک ہوں (آیت) ” اتدعون بعلا “ کیا تم اپنے مالک کی عبادت کرتے ہو۔ 21:۔ ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سلم علی ال یاسین “ یعنی ” یاسین “ سے مراد ہے الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ 22:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت ) ” سلم علی ال یاسین “ اور فرمایا یہ الیاس کے اس قول کے مثل ہے جیسے : عیسیٰ مسیح، محمد ﷺ ، احمد اسرائیل اور یعقوب۔ 23:۔ ابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” سلم علی ال یاسین “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم آل محمد ﷺ ہیں یعنی ” ال یاسین “ ہیں۔
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور بلاشبہ لوط پیغمبروں میں سے ہیں

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جبکہ ہم نے انہیں اور ان کے گھروالوں کو نجات دے دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

سوائے بوڑھی عورت کے وہ باقی رہ جانے والوں میں سے تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسرے لوگوں کو ہلاک کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور بلاشبہ تم ان پر ضرور گزرتے ہو صبح کے وقت

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو، سو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے

1:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا عجوزا فی الغبرین “ (سوائے ایک بڑھیا کے جو رہ جانے والوں میں رہ گئی) یعنی ان کی بیوی پیچھے رہ گئی تو وہ پتھر بنادی گئی اور اس کو ھیشفع کہتے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا عجوزا فی الغبرین “ یعنی ہلاک ہونے والوں میں سے (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم “ (اور تم گزرتے ہو ان پر) یعنی اپنے سفروں میں۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم مصبحین (137) وبالیل “ (اور تم ان پر صبح شام گزرتے ہو) فرمایا ہاں تم صبح وشام ان کے پاس سے گزرتے ہو جو آدمی مدینہ سے شام کی طرف جاتا ہے۔ تو وہ قوم لوط کے کئی شہروں سے گزرتا ہے۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانکم لتمرون علیہم مصبحین (137) وبالیل “ فرمایا (آیت) ” لتمرون علیہم مصبحین (137) یعنی قوم لوط کی بستی کے پاس سے گزرتے ہو۔ (آیت ) ” افلا تعقلون “ یعنی کیا تم غوروفکر نہیں کرتے ہو کہ تم کو وہ عذاب پہنچ سکتا ہے، جو ان کو پہنچتا تھا۔
Ayahs 37:139–148

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بلاشبہ یونس پیغمبروں میں سے ہیں

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر چلے گئے

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

سوقرعہ ڈالا سو وہ ہار جانے والوں میں سے ہوگئے

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

سو مچھلی نے ان کا لقمہ بنالیا اس حال میں کہ وہ صاحب ملامت ہوگئے

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

سو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

توضرور مچھلی کے پیٹ میں اس دن تک ٹھہرے رہتے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

سو ہم نے انہیں ایک میدان میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ سقیم تھے

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک بیل دار درخت اگادیا

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا تھا

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

سو وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کو ایک زمانہ تک عیش دیا

1:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزہد وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان یونس لمن المرسلین (139) اذابق الفلک المشحون “ (اور بیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے یونس (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ تیری قوم پر فلاں دن اس طرح اور اس طرح عذاب آئے گا جب وہ دن آیا تو یونس وہاں سے چلے گئے تو ان کی قوم نے ان کو گم پایا تو وہ لوگ چھوٹے اور بڑے جانور اور ہر چیز کو لے کر (ایک میدان میں) نکلے پھر انہوں نے والدہ کو اس کے بچوں سے بکری کو اپنے بچے سے اور اونٹنی اور گائے کو اپنے بچوں سے الگ کردیا ان کو چیخ و پکار کی آواز سنی گئی اور ان کے پاس عذاب آنے لگا یہاں تک کہ انہوں نے اسے دیکھ بھی لیا پھر ان سے عذاب کو ہٹا دیا گیا۔ جب ان کو عذاب نہ پہنچا تو یونس (علیہ السلام) غصہ ہو کر چل دیئے اور لوگوں کے ساتھ ایک کشتی پر دریا میں سوار ہوئے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ کشتی دریا میں رک گئی اور وہ آگے نہ چلی، تو کشتی والے نے کہا کہ ہم کو چلنے سے کوئی چیز نہیں روکتی مگر کوئی منحوس آدمی تمہارے درمیان سوار ہے پھر انہوں نے قرعہ ڈالا تاکہ اس آدمی کو دریا میں پھینک دیں قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا ان لوگوں نے کہا کہ ہم تیرے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے قرعہ ڈالا تو تینوں مرتبہ ان کا نام نکلا تو یونس (علیہ السلام) نے خود ہی چھلانگ لگا دی مچھلی نے ان کو لقمہ بنالیا، طاؤس (رح) نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب مچھلی نے ان کو کھلے میدان میں ڈال دیا تو اس وقت وہ بیمار تھے اور ان پر ایک بیل اگ آئی اور ” یقطین “ سے مراد ہے کدو کی بیل وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سانس ان کی طرف لوٹ آئی (یعنی قوت آگئی) تو وہ درخت سوکھ گیا۔ یونس (علیہ السلام) رونے لگے اس پر غم کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ایک درخت کے ہلاک ہونے پر آپ رو رہے ہیں اور ایک لاکھ لوگوں کو ہلاک ہونے پر آپ نہیں روتے۔ قوم یونس (علیہ السلام) سے عذاب ٹل گیا : 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو اس کی بستی کے رہنے والوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے اس کو رد کردیا جو پیغام آپ ان کے پاس لیکر آئے تھے اور لوگوں کو بھی یونس (علیہ السلام) سے روک دیا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میں ان پر فلاں فلاں دن عذاب بھیجنے والا ہوں۔ تو ان کے درمیان سے نکل جا اپنی قوم کو بتادینا، اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کو دیکھتے رہنا اگر یہ تمہارے درمیان سے نکل جائیں تو اللہ کی قسم ! وہ ہونے والا ہے جو انہوں نے تم سے وعدہ کیا ہے جب وہ رات ہوئی جس میں وہ عذاب کا وعدہ دیئے گئے تھے آپ راست کو نکل گئے اور قوم نے ان کو دیکھ لیا۔ وہ لوگ ڈرگئے اور بستی سے کھلے میدان کی طرف نکل گئے۔ اور انہوں نے ہر جانور کو اس کے بچوں سے جدا کردیا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ زاری کی توبہ کی اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے طلب گار ہوئے اور یونس (علیہ السلام) بستی اور ان کے رہنے والوں کے بارے میں خبر ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک گزرنے والا گزرا تو اس سے پوچھا بستی والوں کے ساتھ کیا ہوا تو اس نے کہا انہوں ایسا کیا کہ جب ان کے نبی ان کے درمیان سے چلے گئے تو انہوں نے پہچان لیا کہ ان سے جو عذاب کا وعدہ کیا گیا وہ سچا ہے تو وہ لوگ اپنی بستی سے زمین کے کھلے میدان کی طرف نکل آئے پھر انہوں نے ہر بچے والی کو اس کے بچوں سے جدا کردیا پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کی اور اس کی طرف توبہ کرنے لگے تو ان کی توبہ کو قبول کرلیا گیا اور عذاب کو مؤخر کردیا گیا (یہ سن کر) یونس (علیہ السلام) نے اس وقت فرمایا میں جھوٹا بن کر ان کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا اور آگے کو چل دیئے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبد اللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ جب یونس (علیہ السلام) غصہ ہو کر نکلے تو ایک کشتی پر آئے اس پر سوار ہوگئے وہ چلنے سے رک گئے تو کشتی والوں نے کہا یہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوا ہے جو تم نے کیا ہے، ان کے بعض نے بعض سے کہا آجاؤ یہاں تک کہ ہم قرعہ ڈالیں گے جس کے نام قرعہ نکلے تو اسے پانی میں ڈال دو انہوں نے قرعہ ڈالا تو یونس (علیہ السلام) کا ہی نام نکلا جب یونس (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تو فرمایا کہ میں ہی ہوں وہ نکلے اور اپنے آپ کو پانی میں ڈال دیا اس وقت مچھلی نے اپنا سر پانی سے تین ہاتھ اوپر اٹھایا وہ اپنے آپ کو گرا رہے تھے تو مچھلی سامنے آگئی جب اس مچھلی نے آپ کو پکڑنا چاہا تو آپ دوسری جانب ہوگئے تو مچھلی پھر سامنے آگئی۔ جب یونس (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے تو اپنے آپ کو گرا دیا ابھی پانی آپ پر نہیں گزرا تھا کہ مچھلی نے آپ کو پکڑ لیا اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی بھیجی کہ ان کی ہڈیوں کو نہ توڑنا ان کا گوشت کو نہ کھانا یہاں تک کہ میں تم کو یہ حکم دوں یہاں تک کہ اس نے ان کو مٹی کے ساتھ چمٹا دیا انہوں نے زمین کی تسبیح کرنا اور اس وقت حضرت یونس (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب یونس (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا تو مچھلی نے ان کو لقمہ بنالیا ان کو لیکر نیچے اتر گئی یہاں تک کہ پانی کے پھوٹنے کی جگہ تک پہنچ گئی یا اس جیسا کوئی حکم فرمایا انہوں نے زمین کی تسبیح کو سنا تو اسی وقت ندا کی (آیت ) ” فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک، انی کنت میں الظلمین “ (الانبیاء آیت (87) (اور اندھیروں میں انہوں نے پکارا کہ کوئی معبود نہیں مگر آپ ہی آپ کی ذات پاک ہے بلاشبہ میں ظالموں میں سے تھا) دعاعرش کے ارد گرد گھوم رہی تھی فرشتوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم دور دراز علاقوں سے ایک کمزور آواز سنتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور تم کیا جانتے ہو (کہ وہ کون ہے ؟ ) فرشتوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ میرا بندہ یونس ہے فرشتوں نے کہا وہ جس کے ہم ہمیشہ قبول عمل لاتے رہے اور قبول دعاؤں کو لاتے رہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آپ رحم نہیں فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں (میں نجات دوں گا) اور مچھلی کو حکم فرمایا کہ اس نے ان کی حفاظت کی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے لئے غذا کا انتظام : 5:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (مچھلی نے) جب ان کو پھینکا تو اسے کدو کی بیل کی جڑ کے پاس پھینکا وہ اس وقت ایک بچے کی طرح تھے۔ اور وہ اس (کدو کی بیل) کے ساتھ سایہ حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے جنگلی جانوروں میں سے دودھ پلانے کا انتظام کردیا جانور صبح شام ان کے پاس آتے اور اپنی ٹانگوں کو ڈھیلا کردیتے تو حضرت یونس (علیہ السلام) اس کے دودھ میں سے پیتے تھے یہاں تک کہ ان کا گوشت اگ آیا۔ 6:۔ ابن اسحاق والبزار وابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو قید کرنے کا ارادہ فرمایا مچھلی نے ان کو لے لیا پھر وہ ان کو لے کر سمندر میں اپنے ٹھہرنے کی جگہ میں بیٹھ گئی جب سمندر کی سب سے نچلی جگہ تک لے گئی یونس (علیہ السلام) نے ایک حرکت کو سنا اور اپنے دل میں کہا یہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اور وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ کہ یہ تسبیح ہے زمین کے جانوروں کی تو انہوں نے بھی تسبیح بیان کی فرشتوں نے ان کی تسبیح کو سن لیا اور کہنے لگے اے ہمارے رب میں نے کمزور آواز سنی ہے زمین کے دور دارز حصہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ میرے بندے یونس (علیہ السلام) ہیں، میری نافرمانی کی تو میں نے ان کو مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا۔ فرشتوں نے کہا نیک بندہ ہے جس کے نیک اعمال ہر دن پیش کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں : تو انہوں نے اس وقت اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کی (تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم فرمایا) تو اس نے ان کو ساحل پر ڈال دیا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وھو سقیم “ (کہ وہ بیمار تھے) مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعاء : 7:۔ ابن ابی شیبہ فی المنصنف واحمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا اور ان کو بتایا کہ ان کے پاس تین دن میں عذاب آجائے گا۔ تو ان لوگوں نے ماں اور بچے کو جدا کردیا۔ پھر وہ باہر نکلے اور اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑائے اور اس سے مغفرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو روک دیا یونس (علیہ السلام) صبح کو عذاب کا انتظار کرتے رہے مگر کسی چیز کو نہ دیکھا اور (ان کی قوم میں قانون یہ تھا) کہ جو آدمی جھوٹ بولے اور اس کے پاس گواہ بھی نہ ہو تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا یونس (علیہ السلام) غصہ ہو کر چل دیئے یہاں تک کہ ایک کشتی میں ایک قوم کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو سوار کرلیا اور ان کو پہچان بھی لیا جب کشتی میں داخل ہوئے تو وہ رک گئی جبکہ دوسری کشتیاں دائیں بائیں چل رہی تھی پوچھا تمہاری کشتی کو کیا ہوا ؟ تو انہوں نے کہا ہم یہ نہیں یہ نہیں جانتے (یہ کیا ہوا) تو یونس (علیہ السلام) نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں کہ اس میں ایک غلام ہے جو اپنے رب سے بھاگا ہوا ہے اللہ کی قسم یہ کشتی نہیں چلے گی جب تک تم اس کو دریا میں نہ ڈالو گے۔ انہوں نے کہا آپ کو (ہم دریا میں ڈال دیں) اللہ کی قسم آپ اللہ کے نبی ہیں ہم آپ کو نہیں ڈالیں گے یونس (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا قرعہ ڈال لو جس آدمی کا نام قرعہ میں نکلے اسے دریا میں ڈال دو انہوں نے قرعہ ڈالا تو ان کے قرعہ میں تنیوں مرتبہ یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا۔ تو آپ کو دریا میں ڈال دیا گیا اور ایک مچھلی کو ان کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا۔ جب آپ کو دریا میں ڈال دیا گیا تو اس مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ وہ ان کو زمین میں اپنی ٹھہرنے کی جگہ میں لے گئی یونس (علیہ السلام) نے کنکریوں کی تسبیح سنی (تاریکیوں میں یوں ندا کی) (آیت ) ” فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک، انی کنت میں الظلمین “ (تو آواز دی اندھیروں میں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ کی ذات پاک ہے بلاشبہ میں ظلم کرنے والوں میں سے ہوں) یہاں اندھیروں سے مراد مچھلی کا پیٹ کا اندھیرا، دریا کا اندھیر اور رات کا اندھیرا ہے (یہ تین اندھیرے تھے) پھر فرمایا (آیت ) ” فنبذنہ بالعرآء وھو سقیم “ (مچھلی نے ان کو کھلے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھے) فرمایا پر نوچے ہوئے چوزے کی طرح جس پر کوئی پر نہ ہوں۔ اللہ نے ان پر کدو کی ایک بیل لگا دی وہ اس سے سایہ حاصل کرتے تھے اور اس میں سے فائدہ حاصل کرتے۔ وہ بیل خشک ہوگئی تو آپ اس پر رونے لگے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کیا آپ درخت پر رو رہے ہیں کہ وہ سوکھ گیا اور آپ لاکھ یا اس سے زیادہ پر نہیں روتے کہ آپ نے ان کے ہلاک ہونے کا ارادہ کیا۔ آپ باہر نکلے تو آپ ایک نوجوان کے پاس تھے جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اس سے پوچھا اے لڑکے ! تو کس قوم میں سے ہے ؟ اس نے کہا : یونس کی قوم میں سے۔ اس سے فرمایا : جب تو ان کے پاس لوٹ کر جائے تو ان کو سلام کہنا اور ان کو بتانا کہ میں نے یونس سے ملاقات کی لڑکے نے ان سے کہا اگر آپ یونس ہیں تو آپ جان لیں کہ جو شخص جھوٹ بولے اور اس کے پاس گواہ بھی نہ ہو تو اس کو قتل کردیا جاتا ہے۔ میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ یونس (علیہ السلام) نے فرمایا : تیرے لئے یہ درخت اور زمین کا ٹکڑا گواہی دے گا۔ اس لڑکے نے یونس سے کہا ان دونوں کو حکم کیجئے تو یونس نے ان دونوں سے فرمایا : جب تمہارے پاس یہ نوجوان آئے تو اس کے لئے گواہی دینا ان دونوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے (ہم گواہی دیں گے) نوجوان اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا اس کے بھائی تھے۔ اور وہ قوت میں تھے۔ وہ بادشاہ کے پاس آیا اور کہا میں یونس (علیہ السلام) سے ملا ہوں اور وہ تم لوگوں کو سلام فرما رہے ہیں بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا لڑکے نے کہا میرے پاس گواہ ہیں۔ بادشاہ نے (چند آدمی نوجوان کے ساتھ بھیجے یہ لوگ درخت اور زمین کے اس ٹکڑے کے پاس آئے۔ اور نوجوان نے ان دونوں سے کہا میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو یونس (علیہ السلام) نے تم کو گواہ بنایا تھا انہوں نے کہا : ہاں (ہم گواہی دیں گے) یہ لوگ قوم کی طرف خوفزدہ ہو کر لوٹے اور کہنے لگے کہ (درخت اور زمین تیرے حق میں گواہی دیتے ہیں یہ لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور انہوں نے بیان کیا جو کچھ انہوں نے دیکھا بادشاہ نے اس نوجوان کا ہاتھ پکڑا اور کہا اس کو اپنی مجلس میں بٹھا دیا اور کہا تو اس جگہ میں مجھ سے زیادہ حقدار ہے تو اس نوجوان نے چالیس سال تک ان پر حکومت کی۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ یونس بن متی ایک نیک آدمی تھے۔ اور آپ جسمانی طور پر کمزور تھے جب ان پر نبوت کا بوجھ رکھا گیا اور اس کی ایسی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جن کو تھوڑے افراد ہی اٹھاتے ہیں تو وہ ان ذمہ داریوں کے نیچے یوں دیتے چلے گئے جیسے اونٹ بوجھ کئے نیچے دب جاتا ہے۔ جس کے ابھی چار دودھ کے دانت گرے ہوں تو آپ نے اسے ہاتھ سے پھینک دیا۔ اور وہاں سے بھاگ گئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرماتے کہ (آیت ) ” فاصبر کما صبر اولوالعزم من الرسل ولا تکن کصاحب الحوت “ (القلم آیت 48) اور آپ صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور مچھلی والے کی طرف نہ ہوجائیے) 9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فساھم فکان من المدحضین “ (پھر یونس شریک قرعہ ہوئے تو یہی ملزم ٹھہرے) (آیت ) ” من المدحضین “ کا معنی ہے قرعہ میں ہارئے ہوئے۔ پھر فرمایا انہوں نے قرعہ ڈالا تو یہ قرعہ میں ہارے ہوئے لوگوں میں سے تھے۔ 10:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) و بیہقی (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فساھم فکان من المدحضین “ فرمایا کہ کشتی رک گئی اور قوم نے جان لیا کہ یہ کشتی کسی گناہ کی وجہ سے رکی ہوئی ہے جو انہوں نے کیا ہے۔ انہوں نے قرعہ ڈالا تو قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ تو انہوں نے اپنے آپ کو پانی میں ڈال دیا (آیت ) ” فالتقمہ الحوت وھو ملیم “ (مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے) یعنی اس کام میں جو انہوں نے کیا تھا اس میں وہ گناہ گار تھے (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ (اگر وہ اس وقت تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے) یعنی وہ خوشی کے دور میں کثرت سے نماز نہ پڑھنے والے تھے (اس وجہ سے انہوں نے) نجات پائی۔ اور حکمت کھانوں میں سے یہ بات کہی جاتی تھی کہ نیک عمل کرنے والے کو اٹھاتا ہے جب وہ لغزش کرتا ہے اور جب وہ گرایا جاتا ہے تو اس سے سہارا پانا ہے (آیت ) ” للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ تو یہ اس کے لئے قیامت تک قبریں بن جاتی۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اور طاؤس (رح) اور ان جیسے اس زمانے کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے آپ میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ کونسا اللہ کا حکم زیادہ تیزی سے واقع ہوا۔ ان کے بعض نے کہا اللہ تعالیٰ کا یہ قول ” کلمح البصر “ (النحل آیت 77) ہے اور ان کے بعض نے کہا وہ تخت جب سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لایا گیا تو ابن منبہ نے کہا کہ سب سے زیادہ تیز اللہ کا حکم (یہ تھا) کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ یونس کشتی کے کنارے پر تھے اچانک اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی بھیجی نیل مصر میں کہ وہ نہ گرے اس کے کنارے سے مگر اس کے پیٹ میں (چنانچہ) ابھی آپ اس کے کنارے سے نیچے نہیں گرے تھے کہ اس مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فالتقمہ الحوت “ یعنی جس مچھلی نے یونس کو نگلا تھا اس کو نجم کہا جاتا تھا وہ ان کو لیکر بحرالروم میں پھر دریائے نیل میں پھر دریا فارس میں پھر نہر دجلہ میں چلتی رہی۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھو ملیم “ یعنی آپ گناہ کرنے والے تھے۔ (آیت ) ” فالتقمہ الحوت وھو ملیم “ 14:۔ ابن الانباری والطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وھو ملیم “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ (آیت ) ” ملیم ‘ سے مراد ہے خطاکار اور گناہ گار پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا : کیا تو نے امیہ بن ابی صلت کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : بری من الافات لیس لھا بأھل ولکن المسی ھو الملیم : ترجمہ : وہ آفات سے بری ہے اس کا اہل نہیں ہے لیکن گناہ گار اور خطاکار (اس کے اہل ہے) 15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھو ملیم “ سے مراد ہے گناہ کرنے والا۔ 16:۔ احمد نے الزھد میں ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ (اگر وہ اس وقت تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے) یعنی اگر اس کو نیک عمل اسے نہ چھڑاتا (آیت ) ” للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ تو وہ رہتے اس کے پیٹ میں اٹھائے جانے کے دن تک) فرمایا اور حکمت میں یہ ہے کہ نیک عمل بلند کردیتا ہے اس کے کرنے والے کو۔ 17:۔ احمد نے الزھد میں وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ (اگر وہ نہ ہوتا تسبیح کرنے والوں میں) یعنی نماز پڑھنے والوں میں سے مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونے سے پہلے۔ 18:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ سے مراد یونس (علیہ السلام) کی وہ نماز تھی جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں پڑھی تھی یہ بات قتادہ ؓ کو ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا ایسا نہیں تھا بلکہ وہ نماز مراد ہے۔ جو وہ آسودگی کے دور میں پڑھا کرتے تھے۔ ، 19:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی واحمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ سے مراد ہے کہ اگر آپ نماز پڑھنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ سے مراد ہے اگر وہ اس سے پہلے اللہ کی عبادت کرنے والے نہ ہوتے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی توبہ کی قبولیت : 21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سعید بن ابی الحسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ یعنی اگر ان کی پہلے والی عبادت اور تسبیح نہ ہوتی جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت فرمائی جب ان کو یہ مصبیت پہنچی پھر جو ان پر انعام فرمایا مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن اور رات تک پھر مچھلی کے پیٹ سے نکالا اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔ 22:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ سے مراد ہے کہ ہم اسے خوب جانتے ہیں اللہ کی قسم کہ آہ وزاری اختیار کرنا آسودگی میں یہ استعداد پیدا کرتی ہے مصیبت نازل ہونے کے وقت جب مصیبت نازل ہوتی ہے تو آہ وزاری کرنے والا اس کا سہارا لیتا ہے اگر اس نے پہلے کوئی گناہ کیا ہے تو وہ گناہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے اگرچہ اس گناہ کو بہت عرصہ گزر چکا ہو۔ 23:۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو آسودگی میں اللہ تعالیٰ تم کو مصیبت کے وقت یاد کرے گا بلاشبہ یونس (علیہ السلام) نیک بندے اللہ کو یاد کرنے والے تھے جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین ، (143) (آیت ) ” للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ (اگر وہ تسبیح بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو مچھلی کے پیٹ میں روز قیامت تک رہتے) اور فرعون سرکش بندہ تھا اللہ کے ذکر کو بھول جانے والا جب وہ غرق ہونے لگا تو کہا (آیت ) ” قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنواسرآئیل وانا من المسلمین “ (یونس آیت 90) (میں ایمان لایا اس ذات پر جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں اس پر ایمان لایا کہ جس پر بنواسرائیل والے ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں) اس سے کہا گیا کہ (آیت ) ” آلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین (91) “ (یونس آیت 91) (اب تو ایمان لاتا ہے اور اس سے پہلے تو نے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا ) 24:۔ ابن ابی حاتم (رح) والحاکم و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ سے مراد ہے کہ وہ خوشحالی میں کثرت سے نماز پڑھتے تھے۔ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو انہوں نے گمان کرلیا کہ وہ مرگئے ہیں انہوں نے اپنی ٹانگوں کو حرکت دی تو اچانک وہ حرکت کرنے لگیں۔ تو آپ نے سجدہ کیا اور عرض کیا اے میرے رب میں نے آپ کے لئے اس جگہ میں سجدے کی جگہ بنالی ہے کہ جس میں کسی نے سجدہ نہیں کیا۔ 25:۔ عبداللہ بن احمد نے فی الزوائد الزھد وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) والحاکم شعبی (رح) سے روایت کیا کہ مچھلی نے ان کو چاشت کے وقت نگل لیا اور ان کو شام کے وقت (باہر) پھینک دیا انہوں نے اس کے پیٹ میں رات نہیں گذاری۔ 26:۔ الحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرے۔ 27:۔ عبدالرزاق (رح) وابن مردویہ (رح) ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن رہے۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد فی الزھد (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرے۔ 29:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید (رح) بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) سات دن مچھلی کے پیٹ میں رہے مچھلی ان کو لے کر سات سمندر کا چکر لگایا پھر اس نے ان کو دجلہ کے کنارے پھینک دیا۔ 30:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” التقمہ الحوت “ (کہ مچھلی نے ان کو نگل لیا) جس کو نجم کہا جاتا تھا۔ اور وہ اس کے پیٹ میں تین دن رہے (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ یعنی وہ خوشحالی میں کثرت سے نماز پڑھتے تھے (آیت ) ” للبث فی بطنہ “ یعنی مچھلی کا پیٹ ان کے لئے قبر بن جاتی (آیت ) ” الی یوم یبعثون “ یعنی قیامت کے دن تک (آیت ) ” فنبذنہ بالعرآء “ (ہم نے ان کو کھلے میدان میں ڈال دیا) یعنی دجلہ کے کنارہ پر۔ اور نینوی (کی بستی) دجلہ کے کنارے پر ہے اس کے پیٹ میں چالیس دن رہے۔ 31:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فنبذنہ بالعرآء “ یعنی ہم نے ان کو ساحل پر ڈال دیا۔ 32:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) ناراض ہو کر چل دیئے پھر ایک کشتی میں قوم کے ساتھ سوار ہوئے کشتی ٹھہر گئی نہ چلتی تھی تو ان لوگوں نے قرعہ ڈالا (قرعہ ان کے نام نکلا) تو ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا ایک مچھلی دم ہلاتی ہوئی آئی۔ ہم نے مچھلی کو آواز دی کہ ہم نے تیرے لئے یونس (علیہ السلام) کو رزق نہیں بنایا اور ہم نے تجھ کو ان کے لئے پناہ کی جگہ اور سجدہ کرنے کی جگہ بنادیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز ہے : 33:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) جب غصہ ہوکرچلے گئے اور وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے (یعنی وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے) تو مچھلی کے پیٹ سے دعا کی۔ اے میرے اللہ تعالیٰ تو نے مجھے گھروں سے نکالا اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر مجھے اتارا اور شہروں میں مجھے پھرایا اور دریا میں مجھے پھینکا۔ اور مچھلی کے پیٹ میں مجھے قید کیا گیا آپ نہیں جانتے ہیں میرے کسی نیک عمل کو جس کے بدلے میں تو مجھے یہاں سے آزادی دے۔ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ! پہچانی ہوئی آواز آرہی ہے ایک اجنبی جگہ ہے۔ رب تعالیٰ نے ان سے فرمایا وہ میرا بندہ یونس (علیہ السلام) ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ (143) (آیت ) ” للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ اور وہ مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو کھلی جگہ پر پھینک دیا۔ (آیت) ” بالعرآء وھو سقیم “ (ایک کھلے میدان میں اور وہ بیمار تھے) اور اگا دیا گیا ان پر (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ سے مراد ہے کدو کی بیل اس کے سایہ سے سایہ حاصل کیا اور اس کے کدو میں سے کھاتے اور اس کی جڑ سے پانی پیتے جب تک اللہ نے چاہا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو خشک کردیا اور یونس (علیہ السلام) کیلئے جو منافع تھے وہ ختم ہوگئے۔ تو یونس (علیہ السلام) غمگین ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ آپ اس درخت پر غمگین ہوئے جس کو میں نے اگایا پھر اس کو خشک کردیا اور آپ نے اپنی قوم پر غم نہیں کیا۔ جب ان کے پاس عذاب آیا۔ پھر ان سے کہا گیا پھر غصہ ہو کر چل دیا۔ 34:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابوالشیخ نے حمید بن ہلال (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کو بلاتے تھے وہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے تھے جب علیحدہ ہوتے تو ان کے لئے خیر کی دعا کرتے انہوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) پر ایک جاسوس مقرر کیا جب ان لوگوں نے یونس (علیہ السلام) کو تھکا دیا (یونس (علیہ السلام) نے) اللہ تعالیٰ نے ان پر بددعا کی۔ ان کا جاسوس قوم کے پاس آیا اور کہا جو کچھ تم کرسکتے ہو کرو تمہارے پاس عذاب یقینی طور پر آئے گا انہوں نے تمہارے اوپر بددعا کردی ہے یونس (علیہ السلام) چل دیئے اور اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ عنقریب ان پر ضرور عذاب آئے سب لوگ باہر آئے اور انہوں نے جدا کردیا جانوروں کو ان کے بچوں سے اور وہ توبہ کرتے ہوئے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا دیا یونس (علیہ السلام) تشریف لائے اور دیکھنے لگے کہ کس عذاب نے ان کو ہلاک کردیا گیا مگر اچانک زمین سرسبز و شاداب پایا۔ بغیر عذاب کے اور یہ اس وقت ناراض ہو کر چل دیئے۔ اور کشتی میں ایک قوم کے ساتھ سوار ہوگئے۔ کشتی نہ آگے بڑھتی تھی اور نہ پیچھے ہٹتی تھی۔ ان کے بعض نے بعض سے کہا کہ سب کچھ تمہارے کہ سب کچھ تمہارے بعض کے گناہ کی وجہ سے ہوا آپس میں قرعہ ڈالو کہ کس کو ہم پانی میں ڈالیں اور اپنا راستہ بنائیں پس تو انہوں نے کہا (آپس میں) قرعہ ڈالا اور یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا تو ان لوگوں نے کہا ہم اپنے نبی کو پانی میں نہیں ڈالیں گے۔ یونس (علیہ السلام) نے فرمایا میرے غیر کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ مجھ کو پھینک دو اور مجھے اوندھا نہ پھینکنا (یعنی سر کے بل) بلکہ مجھے پاؤں کی جانب سے بہانا۔ انہوں نے ایسا نہی کیا اور مچھلی اپنا منہ کھولے ہوئے آئی اور آپ کو نگل لیا۔ اس کے پیچھے بڑے مچھلی لگی تاکہ ان دونوں کو نگل لے لیکن وہ اس سے آگے بڑھ گئی اور یونس اس کے پیٹ میں تھے یہاں تک کہ ہڈیاں نرم ہوگئیں گوشت کھال اور بال جاتے رہے (یعنی تینوں چیزیں ختم ہوگئیں) اور وہ بیمار تھے، انہوں نے اس وقت جو دعا مانگی، مچھلی نے ان کو کھلے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اگادیا (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ (یعنی کدو کے درخت میں سے) اس میں ان کی غذا تھی یہاں تک کہ آپ کی ہڈیاں مضبوط ہوگئی اور گوشت اور بال اور کھال اگ آئی اور جس طرح پہلے تھے اس طرح ہوگئے اللہ تعالیٰ نے اس بیل پر ہوا بھیجی تو وہ بیل خشک ہوگئی تو اس پر رونے لگے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے یونس ! کیا تم درخت پر روتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے اس میں غذا بنا دی تھی اور تو اپنی قوم پر نہیں روتا کہ وہ ہلاک کردیئے جاتے۔ 35:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ قوم کو اللہ کی عبادت کیط رف بلائیں اور (یہ فرمایا) کہ جن بتوں کی عبادت میں تم لگے ہوئے ہو ان کو چھوڑ دو اور وہ ان کے پاس آئے اور ان کو (اللہ کی طرف) بلایا مگر انہوں نے انکار کردیا یونس (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا اے میرے رب کہ میری قوم نے تیری عبادت سے انکار کردیا اور مجھے جھٹلادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی طرف لوٹ جاؤ اگر وہ ایمان لائیں اور تصدیق کریں تو بہتر ورنہ ان کو بتادوں کہ کل صبح ان پر عذاب آجائے گا یونس (علیہ السلام) ان کے پاس آئے ان کی دعوت دی مگر انہوں نے انکار کردیا فرمایا کل صبح تم پر عذاب آجائے گا پھر ان کے پاس سے چلے گئے جب آدھی رات ہوئی تو بوریا لیا، اس میں اپنا کھانا رکھا اور چل دیئے جب انہوں نے عذاب کو دیکھا ماؤں اور بچوں کو الگ کردیا انسانوں اور جانوروں میں سے پھر یونس (علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان لائے آپ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آہ وزاری کرنے لگے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے اس آہ زاری کو دیکھا بعد اس کے کہ ان کو عذاب ڈھانک چکا تھا۔ جیسے قبر کو کپڑے سے ڈھانکتے ہیں تو ان سے عذاب کو ہٹادیا اور یونس (علیہ السلام) عذاب دیکھنے کیلئے رکے رہے جب صبح ہوئی تو قوم کو بستی سے نکلتے ہوئے دیکھا اور ان کو کوئی عذاب نہیں پہنچا تھا تو یونس (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس نہیں آؤں گا کیونکہ انہوں نے میرے جھوٹے ہونے کا تجربہ کرلیا وہ باہر نکلے اور اپنے رب کے ساتھ ناراض ہوتے ہوئے چل دیئے۔ ایک قوم کو پایا جو کشتی میں سوار تھے ان کے ساتھ (یہ بھی) سوار ہوگئے جب کشتی ان کو لے کر چلی تو رک گئی تو قوم نے کہا کہ بلاشبہ تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی ہے جو سخت گناہ گار ہے۔ قرعہ ڈالو (تاکہ) تم سب غرق ہوجاؤ قوم نے قرعہ ڈالا تو ان کو قرعہ ڈالا تو ان کا قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا لوگوں نے کہا کہ ہم اس (دریا) میں اللہ کے نبی کو نہیں ڈالیں گے تمہارے پر غلط ملط ہوگئے تھے دوبارہ اکھٹے کرکے قرعہ اندازی کرو (پھر بھی) یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا جب یونس (علیہ السلام) نے (یہ بات دیکھی تو قوم والوں سے فرمایا مجھے دریا میں ڈال دو تم سب غرق نہ ہوجاؤ تو انہوں نے ان کو پانی میں ڈال دیا اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو مقرر فرمادیا اس نے ان کو نگل لیا، اس نے ان کی ہڈ ی توڑی نہ ان کا گوشت کھایا اور مچھلی ان کو لے کر سمندر کی گہرائی میں چلی گئی۔ جب رات چھاگئی تو انہوں نے تین اندھیروں میں رب کو پکارا۔ مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا، رات کا اندھیرا اور دریا کا اندھیرا (فرمایا) (آیت ) ” ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین (87) (الانبیاء) اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو خشکی میں ڈال دیا نہ ان پر کوئی بال تھا نہ کھال تھی اور نہ ناخن تھے جب سورج ان پر طلوع ہوا تو اس کی گردن نے تکلیف دی اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ ان پر ایک کدو کا درخت یعنی کدو کی بیل اگا دی۔ 36:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیئے گئے تو اس نے سارے سمندروں میں سات دن چکر لگائے پھر وہ دجلہ کے کنارے پہنچی اور ان کو دجلہ کے کنارے پر پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ نے (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ ان پر کدو کی بیل اگا دی جو خشکی کی بیل ہے۔ اور پھر ان کو بھیج دیا (الی ماءۃ الف اویزیدون “ (ایک لاکھ اس سے زیادہ کی طرف) یعنی (وہ ایک لاکھ ہے) ستر ہزار سے زیادہ تھے۔ ان پر عذاب چھا چکا تھا تو ان لوگوں نے انسانوں اور چوپاؤں میں سے والدہ اور اولاد کو الگ کردیا (یعنی ماؤں کو بچوں سے جدا کردیا) پھر اللہ تعالیٰ کی طرف آہ وزاری کرنے لگے تو ان سے عذاب کو ہٹا دیا گیا اور آسمان نے ان پر خون کی بارش برسائی۔ 37:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ مچھلی کو حکم دیا گیا کہ ان کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اور نہ ان کو زخمی کرے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فلولاانہ کان من المسبحین “ یعنی اس سے آپ پہلے عبادت کرنے والوں میں تھے اور ان کی عبادت کا ذکر کیا (پھر) جب آپ سمندر سے باہر نکلے تو وہ سو گئے تو اللہ تعالیٰ نے (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ ان پر ایک کدو کی بیل اگا دی جس نے ان پر سایہ کردیا اور ایک ہی دن میں اتنی بڑی ہوگئی (یعنی بڑی ہو کر سایہ کرنے لگی) یونس (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اس نے سایہ کردیا ہے اور اس کے سبزے کو دیکھا تو اس سے خوش ہوئے پھر سو کر جاگے تو وہ (بیل) خشک ہوچکی تھی۔ تو اس پر غم کرنے لگے کہا گیا تو نے اس کو پیدا نہ کیا اس کو پانی پلایا اور نہ اس کو اگایا (پھر) آپ نے اس پر غم کیا جبکہ میں نے ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کو پیدا کیا پھر میں نے ان پر رحم کیا تو یہ بات آپ پر بھاری گزری۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے لئے سایہ کا انتظام : 38:۔ ابن جریر (رح) نے ابن قسیط کے طریق سے روایت کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مچھلی نے یونس (علیہ السلام) کو خالی جگہ میں ڈال دیا اللہ تعالیٰ نے ان پر کدو کی بیل کو اگا دیا۔ ہم نے کہا اے ابوہریوہ ! یقطین “ کیا ہے ؟ فرمایا : کدو کا درخت پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ایک جنگلی بکری تیار کی۔ جو زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی تھی اور آپ کے سامنے ٹانگوں کو پھیلا دیتی۔ اور صبح شام آپ کو دودھ پلاتی۔ یہاں تک کہ تندرست ہوگئے۔ اسلام سے پہلے ابن ابی الصلت نے یہ شعر کہے : فانبت یقطیناعلیہ برحمۃ من اللہ لولا اللہ الفی ضاحیا : ترجمہ : پس رب تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان پر کدو کی بیل اگا دی اگر نہ ہوتی اللہ تعالیٰ کی رحمت تو کوئی چیر پھاڑ کرنے والا درندہ پاتے۔ 39:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین “ (اور ہم نے اس پر اگادیا ایک درخت کدوگا) میں (آیت ) ” من یقطین “ سے مراد کدو ہے۔ 40:۔ ابن ابی شیبہ (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) (رح) علیہ وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ سے مراد کدو کا درخت ہے۔ 41:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ یہ کدو تھا جیسے تم دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یونس (علیہ السلام) پر اگایا جس سے وہ کھاتے تھے۔ 42:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ سے مراد ہے کدو۔ 43:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) اور سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” علیہ شجرۃ من یقطین “ سے مراد ہے کدو۔ 44:۔ دیلمی (رح) نے حسن بن علی ؓ سے مرفوع روایت کی کہ کھاؤ کدو کو اگر اللہ عزوجل جانتے اس سے زیادہ ہلکا کوئی درخت تو اس کو یونس (علیہ السلام) پر لگاتے اگر تم میں سے کوئی شور با بنائے تو اس میں کدو کو زیادہ کردے کیونکہ وہ دماغ اور عقل کو زیادہ کرتا ہے۔ 45:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کدو کا درخت اگایا حضرت یونس (علیہ السلام) اس کا کوئی پتہ نہ لیتے اور اس کو پکڑتے تو وہ آپ کو دودھ پلاتا یا فرمایا آپ نے اس سے جتنا عرصہ چاہا دودھ پیا یہاں تک کہ آپ طاقتور ہوگئے۔ 46:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین “ سے مراد ہے کدو یا اس کے علاوہ ایسا درخت جس کا تنا نہ ہو۔ 47:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین “ سے مراد ہے ہر وہ چیز جو اگے پھر ایک سال میں مرجائے (یعنی ختم ہوجائے) 48:۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی پرواہ نہیں تربوز کدو میں سے ہے ہر وہ چیز جو زمین کی سطح پر پھیلتی ہے (اس کو یقطین کہتے ہیں) 49:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہر درخت جس کا تنانہ ہو وہ یقطین میں سے ہے اور وہ زمین کی سطح پر پھیلتا جاتا ہے (جیسے) تربوز اور ککڑی میں سے۔ 50:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آپ سے یقطین کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ کدو ہے ؟ انہوں نے فرمایا لیکن وہ درخت جس کا اللہ تعالیٰ (آیت) ” من یقطین “ نام رکھا جس نے ان پر سایہ کیا تھا۔ 51:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وارسلنہ “ (کہ ہم نے ان کو نبی بنا کر بھیجا) مچھلی کے نگلنے سے پہلے۔ 52:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ و قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وارسلنہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالنے سے پہلے نینوی والوں کے پاس بھیجا جو موصل کا علاقہ ہے۔ 53:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کو اس وقت نبی بنا کر بھیجا جب مچھلی نے ان کو پھینکا تھا پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی (آیت) ” فنبذنہ بالعرآء “ سے لے کر (آیت ) ” وارسلنہ الی ماءۃ الف “ تک۔ 54:۔ الترمذی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” وارسلنہ الی ماءۃ الف اویزیدون “ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ وہ بیس ہزار (سے) زائد تھے۔ 55:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویزیدون “ سے مراد ہے کہ وہ تیس ہزار سے زائد تھے۔ 56:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا نے کتاب العقوبات میں وابن ابی حاتم (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اویزیدون “ سے مراد ہے کہ وہ تیس ہزار سے زائد تھے۔ 57:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی ماءۃ الف اویزیدون “ سے مراد ہے کہ وہ ایک لاکھ اور چالیس ہزار سے زائد تھے۔ 58:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی ماءۃ الف اویزیدون “ سے مراد ہے کہ وہ (ایک لاکھ سے) ستر ہزار زیادہ تھے۔ 59:۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے نوف (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الی ماءۃ الف اویزیدون “ سے مراد ہے کہ (ایک لاکھ سے) ان کی زیادتی (صرف) ستر تھی۔ 60:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فامنوا فمتعنھم الی حین “ (وہ ایمان لائے تو ہم نے ان کو نفع دیا) موت تک۔