33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو 1 ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی سو اللہ نے انہیں اس بات سے بری کردیا جو ان لوگوں نے کہی تھی اور موسیٰ اللہ کے نزدیک باوجاہت تھے

1۔ عبدالرزاق واحمد وعبد بن حمید والباری والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) بڑے حیادار اور با پر دہ انسان تھے ان کے حیا کی وجہ سے ان کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا یعنی بنی اسرائیل کے لوگوں نے آپ کو اذیت دی یہ پردے کا اہتمام اس لیے کرتا ہے کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے۔ ان کو برص کی بیماری ہے یا خصیتین سوتے ہوئے ہیں یا کوئی اور مرض ہے انہوں نے جو بات کی تھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اس سے بری کرنے کا ارادہ کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک روز غسل کرنے کے لیے موسیٰ نے تنہائی میں کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دئیے پھر غسل فرمایا غسل کے بعد جب کپڑے لینے کے لیے ہاتھ بڑھایاتو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا آپ لاٹھی لے کر پتھر کے تعاقب میں دوڑے اور کہنے لگے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے۔ آخر پتھر بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تک آپ پہنچا لوگو نے آپ کو برہنہ دیکھ لیا کہ اللہ کی مخلوق میں بہت خوبصورت ہیں۔ اور وہ جو باتیں کرتے ہیں ان سے بری ہیں۔ پتھر ٹھہر گیا موسیٰ نے کپڑے پہن لیے اور لاٹھی سے پتھر کو مارنے لگا خدا کی قسم 1 آپ کے مارنے کی وجہ سے پتھر سے تین یا چار یا پانچ دفعہ رونے کی آواز آئی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ 2۔ البزار وابن الانباری نے المصنف میں وابن امردویہ نے ان سؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) حیاء والے آدمی تھے وہ غسل کرنے کے لیے پانی کے پاس آئے اپنے کپڑوں کو اتار کر ایک پتھر پر رکھ دئیے اور وہ اپنی شرم گاہ کبھی ظاہر نہیں کرتے تھے بنی اسرائیل نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی بیماری ہے اسی وجہ سے وہ کپڑے لوگوں کے سامنے نہیں اتارتے پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگا یہاں تک کہ وہ پتھر بنواسرائیل کی مجالس کے سامنے آگیا ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام لوگوں سے خوبصورت ترین حالت میں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تکونوا کا لازین اٰزوا موسیٰ فبرأ ہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیہا اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح سے نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیفیں دیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بری کردیا باتوں سے جو انہوں نے کہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک آبروا والے تھے 3۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ بن عمران جب وہ پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تھے تو اپنے کپڑوں کو نہ اتارتے یہاں تک کہ ان کی شرم گاہ پانی میں پوشیدہ رہتیں۔ 4۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لاتکونوا کالذین اٰذوا موسیٰ کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی ان کی قوم نے ان سے کہا کہ ان کے خصیوں میں کوئی خرابی ہے اس یے اپنی شرم گاہ چھپائے رکھتے ایک دن موسیٰ غسل کرنے کے لیے نکلے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ ئیے۔ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ موسیٰ اس کے پیچھے ننگے ہی دوڑنے لگے یہاں تک کہ وہ پتھر کپڑوں کے ساتھ بنی اسرائیل کی مجالس تک جا پہنچا ان لوگوں نے دیکھا کہ ان کو خصیتین میں کوئی مرض نہیں تھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فبرأ ہ اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجیہا۔ 5۔ ابن منیع وابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم والحاکم وصھحہ وابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے آیت کالذین اٰذوا موسیٰ فبرأ ہ اللہ مما قالوا کے بارے میں فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پہار پر چرھے ہارون وفات پاگئے تو بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا آپ نے ان کو تقل کیا وہ تجھ سے زیادہ ہم سے محبت کرتے تھے اور بہت نرم مزاج والے تھے اس وجہ سے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی تو اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا تور فشتوں نے حضرت ہارون کی تو اس طریقہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس الزام سے بری کردیا۔ وہ فرشتے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی میت کو لے گئے اور ان کو دفن کردیا ان کی قبر کا سوائے گدھوں کے کسی کو علم نہیں تھا الہ تعالیٰ نے اسکو بہرا اور گونگا بنادیا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی وفات 6۔ الحاکم (وصححہ) سدی کے طریق نے ابو طالب سے اور انہوں نے ابو مالک ؓ ، ابن عباس ؓ مرہ اور ابن مسعود اور صحابہ کی ایک جماعت ؓ سے روایت کیا کہ الہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میں ہارون کو فوت کرنے والا ہوں اس کو فلاں پہاڑ پر لے آؤ دونوں پہار کی طرف چلے اچانک وہاں ایک درخت تھا اور اس میں ایک گھر تھا جس میں ایک پلنگ تھا اور عمدہ خوشبو تھی ہارون (علیہ السلام) نے جب اس پہاڑ اور اس مکان کی طرف دیکھا اور جو کچھ اس میں تھا ان کو بہت پسند آیا اور فرمایا اے موسیٰ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اس پلنگ پر سوجاؤں موسیٰ نے فرمایا سو جائیے ہارون نے فرمایا کہ آپ بھی میرے ساتھ سوئیے جب دونوں سو گئے تو ہارون (علیہ السلام) کو موت آگئی جب ان کو موت آگئی تو وہ گھر درخت اور پلنگ کو آسمان کی طرف اٹھالیا گیا جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی طرف واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ آپ نے ہارون (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے اور آپ اس سے حسد کرتے تھے جو بنی اسرائیل ان سے محبت کرتے تھے حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کا زیادہ دفاع کرتے تھے اور ان سے نرمی کا برتاؤ کرتے تھے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) اس بارے میں بعض دفعہ ان پر سختی کا معاملہ فرماتے تھے جب یہ بات ان کو پہنچی تو فرمایا افسوس تم پر وہ میرا بھائی تھا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے اس کو قتل کیا جب انہوں نے زیادہ باتیں کیں تو آپ (علیہ السلام) نے دو رکعت پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو فرشتے اس چارپائی کو لے کر نازل ہوئی یہاں تک کہ ان لوگوں نے آسمان اور زمین کے درمیان اس کی طرف دیکھا اور تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کی۔ 7۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح اتارا آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تکونوا کالذین اٰذوا موسیٰ فبرأہ اللہ مماقالوا۔ (اے ایمان والو ! اپنے نبی کو تکلیف نہ دو جیسے ان لوگوں نے تکلیف دی موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے ان کو بری کردیا اس بات سے جو ان لوگوں کہی یعنی نہ تکلیف دو محمد ﷺ کو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ کو تکلیف دی۔ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانا 8۔ البخاری ومسلم وابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ مال لوگوں کو تقسیم فرمایا تو ایک آدمی نے کہا یہ تقسیم ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا کا ذکر نبی ﷺ کے سامنے کیا گیا یہ سنتے ہی آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحمت فرمائے کہ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکان عنداللہ وجیہا سے مراد ہے کہ وہ مستجاب الدعا تھے 10۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ ان لوگوں سے بیان کرتے ہی جنہوں نے ان کو بیان کیا کہ آتی وکان عنداللہ وجیہا سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی بھی اپنے رب سے کسی چیز کا سوال نہیں کیا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمادیا ہے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے دیدار کی درخواست کی تھی اسے قبول نہیں فرمایا۔
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کہو اللہ تمہارے اعمال کو صحیح بنا دے

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے سو وہ کامیاب ہوگیا بڑی کامیابی کیک ساتھ

2۔ احمد نے الزہد وابو داوٗ دنے مراسیل میں عروہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر اکثر یہ فرمایا کرتے تھے آیت اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور درست بات کہو۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے کتاب التقوی میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوتے تھے تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا۔ 4۔ سمویہ نے اپنے فوائد میں سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تھے یا ان کو کچھ سکھاتے تھے تو اس آیت کی تلاوت ضرور فرماتے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدید سے لے کر آیت فقد فاز فوزا عظیما تک۔ 5۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی بھی منبر پر تشریف فرما ہوتے تو اس آیت کی تلاوت فرماتے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا تقوا اللہ وقولو قولا سدیدا 6۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” قوالا سدید کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے انصاف والی سچی بات پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حمزہ بن عبدالمطلب ؓ کا قول نہیں سنا۔ امین علی ماستودع اللہ قلبہ فان قال قولا کان فیہ مسدد ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے جو ان کے سینے میں ودیعت کیا ہے اس پر امانت دار ہیں اگر آپ کوئی بات کریں تو اس میں درست اور حق ہوتے ہیں۔ 7۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جر یر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقولوا قولا سدید سے مراد ہے کہ تم کہو آیت لا الہ الا اللہ۔ 11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آہیت وقولوا قولا سدید سے مراد ہے کہ تم کہولا الہ الا اللہ۔ 11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقولوا قولا سدید سے مراد ہے کہ تم کہو لا الہ الا اللہ۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے امانت پیش کی سو انہوں نے اس کی ذمہ داری سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اپنے ذمہ لے لیا بیشک وہ ظلوم ہے جہول ہے

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ اللہ منافقوں کو اور منافقات کو اور مشرکوں کو مشرکات کو سز ادے اور مومنین اور مومومنات پر توجہ فرمائے اور اللہ غفور ہے رحیم ہے

احکام الٰہیہ کو قبول کرنے کی امانت 1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی کتاب الاضداد میں ابن عباس ؓ سے اس آیت انا عرضنا الامانۃ کے بارے میں روایت کیا کہ امانت سے مراد ہے فرائض اللہ تعالیٰ نے اس کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا اگر وہ اس کو ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بدلہ عطا فرمائیں گے۔ اور وہ اس کو ضائع کریں گے تو ان کو عذاب دوں گا تواں ہوں نے اس بات کو ناپسند کیا اور وہ ڈر گئے بغیر نافرمانی کے لیکن اللہ تعلایٰ کے دین کی عظمت کی خاطر کہ اسے بجا نہیں لائیں گے ایسا کہا پھر ان کو آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا تو انہوں نے اس کو قبول کرلیا ان میں جو مشقتیں تھی اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وحملہا النسان انہ کان ظلوما جہولا اور انسان نے اس امانت کو اٹھالیا بیشک وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا اللہ تعالیٰ کے امر کے بارے میں وہ دھوکے میں مارے گئے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض کہ ہم نے امانت کو آسمان اور زمین پر پیش کیا امانت سے مراد ہے وہ احکام ہیں جن کا انسان کو حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا اور آیت وحملہا الانسان یعنی انسان سے مراد ہیں وہ احکام جن کا انسان کو حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا۔ اور وحملہا الانسان یعنی انسان سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو پیش کیا آسمان دنیا پر اس نے انکار کیا پھر اس آسمان پر پیش کیا جو اس کے ساتھ تھا یہاں تک کہ تمام آسمانوں سے فارغ ہوگئے پھر زمین پر اس امانت کو پیش کیا پھر آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا انہوں نے اسے قبول کرلیا اور کہا میرے کانوں اور میرا گردن کے درمیان رکھ دیجیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن کا تجھے حکم دیا گیا بلاشبہ وہ تیرے لیے مددگار ہوں گے میں نے تیری آنکھیں اور دو پردے بنائے ہیں اور جس چیز سے تجھے منع کیا گیا اس سے اس کو بند رکھنا اور ہم کو تیرے لیے بنایا ہے زبان کو درمیان دو جبروں کے اور اس کو روک دینا ہر اس چیز سے کہ جس سے ہم نے تجھ کو منع کیا ہے اور میں نے تیری شرم گاہ بنائی ہے اور میں نے اس کو چھپادیا ہے اس کو نہ کھولنا جس کو میں نے تجھ پر حرام کردیا ہے۔ 4۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے جب آسمانوں کو زمین کو اور پہاڑوں کو پیدا فرمایا تو کہا میں فرائض لازم کرنے والا ہوں اور پیدا کرنے والا ہوں جنت اور دوزخ کو اور پیدا کرنے والا ہوں ثواب کو جو میری اطاعت کرے گا اور عذاب کو جو میری نافرمانی کرے گا آسمان نے کہا مجھے آپ نے پیدا فرمایا اور میرے اندر آپ نے سورج کو، چاندکو، ستاروں کو، بادلوں کو، ہوا کو اور بارش کو مسخر کردیا جن چیزوں کو آپ نے پیدا فرمایا اور مجھے کام میں لگایا میرے اندر نہروں و جاری کیا اور میرے اندر سے پھلوں کو نکالا اور آپ نے مجھے پیدا فرمایا کہ جس چیز کے لیے آ نے چاہا میں ان تمام چیزوں کے لیے مسخر ہوں کہ جن کاموں کے لیے آپ نے مجھے پیدا فرمایا میں فریضہ کو نہیں اٹھا سکتی مجھے ثواب اور سزا کی کوئی ضرورت نہیں اور پہاڑوں نے کہا مجھے آپ نے زمین کے لیے میخیں بنایا اور میں اس پر قائم ہوں کہ جس کے لیے آپ نے مجھے پیدا فرمایا میں فریضہ کو نہیں اٹھا سکتا اور مجھے ثواب اور سزا کی کوئی ضرورت نہیں جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو اس پر امانت کو پیش کیا تو انہوں نے اس کو اٹھالیا آیت انہ کان ظلوما کیونکہ وہ ظلم کرنے والا تھا اس نے اپنے گناہوں میں اپنے آپ پر ظلم کیا ” جہولا “ (کہ وہ جاہل ہے) اپنے انجام سے جو اس نے اٹھایا۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آسمان کو، زمین کو، اور پہاڑوں کو پیدا فرمایا تو امانت کو ان پر پیش کیا مگر انہوں نے اس کو قبول نہ کیا جب آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے تو ان پر اس امانت کو پیش کیا تو عرض کیا اے میرے رب وہ امانت کیا ہے ؟ فرمایا یہ ہے کہ اگر تو نیک کام کرے گا تو میں تجھ کو اجر دوں گا اور اگر تو برا کام کرے گا تو تجھ کو عذاب دوں گا آدم نے کہا اے میرے رب میں نے اٹھایا لیا تو کہا گیا کہ تو اسے اٹھانے والا نہیں تھا مگر یہ کہ میں نے تجھے اتنے وقت کے لیے پیدا کیا جو ظہر اور عصر کے درمیان ہے۔ امانت پیش کرنے کا طریقہ 6۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جرری وابن منذر وابن ابی حاتم وابن انباری نے اضداد میں اور حاکم نے ھضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت انا عرضنا الامانۃ کے بارے میں فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) پر امانت کو پیش کیا گیا اور کہا گیا اس کو لے لو جو اس کے اندر ہے اگر تو نے اطاعت کی تو میں تجھ کو بخش دوں گا اور اگر تو نے نافرمانی کی تو میں تجھے عذاب دوں گا عرض کیا میں نے اس کو قبول کرلیا ان تمام چیزوں کے ساتھ جو اس امانت میں ہے تو اتنا عرصہ تھا جتنا کہ اس دن کے ظہر اور رات کے درمیان ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ گناہ کو اپنائے۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ابن اشوع (رح) سے روایت کیا کہ ان پر عمل کو پیش کیا گی اور ان کے لیے ثواب کو بنادیا گیا تو وہ تین دن اور تین راتیں اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتی رہیں۔ سب نے عرض کیا اے ہمارے رب ہمیں عمل کرنے کی طاقت کا نہیں اور ہم ثواب کو بھی نہیں چاہتے۔ 8۔ ابوعبید وابن المنذر نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے محمد بن کعب کو عامل بنانا چاہاتو انہوں نے انکار کیا تو عمر نے فرمایا کیا تو میری نافرمانی کرتا ہے ؟ عرض کیا اے امیر المومنین مجھے خبر دی گئی جب اللہ تعالیٰ نے امانت کو پیش کیا آیت الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنہا واشفقن منہا کیا تو کیا انکار کرنے والوں نے نافرمانی کی تھی ؟ فرمایا نہیں تو میرے انکار پر کونسی نافرمانی ہوگئی تو اس پر ان کو چھوڑدیا۔ 9۔ عبد بن وابن جریر ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میں نے پیش کیا امانت کو آسمانوں پر زمین پر پہاڑوں پر وہ اس کے اٹھانے کی تاب نہ لاسکے کیا تو اس کو اٹھانے کے لیے تیار جو اس کے اندر ہے آدم نے عرض کیا اس میں کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تو اس کو اتھالے گا تو میں اجر دوں گا اور اگر تو نے اس کو ضائع کیا تو میں عذاب دوں گا آدم نے کہا جو کچھ اس میں ہے میں نے اس کو اٹھالیا آدم (علیہ السلام) نے جنت میں عبور نہیں کیا تھا۔ اول دن سے عصر تک کے واق کو ابلیس نے ان کو جنت سے نکلوادیا ضحاک سے پوچھا گیا امانت کیا تھی ؟ فرمایا وہ فرائض ہیں اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ کسی مومن اور ذمی سے معاملہ کرتے وقت ملاوٹ نہ کرے۔ خواہ چیز تھوڑی ہو یا زیادہ ہو جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنی امانت میں خیانت کی اور جس نے فرائض میں کچھ کم کیا تو اس نے اپنی امانت میں خیانت کی۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال میں امانت سے مراد ہے دین فرائض اور حدود آیت فابین ان یحملنہا واشفقن منہا انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے ان سے کہا گیا کہ تم اس امانت کو اٹھاؤ اور اس کا حق ادا کرو تو انہوں نے کہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے اور انسان نے اس کو اٹھالیا۔ اس سے کہا گیا تو اس کو اٹھائے گا اس نے کہا ہاں ! کیا گیا کیا تو اس کا حق ادا کرے گا ؟ اس نے کہا میں اس کی طاقت رکھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انہ کان ظلوم جہولا یعنی وہ اس میں طلم کرنے وال اور اس کے حق سے جاہل تھا آیت لیعذب اللہ المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت نہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کی خیانت کی آیت ویتوب اللہ علی المومنین والمومنات یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کا حق ادا کیا آیت وکان اللہ غفورا رحیما اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہے 11۔ عبد بن حمید وابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا عرضنا الامانۃ سے مراد ہے فرائض۔ 12۔ الفریابی نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا عرضنا الامانۃ سے مراد ہے دین۔ 13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امانتیں تین ہیں نماز، روزہ اور غسل جنابت 14 الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم والبیہقی نے اپنی سنن میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ امانت میں سے یہ بھی ہے کہ عورت حفاظت کرے اپنی شرم گاہ کی۔ 15۔ ابن ابی الدنیا نے الورع میں والحکیم الترمذی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں سے سب سے پہلے اس کی شرم گاہ کو پیدا فرمایا پھر فرمایا یہ میری امانت ہے تیرے پاس اسے اس کے حق کے سوا ضائع نہ کرنا تو شرم گاہ امانت ہے، کان امانت ہیں اور آنکھیں امانت ہیں۔ 16۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ امانت کے ضائع کرنے میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی کسی کے گھروں اور کمروں میں نظر ڈالے۔ 17۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبردار امانت اور خیانت کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو کوئی بات بیان کرے اور اس سے کہے کہ اس کو میری طرف پوشیدہ رکھنا مگر وہ اس کو ظاہر کردے۔ امانت جس کے متعلق سوال ہوگا 18۔ احمد وعبد بن حمید ومسلم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہان (پوچھی جانے والی) عظیم امانت میں سے یہ ہے کہ مرد اپنی عورت اور عورت اپنے مرد تک رسائی حاصل کرے پھر وہ اس کے راز کو فاش کردے۔ 19۔ الطبرانی واحمد وعبد بن حمید نے ابوداوٗ والترمذی واب یعلی والبیہقی والضیاء نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آدمی کوئی بات کرے پھر دائیں بائیں متوجہ ہو تو وہ بات امانت ہے۔ 20۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیعذب اللہ المنافقین (تاکہ اللہ تعالیٰ منافقین کو عذاب دے) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظلم کیا اور جنہوں نے اس کی خیانت کی اور وہ دونوں منافق اور مشرک ہیں۔ 21۔ ابن جریر نے ضعیف سند کے ساتھ حکیم بن عمیر ؓ سے روایت کیا اور وہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ امانت اور وفا ابن آدم پر نازل ہوئے انبیاء کے ساتھ ان کے ساتھ ان کو بھیجا گیا ان میں سے اللہ کے رسول ہیں اور ان میں سے نبی ہیں اور ان میں سے اللہ کے رسول اور نبی ہیں۔ قرآن نازل ہوا جو اللہ کی کلام ہے عربی اور عجمی زبانیں نازل ہوئیں۔ انہوں نے قرآن کے حکم کا علم حاصل کیا اور انہوں نے سنتوں کے امر کو اپنی زبانوں سے جانا اور وہ جو کام کرتے ہیں اور جن سے اجتناب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی چیز کو نہیں چھوڑے گا یہ ان کے خلاف دلائل ہیں مگر میں نے ان کے لیے بیان کیں اہل زبان قبیح سے اچھی چیز کو جانتے ہیں پھر امانت پہلی چیز ہوگی جو اٹھالی جائے گی اور لوگوں میں اس کا اثر باقی رہے گا پھر وفا، وعدہ اور ذمہ داریاں اٹھالی جائیں گی صرف عالم کتابیں رہ جائیں گی جن کو جانیں گے اور جاہل اسے پہچانے گا اور ان کا انکار کرے گا وہ اسے نہیں اٹھائے گا یہاں تک کہ معاملہ مجھ تک اور میری امت تک پہنچ جائے گا اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف ہلاک ہونے والا ہلاک ہوگا اور صرف ترک کرنے والا غافل ہوگا۔ اے لوگو بچو وسوسہ پیدا کرنے والے چھپ جانے والے شیطان سے بچو۔ بیشک اللہ تعالیٰ تم کو آزمائے گا کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے کون اچھا ہے (واللہ اعلم)