Ayah 33:561۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یصلون سے مراد ہے کہ وہ برکت حاصل کرتے ہیں۔
2۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی صلاۃ سے مراد ہے فرشتوں کے سامنے نبی اکرم ﷺ کی تعریف ہے اور فرشتوں کی صلاۃ سے مراد نبی اکرم ﷺ کے لیے دعا ہے۔
3۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ فی العظمۃ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کیا تیرا رب درود بھیجتا ہے تو ان کے رب نے پکارا اے موسیٰ اگر وہ لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کیا تیرا رب درود بھیجتا ہے ؟ تو کہہ دو ہاں میں بھی اور میرے فرشتے بھی میرے نبیوں پر اور میرے رسولوں پر درود بھیجتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی (کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں)
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے آیت ان اللہ وملئکتہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے اس آیت کی وجہ سے آپ کو مبارک بادیں دینی شروع کی اور ابی بن کعب ؓ نے فرمایا نہیں اتارا گیا آپ کے بارے میں خیر کو مگر ہم سب اس میں آپ کے ساتھ شریک ہوئے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت وبشر المومنین (کہ آپ بھی ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیں کہ تمہاری مبارک بادیں دینے پر تم کو بھی خوشخبری ہو جنت کی ) ۔
5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا درود بھیجنا نبی صلی اللہ لعیہ ولسم پر وہ ان کی مغفرت مراد ہے کیو کہ اللہ تعالیٰ درود نہیں بھیجتے لیکن مغفرت فرماتے ہیں لیکن لوگوں کو نبی ﷺ پر صلاۃ سے مراد آپ کے لیے مغفرت کو طلب کرنا ہے۔
6۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تو آیت صلوا علیہ کما ﷺ و تسلیما (یعنی تم ان پر درود بھیجو جیسے کہ درود ان پر بھیجا گیا اور خوب سلام بھیجو۔
7۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت آیت ان اللہ وملئکتہ یسلون علی النبی، یا ایہا الذین اٰمنوا صلو علیہ وسلم وا تسلیما نازل ہوئی تو ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ہم نے آپ پر سلام کہنا تو سیکھ لیا اور آپ پر صلوۃ بھیجنے سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
8۔ ابن جریر نے یونس بن خباب (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو فارس کے ایک آدمی نے خطبہ دیا اور اس آیت ان اللہ وملئکتہ کے بارے میں کہا کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے ابن عباس سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم نے آپ پر سلام کہنے کو جان لیا مگر آپ درود کس طرح سے پہنچائیں ؟ تو آپ نے فرمایا اس طرح کہو اللہم صل علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
9۔ ابن جریر نے ابراہیم (رح) سے آیت ان اللہ وملئکتہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ اس سلام کو تو ہم نے پہچان لیا لیکن آپ پر صلاۃ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا یوں کہو۔ اللہم صل علی محمد وعلیٰ اٰل محمد عبدک ورسولک واہل بیتہ کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید وارحم محمد وعلیٰ اٰل محمد کما رحمت اٰل ابراہیم انک حمید مجید وبارک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
10۔ ابن جریر نے عبدالرحمن بن ابی کثیر بن ابی مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ پر سلام کو ہم نے پہچان لیا ہے مگر آپ پر درود کیسے ہوگا۔ حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردئیے گئے ؟ آپ ﷺ نے عرض فرمایا کہو اللہم صل علی محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم اللہم وبارک علی محمد کما بارکت علی ابراہیم۔
11۔ عبدالرزاق نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت کیا کہ وہ نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں وہ کہا کرتے تھے۔ اللہم صل علی محمد وعلی اہل بیتہ وعلی ازواجہ وذریتہ کما صلیت علی ابراہیم اٰ ل ابراہیم انک حمید مجید وبارک علی محمد وعلی اہل بیتہ وعلی ازواجہ وذریتہ کما بارکت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
12۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ آپ پر سلام کو تو ہم نے جان لیا مگر آپ پر صلوۃ پیش کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ فرمایا یوں کہوں اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید اللہم وبارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابارہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید۔
13۔ ابوداوٗد وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات خوش (اچھی) لگے کہ (اس کے ثواب کو) پورے پیمانے کے ساتھ ناپا جائے تو ایسا جب ہوگا جب وہ ہمارے اہل بیت پر درود بھیجے گا۔ اس کو چاہیے یوں کہے آیت اللہم صل علی محمد النبی وازواجہ وذریتہ واہل بیتہ کما صلیت علی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
14۔ ابن عدی نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ خوش لگے کہ اس کے ثواب کو پورے پیمانے کے ساتھ ناپا جائے تو ایسا جب ہوگا جب وہ ہمارے اہل بیت پر درود بھیجے گا اس کو چاہیے کہ یوں کہے ” اللہم اجعل صلواتک ورحمتک علی محمد وازواجہ وذریتہ وامہات المومنین کماصلیت علی ابراہیم انک حمید مجید۔
15۔ الدارقطنی فی الافراد وابن النجار فی تاریخہ ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور سلام کیا نبی ﷺ نے اس کو جو اب دیا اور خندہ پیشانی کا اظہار فرمایا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھایا جب اس آدمی نے اپنی حاجت پوری کرلی تو وہ اٹھ گیا نبی ﷺ نے اس کو جواب دیا اور خندہ پیشانی کا اظہار فرمایا اور اس کو اپنے پہلو میں بٹھایا جب اس آدمی نے اپنی حاجت پوری کرلی تو وہ اٹھ گیا نبی ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ! یہ آدمی وہ ہے جس کے اتنے اعمال بلند کیے جاتے ہیں جتنے تمام زمین والون کے اعمال بلند کیے جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا ایسا کیوں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب بھی صبح ہوتی ہے کہ یہ مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے ساری مخلوق کی درود کی طرح میں نے عرض کیا وہ کیا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں آیت اللہم صل علی محمد النبی عدد من صل علیہ من خلقک وصل علی محمد النبی کما ینبغی لنا ان نصلی علیہ وصل علی محمد النبی کما امرتنا ان نصلی علیہ (اے اللہ درود بھیج محمد پر جو نبی ہیں اس تعداد کے برابر جو آپ کی مخلوق میں ان پر درود بھیجتا ہے اور درود بھیج محمد پر جو نبی ہیں جیسے ہم کو چاہیے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں اور درود بھیجتے ہیں محمد پر جو نبی ہیں جیسے ہم کو چاہیے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں اور درود بھیجتے ہیں محمد پر جو نبی ہیں جیسے ہم کو حکم دیا گیا کہ ہم آپ پر درود بھیجیں۔
16۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید قراءت وابن ابی حاتم الشافین وابن مردویہ نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت کیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! آپ پر درود کس طرح پیش کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا یوں کہہ اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
17۔ ابن جریر نے طلحہ بن عبیداللہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی آپ پر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے ؟ فرمایا یوں کہہ اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید وبارک علی محمد وعلی اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
18۔ ابن جریر نے کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی نازل ہوئی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ پر سلام کو تو ہم نے پہچان لیا مگر یارسول اللہ ! آپ پر درود پیش کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید وبارک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
19۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والبخاری والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے اوب سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے کہا یارسول اللہ ! کہ آپ پر سلام کو تو ہم نے جان لیا ہے مگر آپ پر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا یوں کہو ” اللہم صل علی محمد عبدک ورسولک کما صلیت وعلی اٰل ابراہیم وبارک علی محمد وعلی اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم “
20۔ عبد بن حمید والنسائی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کس طرح ہم آپ پر درود پڑھیں آپ ﷺ نے فرمایا یوں کہو اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد وبارک علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت وبارکت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم فی العلمین انک حمید مجید اور سلام کا طریقہ تو وہی ہے تو جان چکے ہو۔
21۔ مالک وعبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابوداوٗد والترمذی والنسائی وابن مردویہ نے ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا کہ بشیر بن سعید نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں تو ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں ؟ آپ ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے تمنی کی کہ ہم آپ سے سوال نہ کرتے پھر آپ نے فرمایا یوں کہو اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وبارک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم فی العالمین انک حمید مجید اور سلام تو اس طرح جو تم جان چکے ہو۔
22۔ مالک واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوئد والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہنے ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یوں ہو۔ اللہم صل علی محمد وازواجہ وذریتہ کما صلی تعلی ابراہیم وبارک علی محمد وازواجہ وذریتہ کما بارکت علی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
23۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں ؟ آپ نے فرمایا یوں کہو ” اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ ابراہیم انک حمید مجید “
24۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم نے جان لیا کہ کس طرح آپ پر سلام کریں مگر ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو اللہم صلواتک وبرکاتک علی اٰل محمد کما جعلتہا علی ابراہیم انک حمید مجید۔
25۔ ابن ابی شیبہ نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی نماز میں کہے آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی۔ تو اس کو چاہیے کہ آپ پر درود بھی بھیجے۔
26۔ ابن ابی شیبہ نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب کوئی آدمی نماز میں کہے آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی، تو اس کو چاہیے کہ آپ پر درود بھی بھیجے۔
26۔ ابن خزیمہ والحاکم وصححہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید عقبہ بن عمرو سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ آپ پر سلام کو تو ہم نے پہچان لیا ہے مگر ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں تو نبی ﷺ خاموش ہوگئے پھر فرمایا جب تم مجھ پر درود بھیجو تو یوں کہو اللہم صل علی محمد النبی الامی وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم وبارک علی محمد النبی الامی وعلی اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
27۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی تشہد پڑھے پھر نبی ﷺ پر درود بھیجے پھر اپنی ذات کے لیے دعا کرے۔
28۔ البخاری فی الادب المفرد وابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس مسلمان آدمی کے پاس صدقہ کا مال نہ ہو اس کو چاہیے کہ اپنی دعا میں یوں کہے، اللہم صل علی محمد عبدک ورسولک وصل علی ان والمومنین والمومنت والمسلمین والمسلمت۔ کیونکہ یہ عمل اس کے لیے زکوٰۃ بن جائے گا۔
29۔ البخاری فی الادب المفرد ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے یوں کہا اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم وبارک علی محمد وعلی اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم علی اٰل ابراہیم وترحم علی محمد وعلی اٰل محمد ترحمت علیٰ ابراہیم واٰل ابراہیم شہدت لہ یوم القیمۃ باشہادۃ وشفعت لہ۔ تو میں اس کے لیے قیامت کے دن گواہی دوں گا اور اسکے لیے سفارش کروں گا۔
30۔ البخاری فی الادب انس ومالک بن اوس بن حدثان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور فرمایا جو شخص ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجے گے اور اسکے لیے دس درجات بلند کریں گے۔
درود شریف کی فضیلت
31۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری فی الادب انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجے گا اور اس سے دس گناہ مٹا دے گا۔
33۔ البخاری فی الادب ومسلم وابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر کے اوپر چڑھے جب پہلے درجے پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر دوسرے درجے پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر تیسرے درجے پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ صحابہ نے یارسول اللہ ہم نے آپ سے سنا کہ آپ نے تین مرتبہ آمین کہا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب میں پہلے درجہ پر چڑھا میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا وہ بندہ بدبخت ہے۔ جس نے رمضان کا مہینہ پایا۔ وہ گزر گیا کہ اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے کہا اٰمین پھر جبرئیل نے فرمایا وہ بندہ بدبخت ہے جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے ایک کو پایا اور انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔ میں نے کہا آمین۔ پھر جبرئیل نے فرمایا وہ بندہ بدبخت ہے کہ جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا میں نے کہا آمین۔
34۔ البخاری فی الادب ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا آمین، آمین، آمین پوچھا گیا یارسول اللہ ! آپ تو ایسا نہیں کرتے تھے (یعنی پہلے آپ آمین نہیں کہتے تھے) اب آپ نے کیوں کہی ؟ آپ ﷺ نے یہ بددعا کی وہ آدمی ذلیل ورسوا ہو جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے ایک کو پایا اور اس نے اسے جنت میں داخل نہ کیا۔ میں نے کہا آمین پھر جبرئیل نے کہا اس آدمی کی ناک مٹی میں ملے یعنی ذلیل ورسوا ہو جس پر رمضان کا مہینہ داخل ہوا اور اسکی مغفرت نہ ہوئی میں نے کہا آمین۔ پھر انہوں نے کہا اس آدمی کی ناک مٹی میں ملے اس کے پاس آپ ﷺ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے میں نے کہا آمین۔
درود وسلام کا طریقہ
35۔ ابن سعد واحمد والنسائی وابن مردویہ نے زید بن ابی خارجہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم نے جان لیا کہ آپ پر کس طرح سلام ہے مگر ہم آپ کو درود کیسے پیش کریں آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجو اور اس میں کوشش کرو اور پھر یوں کہو۔ اللہم بارک علی محمد وعلی اٰل محمد کما بارکت علی ابراہیم واٰل براہیم انک حمید مجید۔
36۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک نوجوان نے کہا یارسول اللہ آپ پر درود کا کیا طریقہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یوں کہو : اللہم صل علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم واٰل ابراہیم تو انصار میں سے ایک نوجوان نے کہا یارسول اللہ آل محمد کون ہیں ؟ فرمایا ہر مومن (میری آل میں سے ہے) ۔
37۔ احمد وعبد بن حمید وابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے کہا یارسول اللہ ! ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے پڑھیں لیکن ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا یوں کہو اللہم اجعل صلواتک ورحمتک وبرکاتک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما حملتہ علی ابراہیم انک حمید مجید۔
38۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے کہا یارسول اللہ ! ہم نے یہ بات جان لی کہ ہم آپ پر سلام کیسے پڑھٰں لیکن ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا یوں کہو۔ اللہم اجعل صلواتک ورحمتک وبرکاتک علی محمد وعلی اٰل محمد کما حملتہ علی ابراہیم انک حمید مجید۔
38۔ عبدالرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم مجھ پر ناموں اور ذاتوں کے ساتھ پیش کیے جاتے ہو مجھ پر اچھی طرح درود پڑھو۔
39۔ عبدالرزاق نے ابو طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو خوشی کی حالت میں پایا۔ میں نے کہا یارسول اللہ ! میں نے آج سے زیادہ آپ کو خوش اور اچھی طبیعت والا پایا جب سے میں نے آپ کو دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کونسی چیز مجھے خوش ہونے روک سکتی ہے۔ جبکہ جبرئیل (علیہ السلام) میرے پاس سے ابھی گئے ہیں اور مجھ کو خوشخبری دی ہے کہ ہر اس بندے کے لیے جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ اس سے مٹا دئیے جائیں گے اور اسکے لیے دس درجے بلند کردئیے جائیں گے اور مجھ پر اس طرح درود پیش کیا جاتا ہے جیسے اس نے کہا اور اسطرح اس کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جیسے اس نے دعا کی۔
40۔ عبدالرزاق نے ابن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یعقوب بن زید تیمی ؓ سے نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آنے والا میرے رب کی طرف سے میرے پاس آیا اور کہا کہ تجھ پر کوئی بندہ درود نہیں پڑھے گا مگر اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہی رحمتیں بھیجیں گے۔ اس آدمی نے کہا میں اپنی ساری دعاؤں کو آپ کے لیے مخصوص نہ کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تب تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے غموں کو کافی ہوجائے گا۔
41۔ الطبرانی وابن مردویہ وابن النجار نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ نے کہا یارسول اللہ اللہ کے اس قول کے بارے میں بتائیے آیت ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی آپ ﷺ نے فرمایہ پوشیدہ راز ہے اگر تو مجھ سے اس بارے میں سوال نہ کرتے تو میں تم کو نہ بتاتا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ دو فرشتوں کو مقرر فرمایا ہے۔ جس مسلمان بندہ کے پاس میرا ذکر کیا جاتا ہے اور وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ تیری مغفررت فرمائے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان دونوں فرشتوں کے جواب میں کہتے آمین اور جو مسلمان بندہ کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تیری مغفرت نہ کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان دونوں فرشتوں کے جواب میں آمین کہتے ہیں۔
42۔ مسلم واحمد ابو داوٗ دوالنسائی وابن حبان نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں بھیجتے ہیں۔
43۔ الترمذی وحسنہ نے ابن حبان نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سے مجھ سے زیادہ قریب قیامت کے دن وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھنے والے ہوں گے۔
44۔ احمد والترمذی وحسنہ وابن حبان نے ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں نے مجھ سے زیادہ قریب قیامت کے دن وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھنے والے ہوں گے۔
45۔ احمد والترمذی نے حسین بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخیل وہ ہے کہ جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔
46۔ ابن ماجہ نے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا تو وہ جنت کے راستے سے ہٹ گیا۔
47۔ الترمذی وحسنہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو یہ بات ان پر حسرت اور افسوس کا باعث ہوگی اگر اللہ چاہیں گے ان کو عذاب دیں گے اور اگر چاہیں گے تو بخش دیں گے۔
48۔ البیہقی فی شعب الایمان جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ اکٹھے ہوئے پھر وہ اللہ کا ذکر کیے بغیر اور نبی ﷺ پر درود پڑھے بغیر متفرق ہوگئے تو وہ بدبودار مردے سے کھڑے ہوئے ہیں۔
49۔ النسائی وابن ابی عاصم وابوبکر فی الغیلانیات والبغوی فی الجعدیات والبیہقی فی شعب اور الضیاء نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی قوم کسی مجلس میں نہیں بیٹھتی اور اس میں نبی ﷺ پر درود نہیں پڑھتے تو ان پر قیامت کے دن حسرت کا باعث ہوگی اگر وہ جنت میں داخل ہوجائیں تو ثواب نہ دیکھیں گے۔
50۔ البیہقی فی الشعب انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اس آدمی کی ناک مٹی میں ملے (یعنی رسوا ہو) جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے۔
51۔ القاضی اسمعیل نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخیل کے لیے یہ کافی ہے کہ کوئی قوم میرا ذکر کرے اور مجھ پر درود نہ بھیجیں۔
52۔ الاصفہانی نے الترغیب میں اور الدیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے قیامت کے دن قیامت کی ہولناکیوں سے زیادہ محفوظ ہوگا جو دنیا میں مجھ پر زیادہ درود پڑھنے والا ہوگا۔ البتہ اللہ اور اس کے فرشتے اس عمل کے لیے کافی تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس کے ساتھ خاص فرمادیا تاکہ ان کو اس عمل پر بدلہ دے۔
53۔ الخطیب فی تاریخہ والاصفہانی نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ پر درود بھیجنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ اور نبی ﷺ پر سلام بھیجنا افضل ہے غلام کے آزاد کرنے سے اور نبی ﷺ کی ذات ہے محبت جان قربان کرنے سے افضل ہے یا فرمایا اللہ کے راستے میں تلوار کے چلانے سے افضل ہے۔
54۔ ابن عدی نے ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر درود بھیجو اللہ تعالیٰ تم پر رحمتیں بھیجے گا۔
55۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ والحاکم وصححہ والبیہقی فی شعب الایمان ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ آپ بتائیے اگر میں ساری دعا آپ کے لیے خاص کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے غموں کے لیے کافی ہوجائے گا۔
درود شریف کے فضائل
56۔ ابن ابی شییبہ واحمد وعبد بن حمید والترمذی ابو طلحہ انصاری ؓ نے فرمایا ایک دن رسول اللہ ﷺ ہشاش بشاش اور آپ کے چہرہ مبارک سے خوشی نظر آرہی تھی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ کہ آپ آج بہت ہشاش بشاش ہیں اور آپ کے چہرہ مبارک میں خوشی ظاہر ہورہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس ایک آنے والا آیا میرے رب کی طرف سے اور اس نے کہا تیری امت میں سے جو تجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دے گا اور اس سے دس برائیاں مٹا دے گا اور اس کے دس درجے بلند کردے گا۔ اور اسی جیسا بدلہ عطاء فرمائے گا اور دوسرے لفظ میں یوں آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس فرشتہ آیا اور اسنے کہا اے محمد ! کیا آپ راضی نہیں ہوں گے اس بات سے کہ آپ کے رب فرماتے ہیں جو کوئی آپ کی امت میں سے ایک مرتبہ درود بھیجے گا تو میں اس پر دس رحمتیں بھیجوں گا۔ اور آپ کی امت میں سے کوئی آپ کو سلام کرے گا تو میں اس پر دس سلام بھیجوں گا آپ نے فرمایا کیوں نہیں (میں ان سے راضی ہوں)
57۔ البیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر وابن المنذر نے اپنی تاریخ میں انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ علیہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم میں سے مجھ سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر دنیا میں زیادہ درود پڑھتا تھا جو شخص مجھ پر جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو سو مرتبہ درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری کرے گا ستر آخرت کی اور تیس دنیا کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو اس کے ساتھ مقرر فرمادیتے ہیں۔ جو اس درود کو میری قبر میں پیش کرے گا جیسے تم پر تحائف پیش کیے جاتے ہیں جو مجھ پر درود پڑھنے والے کا نام اور دس پشتوں تک اس کا نسب پیش کرے گا میں اس کا عمل سفید صحیفے میں لکھ دوں گا۔
58۔ البیہقی فی شعب والخطیب وابن عساکر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر میری قبر آکر درود پڑھتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو شخص مجھ پر درود دور سے پڑھتا ہے تو وہ اس دنیا وآخرت کے کاموں کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن میں انہیں کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں۔
59۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر جمعہ کے دن درود کثرت سے بھیجو کیونکہ مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
60۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ والطبرانی والحاکم فی الکنی عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ اب تم زیادہ پڑھو یا کم پڑھو۔
61۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے وابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی آدمی نبی ﷺ پر درود پڑھے تو یہ دعا پڑھے اللہم تقبل شفاعۃ محمد الکبری وارفع درجتہ والحلیا واعطہ سولہ فی الاٰخرۃ والاولی کما اتیت ابراہیم وموسی (اے اللہ ! محمد ﷺ کو بری شفاعت قبول فرمائیے اور آپ کا بلند درجہ کو مزید بلند فرمایا اور آپ کی التجا قبول فرما جس طرح آپ نے ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کو عطا فرمایا۔
درود شریف رسول اللہ ﷺ پر پیش کیا جاتا ہے
62۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب تم نبی ﷺ پر درود بھیجو تو ان پر اچھی طرح درود بھیجو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم نے جان لیا فرمایا یہ دعا کیا کرو :
اللہم صلوتک ورحمتک وبرکاتک علی علی سید المرسلین و امام المتقین وخاتم النبین محمد عبدک ورسولک امام الخیر وقائد الخیر و رسول الرحمۃ اللہم البعثہ مقام محمودا یغبطہ بہ الاولون والاٰ خرون اللہم صل علی محمد وعلیٰ محمد وعلی اٰل محمد کم اصلیت علی ابراہیم واٰل ابراہیم انک حمید مجید۔
ترجمہ : اے اللہ آپ کی رحمتیں اور آپ کی برکتیں ہوں تمام رسولوں کے سردار پر اور متقین کے امام اور خاتم النبیین پر جو محمد ﷺ آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں خیر کے امام اور خیر کے قائد ہیں اور رحمت والے رسول ہیں۔ اے اللہ ان کو مقام محمود عطا فرمائیے جس کا رشک پہلے اور پچھلے لوگوں نے کیا اے اللہ ! رحمت بھیج محمد ﷺ پر اور آل محمد پر جیسے آپ نے رحمت بھیجی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر بلاشبہ آپ تعریف والے اور بزرگی والے ہیں ) ۔
63۔ ابن مردویہ نے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ہم نے جان لیا کہ آپ پر کیسے سلام پیش کرتا ہے۔ اب کسی طرح ہم آپ پر درود بھیجیں۔ تو آپ نے فرمایا اس طرح کہو :
اللہم صل علی محمد وابا فہ درجۃ الوسیلۃ من الجنۃ اللہم اجعل فی المصطفین محبثہ وفی المقربین مودتہ وفی علیین ذکرہ ودارہ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہم صل علی محمد وعلیٰ اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ اٰل ابراہیم انک حمید مجید وبارک علی محمد وعلیٰ اٰل محمد۔
ترجمہ : اے اللہ رحمت بھیج محمد ﷺ پر اور ان کو وسیلہ کے درجہ پر پہنچائیے جنت میں سے اے اللہ ان کو کردیجیے چنے ہوئے لوگوں میں ان کی محبت کو اور مقرب لوگوں میں ان کی دوستی کو اور علیین میں ان کے ذکر کو اور ان کے گھر کو اور سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکت ہو اے اللہ رحمت بھیج محمد ﷺ پر اور آل محمد پر جسے آپ نے ابراہیم اور ان کی آل پر رحمت بھیجی بلاشبہ آپ تعریف والے اور بزرگی والے ہیں اور برکت بھیج محمد ﷺ پر اور آل محمد پر۔
64۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اپنی مجلسوں کو زینت دو نبی ﷺ پر درود پڑھنے کے ساتھ۔
65۔ شیرازی القاب میں زید بن وہب (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا اے زید بن وہب جب جمعہ کا دن ہو تو نبی ﷺ پر ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھنا نہ چھوڑ تو یوں کہہ کہ اللہم صل علی النبی الامی۔
66۔ عبدالرزاق واسمعیل وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے تمام نبیوں اور اس کے رسولوں پر سلام بھیجو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے ہی بھیجا جیسے مجھے بھیجا۔
67۔ ابن ابی شیبہ القاضی اسمعیل وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ درود نبی کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں۔ لیکن مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے دعائے مغفرت ہوگی۔
68۔ ابن ابی داوٗ دنے المصاحف میں حمیدہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ نے ہمارے لیے اپنے سامان کی وصیت کی اور آپ کے مصحف میں یوں تھا آیت ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی والذین یصلون علی النبی والذین یصفون الصفوف الاول مہینا۔
Ayah 33:571۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ان الذین یؤذوان اللہ ورسولہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی ﷺ پر طعن کی تھی جب آپ صفیہ بنت حیی ؓ کو اپنے حرم میں لے آئے۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ہوئی جنہوں نے عائشہ ؓ پر تہمت لگائی اور نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جو آدمی مجھے اذیت دیتا ہے اور ان لوگوں کو اپنے گھر میں جمع کرتا ہے جو مجھے اذیت دیتے ہیں اسے میری طرف سے کون عذر پیش کرے گا یعنی میری صفائی دے گا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
3۔ الحاکم نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اہل شام میں سے آیا اور اس نے علی ؓ کو گالیاں دیں ابن عباس ؓ کے سامنے ابن عباس ؓ نے اس کو کنکریاں ماریں اور فرمایا اے اللہ کے دشمن تو نے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دی آیت ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والاٰخرۃ (جو لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر لعنت کی دنیا اور آخرت میں اگر رسول اللہ ﷺ زندہ ہوتے تو تو نے ان کو تکلیف دی تھی۔
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذی یوذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والاٰخرۃ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی اس طرح کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اوروں کی عبادت کی اور رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دی کہ انہوں نے کہا کہ وہ جادوگر اور مجنون ہے۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا والاٰخرۃ سے مراد ہیں تصویریں بنانے والے۔
6۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بتایا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ حدیث قدسی میں بیان فرماتے ہیں مجھے آدم کے بیٹے نے گالی دی اور اس کو یہ لائق نہ تھا کہ مجھے گالیاں دے اور اس نے مجھ کو جھٹلایا اور اس کو یہ لائق نہیں تھا کہ مجھے جھٹلائے اور مجھے اس کا گالی دینا ہے کہ اس کا یہ کہنا کہ ہرگز وہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جیسے مجھے پہلی بار پیدا کیا۔ قتادہ نے فرمایا کہ کعب ؓ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے دن ایک گردن جہنم میں سے نکلے گی اور وہ کہے گی اے لوگو ! مجھے تم میں سے تین قسم کے لوگوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ہر غالب معزز کی ہر جبار سرکش کی اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت کی وہ ان کو اس طرح اچک لے گی جیسے پرندہ زمین سے دانے کو اچک لیتا ہے وہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے گی اور آگ میں داخل ہوجائے گی ایک اور گردن نکلے گی اور کہے گی اے لوگو ! مجھے تم میں سے تین قسم کے لوگوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ جس نے اللہ کو جھٹلایا اور جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ اور اللہ کو تکلیف دی جس نے اللہ کو جھٹلایا وہ یہ ہے کہ جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد نہیں اٹھائے گا اور جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ موت کے بعد نہیں اٹھائے گا اور جس نے اللہ پر جھوٹ بولا وہ یہ ہے کہ جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے اور جس نے اللہ کو تکلیف دی یہ وہ لوگ ہیں جو تصویر بناتے ہیں اور ان کو زندہ نہیں کرپاتے تو یہ گردن ان کو اچک لے گی جیسے پرندہ زمین میں دانے کو اچک لیتا ہے پھر ان کو لپیٹ کر جہنم میں داخل کردے گی۔
Ayah 33:581۔ الفریابی وابن سعد فی الطبقات وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین یوذون المومنین والمومنت سے مراد ہے کہ وہ لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اتری ہیں آیت بغیر ماکتسبوا جس کا انہیں علم نہیں ہوتا آیت فقد احتملوا بہتانا تو انہوں نے اٹھا لیا گناہ کو۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ خارش کی بیماری جہنم والوں پر ڈالی جائے گی وہ کھجلائیں گے یہاں تک کی ہڈیاں ظاہر ہوجائیں گی اور وہ کہیں اے ہمارے رب ! آپ نے ہم کو یہ تکلیف کیوں دی ؟ تو ان سے کہا جائے گا جو تم مسلمانوں کو تکلیفیں دیتے تھے۔
ادب سکھانے کے لیے مارنا یذاء میں داخل نہیں
3۔ عبدبن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا مومنوں کو تکلیف دینے سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کی نگہبانی کرتے ہیں مومنوں کے لیے غصہ ہوتے ہیں اور لوگوں نے یہ گمان کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے اس آیت کو ایک دن پڑھا اور اس سے وہ گھبرا گئے یہاں تک کہ ابی بن کعب ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا اے ابو المنذر یہ ابی بن کعب کی کنیت ہے میں نے ایک آیت اللہ کی کتاب میں سے پڑھی ہے تو مجھے سخت خوف لاحق ہوا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت والذین یوذون المومنین والمومنات (وہ لوگ جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں اللہ کی قسم میں مومنوں کو سزا دیتا ہوں اور ان کو مارتا ہوں کیا میں ان میں تو شمار نہیں ہوں تو ابی بن کعب نے فرمایا آپ ان میں سے نہیں بلاشبہ آپ معلم ہیں (یعنی تعلیم دینے والے ہیں )
4۔ ابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ میں فلاں آدمی سے ناراض ہوں اس آدمی سے کہا گیا کہ عمر ؓ کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ تم سے ناراض ہیں جب لوگوں نے فرمایا وہ باتیں کیں تو وہ آدمی آیا اور اس نے کہا اے عمر ! کیا میں نے اسلام کا کوئی حکم توڑا ہے فرمایا نہیں اس نے کہا میں نے کوئی جرم کیا تھا ؟ فرمایا نہیں پھر اس نے کہا کیا میں نے اپنی طرف سے کوئی کام کیا ہے ؟ فرمایا نہیں پوچھا پھر کیوں آپ مجھ پر ناراض ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت والذین یوذوان المومنین والمومنات بغیر ماکتسبوا فقد احتملو بہتانا واثما مبینا۔ (اور وہ لوگ جنہوں نے ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر قصور کے تکلیف پہنچائی تو تحقیق انہوں نے بڑے بہتان کو اٹھالیا) آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت نہ فرمائے۔ عمر ؓ نے فرمایا تو نے سچ کہا اللہ کی قسم اس نے کوئی شرعی حد نہیں توڑی کوئی جنایت نہیں کی اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی نیا کام کیا، مجھے معاف کردے آپ برابر اس سے معافی مانگتے رہے یہاں تک کہ اس نے آپ کو معاف کردیا۔
5۔ عبد بن حمید وابن جریر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس آیت والذین یوذون المومنین والمومنت سے لے کر آتی واثما مبینا تک کی تلاوت کی اور فرمایا جو آدمی مومنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اللہ تعالیٰ کئی گنااجر عطاء فرمائے گا۔
6۔ الطبرانی وابن مردویہ وابن عساکر نے عبداللہ بن یسیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو حسد کرنے والا ہو چغلی خور ہو خیانت کرنے والا ہو ذلیل کرنے والا ہو وہ ہم سے نہیں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت والذین یوذون المومنین والمومنات۔
7۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا اللہ کے نزیک سب سے بڑا سود کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت کو حلال سمجھنا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت والذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ما اکتسبوا۔
Ayah 33:591۔ ابن سعد والبخاری ومسلم وابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سودہ ؓ اپنی حاجت کے لیے باہر نکلیں پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اور یہ بھاری بدن والی عورت تھی جو ان کو پہچانتا تھا اس سے چھپی نہیں رہتی تھیں۔ عمر ؓ نے ان کو دیکھا اور کہا اے سودہ ! بلاشبہ تو ہم پر چھپ نہیں سکتی تو دیکھ لے کہ تو کس طرح باہر نکلی ہے وہ پلٹ کر واپس آئیں اور رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تھے اور آپ رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اور آپ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی وہ داخل ہوئیں اور کہا یا رسول اللہ میں اپنی بعض حاجت کے لیے باہر نکلی تو عمر نے مجھ سے اس طرح اور اس طرح کہا آپ کی طرف وحی کی گئی وحی کے ختم ہونے کے بعد اور وہ ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے فرمایا تم کو اجازت ہے کہ تم حاجت کے لیے باہر نکل سکتی ہو۔
2۔ سعید بن منصور وابن سعدوعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی عورتیں رات کو اپنی حاجت کے لیے نکلتی تھیں کچھ منافق لوگ آپ کے سامنے آجات تھے اور اذیت کا باعث بنتے منافقین سے کہا گیا تو انہوں نے کہا ہم تو باندیوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں تو یہ آتی نازل ہوئی آیت یا ایہا النبی قل لا زواجک وبنتک ونساء المومنین یدنین علیہن من جلابیبہن ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین (اے نبی آپ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دیجیے کہ وہ نیچے کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سے اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی پھر ان کو ستایا نہ جائے گا تو عورتوں کو حکم دیا گیا یہاں تک کہ لونڈیوں کو پہچان لیتے۔
3۔ ابن جریر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ تشریف لاتے تو جبکہ آپ کا کوئی مکان نہ تھا اور نبی ﷺ کی عورتیں اور ان کے علاوہ دوسری عورتیں جب رات ہوتی تو اپنی طبعی حاجتوں کو پورا کرنے کے لیے باہر نکلتیں تھیں اور لوگ راستوں میں شعر پڑھنے کے لیے بیٹھے ہوتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی قل لازواجک وبنتک پوری آیت تو پردہ کا حکم ہوا یہاں تک کہ لونڈیوں کو آزاد سے پہچان لیا گیا۔
4۔ ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ منافق لوگ مومنوں کی عورتوں کے سامنے آجاتے اس سے ایک آدمی مومن عورتوں کو اور ان کو اذیت دیتے جب ان کو کہا جاتا تو وہ کہتے کہ ہم تجھ پر لونڈی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اپنا لباس لونڈیوں کے لباس سے مختلف رکھیں اور اپنے اوپر چادر لٹکالیا کریں اور اپنے چہروں ڈھانپیں مگر اپنی ایک آنکھ پر نہ ڈالیں۔ آیت ذلک ادنی ان یعرفن یہ زیادہ مناسب ہے کہ ان کو پہچان لیا جائے۔
چہرے کے پردے کا طریقہ
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والی عورتوں کو حکم فرمایا کہ جب وہ اپنے گھروں سے حاجت کے لیے نکلیں تو اپنے چہروں کو ڈھانک لیں چادروں کے ساتھ اپنے سروں کے اوپر سے اور ایک آنکھ کو ظاہر رکھیں۔
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابوداوٗد وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت یدنین علیہن من جلابیبہن نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں اس طرح سے نکلیں گویا کہ ان کے سروں پر کوے ہیں یہ ان کے سیاہ لباس کی وجہ سے تھا جو وہ پہنتیں۔
7۔ ابن ابی شیبہ نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب نے ؓ اپنی خلافت کے دور میں لونڈی کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ پردہ والی چادر پہنے اور فرماتے تھے کہ یہ چادر صرف آزاد عورتوں کے لیے تاکہ وہ تکلیف نہ دی جائیں گ۔
8۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے ایک باندی کو دیکھا جس نے نقاب اوڑھ رکھا تھا تو اس کو اپنے درے سے مارا اور فرمایا نقاب اتار دے کہ تم آزاد عورتوں کی شکل نہ بناؤ۔
9۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ انصار کی عورتوں پر رحم فرمائے جب یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا النبی قل لازواجک وبنتک ونساء المومنین یدنین علیہن من جلابیبہن فرمایا اللہ تعالیٰ نے باندیوں کو آزاد عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔
11۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبیدہ ؓ سے اس آیت ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنی چادر کو اٹھایا جو اس پر تھی تو اس سے نقاب بنایا اور سارے سر کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ وہ چار بھنووں تک پہنچ گئی اور اپنے چہرے کو بھی ڈھانپا اور اپنی بائیں آنکھ کو نکالآپنے چہرے کی بائیں جانب سے جو آنکھ کے ساتھ تھا۔
12۔ عبد بن حمید وابن جریر قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا النبی قل لازواجک وبنتک ونساء المومنین یدنین علیہن من جلابیبہن کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ لیا کہ جب وہ نکلیں کہ وہ اس ادر کو لٹکائیں بھنوؤں تک ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین اس سے جلدی پہچان پڑجایا کرے گی پھر ان کو ستایا نہ جائے گا باندی کو روک لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آزاد عورتوں کو منع فرمایا کہ وہ باندیوں کی شکل و صورت اختیار نہ کریں۔
پردہ کرنے میں عزت
13۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عورتیں اپنی قضائے حاجت کے لیے کھلی جگہوں کی طرف نکلتی تھیں تو بدکار لوگ ان کے پیچھے لگ جاتے تھے اور ان کو تکلیف دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کو لٹکالیا کریں۔ یہاں تک کہ باندی سے آزاد عورت کی پہچان ہوسکے۔
14۔ عبد بن حمید نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل مدینہ میں سے کچھ خبیث لوگ رات کو نکلتے تھے اور وہ عورتوں کو دیکھ کر اشارے کرتے تھے اور وہ آزاد عورتوں سے ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ باندیوں سے ایسا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی قل لازواجک وبنتک ونساء المومنین (آیت کے آخر تک )
15۔ ابن جریر وابن مردویہ نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ آزاد عورت بھی لونڈیوں جیسا لباس پہنتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے مومنین عورتوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنی چادریں نیچے کرلیا کریں اور چادر کے نیچے کرنا یہ ہے کہ وہ نقاب اوڑھے اور چار کو اپنی پیشانی پر باندھے۔
16۔ ابن سعد نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت یا ایہا النبی قل لازواجک وبنتک ونساء المومنین یدنین علیہن من جلابیبہن ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین کے بارے میں فرمایا کہ مدینہ میں تمہاری باندیاں کو احمق لوگ چھڑی چھاڑ کرتے ہیں اور ان کو تکلیف دیتے ہیں آزاد عورت گھر سے نکلتی تو اسے باندی گمان کرتے اور اسے اذیت دیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان آزاد عورتوں کو حکم فرمایا کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کو نیچے کرلیا کریں۔
17۔ ابن ابی حاتم نے سعی (رح) سے روایت کیا کہ اہل مدینہ کے فاسق لوگ رات کو نکلتے تھے جب رات کو تاریکی ہوجاتی تھی وہ مدینہ کے راستوں کی طرف آتے تھے اور عورتوں سے چھیڑ خانی کرتے تھے اہل مدینہ کے گھرتنگ تھے جب رات ہوتی تھی عورتیں راستے کی طرف نکلتی تھی تاکہ اپنی حاجت کو پوری کریں۔ تو یہ بدکار لوگ ان کے پیچھے لگ جاتے تھے جب وہ کسی پر پردہ کو دیکھتے تو کہتے تھے یہ آزاد عورت ہے پھر اس سے رک جاتے تھے اور جب کسی عورت کو دیکھتے کہ اس پر چادر نہیں ہے تو کہتے تھے یہ باندی ہے اور اس پر کود پڑتے تھے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے سے روایت کیا کہ آیت ذلک ادنی ان یعرفن فلا یوذین سے مراد ہے کہ وہ اپنی چادریں لٹکاتیں جلابیبہن سے مرا داوڑھنی سے اوپر نقاب والی چادر اور کسی مسلمان عورت کے لیے یہ حلال نہیں کہ کوئی اجنبی آدمی اسے اس چال میں دیکھے کہ اس پر اوڑھنی کے علاوہ کوئی چادر نہ ہو جس کے ساتھ اس نے اپنے سر اور گردن کو باندھ رکھا ہے۔
19۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ چادر کو اتنا نیچا کرلیں یہاں تک کہ ان کے گردن کا سر نظر نہ آئے۔
چادریں چہرے پر لٹکایاکریں
20۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر عبداللہ بن مسعود ؓ علیہ سے روایت کیا کہ آیت یدنین علیہن من جلابیبہن سے مراد چادر ہے۔
21۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت یدنین علیہن من جلابیبہن کے بارے میں روایت یا کہ اس چادر کو اوڑھ لیں تاکہ وہ جان جائیں کہ وہ آزاد عورتیں ہیں تو کوئی فاسق ان کو اذیت نہ دے نہ بات سے اور نہ شک سے۔
22۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبید اللہ السلمانی (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یدنین علیہن من جلابیبہن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بڑی چادر سے نقاب بنایا اپنے سر اور چہرے کو ڈھانپا اور اپنی آنکھوں میں سے ایک آنکھ کو باہر رکھا۔
Ayahs 33:60–621۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ منافقوں میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نفاق کو ضاطہر کریں تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بہم (منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑایا کرتے ہی ن اگر باز نہ آئیے تو ہم ضرور آپ کو ان کے خلاف برانگیختہ کردیں گے یعنی ہم ضرور آپ کو ان سے لڑنے کے لیے اکسائیں گے۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” الارحاف “ سے مراد وہ جھوٹ ہے جو اہل نفاق اسکو بھیلاتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہارے پاس سامان اور وعدہ آچکا اور ہم کو بتایا گیا کہ منافقوں نے ارادہ کیا کہ وہ ظاہر کردیں اس نفاق کو جو ان کے دلوں میں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ ان کو دھمکی دی آیت ” لئن لم ینہ المنفقون والذین فی قلوبہم مرض “ سے لے کر لنغرینک بہم “ تک یعنی ہم ضرور آپ کو ان کے خلاف ابھاریں گے اور بھڑکائیں گے جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ ان کو دھمکی دی تو انہوں نے اپنے نفاق کو چھپایا اور ان سے خاموش ہوگئے آیت ثم لایجاورونک فیہا الا قلیلا پھر وہ مدینہ میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکیں مگر تھوڑے وقت ” ملعونین “ یعنی ہر حال پر وہ لعنت کیے گئے آیت ” اینما ثقفواخذوا وقتلو تقتیلا “ ( جہاں ملیں گے ان کو پکڑ دھکڑ ہوگی اور مار دھاڑ پڑے گی) یعنی اگر وہ اپنے نفاق کو ظاہر کرتے آیت سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل ( اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ ان لوگوں کے بارے میں گزر چکا ہے جو پہلے تھے) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا پہلے بھی یہی طریقہ آتا ہے۔ اگر وہ اپنے نفاق کو ظاہر کرتے۔
3۔ ابن سعد بن محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت لئن لم ینتہ المنفقون یعنی منافقون سے مراد بذات خوفد جو منافق ہیں آیت والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور لوگ جو مدینہ جھوٹی خبریں اڑاتے ہیں اس میں مرض سے مراد شک ہے۔
4۔ ابن سعد نے عبید بن حنین (رح) سے روایت کیا کہ آیت لئن لم ینہ المنفقون یعنی منافقین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ذاتیں پہچانی ہوئی تھیں آیت والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ کہ اس سے وہ سارے منافق مراد ہے جو مدینہ میں جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں
5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عورتوں کے بعض معاملات کے بارے میں نازل ہوئی۔
بدکردار لوگ بدنظری میں مبتلا ہوتے ہیں
6۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عکرمہ (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون فی المدینۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد بدکردار لوگ ہیں۔
7۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی قلوبہم مرض سے مراد ہیں بدکردار لوگ۔
8۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین فی قلوبہم مرض سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان والے تھے جو اپنے دلوں میں یہ خواہش رکھتے تھے کہ بدکاری کریں۔
9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت لئن لم ینتہ المنفقون کے بارے میں روایت کیا کہ نفاق تین قسم پر تھا عبداللہ بن ابی بن سلول کا نفاق عبداللہ بن نبتل اور مالک بن داعس کا نفاق اور یہ لوگ انصار کے سرداروں میں سے سردار تھے اور یہ لوگ پسند کرتے تھے کہ وہ زنا کریں مگر وہ اس سے اپنی حفاظت کرتے تھے آیت والذین فی قلوبہم مرض والمرجفون، یعنی ان کے دلوں میں زنا کا مرض ہے اگر وہ اس کو پالیں تو اس پر عمل کرلیں اور اگر وہ اس کو نہ پائیں تو اس کو طلب نہ کریں اور ایک نفاق وہ ہے کہ وہ عورتوں پر غلبہ پانے کی کوشش کرتے یہ وہی لوگ تھے جو عورتوں پر غلبہ پانے کی کوشش کرتے جو عورتوں پر غلبہ پانے کی کوشش کرتے آیت لنغرینک بہم یعنی ہم ضرور ان کے بارے میں تجھ کو بتائیں گے پھر فرمایا آیت ملعونین ہر طرف سے پھر آیت میں اس کی تفصیل بیان کی آیت اینما ثقفوا یعنی جہاں بھی وہ عورتوں پر غلبہ پاتے ہوئے پائے جائیں آیت اخذوا وقتلو تقتیلا تو ان کو پکڑ لیاجائے اور ان کو قتل کردیا جائے سدی (رح) نے کہا کہ یہ حکم قرآن میں اچھا ہے کہ جس پر عمل نہیں کیا گیا اگر ایک آدمی یا اس سے زیادہ ایک عورت کا پیچھا کریں اور اس پر غالب آجائیں اور اس کے ساتھ بدکاری کریں تو ان کو نہ کوڑے مارے جائے اور نہ ہی ان کو رجم کیا جائے بلکہ ان کو پکڑا جائے اور ان کی گردنیں اڑا دی جائیں گی آیت سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل یعنی اسی طرح پہلی امتوں میں ایسا ہوتا رہا آتی ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیال یعنی جس آدمی نے کسی عورت پر زبردستی کی اور اس پر غالب آگیا تو اس مرد کو قتل کردیا گیا تو اس کے قاتل پر کوئی دیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ مکابرہ کرنے والا تھا۔
10۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لنغرینک بہم سے مراد ہے کہ ہم ضرور تجھ کو ان پر مسلط کردیں گے۔
11۔ عبد بن حمید وابن المنذر والخطیب فی تالی التلخیص محمد بن سیرین سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا آیت لئن لم ینہ المنفقون سے مراد ہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کو سزا دینے پر آمادہ کیا ہو یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پر دہ فرماگئے۔
12۔ ابن الانباری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لنغرینک بہم کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ہم ضرور تجھے ان کے بارے میں مخلص بنادیں گے جیسا کہ حارث بن حلزہ نے کہا :
لاتخلنا علی غرائک انا قلما قدرشی بنا العداء
ترجمہ : ہمیں تجھ سے جو حد درجہ اشتیاق ہے اس پر انحصار نہ کر ہم وہ ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا کہ دشمنوں نے ہم کو رشوت دی ہو
Ayahs 33:63–661۔ ابن المنذر وابن نعیم نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی آیت ومایدریک کے ضمن میں یہ بات ذکر کی گئی جو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے رسول اللہ ﷺ کو نہیں بتایا اور جہاں وما یدریک کے ضمن میں بات ذکر کی تو وہ بات نبی اکرم ﷺ کو بتادی ہے۔
Ayahs 33:67–681۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ربنا انا اطعنا سادتنا وکبراء نا (اے ہمارے ہم اپنے سرداروں اور بڑوں کے کہنے پر چلے) یعنی ہم نے اپنے سرداروں کی اطاعت کی برائی میں اور شرک میں ربنا اٰتہم ضعفین من العذاب (اے ہمارے رب ان کو دگنا عذاب دے یعنی جہنم کا عذاب )
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی ربنا انا اطعنا سادتنا (یعنی ان سرداروں اور بڑوں میں) ابوجہل بن ہشام بھی تھا۔