33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 33:37–41

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے انعام کیا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے دل میں اس چیز کو چھپا رہے تھے جسے اللہ تعالیٰ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے اور آپ کو یہ سزا وار ہے کہ اللہ سے ڈریں، پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس عورت کا آپ سے نکاح کردیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے حاجت پوری کرچکیں اور اللہ کا حکم پورا ہونے ہی والا تھا

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی پر اس برے میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے ان کیلیے مقرر فرمادیا جو لوگ اس سے پہلے گزرے ہیں ان کے بارے میں اللہ نے یہی معمول رکھا ہے اور اللہ کا حکم مقرر کیا ہوا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

جو اللہ کے پیغاموں کو پہنچاتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

تمہارے مردوں مردوں میں سے محمد کسی کے باپ نہیں ہیں اور لیکن اللہ کے رسول ہیں نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ کا ذکر کرو کثرت سے ذکر کرنا

1۔ البزار وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے اسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا کہ عباس اور علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہم کو بتائیں کہ اپنے گھروالوں میں سے کون آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ نے فرمایا میرے گھوالوں میں سے مجھے فاطمہ ؓ زیادہ محبوب ہے ان دونوں نے کہا ہم آپ سے فاطمہ کے بارے میں نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن زید مجھے زیادہ محبوب ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور میں نے بھی انعام فرمایا علی ؓ نے پھر پوچھا یارسول اللہ پھر کون محبوب ہے ؟ فرمایا پھر تو پھر عباس محبوب ہے عباس نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اپنے چچا کو آخر میں رکھا آپ نے فرمایا بلاشبہ علی ؓ آپ سے ہجرت کی وجہ سے سبقت لے گئے۔ 2۔ عبد بن حمید والبخاری والترمذی والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ اور آپ اپنے دل میں جو بات بھی چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والے تھے۔ زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے مکم دین امت تک پہنچایا 3۔ احمد وعبد بن حمدی والبخاری والترمذی وابن المنذر والحاکم والترمذی وابن المنذر والحاکم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ زید بن حارثہ آئے اور رسول اللہ ﷺ سے زینب کی شکایت کر رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کو یہ کہنا شروع فرمایا کہ تو اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے اوپر روکے رکھ تو یہ آیت وتکفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ ان سنے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ کوئی بات چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے پھر ان سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح فرمالیا اور آپ نے اپنی عورتوں میں سے کسی کا ایسا ولیمہ نہیں کیا جیسے ان کا ولیمہ کیا۔ ایک بکری ذبح فرمائی آیت فلما قضی زید منہا وطرا زوجن کہا پھر جب زید کا اس سے دل بھر گیا اور اس نے طلاق دیدی تو ہم نے اس کو آپ کی بیوی بنادیا زینب نبی ﷺ کی دوسری بیویوں پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں تمہارے نکاح تمہارے گھروالوں نے کیے اور اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح ساتویں آسمان کے اوپر کیا۔ 4۔ ابن سعد واحمد والنسائی وابویعلی وابن ابی حاتم والطبرانی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب زینب کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید سے فرمایا تو جا اور میرے بارے میں اس سے بات کرو وہ گئے اور کہا جب میں نے زینب کو دیکھا تو میرے لیے یہ چیز بہت بڑی تھی۔ میں نے کہا اے زینب تجھے بشارت ہو۔ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے کہ آپ تیرا ذکر کرتے ہیں کہنے لگی میں کچھ بھی نہیں کروں گی یہاں تک کہ میں اپنے رب سے مشورہ کروں گی اور وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر کھڑی ہوگئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور بغیر اجازت کے ان کے پاس داخل ہوگئے جب حضرت زینب رسول اللہ ﷺ کے حرم میں داخل ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو روٹی اور گوشت کھلایا لوگ باہر چلے گئے کچھ لوگ باقی رہے جو کھانے کے بعد گھر میں باتیں کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے میں بھی آپ کے پیچھے چلا آپ نے اپنی عورتوں کے حجروں میں جانا شروع کیا اور ان کو سلام فرمایا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ! آپ نے اپنی نئی بیوی کو کسی پایا میں نہیں جانتا کہ میں نے ان کو بتایا کہ لوگ چلے گئے ہیں یا آپ کو کسی اور نے خبر دی آپ چلے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہوگئے میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا مگر آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا پردہ کا حکم نازل ہوا اور قوم کو نصیحت کی گئی جو نصیحت کی گئی آیت لاتدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم اور نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ تم کو اجازت دی جائے۔ 5۔ ابن سعد والحاکم نے محمد بن یحییٰ بن حسان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ زید بن حارثہ ؓ کو تلاش کرتے ہوئے ان کے گھر تشریف لائے اور زید کو زید بن محمد کہا جاتا تھا کبھی کبھار رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید کو نہ پایا۔ تو زید بن حارثہ کی تلاش میں ان کے گھر تک تشریف لائے مگر اس کو نہ پایا حضرت زید بن حارثہ کی بیوی زینب بنت جھش آپ کے پاس آئیں تو رسول اللہ ﷺ ان سے اعراض فرمایا زینب نے کہا یارسول اللہ ! وہ یہاں نہیں ہے آپ تشریف لے آئیں آپ نے اندر آنے سے انکار فرمایا حضرت زینب رسول اللہ ﷺ کو اچھی لگیں آپ واپس چل دئیے اور آپ کچھ بات کر رہے تھے مگر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر یہ کہ کبھی آپ بلند آواز سے فرماتے آیت سبحان اللہ العظیم سبحان مصرف القلوب زید اپنے گھر میں آئے تو ان کی بیوی نے ان کو بتایا کہ میں نے ان سے یہ بات کہی تھی مگر انہوں نے انکار کیا پوچھا تو نے کوئی بات سنی اس نے کہا جب آپ پیٹھ پھیر کر جارہے تھے تو میں نے ایک بات آپ سے سنی لیکن میں اس کو نہ سمجھ سکی اور میں نے آپ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا سبحان اللہ العظیم سبحان مصرف القلوب زید رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ مجھے پتہ چلا کہ آپ میرے گھر تشریف لائے یا رسول اللہ آپ اندر کیوں داخل نہ ہوئے شاید زینت آپ کو اچھی لگی ہیں تو میں اس کو طلاق دے دیتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی بیوی کو اپنے اوپر روکے رکھ اس دن کے بعد حضرت زید حضرت زینب کے قریب نہیں جاسکے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور سب کچھ بتاتے آپ یہی فرماتے آیت امسک علیک زوجک کہ اپنی بیوی کو روکے رکھ مگر زید نے اس کو جدا کرلیا یعنی طلاق دیدی اور اس سے علیحدہ ہوگئے اور اس کی عدت گزر گئی تو ایک دفعہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے عائشہ سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک آپ پر غنودگی طاری ہوگئی جب وہ کیفیت جاتی رہی تو آپ مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے کون زینب کی طرف جائے گا اور اس کو خوشخبری دے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا اس کے ساتھ نکاح آسمان میں کردیا ہے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے عائشہ سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک آپ پر غنودگی طاری ہوگئی جب وہ کیفیت جاتی رہی تو آپ مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے کون زینب کی طرف جائے گا اور اس کو خوشخبری دے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا اس کے ساتھ نکاح آسمان میں کردیا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک اور جب آپ نے فرمایا اس کے لیے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اور آپ نے انعام کیا کہ اپنی بیوی کو اوپر روکے رکھ سارے قصہ کے بارے میں عائشہ نے فرمایا ہمیں حضر زینب کے جمال کی خبر پہنچی تھی اس نے پوری طرح مجھے گرفت میں لے لیا اور دوسری بات جو سب سے عظیم اور شرف والی تھی وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا عقد آسمان میں کیا تھا اور حضرت عائشہ نے کہا کہ اس شرف کی وجہ سے ہم سب پر فخر کرے گی۔ 6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والترمذی وصححہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کوئی چیز وحی میں چھپاتے تو اس آیت کو چھپاتے آیت واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ میں نعمت سے مراد ہے اسلام آیت وانعمت علیہ امسک میں وانعمت علیہ سے آپ کا آزاد کرنا مراد ہے۔ آیت امسک علیک زوجک سے لے کر وکان امر اللہ مفعولا، اور اللہ کا فیصلہ پورا ہونے والا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت زینب سے شادی کی تو لوگوں نے کہا کہ آپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کرلی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کہ محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا اور زید ابھی چھوٹے تھے وہ آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہوگئے اس کو زید بن محمد کہا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ادعوہم لاٰباء ہم ہو اقسط عنداللہ۔ ان کو اپنے اصل باپوں کے نام سے پکارو یہ بہت انصاف ہے اللہ کے نزدیک۔ 7۔ الحاکم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ زینب ؓ نبی ﷺ سے فرمایا کرتی تھیں آپ کی دوسری ازواج کی نسبت میرا آپ پر زیادہ حق ہے میں ان سے اس لحاظ سے بہتر ہوں کہ میرا نکاح کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے پردہ کے لحاظ سے ان سے مکرم ہوں رشتہ داروں کے لحاظ سے زیادہ قریبی ہوں۔ اور آپ سے میری شادی رحمن نے اپنے عرش پر کی اور جبرئیل (علیہ السلام) اس امر کے سفیر تھے اور میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں۔ میرے سوا کوئی قریبی رشتہ دار نہیں آپ کی دوسری بیویوں میں۔ 8۔ ابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ زینب ؓ نبی ﷺ سے فرمایا کرتی تھیں میں تین باتوں میں اپنے متعلق فخر کرسکتی ہوں آپ کی عورتوں میں سے کوئی عورت بھی اس پر فخر نہیں کرسکتی میر اجد اعلی اور آپ کا اعلی ایک ہے اور اللہ تعالیٰ نے میرا آپ سے نکاح آسمان پر کیا اور بلاشبہ اس کے سفیر جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔ 9۔ ابن سعد وابن عساکر نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ زینب ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کی عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہوں ان کے عقد نکاح مہروں کے بدلے میں ہوئے۔ اور ان کے اولیاء نے ان کی شادیاں کیں جبکہ میری شادی اللہ اور اس کے رسول نے کی میرے بارے میں قرآن نازل ہوا کہ اسکو مسلمان پڑھتے ہیں جس میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اسی کو فرمایا آیت واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ۔ 10۔ ابن سعد وابن عساکر نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ زینب بنت جحش ؓ پر رجم فرمائے اس نے اس دنیا میں ایسی عزت پائی کہ کوئی عزت والا اس کو نہیں پاسکتا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اس کا نکاح اپنے نبی سے کیا اور قرآن نے اس بارے میں گواہی دی۔ 11۔ ابن سعد نے عاصم احول (رح) سے روایت ہے کہ بنواسد میں سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر فخر کیا تو اسدی نے کہا کیا تم میں ایسی عورت ہے جس کا عقد اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا اس سے مراد زینب بنت جحش ؓ تھی۔ حضرت زینب ؓ کی شکایت 12۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا تقول للذی انعم اللہ علیہ سے مراد ہے زید بن حارثہ ؓ کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ انعام فرمایا آیت انعمت علیہ یعنی رسول اللہ ﷺ نے یہ انعام فرمایا کہ ان کو آزاد کردیا۔ آیت امسک علیک زوجک واتق اللہ یعنی اے زید بن حارثہ اللہ سے ڈر اور بیوی کو روکے رکھ۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے نبی ! کہ زینب کی زبان مجھ پر سخت ہوگئی اور میں اس کو طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہوں تو نبی ﷺ پسند فرماتے تھے کہ وہ اس کو طلاق دیدیں اور لوگوں کی باتوں کا ڈر تھا کہ کہ لوگ کہیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید کو طلاق کا حکم دیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا آیت وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ رسول اللہ ﷺ اپنے اندر اس کو مکفی رکھے ہوئے تھے حضرت حسن بصری (رح) نے کہا کہ نبی ﷺ پر اس سے سخت آیت نازل نہیں اگر رسول اللہ ﷺ وحی میں کوئی چیز چھپاتے تو اس وحی کو چھپاتے رسول اللہ ﷺ لوگوں کی باتوں سے ڈرتے تھے حضرت زید نے حضرت زینب کو طلاق دیدی تو فرمایا ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا تو حضرت زینب دوسری عورتوں پر فخر کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تمہارا نکاح تمہارے آباء نے کیے اور میرا نکاح عرش والے نے کیا۔ آیت لکی لا یکون علی المومنین علی امومنین حرج فی ازواج اعدیاء ہم اذا قضوا منہن وطرا۔ تاکہ بنائے ہوئے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں مسلمان کے لیے کوئی تنگی نہ ہو جب وہ اپنی بیویوں سے حاجت پوری کرچکے ہو۔ جب وہ ان کو طلاق دیدیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے زید بن ھارثہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ آیت ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ، سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل اور پیغمبر کے لیے جو بات اللہ نے مقرر کردی تھی اس میں ان پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ نے ان پیغمبروں کے لیے بھی یہی معمول کر رکھا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں جس طرح اللہ کے نبی داوٗد (علیہ السلام) نے ایک عورت سے عقد نکاح کا ارادہ کیا جس پر آپ کی نظر پڑی تھی سے پسند کی اور اس سے شادی کرلی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے لیے فیصلہ فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب سے شادی کرلی۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے نسبت قائم کی تھی داوٗد (علیہ السلام) کے بارے میں کہ ان کی شادی اس عورت سے کردی۔ آیت وکان امر اللہ قدر امقدورا۔ اور اللہ کا فیصلہ پہلے ہی سے تجویز کردہ ہوتا ہے یعنی حضرت زینب ؓ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ 13۔ الحکیم الترمذی وابن جریر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں علی بن زید بن جدعان (رح) سے روایت کیا کہ مجھے علی بن حسین ؓ نے فرمایا کہ حسن ؓ اس آیت وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں میں نے کہا انہوں نے کچھ نہیں کہا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بلایا کہ زینب ؓ عنقریب آپ کی بیویوں میں سے ہوں گی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ابھی شادی نہیں کی تھی جب زید آپ کے پاس آئے اور آپ سے شکایت کی اپنی بیوی کے بارے میں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈروا اور اپنی بیوی اپنے پاس رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تجھے بتادیا ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرنے والا ہوں آیت وتکفی فی نسک ما اللہ مبدیہ اور اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ 14۔ ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی ؓ نے آیت ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ، سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل یعنی آپ جتنی عورتوں سے چاہے شادی کرسکتے تھے یہ فریضہ ہے اور یہ فریضہ تھا جو انبیاء (علیہ السلام) میں بھی یہ سنت ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ہزار بیویاں تھیں جبکہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی ایک سو بیویاں تھیں۔ 15۔ ابن المنذر والطبرانی نے ابن جریج نے آیت سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل کے بارے میں فرمایا کہ داوئد (علیہ السلام) نے جس عورت سے نکاح کیا تھا اس کا نام الیسعیہ تھا اور یہی اللہ تعالیٰ کی سنت محمد ﷺ اور زینت میں ہوئی فرمایا آیت وکان امر اللہ قدرا مقدورا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی سنت حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی اور نبی ﷺ اور زینب میں تھی۔ 16۔ البیہقی اپنی سنن میں ابو سعید ؓ سے فرمایا کہ نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر ولی، گواہوں، اور مہر کے ساتھ مگر نبی ﷺ کے لیے اس کے بغیر بھی جائز ہے۔ حضرت زینب کو طلاق ہوگئی 17۔ الطبرانی والبیہقی نے اپنی سنن میں وابن عساکر نے کمیت بن زید اسدی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے مذکور نے بتایا جو زینب بنت جحش کا غلام تھا کہ زینب نے فرمایا مجھے نبی ﷺ کے اصحاب میں سے کئی صحابہ نے نکاح کا پیغام بھیجا میں اسے اپنے بھائی کے پاس بھیجتی تاکہ وہ ان سے اس بارے میں مشورہ کریں اس نے کہا یہ ان میں سے کہا جسے اس کے رب کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت جانتی ہے پوچھا کون اس نے کہا زید بن ھارثہ یہ سن کر وہ غصہ ہوگئی اور کہنے لگی کہ تو اپنی پھوپھی کی بیٹی کی شادی اپنے غلام سے کرے گا پھر وہ میرے پاس آئی اور مجھے اس بارے میں بتایا تو میں نے اس سے بھی زیادہ سخت بات کہی تو میں اس کے غصہ سے بھی زیادہ غجبناک ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم یہ حکم سن کر زینب نے آپ کی طرف پیغام بھیجا میرا نکاح کردیں جس سے آپ چاہیں تو رسول اللہ ﷺ نے میری شادر اس سے کردی میں نے اسے اپنی زبان سے مصیبت میں ڈال دیا۔ تو اس نے نبی ﷺ کو میری شکایت کی۔ آپ نے اس سے فرمایا پھر اسے طلاق دیدے چناچہ اس نے مجھے طلاق دیدی میں نے اپنی طلاق کی عدت پوری کی جب میری عدت پوری ہوگئی تو مجھے یہ خیال بھی نہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے جبکہ میرے بال کھلے ہوئے تھے اور میں نے کہا کہ یہ حکم آسمان سے ہے اے اللہ کے رسول کہ آپ بغیر خطبہ اور اور بغیر گواہوں کے داخل ہوگئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نکاح کرنے والے ہیں اور جبرئیل گواہی دینے والے ہیں۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں۔ اگرچہ ایسی سند کے ساتھ حجت قائم نہیں ہوسکتی، لیکن اس کا مضمون مشہور ہے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحش کے بارے میں نازل ہوئی اور ان کی ماں امیمہ بنت عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں آپ نے زید بن حارثہ ؓ سے اس کی شادی کرنے کا ارادہ فرمایا اس نے اس کو ناپسند کیا پھر وہ اس کام پر راضی ہوگئیں جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تو آپ ﷺ نے حضرت زینب کی شادری حضرت زید سے کردی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس کے بعد یہ بتادیا کہ وہ آپ کی بیویوں میں سے ہیں مگر آپ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ حضرت زید کو طلاق دینے کے لیے کہیں اور زید زینب ؓ کے درمیان اس قسم کے معاملات چلتے رہتے جو لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اس کو حکم فرماتے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھاے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور رسول اللہ ﷺ کو لوگوں سے یہ ڈر تھا کہ وہ ان پر عیب لگائیں گے کہیں کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی کرلی اور رسول اللہ ﷺ نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے زمانہ جاہلیت میں زید بن حارثہ ؓ کو عکاظ بازار سے خریدا تھا۔ اپنی بیوی خدیجہ ؓ کے زیورات کے دبلے میں اور اس کو بیٹا بنالیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی بعثت فرمائی یعنی نبوت عطا فرمائی تو وہ اس طرح رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر آپ نے ارادہ فرمایا کہ زینب بنت جحش سے حضرت زید کا نکاح کردیں تو حضرت زینب نے اس کو ناپسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اتارا آیت وماکان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم اس کے بعد ان سے کہا گیا تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہے یا صریح گمراہی کو چاہتی ہے اس نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی شادی زید بن حارثہ کردی پھر وہ اس نکاح میں رہیں۔ جب تک اللہ نے چاہا پھر نبی ﷺ ایک دن زید کے گھر میں داخل ہوئے اس کو دیکھا جبکہ وہ پھوپھی کی بیٹی تھی گویا وہ آپ کو اچھی لگیں عکرمہ نے فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ یعنی زید پر انعام فرمایا اسلام کے ساتھ آیت وانعمت علیہ اور محمد ﷺ نے اسے آزاد کردیا اس پر انعام فرمایا آپ نے اس سے فرما آیت امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ، عکرمہ نے فرمایا کہ عورتیں جو حضرت زید کے لیے نبی کریم ﷺ کی شدید محبت دیکھتیں تو کہتیں کہ حضرت زید رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ہیں پھر اللہ تعالٰ نے ایک کام کا ارادہ کرتے ہوئے فرمایا آیت فلما قضی زید منہا وطرا زوجنکہا۔ جب زید کا دل بھر گیا تو ہم نے اس کو آپ کی بیوی بنادیا آیت لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج اعیاء ہم تاکہ ایمان والوں پر اپنے منہ بولے بیتے سے شادی کرنے میں کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اتارا ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں یعنی زید کے باپ نہیں ہیں کہ زید کی بیوی سے نکاح کرنا اس کے لیے حرام ہو۔ جب زید نے طلاق دی تو نبی ﷺ نے ان سے شادی کرلی۔ اور اسے پردہ میں لے لیا صحابہ نے کہا اگر زید رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ہوتے تو اپنے بیٹے کی بیوی سے شادی نہ کرتے۔ 20۔ الحکیم والترمذی وابن جریر نے محمد بن عبداللہ جحش ؓ سے روایت کیا کہ زینب اور عائشہ ؓ سے آپس میں فکر کیا زینب نے کہا میں وہ ہوں کہ میرے نکاح کو آسمان سے نازل کیا گیا عائشہ ؓ نے فرمایا میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری براءت کو آسمان سے اپنی کتاب میں نازل فرمایا جب مجھے ابن المعطل نے اپنی سواری پر سوار کیا زینب نے ان سے پوچھا کہ تو نے کیا کہا تھا جب اس نے تجھ کو سوار کیا تو کہا میں نے کہا اللہ میرے لیے کافی ہے اور اچھا کارساز ہے میں نے کہا تو نے مومنین کا کلمہ کہا۔ 21۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 22۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم ابن عساکر نے علی بن حسین ؓ نے فرمایا کہ آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ زید بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت زید ؓ کے بارے میں نازل ہوئی کہ زید رسول اللہ ﷺ کے بیٹے نہ تھے اور میری زندگی کی قسم ! آپ کے لڑکے پیدا ہوئے اور وہ ابو القاسم ابراہیم، طیب اور مطہر تھے۔ 24۔ الترمذی نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی مذکر اولاد زندہ نہیں رہے گی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ 25۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکن رسول اللہ وخاتم النبیین لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں یعنی آپ آخری نبی ہیں۔ 26۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وخاتم النبیین سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو محمد ﷺ پر ختم کردیا آپ سب سے آخر میں مبعوث ہونے والے ہیں۔ 27۔ احمد ومسلم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور دوسرے نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی نے گھر بنایا اس کو پورا کردیا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی میں آیا اور اس اینٹ کو پورا کردیا۔ 28۔ البخاری ومسلم والترمذی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس آدمی کی طرح سے ہے جس نے گھر بنایا اس کو پورا کیا اور خوب اچھا بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑی دی جو آدمی اس گھر میں آیا اور اس نے اس کی طرف دیکھا تو کہا کا ہی اچھا اس کو بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ اچھی نہیں بنائی کہ اس کو خالی چھوڑدیا سو میں وہ اینٹ کی جگہ ہوں مجھ پر انبیاء کو ختم کردیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں 29۔ احمد والبکاری ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اور دوسرے انبیاء کی مثال جو مجھ سے پہلے تھے اس آدمی کی مثال کی طرح سے جس نے گھر بنایا جس کو بہت اچھا اور بہت خوبصورت بنایا مگر اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ لوگوں نے اس کا چکر لگانا شروع کیا اور اسے دیکھ کر خوش ہونے لگے اور کہنے لگے یہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ میں وہ اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ 30۔ احمد والترمذی وصححہ ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مثال نبی ویں میں ایسی ہے جیسے آدمی کی مثال جس نے گھر بنایا اس کو خوب اچھا بنایا اور پورا بنایا اور بہت خوبصورت بنایا اور اس پر ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی کہ اس کو نہ رکھا لوگوں نے عمارت کے گرد چکر لگایا اور وہ اس سے تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے کاش اس اینٹ کی جگہ پوری کردی۔ پس میں نبیوں میں اس اینٹ کی جگہ ہوں۔ 31۔ ابن مردویہ نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے نبی ہوں گے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ 32۔ احمد نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت میں کذاب اور دجال ستائیس ہوں گے ان میں سے چار عورتیں ہوں گی اور بلاشبہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ 33۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ تم کہو خاتم النبیین اور تم نہ کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ 34۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے مغیرہ بن شعبہ ؓ کے نزدیک یوں کہا صلی اللہ علی محمد خاتم الانبیاء لانبی بعدہ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجے محمد ﷺ پر جو نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مغیرہ نے فرمایا تجھ کو کافی ہے جب تو نے خاتم الانبیاء کہہ دیا اور ہم بیان کرتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لانے والے ہیں اگر وہ تشریف لائیں تو ایک اعتبار سے پہلے اور ایک اعتبار سے بعد میں ہوئے۔ 35۔ ابن الانباری نے المصاحف میں ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ میں حسن اور حسین کو پڑھاتا تھا علی بن ابی طالب ؓ میرے پاس سے گزرے اور میں ان دونوں کو پڑھا رہا تھا آپ نے مھھ سے فرمایا ان دونوں کو یوں پڑھاؤ آیت وخاتم النبیین تاء کی فتح کے ساتھ واللہ الموفق 1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے آیت اذکروا اللہ ذکر کثیرا کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندے پر جو بھی فریضہ مقرر کیا اس کے لیے ایک حد مقرر کردی ہے اور عذر کی حالت میں لوگوں کا عذر قبول کیا ہے۔ اس کا ذکر بھی نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کوئی حد نہیں فرمائی۔ اور اس کے چھوڑنے میں کوئی عذر قبول نہیں کیا مگر جس کی عقل مغلوب ہوجائے یعنی جس کی عقل خراب ہوجائے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کو یاد کرو کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر رات کو دن کو خشکی میں سمندر میں سفر میں حضر میں مالداری میں غرب میں صحت میں بیماری میں چھپے ہوئے اور علانیہ طور پر اور ہر حال میں اور اس کی تسبیح بیان کرو صبح کو اور شام کو جب تم ایسا کروگے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی تم پر اپنی رحمتیں بھیجیں گے اسی کو فرمایا آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ یعنی وہی ذات ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذکر اللہ ذکر اکثیرا یعنی تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو زبان سے سبحان اللہ اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور الحمدللہ کہنے کے ساتھ ہر حال میں یاد کرو آیت وسبحول بکرۃ واصیلا اور صبح وشام اس کی تسبیح بیان کرو یعنی نماز پڑھو اللہ کے لیے صبح کو شام کو۔ ذاکر مجاہد سے بھی افضل ہیں 3۔ احمد والترمذی والبیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سے بندے افضل ہیں درجہ کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک۔ فرمایا اللہ کو کثرے سے یاد کرنے والے میں نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں سے بھی افضل ہیں فرمایا اگر وہ اپنی تلوار سے کفار اور مشرکین کو مارے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہوجائے تب بھی اللہ کا ذکر رکنے والے درجات کے لحاظ سے ان سے افضل ہوں گے۔ 4۔ احمد ومسلم والترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مفردون آگے بڑھ گئے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ مفردون کون ہیں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے۔ 5۔ احمد والطبرانی نے معاذ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کون سے مجاہدین زیادہ اجروالے ہیں ؟ فرمایا ان میں اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے پھر پوچھا کون سے روزے والے زیادہ اجر اجر والے ہیں۔ فرمایا ان میں اللہ کا کثر سے ذکر کرنے والے یعنی نماز پڑھنے والے ذکوۃ دینے والے حج کرنے والے اور صدقہ دینے والے یعنی وہ وہ عمل کرنے والے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے افضل ہیں تو ابوبکر نے عمر سے فرمایا اے ابو ھفص ذکر کرنے والے ہر بھلائی کو لے گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حمدان کے درمیان سے گزر رہے تھے تو آپ نے فرمایا اے معاذ سابقون یعنی آگے بڑھ جانے والے کہاں ہیں ؟ میں نے عرض کیا وہ لوگ تو گزر چکے پھر آپ نے فرمایا اغے بڑھ جانے والے کہاں ہیں جو اللہ کے ذکر کے ساتھ فریفتہ ہیں جو شخص یہ محبوب رکھتا ہو کہ وہ جنت کے باغوں میں چریے یعنی کھائے پیے تو اس کو چاہیے کہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرے۔ 7۔ الطبرانی نے ام انس ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے آپ نے فرمایا گناہ چھوڑدے کیونکہ افضل ہجر ہے اور فرائض کی پابندی کر کیونکہ وہ افضل جہاد ہے اور اللہ کے ذکر کی کثرت کر کیونکہ تو اللہ کے پاس کوئی چیز نہیں لائے گا جو کثرت ذکر سے ان کے نزدیک زیادہ محبوب ہو۔ 8۔ الطبرانی نے الاوسط میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کا ذکر کثرت سے نہ کرے تو وہ ایمان سے بری ہوگیا۔ 9۔ احمد اوب یعلی وابن حیان والحاکم وصححہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کثرت سے کرو یہاں تک کہ لو گتجھے مجنوں کہیں۔ 10۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کرو یہاں تک کہ منافق لوگ کہنے لگیں کہ تم ریا کاری کرنے والے ہو۔ 11۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابو لاجوازاء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا ذکر کرو یہاں تک کہ منافق کہنے لگیں کہ تم ریا کاری کرنے والے ہو۔
Ayah 33:42

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح وشام اس کی تسبیح بیان کرو

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وسبحوہ بکرۃ واصیلا سے مراد ہے صبح کی نماز اور عصر کی نماز۔ 2۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان باتوں میں سے جو اپنے رب تبارک وتعالیٰ کی طرف ذکر کی جاتی ہیں وہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے فرمایا مجھے یاد کر فجر کے بعد اور عصر کے بعدا یک ساعت کے لیے میں تیری کفالت کروں گا درمیان والے وقت میں۔ 3۔ احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھ جاؤں اور میں اس کی بڑائی بیان کروں اور اسکی تعریف بیان کروں اور اسکی پاکی بیان کروں اور لا الہ الا اللہ کہوں یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں دو غلام آزاد کروں یا زیادہ آزاد کروں اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اور عصر کے بعد میں اللہ کا ذکر کروں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے چار غلاموں کو آزاد کروں۔ 4۔ احمد نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو نہ چھوڑے کہ وہ اللہ کے لیے سو نیکیاں کرے جب صبح ہو تو سبھان اللہ وبحمدہ سو مرتبہ کہہ لے۔ اور یہ کام خیر میں سے ہوگا جو اس نے عمل کیا اور اس کے علاوہ وافر مقدار میں ہوگا۔ 5۔ احمد نے معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سبحان اللہ العظیم کہا تو اس کے لیے ایک درخت جنت میں لگ جائے گا۔ 7۔ ابن مرردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سبحان اللہ العظیم کہا اس کے لیے ایک کھجور کا درخت یا کوئی درخت جنت میں لگا دیا جائے گا۔ 9۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والترمذی وابن ماجہ وابن حبان نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہا تو اس کے سارے گناہ معاف کردئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ تسبیحات کو گٹھلیوں پر گننا 10۔ ابن ابی شیبہ نے ہلال بن یسار ؓ نے بیان فرمایا کہ ہمدان کی ایک عورت تھی تسبیح پڑھتی تھی اور ان کو کنکریوں کے ساتھ گنتی تھی یا گٹھلیوں کے ساتھ عبداللہ ؓ سے اس سے فرمایا کہ تجھے اس سے بہتر وظیفہ نہ بتاؤں تو یوں کہہ۔ اللہ اکب رکثیرا وبحان اللہ وبکرۃ واصیلا۔ 11۔ ابن ابی شیبہ نے سعد ؓ سے روایت ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے ہم سے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ایک دن میں ہزار سال کا عمل کرے ایک آدمی نے کہا ہم میں سے کوئی کیسے ہزار سال کا عمل کرسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سو مرتبہ تسبیح بیان کرے۔ تو اسکے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس سے ہزار خطائیں مٹا دی جائیں گی۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے اور وہ ایمان والوں پر رحم فرمانے والا ہے

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب آیت ان اللہ وملئ کہ یصلون علی النبی نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو بھی خیر نازل فرمائی تو ہم اس میں شریک ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ یعنی وہ خود بھی اور اس کے فرشتے بھی تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ فرشتوں کو مومنین کے حق میں دعا 2۔ الحاکم والبیہقی نے دلائل میں سلیم بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابو امامہ ؓ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی نیند میں دیکھا ہے کہ فرشتے آپ پر رحمت کی دعا کرتے ہیں جب بھی آپ داخل ہوتے ہیں اور جب بھی آپ باہر جاتے ہیں اور جب آپ کھڑے ہوتے ہیں اور جب بھی آپ بیٹھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا اگر تم چاہو تو فرشتے تم پر بھی رحمت کی دعا کریں گے پھر یہ آیت پڑھی آیت یا ایہا الذین امنوا اذکرو اللہ ذکر کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح شام اس کی پاکی بیان کرو۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ کے بارے میں روایت کیا کہ آیت صلاۃ اللہ سے مراد ہے اللہ کی ثنا اور ان پر فرشتوں کی صلاۃ سے مراد ہے سلام اور دعا۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ صلاۃ الرب سے مراد ہے رحمت بھیجنا اور صلاۃ الملائکۃ سے مراد ہے استغفار کرنا (بندوں کے لیے ) 5۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرماتے ہیں اور اسکے فرشتے تمہارے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول اللہم صلی علی محمد وعلی اٰل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی اٰل ابراہیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نے فرمایا کہ اللہ تعلایٰ نے محمد ﷺ کی امت کا اکرام کیا اور ان پر ایسی رحمتیں نازل فرمائیں جیسے انبیاء پر رحمتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ وہ خود بھی اور اس کے فرشتے بھی تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں۔ 7۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ کے بارے میں روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ تیرا رب صلاۃ کا عمل کرتا ہے یہ سوال بہت بوجھ بنا موسیٰ (علیہ السلام) کے سینے میں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو بتاؤں کہ مجھ سیصلوۃ کا فعل صادر ہوتا ہے اور میری صلاۃ یہ ہے کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب رہے۔ 8۔ ابن ابی شیبہ نے مصعب بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ جب بندہ کہتا ہے سبحان اللہ تو فرشتے کہتے ہیں وبحمدہ یعنی اس کی حمد کے ساتھ اور جب بندہ کہتا ہے سبحان اللہ وبحمدہ تو پھر اس پر رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ 8۔ ابن ابی شیبہ نے مصعب بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ جب بندہ کہتا ہے سبحان اللہ تو فرشتے کہتے ہیں وبحمدہ یعنی اس کی حمد کے ساتھ اور جب بندہ کہتا ہے سبحان اللہ وبحمدہ تو پھر اس پر رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ 9۔ عبد بن حمید نے شہر بن حوشب (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ اپنے رب سے سوال کر کیا وہ صلاۃ کا فعل کرتا ہے تو یہ سوال ان پر دشوار ہوگیا تو خود اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے موسیٰ ! تیری قوم نے تجھ سے کیا سوال کیا ؟ تو موسیٰ نے کہا عرض کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو بتادو کہ بلاشبہ مجھ سے صلاۃ کا فعل صادر ہوتا ہے۔ اور میری صلاۃ یہ ہے کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب رہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو سب ہلاک ہوجاتے۔ 10۔ ابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہوالذی یصلی علیکم وملئکتہ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندوں پر صلاۃ یہ ہے کہ آیت سبوح قدوس اور میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ 11۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا کیا تیرا رب رحمت کی دعا بھیجتا ہے جو اب دیا ہاں۔ پھر میں نے پوچھا اس کی رحمت کی دعا کس طرح ہے ؟ تو جبرئیل نے فرمایا آیت سبوح قدوس سبقت رحمتی غضبی۔ یعنی ہر عیب سے پاک اور برکتوں والا اور میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ اس سے ملاقات کریں گے ان کا تحیہ سلام ہوگا اور اس نے ان کے لیے اجر کریم تیار فرمایا ہے

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت تحیتہم یوم یلقونہ سلم ان کا تھفہ سلام ہوگا جس دن وہ ملاقات کریں یعنی جنت والوں کا تحیہ سلام ہوگا آیت واعد لہم اجرا کریما اور ان کے لیے عمدہ اجر تیار کر رکھا ہے۔ یعنی جنت۔ ملک الموت کا سلام 2۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن ابی الدنیا فی زذکر الموت وعبد بن حمید وابویعلی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ آیت واعدلہم اجرا کریما یعن جس دن وہ ملک الموت سے ملیں گے اور کوئی مومن ایسا نہیں ہے کہ جب اس کی روح قبض کرتے ہیں تو اس کو سلام کرتے ہیں۔ 3۔ المروزی فی الجنائز وابن ابی الدنیا وابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ملک الموت کسی مومن بندے کی روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ تیرا رب تجھ کو سلام کرتا ہے۔
Ayahs 33:45–48

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی بیشک ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے اور ڈرانے والا

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن کرنے والا چراغ بنا کر بھیجا ہے

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور آپ مومنین کو خوشکبری سنادیجیے کہ بلاشبہ اللہ کی طرف سے ان پر بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانئے اور ان کی ایذاء کو چھوڑئیے اور اللہ پر بھرسو کیجیے اور اللہ کافی کارساز ہے

1۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والخطیب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا نازل ہوئی اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تو آپ نے علی اور معاذ ؓ کو یمن کی طرف جانے کا حکم دیا اور فرمایا دونوں جاؤ پس لوگوں کو بشارت دینا اور نفرت نہ دلانا اور آسانی پیدا کرنا اور تنگی پید نہ کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے آیت یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیر یعنی شہادت دینے والے اپنی امت پر اور خوشخبری دینے والے جنت کی اور ڈرانے والے آگ سے اور بلانے والے لا الہ الا اللہ کی گواہی کی طرف آیت باذنہ وسراجا منیر یعنی قرآن کے ذریعے۔ 2۔ احمد والبخاری وابن ابی حاتم والبیہقی فی الدلائل عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ملا اور میں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ کی صفات کے بارے میں بتائیے جو توراۃ میں ہیں فرمایا ہاں اللہ کی قسم کہ تورات میں بھی آپ کی بعض ایسی صفات ہیں جو قرآن میں آپ کی صفات ہیں جیسے فرمایا یا ایہا النبی انا ارسلنک شاہدا ومبشرا ونذیرا۔ اور آپ امی لوگوں کے نگہبان اور یہ کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے اور آپ نہ تو سخت مزاج والے ہیں اور نہ سکت دل والے ہیں اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے لیکن معاف کرنے والے اور بہت درگزر کرنے والے ہیں۔ 3۔ الحاکم وصححہ والبیہقی نے عرب اس بن ساریہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ اللہ کا بندہ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں کہ میرا باپ یعنی آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی میں لت پت تھا۔ اور اس بارے میں تم کو بتاتا ہوں کہ میں اپنے جد اعلیٰ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں اور اپنی ماں کا خواب ہوں جو اس نے دیکھا تھا اور اس طرح نبیوں کی مائیں دیکھتی ہیں اور بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے ایک روشنی کو دیکھا جب آپ کو جنا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی آیت یا ایہا النبی انا ارسلناک شاہدا ومبشرا ونذیرا سے لے کر منیرا تک۔ رسول اللہ ﷺ کا معصوم ہونا 4۔ ابن جریر نے عکرمہ اور ھسن بصری رحمۃ اللہ علیہما دونوں سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے۔ نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم نے جان لیا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ جائے گا اور ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا یہ معلوم نہ ہوسکا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت وبشر المومنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا اور خوشخبری دیجیے ایمان والوں کو کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا افضل ہے فضل کبیر سے مراد ہے جنت۔ 5۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عتببہ، شیبہ، ابوجہل اور ان کے علاوہ دوسرے کافر جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیجیے یا ہمارے پاس عذاب لے آئیے یا ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسادیجیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ میرے بس میں نہیں میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں دعوت دینے والا خوشخبری دینے وال اور ڈرانے والا بنا کر۔ 6۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا النبی انا ارسلناک میں شاہدا سے مراد ہے امت پر پیغام حق پہنچانے کے بارے میں گواہ آیت ومبشرا، اور جنت کی خوشخبری دینے والا آیت ونذیرا اور دوزخ سے ڈرانے والے آیت وداعیا الی اللہ اور لا الہ الا اللہ کی گواہی کی طرف بلانے والے آیت باذنہ یعنی اس کے حکم سے آیت وسراجا منیرا اس سے مراد اللہ کی کتاب جس کی طرف آپ ان کو دعوت دینے والے ہیں آیت وبشر المومنین بان لہم من اللہ فضلا کبیرا اور خوشخبری دو مومنوں کو کہ ان کے لیے جنت ہے۔ آیت ولا تطع الکفرین والمنفقین ودع اذاہم اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے اور ان کی طرف سے جو تکلیف پہنچے اس کا خیال نہ کیجیے یعنی ان سے اعراض کیجیے۔ 7۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ودع اذاہم سے مراد ہے کہ ان سے اعراض کیجیے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ پھر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو تم ان کو کچھ متاع دے دو اور انہیں خوبی کے ساتھ چھوڑدو

ہمبستری سے پہلے طلاق ہوجائے تو عدت لازم نہیں 1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت اذا نکحتم المومنات کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جس نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر جماع سے پہلے اس کو طلاق دے سی۔ اگر اس کو ایک طلاق دی تو اس سے وہ جدا ہوگئی تو اس عورت پر کوئی عدت نہیں اگر چاہے دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ پھر فرمایا آیت فمتعوہن وسرحوہن سراحا جمیلا تو ان کو کچھ مال دیدو اور خوبصورتی سے ان کو رخصت کردو۔ یعنی اگر اس کے لیے مہر مقرر کیا تھا تو اس کے لیے آدھا مہر ہوگا اور اس کے لیے ہر مقرر نہیں کیا تھا تو اس کو مرد کی حیثیت کے مطابق متعہ ملے گا یہی آیت ” سراحا جمیلا “ ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جس عورت نے نکاح کیا اور شوہر کے ساتھ رات نہیں گزاری اور اس کے لیے مہر بھی مقرر نہیں ہوا تھا تو اس کے لیے نہ تو مہر ہوگا اور نہ اس کے لیے عدت ہوگی۔ 3۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے آیت اذا نکحتم المومنت ثم طلقتموہن کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے اس کو اس آیت نے منسوخ کیا جو سورة بقرہ میں ہے آیت فنصف ما فرضتم یعنی آدھا ہے جو تم نے مقرر کیا۔ 4۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے یا ایہا الذین اٰمنوا اذا نکحتم المومنت سے لے کر آیت فمتعوہن تک کے بارے میں روایت کیا یہ آتی منسوخ ہے اس کو اس آیت نے منسوخ کیا جو سورة بقرہ میں ہے آیت وان طلقتموہن من قبل ان تمسوہن وقد فرجتم لہن فریضۃ فنصف ما فرضتم اگر تم ان کو طلاق دو ان سے جماع کرنے سے پہلے اور تم ان کے لیے مہر مقرر کیا تھا تو آدھا مہر ہے جو تم نے مقرر کیا تو اس کے لیے آدھا مہر ہوگا اور اس کے لیے متعہ نہیں ہوگا۔ 5۔ عبد بن حمید نے حسن اور ابو العالیہ رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اس کے لیے آدھا مہر ہوگا اور اس کے لیے متعہ ہوگا۔ 6۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ہر مطلقہ عورت کے لیے متعہ ہے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کے لیے مہر مقرر کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسین بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی علی بن حسین ؓ کے پاس آیا اور اس نے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے انہوں نے فرمایا کچھ لازم نہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے آیت میں طلاق سے پہلے نکاح کا ذکر کیا ہے جیسے فرمایا آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذا نکحتم المومنت ثم طلقتموہن۔ اے ایمان والو اگر تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر ان کو طلاق دیدو۔ 8۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کہتا ہے اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق ہے تو فرمایا کچھ نہیں ہوگا۔ طلاق اس کے لیے ہے جو طلاق کا مالک ہو ابن مسعود نے فرمایا وہ کہتا ہے جب اس نے کوئی وقت مقرر کردیا تو وہ ہوگا جیسے اس نے کہا ابن عباس نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ابو عبدالرحمن پر یہ کنیت ہے ابن مسعود کی اگر بات اس طرح ہوتی جیسے انہوں نے کہا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن۔ اے ایمان والو ! جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر ان سے نکاح کرلو۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اذا نکحتم المومنت ثم طلقتموہن۔ جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ان کو طلاق دیدو۔ 9۔ عبدالرزاق نے المصنف نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس کو جب یہ بات پہنچی کہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی ایسی عورت کو طلاق دیدے جس سے ابھی اس نے نکاح نہیں کیا تو یہ اس کے لیے جائز ہے تو ابن عباس نے فرمایا اس میں انہوں نے غلطی کی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت اذ انکحتم المومنات ثم طلقتموہن من قبل ان تمسوہم اور یوں نہیں فرمایا آیت اذا طلقتم المومت ثم نکحتموہن۔ 10۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ من طریق طاؤس ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یا ایہا الذین اٰمنوا اذا نکحتم المومنت ثم طلقموہن من قبل ان تمسوہن تلاوت فرمائی اور فرمایا اس وقت تک طلاق نہیں جب تک نکاح نہ ہو۔ 11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی نے کہا ہر عورت کہ جس سے میں نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے یا کہا اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں تو اس کو طلاق ہے تو طلاق واقع نہی ہوئی طلاق وہ دے سکتا ہے جو طلاق کا مالک ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت اذا نکحتم المومنت ثم طلقتموہن۔ 12۔ الحاکم وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں طلاق مگر نکاح کے بعد اور نہیں ہے آزاد کرنا مگر مالک بننے کے بعد۔ 14۔ عبدالرزاق وابوداوٗد والنسائی وابن مردویہ نے عمرو بن شعیب (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس میں ملکیت نہ ہو اس میں طلاق واقع نہیں ہوتی اور جس میں ملکیت نہ ہو اس میں بیع نہیں ہوتی۔ اس چیز میں نذر کو پورا کرنا لازم نہیں جس میں ملکیت نہ ہو وہ بھی کوئی نذر نہیں جس میں اللہ کی رضا نہ ہو جو آدمی نافرمانی پر قسم اٹھائے تو اس پر کوئی قسم نہیں اور جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی تو اس پر بھی قسم لازم نہ ہوگی۔ 15۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس عورت میں کوئی طلاق نہیں کہ جس کا تو مالک نہیں اور اس غلام میں کوئی آزادی نہیں جس کا تو مالک نہیں۔ 16۔ ابن ماجہ وابن مردویہ نے مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں اور ملکیت سے پہلے کوئی آزادی نہیں ہے۔