33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 33:28–30

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی آپ اپنی بیویوں سے فرمادیجیے کہ اگر تم دنیا والی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں فائدہ پہنچادوں اور تمہیں خوبی کے ساتھ چھوڑدوں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کو اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور دار آخرت کو بلاشبہ اللہ نے ان عورتوں کے لیے جو تم میں اچھے کام کرنے والی ہوں بڑا اجر تیار فرمایا ہے

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی بیوی تم میں سے جو بیوی بےہودگی کرے گی اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے

ازواج مطہرات کا آپ ﷺ سے نفقہ کا مطالبہ 1۔ احمد ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابی الزبیر کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور لوگ آپ کے دروازے پر جمع تھے اور نبی ﷺ تشریف فرما تھے مگر ان کو اجازت نہیں دی گئی۔ پھر ابوبکر اور عمر ؓ دونوں کو اجازت مل گئی دونوں اندر داخل ہوئے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی ازواج مطہرات آپ کے ارد گرد تھیں اور آپ خاموش تھے عمر ؓ نے فرمایا میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے بات کروں گا شاید کہ آپ مسکرا پڑیں۔ عمر نے فرمایا اگر میں کہ زید کی بیٹی (عمر ؓ کی بیوی) بھی مجھ سے نفقہ طلب کرے تو میں اسکی گردن مروڑ دوں یہ سنکر نبی ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپکی داڑھیں ظاہر ہوگئیں اور فرمایا یہ عورتیں بھی میرے اردگرد مجھ سے نفقہ کا سوال کر رہی ہیں اس پر ابوبکر عائشہ کی طرف کھڑے ہوئے تاکہ اس کو ماریں اور عمر حفصہ کی طرف کھڑے ہوئے دونوں یہ کہہ رہے تھے کہ نبی ﷺ سے ایسی چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو منع فرمادیا اور آپ کی ازواج نے کہا۔ اللہ کی قسم ہم رسول اللہ ﷺ سے اس مجلس کے بعد کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے دو باتوں سے ایک بات کو اختیار کرنے کا حکم نازل فرمایا آپ نے عائشہ سے گفتگوکا آغاز فرمایا اور فرمایا میں تجھ سے ایسی بات کرنے والا ہوں اور میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تو اس میں جلدی کرے یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کرے عائشہ ؓ نے پوچھا وہ کیا بت ہے تو آپ نے یہ آیت یا ایہان النبی قل الازواجک اے نبی پنی بیویوں سے فرمادیجیے، یہ سن کر عائشہ نے فرمایا کیا آپ کے بارے میں میں والدین سے حکم طلب کروں گی بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہو اور یہ بھی عرض کرتی ہوں کہ جن عورتوں کے بارے میں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کس سے اس کا ذکر نہ کریں آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے کسی کی لغزش کی جستجو کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے سکھانے وال اخوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا ہے جن عورتوں کے بارے میں مجھے اختیار دیا گیا ہے ان میں سے جو بھی مجھ سے سوال کرے گی میں اسے وہ دے دوں گا۔ 2۔ ابن سعد نے ابو سلمہ حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ میں بیٹھا ہوا تھا ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس اور وہ دونوں باتیں کر رہے تھے اور جابر کی بینائی جا چکی تھی ایک آدمی آیا اور بیٹھ گیا پھر پوچھا اے ابوعبداللہ ! عروہ بن زبیر نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں آپ سے اس بارے میں سوال کروں کہ کس لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں سے علیحدہ اختیار کی تھی جاب رنے فرمایا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک رات اس حال میں چھوڑا کہ آپ نماز کے لیے باہر تشریف نہ لائے اگلی پچھلی مصیبتوں نے ہم کو اپنی گرفت میں لے لیا ہم آپ کے دروازے پر جمع ہوگئے آپ ہماری گفتگو سن رہے تھے کہ ہماری جگہ کو جانتے تھے ہمارا ٹھہرنا لمبا ہوگیا نہ آپ نے ہم کو اندر آنے کی اجازت دی اور نہ ہی آپ ہماری طرف باہر نکلے ہم نے کہا رسول اللہ ﷺ ہمارے بیٹھنے کو جانتے ہیں آپ اجازت دینے کا ارادہ فرماتے تو تم کو اجازت دے دیتے۔ اس لیے اب چلے جاؤ اور ان کو تکلیف نہ دو سب لوگ عمر کے علاوہ چلے گئے وہ کھانسے اور انہوں نے بات کی اور اجازت طلب کی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اجازت دیدی عمر نے فرمایا کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ اپنے اپنے ہاتھ مبارک کو اپنے رخسار پر رکھے ہوئے تھے جس سے میں نے آپ کے سخت رنج کو پہنچان لیا میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ وہ کونسی چیز ہے جس نے آپ کو غم میں ڈال دیا صحابہ کو کیا ہو جو آپ کی زیارت سے محروم ہیں۔ فرمایا اے عمر عورتوں نے مجھ سے ایسی بات کا سوال کیا ہے جو میرے پاس نہیں اس وجہ سے مجھ کو رنج پہنچا ہے جو تو دیکھ رہا ہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میں نے جمیلہ بن ثابت کو ایسا طمانچہ مارا ہے جس سے اس کا رخسار زمین سے جا لگا کیونکہ انہوں نے مجھ سے ایسی چیز کا سوال کیا ہے جو میرے پاس نہیں تھی اور یارسول اللہ آپ سے تو اللہ کا وعدہ ہے وہ تنگی کے بعد آسانی لانے والا ہے۔ عمر نے فرمایا کہ میں برابر آپ سے بات کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ سے کچھ غصہ جاتا رہا میں باہر نکلا اور ابوبکر صدیق سے ملا اور میں نے ان کو ساری باتیں بتائیں تو ابوبکر عائشہ کے پاس گئے اور فرمایا تو خوب جانتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم سے چھپا کر کوئی چیز ذخیرہ نہیں رکھتے سو تو ان سے ایسی چیز کا سوال نہ کر جو آپ کے پاس نہ ہو اپنی ضور کو دیکھو تو مجھ سے کہہ دی کرو اور عمر حفصہ کی طرف گئے اور اس کو اسی طرح کہا پھر دونوں حضرات باری باری امہات المومنین کے پاس گئے اور ان کو بھی اسی طرح نصیحت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی قل لا ازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتہا فتعالین امتعکن واسرحکن سراحا جمیلا۔ اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی سجاوٹ کی خواستگار ہو تو آؤ میں تم کو سامان دیدوں اور خوبصورتی کے ساتھ تم کو رخصت کردوں سراح سے مراد طلاق ہے یعنی ان کو اچھی طرح طلاق دے دو ۔ آیت وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاٰخرۃ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجر عظیما۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آکرت کی خواستگارہو کہ بلاشبہ اللہ نے تم میں سے نیک کاروں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور عائشہ ؓ سے گفتگو کا آغاز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تم سب کو اختیار دے دوں دو باتوں کے درمیان کہ چاہو تو تم اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرلو چاہو تو دنیا اور اس کی زینت کو اختیار کرلو اور اور میں نے تیرے ساتھ اس بات کو شورع کیا ہے اور میں نے تجھ کو اختیار دیا ہے کہ جس بات کو چاہے اختیار کرلے عائشہ نے عرض کیا آپ نے مجھ سے پہلے بھی کسی سے گفتگو کی ہے آپ نے فرمایا نہیں تو عائشہ نے کہا بالشبہ میں اللہ اسکے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں میری یہ بات چھپائے رکھیں اور اپنی عورتوں میں سے کسی کو نہ بتائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے ان کو ضرور بتاؤں گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے سب کو یہ بات بتادی تو سب نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرلیا یہ دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار تھا کہ تم اختیار کرلو دنیا کو یا آخرت کو تو فرمایا آیت وان کنتن تردن اللہ ورسولہ والدار الاٰخرۃ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجر عظیما ازواج مطہرات نے اسے پسند کیا کہ وہ آپ کے بعد نکاح نہیں کریں گی پھر فرمایا آیت النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ اے نبی کی بیوی جو تم سے کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اس کو دگنی سزا دی جائے گی یعنی کوئی بدکاری کرے گی یضعف لہا العذاب ضعفین یعنی اس کو دگنی سزا دی جائے گی آخرت میں آیت وکان ذلک علی اللہ یسیرا اور یہ دوہرا عذاب دینا اللہ پر آسان ہے۔ آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ یعنی جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی۔ آیت وتعمل صالحا نوتہا اجرہا مرتین اور نیک عمل کرے گی تو ہم اس کو دوگنا اجر دیں گے۔ یعنی اس کے لیے دہرا اجر ہوگا آخرت میں آیت واعتدنا لہا رزقا کریما اور اس کے لیے ہم نے بہت عمدہ رزق تیار کر رکھا ہے۔ آیت ینساء النبی لستن کا حد من النساء ان اتقیتن فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض۔ اے نبی کی عورتو ! تم کسی دوسری عورت کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو گی اور چبا کر بات نہ کیا کرو کہیں اس شخص کو جس کے دل میں بیماری ہے کچھ لالچ ہونے گے۔ یعنی بدکاری کا مرض ہے۔ آیت ولا تبرجن (اور نہ جاہلیت والا بناؤ سنگھار کرو) یعنی دور جاہلیت والی زب وزینت ظاہر نہ کرے بلکہ پردہ ڈالیں پھر جابر نے فرمایا کیا حدیث اسی طرح نہیں تو ابو سعید خدری نے فرمایا کیوں نہیں اسی طرح ہے۔ 3۔ البخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جب ان کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دو تو آپ نے مجھ سے شروع فرمایا آپ نے فرمایا میں تجھ سے ایک بات ذکر کرنے والا ہوں اس میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرنا اور رسول اللہ ﷺ کو علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی کی اجازت نہیں دیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتہا دو آیتوں کے ختم تک تو میں نے عرض کیا اس میں سے بات کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور آخرت تو ترجیح دیتی ہوں اور نبی ﷺ کی ساری بیویوں نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ کی عقلمندی 4۔ ابن سعد نے عمرو بن سعید (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے دادا اور والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کو اختیار دیا تو عائشہ سے شروع کتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اختیار دیا ہے تو عائشہ نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں۔ پھر حفصہ نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا اور سب عورتوں نے کہا ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا ہے سوائے عامر یہ کے کہ اس نے اپنی قوم کو اختیار کیا پھر وہ بعد میں کہتی تھیں کہ میں بدبخت ہوں وہ مینگنیاں اٹھاتی اور ان کو بیچتی تھی اور نبی ﷺ کی بیویوں کے پاس آتی اور کہتی تھی میں بدبخت ہوں۔۔ 5۔ ابن سعد نے ابو جعفر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی عورتیں ہم سے مہنگے مہر والی عورتیں نہیں تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی لیے غیرت کی اور اپنے رسول کو حکم دیا کہ ان سے علیحدگی اختیار کریں تو رسول اللہ ﷺ کی نے ان سے انتیس دن کی علیحدگی اختیار کرلی پھر ان کو حکم دیا کہ ان کو اختیار دے دو تو آپ نے ان کو اختیار دے دیا۔ 6۔ ابن سعد نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا سوائے عامرہ کے سب نے آپ ﷺ کو اختیار کیا وہ بےعقل تھیں یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ 7۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عائشہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ آپ ایک ماہ تک ہم سے الگ رہیں گے پھر آپ انتیسویں دن کی صبح کو میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ نے یہ قسم نہ اٹھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس نہیں آئیں گے۔ فرمایا مہینہ اتنے اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور آپ سارا ہاتھ مارتے پھر پیچھے کرلیتے پھر آپ نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کو بند کیا پھر فرمایا اے عائشہ میں تجھ سے ایک بات کرنے والا ہوں تم جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کرلے اور رسول اللہ ﷺ کو میری چھوٹی عمر کا خوف تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا بات ہے آپ نے فرمایا مجھے تمہارے بارے میں اختیار کا حکم دیا گیا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یا ایہا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا وزینتہا سے لے کر اجرا عظیما تک عائشہ نے کہا یا رسول اللہ میں کس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرتی ہوں اس سے رسول اللہ ﷺ خوش ہوگئے اور جب آپ کی ازواج مطہرات نے یہ بات سنی تو انہوں نے یہی جواب دیا۔ ٌآ ؓ ٌَآ 8۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو دنیا اور آخرت میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ہ اور حسن ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا کہ ان کو دنیا اور آخرت اور دوزخ کے درمیان اختیار دے دو اور حسن نے فرمایا کہ انہوں نے دنیا کی کسی چیز کا مطالبہ کیا تھا اور قتادہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ نے ایک معاملہ میں غیرت کی تھی ان دنوں نو عورتیں آپ کے نکاح میں تھیں پانچ عورتیں قریش میں سے عائشہ حفصہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان، سودہ بنت زمعہ اور ام سلمہ بنت ابو امیہ اور صفیہ بھی آپ کے نکاح میں تھیں جو خبیر کے سردار کی بیٹی تھیں اور میمونہ بنت الحارث الہلالیہ اور زینب بنت جحش الاسدیہ اور جویریہ بنت الحارث بنو مصطلق میں سے آپ نے عائشہ سے گفتگو کا آغاز فرمایا تو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرلیا یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک میں خوشی ظاہر ہوئی یہ سن کر تمام ازواج نے ایسا ہی کیا جب آپ نے ان کو اختیار دیا اور انہوں نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس بات پر ان کی تعریف کی اور فرمایا آیت لا یحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بہن من ازواج ولو اعجبک حسنہن یعنی ان کے علاو اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان بیویوں کی جگہ دوسری بیویاں کرلیں خواہ آپ کو ان کا حسن اچھا لگے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر محدود کردیا اور وہ ازواج مطہرات تھیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا تھا۔ 10۔ ابنب حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے اس آیت ینساء النبی من یات کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ اس آیت کے ذریعہ اپنی ازواج مطہرات کو خبر دے، چناچہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو اختیار نہیں کیا سوائے حمیرہ کے۔ یہ روایت ابن ابی حاتم میں بلاسند مذکور ہے، صحیح روایت میں ہے کہ اس موقع پر تمام ازواج مطہرات نے آپ کو قبول کیا تھا اور عامر کا یہ واقعہ اور موقع کا ہے۔ 11۔ البیہقی نے سنن میں مقاتل بن سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ینساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ اے نبی کی بیویو جو تم میں سے کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی اس کو دہری سزا دی جائے گی یعنی نبی ﷺ کی نافرمانی کرے گی۔ آیت یضعف لہا العذاب ضعفین اس کے یے عذاب دگنا کیا جائے گا یعنی آخرت میں آیت وکان ذالک علی النبی عبدل اور یہ دہرا عذاب دینا اللہ پر آسان ہے یعنی اس کا عذاب اللہ کے نزدیک آسان ہے۔ آیت ومن یقنت یعنی جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی آیت وتعمل صالحا نوتہا اجرہا مرتین یعنی جو تم میں سے نیک عمل کرے گی ہم اس کو دہرا اجر دیں گے یعنی آخرت میں ہر نماز روزہ صدقہ یا تکبیر یا تسبیح زبان کے ساتھ کہ ہر نیکی کی جگہ ہم بیس نیکیاں لکھیں گے۔ آیت واعتدنا لہا رزقا کریما اور ہمارے پاس اس کے لیے عمدہ رزق ہے۔ آیت یعنی رزقا کریما سے مراد جنت ہے۔ 12۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یضعف لہا العذاب ضعفین سے مراد ہے دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت یضعف لہا العذاب ضعفین سے مراد ہے کہ ان کے عذاب کو دگنا کردیا جائے گا۔ اور جس نے ان پر جھوٹی تہمت لگائی اس پر بھی دگنی حد ہوگی۔ 14۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ینساء النبی (پوری آیت) سے مراد ہے کہ گناہ کے بارے میں انبیاء کے خلاف گواہی متبعین سے سخت ہوتی ہے اور علماء کے خلاف گواہی دوسرے لوگوں کے خلاف گواہی سے سخت ہوتی ہے نبی ﷺ کی بیویو کے خلاف گواہی دوسری عورتوں کے خلاف گواہی سے سکت ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا جس نے تم میں سے نافرمانی کی تو مومن کی عورتوں سے ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا۔
Ayahs 33:31–32

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو عورت اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی ہم اس کا ثواب دہرا کردیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم تیار کیا ہے

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو ! تم دوسری عورتوں میں سے کسی عورت کی طرح نہیں ہو اگر تم تقوی ٰ اختیار کرو تو نرمی سے بات نہ کرو کہ ایسا شخص لالچ نہ کرنے لگے جس کے دل میں مرض ہو اور مناسب طریقہ پر بات کرو

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالح اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی یعنی جو تم میں سے اللہ کی اطاعت کرے گی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی یعنی جو تم میں سے اللہ کی اطاعت کرے گی اللہ اور اس کے رسول کے لیے اطاعت کے ذریعہ نیک عمل کرے۔ 2۔ ابن سعد نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کی آیت ومن یقنت منکن للہ ورسولہ یعنی تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے آیت وتعمل صالحا یعنی روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔ 3۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار لوگ ایسے ہیں جن کو دگنا اجر دیا جاتا ہے ان میں سے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات بھی ہیں۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ثوات اور عقاب میں ہماری طرح ہیں۔ 5۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لستن کا حد من النساء یعنی تم اس امت کی عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ینساء النبی لستن کا حد سے مراد ہے کہ تم نبی ﷺ کی بیویاں ہو اور اس کے ساتھ تم نبی ﷺ کا دیدار کرتی ہو اور اس وحی کو دیکھتی ہو جو ان کے پاس آسمان سے آتی ہے اس لیے تم دوسری عورتوں کی بنسبت تقوی کی زیادہ مستحق ہو آیت فلاتخضعن بالقول یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ فحش باتیں نہ کریں آیت فیطمع الذی فی قلبہ مرض تو وہ لالچ کرے گا جس کے دل میں بیماری ہے زنا کی یعنی وہ بدکاری کی تہمت لگادے گا 7۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلاتخضعن بالقول یعنی وہ بات کرنے میں مردوں کو رخصت نہ دیں اور نہ بےحیائی والی باتیں کریں۔ 8۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلاتخضعن بالقول یعنی وہ بات کرنے میں مردوں کو رخصت نہ دیں اور بےحیائی والی باتیں کریں۔ 9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیطمع الذی فی قلبہ مرض سے مراد ہے زنا کی شہوت۔ 10۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فیطمع الذی فی قلبہ مرض کے بارے میں پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے فرمایا اس سے مراد ہے فجور زنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ حافظ للفرج راض بالتقی لیس ممن قلبہ فیہ مرض ترجمہ : شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا اور تقوی کے ساتھ راضی ہونے والا اور وہ ان لوگوں میں نہیں جس کے دل میں بیماری ہے۔ 11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے زید بن علی (رح) سے روای کیا کہ مرض دو ہیں بدکاری کا مرض اور نفاق کا مرض۔ 12۔ ابن سعد نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیطمع الذی فی قلبہ مرض میں مرض سے مراد زنا کا مرض آیت وقلن قولا معروفا یعنی ایسا ظاہر کلام جس میں کسی کی طمع نہ ہو۔
Ayah 33:33

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جہالت کے دستور کے موافق نہ پھرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھروالوتم گندگی کو دور فرمادے اور تم کو اچھی طرح پاک کردے

حضرت سودہ ؓ کا گھر سے باہر نہ نکلنا 1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت سودہ نبی ﷺ کی بیوی سے کہا گیا آپ کو کیا ہوا کہ آپ حج نہیں کرتیں اور نہ عمرہ کرتی ہیں جس طرح دوسری ازواج مطہرات کرتی ہیں انہوں نے فرمایا میں نے حج اور عمرہ کیا ہوا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں اپنے گھر میں ٹھہری رہوں اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر سے نہیں نکلوں گی یہاں تک کہ میں مرجاؤں راوی نے کہا اللہ کی قسم ! وہ اپنے کمرے کے دروازے سے نہیں نکلیں یہاں تک کہ وہاں سے آپ کا جنازہ نکالا گیا۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن سعد و عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد وابن المنذر نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ جب یہ آیت وقرن فی بیوتکن پڑھتی تھیں تو اتنا روتی تھی یہاں تک کہ آپ کا دوپٹہ مبارک تر ہوجاتا۔ 3۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے سال یہ فرمایا اور تمام ازواج مطہرات پردہ کیا کرتی تھیں مگر زینت بنت جحش ؓ اور سودہ بنت زمعہ ؓ دونوں کہتی تھیں اللہ کی قسم جب سے ہم رسول اللہ ﷺ یہ بات سنی ہے ہم سوار پر سوار نہیں ہوتیں۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ام نائلہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو برزہ آئے اور انہوں نے اپنی ام ولد کو گھر میں نہ پایا لوگوں نے کہا کہ وہ مسجد کی طرف گئی ہیں جب وہ واپس آئیں تو بلدن آواز سے ان کو ڈانٹا اور کہا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو نکلنے سے منع فرمادیا ہے۔ اور ان کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم فرمایا ہے اور جنازہ کے پیچھے نہ جائیں اور مسجد میں نہ آئیں اور جمعہ میں حاضر نہ ہوں۔ 5۔ الترمذی والبزار نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت پردہ میں رکھنے کی چیز ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے۔ اور وہ اپنے رب کی رحمت سے زیادہ قریب ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصہ میں ہوتی ہے۔ 6۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ عورتوں کو گھروں میں روکو کیونکہ عورتیں پردہ میں رکھنے والی چیزیں ہیں اور جب عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور اس کو کہتا ہے بلاشبہ جب تو کسی کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ تجھے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ 7۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا عورتوں کے بارے میں کم لباس سے مدد لو ان میں سے جب کسی کے کپڑے زیادہ ہوتے ہیں اور اس کی زینت زیادہ ہوتی ہے تو پھر اس کو باہر نکلنا اچھا لگتا ہے۔ 8 البزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا یارسول اللہ مرد اللہ کی راہ میں جاہد میں شریک ہو کر فضیلت لے گئے۔ ہمارے لیے کیا عمل ہے کہ ہم مجاہدین فی سبیل اللہ کی فضیلت کو پالیں تو آپ نے فرمایا جو عورت تم میں سے اپنے گھر میں ٹھہری تو وہ مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجہ کو پالیتی ہیں۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پہلا دور جاہلیت حضرت نوح اور حضرت ادریس (علیہما السلام) کے درمیان کا ہے اور وہ ہزار سال کا زمانہ تھا حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں ایک خاندان پہاڑوں میں رہتا تھا دوسرا میدانی علاقہ میں رہتا تھا پہاڑوں میں رہنے والے مرد خوبصورت مگر عورتیں بدصورت تھیں اور میدانی علاقے کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مرد بدصورت تھے۔ ایک بار ابلیس لڑکے کی صورت میں ایک میدانی علاقے کے مرد کے پاس آیا اور اس کے پاس نوکر ہوگیا اور خدمت کرنے لگا پھر ابلیس نے چرواہوں جیسی بانسری لی اور ایسی آواز سے بجانے لگا جو لوگوں نے کبھی نہیں سنی تھی آس پاس کے لوگوں کو یہ آواز پہنچی تو وہ سننے کے لیے باری باری آتے انہوں نے ایک عید کا دن مقرر کیا جہاں وہ سال میں جمع ہوتے عورتیں لوگوں کے لیے زیب وزینت کا اظہار کرتیں اور مرد عورتوں کے لیے ایسا ہی کرتے ایک روز کوئی پہاڑی آدمی ان کی عید کے موقعہ پر اچانک ان کے پاس آیا اور اس نے عورتوں اور ان کی خوبصورتی کو دیکھا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور اس بارے میں ان کو بتایا وہ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کے ہاں ٹھہرے اس طرح ان عورتوں میں بےحیائی آئی اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے آیت ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی اور قدیم زمانہ جاہلیت کے موافق بناؤ سنگھار کر کے مت پھرو۔ 10۔ ابن جریر نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولاتبرجن تبرج الجاہلیۃ الا اولی کے بارے میں فرمایا کہ یہ آدم اور نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ سو سال کا دور تھا کہ ان کی عورتیں بہت بد صورت تھیں ان کے مرد خوبصورت تھے عورت خواہش کرتی کہ مرد اس سے خواہشیں پوری کریں۔ یعنی بدکاری کا ارادہ کرتی تھیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ 11۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ابن عباس سے سوال کیا کہ مجھے بتاؤ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں جو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں فرمایا آیت ولاتبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی کیا جاہلیت ایک کے علاوہ اور بھی ہے ابن عباس نے فرمایا میں نے کوئی ایسا قول نہیں سنا جس کا آخر نہ ہو عمر ؓ نے ان سے فرمایا مجھے اللہ کی کتاب میں سے بتائیے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہو تو ابن عباس ؓ اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ کما جاہدتم اول مرۃ اور تم اللہ کی رضا میں جہاد کرو اس کے جہاد کا حق ادا کرتے ہوئے جیسے تم نے پہلی مربہ جہاد کیا عمر نے پوچھا ہمیں کن سے جہاد کا حکم دیا گیا فرمایا بنو مخزوم اور بنو عبد شمس سے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولاتبرجن تبرجج الجاہلیۃ الاولی کے بارے میں فرمایا کہ یہ دوسری جاہلیت میں ہوگا۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا کہ پہلی جاہلیت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں تھیں۔ 14۔ ابن سعد نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الجاہلیۃ الاولی کا وہ زمانہ ہے جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی اور دوسری جاہلیت وہ ہے جس میں محمد ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ 15۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجاہیلۃ الاولی یعنی پہلی جاہلیت عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے درمیان تھی۔ عورتیں مردوں سے الگ ہو کر چلیں 16۔ ابن جریر نے شعبی (رح) نے اسی طرح روایت کیا 17۔ ابن سعد وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عورت باہر نکلتی تھیں تو مردوں کے درمیان چلتی تھیں اسی کو فرمایا ولاتبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولیٰ 18۔ البیہقی نے اپنی سنن میں ابو اذینہ الصدفی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے بری عورتیں بناؤ سنگھار کر کے باہر نکلنے والی ہیں اور وہ منافق عورتیں ہیں ان میں سے کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوگی مگر اس کوے کی طرح جس کے پاؤں سفید ہوں۔ 19۔ ابن جریر وابن المنذر واب ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی کے بارے میں فرمایا کہ جب تم اپنے گھروں سے نکلو اور ان کی ایسی چال ہو جس میں لچک اور ناز ونخرہ ہو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرمایا۔ 20۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن نجیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی سے مراد ہے متکبرانہ چال چلنا۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے آیت الا تبرجن (پوری آیت) میں البرج سے مراد ہے کہ دوپٹے کو سر سے اتارنا اور اس کو سر پر نہ باندھنا کہ وہ اس کے ہار کو اور اس کے کان بالیوں کو اور ساری گردن کو چھپاتا ہے۔ سر سے اتارنے کی وجہ سے اس کی یہ سب چیزیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور یہ تبرج ہے پھر مسلمان عورتوں میں تبرج عام ہوگیا۔ 22۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ سے عورتوں نے بیعت فرمائی اور فرمایا آیت ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولیٰ تو ایک عورت نے کہا یارسول اللہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ ہم پر شرط لگا رہے ہیں کہ ہم تبرج نہ کریں مگر فلاں عورت نے میرے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی اور اس کا بھائی مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جاؤ تم بھی ایسا کر آؤ پھر میرے پاس آؤ اور بیعت کرو۔ 23۔ ابن ابی حاتم وابن عساکر عکرمہ کے واسطہ سے ابن عباس نے فرمایا کہ آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرج اہل البیت (اے اہل بیت اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا چاہتا ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی اور عکرمہ نے فرمایا کہ جو چاہے اس کا اطلاق اپنے اہل پر کرے مگر یہ آیت نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی۔ 24۔ ابن مردویہ نے سعید بن جبیر کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی۔ 25۔ ابن جریر وابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت کہ اس کا وہ مطلب نہیں ہے جس طرف لے جاتے ہو بلکہ اس سے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات مراد ہیں۔ 26۔ ابن سعد نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت میں اہل بیت سے مراد نبی ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں اور یہ آیت عائشہ ؓ کے گھر میں نازل ہوئی۔ حضرت علی اور ان کی اولاد بھی اہل بیت میں داخل ہیں 27۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں سوائے ہوئے تھے اور آپ پر خیبر کی بنی ہوئی چادر تھی۔ فاطمہ ؓ ایک ہنڈیا لائیں جس میں خزیرہ ایک قسم کا سالن تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے خاوند اور اپنے بیٹوں حسن اور حسین ؓ کو بھی بلاؤ انہوں نے ان کو بلا لیا اس درمیان کہ وہ سب کھانا کھا رہے تھے اچانک رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری آیت انما یردیا للہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا اے اہل بیت اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور کام طور پر تم کو پاک کرنا چاہتا ہے نبی ﷺ نے اپنی چادر مبارک کا باقی ماندہ حصہ پکڑا اور ان سب کو ڈھانک دیا پھر اپنا ہاتھ چادر سے نکالا اور اس کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا پھر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل بیت میں اور میرے خاص لوگ ہیں ان سے نجاست کو دور کردے اور ان کو خوب پاک کردے اس کو تین مرتبہ آپ نے فرمایا ام سلمہ نے عرض کیا اور میں نے اپنے سر کو اس چادر کے اندر کیا اور کہا یارسول اللہ میں بھی تمہارے ساتھ ہوں آپ نے فرمایا بلاشبہ تو خیر کی طرف ہے یہ بات دو دفعہ ارشاد فرمائی۔ 28۔ الطبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت فاطمہ ؓ اپنے والد یعنی نبی ﷺ کی اس طرف ثرید کھانا لے کر آئیں اور اس کو ایک کھلے برتن میں ڈالا ہوا تھا یہاں تک کہ اسے آپ کے سامنے رکھ دیا آپ نے اس سے فرمایا تیرا چچازاد کہاں ہے۔ یعنی تیرا خاوند عرض کیا وہ گھر میں ہے فرمایا جاؤ اس کو اور اپنے بیٹوں کو لے آؤ حضرت فاطمہ ؓ اپنے بیٹوں کو ایک ایک ہاتھ میں پکڑ کے تشریف لائیں اور علی ؓ اپنے بیٹوں کو ایک ایک ہاتھ میں پکڑے تشریف لائے اور علی ؓ ان دونوں کے پیچھے چل رہے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر داخل ہوگئے آپ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھالیا علی ؓ آپ کی داہنی جانب اور فاطمہ آپ کے بائیں جانب بیٹھ گئیں ام سلمہ نے کہا میں نے اپنے نیچے سے وہ چادر پکڑی جو گھر میں نیند کی حالت میں ہمارا بستر ہوا کرتی تھیں۔ 29۔ الطبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ سے فرمایا اپنے خاوند کو اور اپنے بیٹو کو میرے پاس لے آؤ وہ ان کو لے آئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر فد کی چادر ڈالی جو فدک کے علاقے کی بنی ہوئی تھی۔ پھر اپنا ہاتھ مبارک ان پر رکھ کر فرمایا اے اللہ یہ لوگ محمد ﷺ کے اہل میں سے ہیں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ یہ محمد ﷺ کی آل میں سے ہیں اپنی رحمتوں اور اپنی برکتوں کو آل محمد پر اسی طرح جیسے آپ نے آل ابراہیم پر فرمائیں بلاشبہ آپ تعریف کیے ہوئے بزرگی والے ہیں ام سلمہ نے کہا کہ میں نے چادر کو اوپر اٹھایا تاکہ میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوجاؤں آپ نے میرے ہاتھ سے چادر کو کھینچ لیا اور فرمایا کہ بلاشبہ تو خیر پر ہے۔ 32۔ الترمذی وصححہ وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت میرے گھر میں نازل ہوئی اور گھر میں فاطمہ، علی حسن اور حسین ؓ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان پر ایک چادر اوڑھی جو آپ پر تھی پھر فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں اے اللہ ان سے ناپاکی کو دور کردے اور ان کو پاکیزہ بنادے۔ 33۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی میں حضرت علی اور فاطمہ اور حسن حسین ؓ آیت یہ ہے آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔ 34۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو باہر نکلے اور آپ پر دھاری دار سیاہ بالوں کی چادر تھی حسن اور حسین ؓ آئے تو آپ نے ان دونوں کو اس میں داخل کردیا پھر علی ؓ آئے تو ان کو بھی اپنے ساتھ داخل کرلیا پھر فرمایا آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرج اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔ 35۔ ابن جریر والحاکم وابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے علی، فاطمہ اور ان کے بیٹوں نے حسن حسین ؓ کو اپنے کپڑے کے نیچے داخل کرلیا پھر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں۔ 36۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی نے اپنی سنن میں واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ کے پاس آئے اور ان کے ساتھ حسن حسین اور علی ؓ تھے یہاں تک گھر میں داخل ہوئے آپ نے علی اور فاطمہ کو قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے آگے بٹھایا اور حسن حسین ؓ کو اپنی رانوں پر بٹھایا پھر ان پر کپڑے کو لپیٹ دیا جبکہ میں ان کے باہر تھی پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔ 37۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فاطمہ کے دروازہ سے گزرتے تھے جب نماز کے لیے جارہے ہوتے اور فرماتے تھے آیت الصلوۃ یا اہل البیت الصلوۃ آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔ 38۔ مسلم نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اہل بیت کے بارے میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ حضرت زید ؓ سے پوچھا گیا آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں جواب دیا کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل بیت میں سے ہیں لیکن آپ کے وہ اہل بیت جن پر بعد میں صدقہ حرام کیا گیا وہ آل علی آل عقیل آل جعفر اور آل عباس ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا پاکیزہ نسب 39۔ الحکیم الترمذی والطبرانی وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی الدلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم فرمادیا ہے اور مجھے اس میں سے بہتر حصہ میں رکھا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت واصحب الشمال ما اصحب الشمال کا یہی مطلب ہے میں اصحاب الیمین میں سے ہوں اور میں اصحاب الیمین میں سے بہترین لوگوں میں سے ہوں پھر دو قسموں کو مزید تین حصوں میں تقسیم فرمایا پھر مجھے ان میں سے بہترین میں رکھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت فاصحب المیمنۃ ما اصحب المیمنۃ واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ والسبقون السبقون (الواقعہ) پھر داہنے والے کیا ہی خوب ہیں داہنے والے اور بائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے اور سب سے اول ایمان لانے والے سب سے اول داخل ہونے والے ہیں اور میں سابقین میں سے ہوں اور بہترین سابقین میں سے ہوں اور بہترین سابقین میں سے ہوں اور بہترین سابقین میں سے ہوں ان تین قسموں کو مختلف قبائل میں تقسیم فرمایا اور مجھے بہترین قبیلے میں سے رکھا اسی کو فرمایا آیت وجعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا، ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم (الحجرات آیت 13) (اور ہم نے تمہارے خاندان اور قومیں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو بلاشبہ تم میں زیادہ عزت والا آدمی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں زیاہد پرہیزگار ہے اور میں آدم کی اولاد میں سب سے زیادہ متقی ہوں اور ان میں زیادہ عزت والا ہوں یہ کوئی فخر کی بات نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے قبائل کو بیوت میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین بیت میں رکھا اسی کو فرمایا آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا میں اور میرے گھروالے گناہوں سے پاک ہیں۔ 40۔ ابن جری وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اہل بیت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے محفوظ رکھا اور اپنی رحمت کے ساتھ خاص کیا ضحاک بن مزاحم نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی فرمایا کرتے تھے ہم اہل بیت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے درخت رسالت کے محل اور فرشتوں کے آنے جانے اور رحمت کے گھر اور علم کے معدن کے ساتھ پاک کردیا۔ 41۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب علی ؓ سے روایت کیا کہ جب علی ؓ کی فاطمہ ؓ کے ساتھ شادی ہوئی تو نبی ﷺ چالیس دنوں تک ان کے دروازے پر آتے رہے اور آپ فرماتے آیت السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نماز کا وقت ہوگیا اللہ تم پر رحم فرمائے آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا میں اس سے جنگ کرنے والا ہوں جو تم سے جنگ کرے گا اور جو تم سے صلح کرے میں اس سے صلح کرنے والا ہوں۔ 42۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابو الحمراء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے مدینہ منورہ میں آٹھ ماہ تک رسول اللہ ﷺ کے اس عمل کو یاد کیا آپ جب بھی صبح کی نماز کے لیے آتے تو حضرت علی کے دروازے کی طرف آتے۔ اپنے ہاتھ مبارک کو دروازہ کے دونوں جانبوں پر رکھتے پھر فرماتے نماز نماز آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔ 43۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو نو ماہ تک دیکھا آپ ہر دن ہر نماز کے وقت علی ؓ کے دروازے پر تشریف لاتے اور فرماتے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اہل البیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے نماز کا وقت ہوگیا ہے یہ ہر روز پانچ مرتبہ فرماتے۔ 44۔ الطبرانی نے ابو الحمراء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ علی ؓ اور فاطمہ ؓ کے دروازہ پر چھ ماہ تک تشریف لاتے رہے۔ اور یہ آیت تلاوت فرماتے آیت انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور گھروں میں تلاوت کی جاتی ہیں ان آیات کو اور حکمت کو یاد کرو بلاشبہ اللہ مہربان ہے باخبر ہے

1۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذکرن مایتلی فی بیوتکن من اٰیت اللہ والحکمۃ اور تم ان آیات خداوندی اور حکمت کو یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اس سے قرآن اور سنت مراد ہے اس آیت کے ذریعے ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا 2۔ ابن سعد نے ابو امامہ بن سہیل ؓ سے آیت واذکرن مایتلی فی بیوتکن من اٰت اللہ والحکمۃ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے گھروں میں رات اور دن نماز ادا فرماتے تھے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بلاشبہ مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور راست باز مرد اور راستباز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتین ان کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

1۔ احمد والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والطبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ عرض کیا کیا وجہ ہے کہ ہمارا ذکر اس طرح نہیں کیا جاتا قرآن میں جیسے مردوں کا ذکر کیا جاتا ہے ایک روز منبر پر سے آپ کی آواز نے مجھے ڈرایا آپ فرما رہے تھے۔ اے لوگو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ان المسلمین والمسلمت آیت کے آخرتک۔ 2۔ الفریابی وابن سعد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید و نسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کیا وجہ ہے کہ میں مردوں کا سنتی ہوں کہ ان کا ذکر قرآن میں کیا جاتا ہے اور عورتوں اک ذکر نہیں کیا جاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت ان المسلمین والمسلمت۔ 3۔ الفریابی وسعد بن منصور وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ والطبرانی وابن مردویہ نے ام عمارہ انصاریہ ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا میں ہر چیز مردوں کے لیے دیکھتی ہوں اور میں عورتوں کا کوئی ذکر نہیں پاتی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ان المسلمین والمسلمت۔ 4۔ ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس سے روایت کیا کہ عورتوں نے کہا یارسول اللہ کیا وجہ ہے مومنوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور مومنات کا ذکر نہیں کیا جاتا تو یہ آیت ناز ہوئی آیت ان المسلمین والمسلمات۔ 6۔ ابن سعد نے عکرمہ اور دوسری سند سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب قرآن مجید میں ازواج مطہرات کا ذکر ہوا تو عورتوں نے کہا اگر ہمارے اندر خیر ہوتی تو ہمارا بھی ذکر کیا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ان المسلمین والمسلمات۔ 7۔ ابن سعد نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ عورتوں نے مردوں سے کہا ہم اسلام لائیں جیسے تم اسلام لائے اور ہم نے نیک عمل کیے جیسے تم نے کئے قرآن میں تمہارا ذکر ہوتا ہے اور ہمارا ذکر نہیں ہوتا اور لوگوں کو مسلمان کہا جاتا ہے جب انہوں نے ہجرت کی تو مومن کہا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا آیت ان المسلمین والمسلمت والمومنین والمومنت والقنتت والقنتین یعنی اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں آیت والصدقین والصدقت والصبرین والصبرات والخشعین والخشعت والمتصدقین والمتصدقت والصائمین والصمئت یعنی رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے والے آیت والحفظین فروجہم والحفظت یعنی عورتوں میں سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والیاں آیت والذکرین اللہ کثیرا والذاکرات یعنی اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس کی نعمتوں کو یاد کرنے والے آیت اعد اللہ لہم مغفرۃ واجرا عظیما یعنی ان کے لیے اللہ نے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان المسلمین والمسلمات یعنی خالص عبادت کرنے والے اللہ کے لیے مردوں میں سے اور خالص عبادت کرنے والیاں عورتوں میں سے آیت والمومنین والمومنت یعنی تصدیق کرنے والے مرد اور تصدیق کرنے والی عورتیں آیت والقنتین والقنتت یعنی اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں آیت والصدقین والصدقت یعنی سچے مرد اور سچی عورتیں اپنے ایمان میں والصبرین والصبرات یعنی سبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اللہ کے حکم پر آیت والخشعین یعنی تواضع اختیار کرنے والے اللہ کے لیے نماز میں اس طرح پر کہ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی داہنی جانب کون ہے اور اس کی بائیں جانب کون ہے اور نہ ادھر ادھر متوجہ ہوتا ہے اللہ کے لیے خشوع اختیار کرتے ہوئے آیت والخشعت یعنی تواضع اختیار کرنے والیاں عورتوں میں سے آیت والصائمین والصائمات یعنی جو شخص رمضان کے مہینے کے روزے اور ہر مہینے میں سے تین روزے رکھے تو وہ اس آیت کا مصداق ہے آیت والحفظین فروجہم والحفظت یعنی اپنی شرم گاہوں کو زناکاری سے محفوظ رکھتی ہیں ان کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آتی اعداللہ لہم مغفرۃ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کی مغفرت کردیں گے آیت واجرا عظیما یعنی وافر جزا تیار کر رکھی ہے جنت میں۔ 9۔ عبد بن حمید وابوداوٗد والنسائی وابن ماجہ وابو یعلی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن حسان والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی سننہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مرد اپنی بیوی کو رات کو جگائے پھر وہ دونوں دو رکعت پڑھیں تو وہ اس رات میں اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 10۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرنے والوں میں سے نہیں لکھا جاتا یہاں تک کہ وہ اللہ کا ذکر کرے کھڑے ہوئے بیٹھے اور لیٹے ہوئے۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لیے اس کی گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کا حکم دے دیں تو انہیں اپنے کام میں اختیار باقی رہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔

رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ماننا واجب ہے 1۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے تاکہ زید بن حارثہ کے لیے نکاح کا پیغام دیں۔ آپ زینت بنت جحش ؓ کے پاس تشریف لائے اور اس کو نکاح کا پیغام دیا تو اس نے کہا میں اس سے نکاح نہیں کروں گے آپ نے فرمایا اس سے نکاح کرلو زینب نے عرض کیا یارسول اللہ میں اپنے بارے میں مشورہ کروں گی ابھی دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت اتاری آیت وماکان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا اور جب اللہ اور اس کے رسول نے کسی بات کا قطعی حکم دیدیا ہو تو ہر کسی مومن مرد اور مومن عورت کو اپنے امر کا خود اختیار نہیں رہتا۔ زینب نے یہ حکم سن کر کہا یارسول اللہ آپ راضی ہوچکے ہیں اس سے میرا نکاح کرنے پر آپ نے فرمایا ہاں تو زینب نے کہا تب تو میں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نہیں کروں گی میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ کو زید بن حارثہ کے لیے نکاح کا پیغام دیاتو حضرت زینب نے اس سے انکار کردیا عرض کیا میں اس سے حسب میں بہتر ہوں اور حضرت زینب مزاج کی تیز تھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت وماکان لمومن ولا مومنۃ۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے زینب کو نکاح کا پیغام بھیجا رسول اللہ ﷺ چاہتے تھے کہ حضرت زینب کا نکاح حضرت زید سے کردیں لیکن حضرت زینب نے یہ گمان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے لیے نکاح کا پیغام کا پیغام دے رہے ہیں جب ان کو یہ علم ہوا کہ آپ زید کے لیے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں تو انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا۔ تو اس پر وہ راضی ہوگئیں اور یہ بات مان لی۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا سے زینب بنت جحش مراد ہیں جو انہوں نے زید بن حارثہ سے نکاح کرنے کو ناپسند کیا۔ جب محمد ﷺ نے ان کو اس کا حکم فرمایا۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا کہ میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں زید بن حارثہ سے تیرا نکاح کردوں اور میں تیرا اس کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی ہوں تو زینب نے کہا یارسول اللہ لیکن میں اس کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی نہیں ہوں اور میں آپ کی قوم کی بیوہ اور پھوپھی زاد ہوں میں ایسا نہیں کروں گی تو یہ آیت وماکان لمومن نازل ہوئی لمومن سے مراد حضرت زید ہیں ولا مومنۃ سے مراد حضرت زینب ہیں آیت اذا قضی اللہ ورسولہ امرا جب اللہ اور اس کا رسول حکم فرمادیں امر سے مراد نکاح ہے آیت ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم یعنی ان کے لیے کوئی اختیار نہیں اس کام سے اختلاف کرنے کا جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے آیت ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلال مبینا اور جس نے اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کی تو وہ صاف گمراہ ہوگا یہ سن کر زینب نے کہا میں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کی پس آپ کیجیے جو آپ چاہتے ہیں تو زید سے اس کا نکاح کردیا تو حضرت زید نے ان سے ازدواجی تعلق قائم کرلیا۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی یہ پہلی عورت تھی جس نے عورتوں میں سے ہجرت کی اور اس عورت نے اپنی ذات کو نبی ﷺ کے لیے لبہ کردیا تو آپ نے اس کا نکاح زید بن حارثہ سے کردیا تو اس پر وہ اور اس کا بھائی بھی ناراض ہوگئے کہ ہم نے تو رسول اللہ ﷺ کا ارادہ کیا تھا مگر آپ نے اپنے ایک غلام سے اس کا نکاح کردیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 7۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس سے عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس سے منع فرمایا اور ابن عباس نے فرمایا آیت وما کان لمومن ولا مومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم اور جب اللہ اور اس کے رسول نے کسی بات کا قطعی حکم دے دیا ہے تو پھر کسی مومن مرد اور مومن عورت کو اپنے امر کا خود اختیار نہیں رہتا۔