Ayah 33:131۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذقالت طائفۃ منہم سے مراد ہیں منافقین۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن المبارک کے طریق سے ہارون بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ حسن سے پوچھے آیت لامقام لکم او لا مقام لکم (ان دونوں میں سے کون ساٹھیک ہے) تو انہوں نے فرمایا دونوں عربی کلمات ہیں ابن المبارک نے فرمایا کہ المقام اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں وہ کھڑا ہو والمقام سے مراد ہے کھڑا ہونا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لامقام لکم یعنی تمہارے لیے یہاں لڑنے کی جگہ نہیں بھاگ جاؤ اور اس آدمی یعنی محمد ﷺ کو چھوڑ دو
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا مقام لکم فارجعوا تمہارے لیے ٹھہرنے کا کوئی موقعہ نہیں اس لیے تم لوٹ جاؤ یعنی بھاگ جاؤ اور محمد ﷺ کو چھوڑدو۔
5۔ مالک واحمد وعبدالرزاق والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ایک ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو بستیوں کو کھاجائے گی اور لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں جبکہ وہ مدینہ ہے لوگوں کو یوں باہر نکال دے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو خارج کردیتی ہے۔
6۔ احمد وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ کو یثرب کے نام سے پکارے اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے یعنی پاک ہے۔
7۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو یثرب سے نہ پکارو یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ اور جس نے یثرب کہا اس کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ استغفار کرے یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے یہ طیبہ ہے۔
8۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا قالت طائفۃ منہم یا اہل یثرب لا مقام لکم فارجعوا۔ اور جب ایک جماعت نے ان میں سے کہا اے یثرب والو تمہارے لیے یہاں ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں۔ اس سے لوٹ جاؤ یعنی ابو سفیان سے جنگ کرنے کے بجائے مدینہ کی طرف لوٹ جاؤ آیت ویستاذن فریق منہم النبی اور ایک فریق ان میں سے نبی ﷺ سے گھر جانے کی اجازت طلب کرتا ہے دو آدمی انصار اور بنو حارث میں سے آپ کے پاس آجائے ایک کو ابو عرابہ بن اوس اور دوسرے کو اوس بن قیظی کہتے تھے دونوں نے کہا یا رسول اللہ آیت ان بیوتنا عورۃ ہمارے گھروں کی دیواریں بالکل چھوٹی ہیں۔ اور وہ مدینہ سے آخری حصے میں تھے اور ہم چوروں سے ڈرتے ہیں ہم کو اجازت دیجیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وماہی بعورۃ ان یریدون الا فرارا یعنی ان کے گھر اکیلے نہیں ہیں مگر وہ بھاگنا چاہتے ہیں۔
9۔ ابن جریر وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے ویستاذن فریق منہم النبی کے بارے میں روایت کیا کہ ہو بنو حارثہ بن حارث تھے۔
11۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وماہی بعورۃ ان یریدون سے مراد ہے کہ ہم کو چوروں کا خوف ہے۔
Ayahs 33:14–181۔ البیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کی تاویل ساٹھ ہجری کو سمجھ میں آئی آتی ولودخلت علیہم من اقطارہا ثم سئلو الفتنۃ لا توہا اور اگر مدینہ میں ان کے اطراف سے کوئی ان پر آگھسے پھر ان سے فتنہ کی درخواست کی جائے تو وہ ضرور فتنہ کے مرتکب ہوجائیں گے یعنی بنو حارثہ نے شامیوں کو مدینہ میں داخلہ کا موقع دیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو دخلت علیہم من اقطارہا یعنی اس کا اطراف سے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی شرک کی طرف پھر ان کو بلایا جائے تو فورا آجائیں۔
منافقین پر موت کا خوف طاری رہتا ہے
4۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولودخلت علیہم من اقطارہا یعنی اگر ان پر مدینہ کے اطراف سے حملہ کیا جائے آیت ثم سئلو الفتنۃ یعنی پھر شرک کی طرف بلایا جائے آیت لاٰتوہا وما تلبثوا بہا الا یسیرا۔ تو وہ بڑی خوش دلی سے اس کو اپنائیں گے آیت لاٰتوہا وما تلبثوا بہا الا یسیرا۔ اور ان گھروں میں کم ہی ٹھہریں آیت ولقد کانوا عاہدوا اللہ من قبل حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے اللہ سے معاہدہ کیا تھا میدان سے نہیں بھاگیں گے۔ یعنی جو لوگ واقعہ بدر سے غائب تھے اور انہوں نے دیکھا کہ جو اللہ تعالیٰ نے بدر والوں کو فضیلت اور عزت عطا فرمائی تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہم کو کسی لڑائی کا موقع دیا تو ہم ضرور ضرور لڑیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے لیے یہ موقعہ لے آیا یہاں تک کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ میں ہوا پھر انہوں نے جو کچھ کہا یعنی احد کی جنگ سے بھاگ نکلے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا آیت قل لن ینفعکم الفرار۔ فرمادیجیے کہ تم لوگوں کو ہرگز بھاگنا نفع نہیں دے گا اگر تم بھاگے یعنی یہ بھاگنا ہر گزتمہاری زندگی کی مدت کو زیادہ نہیں کرے گا جو اللہ نے تمہاری مدت مقرر کردی ہے۔ اور یہ مدت تھوڑی ہے۔ اور بلاشبہ یہ ساری دنیا آخرت کے مقابلہ میں تھوڑی ہے۔
5۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لا تمتعون الا قلیلا۔ جب بھی تم تھوڑا سا نفع اٹھاؤ گے یعنی ان کے اور ان کی موت کی مدت کے درمیان جو وقت ہے وہ تھوڑا ہے۔
6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد یعلم اللہ المعوقین منکم سے مراد ہے وہ منافقین جو لوگوں کو محمد ﷺ سے روکتے ہیں۔
7۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے قد یعلم اللہ المعوقین منکم کے بارے میں فرمایا کہ یہ احزاب کا دن تھا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گیا اس نے اپنے بھائی کو پایا کہ اس کے آگے بھنا ہوا گوشت اور روٹی تھی۔ تو اس سے اپنے بھائی سے کہا تو یہاں ہے بھنا ہوا گوشت روٹی اور نبیذ پی رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ تیروں اور تلواروں کے درمیان ہیں تو وہ کہتا میری طرف آجاؤ اس ذات کی قسم جس ذات کی قسم اٹھائی جاتی ہے تجھ کو اور تیرے ساتھ کو یہ خبر پہنچے کہ تو محمد ﷺ ان کو کبھی نہیں پلائے گا اس نے کہا تو نے جھوٹ بولا اس ذات کی قسم جس کے ذریعے قسم اٹھائی گئی اور وہ اس کا سگا بھائی تھا اللہ کی قسم میں ضروربتاؤں گا تیرے بارے میں نبی ﷺ کو وہ نبی ﷺ کی طرف گیا تاکہ ان کو خبردوں مگر انکو اس حال میں پایا کہ جبرئیل ان کو خبر دینے کے لیے نازل ہوچکے تھے۔ پھر فرمایا آیت قد یعلم اللہ المعوقین منکم والقائلین لاخوانہم ہلم الینا ولا یاتون الباس الا قلیلا اور اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو مانع ہوتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ اور منافق لڑائی میں صرف تھوڑی دیر کے لیے شریک ہوتے ہیں۔
8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت قد یعلم اللہ المعوقین منکم کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے منافقوں میں سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے بھائیوں سے کہتے تھے کہ محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب ایک آدمی کا لقمہ ہیں اگر یہ گوشتہ ہوتے تو ان کو ابوسفیان اور اسکے ساتھی ہڑپ کر جاتے اسے چھوڑدو یہ تو ہلاک ہونے والا ہے آیت ولقائلین لاخوانہم یعنی ایمان والوں سے بھی آیت ہلم الینا ہماری طرف آجائے یعنی محمد ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو چھوڑدو کیونکہ وہ ہلاک اور قتل ہونے والا ہے۔ آیت ولا یاتون الباس الا قلیلا۔ اور لڑائی میں بطور مجبوری کے حاضر ہوتے ہیں اور اگر یہ جنگ میں حاضر ہوں تو ان کے ہاتھ مسلمانوں کے اور ان کے دل مشرکوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔
Ayah 33:191۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشحۃ علیکم یعنی منافقوں کا بخیل ہونا مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں۔
مال غنیمت کے لیے آگے بڑھنا
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشحۃ علیکم کہ وہ غنیمتوں کے بارے میں بخیل ہیں جب مسلمان غنیمت حاصل کرتے ہیں تو وہ اس بارے میں مسلمانوں کے ساتھ بخل کرتے ہیں اور اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں (حالانکہ) ہم خاضر ہوئے جنگ میں اور ہم نے قتال بھی کیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا جاء الکوف رأیتہم ینظرون الیک (جب خوف پیش آتا ہے تو آپ کی طرف دیکھتے ہیں یعنی جب وہ حاضر ہوتے ہیں جنگ میں اور دشمن کے سامنے۔ آیت رأیتہم ینظرون الیک۔ یعنی آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کو یوں دیکھ رہے ہیں کہ وہ سب سے بزدل ہو اور حق سے انحراف کرنے والے ہیں آیت تدور اعنیہم کہ ان کی آنکھیں گھومتی ہیں خوف کی وجہ سے۔
4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت تدور اعینہم یعنی ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں موت سے ڈرتے ہیں۔
5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سلقوکم یعنی وہ تم کو ملیں گے۔
6۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت سلقوکم بالسنۃ حداد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے زبان سے طعن کرنا پوچھا کی اعرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے اعشی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا
فیہم الخصب والسماحہ والنجدہ فیہم والخاطب المسئلاق
ترجمہ : ان میں خوشحالی اور طبیعت میں نرمی اور بہادری ہے اور ان میں بلیغ خطیب بھی ہے
7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا ذہب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد پھر جب ان سے خوف دور ہوجاتا ہے وہ تم کو تیز تیز زبانوں سے طعنے دیتے ہیں یعنی غنیمت کے وقت بخیل ترین اور سب سے بری تقسیم کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں ہم کو دو ہم کو دو ہم تمہارے ساتھ حاضر تھے مگر لڑائی کے وقت سخت بزدل اور حق سے انحراف کرنے والے تھے۔
8۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت اشحۃ علی الخیر یعنی مال کے بارے میں بڑی بخیل ہیں۔
9۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وکان ذلک علی اللہ یسیرا یعنی یہ کام اللہ پر آسان ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 33:201۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یحسبون الاحزاب لم یذہبوا وہ خیال کر رہے ہیں کہ کافروں کے گرد وہ ابھی نہیں گئے۔ یعنی وہ ان کو قریب ہی خیال کر رہے ہیں کہ وہ دور نہیں گئے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یحسبون الاحزاب لم یذہبوا۔ یعنی وہ لوگ ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے آنے کی باتیں کرتے ہی احزاب کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ عرب کے مختلف قبائل نبی ﷺ پر حملہ آوار ہوئے تھے آیت وان یات الاحزاب یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھی دوبارہ آجائیں آیت یودوا لو انہم بادون فی الاعراب تو پھر یہ یہی پسند کریں گے کہ کاش ہم دیہاتیوں میں باہر صحراء میں جار ہیں یعنی منافقین اس بات کو پسند کرتے تھے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان یات الاحزاب یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھی دوبارہ آجائیں آیت یودوا لو انہم بادون یعنی منافقین اس کو پسند کرتے ہیں کہ وہ دیہاتیوں میں جا کر رہیں۔
4۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان یات الاحزاب یودوا لو انہم بادون فی الاعراب سے مراد ہے کہ وہ منافق تھے جو مدینہ کی ایک جانب میں رہتے تھے وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب کے بارے میں باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ابھی مسلمان نہیں ہلاک ہوئے اور لشکروں کے چلے جانے کا ان کو علم نہ تھا انہیں اس بات نے خوش کیا کہ لشکر آتے ہیں جبکہ وہ دیہاتی علاقہ میں ہیں اور اس کی وجہ جنگ کا خوف تھا۔
5۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یسألون عن انبائکم یعنی نبی ﷺ اور آپ اصحاب کی خبروں کے بارے میں پوچھتے رہتے اور یہ پوچھتے کہ ان کا کیا ہوا۔
6۔ ابن الانباری نے المصاحف میں والخطیب نے تالی التلخیص میں اسد بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کے مصحف میں یوں ہے آیت یسألون عن انبائکم یعنی یسألون میں ہمزہ نہیں ہے۔
Ayah 33:211۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ سے مراد ہے کہ جنگ کے وقت باہم ہمدردی میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
2۔ ابن مردویہ والخطیب فی رواۃ المالک وابن عساکر وابن النجار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تمہارے لیے رسول کی سیرت میں عمدہ نمونہ ہے یعنی بھوکا رہنے میں۔
رسول اللہ ﷺ کی اتباع کا میابی کا راستہ ہے
3۔ مالک والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے سعید بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عمر کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا جب صبح طلوع ہونے میں مجھے خوف ہوا تو میں سوار سے اترا ار وتر پڑھے۔ ابن عمر نے فرمایا کیا تیرے لیے رسول للہ ﷺ کے طریقہ میں عمدہ نمونہ نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا آپ نے اونٹ پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
4۔ ابن ماجہ وابن ابی حاتم نے حفص بن عاصم (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر سے کہا کہ میں نے آپ کو سفر میں دیکھا ہے کہ آپ فرض نماز سے پہلے نہ کوئی نفل نماز پڑھتے اور نہ اس کے بعد تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتنا عرصہ رہا میں نے آپ کو فرض نماز سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ کو نماز پڑھتے دیکھا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہی لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کہ رسول اللہ کے طریقے میں تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے۔
5۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن ماجہ وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے عمرے کا احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف کیا کیا اپنی عورت پر واقع ہوسکتا ہے صفا مروہ کے درمیان چکر لگانے سے پہلے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اللہ کے گھر کا طواف کیا مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سع کی اس سے معلوم ہوا سعی سے پہلے اپنی عورت سے ملنا جائز نہیں پھر یہ آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ پڑھی۔
6۔ ابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عباس کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنے آپ کو قربان کردوں گا ابن عباس نے فرمایا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کے طریقہ میں عمدہ نمونہ ہے اور فرمایا آیت وفدینہ بذبح عظیم (الصافات آیت 107) اور ہم نے بچا لیا یعنی اسماعیل کو بڑی قربانی کے بدلے میں پھر اس کو ایک مینڈھا قربان کرنے کا حکم فرمایا۔
7۔ الطیالسی وعبدالرزاق والبخاری ومسلم وابن ماجہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ایک آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے تو وہ اس کا کفارہ ادا کرے اور یہ آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ تلاوت فرمائی۔
8۔ ابن مردویہ نے ابن عمر سے روایت کیا کہ انہوں نے تلبیہ پڑھا اور فرمایا میرے اور اس کے درمیان کوئی تبدیلی نہیں۔
میں نے ایسا ہی کیا ہے جیسے نبی ﷺ نے کیا اور میں ان کے ساتھ تھا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔
سنت کی اتباع ہر چیز پر مقدم ہے۔
9۔ عبدالرزاق نے المصنف میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے ارادہ فرمایا کہ وہ اس یمنی چادر کے استعمال کرنے کو منع کریں جسے پیشاب سے رنگا جاتا تھا۔ ایک آدمی نے اس سے کہا کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی چادر پہنے ہوئے نہیں دیکھا ؟ عمر ؓ نے فرمایا کیوں نہیں (دیکھا ہے) تو اس آدمی نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ یہ سن کر عمر ؓ نے اس ارادہ کو ترک کردیا۔
10۔ احمد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ رکن یعنی حجر اسود پر جھکے اور فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ بلاشبہ تو ایک پتھر ہے۔ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتا ہا اور استلام کرتا ہوا نہ دیکھتا تو نہ میں تیرا استلام کرتا اور نہ چومتا آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔
11۔ احمد وابویعلی نے یعلی بن امیہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمر ؓ کے ساتھ طواف کیا جب میں اس رکن کے پاس تھا جو دروازے کے قریب ہے جس کے قریب حجر اسود ہے تو میں نے عمر کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ اسے بوسہ دوں حضرت عمر نے فرمایا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ طواف نہیں کیا میں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ عمر نے فرمایا کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ کوئی آپ کو بوسہ دے۔ میں نے کہا نہیں فرمایا اپنے آپ سے اس عمل کو دور کردے۔ تیرے لیے رسول اللہ کے طریق میں عمدہ نمونہ ہے۔
12۔ عبدالرزاق نے عیسیٰ بن عاصم سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے سفر میں دن کی نماز پڑھی انہوں نے بعض لوگوں کو نفل پڑھتے ہوئے دیکھا ابن عمر اگر میں نفل پڑھتا تو میں البتہ اپنی نماز کو پورا کرلیتا میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا کہ آپ دن کو تسبیحات نہیں پڑھتے پھر میں نے ابوبکر کے ساتھ حج کیا آپ بھی دن کو تسبیحات نہیں پڑھتے تھے میں نے عمر کے ساتھ حج کیا تو وہ بھی دن کو تسبیحات نہیں پڑھتے تھے میں نے عثمان کے ساتھ حج کیا اور وہ بھی دن کو تسبیحات نہیں پڑھتے تھے پھر ابن عمر نے فرمایا آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ۔
Ayah 33:22ایمان میں اضافہ ہونے کا ذکر
1۔ ابن جریر وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما رأ المومنون الاحزاب آخرت آیت تک کہ جب مومنوں نے احزاب کو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سورة بقرہ میں فرمایا آیت ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم، مستہم البأ ساء والضرا وزلزلو۔ (البقرہ آیت 214) کیا تم نے گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تک تمہارے پاس اس لوگوں کی مثال نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے کہ ان کو پہنچی مصیبت اور تکلیف یعنی جب غزوۃ خندق کے موقعہ پر لشکروں کا مقابلہ کیا تو انہوں نے کہا یہ وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا جیسے آیت قالوا ہذا ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ یہ وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا تو ایمان والوں نے اس کی تاویل کی اور اس چیز نے مومنوں میں ایمان اور اطاعت کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔
2۔ جویبر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا یہ آیت نازل ہوئی لشکروں کے جانے پھرجانے سے پہلے یعنی یہ آیت ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم کیا تم نے گمان کیا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تک تمہارے پاس ان لوگوں کی مثال نہیں آئی جو تم سے پہلے گزر چکے اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے اس بارے میں جو ان کو وحی کے ذریعہ خبر دی گئی واقعہ سے پہلے۔
3۔ الطیالسی وعبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں فرمایا آیت ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ۔
4۔ عبدبن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما زادہم الا ایمانا وتسلیما یعنی اس آزمائش نے ان کو رب تعالیٰ پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلے کو تسلیم کرنے میں زیادہ کردیا۔
Ayahs 33:23–241۔ عبدالرزاق واحمد والبخاری والترمذی والنسائی وابن ابی داوٗ دنے المصاحف میں والبغوی وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے مصاحف میں سے ایک مصحف کو لکھا تو سورة احزاب میں سے ایک آیت نہ مل سکی جو میں رسول اللہ ﷺ سے نا کرتا تھا کہ آپ اس کو پڑھتے تھے اس آیت کو کسی کے پاس نہ پایا مگر خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی شہادت کو دو شہادتوں کے برابر قراردیا فرمایا آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدواللہ علیہ سو میں نے اس کو مصحف میں سورة احزاب میں ملا دیا۔
2۔ البخاری وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور ابو نعیم نے المعروفۃ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آیت انس بن نضر کے بارے میں نازل ہوئی آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدو اللہ علیہ۔ مومنین میں سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے معاہدے کو سچا کردیا۔
3۔ ابن سعد واحمد ومسلم والترمذی والنسائی البغوی نے اپنی معجم میں وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں والبیہقی نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میرے چچا انس بن نضر کی جنگ سے غائب رہے اور کہا سب سے پہلا معرکہ جس میں رسول اللہ ﷺ حاضر تھے اور میں غیر حاضر رہا اگر رسول اللہ ﷺ کی معیت میں اللہ تعالیٰ نے مجھے جنگ میں حاضر ہونے کا موقع دیا تو میرے کارنامے اللہ دیکھ لے گا چناچہ وہ احد کی جنگ میں شریک ہوئے۔ جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اور مسلمان میدان جنگ سے بھاگ گئے سعد بن معاذ سے ان کی ملاقات ہوئی اور پوچھا اے ابو عمرو کہاں جارہے ہو کہا جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے جو احد کی طرف سے آرہی ہے انہوں نے قتال کیا یہاں تک کہ شہید کردئیے گئے ان کے جسم میں اسی سے زیادہ تلوار نیزے اور تیرے کے زخم تجھے تو یہ آتی نازل ہوئی رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ اور وہ جانتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
جنت کا شوق
4۔ الحاکم وصححہ والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور ابو نعیم نے المعرفہ میں انس ؓ سے نے فرمایا کہ ان کے چچا بدر کی لڑائی سے غیر حاضر رہے تو انہوں نے کہا میں پہلی لڑائی سے غائب رہا کہ جو لڑائی نبی ﷺ نے مشرکین سے کی اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ جنگ کا موقعہ دیا تو اللہ تعالیٰ میرے کارنامے دیکھ لیں گے جب احد کی لڑائی ہوئی تو مشرکین غالب آگئے تو کہا اے اللہ جو یہ مشرک لائے ہیں میں ان سے تیری بارگاہ میں براءت کا اظہار کرتا اور صحابہ کرام نے جو کچھ کیا ہے اس بارے میں میں تیرے ہاں عذر پیش کرتا ہوں پھر آگے بڑھے اور سعد ؓ سے ملاقات ہوئی اور کہا اے میرے بھائی جو تو نے کیا کیا میں تمہارے ساتھ تھا جو تو نے کارنامے کیے میں وہ نہ کروں گا لڑتے لڑتے شہید ہوگئے تو ان کے جسم میں اسی سے زیادہ تلوار نیزے اور تیروں کے نشانات تھے۔ ہم یہ کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی آیت فمنہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر اور بعض ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے نذر پوری کردی اور ان میں سے بعض انتظار کر رہے ہیں۔
5۔ الحاکم وصححہ وتعقبہ الذہبی اور بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب احد سے واپس لوٹ رہے تھے تو مصعب بن عمیر ؓ کے پاس سے گزرے اور شہید ہوچکے تھے آپ ان پر کھڑے ہوئے اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر یہ آیت من المومنین رجال ما صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ ایمان والوں میں سے وہ مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے معاہدہ کو سچ کر دکھایا۔ پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک گواہ ہوں گے تم لوگ ان کے پاس آیا کرو اور ان کی زیارت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی آدمی قیام تکے دن تک اس پر سلام کرے گا تو یہ اس کا جواب دین گے۔
6۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے دلائل میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ احد سے فارغ ہوئے تو مصعب بن عمیر ؓ کے پاس سے گزرے جو ان کے راستہ پر شہید پڑے ہوئے تھے۔ تو آپ نے یہ آیت پڑھی آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ۔
7۔ ابن مردویہ نے حضرت خباب ؓ کے واسطہ سے اسی طرح روایت ہے۔
8۔ ابن ابی حاتم والترمذی وحسنہ وابو یعلی ابن جریر والطبرانی وابن مردویہ نے طلحہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب نے ایک دیہاتی سے کہا کہ تو رسول اللہ ﷺ سے سوال کر کہ من قضی نحبہ سے کون لوگ مراد ہیں اور صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ سے سوال کرنے کی جرأت نہ کرتے اور آپ کی تعظیم کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے تھے۔ اس دیہاتی نے آپ سے پوچھا کہ تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا پھر اس نے پوچھا تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا پھر میں مسجد کے دروازے سے چلا تو آپ نے فرمایا وہ سوال کرنے والا کہاں ہے دیہاتی نے کہا کہ میں سائل ہوں آپ نے فرمایا یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں فرمایا من قضی نحبہ۔
جانثاری کی نذرپوری کرنے والے
9۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی ﷺ احد سے واپس لوٹے تو منبر پر چڑھ کر اللہ کی حم اور اس کی ثنا بیان فرمائی پھر یہ آیت پڑھی آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ تو آپ کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں پھر میں یعنی حضرت طلحہ آیا تو فرمایا اے سوال کرنے والے ! یہ ان لوگوں میں سے ہے۔
10۔ الترمذی وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ طلحہ ؓ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کردیا۔
11۔ الحاکم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت طلحہ ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا اے طلحہ تو ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کردیا۔ْ
12۔ سعید بن منصور وابو یعلی وابن المنذر وابو نعیم وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات خوش لگے کہ وہ ایسے آدمی کی زمین پر چلتا ہوا دیکھے کہ جس نے اپنی نذر کو پورا کردیا تو اس کو چاہیے کہ طلحہ کو دیکھ لے۔
13۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
14۔ ابن منذر وابن عساکر نے اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا اے طلحہ تو ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کردیا۔
15۔ ابو الشیخ نے وابن عساکر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے کہا کہ ہم کو طلحہ نے بیان فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ وہ آدمی ہے جس کے بارے میں اللہ کی کتاب نازل ہوئی آیت فمنہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر اور طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کردیا ان پر کوئی حساب نہیں ہوگا آنے والے وقت میں۔
16۔ سعید بن منصور وابن الانباری نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت فمنہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر اور ان مٰ سے کچھ لوگوں نے تو اپنی نذر پوری کردی اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور دوسرے جو انتظار کر رہے ہیں کہ کب موقع ملے اور کب ہم اپنی نذر کو پورا کریں اور آیت وما بدلوا تبدیلا۔ اور انہوں نے کیے ہوئے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
17۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فمنہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر سے مراد ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدہ کے مطابق موت قبول کرلی آیت ومنہم من ینتظر اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں۔
18۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت قضی نحبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ مقرر وقت جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کیا پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو پہچانتے ہیں فرمایا کیا تو نے لبید کا یہ قول نہیں سنا۔
الا تسالان المرء ماذا یھاول انجب فیقضی ام ضلال و باطل
ترجمہ : کیا تم دونوں اس آدمی سے نہیں پوچھو گے کہ اس نے کیا ارادہ کیا یہ ایسا وقت ہے جس کا فیصلہ ہوچکا یا گمراہی اور باطل ہے
19۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمنہم من قضی نحبہ یعنی ان میں سے وعدے کو پورا کردیا آیت ومنہم من ینتظر یعنی ان میں سے بعض انتظار میں ہیں اس دن کی جس میں جہاد ہو تو وہ جنگ کرنے کا وعدہ پورا کرلے یا جنگ میں شرکت کا وعدہ پورا کرے۔
20۔ احمد والبخاری وابن مردویہ نے سلیمان بن صرد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خندق کے دن فرمایا کہ اب ہم ان سے جنگ کریں گے اور وہ ہم سے جنگ نہیں کریں گے۔
غزوہ خندق میں نمازوں کی قضاء
21۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے غزوہ خندق کے دن ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعد کچھ وقت گزر گیا تھا کہ ہم کو گنجائش ملی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وکفی اللہ المومنین القتال وکان اللہ قویاعزیز اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جنگ میں پوری پوری مدد فرمائی۔ اور اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے رسول اللہ ﷺ نے بلال کو حکم فرمایا انہوں نے اقامت کہی پھر آپ نے ظہر کی نماز پڑھی جیسے آپ پہلے نماز پڑھاتے تھے پھر اقامت کہی تو آپ نے عصر کی نماز پڑھی جیسے آپ اس سے پہلے نماز پڑھاتے تھے پھر انہوں نے مغرب کی اقامت کہی تو حضور ﷺ نے یہ نماز پڑھائی جیسے آپ پہلے پڑھایا کرتے تھے۔ پھر عشاء کی اقامت کہی تو رسول اللہ ﷺ نے یہ نماز پڑھائی جیسے پہلے پڑھایا کرتے تھے اور یہ خوف کی نماز کا حکم نازل نہ ہونے سے پہلے کا واقعہ فرمایا آیت فان خفتم فرجالا اور کبانا یعنی اگر تم خوف کرو تو کھڑے کھڑے اشارہ سے یا سواری پر بیٹھے ہوئے نماز پڑھ لو۔
22۔ الحاکم وصححہ عیسیٰ بن طلحہ (رح) سے روایت کیا کہ میں عائشہ بنت طلحہ اور ام المومنین حضرت عائشہ کے پاس آیا اور وہ عائشہ بنت طلحہ اپنی والدہ اسماء سے کہہ رہی تھی میں تجھ سے بہتر ہوں اور میرا باپ تیرے باپ سے بہتر ہے اور اسماء نے اسے برابھلا کہنا شروع کیا اور کہنے لگیں تو مجھ سے بہتر ہے عائشہ نے فرمایا کیا میں تمہارے درمیان فیصلہ نہ کردوں اس نے کہا کیوں نہیں عائشہ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا تو آگ سے آزاد ہے اسی دن سے ان کا نام عقیق ہوگیا اور طلحہ داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت فمنہم من قضی نحبہ یعنی طلحہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے اپنے وعدے کو پورا کردیا۔
23۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن لہف (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ آیت فمنہم من قضی نحبہ میں نحب سے مراد نذر ہے اور شاعر نے کہا
قضت من یثرب نحبہا فاسمرت
24۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فمنہم من قضی نحبہ یعنی ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو تصدیق اور ایمان پر فوت ہوئے۔ آیت ومنہم من ینتظر یعنی کچھ انتظار کر رہے ہیں آیت ومابدلو تبدیلا اور انہوں نے منافقوں کی طرح تبدیلی نہیں کی۔
25۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت من المومنین رجال صدقوا ما عاہدوا اللہ علیہ۔ فمنہم من قضی نحبہ یعنی جو صدق ووفا پر فوت ہوئے آیت ومنہم من ینتظر اور وہ ہیں جو اپنی طرف سے صدق ووفا کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیت وما بدلو تبدیال انہوں نے اپنے وعدہ کو تبدیل نہیں کیا یعنی انہوں نے شرک نہیں کیا اور نہ انہوں نے اپنے دین میں تردد کیا اور نہ ہی ان کو کسی اور دین سے بدلا آیت ویعذب المنافقین ان شاء او یتوب علیہم اور اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو منافقین کو عذاب دیں گے یا ان کی توبہ کو قبول فرمائیں گے یعنی ان کی توبہ کے ذریعہ نفاق سے نکال لیں یہاں تک کہ وہ اس حال میں مرجائیں گے کہ وہ توبہ کرنے والے ہوں گے نفاق سے تو پھر ان کو بخش دیا جائے۔
Ayah 33:251۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورد اللہ الذین کفرو بغیظہم اور اللہ تعالیٰ نے کفار کو غصہ سے بھرا لوٹا دیا یعنی کافروں کے لشکروں کو۔
2 ا۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ورد اللہ الذین کفروا بغیظہم یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو غصہ کے ساتھ لوٹادیا آیت لم ینالوا خیرا کہ انہوں نے محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ پر فتح کو نہیں پایا آیت وکفی اللہ المومنین القتال اور اللہ تعالیٰ کافی ہے یعنی بغیر جنگ کے ہوا کے ساتھ شکست کھا گئے۔
13۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکفی اللہ المومنین القتال سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کافی ہے اپنے پاس سے فرشتوں کے ساتھ اور اس ہوا کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھیجی وکان اللہ قویا عزیزا اور اللہ تعالیٰ قوت والے ہیں اپنے کام میں عزیزا اور وہ غالب ہیں انتقام میں۔
4۔ ابن سعد نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ جب غزوہ احزاب کا دن تھا تو نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب دس سے کچھ اوپر راتوں میں محصور رہے یہاں تک کہ ہر صحابی کو مصیبت پہنچی نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ بلاشبہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ کے عہد اور آپ کے وعدہ کی اے اللہ اگر آپ چاہیں تو آپ کی عبادت نہ کی جائے ابھی ہم اسی حال پر تھے کہ اچانک اس کے پاس نعیم بن مسعود اشجعی آئے اور دونوں مومن و کافر اس پر اعتماد کرتے تھے۔ وہ لوگوں سے علیحدہ ہوگیا تو تمام لشکر بغیرلڑے واپس چلے گئے اسی کو فرمایا وکفی اللہ المومنین القتال یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنین کی پوری مدد فرمائی اس لڑائی میں۔
5۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ جب احزاب کا دن تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو لوٹادیا آیت بغیظہم لم ینالوا خیرا کہ ان کو غصے کے ساتھ کہ انہوں نے نے فتح کو نہیں پایا نبی ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کی عزتوں کو کون بچائے گا ؟ کعب نے عرض کیا یارسول اللہ میں عبداللہ بن رواحہ نے کہا یا رسول اللہ میں بچاؤں گا آپ نے فرمایا بلاشبہ تو شعر اچھا کہتا ہے حسان نے کہا میں یارسول اللہ بچاؤں گا آپ نے فرمایا ہاں تو ان کی ہجو کر ان کے خلاف جبرئیل (علیہ السلام) تیری مدد کرے گا۔
6۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن عساکر نے ابن مسعود ؓ سے اس حرف کو یوں پڑھتے تھے آیت وکفی اللہ المومنین القتال اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت علی بن ابی طالب کے ذریعہ کافی ہوگا۔
Ayahs 33:26–271۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانز ل الذین ظاہروہم من اہل الکتب اہل کتاب سے مراد ہے بنو قریظہ من صیاصیہم ان کے قلعوں سے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من صیاصیہم سے مراد ہے ان کے قلعے۔
3۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزل الذین ظاہروہم من اہل الکتب سے مراد وہ بنو قریظہ ہیں جنہوں نے ابو سفیان کی مدد کی اسے سامان پہنچایا۔ اور اس معاہدے کو توڑ دیا جو ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان تھا اس درمیان کے نبی اکرم ﷺ زینت بن جحش بن ؓ کے پاس تھے اور وہ آپ کا سر مبارک دھورہی تھیں اور ایک حصہ دھو چکی تھیں کہ آپ کے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے۔ فرشتوں نے اپنے ہتھیاروں کو چالیس راتوں سے اتار کر نہیں رکھا۔ بنو قریظہ کی طرف چلو۔ بلاشبہ میں نے ان کی کیلیں کاٹ دیں ہیں اور ان کے دروازے کھول دئیے ہیں اور ان کو تباہی و بربادی میں چھوڑ آیا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کو یوں بلایا اے بندرو انہوں نے کہا اے ابو القاسم آپ بد اخلاق نہیں تھے پھر وہ سعد بن معاذ کے حکم پر نیچے اترے اور ان کے اور حضرت سعد کی قوم کے درمیان دوستی تھی ان کو امید تھی کہ ان کو محبت آجائے گی ان کی طرف ابولبابہ نے ہاتھ سے اشارہ کردیا کہ تم سب قتل کیے جاؤ گے جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تخونوالللہ والرسول (الانفال آیت 27) اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کرو تو حضرت سعد نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے ان کے بچوں کو قیدی بنا لیاجائے اور ان کی زمینیں مہاجرین کے لیے ہوں گی۔ انصار کو نہیں ملیں گی حضرت سعد کی قوم نے کہا انہوں نے مہاجرین کو جائیداد میں ہم پر ترجیح دی تو حضرت سعد نے کہا تم جائیداد والے ہوگے کیونکہ مہاجرین کی کوئی جائیداد نہیں تھی اور ہم کو یہ بھی بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا تم میں اللہ کا حکم جاری ہوچکا۔
بنوقریظہ کے بارے میں آسمانی فیصلہ
4۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقذف فی قلوبہم الرعب اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا جبریل (علیہ السلام) کے ذریعہ آیت فریقا تقتلون کہ ایک فریق کو تم قتل کرتے تھے یعنی وہ لوگ جن کی گردنیں مار دی گئیں اور وہ چار سو جنگجو تھے وہ سب قتل کردئیے گئے یہاں تک کہ وہ آئے ان کے آخری لوگوں پر آیت وتاسرون فریقا اور ایک فریق کو قید کر رہے تھے یعنی جو لوگ قید کیے گئے اور ان کی تعداد سات سو تھی۔
5۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت اور ثکم ارضہم ودیارہم واموالہم اور تم کو وارث بنادیا ان کی زمینوں کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مالوں کا یعنی قریظہ اور نضیر اہل کتاب کی زمینوں گھروں اور مالوں کا تم کو مالک بنادیا آیت وارضا لم تطؤ ہا یعنی خبیر کی زمین جو قریظہ کے بعد فتح ہوئی۔
6۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وارضا لم تطؤ ہا اور اس زمین کا بھی مالک بنادیا جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا راوی نے فرمایا کہ ہم یہ بیان کرتے تھے کہ یہ مکہ کی زمین مراد ہے اور حسن ؓ نے فرمایا وہ زمین روم اور فارس کی ہے اور جو علاقے فتح ہوئے وہ مراد ہیں۔
7۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وارضا لم تطؤہا سے صحابہ کرام گمان کرتے ہیں کہ وہ خیر کی زمین ہے اور میں اس کو گمان نہیں کرتا مگر وہ ساری زمین کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی یا وہ اس کو قیامت تک فتح کریں گے۔
8۔ ابن سعد نے سعد جبیر (رح) سے روایت کیا کہ غزوہ خندق مدینہ منورہ میں ہوا ابو سفیان بن حرب اور جو ان کے تابع تھے قریش میں سے۔ اور جو ان کے تابع تھے کنانہ میں سے اور عیینہ بن حصن اور جو ان کے تابع تھے غطفان میں سے اور طلیحۃ اور جو ان کے تابع تھے بنو اسد میں سے اور ابو الاعور اور جو ان کے تابع تھے بنو سلیم اور قریظہ میں سے کہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک عہد تھا اور انہوں نے اس کو توڑ دیا اور مشرکین کی مدد کی ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اتارا آیت وانزل الذین ظاہروہم من اہل الکتب من صیاصیہم جبریل آئے اور ان کے ساتھ ہوا تھی جب ہوا چلی تو جبریل (علیہ السلام) نے تین بار کہا تم کو بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیج دی اس نے ان کے خیموں کو پھاڑ دیا اور ہانڈیوں کو الٹ دیا اور لوگ دفن ہوگئے اور میخیں ٹوٹ گئیں وہ سب بھاگ گئے۔ کوئی ایک دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت اذج اء تکم جنود فارسلنا علیہم ریحا وجنودا لم تروہا کہ جب آئے تمہارے پاس لشکر تو ہم نے ان پر بھیجا ہوا کو اور ایسے لشکر جس کو تم نے نہیں دیکھا۔
9۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابن مردویہ نے عائشہ ؓ نے فرمایا میں خندق کے دن نکلی میں لوگوں کے پیچھے پیچھے رہتی اچانک میں سعد بن معاذ کے پاس تھی قریش میں سے ایک آدمی نے جس کو ابن العرقہ کہا جاتا تھا اس نے ایک تیر پھینکا جو ان کے اکحل (فصد والی رگ) میں لگ گیا اور اس کو کاٹ دیا سعد نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اے اللہ ! مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ میں اپنی آنکھیں قریظہ سے ٹھنڈی نہ کرلوں اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ایک ہوا بھیجی اس کے بارے میں فرمایا آیت وکفی اللہ المومنین القتال اور اللہ کافی ہے مسلمانوں کے لیے لڑنے میں اور ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ پہنچ گئے اور عیینہ بن بدر اور جو ان کے ساتھ تھے وہ نجد پہنچ گئے اور بنو قریظہ لوٹ آئے اور اپنے قلعوں میں بند ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ کی طرف لوٹ آئے اور آپ نے چمڑے کے ایک خیمہ کا حکم فرمایا اور وہ مسجد میں سعد ؓ کے لیے لگا دیا گیا عائشہ نے فرمایا جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کے اگلے دونوں دانتوں پر غبار پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا آپ نے ہتھیار اتاردئیے اللہ کی قسم فرشتوں نے ہتھیار نہیں اتارے بنو قریظہ کی طرف نکلو اور ان سے جنگ کرو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زرہ پہنی اور لوگوں میں کوچ کا اعلان کردیا صحابہ کرام بنو قریظہ کے پاس گئے اور ان کا پچیس راتیں محاصرہ کیا جب ان پر محاصرہ سخت ہوا۔ اور ان پر سخت مصیبت پڑی تو ان سے کہا گیا رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اتر آؤ تو انہوں نے کہا ہم سعد بن معاذ کے حکم پر اتریں گے۔ وہ اتر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے سعد بن معاذ کو بلوا بھیجا آپ کو ایک گدھے پر لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ان کے درمیان فیصلہ کرو انہوں نے کہا کہ میں ان کے درمیان یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کردیا جائے۔ ان کے بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کردیا جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے ان کے درمیان اللہ اور اسکے رسول کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
10۔ البیہقی نے موسیٰ بن عقبہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے غزوہ خندق اور بنو قریظہ کے بارے میں انتیس آیات اتاری جن کی ابتداء اس آیت سے ہوتی ہے آیت یا ایہا الذین اٰمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جاء تکم جنود اے ایمان والو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر کی جب تمہارے پاس لشکر آئے۔ واللہ اعلم۔