Ayah 33:501۔ ابن سعد وابن راہویہ وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا میں نے معذرت کی آپ نے میرا عذر قبول فرمالیا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی انااحللنا لک ازواجک سے لے کر آیت التی ہاجرن تک تو میں رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال نہیں کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور میں آزاد عورتوں میں سے تھی۔
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے دوسری سند سے ام ہانی ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وبنت خٰلتک التی ہاجرن معک اور آپ کے چچا کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی میرے بارے میں نازل ہوئی نبی ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ مجھ سے شادی کرلیں تو آپ کو اس سے روک دیا جب میں نے ہجرت نہیں کی۔
3۔ ابن سعد ابن جریر وابن مردویہ نے ام ہانی ؓ کے غلام ابو صالح سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام ہانی بنت ابی طالب کو نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے کہا یارسول اللہ میری اولاد یتیم اور میرے بچے چھوٹے ہیں جب ام ہانی کی اولاد بڑی ہوگئی تو پھر ام ہانی نے خود نکاح کی درخواست کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اب تو نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ حکم نازل فرمایا ہے آیت یا ایہا النبی انا احللنا لک ازواجک سے لے کر آیت ہاجرن معک تک اور وہ ہجرت کرنے والیوں میں سے نہ تھیں۔
4۔ ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا النبی انا احللنا لک ازواجک سے لے کر آیت خالصۃ لک من دون المومنین تک کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت میں دوسری عورتیں ذکر کی گئیں ہیں ان کے علاوہ باقی سب عورتیں آپ پر حرام کردی گئیں۔ اور اس سے پہلے جس عورت سے آپ چاہتے تھے نکاح کرلیتے وہ آپ پر حرام نہیں تھیں رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اس سے بہت پریشان ہوئیں کہ آپ جس عورت سے چاہتے ہیں شادی کرلیتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ حکم اتارا کہ جن عورتوں کا تم پر ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ تم پر حرام کردیا ہے۔ اس حکم پر آپ کی ازواج مطہرات خوش ہوگئیں۔
5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا احللنا لک ازواجک سے مراد وہ آپ کی پہلی بیویاں ہیں جو اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھیں آیت التی اٰتیت اجورہن یعنی جن کے آپ مہر دے چکے ہیں آیت وما ملکت یمینک یعنی وہ باندیاں بھی آپ کے لیے حلال ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ملک میں دیں۔
6۔ ابن المنذر نے شعبی (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کے لیے رخصت دی گئی ہے آپ کی چچازاد بہنوں آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیوں اور آپ کی مامؤوں کی بیٹیوں اور آپ کی خالاؤں کی ان بیٹیوں میں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی کہ آپ ان سے جس سے چاہیں نکاح کرلیں اور ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہ کریں۔ اور آپ کو ایسی ایمان والی عورت کے بارے میں رخصت دے دی گئی اگر وہ اپنی جان کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کردے۔
7۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان وہبت نفسہا للنبی سے مراد ہے جو مومن عورت بغیر مہر کے اپنی جان کو ہبہ کردے تو وہ آپ کے لیے حلال ہے اور وہ حلال نہیں ہے مگر آیت خالصۃ لک من دون المومنین یعنی خاص طور پر نبی ﷺ کے لیے حلال ہے کسی اور کے لیے حلال نہیں ہے۔
8۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جس عورت نے اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا تھا وہ خولہ بنت حکیم تھیں۔
اپنے کو ہبہ کرنے والی خاتون
9۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید والبخاری وابن جریر وابن المنذر والبیہقی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ خولہ بنت حکیم بن اقوص ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کیا تھا۔
10۔ ابن سعد نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وامرأۃ مومنۃ ام شریک دوسیہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
11۔ ابن سعد نے منیر بن عبداللہ دوسی (رح) سے روایت ہے کہ ام شریک غزیہ بنت جابر بن حکیم الدوسیہ نے اپنے آپ کو نبی ﷺ پر پیش کیا تھا اور وہ خوبصورت تھیں آپ نے اس کا بوسہ لیا۔ عائشہ نے فرمایا اس عورت میں کوئی چیز نہیں ہے۔ جب اپنے آپ کو کسی مرد پر پیش کرے۔ ام شریک نے فرمایا میں وہ ہوں جس کو اللہ تعالیٰ نے مومنہ کا نام دیا اور فرمایا آیت وامرأۃ مومنۃ ان وہبت نفسہا للنبی اگر مومنہ عورت اپنی جان کو نبی کریم کے لیے ہبہ کردے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو عائشہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیری خواہش میں تیرے لیے جلدی کی۔
12۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب عمر بن الحکم اور عبداللہ بن عبیدہ ؓ تینوں نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تیرہ عورتوں سے نکاح فرمایا۔ قریش میں سے، خدیجہ عائشہ، حفصہ ام حبیبہ سودہ اور ام سلمہ ؓ اور تین بنو عامر بن صعصعہ میں سے اور دو عورتیں بنو ہلال میں سے اور میمونہ بنت حرث سے نکاح فرمایا اور یہ وہ عورت تھی جس نے اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے پیش کیا تھا اور زینب ام المساکین تھیں جنہوں نے دنیا کو اختیار کیا اور ایک عورت بنوحارث کی تھی کہ جس نے آپ سے پناہ مانگی تھیں اور زینب بنت جحش اسدیہ بھی تھیں۔ اور سبتیین قبیلہ میں سے صفیہ بنت حیی اور جویریہ بنت الحارث الخزاعیہ تھیں۔
13۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی نے علی بن حسین ؓ سے روایت کیا کہ آیت وامرأۃ مومنۃ سے ام شریک ازدیہ مراد ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے پیش کیا تھا۔
14۔ ابن سعد نے ابن ابی عون ؓ سے روایت کیا کہ لیلی بنت حطیم نے اپنی جان کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا تھا اور بھی کئی عورتوں نے اپنی جانوں کو ہبہ کیا تھا ہم نے نہیں سنا کہ نبی ﷺ نے ان میں سے کسی قبول کیا یا نہیں کیا۔
15۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک عورت نے اپنی جان کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا اور یہ ان میں سے تھیں جس کے معاملے کو رسول اللہ ﷺ نے موخر کردیا تھا۔
16۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس نہیں تھی جس نے اپنی جان کو ان کے لیے ہبہ کیا تھا۔
17۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے ہبہ حلال نہیں ہے۔
18۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن المنذر وابن ابی حاتم نے زہری اور ابراہیم نخعی رحمہما اللہ سے دونوں نے فرمایا کہ آیت خالصۃ لک من دون المومنین سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے ہبہ حلال نہیں ہے۔
19۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو بغیر مہر کے ہبہ کردے مگر نبی ﷺ کے لیے ہبہ کرنا حلال ہے۔
20۔ ابن ابی شیبہ مکحول اور زہری رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ایسا ہبہ حلال نہیں۔
21۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو بغیر مہر کے ہبہ کردے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امر صرف نبی ﷺ کے ساتھ خاص کیا ہے مومنوں کے لیے یہ جائز نہیں۔
22۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے عطاء (رح) نے ایسی عورت کے بارے میں فرمایا جس نے اپنے آپ کو ایک مرد کے لیے ہبہ کیا تھا تو فرمایا مہر کے بغیر یہ صحیح نہیں یہ امر صرف نبی ﷺ کے لیے حلال تھا۔
23۔ انس ؓ نے روایت کیا کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا اے اللہ کے نبی ! کیا آپ کو مجھ میں خواہش ہے ؟ انس کی بیٹی نے کہا وہ کتن کم حیا والی ہے۔ تو انس نے فرمایا یہ تجھ سے بہتر ہے جس نے نبی ﷺ کے بارے میں رغبت کی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔
24۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ بات کرتے تھے ام شریک ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنی جان کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا تھا اور وہ نیک عورت تھی۔
25۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وامرأ ۃ مومنۃ ان وہبت نفسہا للنبی سے مراد میمونہ بنت حرث ہیں۔
26۔ عبدالرزاق وابن سعید وعبد بن ھمدی وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ میمونہ بنت حرث نے اپنی جان نبی ﷺ کو ہبہ کی تھی۔
27۔ مالک وعبد الرزاق واحمد والبخاری ومسلم وابوداوٗد والنسائی وابن المنذر وابن المردویہ نے سہیل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ ﷺ کیلیے پیش کیا رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھ سے اس کا نکاح کردیجیے اگر آپ کو اس کی حاجت نہیں ہے تو آپ نے پوچھا تیرے پاس کیا ہے جو تو اس کو دے گا اس نے کہا کہ میرے پاس صرف میری چادر ہے آپ نے فرمایا اگر تو اس کو اپنی چادر دے گا تو پھر بغیر چادر کے بیٹھے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کر اس نے کہا میں کوئی چیز نہیں پاتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلہ میں ہم نے تیری شادی اس کے ساتھ کردی۔
28۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ آیت ان وہبت نفسہا للنبی سے مراد ہے ایک عورت نے تو ہبہ کردیا مگر رسول اللہ ﷺ نے ایسانہ کیا۔
عورت بغیر مہر کے حلال نہیں
29۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت خالصۃ الک من دون المومنین سے مراد ہے ہبہ کرنے والی عورت تیرے بغیر کسی کے لیے حلال نہیں اگر کوئی عورت کسی مرد کے لیے اپنے آپ کو پیش کرے تو اس کے لیے حلال نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اسے کوئی چیز عطا کرے۔
30۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ سے آیت خالصۃ لک من دون المومنین کے بارے میں روایت کیا کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی جان کو بغیر ولی کے کسی مرد کے لیے ہبہ کردے اور نہ بغیر مہر کے جائز ہے یہ امر صرف نبی کریم ﷺ کے لیے خاص ہے۔ لوگوں کے لیے یہ جائز نہیں لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ آیت میمونہ بنت الحارث کے بارے میں نازل ہوئی یہ وہ عورت تھی جس نے اپنی جان کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا تھا۔
31۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت قد علمنا مافرضنا علیہم کے بارے میں روایت کیا کہ آیت اللہ تعالیٰ نے فرض کردیا ہے کہ کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے مگر ولی کی اجازت سے اور مہر اور گواہوں کے ساتھ اور آدمی صرف چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے۔
32۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت قد علمنا مافرضنا علیہم فی ازواجہم یعنی ہم نے جان لیا جو کچھ ہم نے ان پر ان کی بیویوں کے بارے میں فرض کیا ان کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی آدمی چار عورتوں سے تجاوز نہ کرے یعنی چار سے زیادہ نکاح نہ کرو۔
33۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد علمنا مافرضنا علیہم فی ازواجہم سے مراد ہے کہ مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے کہ نکاح ولی اور دو گواہوں کے بغیر نہیں ہوگا۔
34۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد علمنا ما فرضنا علیہم فی ازواجہم سے مراد ہے کہ ان پر فرض کیا گیا ہے کہ نکاح نہیں ہے مگر ولی گواہوں اور مہر کے ساتھ۔
35۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لکیلا یکون علیک حرج یعنی اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں حلال کردیا یہ چاہے ان بیویوں کے درمیان راتیں تقسیم نہ کریں مگر نبی ﷺ راتوں کو تقسیم فرمایا کرتے تھے۔
36۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ ابو موسیٰ ؓ نے جب تستر علاقہ کو فتح کیا تو انہوں نے منع فرمایا کہ حاملہ عورت سے وطی نہ کیا جائے اور مشرکین کے ساتھ ان کی اولادوں میں شریک نہ ہواجائے کیونکہ پانی بچے میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔ یہ ایسی بات ہے جو انہوں نے اپنی طرف سے کہی یا ایسی بات ہے تو انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اوطاس کے دن حاملہ عورت سے وطی کرنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ بچہ جن لے یا بانجھ ہو تو رحم پاک کرے۔
37۔ ابن ابی شیبہ واحمد والطبرانی ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو حامہ عورت سے وطی کرے۔
38۔ ابن ابی شیبہ والدارقطنی وابو داوئد وابن منبع والبغوی والباوردی وابن قانع والبیہقی والضیاء وابو ورق جو نجیب کے غلام ہیں سے روایت کیا کہ ہم نے رویفع بن ثابت انصاری کے ساتھ مغرب کی جانب ایک جنگ میں شرکت کی ہم نے ایک بستی فتح کی جس کو جربہ کہا جاتا تھا رویفع ہمارے درمیان کھڑے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا میں تم سے نہیں کہتا مگر وہ بات جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی کہ خیبر کے دن آپ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے اپنی سے غیر کی کھیتی کو سیراب نہ کرے۔
حاملہ عورت سے شادی کی ممانعت
39۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب تستر فتح ہوا اور ابو موسیٰ نے بہت سے قیدی پکڑے تو عمر نے ان کی طرف لکھا کہ کوئی آدمی کسی حاملہ عورت سے وطی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بچہ جن لے اور مشرکین کے ساتھ ان کی اولادوں میں شریک نہ ہو۔ کیونکہ یہ پانی بچے کو مکمل کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
40۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حاملہ عورت سے وطی کرنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ بچہ جن لے۔ اور بغیر حمل والی عورت سے وطی نہ کرے۔ جب تک ایک حیض آنے سے پاک نہ ہوجائے۔
41۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک منادی کو ایک غزوہ میں منادی کرنے کا حکم فرمایا کہ کوئی مرد حاملہ عورت سے وطی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بچہ جن لے اور بغیر حمل والی عورت سے وطی نہ کرے یہاں تک کہ اس کو حیض نہ آجائے۔
42 ابن ابی شیبہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح خیبر کا دن فرمایا کہ کسی حاملہ عورت سے وطی نہ کرو یہاں تک کہ وہ بچہ جن لے۔
Ayah 33:511۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ترجی من تشاء سے مراد ہے کہ جس کو آپ چاہیں موخر کردیں۔
2۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ترجی من تشاء ان میں سے جس کو آپ چاہیں دور رکھیں یعنی امہات المومنین میں سے آیت وتؤوی اور جس کو چاہیں پاس رکھیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان میں سے جس کے بارے میں آپ پسند کریں اسے آزاد کردیں اور جس کے بارے میں چاہیں اسے گھر میں روک لیں اور فرمایا آیت ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناھ علیک ذلک ادنی ان تقر اعینہن ولا جحزن وریضین بما اتیتہن کلہن اور جن سے آپ کنارہ کش ہوگئے اگر ان میں سے پھر کسی کو طلب کرلیں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ غمگین نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ دے دیں گے اس پر سب کی سب راضی رہیں گے۔ یعنی اس سے وہ عورتیں مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کیں تھیں پھوپھی کی بیٹیوں میں سے ماموں اور خالہ کی بیٹیوں میں سے آیت التی ہاجرن معک جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی اگر آپ کی عورتوں میں سے کوئی مرگئی جو آپ کے پاس تھی یا آپ نے اس کو آزادی دے دی تھی تو میں نے اس کی جگہ تیرے لیے اور عورت حلال کردی جو تیرے پاس تھی اور وہ مرگئی یا تو نے اسے آزاد کردیا جو میں نے تیرے لیے حلال کیں ان کی جگہ بدلے میں نے تیرے لیے حلال کیا ہے اور یہ درست نہیں کہ جو عورتیں تیرے پاس موجود ہیں ان پر کسی عورت کو زیادہ کرو۔
3۔ ابن مردویہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی نو بیویاں تھیں انہوں نے کہا ہم کو ڈر ہوا کہ آپ ان کو طلاق دے دیں گے تو انہوں نے کہا یارسول اللہ ! ہمارے لیے تقسیم کردیجیے اپنی جان میں سے اپنے مال میں سے جو آپ چاہیں اور ہم کو طلاق نہ دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ” ترجی من تشاء منہمن وتؤوی الیک من تشاء “ آیت کے آخرتک اور موویات سے پانچ تھیں۔ عائشہ حفصہ ام سلمہ زینب اور ام حبیبہ ؓ اور مرجات چار تھیں جویریہ، میمونہ، سودہ اور صفیہ ؓ ن۔
4۔ ابن مردویہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ خولہ بنت حکیم نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تھی پھر ان کو دوسری عورتوں کے ساتھ مؤخر فرمادیا تھا۔
ازواج مطہرات میں باری مقرر ہونا
5۔ ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات کی باری کی تقسیم میں سہولت دی گئی تھی ان کے درمیان آپ تقسیم فرماتے تھے جس طرح چاہتے تھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ذلک ادنی ان تقر اعینہن اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی جب وہ جانیں گی کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
6۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنی بیویوں کی باری کی تقسیم کے بارے میں وسعت دی گئی تھی کہ آپ جس طرح چاہتے ہیں ان کے درمیان تقسیم کریں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ذلک ادنی ان تقر اعینہن جب وہ چاہیں گی کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
7۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک عورت نے اپنی جان کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا اور یہ مؤخر کیے جانے والیوں میں سے تھی۔
دوسرے کے پیغام پر پیغام دینا جائز نہیں
8۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب کسی عورت کو نکاح کا پیغام دیتے تھے تو کسی دوسرے مرد کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اس عورت کو نکاح کا پیغام دے یہاں تک کہ آپ اس سے نکاح کرلیں یا اس کو چھوڑ دیں۔
9۔ احمد والبخاری ومسلم وابن جریر حسن سے وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ان عورتوں پر حیرت کرتی ہوں جو اپنی جانوں کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کرتی تھیں۔ اور یہی کہتی تھی کہ وہ کسی طرح اپنی جان کو ہبہ کرتی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ترجی من تشاء منہن وتؤوی الیک من تشاء ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک۔ (ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن سے آپ کنارہ کش ہوگئے اگر ان میں سے کسی کو طلب کرلیں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں میں نے کہا میں نہیں دیکھتی ہوں اپنے رب کو مگر وہ جلدی فرماتے ہیں آپ کی خواہش کے (پورا کرنے) میں۔
10۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ کہا کرتی تھیں کیا عورت شرم نہیں کرتی کہ وہ کسی مرد کو اپنی جان پر ہبہ کردے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی عورتوں کے بارے میں اتارا آیت ترجی من تشاء منہن وتؤوی من تشاء اس پر عائشہ ؓ نے فرمایا میں اپنے رب کو دیکھتی ہوں کہ وہ آپ کی خواہش (پورا فرمانے میں) جلدی فرماتے ہیں۔
11۔ ابن سعد ھضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ترجی من تشاء تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے جلدی فرماتے ہیں ان باتوں میں سے جس کو آپ ارادہ فرماتے ہیں۔
12۔ ابن سعد وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عورتوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنی جانوں کو ہبہ کیا ان میں سے بعض کو آپ نے اپنے حرم میں داخل کیا اور بعض کو آپ نے موخر کردیا وہ آپ کے حرم میں داخل نہ ہوئیں یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور اسکے بعد انہوں نے کسی سے نکاح نہیں کیا۔ ان میں سے ام شریک تھیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ترجی من تشاء منہن وتؤوی الیک من تشاء
13۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو زید (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض عورتوں کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا جب انہوں نے یہ دیکھا تو وہ آپ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا ہمیں طلاق نہ دیجیے اور آپ کو اس بارے میں ہمارے اور اپنے درمیان اختیار ہے ہمارے لیے مقرر کردیجیے اپنی جان میں سے اور اپنے مال میں سے جو آپ چاہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ترجی من تشاء منہن ان میں سے جس کو آپ چاہیں اپنے سے دور رکھیں۔ یعنی اپنی عورتوں میں سے اور فرماتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اس سے جدائی اختیار کرلیں رسول اکرم ﷺ نے بعض کو موخر کردیا اور بعض کو حرم میں لے لیا۔ جن کو موخر کردیا وہ میمونہ، جویریہ، ام حبیبہ، صفیہ اور سودہ تھیں۔ اور آپ جو چاہتے اپنی جان اور اپنے مال میں سے ان میں تقسیم فرمادیتے جن کو حرم میں شامل کیا وہ عائشہ، حفصہ ام سلمہ اور زینب ؓ تھیں اور آپ نے تقسیم فرمادیا تھا اپنی جان اور اپنے مال میں سے ان کے درمیان برابری اختیار کرتے ہوئے۔
14۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) نے آیت ترجی من تشاء کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے لیے فرمایا تاکہ آپ اپنی بیویوں کو ادب سکھائیں تاکہ یہ حکم ان کی آنکھوں کے لیے ٹھنڈک بن جائے اور ان کے لیے اپنی زندگی میں زیادہ خوشنودی کا باعث ہو اور ہم نے نہیں جانا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کسی کے معاملہ کو موخر کیا یا اس سے جدائی اختیار کی اس کے بعد کہ ان کو اختیار دیا گیا تھا تو سب نے رسول اللہ ﷺ کو پسند کیا۔
15۔ ابن سعد سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن مالک ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض عورتوں کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آپ کو ہر قسم کے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ترجی من تشاء منہن وتؤوی الیک من تشاء (اور آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں ان میں سے جس کو چاہیں اپنے اپس رکھیں ) ۔
16۔ الفریابی وابن سعد وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ترجی منت تشاء منہن سے مراد ہے ان میں سے جس سے آپ چاہیں علیحدگی اختیار کرلیں وہ آپ کے پاس نہ آتیں بغیر طلب کے آیت وتؤی الیک من تشاء اور جس کو آپ چاہیں اسے اپنے حرم میں واپس لے لیں آیت ومن ابتغیت ممن عزلت یعنی اس کو جگہ دیں اپنی طرف اگر آپ چاہیں۔
17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ترجی سے مراد ہے کہ تو اسے چاہے تو موخر کردے۔
18۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے طلاق نہیں دی اور آپ علیحدگی کرتے تھے۔
19۔ البخاری ومسلم وابوداوئد والنسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے اجازت لیتے تھے جب ہماری باری ہوتی بعد میں یہ آیت نازل ہوئی آیت ترجی من تشاء منہن۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو کیا کہتی تھی عائشہ ؓ نے کہا میں آپ سے کہتی تھی یہ میرا حق ہے میں آپ کے معاملہ میں کسی اور کو اپنے اوپر ترجیح نہیں دیتی۔
Ayah 33:521۔ الفریابی ابو داوٗد وابن مردویہ احمد وابن المنذر وابن جریر وابن مردویہ نے زیاد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت ابی ؓ سے عرض کیا مجھے آپ بتائیے اگر نبی ﷺ کی بیویاں فوت ہوجائیں تو کیا آپ کے لیے شادی کرنا حلال نہ ہوتا ؟ فرمایا رسول اللہ ﷺ کے لیے کیا مانع ہے۔ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ (کہ آپ کے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں ہیں) اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے خاص قسم کی عورتیں حلال کی ہیں اور ان کی صفت بھی بیان کردی اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہالنبی انا احللنا لک ازواجک سے لے کر آیت وامرأۃ مومنۃ تک پھر فرمایا آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ یعنی آپ کے لیے کوئی عورت اس کے بعد حلال نہیں۔
2۔ عبد بن حمید والترمذی (وحسنہ) وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو مختلف قسموں کی عورتوں سے روک دیا گیا اگر جو ” مومنات مہاجرات “ میں سے ہوں وہ آپ کے لیے حلال ہیں آیت ” لایحل لک النساء من بعد ولا انتبدل بہن من ازواج ولو اعجبک حسنہن الا ماملکت یمینک “ (نہیں حلال آپ کے لیے عورتیں اس کے بعد اور نہ حلال کہ ان بیویوں کے بدلے میں کوئی اور بیوی تبدیل کرلیں اگرچہ آپ کو ان کا حسن اچھا لگے مگر جو باندیاں ہیں ان سے نکاح کرسکتے ہیں تو آپ کے لیے مومن عورتوں کو حلال فرمایا آیت ” وامرأۃ مومنۃ ان وہبت نفسہا للنبی “ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے لیے علاوہ ہر دین والی عورت کو آپ پر حرام کردیا۔ اور فرمایا یا ایہا النبی انا احللنا لک ازواجک سے لے کر آیت خالصۃ لک من دون المومنین “ تک اور اس کے علاوہ ہر قسم کی عورتوں میں سے حرام کردیا گیا۔
3۔ ابو داوٗد فی ناسخہ وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عکرمہ (رح) فرمایا کرتے تھے آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ یعنی ان اصناف میں جو آپ کے لیے بیان کی گئی ہیں۔ وہ آپ کے چچا کی بیٹیاں آپ کی پھوپھی کی بیٹیاں آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ کی خالہ کی بیٹیاں اور کوئی مومن عورت اگر نبی ﷺ کو اپنی جان ہبہ کردے تو وہ بھی آپ کے لیے حلال ہے ان قسموں میں سے جس سے آپ نکاح کرنا چاہیں۔
5۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا یحل لک النساء من بعد سے مراد ہیں یہودی اور نصرانی عورتیں جو حرام ہیں (یعنی یہ عورتیں) اس لائق نہیں کہ مومنین کی مائیں بن جائیں آیت ” الا ماملکت یمینک “ سے مراد ہے کہ ان یہودی اور نصرانی عورتوں کو خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔
6۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا یحل لک النساء من بعد سے مراد ہیں کہ کوئی یہودی اور نصرانی عورت آپ کے لیے حلال نہیں۔
7۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ نے آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو پہلی ازواج مطہرات کے بعد اور عورتوں سے شادی کرنے سے منع کردیا۔
8۔ ابن عباس ؓ نے آیت لایحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بہن من ازواج سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ان عورتوں پر اس طرح روک دیا جس طرح ان عورتوں کو رسول اللہ ﷺ پر روک دی۔
9۔ ابوداوٗد نے اپنے ناسخ میں وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو یعنی آپ کی بیویوں کو اختیار دیا تو سب نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا تو پھر انہی عورتوں پر آپ کو محدود کردیا گیا اور فرمایا آیت ” لا یحل لک النساء من بعد “
10۔ ابن سعد نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” لایحل لک النساء من بعد “ یعنی یہ نو عورتیں جنہوں نے آپ کو اختیار کیا ہے اب آپ پر حرام کردیا گیا کہ ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرلیں۔
آخری عمر تک آپ ﷺ کا تمام عورتوں سے نکاح حلال تھا
11۔ ابن سعد وابن ابی حاتم نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا کہ عورتوں میں سے جس سے چاہیں نکاح کریں سوائے ذی رحم محرم عورتوں سے کہ ان سے نکاح جائز نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ترجی من تشاء منہن وتوی الیک من تشاء “ کا یہی مطلب ہے۔
12۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن حمید وابوداوٗد نے اپنے ناسخ میں والترمذی (وصححہ) والنسائی وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے عطاء کے طریق سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا کہ وہ عورتوں سے نکاح کریں جس سے چاہیں سوائے اپنی محرم عورتوں کے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے آیت ” ترجی من تشاء منہن وتؤی الیک من تشاء “
13۔ ابن سعد نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
14۔ ابن سعد نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام (رح) آیت ” لا یحل لک النساء من بعد “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو انہی عورتوں پر محدود کردیا گیا اور آپ نے ان کے بعد کسی سے نکاح نہیں کیا۔
15۔ ابن سعد نے سلیمان بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے کندیہ عورت سے نکاح فرمایا اور اس کو عامریات میں بھیج دیا اور ام رشریک نے اپنی جان کو آپ کے لیے ہبہ کیا تو آپ کی بیویوں نے کہا اگر نبی ﷺ نے اجنبی عورتوں سے شادیاں کرلیں تو ہم میں آپ کی کوئی حاجت نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا اور نبی ﷺ کو انہیں ازواج مطہرات پر محدود کردیا اور آپ کے لیے چچا کی بیٹیوں، پھوپھی کی بیٹیوں، ماموں کی بیٹیوں اور خالہ کی بیٹیوں کو حلال رکھا گیا جنہوں نے ہجرت کی اور باقی عورتیں آپ پر حرام کردی گئیں سوائے لونڈیوں کے اور سوائے اس عورت کے جس نے اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے لبہ کردیا تھا اور ام شریک تھیں۔
16۔ سعید بن منصور وابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” لا یحل لک النساء من بعد “ یعنی مشرک عورتوں میں سے آپ کے لیے عورتیں حلال نہیں مگر جو قید ہوجاتیں اور تم ان کے مالک بن جاؤ۔
17۔ البزار وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ زمانۂ جاہلیت میں بدل اس طرح ہوتا تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے کہتا تھا کہ تو اپنی بیوی میرے ہاں بھیج دو اور میں اپنی بیوی تیرے ہاں بھیج دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ” ولا ان تبدل بہن من ازواج ولو اعجبک حسنہن “ عیینہ بن حسن فزاری بغیر اجازت لیے رسول اللہ ﷺ کے اندر آگیا آپ کے پاس عائشہ ؓ موجود تھیں۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا تو نے اجازت کیوں نہیں لی ؟ عیینہ نے کہا یا رسول اللہ ! جب سے میں آیا ہوں میں نے انصار میں سے کسی سے اجازت نہیں لی پھر کہنے لگا آپ کے پہلو میں حمیرا کون ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عائشہ ام المومنین ہے۔ اس نے کہا کیا میں آپ کے لیے دنیا کی حسین ترین عورت کو نہ بھیج دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عیینہ اللہ تعالیٰ نے یہ حرام کردیا ہے جب وہ باہر نکل گیا تو عائشہ ؓ نے پوچھا یہ کون تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہ یہ احمق سردار ہے جیسا تم دیکھ رہی ہو یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔
18۔ ابن المنذر نے زید بن اسلم (رح) سے آیت ولا ان تبدل بہن من ازواج کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہتا تھا اور اس کی بیوی بہت خوبصورت ہوتی تھی کہ میری بیوی اپنی بیوی سے بدل کو ور میں تیری باندی سے بھی مزید لطف اٹھاؤں گا۔
19۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن شداد ؓ سے آیت ” ولا ان تبدل بہن من ازواج “ کے بارے میں فرمایا (اور نہ یہ حلال ہے آپ کے لیے کہ ان موجودہ بیویوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ دوسری بیبیاں کرلیں) یہ اس وجہ سے اگر آپ ان کو طلاق دے دیں تو آپ کے لیے حلال نہیں ہے کہ آپ ان کے بدلے میں دوسری بیبیاں کرلیں اور اس سے پہلے آپ جس عورت سے چاہتے نکاح کرلیتے کہا جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ کے نکاح میں نو عورتیں تھیں پھر آپ نے ام سفیان کی بیٹی ام حبیبہ اور جویریہ بنت حارث سے نکاح کیا۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن زید کے طریق سے حسن بصری (رح) سے آیت ولا ان تبدل بہن من ازواج کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نو عورتوں پر محدود کردیا جن سے آپ کا وصال ہوا تھا علی بن زید نے کہا میں نے اس کا ذکر علی بن حسین سے کیا تو آپ نے فرمایا اگر آپ چاہتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے شادی کرسکتے تھے اور عبد بن حمید کے الفاظ ہیں بلکہ آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ ان کے علاوہ اور عورتوں سے شادی کرلیں۔
21۔ عبد بن حمید نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر جس دن یہ آیت ” ولا ان تبدل بہن من ازواج “ نازل ہوئی اس دن جس سے آپ چاہتے شادی کرسکتے تھے۔
22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکان اللہ علی کل شیء رقیبا میں رقیبا سے مراد نگہبان ہے۔
Ayahs 33:53–541۔ البخاری وابن جریر وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ابن خطاب ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے پاس نیک اور برے لوگ آتے ہیں اگر آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم فرمادیں (تو اچھا تھا) تو اس پر اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیات اتاری۔
میزبان کو تکلیف پہنچانا جائز نہیں
2۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والبخاری ومسلم والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنی میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے نکاح فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کو (ولیمہ پر) بلایا صحابہ کرام ؓ نے کھایا پھر باتیں کرنے کے لیے بیٹھ گئے، اچانک آپ نے یہ ارادہ کیا کہ آپ کھڑے ہونے لگے ہیں تو پھر بھی صحابہ کھڑے نہ ہوئے جب آپ نے یہ دیکھا تو اٹھ کھڑے وہئے جب آپ کھڑے ہوئے تو کچھ صحابہ کھڑے ہوگئے اور تین آدمی بیٹھے رہے نبی ﷺ اندر جانے کے لیے تشریف لائے تو وہ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے۔ میں گیا اور آپ کے پاس آیا اور میں نے نبی ﷺ کو اطلاع دی کہ وہ چلے گئے ہیں آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوگئے میں بھی چلا تاکہ اندر داخل ہوجاؤں تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آتی نازل فرمائی آیت ” یا ایہا الذین اٰمنوا لاتدکلوا بیوت النبی “ (اے ایمان والو ! نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہوجاؤ)
3۔ الترمذی (وحسنہ) وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا آپ اس عورت کے دروازے پر آئے جس سے آپ نے عقد کیا تھا کیا دیکھا کہ وہ لوگ موجود ہیں حضور ﷺ تشریف لے گئے اور اپنی حاجت کو پورا فرمایا پھر آپ واپس لوٹے تو وہ جاچکے تھے آپ اندر داخل ہوئے جبکہ آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا میں نے ابو طلحہ ؓ کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا اگر ایسا ہے جیسے تو نے کہا تو اس بارے میں ضرور حکم نازل ہوگا تو پردہ کی آیات نازل ہوئیں۔
4۔ ابن سعد وعبد بن حمید وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں انس ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بغیر اجازت اندر جایا کرتا تھا ایک دن میں آیاتا کہ اندر داخل ہوجاؤں تو علی ؓ نے فرمایا اے پیارے بیٹے ٹھہرجاؤ تیرے بعد ایک نیاحکم آچکا ہے۔ آب ہم پر داخل نہ ہوا کر اگر اجازت ہے
5۔ ابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس اندر آیا اور طویل وقت تک بیٹھا رہا نبی ﷺ کئی دفعہ کھڑے ہوئے تاکہ وہ بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے کھڑا ہوجائے مگر اس نے ایسا نہ کیا عمر ؓ آئے اس آدمی کو دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک میں ناگواری کو پہچان لیا پھر عمر ؓ آئے اس آدمی کو دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک میں ناگواری کو پہچان لیا پھر عمر ؓ نے اس بیٹھنے والے آدمی کو دیکھ کر فرمایا میں کئی مرتبہ آٹھا تاکہ یہ میرے پیچھے آجائے مگر اس نے ایسا نہ کیا اس پر عمر ؓ نے فرمایا اگر آپ پردہ ڈال لیتے تو کیا اچھا تھا کیونکہ آپ کی ازواج دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہیں پردہ کا حکم ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین امنو لاتدخلوا بیوت النبی (اس آیت کے اترنے کے بعد) آپ نے عمر ؓ کو بلوابھیجا اور ان کو اس بات کی خبر دی۔
6۔ النسائی وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ نے صحیح سند کے ساتھ ہے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ لکڑی کے ایک پیالے میں کھانا کھارہی تھی عمر ؓ گزرے تو آپ نے ان کو بلایا تو وہ بھی کھانے لگے۔ (کھانے کے دوران) ان کی انگلی میری انگلی سے لگ گئی تو عمر ؓ نے فرمایا اوہ اگر (تم عورتوں کے بارے میں) میرا کہا مان لیا جاتا تو کوئی آنکھ تم کو نہ دیکھ پاتی اس کے بعد آیت حجاب نازل ہوگئی۔
7۔ ابن سعد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو پردہ کا حکم حضرت عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ان کا ہاتھ نبی ﷺ کی کسی بیوی کے ساتھ جا لگا تو اس پر پردہ کا حکم ہوا۔
8۔ ابن سعد وابن جریر وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی باقی نہیں جو مجھے سے حجاب کے بارے میں زیادہ جانتا ہو اور مجھ سے ابی بن کعب نے پوچھا تو میں نے کہا کہ یہ حکم زینب ؓ کے بارے میں نازل ہوا۔
9۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تدخلوا بیوت النبی سے آیت غیر نظرین انہ تک سے مراد کہ وہ آپ کے کھانے کے وقت کو نہ دیکھتے رہیں۔ آیت ولکن اذا دعیتم فادکلوا فاذا طعمتم فانتشروا (لیکن جب تم کو بالایا جائے تو داخل ہوجاؤ اور جب کھاچکو تو چلے جاؤ کہا کہ یہ واقعہ ام سلمہ کے گھر میں ہوا کہ صحابہ کرام نے کھانا کھایا پھر لمبی باتیں کرنے لگے۔ نبی ﷺ کبھی باہر تشریف لے جاتے اور کبھی اندر تشریف لے آتے۔ اور آپ ان سے شرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتے۔ فرمایا آیت ” واذا سألتموہن متاعا فسئلوہن من وراء حجاب “ کہ جب تم ان سے کسی سامان کا سوال کرو تو ان سے پردہ کے پیچھے سے سوال کرو۔ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس وقت پردے کا حکم دئیے گئے۔ آیت ” لا جناح علیہن فی اٰ باۂن کہ ان پر کوئی گناہ نہیں ان کے باپوں کے بارے میں کہ ان سے پردہ نہ کریں ان کے لیے رخصت دے دی گئی ان رشتہ والوں سے پردہ نہ کریں۔
10۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرم نبی ﷺ کے گھر میں داخل ہوجاتے تھے اور وہاں بیٹھ جاتے تھے اور باتیں کرتے رہتے تھے تاکہ وہ کھانے کو پالیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اتارا۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم الی طعام غیر نظرین انہ، (اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوجاؤ مگر جس وقت کھانے کی اجازت دی گئی ایسے طور پر کہ اس کے پکائے جانے کے منتظر نہ رہو تاکہ کھانے کو پالو آیت ولا مستانسین لحدیث اور باتیں کرتے ہوئے مت بیٹھے رہو۔
11۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت غیر نظرین انہ کے بارے میں بتائیے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ الانا سے مراد ہے پکی ہوئی چیز یعنی جب تم کھانے کو پاؤ پھر پوچھا کہ عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا
ینعم ذلک الانا الغیط کما ینعم غرب المحالہ الجمل
12۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانا کھا رہے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے بعض صحابہ بھی تھے تو ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ عائشہ ؓ کے ہاتھ سے لگ گیا اس بات کو نبی ﷺ نے ناپسند فرمایا تو آیت حجاب نازل ہوئی۔
پردہ کے حکم کے نزول کی حضرت عمر ؓ کو انتہائی خواہش تھی
13۔ ابن جریر نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی بیویاں رات کو نکلتی تھیں جب قضائے حاجت کی ضرورت ہوتی تو وہ ایک کھلی جھہ ہوتی تھی اور عمر بن خطاب ؓ ان سے کہا کرتے تھے کہ اپنی عورتوں کو پردہ کرائیں اور رسول اللہ ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے (کیونکہ ابھی اللہ کا حکم نہیں آیا تھا) سودۃ بنت زمعہ ؓ عشاء کے بعد ایک رات (ضرورت کے لیے) باہر نکلیں۔ وہ ایک لمبے قد کی عورت تھیں حضرت عمر کو چونکہ پردہ کے نازل ہونے کی انتہائی خواہش تھی اس کے لیے آپ نے پکار کر کہا اے سودہ ہم نے آپ کو پہچان لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل فرمادی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہا الذین اٰمنولا تدخلوا بیوت النبی آخر تک۔
14۔ الفریابی وابن ابی شییبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت غیر نظرین انہ سے مراد ہے کہ وہ کھانا پکنے کا انتظار نہ کریں۔ آیت ولا مستانسین لحدیث اور باتوں میں دل بہلانے کے لیے مت بیٹھو اس کے بعد کہ تم کھانا کھا چکو۔
15۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہ سے مراد ہے اس کا پکنا
16۔ ابن ابی حاتم نے سلیمان ارقم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا مستانسین لحدیث کہ آیت جسیم لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
17۔ الخطیب نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب صحابہ کرام کھانا کھالیتے تو نبی ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے اس امید میں کہ شاید کوئی اور چیز آئے گی تو یہ آیت نازل ہوئی آیت فاذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسین لحدیث (جب کھانا کھاچکے تو منتشر ہوجاؤ اور باتوں میں دل بہلانے کے لیے مت بیٹھو) ۔
18۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا سألتموہن متاعا جب تم ان سے کسی سامان کا سوال کرو۔ یعنی نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے تو پردہ کے پیچھے سے سوال کرو کیونکہ ان پر پردہ لازم ہے۔
19۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) نے فرمایا کہ آیت واذا سألتموہن متاعا یعنی کسی حاجت کا سوال کرو۔
20۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کو چار باتوں میں لوگوں پر فضیلت حاصل ہے بدر کے دن قیدیوں کے ذکر کی وجہ سے کہ انہوں نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت لو لا کتب من اللہ سبق (الانفال آیت 68) اور پردہ کے ذکر کی وجہ سے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیا تھا تو زینب نے ان سے فرمایا کہ اے ابن خطاب ! تو ہمارے بارے میں غیرت دکھاتا ہے، وحی ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی آیت واذا سألتموہن متاعان اور نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ ! عمر کے ذریعہ اسلام کی مدد فرما۔ اور ابوبکر ؓ کے بارے میں اپنی رائے سے آپ کی سب سے پہلے بیعت کی۔
21۔ ابن سعد نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر کی طرف تشریف لے جاتے تھے تو صحابہ کرام ﷺ جلدی کرتے تھے اور اپنی جگہوں پر بیٹھ جاتے اس پر ناگواری کو نہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے اور نہ کھانے کی طرف ہاتھ بڑھانے سے معلوم ہوتا کیونکہ نبی اکرم ﷺ صحابہ سے شرماتے تھے ل۔ تو اس بارے میں وہ عتاب کیے گئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لاتدخلوا بیوت النبی
22۔ ابن سعد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ پردے کا حکم نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جھش کو اپنی زوجیت میں کیا۔ اور یہ ہجرت کے پانچواں سال تھا آپ کی ازواج مطہرات نے اس دن سے پردہ کیا اور میں پندرہ سال کا تھا۔
پردہ کا حکم کب نازل ہوا ؟
23۔ ابن سعد نے صالح بن کیسان (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج پر حجاب کا حکم ہجرت کے پانچویں سال ذوالقعدہ میں نازل ہوا۔
24۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ اور تمہارے لیے اللہ کے رسول کو دیکھ دینا جائز نہیں کہ یہ آتی اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس نے نبی ﷺ کی ایک زوجہ سے آپ کے بعد شادی کرنے کا ارادہ کیا سفیان نے کہا کہ وہ زوجہ حضرت عائشہ ؓ تھیں۔
25۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ طلحہ بن عبیداللہ نے کہا کہ محمد ﷺ ہم کو ہمارے چچا کی بیٹیوں سے پردہ کراتے ہیں اور ہمارے بعد ہماری بیویوں سے شادیاں کرتے ہیں اگر ان کو موت آگئی تو ہم آپ کے بعد آپ کی بیوں سے ضرور نکاح کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
26۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی کہتا ہے اگر رسول اللہ ﷺ وفات پاجائیں تو میں فلاں (آپ کی بیوی) سے آپ کے بعد نکاح کروں گا۔ اور یہ بات آپ کو اذیت دیتی تھی تو اس قرآن میں نازل ہوا آیت وماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ۔
27۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ طلحہ بن عبیداللہ نے کہا کہ محمد ﷺ ہم کو ہمارے چچا کی بیٹیوں سے پردہ کراتے ہیں اور ہمارے بعد ہماری بیویوں سے شادیاں کرتے ہیں اگر ان کو موت آگئی تو ہم آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے ضرور نکاح کریں گے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
28۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ طلحہ بن عبیداللہ نے کہا کہ اگر نبی ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں عائشہ سے شادی کروں گا تو یہ آیت نازل ہوئی آیت وماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ۔
29۔ ابن سعد نے کہا کہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم آیت ” وماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “ کے بارے میں نازل ہوئی اس نے کہا تھا جب رسول اللہ ﷺ وفات پاجائیں گے تو میں عائشہ ؓ سے شادی کروں گے۔
30۔ البیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا اگر رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے تو میں عائشہ سے شادی کروں گا یا ام سلمہ سے تو اللہ تعالیٰ یہ آتی اتاری۔ آیت وماکان لکم ان تؤذوا رسول اللہ کہ تمہارے یہ لائق نہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دو ۔
31۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی بعض بیویوں کے پاس آیا اس سے بات کی اور وہ ان کے چچا کے بیٹا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بعد اس جگہ پر ہرگز کھڑ ا نہ ہونا اس نے کہا یارسول اللہ ! یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اللہ کی قسم ! میں نے اس کو کوئی ناپسندیدہ بات نہیں کہی اور نہ اس نے مجھ سے کوئی ایسی بات کی نبی ﷺ نے فرمایا میں اسے خوب جانتا ہوں کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر غیور نہیں ہے اور نہ ہی مجھ سے زیادہ کوئی غیرت والا ہے تو وہ چلا گیا پھر اس نے کہا مجھے آپ چچا کی بیٹی سے کلام کرنے سے منع کرتے ہیں اور میں آپ کے بعد ضرور اس سے شادی کروں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو اس آدمی نے ایک غلام آزاد کیا اور اس نے دس اونٹ اللہ کے راستے میں دئیے اور اس کلمہ کی وجہ سے پیدل حج کیا۔
32۔ ابن مردویہ نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ مجھے علی ؓ نے نکاح کا پیغام بھیجا تو یہ بات فاطمہ ؓ کو پہنچی وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور فرمایا کہ وہ شادی کرنے والی ہے علی سے تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اسے کوئی حق حاصل نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دے۔
جنت میں بیوی وشوہر
33۔ البیہقی نے سنن میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تجھ کو یہ بات خوش لگے کہ تو جنت میں میری بیوی ہو تو میرے بعد کسی سے شادی نہ کرنا کیونکہ جنت میں عورت اپنے آخری خاوند کے ساتھ ہوگی جو دنیا میں تھا اسی لیے نبی ﷺ کی ازواج کو حرام کردیا گیا کہ وہ آپ کے بعد کسی اور سے نکاح کریں کیونکہ وہ جنت میں ان کی بیویاں ہوں گی۔
34۔ ابن سعد نے ابو امامہ سہیل بن حنیف ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ان تبدو شیئا او تخفوہ “ سے مراد ہے کہ تم ایسی بات کرو اور تم کہتے ہو کہ ہم نبی ﷺ کی فلاں بیوی سے نکاح کریں گے یا اس بات کو اپنے دلوں میں چھپاؤ تو تم ایسی بات نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔
35۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ عالیہ بنت ظبیان ؓ کو نبی ﷺ نے اس وقت طلاق دی تھی جبکہ آپ کی بیویاں آپ پر حرام نہ تھیں اس نے اپنے چچا کے لڑکے سے شادی کی اور اس سے اس کی اولاد بھی ہوئی۔
36۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان تبدو شیئا اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے ان چیزوں میں سے جو نبی ﷺ کو تکلیف دے۔ آیت ان تبدو شیئا او تخفوہ فان اللہ کان بکل شیء علیمان یا اس کو اپنے دلوں میں چھپاؤ گے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔
Ayah 33:551۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لا جناح علیہن فی اٰباء ہن خاص طور پر آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں نازل ہوئی اور نساء ہن سے مراد مسلمان عورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قول آیت ولا ما ملکت ایمانہن یعنی غلاموں اور باندیوں میں سے اور ان کے لیے رخصت دے دی گئی کہ وہ ان کو دیکھ سکتے ہیں حجاب کا حکم نازل ہو کے بعد بھی۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابوداوٗد نے اپنے ناسخ میں وابن جریر نے وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاجناح علیہن فی اٰباء ہن ان پر گناہ نہیں ہے ان کے باپوں کے بارے میں یعنی جن رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کو دیکھیں۔
نامحرم عورت کے پاس داخل ہونا جائز نہیں
3۔ ابن سعد نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ کون نبی ﷺ کی ازواج کے پاس جاسکتا ہے تو انہوں نے کہا ہر ذی رحم محرم رشتہ دار جو نسبتی ہو یا رضاعی ہو اور پوچھا باقی لوگ ؟ جواب دیا کہ ازواج مطہرات ان سے پردہ کریں گے یہاں تک کہ وہ اس مرد سے پردے کے پیچھے سے بات کریں گی بعض اوقات ایک ہی پردہ تھا مگر غلام اور مکاتب سے وہ پردہ نہیں کرتی تھیں۔
4۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وابوداوٗد نے اپنے ناسخ میں ابوجعفر محمد بن علی (رح) سے روایت کیا کہ حسن اور حسین ؓ امہات المومنین کو نہیں دیکھتے تھے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر وہ ان کو دیکھ لیتیں تو ان کے لیے حلال ہوتا۔
5۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وابوداوٗد نے اپنے ناسخ میں عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ کو یہ بات پہنچی کہ عائشہ ؓ نے حسن سے پردہ فرمایا اور ابن عباس ؓ نے فرمایا حضرت حسن کے لیے عائشہ کو دیکھنا حلال ہے۔
6۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاجناح علیہن کہ اس آیت میں چچا اور ماموں کو ذکر نہیں فرمایا کیونکہ ان دونوں کا ذکر ان کے بیٹوں کے ضمن میں آجاتا ہے۔