Ayahs 33:57–58ایذا دینے والے اور تہمت لگانے والوں کا برا انجام
رسول اللہ ﷺ کے اکرام و احترام کا حکم دینے اور آپ پر صلوٰۃ وسلام بھیجنے کا حکم فرمانے کے بعد آپ کو تکلیف دینے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کردی۔ لعنت پھٹکار ڈالنے اور اللہ کی رحمت سے دور ہونے کو کہا جاتا ہے اور سب سے بڑی لعنت کافروں ہی پر ہے۔ گو بعض معصیتوں پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔ (کن کن افراد پر لعنت وارد ہوئی ہے انہیں ہم نے چہل حدیث میں جمع کردیا ہے اس کا مطالعہ کیا جائے) اللہ تعالیٰ تاثر اور انفعال سے پاک ہے اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔ ایسے افعال کے ارتکاب کو اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانے سے تعبیر فرمایا ہے جن سے مخلوق کو تکلیف ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں (یعنی میں نے زمانے کو پیدا کیا) سب امور میرے قبضہ قدرت میں ہیں میں رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں۔ (رواہ البخاری)
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تکلیف کی بات سن کر صبر کرنے والا اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں، لوگ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں (حالانکہ وہ اس سے پاک ہے) پھر بھی وہ انہیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔
حضرت سائب بن خلاد ؓ نے بیان کیا کہ ایک شخص کچھ لوگوں کا امام بنا اس نے قبلہ کی جانب تھوک دیا، رسول اللہ ﷺ اس کی طرف دیکھ رہے تھے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ نے اس قوم سے فرمایا کہ آئندہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانا چاہی تو ان لوگوں نے اسے منع کردیا اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے باخبر کردیا۔ اس شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا تذکرہ کیا (یعنی یہ دریافت کیا کہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے) آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت سائب بن خلاد ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ آپ نے یوں بھی فرمایا کہ بلاشبہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی۔ (رواہ ابو داؤد)
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ کو ایذا دینے سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینا مراد ہے اور اس میں اور زیادہ آپ کا اکرام ہے کہ آپ ﷺ کی ایذا دینے کو اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے تعبیر فرمایا۔ روایات حدیث سے اس معنی کی بھی تائید ہوئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات و تنقیدات کا نشانہ نہ بناؤ۔ کیونکہ ان سے جس نے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے ان سے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا، اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 445 عن الترمذی)
آیت شریفہ میں رسول اللہ ﷺ کو ہر قسم کی ایذا پہنچانے پر ملعون ہونے کا ذکر ہے، بعض حضرات نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ جس زمانہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر بہتان باندھا گیا (جس کا ذکر سورة مومنون کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے) تو رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے گھر میں کچھ لوگ جمع ہوئے جو اس بہتان کو پھیلانے اور چلتا کرنے کی باتیں کرتے تھے، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے اس کی شکایت فرمائی کہ یہ شخص مجھے ایذا پہنچاتا ہے۔
سنن ترمذی کی جو حدیث ہم نے اوپر نقل کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے میرے صحابہ کو ایذا دی اس نے ہمیں بھی ایذا دی۔ اسی سے سمجھ لیا جائے کہ جو لوگ حضرات صحابہ کرام ] کو برا کہتے ہیں اور ان پر تبرا کرتے ہیں یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانے کا عمل کرتے ہیں لہٰذا قرآن کریم کی رو سے یہ لوگ ملعون ہیں، اللہ تعالیٰ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے مستحق لعنت ہیں، پھر اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جو لوگ تکلیف پہنچاتے ہیں اور وہ کام ان کے ذمہ لگاتے ہیں جو انہوں نے نہیں کیے یعنی ان پر تہمت باندھتے ہیں، ان لوگوں نے بہتان کا اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے ذمہ اٹھایا۔ (جس کا وبال آخرت میں بہت زیادہ ہے۔ )
بد زبانی اور بد گوئی پر وعید
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور بلند آواز سے فرمایا کہ اے وہ لوگو ! جنہوں نے زبان سے اسلام قبول کیا ہے اور ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا مسلمانوں کو تکلیف نہ دو اور ان پر عیب نہ لگاؤ اور ان کے پوشیدہ حالات کے پیچھے نہ پڑو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی چھپے ہوئے عیب کی بات کے پیچھے پڑے گا اللہ اس کے پوشیدہ عیب کے پیچھے لگے گا اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے لگے اسے رسوا کردے گا اگرچہ اپنے گھر کے اندر ہی کرلے۔ (رواہ الترمذی)
حضرت سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا سود یہ ہے کہ ناحق کسی مسلمان کی آبرو میں زبان درازی کی جائے۔ (ابو داؤد)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں ( یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی بےآبروئی کرنے میں پڑے رہتے ہیں۔ (رواہ ابو داؤد، کما فی المشکوٰۃ ص 429)
لوگوں میں غیبت، بدگوئی، چغل خوری اور ایذا رسانی کی جو مجلسیں منعقد ہوتی ہیں سب اس آیت کریمہ اور حدیث شریف کے مضمون پر غور کریں اور اپنی اصلاح کریں اور زبان پر پابندی لگائیں کہ زبان کا یہ بھیڑیا صاحب زبان ہی کو پھاڑ کھاجائے گا۔ اگر کبھی کسی چغل خور، بد گو کی طرف سے کسی مسلمان کی بےآبروئی ہوتی دیکھیں تو اس کا دفاع کریں اور پارٹ لیں۔
حضرت معاذ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی شخص نے منافق کی باتیں سن کر کسی مومن کی حمایت کی اللہ اس کے لیے ایک فرشتہ بھیج دے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو دوزخ کی آگ سے بچائے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کو عیب لگانے کے لیے کوئی بات کہی تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کے پل (یعنی پل صراط) پر روک دے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے (یا اسے راضی کرے جس کی بےآبروئی کی تھی یا عذاب بھگتے) (مشکوٰۃ المصابیح ص 424)
Ayah 33:59ازواج مطہرات اور بنات طاہرات اور عام مؤمنات کو پردہ کا اہتمام کرنے کا حکم، اور منافقین کے لیے وعید
مفسرین نے لکھا ہے کہ رات کے قت (جب گھروں میں بیت الخلاء نہیں بنائے گئے تھے) عورتیں قضائے حاجت کے لیے کھجور کے باغوں میں نشیبی علاقوں میں جایا کرتی تھیں ان میں حرائر (آزاد) عورتیں اور اماء (باندیاں) دونوں ہوتی تھیں۔ منافقین اور بد نفس لوگ راستوں میں کھڑے ہوجاتے تھے اور عورتوں کو چھیڑتے تھے یعنی اشارے بازی کرتے تھے، ان کا دھیان باندیوں کی طرف ہوتا تھا اگر کبھی کسی آزاد عورت کو چھیڑتے اور اس پر گرفت کی جاتی تو کہہ دیتے تھے کہ ہم نے یہ خیال کیا تھا کہ شاید وہ باندی ہے۔ نیز دشمنان اسلام (جن میں مدینے کے رہنے والے یہودی بھی تھے اور منافق بھی) یہ حرکت بھی کرتے تھے کہ مسلمانوں کے لشکر میں جب کہیں جاتے تو لوگوں میں رعب پیدا کرنے والی باتیں پھیلاتے اور شکست کی خبریں اڑا دیتے اور خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے یوں کہتے تھے کہ دشمن آگیا دشمن آگیا۔
آیات بالا میں اول تو یہ حکم دیا کہ اپنی عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں، ارشاد فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلِّ اَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ) (اے نبی ! اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مومنین کی عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنی بڑی بڑی چادریں جو اتنی چوڑی چکلی ہوں جس میں عورت سر سے پاؤں تک اپنے آپ کو لپیٹ سکے، اپنی ان چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر ڈال لیا کریں) یعنی سر بھی ڈھکے رہیں اور چہرے بھی اور سینے بھی، جب پردہ کا یہ اہتمام ہوگیا تو آزاد عورتیں اور باندیاں الگ الگ پہچانی جاسکیں گی کیونکہ کام کاج کے لیے نکلنے کی وجہ سے باندیوں کو چہرہ ڈھانکنے کا حکم نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے (یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے سروں کو اور چہروں کو بڑی بڑی چادروں سے ڈھانکے رہا کریں صرف ایک آنکھ کھلی رہے جس سے چلنے پھرنے اور دیکھنے بھالنے کی ضرورت پوری ہوجائے اور پورا پردہ کرنے کی وجہ سے آزاد عورتوں اور باندیوں میں امتیاز ہوجائے تاکہ بد نفس چھیڑ چھاڑ نہ کرسکیں، گو باندیوں کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرنا ممنوع تھا لیکن آزاد عورتوں کو پورے پردہ کا حکم دینے سے ان بد نفسوں کا یہ بہانا ختم ہوگیا کہ ہم نے باندی سمجھ کر آوازہ کسا تھا۔ (روح المعانی ج 22: ص 89)
یاد رہے کہ آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں کو حکم دے دو کہ اپنے اوپر چوڑی چکلی چادریں ڈالے رہا کریں۔ اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک سے زیادہ بیٹیاں تھیں، جس سے واضح طور پر روافض کی بات کی تردید ہوگئی جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی صرف ایک بیٹی حضرت سیدہ فاطمہ تھیں۔ (احقر نے بنات طاہرات کے احوال میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اسے ملاحظہ کرلیا جائے) اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جیسے سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ اور بنات طاہرات ؓ کو پردہ کرنے کا حکم تھا اسی طرح دیگر مومنین کی بیبیوں کو بھی پردہ کرنے کا حکم ہے۔ بعض فیشن ایبل جاہل جو عورتوں کو بےپردہ بازاروں اور پارکوں میں گھمانے کو قابل فخر سمجھتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ پردہ کا حکم صرف ازواج مطہرات ؓ کے لیے تھا عام عورتوں کے لیے نہیں ہے آیت کریمہ سے ان لوگوں کی ان جاہلانہ باتوں کی تردید ہو رہی ہے۔
Ayah 33:60یہودیوں اور منافقوں کی یہ جو حرکت تھی کہ وہ مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کریں، اس کے بارے میں فرمایا (لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ ) (الآیۃ) اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یعنی ایمان کا ضعف 1 ہے ٹھیک طرح سے مسلمان نہیں ہوئے، اور وہ مدینہ منورہ میں خبریں اڑانے والے باز نہ آئے تو ہم آپ کو آمادہ اور برانگیختہ کریں گے کہ آپ ان کے ساتھ وہ معاملہ کریں جو دشمن کے ساتھ ہوتا ہے، جب آپ ایسا کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ مدینہ منورہ میں تھوڑے ہی وقت تک رہ سکیں گے۔ اس میں خطاب تو ہے رسول اللہ ﷺ کو لیکن تنبیہ ہے ان لوگوں کو جو بری حرکتیں کرتے ہیں اگر انہوں نے اپنی حرکتیں نہ چھوڑیں تو ہم اپنے نبی کو ان پر مسلط کردیں گے۔
Ayah 33:61(مَلْعُوْنِیْنَ ) جب مدینہ منورہ سے جلا وطن کیے جائیں تو حالت لعنت میں پھرتے رہیں گے ان پر اللہ کی پھٹکار ہوگی۔ (اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْاتَقْتِیْلًا) پھر جہاں کہیں بھی ہوں گے پکڑے جائیں گے اور خوب قتل کیے جائیں گے۔
Ayah 33:62(سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) اللہ نے ان لوگوں میں طریقہ مقرر فرما دیا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں کہ فسادیوں کو قتل کیا جاتا رہے گا اور وہ جلا وطن کیے جاتے رہیں گے اور جہاں کہیں بھی ہوں گے ملعون و ماخوذ اور مقتول ہوتے رہیں گے۔
(وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا) اور آپ اللہ کے طریقہ یعنی عادت مستمرہ میں تبدیلی نہ پائیں گے۔ چونکہ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق تکوینی فیصلے ہونا امور فرغیہ میں سے نہیں ہیں اس لیے اس میں نسل کا احتمال نہیں۔
1 وھم قوم کان فیھم ضعف ایمانھم وقلۃ ثبات علیہ عماھم علیہ من التزلزل وما یستتبعہ ما لا خیر فیہ۔ (روح المعانی) اور وہ ایسی قوم ہے کہ جس میں ایمان کی کمزوری ہے اور نہ ہی ایمان پر استقامت ہے اس لیے کہ وہ متزلزل ہیں اور ان کے علاوہ ان میں بھی غیر ایمانی رویے ہیں۔
صاحب روح المعانی نے جو اقوال لکھے ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ منافقین ایذا کے کاموں سے رک گئے تھے اور جو وعید نازل ہوئی تھی اس کے ڈر سے اپنے کاموں سے باز آگئے تھے لہٰذا اغراء اور اخراج اور قتل کا وقوع نہیں ہوا، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو تنبیہ کی گئی تھی وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور مسجد سے نکال کر انہیں ذلیل کیا گیا اور ان پر نماز جنازہ پڑھنے سے بھی آنحضرت ﷺ کو منع فرما دیا اور اس طرح وہ سب کی نظروں میں ملعون ہوگئے۔ یہ تو منافقین کے ساتھ ہوا البتہ یہودیوں کو مدینہ منورہ سے جلا وطن کیا گیا یہ قبیلہ بنی نضیر تھا، اور یہود کے قبیلہ بنی قریظہ کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا۔ (خوف و ہراس کی خبریں اڑانے میں یہود کا زیادہ حصہ تھا۔ )
Ayah 33:63کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے وہ بھی دوزخ میں اپنے سرداروں پر لعنت کریں گے اور ان کے لیے دوہرے عذاب کی درخواست کریں گے
کافروں اور منافقوں کے سامنے جب قیامت کا ذکر آتا تھا تو اس کے واقع ہونے کا انکار کرتے ہوئے یوں کہتے تھے۔ یہ تو بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں ارشاد فرمایا (اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ اللّٰہِ ) کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے، اس کے واقع ہونے کا وقت متعین کرکے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتایا نہ کسی فرشتہ کو نہ کسی نبی کو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واقع ہی نہ ہوگی، اس کا وقوع مقرر اور مقدر ہے، اس کے آنے میں دیر لگنا اور تمہارے سامنے واقع نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ واقع نہ ہوگی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے خطاب فرمایا : (وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوْنُ قَرِیْبًا) (اور آپ کو اس کی کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی زمانہ میں واقع ہوجائے) جب آپ کو اس کا وقت مقرر معلوم نہیں اور قرب وقوع کا ہر وقت احتمال ہے تو ان جھٹلانے والوں کو تو بطریق اولیٰ اس کا وقت مقرر معلوم نہیں جب ہمیشہ قریب الوقوع ہونے کا احتمال ہے تو ان پر لازم ہے کہ اس سے ڈرتے رہیں اور تیاری کرتے رہیں نہ یہ کہ جلدی مچائیں، مذاق اڑائیں، اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور تنبیہ ہے منکرین کو۔
Ayahs 33:64–66اس کے بعد کافروں کی بدحالی بتائی اور ارشاد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَعَنَ الْکٰفِرِیْنَ ) (الآیۃ) بلاشبہ اللہ نے کافروں پر لعنت کردی وہ دنیا میں بھی ملعون ہیں اور آخرت میں بھی، اور دنیا میں کچھ مزے اڑاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت اور پھٹکار میں ہوتے ہوئے جیتے ہیں، اور ملعونیت کی زندگی کوئی زندگی نہیں اور آخرت میں ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب ہے وہ بھی تھوڑے دن کا یا بہت ذرا دیر کا نہیں بلکہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے، وہاں کوئی یار اور مددگار نہ ملے گا، جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، چہروں کے بل دوزخ کی آگ میں گھسیٹے جائیں گے تو حسرت کے ساتھ یوں کہیں گے کہ ہائے کاش ہم نے اللہ کی فرمانبرداری کی ہوتی اور رسول کی بات مانی ہوتی، اگر ہم اطاعت کرتے تو آج عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔
Ayahs 33:67–68اس کے بعد یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی فرمانبرداری کی انہوں نے ہمیں ایمان قبول نہ کرنے دیا اور کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے، اس طرح سے انہوں نے ہمیں صحیح راستہ سے اور دین حق سے ہٹا کر گمراہ کردیا۔
(سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَنَا) کے عموم میں چھوٹے بڑے چودھری، کفر کے سرغنے، گمراہی کے لیڈر سب ہی داخل ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں ایمان کی فضا بنتی ہے قوموں کے لیڈر اور چودھری ایمان سے روکتے ہیں جو شخص اسلام قبول کرلے اسے واپس کفر میں لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، کفر کی دعوت دینے کے لیے اور اپنی قوموں کو کفر پر جمانے کے لیے ان کے ملوک اور رؤسا اور امراء اور وزراء واغنیا بڑی بڑی محنتیں کرتے ہیں اور اربوں کی تعداد میں روپیہ خرچ کرتے ہیں اور دنیا میں اپنی بڑائی اور چودھراہٹ باقی رکھنے کے لیے کروڑوں انسانوں کو دوزخ کا ایندھن بنانے اور بنائے رکھنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں، دنیا میں یہ حال ہے لیکن وہاں جب عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اپنے ماننے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور چھوٹوں بڑوں میں ہر قسم کے تعلقات ختم ہوجائیں گے اور چھوٹے بڑوں اور بڑے چھوٹوں پر لعنت کریں گے کوئی کسی کا مددگار نہ ہوگا، یہی عوام اور پبلک کے افراد جو دنیا میں اپنے بڑوں اور چودھریوں کی بات مانتے ہیں دوزخ میں پہنچ کر اپنے بڑوں، لیڈروں اور چودھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ان کو دوہرا عذاب دے، خود جو گمراہ تھے عذاب تو انہیں ہونا ہی ہے ہمیں جو انہوں نے گمراہ کیا اس کے عوض بھی ان کو عذاب دے۔
دوزخی لوگ اپنے بڑوں کے لیے یوں بھی دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ان پر بڑی لعنت کیجیے۔ (جو شخص کفر پر مرگیا اس پر لعنت ہے چاہے چھوٹا ہو یا بڑا لیکن عوام الناس اپنے بڑوں اور چودھریوں کے لیے خوب بڑی لعنت کا سوال کریں۔ )
Ayahs 33:69–70ایمان والوں کو خطاب کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی
صحیح بخاری ص 42، ص 483 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) شرمیلے آدمی تھے اور پردہ کرنے کا خوب زیادہ اہتمام کرتے تھے حتیٰ کہ اگر ان کے جسم کی کھال بھی نظر آجاتی تو اس سے بھی شرماتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) تنہا غسل کرتے تھے، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں تکلیف پہنچائی اور یوں کہا کہ یہ شخص اس قدر پردہ کرتا ہے ہو نہ ہو اس کی کھال میں کوئی عیب ہے یا جسم میں برص کے داغ ہیں یا اس کے فوطے پھولے ہوئے ہیں یا کوئی اور تکلیف کی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل کی بات سے بری کرنے کا ارادہ فرمایا اور قصہ یہ پیش آیا کہ ایک دن انہوں نے تنہائی میں پتھر پر اپنے کپڑے رکھ دئیے پھر غسل فرمانے لگے، غسل کرکے فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کا ارادہ کیا ابھی کپڑے لینے نہ پائے تھے کہ جس پتھر پر کپڑے تھے وہ کپڑوں کو لے کر تیزی سے چلا گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے چل دئیے اور فرمانے لگے کہ اے پتھر میرے کپڑے دیدے، اسی طرح بنی اسرائیل کی ایک جماعت تک پہنچ گئے کیونکہ کپڑے پہنے ہوئے نہیں تھے اس لیے آپ کو انہوں نے برہنہ دیکھ لیا اور انہیں پتہ چل گیا کہ ان کے جسم پر کوئی بھی عیب نہیں ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی اچھی حالت میں پیدا فرمایا ہے، جب ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ لیا اور مان لیا کہ ان کے جسم میں کوئی عیب نہیں ہے تو پتھر کھڑا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنے عصا سے مارنا شروع کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ اللہ کی قسم ان کے مارنے سے پتھر میں تین یا چار یا پانچ یا چھ سات نشانات پڑگئے تھے۔
قرآن مجید میں جو (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا) فرمایا ہے اس میں اسی قصے کو بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی سو اللہ نے انہیں ان کی باتوں سے بری کردیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک باوجاہت تھے۔
یہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر ہے لیکن امام الانبیاء جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو لوگوں نے کیا تکلیفیں دی تھیں ؟ اس کے بارے میں بھی صحیح بخاری جلد نمبر 1: ص 446 اور ص 483 میں ایک قصہ لکھا ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر عرب کے بعض سرداروں میں مال تقسیم فرمایا تھا اور ان میں سے کسی کو دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ دے دیا۔ وہیں حاضرین میں سے کسی نے یوں کہہ دیا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس میں انصاف نہیں کیا گیا یا یوں کہہ دیا کہ اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان لوگوں کی یہ بات نقل کردی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کرے گا تو پھر کون انصاف کرے گا ؟ اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی پھر بھی انہوں نے صبر کیا۔
بات یہ ہے کہ جو مال آنحضرت ﷺ نے تقسیم فرمایا وہ کسی کی ملکیت نہیں تھا وہ اموال فئے تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ اپنی صوابدید سے تقسیم فرمالیں، کسی کا حق روک کر مال تقسیم نہیں فرمایا تھا اور یہ بات نہ تھی کہ ایک کا حق دوسرے کو دے دیا، پھر اس کو انصاف کے خلاف کہنا ہی ظلم ہے۔ حدیث کی شرح لکھنے والے حضرات نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرنا کفر ہے جس کی سزا قتل ہے لیکن آپ نے مذکورہ بالا بات کہنے والے شخص کو مصلحتاً قتل نہیں کیا کیونکہ تالیف قلب کی ضرورت تھی۔ اہل عرب میں یہ شہرت ہوجاتی کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں، اس شہرت کی وجہ سے اندیشہ تھا کہ اسلام جو پھیل رہا تھا اس میں رکاوٹ ہوجاتی۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے اتنی بڑی تکلیف دینے والی بات کو برداشت کرلیا اور فرما دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انہوں نے صبر کیا، یہ تو ایک تکلیف تھی اس کے علاوہ منافقین سے تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں آپ درگزر فرماتے تھے، جب کبھی کوئی شخص دعوت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اسے تکلیفیں پہنچتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے برداشت کرکے بتادیا اور قول سے سمجھا دیا کہ پہلے بھی ایسا ہوا ہے۔
یہ جو ارشاد فرمایا کہ ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی “ مسلمانوں کو مزید خطاب فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کہو، ٹھیک بات میں سب کچھ آگیا سچی بات بھی اور صحیح بات بھی اور عدل و انصاف کی بات بھی اور ہر دینی بات بھی۔ اسی لیے حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا (کما فی معالم التنزیل) کہ (قولاً سدیدًا) سے لَآ الہ الاَّ اللّٰہ کہنا مراد ہے۔ ترتیب میں اولاً تقویٰ کا ذکر کیا پھر قول سدید کہنے کا حکم فرمایا، اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ تقویٰ ہوگا تو بندہ اعمال صالحہ اختیار کرے گا اگر تقویٰ نہ ہو تو اعمال صالحہ اختیار کرنے اور گناہ سے بچنے کی بندہ کو ہمت نہیں ہوتی، اللہ سے ڈرے اور آخرت کی فکر کرے تب قول اور فعل ٹھیک ہوتا ہے۔
Ayah 33:71پھر تقویٰ اختیار کرنے اور ٹھیک بات کہنے کا انعام بتایا (یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ) کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو قبول فرمالے گا اور تمہارے گناہوں کی مغفرت فرما دے گا۔
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت میں کامیابی ہے :
اس کے بعد فرمایا (وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا) (اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے تو وہ بڑی کامیابی کے ساتھ کامیاب ہوگا۔ )
لوگوں میں کامیابی کے بہت سے معیار معروف ہیں، کوئی شخص مال زیادہ ہونے کو کامیابی سمجھتا ہے اور کوئی شخص بادشاہ بن جانے کو، کوئی شخص وزارت مل جانے کو اور کوئی شخص جائیداد بنا لینے کو اور کوئی شخص زیادہ پیسوں والی ملازمت مل جانے کو کامیابی سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا معیار بتادیا کہ کامیاب وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔
خطبہ نکاح میں رسول اللہ ﷺ شہادتین کے بعد آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ) (الآیۃ) اور آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ ) (الآیۃ) اور آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا) پڑھا کرتے تھے، (پورا خطبہ حصن حصین میں مذکور ہے) آپ ﷺ نے خطبہ نکاح میں جو تین آیات اختیار فرمائیں ان میں چار جگہ تقویٰ کا حکم ہے اس سے تقویٰ کی اہمیت اور ضرورت معلوم ہوگئی۔
Ayah 33:72آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں نے بار امانت اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے اسے اٹھالیا یہ دو آیات کا ترجمہ ہے، پہلی آیت میں امانت سپرد کرنے کا اور دوسری آیت میں نافرمانوں کے لیے عذاب دینے کا اور اہل ایمان پر مہربانی فرمانے کا ذکر ہے۔
یہ جو فرمایا کہ ہم نے آسمانوں پر اور زمینوں پر اور پہاڑوں پر امانت پیش کی اور انہوں نے اس کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے انسان نے اس کو اٹھالیا۔ اس میں امانت سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں متعدد اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے حکم کی فرمانبرداری کرنا یعنی فرائض کا نجام دینا مراد ہے، آسمانوں سے اور زمین سے اور پہاڑوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم امانت کو قبول کرو یعنی احکام کی فرمانبرداری کی ذمہ داری کا اقرار کرو اور ان کی ادائیگی کا بوجھ اٹھاؤ تو ان چیزوں نے کہا کہ اگر ہم ذمہ داری کو برداشت کرلیں اور احکام پر عمل پیرا ہونے کا وعدہ کرلیں تو اس کا انجام کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اچھے عمل کرو گے تو اس کا اچھا اجر ملے گا اور اگر نافرمانی کرو گے تو عذاب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں نہ ہمیں ثواب چاہیے نہ عذاب میں مبتلا ہونے کو تیار ہیں، (تشریعی طور پر اوامر اور احکام کا بوجھ اٹھانا ہمارے بس کا روگ نہیں ہاں ہم تکوینی طور پر مسخر ہیں، آپ کے حکم کے مطابق رہیں گے، اس میں نہ مخالفت کا اندیشہ ہے اور ثواب بھی نہیں عذاب بھی نہیں، ہمیں بےثواب رہنا منظور ہے عذاب کی برداشت نہیں) ان پر خوف اور خشیت کا ایسا غلبہ ہوا کہ عذاب کے ڈر سے ثواب چھوڑنے پر بھی آمادہ ہوگئے۔ ان چیزوں پر جو اللہ تعالیٰ نے امانت پیش فرمائی تھی وہ بطور تخییر کے تھی یعنی اختیار دیا گیا تھا کہ چاہو تو اس کو اپنے ذمہ لے لو چاہو تو نہ لو، لہٰذا انہوں نے تخییر سے فائدہ اٹھایا اور تحمل امانت سے انکار کردیا۔ اگر کوئی شخص یہ سوال اٹھائے کہ آسمان و زمین اور پہاڑ تو جمادات ہیں ان سے سوال و جواب کیسے ہوا ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ہمارے نزدیک بےفہم ہیں خالق اور مالک سے جو ان کا تعلق ہے وہ ادراک اور سمجھ کے ساتھ ہے، جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَالدَّ وَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْہِ الْعَذَابُ وَ مَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ) (اے مخاطب ! کیا تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ کے سامنے سب عاجزی کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے آدمی بھی، اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوگیا اور جس کو اللہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ )
سورۃ حٰمٓ السجدہ میں فرمایا (ثُمَّ اسْتَوَی اِِلَی السَّمَآءِ وَہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ اِءْتِیَا طَوْعًافَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ اِءْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا قَالَتَا اَتَیْنَا طَاءِعِیْنَ ) (پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ دھواں تھا، سو اس سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا زبردستی سے، دونوں نے عرض کیا کہ ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ )
سورۃ البقرہ میں پتھروں کے بارے میں فرمایا (وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ) (اور ان میں بعض وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں۔ )
اصل بات یہ ہے کہ پتھروں میں اور دوسری جمادات میں ہمارے خیال میں ادراک اور شعور نہیں ہے کیونکہ وہ ہم سے بات نہیں کرتے اور ہمیں وہ احوال معلوم نہیں جو ان پر گزرتے ہیں، اور ان کا اپنے خالق سے مخلوق اور مملوک اور عبادت گزار ہونے کا جو تعلق ہے انسان اس سے واقف نہیں ہے۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (جلد 2: ص 858)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ مکہ مکرمہ میں ایک پتھر ہے میں اسے پہچانتا ہوں جن دنوں میں میری بعثت ہوئی وہ مجھے سلام کیا کرتا تھا۔ (صحیح مسلم جلد 2 : ص 245)
امانت کی تشریح اور توضیح و تفصیل :
جب انسان پر امانت پیش کی گئی اور احکام الٰہیہ پر عمل پیرا ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی تو انسان نے اسے قبول کرلیا اور برداشت کرلیا اور یہ مان لیا کہ میں احکام الٰہیہ پر عمل کروں گا۔ فرائض کی پابندی کروں گا واجبات ادا کروں گا۔
(وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُ ) میں الْاِنْسَانُ سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کے بیان کے مطابق یہ امانت کی پیشی حضرت آدم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی جذبہ ثواب میں آکر انہوں نے قبول کرلیا معصیت کے عقاب کی طرف گویا خاص دھیان نہیں دیا اور تکوینی طور پر بھی انہیں قبول کرنا تھا کیونکہ انہیں خلافت کے لیے پیدا کیا گیا۔ یہ امانت کی پیشی کب ہوئی ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ بھی یوم المیثاق میں ہوا جس کا ذکر آیت کریمہ (وَاِذْ اَخَذَرَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَم) میں مذکور ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ واقعہ یوم المیثاق سے پہلے کا ہے۔ (واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں پہلے شرمگاہ پیدا فرمائی اور فرمایا کہ یہ امانت ہے اور تیرے پاس ودیعت رکھی جا رہی ہے اسے ضائع مت کرنا صرف حلال جگہ استعمال کرنا، اگر تو نے اس کی حفاظت کی تو میں تیری حفاظت کروں گا (اس کے بعد فرمایا) لہٰذا شرمگاہ امانت ہے، کان امانت ہیں، آنکھیں امانت ہیں، زبان امانت ہے، پیٹ امانت ہے، ہاتھ امانت ہیں، پاؤں امانت ہیں یعنی ان چیزوں سے متعلق جو احکام دئیے گئے ہیں ان کی خلاف ورزی خیانت ہے اور انہیں احکام الٰہیہ کے مطابق استعمال کرنا ادائے امانت ہے۔ (روح المعانی جلد 22: ص 96 تا 98)
آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لاَ تَخُوْنُوْا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْا اَمٰنٰتِکُمْ ) کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (لا تخونوا اللّٰہَ بترک فرائضہ والرسول بترک سنتہ) یعنی فرائض کو چھوڑ کر اللہ کی خیانت نہ کرو اور سنتوں کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی خیانت نہ کرو۔ (در منثور جلد 3: ص 178)
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت کرنے کی ممانعت کرنے کے بعد فرمایا (وَتَخُوْنُوْا اَمٰنٰتِکُمْ ) اور آپس میں اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو، چونکہ امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے اور ہر طرح کی امانت میں خیانت کرنے کی ممانعت ہے اس لیے ہر خیانت سے نہایت اہتمام کے ساتھ پرہیز کرنا لازم ہے۔ مالی خیانت کو تو سبھی جانتے ہیں مثلاً کوئی شخص کسی کے پاس امانت رکھے اور وہ اس کو کھاجائے یا استعمال کرے یا کم کردے یا دو شریک آپس میں خیانت کرلیں جو شخص قرض دے کر یا کسی بھی طرح اپنا مال دے کر بھل جائے، اس کا حق رکھ لیں وغیرہ وغیرہ، یہ سب خیانتیں ہیں، اور ہر شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کس کا حق مارا ہے اور کس کی خیانت کی ہے فکر آخرت اور اللہ کا ڈر ہو تو انسان خیانت سے بچ سکتا ہے ورنہ دنیاوی نفع کو دیکھ کر بڑے بڑے دیانتداری کے دعویدار اس مسئلہ میں کچے پڑجاتے ہیں، ہر شخص اپنے متعلقہ احکام میں دیانتدار ہے، چھوٹے بڑے حکام اور ملوک رؤساء اور وزراء امانتدار ہیں، انہوں نے جو عہدے اپنے ذمہ لیے ہیں وہ ان کی ذمہ داری شریعت اسلامیہ کے مطابق پوری کریں کسی بھی معاملے میں عوام کی خیانت نہ کریں۔ اسی طرح بائع اور مشتری اور سفر کے ساتھی، پڑوسی، میاں بیوی، ماں باپ اور اولاد سب ایک دوسرے کے مال کے اور دیگر متعلقہ امور کے امانتدار ہیں، جو بھی کوئی کسی کی خیانت کرے گا گنہگار ہوگا اور میدان آخرت میں پکڑا جائے گا، مالیات کے علاوہ دیگر امور میں بھی خیانت ہوتی ہے جن کا ذکر احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے۔
سورۂ نساء میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَھْلِھَا) (بےشک اللہ تمہیں حکم فرماتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں دے دیا کرو) اور سورة بقرہ میں فرمایا ہے (فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَہٗ ) (سو اگر تم میں سے ایک شخص دوسرے شخص پر اعتماد کرے تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے وہ دوسرے کی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے) سورة معارج میں نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانٰتِہِمْ وَعَہْدِھِمْ رَاعُوْنَ ) (اور وہ لوگ جو اپنی امانتیں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ )
حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ بہت کم ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یوں نہ فرمایا ہو (لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ اَمَانَۃَ لَہٗ وَلاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَّ عَھْدَلَہٗ ) (رواہ البیھقی فی شعب الایمان) (اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانتدار نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پورا نہیں۔ )
مومن کا کام یہ ہے کہ پوری طرح امانت دار رہے، اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات کو بھی ادا کرے، سنتوں کا بھی اہتمام رکھے، بندوں کے حقوق بھی ادا کرے اور عہد کی بھی پابندی کرے۔
امانتوں کی کچھ تفصیل ہم نے سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ الآی اَھْلِھَا) کے ذیل میں بیان کردی ہے۔ (انوار البیان جلد اول) اور مستقل ایک رسالہ بھی ” امانت و خیانت “ کے عنوان سے لکھ دیا ہے اس کو ملاحظہ کرلیا جائے۔
(اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَھُوْلاً ) (بیشک انسان ظلوم ہے جہول ہے) ظلوم کا معنی ہے ظلم کرنے والا۔ اور جہول معنی ہے ” نادان “۔
Ayah 33:73حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ظلوم کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے۔ اور جہول کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جو امانت کی ادائیگی کا بوجھ اٹھایا وہ اس کے انجام کو نہیں جانتا تھا۔ یہ افراد کے اعتبار سے فرمایا کیونکہ انسانوں میں صالح بھی ہیں، علماء بھی ہیں عارفین بھی ہیں۔ اسی لیے مجموعہ افراد کا انجام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِکِیْنَ وَالْمُشْرِکٰتِ ) (تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں کو اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو) (وَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ) (اور تاکہ رحمت کے ساتھ اللہ متوجہ ہو مومن مردوں اور مومن عورتوں پر) یعنی انسان نے امانت کے بوجھ کو اٹھالیا، پھر اس ذمہ داری کو نباہنے والے بھی ہوئے اور خلاف ورزی کرنے والے بھی ہوئے جس کا انجام یہ ہوا کہ منافقوں اور مشرکوں کو عذاب ہو (اس میں (اَلْکَافِرِیْنَ وَالْکَافِرَاتِ ) کا ذکر نہیں ہے کیونکہ جب ان کافروں کا انجام عذاب ہے جو منافق ہیں یعنی زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور دل سے انکاری ہیں تو جو لوگ کھلے کافر ہوں گے وہ بطریق اولیٰ مستحق عذاب ہوں گے) اور ایمان والے مردوں اور عورتوں پر اللہ رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے گا۔ اس میں (ویرحم اللّٰہ) کی بجائے (ویتوبُ ) فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص نافرمانی کے بعد توبہ کرلے گا وہ بھی رحمت اور مغفرت کا مستحق ہوگا۔
آخر میں جو (وَکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) فرمایا اس میں یہ بات بتادی کہ مغفرت فرمانا اور رحم فرمانا اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ ہیں، کافر اور مشرک کی تو مغفرت نہیں جیسا کہ دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے، دنیا میں تو سب ہی پر رحمت ہے اور آخرت میں صرف اہل ایمان پر رحمت ہوگی۔
تَمَّ تفسیر سورة الاحزاب، والحمد اللّٰہ الملک الوھاب، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ سیدنا من اوتی الکتاب، وعلیٰ الہ خیر آل واصحاب