33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 33:41–42

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر کرو خوب کثرت کے ساتھ۔

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔

ایمان والوں کو ذکر اللہ کی کثرت کرنے کا حکم اور اس بات کی بشارت کہ اللہ اور اس کے فرشتے مؤمنین پر رحمت بھیجتے ہیں یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی اور دوسری آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوب زیادہ ذکر کریں اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کریں۔ مفسرین نے فرمایا کہ صبح و شام تسبیح بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صبح سے دن کی اور شام سے رات کی ابتداء ہوتی ہے اس لیے خصوصیت کے لیے لیل و نہار کے ابتدائی اوقات میں ذکر کرنے کا خصوصی حکم دیا تاکہ لیل و نہار کے باقی اوقات میں بھی ذکر کے لیے ذہن حاضر رہے اور قلب و لسان ذکر اللہ میں مشغول رہیں۔ ذکر اللہ کے فضائل : درحقیقت ذکر اللہ بہت بڑی عبادت ہے اور ہر وقت اس میں مشغول رہنے کی ضرورت ہے سورة نساء میں فرمایا : (فَاِذَاقَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًاوَّ قُعُوْدًا) سو جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر یعنی لیٹے ہوئے، انسان کی یہی تین حالتیں ہیں اور ان تینوں حالتوں میں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ درحقیقت ذکر ہی اس عالم کی جان ہے اور اس کے بقاء کا ذریعہ ہے۔ صحیح مسلم جلد نمبر 1: ص 24 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کیا جاتا رہے گا۔ دوسری عبادتوں کی روح بھی اللہ کا ذکر ہی ہے، سورة طٰہٰ میں فرمایا ہے : (وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) نماز کو میری یاد کے لیے قائم کرو۔ ذکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور قلب سے بھی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان اور چین و سکون ملتا ہے جیسا کہ سورة رعد میں فرمایا (اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوْبُ ) خبر دار اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (مَثَلُ الَّذِیْ یَذْکُرُ رَبَّہٗ وَالَّذِیْ لاَ یَذْکُرُ کَمَثَلِ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ) مثال اس شخص کی جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ کی سی مثال ہے۔ (رواہ البخاری) معلوم ہوا کہ کھاتے پیتے رہنا اور دنیاوی مشاغل میں زندگی گزار لینا یہ کوئی زندگی نہیں ہے، زندہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگے رہتے ہیں جہاں تک ممکن ہولیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے اللہ کو یاد کرتے رہیں اور زبان کو ذکر اللہ میں لگائے رہیں۔ ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ جنت والوں کو کسی بھی چیز کی حسرت نہ ہوگی سوائے اس ایک گھڑی کے جو دنیا میں اللہ کی یاد کے بغیر گذر گئی تھی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا نبی اکرم ﷺ نے کہ چند لوگ کسی جگہ بیٹھے انہوں نے اپنی مجلس میں اللہ کا ذکر نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو یہ مجلس ان کے لیے نقصان کا سبب ہوگی، پھر اگر اللہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور اگر چاہے تو ان کی مغفرت فرما دے، اور اگر کوئی شخص کسی جگہ لیٹا اور اس نے لیٹنے میں اللہ کو یاد نہ کیا تو یہ لیٹنا اس کے لیے نقصان کا سبب ہوگا اور جو شخص کسی جگہ چلا اور اس چلنے میں اس نے اللہ کو یاد نہ کیا تو اللہ کی طرف سے اس کا یہ چلنا نقصان کا باعث ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی جگہ بیٹھے جس میں انہوں نے اللہ کو یاد نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو قیامت کے دن ان کا یہ بیٹھنا حسرت اور افسوس کا باعث ہوگا اگرچہ ثواب کے لیے جنت میں داخل ہوجائیں۔ (الترغیب و الترہیب جلد 2 ص : 410، 409) ہوشیار بندے وہی ہیں جو اپنی عمر کی ایک گھڑی بھی ضائع نہیں جانے دیتے، دنیا میں جینے کے لیے جو تھوڑے بہت شغل کی ضرورت ہے، اس میں تھوڑا بہت وقت لگایا اور اس میں بھی اللہ کا ذکر کرتے رہے اس کے بعد سارے وقت کو اللہ ہی کی یاد میں تلاوت میں تسبیح میں تہلیل میں، تحمید میں، تکبیر میں، درود شریف میں لگاتے رہتے ہیں لایعنی باتوں میں مشغول ہو کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے اور اپنے دل کا ناس نہیں کھوتے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ نہ بولا کرو کیونکہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ بولنا قساوت قلب یعنی دل کی سختی کا سبب ہے اور بلاشبہ لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور وہی شخص ہے جس کا دل سخت ہو۔ (رواہ الترمذی) ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کا ہر بول اس کے لیے وبال ہے سوائے اس بات کے کہ بھلائی کا حکم دے یا کسی برائی سے روکے یا اللہ کا ذکر کرے۔ (رواہ الترمذی) حضرت عبد اللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی یعنی دیہات کا رہنے والا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے سوال کیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں، اس نے عرض کیا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ تو دنیا سے اس حال میں رخصت ہو کہ تیری زبان اللہ کی یاد میں تر ہو۔ (رواہ الترمذی) سورۂ طہٰ میں فرمایا ( اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) (نماز قائم کر میرے ذکر کے لیے) نماز سے پہلے اذان بھی ذکر ہے اور اقامت بھی، اذان کا جواب بھی، وضو کی دعا بھی، فرضوں سے پہلے سنتیں بھی، پھر تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک نمازی برابر ذکر میں مشغول رہتا ہے، کبھی اللہ کی حمد وثناء میں مشغول رہتا ہے، کبھی تکبیر کہتا ہے کبھی قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے، کبھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے، کبھی تنزیہ کلمات ادا کرتا ہے اور اپنے رب کو ہر طرح کے عیب و نقص سے پاک بتاتا ہے اور اس کے بارے میں اپنا عقیدہ ظاہر کرتا ہے اور کبھی دعا مانگتا ہے نمازی کی زبان بھی اللہ کی یاد میں لگی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دل بھی اللہ کے ذکر میں مشغول ہے، قلب حاضر ہے، اعضاء متواضع ہیں۔ کبھی قیام میں قرأت پڑھ رہا ہے، کبھی رکوع میں تسبیح ہے، کبھی قومہ میں تحمید ہے، کبھی سجدہ میں گیا، جبین نیاز زمین پر رکھ دی اور رب تعالیٰ شانہٗ کی تسبیح میں مشغول ہوگیا، بندہ کے پاس اپنا عجز و نیاز اور تذلل اور عبودیت کا عملی اقرار ظاہر کرنے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اشرف الاعضاء یعنی اپنے سر کو ارذل العناصر یعنی مٹی پر رکھ دیا اور اپنے رب کریم کے حضور اپنی ذات کو بالکل ذلیل کرکے پیش کردیا۔ پھر نماز کے بعد سنن و نوافل بھی ذکر ہیں اور نماز کے بعد تسبیحات بھی، درحقیقت پانچوں نمازیں اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف کھینچتی ہیں، مومن کی زندگی سراپا ذکر ہے۔ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر بازار میں جانے کی اجازت دی اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم فرمایا، سورة جمعہ میں ارشاد فرمایا : (فَاِِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) (پھر جب نماز پوری کرچکو تو زمین پر چلو پھرو، اور اللہ کے فضل سے تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ ) اللہ تعالیٰ ذاکرین کو یاد فرماتا ہے : سورۂ بقرہ میں فرمایا (فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ ) (سو تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا) دیکھو کتنی بڑی سعادت ہے کہ فرش خاکی کا رہنے والا جس کے اندر خون وغیرہ بھرا ہوا ہے اسے صاحب عرش اپنے دربار میں یاد فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں اپنے بندہ کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ ہلتے ہیں۔ (رواہ البخاری) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اپنے بندہ کے گمان کے ساتھ ہوں کہ وہ جب چاہے مجھے یاد کرے سو اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں اسے تنہا یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس جماعت سے بہتر ہوتی ہے۔ 1 ؂ جس میں اس نے مجھے یاد کیا۔ (رواہ البخاری) حافظ ابن کثیر ؓ نے حضرت ابن عباس سے کیسی عمدہ بات نقل فرمائی ہے، انہوں نے فرمایا : (ان اللّٰہ تعالیٰ لم یفرض علیٰ عبادہ فریضۃ الاجعل لھا حدّا معلوما ثم وعذر اھلھا فی حال العذر غیر الذکر فانّ اللّٰہ تعالیٰ لم یجعل لہ حدا ینتھی الیہ ولم یعذر احدا فی ترکہ الا مغلوبا علی ترکہ فقال (فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًاوَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ ) باللیل والنھار فی البر والبحر و فی السفرو الحضر، والغنی والفقر، والسقم والصحۃ، والسرو العلانیۃ وعلی کل حال) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو عبادات فرض فرمائی ہیں ان کی حد مقرر ہے اور اصحاب عذر کو (معافی یا تخفیف کی صورت میں) معذور قرار دیا ہے مگر ذکر اللہ ایسی عبادت ہے کہ اس کی نہ کوئی حد اور تعداد متعین ہے اور نہ کوئی خاص وقت اور زمانہ مقرر ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص ہیئت قیام یا نشست کی مقرر فرمائی ہے نہ اس کے لیے طاہر اور باوضو ہونا شرط ہے، ہر وقت اور ہر حال میں بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم ہے، سفر ہو یا حضر، تندرستی ہو یا بیماری، خشکی میں ہو یا دریا میں، رات ہو یا دن ہر حال میں ذکر اللہ کرتے رہیں، اسی لیے اس کے ترک میں انسان کا کوئی عذر 1 ؂ قال الطیبی، المراد ملأمن الملئکۃ المقربین ارواح المرسلین فلا دلالۃ علی کون الملئکۃ افضل والا حسن ان یقال الخیریۃ من جھت النزاھۃ والتقدس والعلو وھی لا تنافی افضلیلۃ البشر من جھۃ کثرۃ الثواب۔ (کذا فی حاشیۃ المشکوٰۃ عن المعارف) علامہ طیبی ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد مقرب فرشتوں اور بھیجی ہوئی روحوں کی جماعت ہے۔ یہ بات فرشتوں کے افضل و احسن ہونے کی لیل نہیں ہے کہ کہا جائے فرشتے اپنی بےخواہشی اور معصومیت و بلندی کی وجہ سے افضل و بہتر ہیں کیونکہ انسان کے کثرت ثواب کی وجہ سے یہ چیزیں بشریت کو کم قیمت کرنے والی نہیں ہیں۔
Ayah 33:43

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے۔ اور وہ ایمان والوں پر رحم فرمانے والا ہے۔

مسموع نہیں بجز اس کے کہ عقل و حواس ہی نہ رہیں اور بےہوش ہوجائے۔ تیسری آیت میں یہ فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓءِکَتُہٗ ) کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے استغفار کرتے ہیں) اس میں جو لفظ یُصَلِّیْ وارد ہوا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور فرشتوں کی طرف بھی حضرات اکابر علماء نے فرمایا ہے کہ صلوٰۃ کی نسبت جو اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس سے رحمت مراد ہے، یعنی اے مومنو ! اللہ تم پر رحمت بھیجتا ہے۔ اور فرشتوں کی طرف جو صلوٰۃ کی نسبت ہے اس سے استغفار مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے تمہارے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں (کما فی سورة المومن) (وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) مزید فرمایا (لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ) کہ تم پر اللہ کی رحمت ہونا اور تمہارے لیے فرشتوں کا استغفار کرنا اس لیے ہے کہ اللہ تمہیں اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکالے یعنی جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور یقین کے نور سے منور فرمائے۔ (وَکَان بالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا) (اور اللہ مومنین پر رحم فرمانے والا ہے) یعنی وہ اہل ایمان پر دنیا میں بھی رحم فرماتا ہے اور آخرت میں بھی رحم فرمائے گا، دنیا میں ایمان کی دولت سے نوازا، کفر سے اور شرک سے اور بدعت سے بچایا، کھانے پینے اور پہننے اور برتنے کے لیے پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور آخرت میں انہیں امن و چین، اطمینان اور نجات عطا فرمائے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اور فرشتے بشارت دیتے ہوئے ان سے ملاقات کریں گے۔
Ayah 33:44

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن یہ لوگ اس سے ملاقات کریں گے ان کا تحیہ سلام ہوگا اور اس نے ان کے لیے اجر کریم تیار فرمایا ہے۔

چوتھی آیت میں فرمایا (تَحِیَّتُھُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہٗ سَلٰمٌ) (جس دن اللہ سے ملاقات کریں گے ان کا تحیہ سلام ہوگا) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلام بھیجا جائے گا۔ کما قال فی یٰسین (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ) اور فرشتے بھی ان پر داخل ہوں گے اور ان پر سلام پیش کریں گے۔ کما فی سورة الرعد (وَالْمَلآءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے روح قبض ہونے کے وقت کا تحیہ مراد ہے کیونکہ جب فرشتہ مومن بندہ کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ) کہہ کر خطاب کرتا ہے۔ (ذکر فی الروح عن ابن مسعود ؓ (وَاَعَدَّلَھُمْ اَجْرًا کَرِیْمًا) (اور اللہ نے ان کے لیے اجر کریم تیار فرمایا ہے) یعنی ان کے لیے عزت والا ثواب تیار فرمایا ہے۔ مفسر ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں کہ اجر کریم سے جنت اور وہاں کی نعمتیں اور ہر طرح کی لذتیں مراد ہیں۔ اول تو جنت کا داخلہ ہی بڑا اعزازو اکرام ہے پھر اس میں جو کچھ پیش کیا جائے گا وہ بھی اعزاز کے ساتھ پیش ہوگا وہاں ہمیشہ مکرم اور معزز ہی رہیں گے۔
Ayah 33:45

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی بیشک ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا

رسول اللہ ﷺ کی صفات جمیلہ : یہ چار آیات کا ترجمہ ہے، پہلی دو آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کی صفات بیان فرمائی ہیں اور تیسری آیت میں آپ کو بشارت دینے کا حکم دیا ہے اور چوتھی آیت میں کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننے کا اور ان سے جو تکلیفیں پہنچیں ان کی طرف دھیان نہ دینے کا اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اول تو یوں فرمایا ہے (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا) کہ اے نبی ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا ہے، شاہد گواہ کو کہتے ہیں، سورة بقرہ میں فرمایا ہے (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا) (اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنا دیا جو اعتدال والی ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول تم پر گواہ ہوجائے) اور سورة نساء میں فرمایا (فَکَیْفَ اِذَاجِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآءِ شَھِیْدًا) (سو کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ ﷺ کو ان پر گواہ بنائیں گے) اور سورة حج میں فرمایا (لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) (تاکہ رسول تم پر گواہ ہوجائے اور تم لوگوں کے مقابلہ میں گواہ بن جاؤ۔ ) ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ آپ قیامت کے دن اپنے سے پہلی امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے، سورة بقرہ اور سورة نساء کی آیات کے ذیل میں جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کی مراجعت فرما لیں۔ (انوار البیان جلد دوم) پھر فرمایا (وَّمُبَشِّرًا) کہ آپ کو بشارت دینے والا بنا کر بھیجا، اہل ایمان کو ایمان کے منافع اور اعمال صالحہ کے اجر وثواب کی خوشخبری دینا آپ کے کار مفوضہ میں شامل ہے۔ وَّ نَذِیْرًا اور آپ کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ جیسا کہ اہل ایمان کو بشارت دینا آپ کے فرائض منصبی میں سے ہے اسی طرح اہل کفر اور اہل معصیت کو ڈرانا اور وعیدیں سنانا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے ذمہ کیا گیا ہے۔ عرب و عجم کے لیے، تمام ادیان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشیر ونذیر بنا کر بھیجا، سورة سباء میں ارشاد فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا) (اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بناکر بھیجا ہے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا) رسول اللہ ﷺ نے تمام انسانوں کو اور تمام اہل ادیان کو ایمان قبول کرنے پر آخرت کی بھلائی کی بشارت دی اور ایمان سے منحرف اور منکر ہونے پر آخرت کے عذاب سے باخبر فرمایا، یہود و نصاریٰ بھی اسی میں شامل ہیں جو اپنے پاس دین سماوی ہونے کے مدعی ہیں، سورة مائدہ میں فرمایا : (یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَ نَا مِنْ بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اے اہل کتاب تمہارے پاس یہ رسول آپہنچے جو کہ تم کو صاف صاف بتلاتے ہیں ایسے وقت میں کہ رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا تاکہ تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی بشیر اور نذیر نہیں آیا سو تمہارے پاس بشیر اور نذیر آچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں۔ ) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو بشیر اور نذیر کی صفات عظیمہ سے متصف فرمایا ہے اور آپ ﷺ کو شاہد بھی بتایا ہے، توریت شریف میں بھی آپ ﷺ کی یہ صفات بیان فرمائی گئی ہیں۔ صحیح بخاری جلد 1 ص : 285 میں حضرت عطا بن یسار سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ملاقات کی اور عرض کیا کہ توریت میں جو رسول اللہ ﷺ کی صفت بیان کی گئی ہے اس سے مجھے باخبر فرمائیے، انہوں نے فرمایا جو آپ کی صفات قرآن شریف میں بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض صفات توریت میں مذکور ہیں۔ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا) اے نبی ہم نے آپ کو گواہ بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ (یہ الفاظ قرآنیہ کا ترجمہ ہے) اور توریت میں مزید یہ باتیں بھی ہیں کہ آپ ﷺ کو امیین یعنی عرب کی حفاظت کرنے والا بناکر بھیجا، تو میرا بندہ ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا تو درشت خو اور سخت مزاج نہیں ہے اور بازاروں میں شور مچانے والا نہیں اور جو برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا لیکن معاف کرتا ہے اور بخش دیتا ہے اور اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جب تک کہ اس کے ذریعہ کجی والی ملت کو سیدھی نہ کردے اس طرح سے کہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ کہیں اور اس کے ذریعے ان کی اندھی آنکھوں کو کھول دے گا اور بہرے کانوں کو اور غلاف چڑھے ہوئے قلوب کو کھول دے گا۔
Ayah 33:46

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن کرنے والا چراغ بنا کر بھیجا ہے،

(وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ ) (اور ہم نے آپ کو اللہ کی طرف بلانے والا بھیجا اللہ کے حکم سے) آپ سارے انسانوں اور سارے جنات کو توحید کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں، آپ نے بڑی محنت سے اللہ کی طرف بلایا اور اللہ کا بول بالا کیا اور اس بارے میں بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔ اس میں جو لفظ (بِاِذْنِہٖ ) وارد ہوا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (ای بِتَسْھِیْلِہٖ وتیسرہ تعالیٰ ) ، یعنی اللہ تعالیٰ نے دعوت کا کام آپ کے لیے آسان کردیا، تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے آپ آگے بڑھتے رہے اور آپ ﷺ کے سامنے ہی امت مسلمہ کی بھاری تعداد وجود میں آگئی، دعوت کا کام ہمیشہ جاری رکھا جائے آپ کی امت بھی اس کی مخاطب ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا : (وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) (اور تم میں سے ایسی جماعت ہو جو خیر کی طرف بلاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے ہیں۔ ) آپ ﷺ کی صفات بیان فرماتے ہوئے آیت کے ختم پر (وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا) بھی فرمایا یعنی ہم نے آپ کو روشن چراغ بنا کر بھیجا، اس چراغ کی وجہ سے لوگ جہالت و گمراہی کی تاریکیوں سے نکلتے ہیں اور انوار ہدایت حاصل کرتے ہیں، حضرات اکابر نے فرمایا ہے کہ آپ کو (سِرَاجًا مُّنِیْرًا) سے تشبیہ دینے میں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذات گرامی سے صرف آپ کے زمانے کے انسانوں اور جنات ہی نے روشنی حاصل نہیں کی بلکہ آپ کے بعد بھی یہ روشنی رہے گی اور آپ کے علوم اور اعمال کو پہنچانے والے برابر رہیں گے۔ جس طرح ایک چراغ سے بہت سے چراغ روشن ہوجاتے ہیں پھر ان چراغوں سے دوسرے بہت سے چراغوں کو روشنی ملتی چلی جاتی ہے، اسی طرح آپ کا نور حضرات صحابہ کرام ؓ کو ملا پھر انہوں نے اسے آگے بڑھایا اور آج تک ہر استاد سے شاگرد تک پہنچ رہا ہے اور آپ ﷺ کے جلائے ہوئے چراغوں سے برابر چراغ روشن ہیں، گو آپ کی روشنی آفتاب کی روشنی سے کہیں زیادہ ہے لیکن چونکہ ہمیشہ سے آفتاب ایک ہی آفتاب ہے پھر اس کی روشنی بھی دائمی نہیں، رات کو اندھیرا ہوجاتا ہے اور اس سے روشنی حاصل کرنا بندوں کے اختیار میں بھی نہیں اس لیے آپ کی ذات گرامی کو سراج منیر سے تشبیہ دینا مناسب ہوا، ایک چراغ سے بہت سے چراغ جل سکتے ہیں اور جس وقت چاہیں اس سے روشنی حاصل کرسکتا ہے۔
Ayah 33:47

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور آپ مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے کہ بلاشبہ اللہ کی طرف سے ان پر بڑا فضل ہے

پھر فرمایا آپ اہل ایمان کو خوشخبری سنا دیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے، وہ فضل دنیا میں ایمان کی دولت سے اور آخرت میں دخول جنت اور وہاں کی نعمتوں سے نوازش فرمانا ہے۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے اور ان کی ایذاء کو چھوڑئیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے اور اللہ کافی کارساز ہے۔

پھر فرمایا (وَلَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ ) (اور آپ کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانئے) انہیں گوارا نہیں ہے کہ آپ دعوت الی اللہ کا کام کریں اور جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے یعنی تبشیر اور انذار، آپ اسے چھوڑ دیں، اس سلسلے میں آپ ان کی کوئی بات نہ مانیں اور کسی طرح کی مسامحت اور مدارات اختیار نہ فرمائیں۔ (قال صاحب الروح : نھی عن مداراتھم فی امر الدعوۃ ولین الجانب فی التبلیغ والمسامحۃ فی الانذار) (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ دعوت و تبلیغ کے معاملہ میں کافروں کی مدارات، اور ان کی رعایت اور چشم پوشی سے منع کیا گیا ہے۔ ) (وَدَعْ اَذٰیھُمْ ) (اور ان کی ایذا کو چھوڑئیے) یعنی ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچی ہیں ان کی پرواہ نہ کیجیے اور ان پر صبر کیجیے۔ (وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ) (اور اللہ پر بھروسہ کیجیے) وہی مدد فرمائے گا۔ (وَکَفٰی باللّٰہِ وَکِیْلًا) (اور اللہ کافی کارساز ہے) سب کچھ اسی کے سپرد کیجیے، وہی نفع کا مالک ہے، دشمنوں کی ایذاؤں سے بھی بچائے گا اور آپ کو خیریت اور عافیت سے بھی رکھے گا۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری ان پر کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو تم ان کو کچھ متاع دے دو اور انہیں خوبی کے ساتھ چھوڑ دو ۔

عدت کے بعض مسائل : شریعت اسلامیہ میں نکاح اور طلاق، ادائے مہر نان نفقہ اور طلاق کے بعد عدت گزارنے کے بہت سے احکام ہیں جو قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہیں اور فقہاء کرام نے ان کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ نکاح تو بہت مبارک اور مستحسن اقدام ہے اور بعض صورتوں میں واجب بھی ہوتا ہے اور طلاق بھی شریعت اسلامیہ میں مشروع ہے لیکن اسے ابغض المباحات قرار دیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرلے جس سے نکاح حلال ہو تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اب وہ اس کے نکاح سے اسی وقت نکلے گی جب یہ شخص مرجائے یا طلاق بائن یا مغلظہ دیدے یا طلاق رجعی دے کر عدت گزرنے تک رجوع نہ کرے۔ لفظ (عِدّت عَدَّیَعُدُّ ) کا مصدر ہے جس کا معنی ہے شمار کرنا، چونکہ مطلقہ اور (مُتَوَفّٰی عَنْھَا زَوْجَھَا) کو مہینے اور حیض شمار کرنے ہوتے ہیں تاکہ ان کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکے، اس لیے دوسرے نکاح کے انتظار کے زمانہ کو عدت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس کسی مرد نے نکاح کرکے جماع کرلیا پھر کسی وجہ سے طلاق دے دی اور عورت ایسی ہے جسے حیض آتا ہے اور حاملہ بھی نہیں ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے اور اگر حیض والی نہیں ہے تو اس کی عدت کی مدت تین مہینے ہے اور جس عورت کو حالت حمل میں طلاق ہوجائے اس کی عدت وضع حمل پر ختم ہوجائے گی۔ اور جس منکوحہ عورت کا شوہر مرجائے جو حمل والی نہ ہو تو اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے شوہر نے اس سے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو اور اگر حمل والی ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اگر کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دی تو کوئی عدت واجب نہیں یعنی ایسی عورت طلاق ہونے کے ساتھ ہی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ طلاق دینے والے شوہر کو کوئی حق نہیں کہ اس کو عدت گزارنے کو کہے اور دوسری جگہ نکاح کرنے سے روکے، اور اسے کچھ متاع بھی دے دیں۔ لفظ مَتَاعٌ مال کو کہتے ہیں، صورت مذکورہ میں کتنا مال دینا ہے ؟ سورة بقرہ میں اس کو بیان فرمایا : (وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفِ مَا فَرَضْتُمْ ) یعنی اگر تم انہیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انہیں ہاتھ لگاؤ اور حال یہ ہے کہ ان کے لیے مہر مقرر کرچکے ہو تو جو کچھ مقرر کیا ہے اس کا آدھا دے دو ، اور اگر ہاتھ لگائے بغیر طلاق دے دی اور مہر مقرر نہیں کیا تھا تو ایک جوڑا کپڑے دینا واجب ہے۔ سورة بقرہ کی مذکورہ آیت سے پہلے جو (وَّمَتِّعُوْھُنَّ ) فرمایا ہے اس سے یہی مراد ہے، فقہاء کی اصطلاح میں اس جوڑے کو متاع کہتے ہیں۔ یہ جوڑا تین کپڑوں پر مشتمل ہوگا، ایک خوب بڑی چادر جس میں سر سے پاؤں تک لپٹ سکے، دوسرے دوپٹہ تیسرے کرتہ، اور یہ متاع مرد کی حیثیت کے مطابق دیا جائے گا۔ اور اگر کسی عورت سے نکاح کے بعد جماع بھی کرلیا لیکن مہر مقرر نہیں کیا گیا تو اس صورت میں مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ اگر کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور اس کے ساتھ جماع بھی کیا اور پھر طلاق دے دی اور حال یہ ہے کہ مہر بھی مقرر کیا تھا تو اس صورت میں پورا مہر دینا واجب ہوگا۔ حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک جماع اور خلوت صحیحہ کا ایک ہی حکم ہے یعنی نکاح شدہ عورت سے خلوت صحیحہ ہوگئی تو اس میں بھی عدت واجب ہوگئی اور مقررہ مہر بھی پورا دینا ہوگا۔ (قال ابن قدامۃ فی المغنی ج 9 ص 80: ولا خلاف بین اھل العلم فی وجوبھا علی المطلقۃ بعد الدخول فاما ان خلابھا ولم یعبھا ثم طلقھا فان مذھب احمد وجوب العدۃ علیھا وروی ذلک عن الخلفاء الراشدین زید وابن عمرو بہ قال عروۃ وعلی بن حسین وعطاء والزھری والثوری والاوزاعی والاسحق واصحاب الرای و الشافعی فی قدیم قولہ وقال الشافعی فی الجدید لا عدۃ علیھا، لقولہ تعالیٰ : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَھَا) وھذا نص، ولانھا مطلقۃ لم تمس فاثبھت من یخل بھا، ولنا اجماع الصحابۃ روی الامام احمد والاثرم باسناد ھما عن زرارۃ بن اوفیٰ قال قضی الخلفاء الراشدون ان من اوخی سترا او اغلق باباً فقد وجب المھرو وجبت العدۃ ورواہ الاثرم ایضاً عن الاحنف عن عمرو علی وعن سعید بن المسیب عن عمرو زید بن ثابت، وھذہ قضایا اشھرت فلم تنکر فصارت اجماعا، وضعف احمد ماروی فی خلاف ذاک۔ 1۔ ھ) (علامہ ابن قدامہ نے ” المغنی “ میں لکھا ہے کہ دخول کے بعد جس عورت کو طلاق دے دی جائے تو اس کے لیے حق مہر واجب ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے لیکن اگر خاوند نے خلوت تو کی مگر وطی نہیں کی پھر طلاق دے دی تو اس کے بارے میں امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ اس پر عدت واجب ہے اور یہی بات حضرات خلفائے راشدین، حضرت زید اور حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے اور عروہ، علی بن حسین، عطاء، زہری، ثوری اوزاعی، اصحاب رائے اور امام شافعی کے پرانے قول کے مطابق یہ سب بھی اس کے قائل ہیں کہ اس پر عدت واجب ہے، امام شافعی کا جدید قول یہ ہے کہ اس پر عدت نہیں ہے اس آیت کی وجہ سے (سورۂ احزاب کی مذکورہ بالا آیت) اور یہ آیت اس بارے میں نص ہے کہ دخول سے پہلے طلاق میں عدت نہیں ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ ایسی مطلقہ ہے جس کے ساتھ وطی نہیں ہوئی لہٰذا اس کی خلوت مشتبہ ہوگئی ہے۔ اور ہماری دلیل صحابہ کرام ؓ کا اجماع ہے۔ امام احمد اور اثرم نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت زرارۃ بن اوفیٰ سے نقل کیا ہے کہ خلفائے راشدین کا فیصلہ یہ تھا کہ جس نے پردہ لٹکایا اور دروازہ بند کردیا تو مہر بھی واجب ہے اور عدت بھی اور اثرم نے احنف سے انہوں نے عمرو علی سے اور سعید بن المسیب سے انہوں نے عمر اور زید بن ثابت سے بھی یہی روایت کی ہے اور یہ مشہور فیصلے ہیں ان پر کسی صحابہ نے نکیر نہیں کی لہٰذا اجماع ہوگیا اور اس کے خلاف جو مروی ہے امام احمد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ) (قال العبد الفقیر : مذھب الجمھور مخالف فی الظاھر الایۃ وھو التصریح بعدم وجوب العدۃ اذا طلقھا ولم یمسھا، وکیف ساغ للصحابۃ والتابعین وجمھور الفقھاء ان یختار واخلاف ماصرحت بہ الایۃ الکریمۃ، ھذا کان یختلج فی قلبی، ثم ان اللّٰہ تعالیٰ القی فی روعی ان اللّٰہ تعالیٰ انما خاطب الزوج الاول الذی طلقھا انہ لیس لک ان تامرھا بالعدۃ کان لان صلتہ انقطعت عنھا، فاما عدم الاعتداد فی حق الزوج الثانی الذی یرید نکاحھا بعد طلاق الزوج الاول وجواز النکاح بعد طلاق مباشرۃ فالآیۃ الکریمۃ ساکتۃ عن ذلک، وانما جعل الجمھور الخلوۃ الصحیحۃ مثل المسیس فی ایجاب العدۃ قطعًا للاحتمال فقد یحتمل ان یکون ھاوعد سرامع رجل یرغب فی نکاحھا وتستعجل فی ذلک وتکذب فی انہ لم یمسھا الزوج الاول مع وجود المسیس وقد یمکن انہ جامعھا الزوج الال وعلقت منہ وانکرت المسیس وامرالمسیس لا یعلمہ الاھی والزوج الاول، فلو اخذبقولھا واجیزلھا ان تنکح زوجا آخر بغیر اعتداد عدۃ وجامعھا الزوج للثانی بعد نکاحہ یختلط النسب لانہ اذا ولد ولدٌ یظن الزوج الثانی انہ ولدہ ولد علی فراشہ فیکون ذلک ادخالاً لی قوم من لیس منھم وھو محترم، فقد رویٰ ابو داؤد عن ابی ہریرہ ؓ انہ سمع النبی ﷺ یقول لما نزلت ایۃ الملاعنۃ ایما امرأۃ دخلت علی قوم من لیس منھم فلیست من اللّہ فی شیءٍ ولن یدخلھا اللّٰہ الجنۃ فان قیل انھا کیف تتیقن بالعلوق من الزوج الاول ؟ قلنا یحتاط فی الانساب مالا تحیاط فی غیرھا فنزل الجماع منزلۃ العلوق، بقی انہ لم خوطب الزوج الاول بانہ لیس لک علیھا عدۃ تعتدھا ؟ فوجھہ۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم) (بندہ عاجز کہتا ہے کہ جمہور کا مذہب آیت کے ظاہر کا مخالف نظر آتا ہے آیت میں تو وطی کے بغیر عدت نہ ہونے کی تصریح ہے تو صحابہ تابعین اور جمہور فقہاء نے آیت کی تصریح کے خلاف کیسے کیا ہے ؟ یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے والے پہلے خاوند سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تو ایسی صورت میں اسے عدت کا حکم نہیں کرسکتا کیونکہ اس خاوند کا تعلق ختم ہوچکا ہے۔ مگر دوسرا خاوند جواب پہلے کی طلاق کے بعد نکاح کرنا چاہتا ہے اور اس طلاق کے فوراً بعد نکاح کے بارے میں آیت کریمہ خاموش ہے۔ لہٰذا جمہور نے خلوۃ صحیحہ کو عدت کے واجب ہونے کے بارے میں واقعۃً وطی کے قائم مقام قرار دیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ پہلے خاوند نے وطی کی ہو مگر یہ عورت دوسرے خاوند کی طرف رغبت کی وجہ سے کہتی ہو کہ وطی نہیں ہوئی جلدی نکاح ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے خاوند کے جماع سے حمل ہوگیا اور جماع کے معاملہ کو یہ عورت جانتی ہے یا پہلا خاوند جس نے طلاق دیدی ہے اور عورت اب اس کو چھپاتی ہے تاکہ جلدی دوسرا نکاح ہوجائے۔ اب اگر عورت کی بات کا اعتبار کیا جائے اور عدت گزارے بغیر دوسرے خاوند سے نکاح کی اجازت دیدی جائے اور نکاح کے بعد دوسرے خاوند نے جماع کرلیا تو نسب خلط ہوجائے گا تو یہ اس عورت کی طرف سے ایک قوم کے نطفہ کو دوسری قوم میں شامل کرنا ہوا جو کہ حرام ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے سنا ہے جب لعان والی آیت اتری تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس عورت نے کسی اور کا بچہ دوسری قوم میں داخل کردیا تو اس عورت کا اللہ کے ہاں کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اسے جنت میں دخل کرے گا اگر کوئی کہے کہ پہلے خاوند سے حمل کا یقین کیسے ہوا ہے ؟ تو ہم کہتے ہیں نسب کے معاملہ میں دوسرے معاملات سے زیادہ احتیاط کی جاتی ہے لہٰذا یہاں جماع ہی کو طلاق کے قائم مقام سمجھا گیا۔ باقی رہی یہ بات کہ جب دوسرے خاوند سے نکاح کے لیے احتیاط اسی میں تھی کہ وہ عورت عدت گزارے تو پھر اللہ تعالیٰ نے پہلے خاوند کو عدت گزروانے کا حکم کیوں نہیں فرمایا ؟ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ) (انہ مامور بالسراج الجمیل فلا یعترض بشیءٍ لا صلۃ لہ بہ بعد قطع صلۃ المرء ۃ عن نفسہ۔ والعلم عند اللّٰہ الکریم) (ہوسکتا ہے یہ وجہ ہو کہ پہلا خاوند تو طلاق کے بعد حسن سلوک کا مامور ہے لہٰذا اب اسے ایسے معاملہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، جس کے بارے میں اس کا تعلق عورت سے نہیں رہا کیونکہ وہ خود عورت سے اپنا تعلق کاٹ چکا ہے۔ ) آخر میں فرمایا (وَسَرِّحُوْھُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا) (اور انہیں خوبی کے ساتھ چھوڑ دو ) یعنی انہیں تنگ نہ کرو، ان کا حق نصف مہر یا متاع خوش دلی کے ساتھ دے دو اور کوئی سخت بات نہ کہو اور اس کا جو حق دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ہم نے آپ کے لیے یہ بیویاں حلال کردیں جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں اور وہ عورتیں بھی حلال کیں جو آپ کی مملوکہ ہیں ان اموال میں سے جو اللہ نے آپ کو مال غنیمت میں سے دلوائی اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی اور وہ مؤمن عورتیں حلال کیں جو بغیر عوض کے اپنی جان نبی کو بخش دیں اگر پیغمبر ان سے نکاح کرنا چاہیں، یہ آپ کے لیے مخصوص ہے نہ کہ مؤمنین کے لیے ہم نے جان لیا جو کچھ ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور باندیوں کے بارے میں احکام مقرر کیے تاکہ آپ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ غفور ہے رحیم ہے۔

نکاح کے بعض احکام رسول اللہ ﷺ کی بعض خصوصیات حضرت خدیجہ ؓ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے متعدد عورتوں سے نکاح فرمایا جن کے اسمائے گرامی آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا) کے ذیل میں بیان کیے جاچکے ہیں، ان بیویوں میں اکثر بیویاں مہاجرات تھیں، البتہ صفیہ ؓ بنت حی بن اخطب یہود خیبر کے قیدیوں میں سے اور حضرت جویریہ ؓ غزوہ بنی المصطلق کے قیدیوں میں سے تھیں ان بیویوں کو آیت بالا میں (الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ ) میں بیان فرمایا اور آپ کی بعض سراری یعنی باندیاں بھی تھیں جنہیں (وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآء اللّٰہُ عَلَیْکَ ) میں بیان فرمایا، ان باندیوں میں سے حضرت ماریہ قبطیہ ؓ بھی تھیں جن سے حضرت ابراہیم ؓ پیدا ہوئے اور زمانہ رضاعت ہی میں فات پاگئے۔ آیت بالا میں فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویاں حلال کردیں، یہ وہ بیویاں ہیں جنہیں آپ ان کے مہر ادا کرچکے ہیں، مہر ادا کرنے سے پہلے ہی دے دیں۔ (قال صاحب الروح، وتقیید الاحلال لہ باطاءھا معجلۃ لیس لتوقف الحل علیہ بل لایثار الافضل لہ ﷺ فان فی التعجیل براءۃ الذمۃ وطیب النفس ولذا کان سنۃ السلف لا یعرف منھم غیرہ) (تفسیر روح المعانی والے فرماتے ہیں کہ عورتوں کے حلال کرنے کو مہر جلدی ادا کرنے کے ساتھ مقید کرنا اس لیے نہیں ہے کہ عورت کا حلال ہونا ادائیگی مہر پر موقوف ہے نہیں بلکہ یہ اس لیے کہا کہ حضور ﷺ کے لیے افضل صورت کو پسند کیا گیا ہے کیونکہ جلدی مہر ادا کرنے میں ذمہ داری سے برأت ہے اور دل کی پاکیزگی ہے اسی لیے اسلاف کا طریقہ ایسا تھا کہ دوسرے اس سے قاصر ہیں۔ ) ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ہم نے آپ کے لیے آپ کے چچا کی لڑکیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی لڑکیاں اور آپ کے ماموں کی لڑکیاں اور آپ کی خالاؤں کی لڑکیاں حلال کردیں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی، اس مضمون کو (وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ ) بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ان رشتہ داروں کی بیٹیوں کو حلال تو فرما دیا لیکن ان میں سے آپ کے نکاح میں صرف حضرت زینب بنت جحش ؓ آئیں جو آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں، چچا کی بیٹیوں میں سے آپ ﷺ کے نکاح میں کوئی بی بی نہیں آئیں، ان میں سے حضرت ام ہانی ؓ بھی تھیں جو آپ کے چچا ابو طالب کی بیٹی اور حضرت علی ابن ابی طالب ؓ کی بہن تھیں، آپ نے مکہ معظمہ میں ان کو نکاح کا پیغام دیا تھا اس وقت انہوں نے عذر پیش کردیا، وہ فرماتی ہیں کہ جب آیت بالا نازل ہوئی تو میں آپ کے لیے حلال نہ تھی کیونکہ میں ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے نہ تھی۔ (رواہ الترمذی) حضرت ام ہانی ؓ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئی تھیں اور ان عورتوں میں سے نہ تھیں جنہوں نے پہلے اسلام قبول کرکے مدینہ منورہ کو ہجرت کی تھی۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ کسی عورت کا مہاجرہ ہونا حلت کی شرط نہیں تھی، حضرت ام ہانی ؓ نے جو فرمایا کہ میں آیت بالا نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ کے لیے حلال نہ تھی، یہ انہوں نے اپنے اجتہاد سے فرمایا لیکن حضرت ابن عباس ؓ نے ہجرت کو شرط حلت قرار دیا۔ (کما رواہ الترمذی فی تفسیر الآیۃ الکریمہ) اور (الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ ) بطور تغلیب ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ مدینہ منورہ ہی کی تھیں لہٰذا ان کے بھائیوں اور بہنوں کے ہجرت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پھر سیرت کی کتابوں سے آپ ﷺ کے ماموں اور خالاؤں کی بیٹیوں اور ان کی اولاد کا واضح پتہ نہیں چلتا۔ گو صاحب روح المعانی نے رجال اور سیر کی کتابوں سے تلاش کرکے بعض ماموؤں اور خالاؤں کا ذکر کیا ہے لیکن ان میں سے کسی کی بیٹی سے آنحضرت ﷺ کا نکاح نہیں ہوا اور ہر حال میں آیت کے مضمون پر کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ آیت میں تو چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ کی بیٹیوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے کوئی امر وجوبی نہیں ہے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کو خطاب فرما کر آپ کی امت کو بتایا گیا ہے کہ تمہارے لیے چچا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کی لڑکیوں سے نکاح کرنا درست ہے جیسا کہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ ) میں مسلمانوں کو بھی طلاق دینے کا سنت طریقہ بتایا ہے بظاہر خطاب آپ ﷺ کو ہے۔ پھر فرمایا : (وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا للنَّبِیِّ اِنْ اَرَاد النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور وہ عورت حلال کی جو بغیر عوض کے اپنی جان نبی کو بخش دے اگر پیغمبر اس سے نکاح کرنا چاہے نہ کہ مومنین کے لیے) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہ اختیار دیا گیا کہ اگر کوئی مسلمان عورت رسول اللہ ﷺ کو اپنا نفس ہبہ کردے یعنی بغیر مہر کے آپ سے نکاح کرنا چاہیں اور آپ اس سے نکاح کا ارادہ کریں تو آپ کے لیے یہ نکاح حلال ہے اور یہ خاص آپ ﷺ کے لیے ہے دوسرے مومنین کے لیے نہیں اگر کوئی دوسرا مسلمان کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے اور عورت یوں کہہ دے کہ میں مہر نہیں لوں گی تب بھی مہر دینا ہوگا اور مہر مثل کے بقدر ہوگا۔ آیت کریمہ میں جواز نکاح کا ذکر ہے یعنی یہ فرمایا ہے کہ نبی کے لیے ایسی عورت سے نکاح کرنا حلال ہے جو بغیر مہر کے نکاح کرنے پر راضی ہوجائے، لیکن علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا ایسا کوئی واقعہ پیش آیا بھی تھا یا نہیں یعنی کیا آپ نے کسی ایسی عورت سے نکاح کیا جس نے اپنے نفس کو بطور ہبہ پیش کیا ہو اور آپ نے نکاح فرما لیا ہو ایسی صورت پیش آئی تھی یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے جائز ہونے کا اعلان ہے لیکن ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، دوسرا فریق کہتا ہے کہ ایسے واقعات پیش آئے تھے بعض عورتوں کو آپ نے اپنے نکاح میں قبول فرما لیا اور بعض کو قبول فرمانے سے انکار فرما دیا اور بعض حضرات نے میمونہ بنت حارث ؓ کا نام بھی اس سلسلہ میں ذکر کیا ہے اور بعض حضرات نے زینب بنت خزیمہ ؓ کا نام بھی لیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے ان کے علاوہ دوسرے نام بھی لکھے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی ایسی عورت نہیں تھی جس نے اپنے نفس کو ہبہ کیا ہو۔ لفظ (اِمْرَأۃ) کے ساتھ جو لفظ (مُّؤْمِنَۃً ) کا اضافہ فرمایا ہے اس سے حضرات مفسرین کرام نے یہ استنباط کیا ہے کہ کتابی عورتوں سے نبی اکرم ﷺ کو نکاح کرنا جائز نہیں تھا گو دیگر مسلمانوں کے لیے یہودیہ اور نصرانیہ سے نکاح کرنا جائز ہے (گو بہتر نہیں ہے) اور اگر ان کے میل جول سے اپنے ایمان اور اعمال اسلام میں رخنہ پڑنے کا اندیشہ ہو تو بقدر خطرہ کراہت میں شدت آجائے گی۔ پھر فرمایا : (قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِھِمْ وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ ) (ہم نے جان لیا جو کچھ ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور باندیوں کے بارے میں احکام مقرر کیے) یعنی آپ کے علاوہ باقی مومنین کے لیے جو احکام ہم نے مقرر کیے ہیں وہ ہم جانتے ہیں، آپ کے ساتھ جو خصوصی احکام ہیں وہ ان میں شریک نہیں ہیں، مثلاً عام مسلمانوں کا نکاح بطور ہبہ یعنی بغیر مہر کے نہیں ہوسکتا اور کتابی عورتوں سے انہیں نکاح کرنا جائز ہے اسی طرح سے جو مملوکہ باندیاں ہیں ان سے عام مومنین کا نکاح درست ہے۔ (لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ) (یعنی اوپر جو آپ کے لیے خصوصی احکام بیان کیے گئے یہ اس لیے ہیں کہ آپ پر کوئی تنگی نہ ہو) بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا تعلق (اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا) سے ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو بلا مہر ہبہ کرنے والی عورت سے نکاح کرنا آپ کے لیے جائز قرار دیا، یہ اس لیے ہے کہ آپ پر کوئی تنگی نہ ہو۔ اور بعض حضرات نے جملہ احکام مذکورہ سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اوپر جو احکام بیان ہوئے یہ اس لیے مشر وع کیے گئے کہ آپ تنگی میں نہ پڑیں۔ (وَکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (اور اللہ غفور ہے رحیم ہے) اس کی مغفرت اور رحمت بہت بڑی ہے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

آپ ان میں سے جسے چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جسے چاہیں اپنے نزدیک ٹھکانہ دیں اور جسے آپ دور کردیں اسے طلب کریں تو اس بارے میں آپ پر کوئی گناہ نہیں یہ اس بات سے قریب تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ آپ ان کو دیں وہ سب اس پر راضی رہیں اور اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ جاننے والا ہے حلم والا ہے۔

ازواج مطہرات ؓ کے بارے میں آپ کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جسے چاہیں دور کردیں آیت بالا میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور یہ فرمایا ہے کہ آپ کے نکاح میں جو عورتیں ہیں ان میں باری مقرر کرنے یا نہ کرنے کا آپ کو اختیار ہے کہ جس کو چاہیں باری دینے میں شامل فرما دیں اور جس کو چاہیں شامل نہ فرمائیں یعنی ازواج کے درمیان باری تقسیم کرنا آپ پر واجب نہیں ہے جیسا کہ امت کے افراد پر واجب ہے، اگر آپ نے کسی کو باری میں شمار نہیں فرمایا اور اس کے بعد پھر اس کے لیے باری مقرر کرنا چاہیں تو پھر سے باری میں شامل فرما سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو مذکورہ بالا اختیار دے دیا اور آپ کی ازواج کو یہ معلوم ہوگیا کہ آپ کے ذمہ باری مقرر کرنا واجب نہیں ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آپ جو کچھ انہیں مال عطا فرمائیں گے وہ بھی محض تبرع ہوگا۔ تو یہ سب باتیں جانتے ہوئے اگر ان میں سے کسی کو مال نہ ملا یا باری میں شمار نہیں کی گئیں تو اس سے رنجیدہ نہ ہوں گی اور جو کچھ ملے گا اس سے راضی رہیں گی اور اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ اور بعض حضرات نے (اٰتَیْتَھُنَّ ) سے مال مراد نہیں لیا بلکہ ان کے درمیان باری مقرر کرنا اور باری کا چھوڑ دینا مراد لیا ہے۔ قال صاحب الروح (ج 22، ص 63) (أی تفویض الا مرالی مشیئتک اقرب الٰی قرۃ عیونھنّ سرورھن ورضاھنّ جمیعا لانہ حکم کلھن فیہ سواء ثم ان سویت بینھنّ وجدن ذٰلک تفضلا منک وان رجحت بعضھن علمن انہ بحکم اللّٰہ تعالیٰ فتطمئن بہ نفوسھن، وروی ھذا عن قتادۃ والمراد بما اتیتھن علیہ ما صنعت معھن فیتناول ترک المضاجعۃ والقسم) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں یعنی معاملہ کا آپ کے سپرد ہونا ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کی خوشی و رضا کے زیادہ قریب ہے کیونکہ اس میں سب کا حکم برابر ہے۔ پھر اگر آپ ان میں برابری کریں گے تو وہ آپ کی طرف سے احسان سمجھیں گی۔ اور اگر آپ ان میں سے کسی کو ترجیح دیں گے تو وہ یہی سمجھیں گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے اور ان کے دل مطمئن رہیں گے۔ اور یہ قتادہ سے مروی ہے۔ اور (بما اٰتَیْتَھُنَّ ) سے مراد ہے وہ معاملہ و سلوک جو آپ ان سے کریں گے پس یہ ساتھ لیٹنے کے ترک اور باری کی تقسیم کو شامل ہے۔ ) (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے ازواج مطہرات ؓ کو خطاب ہے (جو علیٰ سبیل التغلیب ہے) اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کے قلب مبارک میں بعض ازواج کی طرف میلان ڈالا اور ازواج مطہرات ؓ کے بارے میں جو حکم نازل ہوا جسے انہوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اللہ تعالیٰ کو اس سب کا علم ہے باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ کو یہ اجازت تھی کہ جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہیں قریب رکھیں پھر بھی آپ تقسیم میں برابری فرماتے تھے اور غیر اختیاری رجحان جو کسی کی طرف تھا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں عرض کیا : (اَللّٰھُمَّ ھٰذا قَسَمِیْ فیما املک فلا تَلُمنی فیما تملک ولا املک) اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے لہٰذا آپ اس پر ملامت نہ فرمائیے جو کہ آپ کے اختیار میں ہے (یعنی قلبی میلان) اور جو میرے اختیار میں نہیں ہے۔ (رواہ الترمذی) رسول اللہ ﷺ تمام بیویوں کے لیے باری مقرر کرتے تھے اور برابری فرماتے تھے البتہ حضرت سودہ ؓ نے اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو دے دی لہٰذا آپ ﷺ ان کی باری حضرت عائشہ ؓ کو دے دیتے تھے اور سفر میں تشریف لے جاتے تھے تو قرعہ ڈالتے تھے اس طرح آپ کی دلداری فرماتے تھے۔ (وَکَان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا) اور اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے اسے سب کچھ معلوم ہے اور حلیم بھی ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اسے سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔