Ayah 33:35مومن مردوں اور عورتوں کی صفات اور ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ
مفسر ابن کثیر نے (جلد 3 ص 487) کتب حدیث سے متعدد روایات نقل کی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ آیت بالا حضرت ام سلمہ ؓ کے سوال پر نازل ہوئی انہوں نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ ! قرآن مجید میں مردوں کا ذکر تو آتا ہے عورتوں کا ذکر نہیں آتا (یعنی جو احکام ہیں وہ مردوں کے خطاب کے ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں عورتوں سے علیحدہ خطاب یا مؤنث کے صیغے نہیں لائے جاتے) اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ ) آخر تک نازل فرمائی 1 اور تانیث کے صیغے لاکر ان کی بھی دلداری فرما دی۔
مذکورہ آیت میں مسلمان مرد اور عورتوں کی صفات بتائی ہیں جن میں یہ بتایا کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان صفات سے متصف ہونا چاہیے اور آیت کے ختم پر مؤمنین و مؤمنات کے لیے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا۔
مسلمین اور مسلمات سے احکام پر اعضاء وجوارح سے عمل پیرا ہونا مراد ہے اور مؤمنین و مؤمنات سے دل سے صاحب ایمان ہونا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو کچھ بتایا اور فرمایا دل سے اس کی تصدیق کرنا اور ماننا مراد ہے، اور گو فرمانبرداری میں وہ صفات بھی داخل ہیں جو آئندہ بیان فرمائیں تاہم ان کو مستقل بھی مہتم بالشان ہونے کی وجہ سے ذکر فرما دیا۔ اسلام اور ایمان بیان کرنے کے بعد جو دوسری صفات بیان فرمائیں، ان میں سے اولاً (وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ ) فرمایا، یہ لفظ قنوت سے لیا گیا ہے۔ صاحب روح المعانی نے ان دونوں لفظوں کا مطلب بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ (المداومین علی الطاعات والقائمین بھا) کہ یہ لوگ پابندی کے ساتھ ہمیشہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے بعد (وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ ) فرمایا یعنی یہ حضرات قول و عمل میں سچائی اختیار کرنے والے ہیں۔ (وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ ) اور طاعات کی ادائیگی میں مصائب کے آنے پر صبر اختیار کرنے والے ہیں۔ (وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ ) اور یہ حضرات خشوع اختیار کرنے والے ہیں، خشوع قلب کے جھکاؤ کو کہا جاتا ہے، اگر مطلق خشوع مراد لیا جائے تو خشوع فی العبادات، خشوع فی الاعمال اور خشوع فی المعاملات سب کو شامل ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ تکبر نہیں کرتے، قلب وجوارح کو عناد سے اور ہر ایسی چیز سے پاک اور صاف رکھتے ہیں جس میں کبر اور نخوت والی چیز ہو۔ خشوع فی الصلوٰۃ کی فضیلت کے لیے آیت کریمہ (وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ الاَّ عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ) (سورۂ بقرہ) اور آیت (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (شروع پارہ 18) کی مراجعت کرلی جائے۔
(وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ ) اور یہ حضرات صدقہ کرنے والے ہیں، اس میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے، ضعیف اور مسکینوں کی حاجات پوری کرنے، فرض زکوٰۃ اور واجب اور نفل صدقات کے اموال مستحقین کو دینے کی فضیلت آجاتی ہے۔ (وَالصَّآءِمِیْنَ وَالصّآءِمٰتِ ) یعنی یہ حضرات روزہ رکھنے والے ہیں۔ اس میں روزے رکھنے کا اہتمام کرنے کی فضیلت بتائی ہے۔ الفاظ کے عموم میں فرض اور نفل روزے سب ہی داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد بتائی ہے اس میں رمضان شریف کے روزے رکھنا بھی
1 واخرجھا الترمذی فی تفسیر سوۃ الاحزاب من کتابہ۔
ہے۔ سورة بقرہ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت بتا کر (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ ) فرما دیا ہے جس میں نفل روزوں کی ترغیب بھی دے دی ہے، روزے رکھنے سے نفس کے تقاضوں پر زد پڑتی ہے اور صفت تقویٰ پیدا ہوتی ہے، نفس کا ابھار کم ہوجاتا ہے اور شہوات اور لذت کی امنگ کم ہوجاتی ہے۔ (وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحٰفِظٰتِ ) (اور اپنی شرمگاہوں کی جگہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں) اس میں شرم کی جگہوں کو حرام جگہ استعمال کرنے سے منع فرمایا، انسان سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ گناہ کا باعث دو چیزیں ہوتی ہیں ایک منہ دوسرے شرمگاہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ وہ کون سی چیز ہے جو سب سے زیادہ دوزخ میں لے جانے کا ذریعہ ہے، پھر خود ہی جواب میں فرمایا (اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ ) یعنی منہ اور شرم کی جگہ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 412) اور حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو مجھے اس کی ضمانت دے کہ وہ مجھے اپنے جبڑوں کے درمیان کی چیز اور اپنی دونوں رانوں کے درمیان کی چیز کی حفاظت کرے گا میں اس کے لیے جنت کا ضامن بنتا ہوں۔ (رواہ البخاری)
سورۃ المعارج میں نیک لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ (وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ اِِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ ) (اور جو لوگ اپنے شرم کی جگہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور باندیوں کے، کیونکہ بیویوں اور باندیوں کے بارے میں ان پر ملامت نہیں ہے۔ )
(وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ ) (اور جو اللہ کا ذکر زیادہ کرنے والے مرد ہیں اور جو زیادہ ذکر کرنے والی عورتیں ہیں) اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے، نماز جو اسلام کا سب سے بڑا عمل ہے وہ خود ذکر ہے۔ سورة طٰہٰ میں فرمایا کہ (اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) (نماز کو میری یاد کے لیے قائم کرو) اور سورة عنکبوت میں فرمایا ہے (وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ) (اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ ) قرآن مجید میں کثرت ذکر کا حکم دیا ہے جیسا کہ چند صفحات کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا) میں فرمایا ہے، اور سورة جمعہ میں ارشاد ہے (وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ )
حدیث شریف میں بھی ذکر اللہ میں کثرت کے ساتھ مشغول ہونے کی ترغیب دی گئی ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ بندوں میں سب سے زیادہ کون افضل ہیں اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون سب سے زیادہ بلند درجہ والا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ ) کہ یہ فضیلت اور مرتبہ ان لوگوں کو حاصل ہے جو (مرد عورت) اللہ کو زیادہ یاد کرنے والے ہیں، کسی نے عرض کیا کیا یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے بھی افضل ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہاد کرنے والا اگر کافروں اور مشرکوں میں اتنی کثرت کے ساتھ اپنی تلوار مارے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خود یہ شخص خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والا ہی درجہ کے اعتبار سے افضل رہے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 198)
حضرت عبد اللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اسلام کے کام تو بہت ہیں مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیے میں جس میں لگا رہوں، آپ نے فرمایا (لاَ یَزَالُ لِسَانُکَ رَطَباً مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ) (تیری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہے) (مشکوٰۃ المصابیح ص 198)
مومن بندوں کو چاہیے کہ ہر وقت اللہ کی یاد میں لگے رہیں، فضول باتوں اور فضول کاموں سے بچیں ذکر و تلاوت کی کثرت کو اپنے درجات کو بلند کرنے کا ذریعہ بنائیں، تلاوت قرآن مجید، تسبیح و تہلیل، تکبیر وتحمید اور درود شریف میں لگے رہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں یوں کہوں (سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر) تو یہ ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر آفتاب طلوع ہوا۔ (صحیح مسلم جلد 2 ص 345)
ذکر کے فضائل ہم آیت کریمہ (فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ ) اور دوسری آیت کریمہ (اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ) کے ذیل میں ذکر کر آئے ہیں۔ (انوار البیان جلد اول)
زندگی کے مختلف احوال و اعمال کے وقت کی جو دعائیں مشروع کی گئی ہیں حسب مواقع انہیں پڑھتے رہا کریں تو کثرت ذکر کی نعمت بآسانی حاصل ہوسکتی ہے، اللہ کا ذکر تمام عبادات میں سب سے زیادہ سہل ہے لیٹے بیٹھے، چلتے پھرتے، وضو بےوضو، تلاوت کرو، تسبیح پڑھو، درود شریف پڑھو سب درست ہے البتہ قرآن مجید کو بےوضو چھو نہیں سکتے اور حالت جنابت میں بھی نہیں چھونا چاہیے، جو لوگ کاروبار سے فارغ ہوچکے ہیں، ملازمتوں سے ریٹائر ہوچکے ہیں وہ اپنی زندگیوں کو فضول باتوں میں لگا کر برباد نہ کریں، ہر لمحہ کی قدر کریں اور ہر وقت اللہ کے ذکر میں لگے رہیں۔
(اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا) ان مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے پس مؤمنین اور مؤمنات کا یہی شغل ہونا چاہیے کہ مذکورہ بالا کاموں میں لگے رہیں۔
Ayah 33:36اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہوجائے تو اس پر عمل کرنا لازم ہے، خلاف ورزی کرنا جائز نہیں
عرب میں یہ دستور تھا کہ دوسروں کی اولاد کو بیٹا بنالیا کرتے تھے اور جو شخص بیٹا بناتا تھا اسی کی طرف نسبت کرکے اِبْنِ فُلاَنٍ کہتے تھے، اور ایک رواج یہ بھی تھا کہ لوگ چلتے پھرتے کسی بچہ کو لے کر کسی شہر میں لے جاتے جہاں کوئی پہچانتا نہ ہوتا وہاں اسے اپنا غلام بنا کر بیچ دیتے تھے۔
زید بن حارثہ ؓ کا تعارف
زید بن حارثہ ؓ اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جا رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے ان پر قبضہ کرلیا جبکہ ان کی عمر آٹھ سال تھی، پھر انہیں مکہ معظمہ لے آئے اور سوق بنی عکاظ میں (جو مکہ معظمہ کے قریب ایک بازار لگتا تھا) میں اپنا غلام بتا کر فروخت کردیا، حکیم بن حزام بن خویلد نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ ؓ کے لیے چار سو درہم میں خرید لیا، جب حضرت خدیجہ ؓ نے انہیں اپنا بیٹا بنالیا اور انہیں زید بن محمد ﷺ کے نام سے بلایا جانے لگا۔ حضرت زید بن حارثہ کے والد کو پتہ چلا کہ میرے بیٹے کو فلاں قوم کے لوگوں نے مکہ معظمہ میں لے جاکر بیچ دیا ہے اور وہ وہاں موجود ہے تو وہ حضرت زید ؓ کو چھڑانے کے لیے مکہ معظمہ آئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ اس کے عوض اتنا اتنا مال لے لیں اور اسے چھوڑ دیں تاکہ ہم اسے اپنے ساتھ لے جائیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا گوارہ کرے تو مفت میں ہی لے جاؤ ہمیں کوئی پیسہ دینے کی ضرورت نہیں، زید کے والد نے کہا : (لقد زدتنا علی النصفۃ) یہ بات تو آپ نے انصاف سے بھی آگے بڑھ کر فرما دی، آپ ﷺ کو رواج کے مطابق نہ چھوڑنے کا بھی حق تھا اور پیسے لے کر چھوڑ دینا آپ کا کرم تھا لیکن جب آپ ﷺ نے یہ فرما دیا کہ مفت میں ہی لے جاؤ تو یہ تو کرم بالائے کرم اور احسان پر احسان ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید سے فرمایا کہ جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ عرض کیا یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا ہیں، آپ نے فرمایا تم مجھے بھی جانتے ہو اور انہیں بھی پہچانتے ہو، میری صحبت میں اٹھ چکے ہو اب تمہیں اختیار ہے کہ چاہو تو میرے پاس رہو چاہو تو اپنے گھر چلے جاؤ، اس پر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنے کو ترجیح دی اور اپنے باپ کے ساتھ جانا گوارا نہ کیا، رسول اللہ ﷺ کے اخلاق عالیہ، حسن سلوک اور شفقت و محبت کے سامنے انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ جانا اور کنبہ و قبیلہ میں رہنا منظور نہ کیا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے باپ اور چچا کی جگہ ہیں، باپ اور چچا نے کہا اے زید افسوس کی بات ہے کہ تم نے آزادی کے مقابلہ میں غلامی کو پسند کیا اور اپنے باپ اور چچا اور سب گھر والوں پر کسی دوسرے شخص کو ترجیح دیتے ہو، حضرت زید ؓ نے کہا کہ ہاں میں نے ان میں ایسی صفات دیکھی ہیں کہ ان کو جانتے ہوئے کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دے سکتا۔
یہ پورا واقعہ رسول اللہ ﷺ کے نبوت سے سرفراز کیے جانے سے پہلے کا ہے، جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کی گئی تو جن حضرات نے قبول اسلام کی طرف سبقت کی ان میں حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی تھے، ایک اور قول کے مطابق مردوں میں سے وہ سب سے پہلے فرد تھے جنہوں نے قبول اسلام کی طرف سبقت کی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی بر کہ حبشیہ سے ان کا نکاح کردیا تھا جن کی کنیت ام ایمن تھی، یہ آپ ﷺ کو اپنے والد ماجد کی میراث میں (اور ایک قول کے مطابق والدہ کی میراث میں) ملی تھیں اور یہی وہ خاتون ہیں جو آپ کی والدہ ماجدہ کی وفات کے بعد مقام ابوا سے آپ کو چھوٹی سی عمر میں مکہ معظمہ لے کر آئی تھیں، حضرت ام ایمن ؓ سے حضرت اسامہ بن زید پیدا ہوئے جنہیں (حبٌ رسول اللّٰہ) ( رسول اللہ ﷺ کا پیارا) کہا جاتا تھا۔
ایک عرصہ تک حضرت زید ؓ کو زید بن محمد ﷺ ہی کہا جاتا رہا پھر جب قرآن مجید کی آیت (اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ ) نازل ہوئی (جو کہ اسی سورت کے پہلے رکوع کی آیات میں سے ہے) تو زید بن حارثہ کہا جانے لگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو منہ بولے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو۔
زید بن حارثہ ؓ سے زینب بنت جحش ؓ کا نکاح اور طلاق
پھر آپ ﷺ نے زید بن حارثہ کا نکاح اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش ؓ کے ساتھ کردیا تھا، حضرت زینب ؓ نے آپ ﷺ کے فرمانے پر اس نکاح کو قبول تو کرلیا تھا لیکن باہمی مزاج میں موافقت نہ ہوئی، حضرت زید ؓ چاہتے تھے کہ ان کو طلاق دے دیں لیکن رسول اللہ ﷺ انہیں اس سے باز رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں روکے رکھو لیکن انہوں نے طلاق دے ہی دی، جب انہوں نے طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ نے بنت جحش ؓ کا نکاح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کردیا۔ یہاں اسی کو فرمایا (فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا) (جب زید نے ان سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کردیا) جب یہ آیت نازل ہوگئی تو آپ بلا اذن و اجازت حضرت زینب ؓ کے پاس تشریف لے گئے اس سے پہلے بھی (زید کی طلاق کی عدت گزرنے کے بعد) آپ نے حضرت زید ؓ ہی کو اپنا پیغام دے کر بھیجا تھا لیکن حضرت زینب ؓ نے جواب میں یوں کہہ دیا تھا کہ میں استخارہ کرکے جواب دوں گی۔ اللہ نے آپ ﷺ سے حضرت زینب ؓ کا نکاح کردیا، اس پر وہ بھی فخر کیا کرتی تھیں اور دوسری ازواج مطہرات سے کہا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تمہارے اولیاء نے کیے اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے کیا۔
اس ساری تفصیل کو سامنے رکھ کر آیات بالا کی تفسیر سمجھئے، آیت کریمہ (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ ) کا ترجمہ دیکھ لیجیے جو اوپر مذکور ہوا۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ زید بن حارثہ کے نکاح کا پیغام لے کر حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے عرض کیا کہ میں ان سے نکاح نہیں کروں گی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم انکار نہ کرو ان سے نکاح کرلو، کہنے لگیں کہ اچھا میں پھر اپنے نفس سے مشورہ کرلوں یعنی مجھے سوچ و بچار کا موقع دیا جائے، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ ) (آخر تک) نازل فرما دی، اور حضرت زینب ؓ نے عرض کردیا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی نہ کروں گی میں نے زید سے اپنا نکاح کردیا۔
مفسر ابن کثیر ؓ نے اپنی تفسیر میں یہ سبب نزول لکھا ہے (جلد 3 ص 489) اور تفسیر روح المعانی میں ہے کہ جب آپ ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ کو زید بن حارثہ کے لیے پیغام دیا تو انہوں نے کہا کہ زید میرے میل کے نہیں میں مرتبہ کے اعتبار سے ان سے بہتر ہوں، اور ان کے بھائی عبد اللہ بن جحش بھی یہی بات کہنے لگے (یہ انہوں نے اس لیے کہا کہ حضرت زید ؓ پر غلامی کا دھبہ لگ گیا تھا اور قریشی بھی نہ تھے) پھر جب آیت کریمہ نازل ہوگئی تو دونوں بہن بھائی راضی ہوگئے۔ (جلد 22: ص 23)
آیت شریفہ کا سبب نزول گو خاص ہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے جیسا کہ دیگر آیات کے اسباب نزول کے بارے میں مفسرین یہی فرماتے ہیں۔ آیت کریمہ سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ کسی بھی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ گنجائش نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم آجائے تو اس کے کرنے نہ کرنے کا اختیار باقی رہے، جو حکم مل جائے اس پر عمل کرنا ہی کرنا ہے، اسلام سراپا فرمانبرداری کا نام ہے، یہ جو آج کل لوگوں کا طریقہ ہے کہ مسلمانی کے دعویدار بھی ہیں لیکن احکام شرعیہ پر عمل کرنے کو تیار نہیں، یہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں، جب قرآن حدیث کی کوئی بات سامنے آتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ آج کل اس پر عمل نہیں ہوسکتا (العیاذ باللہ) معاشرت اور معاملات اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں قصداً و ارادۃً قرآن حدیث کے خلاف چلتے ہیں یہ سراسر بےدینی ہے، جیسا کہ آیت کریمہ کے ختم پر فرمایا : (وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا) (اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو وہ کھلی ہوئی گمراہی میں جاپڑا) فرائض اور واجبات کو چھوڑنے کی تو کوئی گنجائش نہیں ہے اور سنن و نوافل کی ادائیگی کی بھی حرص کرنا چاہیے، جس کا فرمانبرداری کا مزاج نہیں ہوتا تو وہ پہلے سنتوں سے بچتا ہے پھر واجبات چھوڑنے لگتا ہے پھر فرائض کی ادائیگی کا اہتمام ختم ہوجاتا ہے حتیٰ کہ شیطان وسوسے ڈال کر ایمان سے بھی ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، خیریت اسی میں ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے حکم ملا ہے دل و جان سے قبول کرے، نیم دروں نیم بروں، مسلمان بھی ہیں اور نہیں بھی، یہ گمراہی کا طریقہ ہے۔
Ayah 33:37زینب بنت جحش ؓ کا رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنا
(وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ ) (اور اس وقت کو یاد کرو جب آپ اس شخص سے (بطور فہمائش اور مشورہ) فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا کہ تم اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو) حضرت زید بن حارثہ ؓ پر اللہ تعالیٰ نے یہ انعام فرمایا کہ انہیں اپنے رسول ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، غلامی سے چھڑایا اور اسلام کی توفیق دی، اور آپ ﷺ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ محبتوں اور شفقتوں کے ساتھ اپنے پاس رکھا، دین سکھایا اور اپنی پھوپھی زاد بہن سے نکاح کرایا۔
(وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ ) (اور آپ اپنے جی میں اس چیز کو چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا) (وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ) (اور آپ لوگوں سے اندیشہ کر رہے تھے اور اللہ سے ڈرنا ہی آپ کو زیادہ سزا وار ہے) وہ کیا چیز تھی جسے آپ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے ؟ بعض لوگوں نے تو اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ آپ ﷺ ظاہر میں تو یہ فرما رہے تھے اور اندر سے دل میں یہ بات تھی کہ زید طلاق دیدے تو میں ان سے نکاح کرلوں گا۔ تفسیر جلالین میں بھی یہی بات لکھی ہے، لیکن یہ بات شان نبوت کے خلاف ہے۔ (قال القشیری ھذا اقدام عظیم من قائلہ وتفریط بحق النبی وبفضلہ) (ذکرہ فی حاشیۃ الجلالین) (امام قشیری ؓ فرماتے ہیں یہ بات کہنے والے کی بہت بڑی جرأت ہے اور حضور ﷺ کے حق میں اور شان میں کوتاہی ہے۔ )
مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادیا تھا کہ زید طلاق دے دیں گے تو ہم زینب سے آپ کا نکاح کردیں گے، یہ بات آپ ﷺ کے ذہن میں تھی آپ اسے ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اور زید سے فرما رہے تھے کہ تم اپنی بیوی زوجیت میں رکھو، یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ زید ضرور طلاق دے دیں گے اور زینب میرے نکاح میں آتی ہی ہے پھر بھی یہ مشورہ دینا کہ روکے رکھو، اس پر اللہ تعالیٰ نے ہلکا سا عتاب فرمایا، آپ نے تو اپنے نکاح میں آنے والی بات کو چھپایا لیکن اللہ تعالیٰ نے (زَوَّجْنٰکَھَا) نازل فرما کر زینب کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔ (قال صاحب الروح (ج 22: ص 34) والمراد بالموصول علیٰ ما اخرج الحکیم الترمذی وغیرہ عن علی بن حسین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھما ما اوحی اللّٰہُ تعالیٰ بہ الیہ ان زینب سیطلّقھا زید ویتزوّجھا بعدہ ﷺ ، الی ھذا ذھب اھل التحقیق من المفسرین کالزھری وبکر بن العلاء والقشیری والقاضی ابی بکر بن العربی وغیرھم) (تفسیر روح المعانی والے لکھتے ہیں کہ یہاں حکیم ترمذی ؓ وغیرہ نے حضرت علی بن حسین ؓ سے جو روایت کی ہے کہ یہاں اسم موصول سے مراد وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی طرف وحی فرمائی تھی کہ عنقریب حضرت زید، حضرت زینب کو طلاق دیدیں گے اور اس کے بعد ان سے آپ ﷺ کا نکاح ہوگا۔ محقق مفسرین اسی کی طرف گئے ہیں جیسا کہ زہری، بکر بن العلا، قشیری اور قاضی ابوبکر بن العربی وغیرہ۔ )
متبنّیٰ کی سابقہ بیوی سے نکاح کرنے کا جواز
مفسرین نے ایک یہ بات بھی لکھی ہے کہ اہل عرب جسے بیٹا بنا لیتے تھے اس کی بیوی سے نکاح کرنے کو (جبکہ وہ مرجائے یا طلاق دیدے) ایسے ہی حرام سمجھتے تھے جیسے اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے کو حرام جانتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ خیال ہو رہا تھا کہ اگر میں نے زید کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیا تو عرب کے جاہل اعتراض کریں گے اور یوں کہیں گے کہ دیکھو اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے (وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ ) فرمایا کہ اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا اصلی بیٹا قرار نہیں دیا تو اب زید کی مطلقہ بیوی زینب سے نکاح کرنے میں کوئی باک نہیں ہونا چاہیے، جب اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دے دیا تو جاہلوں کے اعتراض کا خیال کرنا اور ان کے طعن وتشنیع سے ڈرنا آپ ﷺ کے مقام رفیع کے خلاف تھا، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حلال قرار دیا ہے اسے خوب واضح طریقہ پر حلال بتانا چاہیے، عملاً بھی اور قولاً بھی تاکہ حکم شرعی پوری طرح واضح ہوجائے اور اہل ایمان کے دلوں میں اس کے حلال ہونے کے بارے میں کوئی شک و شبہ اور کوئی کسک باقی نہ رہے آپ کے دل میں جو لوگوں کے اعتراض کا خیال آیا اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب فرمایا اور ارشاد فرمایا : (وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ) (اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے اور آپ کو یہ سزا وار ہے کہ اللہ سے ڈریں)
(فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا) (پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس عورت کا نکاح آپ سے کردیا) حاجت پوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زینب کی طرف سے بالکل ہی دل بھر گیا اور انہیں نکاح میں رکھنے کی ذرا سی بھی خواہش نہیں رہی اور بالآخر علیحدگی کے تقاضے پر عمل کر ہی لیا اور طلاق دے دی۔ (قال صاحب الروح فکانہ قیل فلما قضٰی زید حاجتہ من نکاحھا فطلقھا وانقضت عدّتھا فلم یکن فی قلبہ میل الیھا ولا وحشۃ من فراقھا)
(لِکَیْ لَا یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآءِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَطَرًا) (تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیوی کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ ان سے حاجت پوری کرچکیں) یعنی طلاق دے دیں اور عدت گزر جائے۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں سے نکاح جائز ہوجانا آپ ﷺ کے عمل سے بھی ظاہر ہوجائے اور آپ کی امت کے افراد اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے بارے میں ذرا بھی دل میں تنگی محسوس نہ کریں، اگر مذکورہ مطلقہ یا بیوہ عورتوں سے نکاح کرنے کی رغبت ہو اور کوئی دوسرا مانع شرعی نہ ہو تو بلا تکلف ان سے نکاح کرلیا کریں۔ (وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا) (اور اللہ کا حکم پورا ہونے والا ہی تھا) یعنی اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر یہ طے فرما دیا تھا کہ زینب ؓ کو آپ ﷺ کے نکاح میں ضرور ہی آنا ہے چناچہ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا وہ پورا ہو کر ہی رہا اور اس میں جو تشریعی حکم تھا اپنے نبی ﷺ کے عمل سے اس کے جواز کا فیصلہ کرا دیا۔
سنن ترمذی میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ ﷺ وحی کا کچھ بھی حصہ چھپا سکتے تو آیت کریمہ (وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ) (آخر تک) کو ضرور چھپالیتے (جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو مخاطب فرما کر (وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ) فرمایا ہے)
Ayah 33:38(مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ) (نبی پر اس بارے میں کوئی تنگی نہیں ہے جو اللہ نے ان کے لیے مقرر فرما دیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو مقدور فرما دیا اور حلال قرار دے دیا اس کے بارے میں نبی پر کوئی الزام و مواخذہ نہیں، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی الزام نہیں تو مخلوق کو اعتراض کرنے کا اور طعن وتشنیع کا کوئی حق نہیں۔ (سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) (جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا یہی طریقہ رکھا ہے) یعنی سابقین انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ رہا ہے کہ ان کے لیے بہت سی چیزوں کو حلال قرار دیا ان پر انہوں نے بےتکلف عمل کیا اور مخلوق کے طعن وتشنیع کا بالکل خیال نہ کیا، حضور خاتم النبیین ﷺ نے بھی اس پر عمل کرلیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عورت آپ ﷺ کے لیے حلال تھی اسے اپنے نکاح میں لے لیا (قال صاحب الروح : سنۃ اللّٰہ ای سن اللّٰہ تعالیٰ ذلک سنۃ فھو مصدر منصوب بفعل مقدر من لفظہ والجملۃ مؤکدۃ لما قبلھا من نفی الحرج فی الذین من قبل، ای من قبلک من الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام من حیث لم یحرج جل شانہ علیھم فی الاقدام علی ما حللھم ووسع لھم فی باب النکاح وغیرہ) (جلد 22 ص 27)
(وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا) (اور اللہ کا حکم مقرر کیا ہوا ہے) یہ مضمون سابق کی تاکید ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کوئی بات طے کردی ہے کہ ایسا ہونا ہی ہونا ہے اور فلاں حکم دینا ہے اور اس پر عمل کرانا ہے تو اس کا وجود بھی ضروری ہے اور شرعی اصول کے مطابق اس کی حلت اور جواز کو بھی ظاہر کرنا ہے پس ایسی صورت میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
Ayah 33:39(الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَیَخْشَوْنَہٗ ) (جو اللہ کے پیغاموں کو پہنچاتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں) (وَلَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ) (اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) یہ (الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ) کی صفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حکم مقدور اور مقرر فرما دیا ہے اس پر بغیر کسی جھجک کے عمل کرلیا یہ حضرات انبیا۔ کا طریقہ رہا ہے، ان حضرات کی شان یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغاموں کی تبلیغ کرتے تھے اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے، مخلوق کی کسی قسم کی کوئی ملامت انہیں تبلیغ حق سے نہیں روکتی تھی وہ قول سے بھی تبلیغ کرتے تھے اور عمل کرکے بھی دکھاتے تھے۔ (وَکَفٰی باللّٰہِ حَسِیْبًا) (اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا) جو لوگ آپ پر طعن کر رہے ہیں آپ ان کے طعن وتشنیع سے مغموم نہ ہوں اللہ تعالیٰ کو سب کے اعمال و اقوال کا علم ہے اور وہ حساب لینے کے لیے کافی ہے وہ جب حساب لے گا تو انہیں ان کے اعمال بد کی سزا دے گا۔
فوائد ضروریہ
1 شریعت اسلامیہ میں کفایت کی بھی رعایت رکھی گئی ہے جس کا معنی برابری کا ہے حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علی تین چیزیں ایسی ہیں جب ان کا وقت آجائے تو ان میں تاخیر نہ کی جائے (1) جب نماز کا وقت ہوجائے۔ (2) جب جنازہ حاضر ہوجائے۔ (3) جب تم بےنکاحی عورت کے لیے اس کے برابر کا آدمی پالو۔ (رواہ الترمذی ص 52) مطلب یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو اس کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرو، اور جب جنازہ حاضر ہوجائے تو نماز جنازہ ادا کرکے اسے فوراً دفن کردو اور جب کوئی عورت بےشوہر کی ہو (خواہ کنواری ہو خواہ مطلقہ ہو خواہ اس کا شوہر مرگیا ہو) جب اس کے میل کا آدمی مل جائے تو اس مرد سے اس کا نکاح کردو۔
اس سے معلوم ہوا کہ مرد عورت کی برابری اور باہمی میل کا دیکھنا بھی دینی اور شرعی بات ہے۔ یہ میل اور برابری نسبوں میں اور آزاد ہونے میں اور مسلمان ہونے میں اور دیندار ہونے میں اور پیشوں میں اور مال میں دیکھی جائے گی۔ کفایت کا لحاظ اس لیے رکھا گیا ہے کہ عورت اور اس کے اولیاء کے لوگ عار نہ دلائیں کہ گھٹیا آدمی سے اس کا نکاح ہوگیا، تفصیلات فقہ کی کتابوں میں لکھی ہے۔ یہاں اس سوال کا جواب دینا مقصود ہے کہ جب حضرت زینب ؓ اور ان کے بھائی نے حضرت زید ؓ سے نکاح کرنے کے بارے میں یہ عذر پیش کردیا کہ زید ؓ زینب ؓ کے میل کے نہیں ہیں کیونکہ وہ قریشی بھی نہیں اور ان پر غلامی کا بٹہ بھی لگا ہوا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا عذر کیوں قبول نہیں فرمایا ؟ بات یہ ہے کہ شرعاً کفایت کا اعتبار تو ہے لیکن بعض مرتبہ دوسری مصالح ایسی ہوتی ہیں جن کی وجہ سے کفایت کا خیال چھوڑ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ یہاں مصلحت مضمر تھی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ زید ؓ سے زینب ؓ کا نکاح ہوجانے کے بعد طلاق ہو پھر رسول اللہ ﷺ کا زینب ؓ سے نکاح ہو جس سے قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے قول سے بلکہ عمل سے یہ واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے اس کی طلاق اور عدت کے بعد نکاح کیا جاسکتا ہے۔ عملی تعلیم و تبلیغ کے پیش نظر کفایت کی مصلحت کو چھوڑ دیا گیا اور آپ ﷺ نے زینب اور ان کے بھائی کو حکم دیا کہ زید کا زینب ؓ سے نکاح ہوجانے میں کوئی حجت نہ کریں اور آپ نے جو پیغام دیا اسے قبول کرلیں۔ چونکہ آپ کا یہ حکم تھا بطور مشورہ ایک رائے نہیں تھی اس لیے آیت کریمہ میں اس سے انحراف کرنے کو عصیان سے تعبیر فرمایا (وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًا) پھر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ اولیاء سے بلکہ ہر مومن کے اپنے نفس سے بھی زیادہ ہے جسے (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ) میں بتادیا ہے، اس صورت میں آپ ﷺ کے حکم کا ماننا ہی لازم تھا، اگر امیر المؤمنین یا کوئی بھی بادشاہ یا حاکم یا ماں باپ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے خلاف حکم دے یا خود کسی عورت و مرد کا نفس آپ ﷺ کے حکم خلاف کرنا چاہے تو آپ کے حکم کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے، آپ ﷺ نے جو حکم دے دیدیا جو درجہ وجوب میں ہو اس پر عمل کرنا ہی چاہیے تو آپ کا کوئی حکم عام مسلمانوں کے لیے درجہ استحباب میں ہو اور آپ کسی مسلمان کو اس کے بارے میں بطور وجوب حکم دے دیں تو اس مسلمان کو اس پر عمل کرنا فرض ہے۔
2 اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جو رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا (وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ) اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر نظر رکھنا لازم ہے۔ لوگ کیا کہیں گے اس کو نہ دیکھیں قرآن و حدیث میں جو حکم ہو اس پر نظر رکھیں۔ جو لوگ علماء اور مبلغ اور داعی ہوں خصوصیت کے ساتھ اس کا خیال رکھیں۔ آج کل لوگوں کا یہ مزاج بنا ہوا ہے کہ شرعی احکام کو اس ڈر سے چھوڑ دیتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، وضع قطع میں اور لباس میں اور بیاہ شادی اور مرنے جینے کی رسموں میں عوام ہی کو خوش کرنے کے کام کرتے ہیں اور صریحاً شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی کرجاتے ہیں، اچھے اچھے نام نہاد نیک اور نمازی بیاہ شادی میں خلاف شرع امور کا ارتکاب کرلیتے ہیں جب توجہ دلائی جاتی ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں جی ! دور ہی ایسا ہے، مخلوق کو بھی راضی رکھنا پڑتا ہے۔ لوگوں کی باتوں کا خیال کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرنا دعوائے ایمان کے سراسر منافی ہے، رسول اللہ ﷺ نے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی لیکن لوگوں کے طعن وتشنیع کا خیال آگیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے عتاب فرمایا کیونکہ ایسا خیال کرنا بھی آپ کی شان اقدس کے خلاف تھا۔
ہاں بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی عمل کے کرنے سے لوگوں کے غلط فہمی میں مبتلا ہونے کا اور اس کی وجہ سے ان کے دین و ایمان میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ سو اگر وہ عمل فی نفسہ محمود ہو لیکن شرعاً مامور بہ نہ ہو تو اسے ترک کرنا درست ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم (قریش) نئی نئی مسلمان نہ ہوتی تو میں کعبہ شریف کو پھر سے تعمیر کردیتا اور حطیم کو تعمیر کے اندر چھت والے حصہ میں شامل کردیتا اور کعبہ شریف کے دو دروازے بنا دیتا۔ لیکن آپ نے اس کو اچھا عمل جانتے ہوئے بھی انجام نہیں دیا تاکہ کہنے والے یہ نہ کہیں کہ دیکھو یہ کیسا نبی ہے کہ کعبہ شریف کو گرا دیا۔ چونکہ آپ کو تعمیر جدید کا حکم نہیں دیا گیا تھا اس لیے آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اور اس میں تکوینی طور پر یہ حکمت تھی کہ جن لوگوں کو کعبہ شریف کے اندر داخلہ میسر نہ ہو وہ حطیم میں داخل ہوجائیں اس میں داخل ہونا بھی دخول کعبہ ہی کے حکم میں ہے کیونکہ حطیم بھی کعبہ شریف کا حصہ ہے۔
3 حضرت زید بن حارثہ ؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کا اسم گرامی قرآن مجید میں وارد ہوا ہے آپ کے علاوہ کسی صحابی کا نام قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ حکم قرآنی (اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ ) کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں زید بن محمد کہنا چھوڑ دیا۔ اور اس طرح سے وہ ایک بہت بڑے اعزاز سے محروم ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انہیں دوسری طرح نواز دیا کہ ان کا نام قرآن مجید میں نازل فرما دیا۔ جب آیت قرآنیہ کی تلاوت کی جائے گی جس میں لفظ زَیْدٌ واقع ہوا ہے تو قرآن حکیم کے ہر حرف پر دس نیکیاں ملنے کے وعدہ کے مطابق اس لفظ کے پڑھنے پر تیس نیکیاں مل جائیں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس طرح بھی دلداری فرمائی کہ انہیں جس کسی لشکر میں بھیجتے تھے تو انہیں اس لشکر کا امیر بنا دیتے تھے۔ 8 ہجری میں پچپن سال کی عمر میں غزوہ موتہ میں انہوں نے شہادت پائی۔ اس وقت بھی وہ لشکر کے امیر تھے۔ حضور ﷺ نے بعض مرتبہ انہیں اپنے پیچھے مدینہ منورہ کا امیر بھی بنایا اور اپنی آخری عمر میں ان کے بیٹے حضرت اسامہ ؓ کو بھی ایک لشکر کا امیر بنا دیا تھا پھر اس لشکر کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے روانہ فرمایا۔
Ayah 33:40محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین ہیں
اس آیت کریمہ میں اول تو یہ فرمایا کہ تم میں جو مرد ہیں یعنی بالغ افراد ہیں محمد رسول اللہ ﷺ ان میں سے کسی کے نسبی والد نہیں ہیں، اس میں اس بات کی نفی ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی بھی ایسے شخص کے والد ہوں جو رجولیت کے حدود میں داخل ہوگیا ہو، اس کے عموم میں زید بن حارثہ ؓ کے والد ہونے کی بھی نفی ہوگئی۔ آیت میں یہ بتادیا کہ نسبی والد ہونے سے جو باپ بیٹے کے درمیان احکام شرعیہ مرتب ہوتے ہیں مثلاً میراث جاری ہونا اور حرمت مصاہرت ثابت ہونا، آپ ﷺ کے اور زید بن حارثہ ؓ یا کسی بھی صحابی کے درمیان ان میں سے کوئی حکم بھی جاری نہیں ہے، اور (رِّجَالِکُمْ ) اس لیے فرمایا کہ آپ ﷺ چار صاحبزادیوں کے باپ تھے جو آپ ﷺ کے سامنے بالغ بھی ہوئیں اور ان کی شادیاں بھی ہوئیں۔ حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء ؓ کے علاوہ باقی صاحبزادیوں کی آپ کے سامنے وفات بھی ہوگئی۔ آپ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد حضرت فاطمہ ؓ کی بھی وفات ہوگئی، حضرات حسنین ؓ کے واسطہ سے آنحضرت ﷺ کی نسل حضرت فاطمہ ؓ ہی سے چلی، آپ ﷺ کی اولاد میں صاحبزادے بھی تھے چونکہ وہ سب بچپن ہی میں وفات پا گئے اس لیے اس بات میں کوئی اشکال نہیں کہ آپ مردوں یعنی بالغ افراد میں سے کسی کے والد نہیں ہیں۔
دوسری بات یہ بتائی کہ گو وہ کسی بالغ مرد کے نسبی باپ نہیں ہیں لیکن روحانی باپ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں بحیثیت رسول ہونے کے ساری امت پر فرض ہے کہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کے اکرام اور توقیر کا ہمیشہ لحاظ رکھیں، اور ساتھ ہی آپ ﷺ کو خاتم النبیین بھی بتایا اور یہ اعلان فرما دیا کہ آپ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی بھی نبی قیامت تک آنے والا نہیں ہے۔ اس تصریح سے واضح ہوگیا کہ آپ کی روحانی نبوت نسبی نبوت سے کہیں زیادہ اعلیٰ اور افضل ہے اور آپ ﷺ کی موجودگی میں جو صحابہ ؓ تھے صرف انہیں کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ خاتم النبیین ہیں قیامت تک آپ کے بعد نبی آنے والا نہیں ہے لہٰذا موجودہ افراد اور ان کی آنے والی نسلیں اور ان کے علاوہ جو بھی اقوام اور قبائل اور افراد ذکور اور اناث (مرد و عورت) آپ پر ایمان لائیں گے، آپ سب کے روحانی باپ ہیں، آپ کی یہ فضیلت اور منقبت اس سے کہیں زیادہ ہے کہ اپنی دنیا والی زندگی میں چند افراد کے نسبی باپ ہوتے۔ قال صاحب الروح فکانہ قیل : (مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ ) بحیث تثبت بینہ و بینہ ﷺ حرمۃ المصاھرۃ ولکن کان اباکل واحد منکم وابا ابنائکم وابناء ابنائکم وھکذا الیٰ یوم القیامۃ بحیث یجب لہ علیکم وعلی من تناسل منکم احترامہ وتوقیرہ ویجب علیہ لکم ولن تناسل منکم الشفقۃ والنصح الکامل) (تفسیر روح المعانی والے فرماتے ہیں گویا یہاں (مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ ) میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس طرح تم میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں کہ اس کے اور حضور ﷺ کے درمیان مصاہرت کی حرمت ثابت ہو ورنہ تو حضور ﷺ تم میں سے ہر ایک کے باپ ہیں اور تمہاری اگلی نسلوں کے بھی باپ ہیں اسی طرح قیامت تک سب کے باپ ہیں کہ تم پر اور تمہاری نسلوں پر حضور ﷺ کا اعزازو احترام واجب ہے اور حضور ﷺ پر تمہارے لیے شفقت اور کامل ہمدردی ہے۔ )
آپ ﷺ سے پہلے جو انبیاء اور رسل ( علیہ السلام) تشریف لاتے تھے وہ خاص قوم کے لیے اور محدود وقت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے، خاتم النبیین جناب محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک تمام جنات اور تمام انسانوں اور تمام قوموں اور قبیلوں اور تمام زمانوں اور تمام مکانوں کے بسنے والوں کے لیے رسول ہیں اور نبی ہیں کیونکہ نبی عام ہیں اور رسول خاص ہیں (جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ رسول کا اطلاق صاحب شریعت جدیدہ کے لیے ہے اور نبی ہر پیغمبر پر صادق آتا ہے صاحب شریعت جدیدہ ہو یا نہ ہو) لہٰذا خاتم النبیین فرمانے سے آپ کے خاتم الرسل ہونے کا بھی اعلان ہوگیا، سورة سباء میں فرمایا (وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ الاَّ کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَّنَذِیْراً وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ ) (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ )
خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی پر وصف نبوت سے متصف ہونا یعنی نبوت جدیدہ سے سرفراز کیا جانا ختم ہوگیا ہے اور سلسلہ نبوت آپ کی ذات گرامی پر منقطع ہوگیا اب نبوت جدیدہ سے کوئی بھی شخص متصف نہیں ہوگا۔
ختم نبوت کے منکر قرآن کے منکر ہیں اسلام سے خارج ہیں :
آپ ﷺ کے بعد جو بھی کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے، گمراہ ہے، کافر ہے اور اس کی تصدیق کرنے والے بھی گمراہ اور کافر ہیں اور آیت قرآنیہ کے منکر ہیں جس میں صاف اس بات کا اعلان فرما دیا ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں، احادیث شریفہ صحیح اسانید کے ساتھ بہت زیادہ کثیر تعداد میں کتب حدیث میں مروی ہیں جن میں واضح طور پر بتایا ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت اور رسالت ختم ہے۔ ان احادیث کو بعض اکابرنے اپنے رسائل میں جمع بھی فرمایا ہے، قرآن و حدیث کی تصریحات کے باوجود بعض لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا خود بھی کافر ہوئے اور اپنے ماننے والوں کو بھی کفر پر ڈالا۔ مفسر ابن کثیر ؓ (جلد 3 ص 494 میں) بہت سی احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : (فمن رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ بالعباد ارسال محمد ﷺ الیھم ثم من تشریفہ لھم ختم الانبیاء والمرسلین بہ واکمال الدین الحنیف لہ وقد اخبر اللّٰہ تبارک وتعالیٰ فی کتابہ ورسولہ فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ھذا المقام بعدہ فھو کذاب افاک دجال ضال مضل ولو تحرق وشعبذ واتی بانواع السحر والطلاسم والنیر نجیات فکلھا محال وضلال عند اولی الباب) (یہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو ان کی طرف بھیجا پھر حضور ﷺ کی شان ختم نبوت بھی اور آپ پر دین حنیف کی تکمیل بھی بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور حضور ﷺ نے اپنی احادیث میں جو کہ متواتر ہیں خبر دے دی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، تاکہ سب پر واضح ہوجائے کہ حضور ﷺ کے بعد جو اس مقام کا دعویٰ کرے گا وہ مکار دجال، جھوٹا ہے خود بھی گمراہ ہے دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے اگرچہ وہ جادوگریوں کے کرشمے دکھائے جو بھی طلسم و نرنگیاں دکھائے سب عقل مندوں کے نزدیک بیکار و گمراہی ہیں۔ )
خاتم النّبیین بھی قرأت متواترہ ہے :
یاد رہے کہ خاتم النّبیین حضرت امام عاصم کوفی کی قرأت میں بفتح التاء ہے اور ان کے علاوہ دیگر قراء کی قرأت بکسر التاء یعنی خاتم النبیین ہے۔ خاتم (ت کے زبر کے ساتھ) مہر کے معنی میں آتا ہے اور خاتم (ت کے زیر کے ساتھ) صیغہ اسم فاعل ہے جس کا معنی ہے ختم کرنے والا، دونوں قرأتوں کا مآل ایک ہی ہے یعنی آخر الانبیاء پس سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین بھی ہیں یعنی آپ کی تشریف آوری سے سلسلہ نبوت ختم ہوگیا، اور خاتم النّبیین بھی ہیں یعنی آپ کی ذات گرامی کو نبیوں کے لیے مہر بنا دیا گیا، جیسے مہر آخر میں لگائی جاتی ہے اسی طرح آپ ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم ہوگیا اب آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔
یہ دوسری قرأت جو تا کے زیر کے ساتھ ہے قرأت متواترہ ہے اس کا انکار بھی کفر ہے، ہم نے خصوصیت کے ساتھ یہ قرأت اس لیے ذکر کی ہے کہ بعض ملحدوں نے (خاتَم النّبیّن) (بفتح التاء) کا ترجمہ (افضل النبیین) کرکے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا انکار کیا۔
گزشتہ صدی میں نصاریٰ کے کہنے سے پنجاب کے ایک آدمی (مرزا قادیانی) نے نبوت کا دعویٰ کردیا تھا نصاریٰ کو اس سے اپنا مقصد نکالنا مقصود تھا، انہوں نے اس جھوٹے نبی سے جہاد شرعی منسوخ کرنے کا اعلان کرایا اور اسے اور اس کے ماننے والوں کو دنیاوی لالچ دے کر اپنا ہمنوا بنالیا، دنیا کے طالب اس شخص کی جھوٹی نبوت کا اقرار کرتے چلے گئے اور جب ان کے سامنے آیت قرآنیہ (وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ) پیش کی گئی تو طرح طرح کی تاویلیں کرکے اس کو رد کردیا اور آیت کے معانی اور مفاہیم اپنی طرف سے تجویز کردئیے اور نبوت کی قسمیں بنالیں، حقیقی اور ظلی و بروزی کی تقسیم جاری کردی تا وقت تحریر ان لوگوں کی جماعت موجود ہے جو یہود و نصاریٰ کی سرپرستی میں پرورش پاتی ہے اور اسلام اور قرآن اور مسلمانوں کی دشمنی میں برابر لگی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ان کے شر سے بچائے۔ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ جو شخص قرآن کریم کی کسی آیت کا منکر ہو وہ نبی تو کیا ہوگا ادنیٰ درجہ کا مسلمان بھی نہیں، وہ تو ملحد اور زندیق اور کافر ہے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ ان ملحدوں اور زندیقوں سے چوکنا رہیں یہ لوگ ایمان کے ڈاکو ہوتے ہیں۔
(وَکَان اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا) (اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے) اس میں قرآنی اعلان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تنبیہ ہے اور وعید ہے، جو لوگ حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت کے بعد کسی دوسرے شخص کی نبوت کے قائل ہیں یا اسلام کے خلاف کوئی بھی عقیدہ رکھتے ہیں، ایسے لوگ یوں نہ سمجھیں کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے اللہ تعالیٰ کو سب کا حال ظاہر و باطن، عقیدہ و عمل معلوم ہیں وہ اس کے مطابق سزا دے گا۔ حقیر دنیا کے لیے کفریہ عقائد اختیار کرنے والے اور کفریہ اعمال اختیار کرنے والے اللہ تعالیٰ کی وعید سے غافل نہ ہوں۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری ختم نبوت کے منافی نہیں :
احادیث صحیحہ کثیرہ متواترہ سے صراحتاً اور آیت قرآنیہ (وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ) سے (علی احد القولین) اور آیت (وَاِِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ) سے (علی احد القولین) یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے، تمام اہل السنۃ والجماعۃ کا اس پر اجماع ہے۔ چونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے اور آپ ﷺ ہی کی شریعت پر عمل کریں گے اور امت محمد یہ سے بھی اسی شریعت پر عمل کرائیں گے اور وہ آپ ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے ہی نبوت سے سرفراز تھے ایسا نہیں کہ وہ نئی نبوت لے کر آئیں گے بلکہ وہ پہلے ہی سے نبی ہیں جنہیں زندہ آسمان پر اٹھالیا گیا تھا، دنیا میں آکر دجال کو قتل کریں گے اور شادی کرکے مسلمانوں کے ساتھ رہ کر وفات پاجائیں گے، اس سے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، شریعت محمدیہ میں جزیہ لینا مشروع ہے وہ اسے منسوخ کردیں گے، اس منسوخ کرنے کی خبر رسول اللہ ﷺ نے پیشگی دے دی ہے لہٰذا یہ بھی آپ ﷺ ہی کا منسوخ کرنا ہوا۔
حافظ جلال الدین سیوطی ؓ نے ” نزول عیسیٰ بن مریم آخر الزمان “ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے اس میں ” معجم الکبیر للطبرانی “ اور ” کتاب البعث والنشور للبیہقی “ سے حدیث نقل کی ہے اور اس کی سند جید بتائی ہے جس میں اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی ملت پر ہوں گے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں : (عن عبد اللّٰہ بن مغفل ؓ قال قال رسول اللّٰہ یلبث الدجال ماشاء اللّٰہ ثم ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقا بمحمد وعلیٰ ملتہ اماماً مھدیاً وحکماً عدلاً فیقتل الدجال) (حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ چاہے گا دجال رہے گا پھر حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے اس حال میں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے اور آپ ﷺ کی ملت پر ہوں گے ہدایت کے امام ہوں گے حاکم و عادل ہوں گے اور پھر آپ دجال کو قتل کریں گے۔ )
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (وَالَّذِیْ نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً ) (الحدیث) (باب نزول عیسیٰ (علیہ السلام) ص 490) (قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں ابن مریم حاکم عادل بن کر نازل ہوں گے۔ )
لفظ حکماً کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر ؓ ” فتح الباری جلد 6 ص 491“ میں لکھتے ہیں : (والمعنی انہ ینزل حاکما بھذہ الشریعۃ فان ھذہ الشریعۃ لا تنسخ بل یکون عیسیٰ (علیہ السلام) حاکماً وفیہ روایۃ اللیث عن ابن شھاب عند مسلم حکماً مقسطاً والطبرانی من حدیث عبد اللّٰہ بن مغفل ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً بمحمد علی ملتہ۔ 1 ھ) (معنی یہ ہے کہ آپ شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلے کرنے والے بن کر نازل ہوں گے کیونکہ یہ شریعت باقی ہے منسوخ نہیں ہوسکتی بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اسی کے مطابق حکومت کریں گے۔ اور اسی بارے میں امام مسلم نے لیث عن ابن شہاب کی روایت کی ہے کہ حاکماً سے مراد ہے عادل حکمران اور طبرانی نے حضرت عبد اللہ مغفل ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضور ﷺ کی تصدیق کرنے والے ہو کر اور آپ کی ملت کے تابع ہو کر نازل ہوں گے۔ )
امام نووی ؓ شرح مسلم میں لکھتے ہیں : (ای ینزل حاکما بھذہ الشریعۃ لا ینزل نبیا برسالۃ مستقلۃ وشریعۃ ناسخۃ بل ھو حاکم من حکام ھذہ الامۃ) (صحیح مسلم ج 1: ص 78) (یعنی آپ شریعت محمدیہ کے مطابق فیصلے کرنے والے بن کر نازل ہوں گے مستقل نبوت و رسالت اور شریعت محمدیہ کو منسوخ کرنے والی شریعت لے کر نازل نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اسی امت محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم ہوں گے۔ )
مطلب یہ ہے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور شریعت اسلامیہ محمدیہ کے مطابق ہی فیصلہ دیں گے، مستقل نبی نہ ہوں گے اور نہ مستقل شریعت لے کر آئیں گے جو جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو منسوخ کردے، وہ اسی امت کے حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے۔ قادیانی جماعت آیت کریمہ کی تصریح کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہے اور اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ انہوں نے خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کی ہے اور اس کا معنی افضل النبیین بتایا ہے۔ ان جاہلوں کو معلوم نہیں کہ قرأت میں ایک قرأت تاء کے زیر کے ساتھ بھی ہے اس کا انکار کرنا بھی کفر ہے۔
قادیانی زندیقوں کا جھوٹ :
قادیانیوں نے ختم نبوت کا انکار کرنے کے لیے ایک یہ بات نکالی تھی کہ چونکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے تشریف لانے کی خبر ہے اس لیے نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا اور ہم جسے نبی مانتے ہیں وہ مسیح ہے۔ ان لوگوں کی تردید کے لیے یہی کافی ہے کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جگہ جگہ مسیح بن مریم فرمایا ہے، دنیا جانتی ہے اور قادیانیوں کو بھی اس کا عمل ہے کہ مرزا قادیانی کی ماں کا نام مریم نہیں تھا، ملحدوں اور زندیقوں کو قرآن حدیث ماننا نہیں ہوتا، اپنی تاویلات و تحریفات کے پیچھے چل کر ملعون ہوتے ہیں۔
یہ لوگ یوں بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تشریف لانے کا عقیدہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم نہیں ہوئی۔ ان لوگوں کی اس بات کی تردید حضرات مفسرین کرام اور علماء عظام پہلے ہی کر گئے اور انہوں نے بتادیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مستقل رسالت و نبوت کے ساتھ نہیں آئیں گے وہ اسی شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کے مطابق عمل کریں گے اور امت محمدیہ سے متعلق اسی سے عمل کرائیں گے جبکہ قادیانی جماعت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے دین و شریعت پر نہیں ہے، اگر آنحضرت ﷺ کے دین و شریعت پر ہوتے تو جہاد کو کیوں منسوخ کرتے، جہاد کو منسوخ کرنا ہی تو مرزا قادیانی کا اصل کارنامہ ہے جو اس نے نبوت کا دعویٰ کرانے والی حکومت برطانیہ کو خوش کرنے کے لیے انجام دیا تھا۔ ارے قادیانیو ! شرم کرو، اللہ کے سچے نبی خاتم النبیین ﷺ کے سچے امتی بنو اور جھوٹے نبی کی نبوت کے اقرار سے توبہ کرکے اپنی جانوں کو دوزخ سے محفوظ کرلو، یہ تمہاری خیر خواہی کے طور پر کہا جا رہا ہے۔ (واللّٰہ علی ما نقول وکیل)