33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اس کے بعد آپ کے لیے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ بات حلال ہے کہ آپ ان بیویوں کے بدلہ دوسری بیویوں سے نکاح کریں اگرچہ آپ کو ان کا حسن بھلا معلوم ہو مگر جو آپ کی مملوکہ ہو اور اللہ ہر چیز کا نگران ہے۔

اس کے بعد آپ کے لیے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ آپ ان بیویوں کے بدلے دوسری عورتیں سے نکاح کرسکتے ہیں اس آیت کا مطلب ظاہری الفاظ اور سباق کے اعتبار سے یہ ہے کہ اس وقت (اس آیت کے نزول کے وقت) جو آپ کے نکاح میں عورتیں ہیں آپ انہیں کو اپنے نکاح میں رکھیں ان کے علاوہ کسی عورت سے آپ کو نکاح کرنا حلال نہیں ہے اور اس کی بھی اجازت نہیں ہے کہ ان میں کسی عورت کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور عورت سے نکاح کرلیں۔ حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے اور دیگر ائمہ تفسیر سے آیت بالا کی یہ تفسیر منقول ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی ازواج مطہرات کو اختیار دے دیا کہ چاہو تو دنیا لے لو اور چاہو تو میرے پاس رہو۔ جس کا ذکر آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ ) میں گذر چکا ہے اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ نے نفقہ کا مطالبہ چھوڑ کر آپ ہی کی زوجیت میں رہنا پسند کرلیا تو اللہ جل شانہٗ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ نبی ﷺ کی ذات گرامی کو بھی انہیں بیویوں کے لیے مخصوص فرما دیا جو اس وقت آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں جن کی تعداد نو تھی ان کے سوا کسی سے آپ کے لیے نکاح جائز نہیں رکھا گیا۔ صاحب روح المعانی نے سنن بیہقی سے حضرت انس ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے پھر حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی بات نقل کی ہے (جسہ اللّٰہ تعالیٰ علیھن کما جسھنّ علیہ ﷺ جب انہوں نے آپ ﷺ کی زوجیت میں رہنے کو اختیار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جذبہ کی قدر دانی فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دے دیا کہ ان کے نکاح میں ہوتے ہوئے یا ان میں سے کسی کو چھوڑ کر ان کے بدلہ میں کسی دوسری عورت سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، ساتھ ہی (وَلَوْ اَعْحَبَکَ حُسْنُھُنَّ ) بھی فرما دیا یعنی ان کے علاوہ کسی عورت سے نکاح کرنا آپ کے لیے اب حلال نہیں ہے اگرچہ کسی عورت کا حسن آپ کو پسند آجائے۔ بعض حضرات نے آیت بالا کی دوسری تفسیر کی ہے وہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ شروع آیت میں آپ کے لیے عورتوں کی جتنی اقسام حلال کی ہیں ان کے بعد یعنی ان کے علاوہ اور قسم کی عورتوں سے آپ کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، اپنے خاندان کی عورتوں میں سے آپ ﷺ کے لیے صرف وہ عورتیں حلال کی گئیں جو مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئی تھیں غیر مہاجرات سے آپ کا نکاح حلال نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح غیر مومنہ یعنی اہل کتاب کی عورتوں سے آپ ﷺ کا نکاح جائز نہیں رکھا گیا۔ اور (مِنْ بَعْدُ ) کا مطلب یہ ہوا کہ جتنی قسمیں آپ کے لیے حلال کردی گئیں آپ انہیں میں سے کسی عورت سے نکاح کرسکتے ہیں، اگر یہ مطلب لیا جائے تو یہ کسی نئے حکم کا اعادہ نہیں ہے بلکہ پہلے حکم ہی کی تاکید اور توضیح ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کے نکاح میں جو موجودہ نو عورتیں ہیں ان کے علاوہ کسی اور سے نکاح درست نہیں، اگر پہلی تفسیر مراد لی جائے تب بھی اس حکم کو منسوخ مانا گیا ہے۔ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ آپ کا وصال ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دیگر خواتین سے نکاح کی اجازت دے دی تھی۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الاحزاب) سرور دو عالم ﷺ کے لیے کثرت ازواج کی حکمت اور مصلحت یہود اور نصاریٰ اور دیگر مشرک اقوام جنہیں اسلام اور داعی اسلام جناب محمد رسول اللہ ﷺ سے دشمنی ہے اسلام کا مقابلہ کرنے میں دلائل سے عاجز ہیں۔ عقائد اسلامیہ اور اعمال اسلامیہ کی خوبی پر اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے خلاف کوئی معقول اعتراض نہ کرسکے لیکن ان کے اکابر نے اپنے عوام کو اسلام سے دور رکھنے اور خود بھی دور رہنے کے لیے دو چار ایسے نا معقول قسم کے اعتراضات تراش لیے جو ان کے خیال میں بہت وزنی ہیں۔ ان اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے بہت سی شادیاں کی تھیں اور آپ کے نکاح میں بہت سی بیویاں تھیں۔ درحقیقت سب سے پہلے بنیادی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے دلائل اور آپ کے معجزات کو دیکھنا چاہیے جن میں سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم نے چیلنج کیا ہے کہ قرآن جیسی کوئی سورت بنا کر لاؤ اگر تم سچے ہو ! آج جبکہ قرآن کے اس چیلنج کو ڈیڑھ ہزار سال کے قریب ہو رہے ہیں کوئی فرد یا جماعت اس کی مثل بنا کر نہیں لاسکی اور لا بھی نہیں سکتے کیونکہ قرآن نے ساتھ ہی (وَلَنْ تَفْعَلُوْا) بھی فرما دیا ہے۔ جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے کامل اور جامع دین پیش کیا۔ انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی حالات کے قوانین بتائے، آداب بھی بتلائے اور اخلاق بھی سکھائے جبکہ آپ ﷺ نے کسی سے کچھ بھی نہیں پڑھا تھا کیا یہ سب چیزیں اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ واقعی آپ ﷺ اللہ کے رسول اور نبی ہیں۔ (لکن الناس یعاندون الحق) جب دلیل سے ثابت ہوگیا کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اور بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبی ہیں تو آپ کی ہر بات اور ہر عمل صحیح ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے موافق ہے، بندوں کے لیے قانون وضع فرمانے والا اور احکام بھیجنے والا اور بعض کو بعض احکام سے مستثنیٰ فرمانے والا وہی ہے۔ چونکہ وہ خالق اور مالک ہے اور سارے بندے اسی کی مخلوق ہیں اس لیے اسے اختیار ہے کہ جو احکام نافذ فرمائے اور جسے جس عمل کی اجازت دیدے جو دوسروں کے لیے نہ ہو۔ انہی امور میں رسول اللہ ﷺ کے لیے کثرت ازواج کا حلال ہونا بھی ہے، عام مومنین کو بشرط عدل چار بیویوں کی اجازت ہے اور آپ ﷺ کے لیے اس سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ پھر یوں فرمایا (لَایَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ ) (اس کے بعد آپ ﷺ کے لیے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ آپ ان کے بدلہ دوسری بیویوں حاصل کرلیں اگرچہ آپ کو ان کا حسن بھاتا ہو، الایہ کہ کوئی آپ کی باندی ہو۔ ) یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر آپ بالفرض اللہ کے نبی نہیں تھے اور زیادہ بیویاں رکھنا محض نفسانی خواہشات کے لیے تھا تو آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ مجھ پر آیت کریمہ (لَایَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ ) نازل ہوئی ہے اور مجھے اب آئندہ نکاح کرنے سے منع فرما دیا ہے، یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو شخص نفس ہی کا پابند ہوگا وہ اپنے اوپر ایسی پابندی کیوں لگائے گا۔ حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ آپ کے چچا حمزہ ؓ کی فلاں لڑکی بہت خوبصورت ہے اس سے نکاح فرمالیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا حمزہ ؓ میرے رضاعی بھائی ہیں ان کی لڑکی سے میرا نکاح حلال نہیں ہے، اسی طرح بعض ازواج نے اپنی بہن سے نکاح کرنے کی گذارش کی جسے آپ ﷺ نے نامنظور فرما دیا۔ ظاہر ہے کہ جس کو شہوت رانی سے مطلب ہے وہ قاعدہ قانون اور حرام و حلال کی پرواہ نہیں کرتا خصوصاً جبکہ جو کچھ اس کی زبان سے نکل جاتا ہو اس کے معتقدین کے نزدیک وہی قانون بن جاتا ہو۔ پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ حضرات صحابہ کرام ] سب آپ کے فرمانبردار ہی نہیں بلکہ جان نثار بھی تھے اگر آپ ﷺ چاہتے تو بہت سی کنواری لڑکیوں سے نکاح ہوسکتا تھا لیکن آپ کے نکاح میں صرف ایک بیوی ایسی تھی جس سے کنوار پن میں نکاح ہوا یعنی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ان سے نکاح کرنے سے امت کے لیے بہت احکام مشروع ہوگئے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بڑی عمر والے شخص کا کم عمر لڑکی سے نکاح جائز ہے۔ امام بخاری ؓ نے اس پر مستقل باب قائم کیا ہے، پھر یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ سسرال ہی میں میاں بیوی کا میل ہوسکتا ہے اور دن میں بھی ہوسکتا ہے۔ روایات حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے گھر میں تشریف لائے اور وہیں تنہائی اور یکجائی کا موقع دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے احکام ثابت ہوئے، آپ ﷺ قول سے بھی تعلیم دیتے تھے اور عمل سے بھی، آپ ﷺ امت کی رہبری نہ فرماتے تو کون بتانے والا تھا جبکہ سب کو آپ ہی کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نو سال آپ کے ساتھ رہیں، اس نو سال کے عرصہ میں انہوں نے بڑی بھاری تعداد میں روایات قولیہ اور فعلیہ کو محفوظ کیا اور پھر آپ ﷺ کی وفات کے بعد اڑتالیس سال تک ان کی تبلیغ فرمائی بڑی بھاری تعداد میں حضرات تابعین نے آپ سے علم حاصل کیا، آپ سے جو روایات مروی ہیں ان کی تعداد 22 سو سے زیادہ ہے، ہر سال حج کے لیے تشریف لے جاتی تھیں، منیٰ میں جو آپ کا خیمہ ہوتا تھا وہ ایک بہت بڑا مرکزی دارالعلوم بن جاتا تھا، ہمیشہ سے پوری امت مسلمہ آپ کی روایت کردہ قولی اور فعلی احادیث سے مستفید ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ تعداد ازواج کی وجہ سے تعلیمی اور تبلیغی فوائد جو امت کو حاصل ہوئے اور جو احکام امت تک پہنچے اس کی جزئیات اس قدر کثیر تعداد میں ہیں کہ ان کا احصاء دشوار ہے کتب احادیث اس پر شاہد ہیں، البتہ بعض دیگر فوائد کی طرف یہاں ہم اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں نبی اکرم ﷺ کی رہبری کی ضرورت نہ ہو، نماز باجماعت سے لے کر بیویوں کے تعلقات، آل و اولاد کی پرورش اور پاخانہ و پیشاب اور طہارت تک کے بارے میں آپ ﷺ کی قولی اور فعلی ہدایات سے کتب حدیث بھرپور ہیں، اندرون خانہ کیے کیا کام کیا، بیویوں سے کیسے میل جول رکھا، اور گھر میں آکر مسائل پوچھنے والی خواتین کو کیا کیا جواب دیا۔ اس طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ازواج مطہرات ؓ کے ذریعہ ہی امت کو راہنمائی ملی ہے، تعلیم و تبلیغ کی دینی ضرورت کے پیش نظر حضور اقدس ﷺ کے لیے کثرت ازواج ایک ضروری امر تھا۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر حضرت ابو سلمہ ؓ کی وفات کے بعد آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا تھا، وہ اپنے سابق شوہر کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے گھر تشریف لائیں، ان کے بچوں کی آپ ﷺ نے پرورش کی اور اپنے عمل سے بتادیا کہ کس پیار و محبت سے سوتیلی اولاد کی پرورش کرنی چاہیے۔ آپ ﷺ کی بیویوں میں صرف یہی ایک بیوی ہیں جو بچوں کے ساتھ آئیں، اگر کوئی بھی بیوی اس طرح کی نہ ہوتی تو عملی طور پر سوتیلی اولاد کی پرورش کی تعلیم کا خانہ خالی رہ جاتا اور امت کو اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہ ملتی۔ ان کے بیٹے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی گود میں پرورش پاتا تھا۔ ایک بار آپ ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے پیالہ میں ہر جگہ ہاتھ ڈال رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا (سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ ) (اللہ کا نام لے کر کھا داہنے ہاتھ سے کھا اور سامنے سے کھا۔ ) (بخاری و مسلم) حضرت ام سلمہ ؓ کی مرویات کی تعداد تین سو اٹھتر تک پہنچی ہوئی ہے۔ حضرت جویریہ ؓ ایک جہاد میں قید ہو کر آئی تھیں، دوسرے قیدیوں کی طرح یہ بھی تقسیم میں آگئیں، اور ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں ان کو لگا دیا گیا، لیکن انہوں نے اپنے آقا سے اس طرح معاملہ کرلیا کہ اتنا اتنا مال تم کو دوں گی مجھے آزاد کردو، یہ معاملہ کرکے حضور ﷺ کے پاس آئیں اور مالی امداد کی درخواست کی، آپ ﷺ نے فرمایا اس سے بہتر تمہیں بات نہ بتادوں ؟ وہ یہ کہ میں تمہاری طرف سے مال ادا کردوں اور تم سے نکاح کرلوں، انہوں نے بخوشی منظور کرلیا، آپ ﷺ نے ان کی طرف سے مال ادا کرکے نکاح فرمالیا، ان کی قوم کے سینکڑوں افراد حضرات صحابہ ؓ کی ملکیت میں آچکے تھے کیونکہ وہ سب لوگ قیدی ہو کر آئے تھے، جب صحابہ ؓ کو پتہ چلا کہ جویریہ ؓ آپ ﷺ کے نکاح میں آگئی ہیں تو آنحضرت ﷺ کے احترام کے پیش نظر سب نے اپنے اپنے غلام باندی آزاد کردئیے۔ سبحان اللہ ! حضرات صحابہ کرام ؓ کے ادب کی کیا شان تھی، اس جذبہ کے پیش نظر کہ یہ لوگ اب سرکار دو عالم ﷺ کے سسرال والے ہوگئے ہیں ان کو غلام بنا کر کیسے رکھیں، سب کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس واقعہ کے متعلق فرماتی ہیں : (فلقد اعتق بتزوجہ ایاھا ماءۃ اھل بیت من بنی مصطلق فما اعلم امرأۃ اعظم برکۃ علیٰ قومھا منھا (الاستیعاب والاصابہ) (آنحضرت ﷺ کے جویریہ ؓ سے نکاح کرلینے سے بنو المصطلق کے سو گھرانے آزاد ہوئے، میں نے کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جو جویریہ ؓ سے بڑھ کر اپنی قوم کے لیے بڑی برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ ) حضرت ام حبیبہ ؓ نے اپنے شوہر کے ساتھ ابتداء اسلام ہی میں مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور پھر دونوں میاں بیوی ہجرت کرکے قافلے کے دوسرے افراد کے ساتھ حبشہ چلے گئے وہاں ان کا شوہر نصرانی ہوگیا اور چند دن کے بعد مرگیا، آنحضرت ﷺ نے شاہ حبشہ نجاشی کے واسطہ سے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا جسے انہوں نے قبول کرلیا اور وہیں حبشہ میں نجاشی ہی نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح کردیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت ام حبیبہ ؓ حضرت ابو سفیان ؓ کی صاحبزادی تھیں اور حضرت ابو سفیان ؓ اس وقت اس گروہ کے سرخیل تھے جس نے اسلام دشمنی کو اپنا سب سے بڑا مقصد قرار دیا تھا اور وہ مسلمانوں کو اور پیغمبر خدا کو اذیت دینے سے باز نہیں آتے تھے اور انہیں فنا کے گھاٹ اتار دینے کی فکر میں رہتے تھے، جب ان کو اس نکاح کی اطلاع ہوئی تو بلا اختیار ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : (ھُوَ الْفَحْلُ لَا یُجْدَعُ اَنْفُہٗ ) (یعنی محمد ﷺ جوان مرد ہیں ان کی ناک نہیں کاٹی جاسکتی) مطلب یہ کہ وہ بلند ناک والے معزز ہیں ان کو ذلیل کرنا آسان نہیں، ادھر تو ہم ان کو ذلیل کرنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں ادھر ہماری لڑکی ان کے نکاح میں چلی گئی۔ غرض اس نکاح سے کفر کے ایک قائد کے حوصلے پست ہوگئے اور اس نکاح کی وجہ سے جو سیاسی فائدہ اسلام اور مسلمانوں کو پہنچا اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ خدا کے مدبر اور حکیم رسول ﷺ نے اس فائدہ کو ضرور پیش نظر رکھا ہوگا۔ اور اس کثرت ازواج کی حقیقت بھی سن لیجیے کہ کس طرح وجود میں آئی پچیس سال کی عمر سے لے کر پچاس سال کی عمر شریف ہونے تک تنہا حضرت خدیجہ ؓ آپ ﷺ کی زوجہ ہیں، ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے نکاح ہوا لیکن صغر سنی کی وجہ سے حضرت عائشہ ؓ اپنے والد کے گھر ہی رہیں، پھر چند سال کے بعد 2 ہجری میں مدینہ منورہ میں حضرت عائشہ ؓ کی رخصتی عمل میں آئی، اس وقت آپ ﷺ کی عمر چون سال ہوچکی ہے اور دو بیویاں اس عمر میں جمع ہوئی ہیں، یہاں سے تعدد ازواج کا معاملہ شروع ہوا، اس کے ایک سال بعد حضرت حفصہ ؓ سے نکاح ہوا پھر کچھ ماہ بعد حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ سے نکاح ہوا، انہوں نے صرف اٹھارہ ماہ آپ کے نکاح میں رہ کر وفات پائی، ایک قول کے مطابق تین ماہ آپ ﷺ کے نکاح میں زندہ رہیں پھر 4 ہجری میں حضرت ام سلمہ ؓ سے نکاح ہوا۔ پھر 5 ہجری میں حضرت زینب بنت جحش ؓ سے نکاح ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھاون سال ہوچکی تھی اور اتنی بڑی عمر میں آکر چار بیویاں جمع ہوئیں، ان کے بعد 6 ہجری میں حضرت جویریہ ؓ سے اور 7 ہجری میں حضرت ام حبیبہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ سے نکاح ہوا۔ خلاصہ یہ کہ چون برس کی عمر تک آپ ﷺ نے صرف ایک بیوی کے ساتھ گزارہ کیا یعنی پچیس سال حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ اور چار پانچ سال حضرت سودہ ؓ کے ساتھ گزارے، پھر اٹھاون سال کی عمر میں چار بیویاں جمع ہوئیں اور باقی ازواج مطہرات ؓ دو تین سال کے اندر حرم نبوت میں آئیں اور 10 ہجری میں آپ ﷺ نے وفات پائی۔ اور یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ ان سب بیویوں میں صرف ایک ہی عورت ایسی تھی جن سے کنوارے پن میں نکاح ہوا یعنی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ان کے علاوہ باقی سب ازواج مطہرات ؓ بیوہ تھیں جن میں بعض کے دو شہر پہلے گزر چکے تھے، اور یہ تعداد بھی آخر عمر میں آکر جمع ہوئی۔ اسلام کے بلند مقاصد اور پورے عالم کی انفرادی و اجتماعی، خانگی اور ملکی اصلاحات کی فکر کو دنیا کے شہوت پرست انسان کیا جانیں، وہ تو سب کو اپنے اوپر قیاس کرسکتے ہیں، اسی کے نتیجے میں کئی صدی سے یورپ کے ملحدین اور مستشرقین نے اپنی ہٹ دھرمی سے فخر عالم ﷺ کے تعدد ازواج کو ایک خالص جنسی اور نفسانی خواہش کی پیداوار قرار دے رکھا ہے۔ اگر حضور اقدس ﷺ کی سیرت پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو ایک ہوشمند منصف مزاج کبھی بھی آپ ﷺ کی کثرت ازواج کو اس پر محمول نہیں کرسکتا۔ آپ ﷺ کی معصوم زندگی قریش کے سامنے اس طرح گزری کہ سب سے پہلے پچیس سال کی عمر میں ایک سن رسیدہ صاحب اولاد بیوہ (جس کے دو شوہر فوت ہوچکے تھے) سے عقد کیا اور پچیس سال تک ان ہی کے ساتھ گزارہ کیا، وہ بھی اس طرح کہ مہینہ مہینہ گھر چھوڑ کر غار حرا میں مشغول عبادت رہتے تھے، اس کے بعد جو دوسرے نکاح ہوئے پچاس سال عمر شریف گزر جانے کے بعد ہوئے، یہ پچاس سالہ زندگی اور عنفوان شباب کا سارا وقت اہل مکہ کی نظروں کے سامنے تھا، کبھی کسی دشمن کو بھی آنحضرت ﷺ کی طرف کوئی ایسی چیز منسوب کرنے کا موقع نہیں ملا جو تقویٰ و طہارت کو مشکوک کرسکے، آپ ﷺ کے دشمنوں نے آپ ﷺ پر ساحر، شاعر، مجنون، کذاب، مفتری جیسے الزامات تراشنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن آپ ﷺ کی معصوم زندگی کے بارے میں کوئی ایک حرف کہنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی جس کا تعلق جنسی اور نفسانی جذبات کی بےراہ روی سے ہو۔ ان حالات میں کیا یہ بات غور طلب نہیں ہے کہ چڑھتی جوانی سے لے کر پچاس سال کی عمر ہوجانے تک اس زہد وتقویٰ اور لذائذ دنیا سے یکسوئی میں گزارنے کے بعد وہ کیا داعیہ تھا جس نے آخر عمر میں آپ ﷺ کو متعدد نکاحوں پر آمادہ کیا، اگر دل میں ذرا سا بھی انصاف ہو تو ان متعدد نکاحوں کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں بتلائی جاسکتی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ (وَمَا یَتَذَکَّرُ اِِلَّا مَنْ یُّنِیبُ )
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو لیکن جب تم کو بلایا جائے تو داخل ہوجایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو، اس بات سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے میں لحاظ نہیں فرماتا، اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو، یہ بات تمہارے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تم کو یہ جائز نہیں ہے کہ رسول کو کلفت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کے بعد ان کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو، بیشک تمہاری یہ بات خدا کے نزدیک بڑی بھاری ہوگی،

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا اسے پوشیدہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

نزول آیت حجاب کا واقعہ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ جب رسول خدا نے حضرت زینب ؓ (بنت جحش) سے نکاح کیا (اور ولیمہ کھانے کے لیے آپ ﷺ کے دولت کدہ پر) لوگ حاضر ہوئے تو طعام ولیمہ کھا کر وہیں باتیں کرتے ہوئے بیٹھے رہ گئے، حضور اقدس ﷺ نے (چاہا کہ وہ لوگ اٹھ جائیں لہٰذا آپ نے) ایسا طرز اختیار فرمایا کہ آپ اٹھ رہے ہیں (اور وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ ﷺ کے مزاج میں وسعت اخلاق کے باعث لحاظ بہت تھا اس وجہ سے آپ ﷺ نے صاف طور سے یہ نہ فرمایا کہ چلے جاؤ) وہ آپ ﷺ کو اٹھتے دیکھ کر بھی نہ اٹھے، جب آپ ﷺ نے یہ حال دیکھا تو اٹھ کر چلے گئے، آپ ﷺ کے اٹھ جانے پر کچھ آدمی تو چلے گئے اور کچھ رہ گئے، حضور اقدس ﷺ (حضرت عائشہ ؓ کے دروازے تک جا کر یہ سمجھتے ہوئے) واپس ہوئے کہ وہ لوگ نکل گئے ہوں گے۔ جب تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں (لہٰذا آپ ﷺ پھر واپس ہوگئے) اس کے بعد وہ لوگ کھڑے ہوئے اور چلے گئے، میں نے ان کے چلے جانے کی خبر آپ ﷺ کو دی، آپ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہوگئے، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ ﷺ نے (مجھ کو روک دیا اور) میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ یہ قصہ بخاری شریف میں کہیں اجمالاً کہیں تفصیلاً کئی جگہ مروی ہے۔ حضرت انس ؓ بچپن سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر دس سال تھی اور آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ سے 5 ہجری میں نکاح فرمایا لہٰذا اس حساب سے اس واقعہ کے وقت حضرت انس ؓ کی عمر پندرہ سال ہوئی۔ چونکہ وہ پہلے سے آنحضرت ﷺ کے گھروں میں آیا جایا کرتے تھے اسی وجہ سے جب آنحضرت ﷺ لوگوں کے چلے جانے کے بعد گھر میں داخل ہونے لگے تو حضرت انس ؓ نے بھی آپ ﷺ کے ہمراہ اندر جانے کا ارادہ کیا مگر چونکہ اس اثناء میں پردہ کا حکم آچکا تھا اس لیے آنحضرت ﷺ نے ان کو گھر کے اندر جانے سے روک دیا۔ حضرت انس ؓ چونکہ شروع واقعہ سے آخر تک موجود تھے اس لیے فرمایا کرتے تھے (انا اعلم الناس بھذہ) (یعنی میں پردہ کی آیت کے متعلق سب لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ ) اس آیت میں متعدد احکام بیان فرمائے ہیں، پہلا حکم یہ ہے کہ نبی کے گھروں میں داخل مت ہوا کرو، ہاں اگر تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ لیکن اس صورت میں بھی ایسا نہ کرو کہ جلدی پہنچ جاؤ اور کھانے کے انتظار میں بیٹھے رہو۔ دوسرا حکم یہ فرمایا کہ جب کھانا کھا چکو تو وہاں سے منتشر ہوجاؤ وہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ ایسا نہ کرو کہ کھانا کھا کر وہاں بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہو اور باتوں میں جی لگائے رہو کیونکہ اس سے نبی اکرم ﷺ کو ناگواری ہوتی ہے وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں صاف بتاتا ہے اور صاف حکم دیتا ہے کہ تم کھانا کھا کر چلے جاؤ نبی کریم ﷺ کو تکلیف نہ دو ۔ تیسرا حکم یہ دیا کہ جب نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے پیچھے سے طلب کرو، اس میں پردہ کا اہتمام کرنے کا حکم فرما دیا کہ مردوں کو کوئی چیز طلب کرنا ہو تو وہ بھی پردے کے پیچھے سے طلب کریں اور عورتیں بھی سامنے نہ آئیں، کوئی چیز دینا ہو تو وہ بھی پردہ کے پیچھے سے دیں۔ پردہ کے اس اہتمام پر مزید زور دیتے ہوئے فرمایا (ذٰلِکُمْ اَطْھَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ ) یہ بات تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ چوتھا حکم یہ دیا کہ نبی کریم ﷺ کو ایذا مت پہنچاؤ جو لوگ گھر میں بیٹھے رہ گئے تھے ان سے آپ ﷺ کو ایذا پہنچی تھی، وہ ایک وقتی اور خاص قسم کی ایذا تھی اس کے بعد عمومی حکم فرما دیا کہ رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی کسی قسم کی ایذا مت پہنچاؤ۔ پانچواں حکم فرمایا کہ نبی کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح مت کرنا، اس سورت کے پہلے رکوع میں فرمایا کہ (وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَاتُکُمْ ) کہ آپ ﷺ کی بیویاں امت کی مائیں ہیں اور یہاں فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد آپ کی بیویوں سے کسی کو نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے، یہ حکم ان پاک بیبیوں کے اکرام و احترام کی وجہ سے ہے، مزید فرمایا (اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا) (بلاشبہ یہ اللہ کے نزدیک بڑی بھاری بات ہے) یعنی بہت بڑی معصیت ہے، نہ گناہ کا ارادہ کرو نہ گناہ کرو۔ اسی کو فرمایا (اِنْ تُبْدُوْا شَیْءًا اَوْتُخْفُوْہُ ) اگر تم ظاہراً کوئی گناہ کرو گے یا اسے پوشیدہ رکھو گے تو دونوں گناہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوں گے وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ کو بھی (فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا) (وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔ ) واضح رہے کہ جو احکام اوپر مذکور ہوئے ہیں ان میں صرف ایک حکم ایسا ہے جو آنحضرت سرور دو عالم ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص ہے یعنی یہ کہ آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی کسی بیوی سے کسی کا بھی نکاح جائز نہیں، باقی احکام سب کے لیے برابر ہیں، نہ تو کسی کے یہاں بغیر بلائے دعوت میں جائے اور نہ بلائے جانے کی صورت میں کھانا پکنے کے انتظار میں اس کے گھر میں جاکر بیٹھا رہے اور نہ کھانا کھا کر وہاں بیٹھ کر باتوں میں مشغول رہے بلکہ کھانا کھا کر وہاں سے چلا جائے، اگر کسی نا محرم عورت سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو پردہ کے پیچھے سے طلب کریں، نہ عورت سامنے آئے نہ مرد عورت کو دیکھیں۔ آج کل کے بعض جاہل جو پردہ کے دشمن ہیں انہوں نے جاہلانہ نکتہ نکالا ہے کہ چہرہ کا پردہ کرنے کا حکم صرف آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے لیے ہے، غور کرنے کی بات ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے بارے میں امت کے افراد کو یہ حکم ہے کہ پردہ کے پیچھے سے سوال کریں حالانکہ ان کو مسلمانوں کی مائیں بتایا گیا ہے تو دوسری عورتوں سے بغیر پردہ کے سامنے ہو کر بات چیت یا کوئی چیز طلب کرنے کی کیونکر اجازت ہوسکتی ہے خصوصاً اس زمانے میں جو فساد اور فتنوں کا دور ہے۔ پردہ کے بارے میں ہم نے ضروری مضمون سورة مؤمنون کی آیت (وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ ) اور اس سورت کی آیت (وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ) کے ذیل میں لکھ دیا ہے اور آئندہ رکوع کی پہلی آیت کے ذیل میں بھی اس بارے میں کچھ لکھیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان بیویوں پر کوئی گناہ نہیں ہے اپنے باپوں کے بارے میں اور اپنے بیٹوں کے بارے میں اور اپنے بھائیوں کے بارے میں اور اپنے بھتیجوں کے بارے میں اور اپنے بھانجوں کے بارے میں اور اپنی عورتوں کے بارے میں اور اپنی لونڈیوں کے بارے میں، اور اللہ سے ڈرتی رہو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر ہے۔

عورتوں کو اپنے محرموں کے سامنے آنے کی اجازت ہے روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوئی تو ازواج مطہرات کے آباو ابنا اوراقارب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم بھی ان سے پردہ کے پیچھے سے بات کیا کریں، اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور ازواج مطہرات کو اجازت دے دی گئی کہ اپنے باپوں اور بیٹوں اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں اور بہنوں کے بیٹوں کے سامنے آسکتی ہیں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (وفی حکمھم کل ذی رحم محرم من نسب اور ضع علی ماروی ابن سعد عن الزھری) (ج 22: ص 74) یعنی آیت کریمہ میں چار رشتوں کا ذکر ہے، دوسرے جو محرم ہیں نسب سے ہوں یا رضاع سے ان کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر لکھا ہے کہ آیت کریمہ میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں والدین کی طرح سے ہیں۔ محرموں سے پردہ نہ کرنے کی اجازت کے ساتھ ہی (وَلَا نِسَآءِھِنَّ ) فرمایا ہے یعنی مسلمان عورتوں سے بھی ان کا کوئی پردہ نہیں ہے البتہ کافر عورتوں کے سامنے نہ آئیں اگرچہ کتابیہ یعنی یہودیہ یا نصرانیہ ہوں۔ مزید فرمایا (وَلَا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ ) اور جن کے مالک ہیں ان کے دائیں ہاتھ ان کے سامنے آنے میں بھی پردہ نہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ اس سے باندیاں مراد ہیں، اپنے غلاموں کے سامنے بھی آنا جائز نہیں ہے۔ سورة نور کی آیت (وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ ) میں بھی ان رشتہ داروں کا ذکر ہے جن سے پردہ کرنا واجب نہیں ہے وہاں چند مزید رشتے ذکر فرمائے سورة نور کی آیت کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے۔ سورة نور میں جو (اَوْ نِسَآءِھِنَّ ) اور یہاں سورة احزاب میں (وَلاَ نِسَآءِھِنَّ ) فرمایا ہے اس میں جو ضمیر مضاف الیہ ہے اس سے واضح ہو رہا ہے کہ مسلمان عورت کو کافر عورت کے سامنے آنا جائز نہیں۔ (وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ ) (اور اللہ سے ڈرتی رہو) اس میں التفات ہے جو غیوبت سے خطاب کی طرف ہے، اللہ تعالیٰ نے خطاب کے صیغے کے ساتھ ازواج مطہرات ؓ کو خطاب فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو کیونکہ تقویٰ ہی ہر نیکی کی بنیاد ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدًا) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر حاضر ہے یعنی وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے) اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، درحقیقت یہ یقین اور استحضار کہ اللہ تعالیٰ حاضر ناظر ہے دلوں میں تقویٰ پیدا ہونے اور اس کے استحضار کے لیے بڑا اکسیر ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں پیغمبر پر، اے ایمان والو تم بھی آپ ﷺ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے مسلمانو ! تم بھی نبی پر صلوٰۃ وسلام بھیجا کرو اصل مقصود آیت کا مسلمانوں کو یہ حکم دینا تھا کہ رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام بھیجا کریں مگر اس کی تعبیر وبیان میں یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ پہلے حق تعالیٰ نے خود اپنا اور اپنے فرشتوں کا رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ بھیجنے کا ذکر فرمایا، اس کے بعد عام مؤمنین کو اس کا حکم دیا جس میں آپ کے شرف اور عظمت کو مزید بلند فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا جو حکم مسلمانوں کو دیا جاتا ہے وہ کام ایسا ہے کہ خود حق تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی وہ کام کرتے ہیں عام مؤمنین جن پر رسول اللہ ﷺ کے بیشمار احسانات ہیں ان کو تو اس عمل کا بڑا اہتمام کرنا چاہیے۔ اور ایک فائدہ اس تعبیر میں یہ بھی ہے کہ اس سے درود وسلام بھیجنے والے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام میں شریک فرما لیا جو کام حق تعالیٰ خود بھی کرتے ہیں اور اس کے فرشتے بھی۔ آیت شریفہ میں لفظ (یُصَلُّوْنَ ) وارد ہوا ہے جس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے کہ بلاشبہ اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر رحمت بھیجتے ہیں۔ لفظ (یُصَلُّوْنَ ) صلوٰۃ سے ماخوذ ہے، مفسرین و محدثین نے فرمایا ہے کہ لفظ صلوٰۃ عربی زبان میں چند معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ رحمت، دعا، مدح وثناء پھر جس کی طرف صلوٰۃ منسوب ہوگی اس کی شان اور مرتبہ کے مناسب ثنا، تعظیم اور رحمت و شفقت مراد لیں گے، جیسا کہا جاتا ہے کہ با پ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے اور بھائی بھائی سے محبت کرتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ جو محبت باپ کو بیٹے سے ہے بیٹے کو باپ سے اس طرح کی محبت نہیں ہے۔ نیز بھائی بھائی کی محبت اور باپ بیٹے کی محبت جدا ہوتی ہے لیکن محبت سب کو ہی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح صلوٰۃ کو سمجھ لو کہ اللہ جل شانہٗ نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں اور فرشتے بھی اور عام مؤمنین بھی، مگر سب کے صلوٰۃ کے معنی ایک ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کی شان کے مناسب صلوٰۃ کے معنی مراد ہوتے ہیں۔ چناچہ علماء نے لکھا ہے کہ اللہ جل شانہٗ کی صلوٰۃ رحمت بھیجنا ہے اور فرشتوں کی صلوٰۃ استغفار ہے اور مومنوں کی صلوٰۃ دعائے رحمت ہے ہر ایک میں مدح وثناء اور تعظیم و توقیر کے معنی ملحوظ ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی عظمت اور توقیر یہ ہے کہ آپ کا ذکر بلند فرمایا اور آپ کے دین کو غالب کیا اور قیامت تک اس کو باقی رکھا اور آخرت میں آپ ﷺ کی عظمت اور توقیر یہ ہے کہ آپ کو شفاعت کبریٰ نصیب فرمائی اور مقام محمود عطا فرمایا اور تمام مقربین اور اولین و آخرین پر آپ کی فضیلت ظاہر فرمائی۔ اور لفظ سلام مصدر بمعنی السلام ۃ ہے اور مراد اس سے نقائص و عیوب اور آفتوں سے سالم رہنا ہے، سلام معنی ثناء کو متضمن ہے اس لیے حرف علی کے ساتھ (عَلَیْکَ یا عَلَیْکُمْ ) کہا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے یہاں لفظ سلام سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لی ہے کیونکہ سلام اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے تو مراد السلام علیک سے یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت اور رعایت کا متولی اور کفیل ہے۔ (از روح المعانی) اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے مومنوں کو حکم دیا کہ سرور عالم ﷺ پر درود بھیجا کریں علمائے امت کا ارشاد ہے کہ اس صیغہ امر (صَلُّوْا) کی وجہ سے عمر بھر میں ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنا فرض ہے، اور اگر ایک مجلس میں کئی بار آنحضرت ﷺ کا ذکر مبارک کرے یا سنے تو ذکر کرنے اور سننے والے پر حضرت امام طحاوی ؓ کے نزدیک ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے مگر فتویٰ اس پر ہے کہ ایک بار واجب ہے پھر مستحب ہے، احتیاط اسی میں ہے کہ ہر بار درود شریف پڑھے اور آقائے دو جہاں ﷺ کی محبت کا ثبوت دے۔ یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَاءِمًا اَبَدًا عَلٰی حَبِیْبکَ منْ زَانَتَ بِہِ الْعُصَرُ اس آیت میں لفظ صلوٰۃ وارد ہوتا ہے جس کی تشریح یہ ہے کہ صلوٰۃ علی النبی کے معنی یہ ہیں کہ شفقت و رحمت کے ساتھ نبی ﷺ کی ثناء کی جائے، پھر جس کی طرف صلوٰۃ منسوب ہوگی اس کی شان اور مرتبہ کے مناسب ثناء تعظیم اور رحمت و شفقت مراد لیں گے۔ درود شریف کے فضائل : سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنا بہت بڑی فضیلت والا عمل ہے، قرآن مجید میں حکم فرمایا ہے (جیسا کہ آیت بالا میں نظروں کے سامنے) اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اس کی بہت سی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں۔ صحیح مسلم جلد 1 : ص 166 میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہٗ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ سنن نسائی میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دس درجات بلند فرماتے ہیں اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور اس کے دس گناہ (نامہ اعمال سے) مٹا دیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے بہت سے فرشتے زمین میں گشت لگاتے پھرتے ہیں اور مجھ کو میری امت کا سلام پہنچا دیتے ہیں۔ نیز ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اپنے گھروں کو قبریں مت بناؤ اور میری قبر کو عید مت بناؤ اور مجھ پر درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود میرے پاس پہنچ جاتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔ (یہ سب روایات مشکوٰۃ المصابیح ص 82 ” باب صلوٰۃ علی النبی و فضلہا “ سے لی گئی ہیں) ” گھروں کو قبریں مت بناؤ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قبریں عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح گھروں کو عبادت سے خالی مت رکھو بلکہ نفل نمازیں ادا کرتے رہو ” میری قبر کو عید مت بناؤ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عید کے روز زیب وزینت کے ساتھ خصوصی اجتماع ہوتا ہے میری قبر کی اس طرح زیارت نہ کرو بلکہ توقیر و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے حاضری دو ، آپ ﷺ کا دربار کوئی معمولی دربار نہیں ہے کہ وہاں ہنستے ہوئے جاؤ بلکہ وہ تو شاہ دو جہاں سید الانبیاء ﷺ کا در اطہر ہے، اس کی توقیر و عظمت دل میں لے کر حاضر ہونا چاہیے۔ عبد اللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ جو کوئی ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس شخص پر ستر رحمتیں بھیجتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 87) ملا علی قاری ؓ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ یہ (یعنی ایک ایک درود کے بدلے میں ستر رحمتیں نازل فرمانا) غالباً جمعہ کے روز کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ بعض اوقات اعمال کا ثواب وقت کی فضیلت و عظمت کی وجہ سے بڑھا دیا جاتا ہے، لہٰذا جمعہ کے روز دس رحمتوں کی بجائے ستر رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تمہارے دنوں میں سب دنوں سے بہتر جمعہ کا دن ہے، اسی روز آدم پیدا کیے گئے اور اسی روز انہوں نے وفات پائی، جمعہ کے روز ہی صور پھونکا جائے گا۔ اور جمعہ ہی کے روز صور کی آواز سن کر مخلوق بےہوش ہوگی، چونکہ جمعہ کا دن سب سے افضل ہے اس لیے اس روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ (ابو داؤد جلد 1: ص 150) ارشاد فرمایا رسول خدا نے کہ جو بھی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں اب اختیار ہے کہ کوئی بندہ مجھ پر زیادہ درود بھیجے یا کم۔ (ابن ماجہ) مطلب یہ ہے کہ کثرت سے درود بھیجا کرو جیسا کہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ فلاں عمل اچھا ہے آگے اختیار ہے کوئی کم کرے یا زیادہ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور رسول خدا موجود تھے آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے۔ جب میں نماز پڑھ کر بیٹھا تو اللہ کی تعریف بیان کی پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا، بعد میں اپنے لیے دعا کی، یہ ماجرا دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مانگ جو مانگے گا ملے گا۔ (ترمذی) حضرت فضالہ بن عبید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھ کر اس نے دعا شروع کردی اور کہا ” اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے نماز پڑھنے والے تو نے دعا کرنے میں جلدی کی، آئندہ کے لیے یاد رکھ کہ جب تو نماز پڑھ چکے تو بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کر جیسی اس کی ذات کے لائق ہے پھر مجھ پر درود بھیج پھر اللہ سے دعا کر۔ فضالہ بن عبید ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے نماز پڑھنے والے دعا کر تیری دعا قبول ہوگی۔ (ترمذی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعاء کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے پھر اللہ سے دعا کرے، دعا کے قبول ہونے میں درود شریف کو بڑا دخل ہے حتیٰ کہ حضرت عمر ؓ سے منقول ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ پر درود نہ پڑھا جائے دعا آسمان و زمین کے درمیان لٹکی رہتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 78) اہل معرفت نے فرمایا کہ درود شریف کے علاوہ جو دوسرے اذکار و عبادات ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کا ثواب نہ دیا جائے لیکن درود شریف ہمیشہ مقبول ہی ہوتا ہے، جب دعا کرے تو دعا سے پہلے بھی درود شریف پڑھے اور دعا کے اخیر میں بھی۔ اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے جب دونوں درودوں کو قبول فرمائے گا تو درمیان میں جو دعا واقع ہوگی اسے بھی قبول فرمائے گا۔ (ذکرہ فی الحصن) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو یہ مجلس ان کے لیے نقصان کا باعث ہوگی۔ اب اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو ان کی مغفرت فرما دے۔ (رواہ الترمذی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی مجلس اللہ کے ذکر سے اور درود شریف سے خالی نہ رہ جائے۔ جب کسی مجلس میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر مبارک آئے خواہ خود ذکر کرے یا دوسرے شخص سے سنے تو درود شریف ضرور پڑھے۔ گو کسی مجلس میں آپ کا اسم گرامی سن کر ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا واجب ہے لیکن اکمل اور افضل یہی ہے کہ جب بھی آپ کا اسم گرامی سنے ہر بار درود شریف پڑھے، احتیاط اسی میں ہے کہ ہر مرتبہ درود شریف پڑھے کیونکہ درود شریف نہ پڑھنے پر وعیدیں آئی ہیں۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اصل بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ (ترمذی) حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو سب سے بڑا بخیل نہ بتادوں ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا حضور ضرور ارشاد فرمائیں، فرمایا جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے وہ سب سے بڑا بخیل ہے۔ (ترغیب) حضرت کعب بن عجرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہوجاؤ چناچہ ہم حاضر ہوگئے (اور آپ منبر پر چڑھنے لگے) جب آپ نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا ” آمین “ پھر جب دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر فرمایا ” آمین “ جب تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر فرمایا ” آمین “ جب آپ منبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے نہ سنتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ سبب اس کا یہ ہوا کہ جبریل میرے سامنے آئے اور جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو جبریل نے کہا کہ ہلاک ہو وہ شخص کہ جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، پھر جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ کا اسم گرامی لیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، میں نے کہا آمین، پھر جب میں تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے دونوں والدین یا ان میں سے ایک بوڑھا ہوجائے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کریں۔ (الترغیب و الترہیب) ضروری مسئلہ : جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر خود کرے یا کسی سے سنے تو درود شریف پڑھے، اسی طرح جب کوئی مضمون یا تحریر لکھنے لگے تو اس وقت بھی درود شریف کے الفاظ لکھنا واجب ہے، کم از کم ﷺ تو ضرور لکھ دے، بعض لوگ اختصار کے طور پر ” صلعم “ ” ﷺ “ لکھ دیتے ہیں، یہ صحیح نہیں پورا ﷺ لکھیں یا علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھ دیں، صلوٰۃ کے ساتھ سلام بھی بھیجنا چاہیے دونوں کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابو طلحہ ؓ نے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ کے چہرہ انور پر بشاشت ظاہر ہو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس جبرائیل آئے تھے، انہوں نے کہا کہ بیشک آپ کے رب نے فرمایا ہے کہ اے محمد ! کیا یہ بات آپ کو خوش کرنے والی نہیں ہے کہ آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجوں گا اور آپ کی امت میں سے جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں گا۔ (رواہ النسائی) مسئلہ : صلوٰۃ وسلام دونوں ہی ایک ساتھ پڑھنا چاہیے۔ اگر ایک پر اکتفا کرے تو بعض حضرات نے اس کو خلاف اولیٰ یعنی مکروہ تنزیہی بتایا ہے، درود شریف کے بہت سے صیغے احادیث شریف میں وارد ہوئے ہیں اور بہت سے صیغے اکابر سے منقول ہیں، جو صیغے سنت سے ثابت ہیں ان کے مطابق عمل کرنا افضل ہے اور دوسرے صیغوں کے ذریعہ صلوٰۃ وسلام پڑھنا بھی جائز ہے۔ حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہم آپ پر اور آپ کے اہل بیت پر کس طرح درود بھیجیں، آپ پر سلام بھیجنا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھا دیا (یعنی نماز میں جو تشہد پڑھتے ہیں اس میں (اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ ) بتادیا۔ آپ نے فرمایا درود اس طرح پڑھو (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰٓ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ اِبْرَاھِیْمَ وَعَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) اے اللہ درود بھیج محمد پر اور محمد کی آل پر جیسا کہ آپ نے درود بھیجا آپ نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر بیشک آپ مستحق حمد ہیں اور صاحب مجد ہیں۔ (رواہ البخاری ج 1: ص 477) یہ درود شریف وہی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ حضرت ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں، آپ نے فرمایا کہ یوں کہو : (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیّٰتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیّٰتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰٓ اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) (اے اللہ درود بھیجئے محمد پر اور آپ کی بیویوں پر اور ان کی آل و اولاد پر جیسا کہ آپ نے درود بھیجا آل ابراہیم پر اور اے اللہ برکت بھیجئے محمد پر اور آپ کی بیویوں پر اور ان کی آل و اولاد پر جیسا کہ برکت بھیجی آپ نے آل ابراہیم پر بلاشبہ آپ مستحق حمد ہیں صاحب مجد ہیں۔ (رواہ البخاری) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے یہ خوشی ہو کہ ہم پر اور ہمارے اہل بیت پر درود بھیج کر بھرپور طریقے پر ناپ تول کر ثواب لے تو وہ یوں کہے : (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِن النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاَزْوَاجِہٖ اُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَذُرِّیَّتِہٖ وَاَھْلِ بَیْتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ) (اے اللہ درود بھیج محمد پر جو نبی امی ہیں اور آپ کے ازواج پر جو امہات المومنین ہیں اور آپ کی اولاد پر اور آپ کے اہل بیت پر جیسا کہ آپ نے درود بھیجا ابراہیم پر بلاشبہ آپ مستحق حمد ہیں صاحب مجد ہیں) (رواہ ابو داؤد ص 141) حضرت رویفع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے محمد ﷺ پر درود بھیجا اور پھر یوں دعا کی (اَللّٰھُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) (اے اللہ ان کو (یعنی حضور اقدس ﷺ کو) قیامت کے روز اپنے قریب مقام میں نازل کیجیے) تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 87) فائدہ : بعض بزرگوں نے کثرت سے درود شریف پڑھنے کے لیے یہ مختصر درود شریف تجویز کیا ہے، (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰٓی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ عَدَدَ مَا فِیْ عِلْمِہٖ ) درود شریف پڑھنے کی حکمتیں : حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ نے ” نشر الطیب “ میں درود شریف کی مشروعیت کی حکمتیں درج فرمائی ہیں جن میں بعض حضرت ممدوح نے مواہب سے نقل فرمائی ہیں اور بعض ان مواہب خداوندیہ سے ہیں جو حضرت ممدوح کو عطا کی گئی تھیں۔ (1) امت مرحومہ پر آنحضرت ﷺ کے احسانات بیشمار ہیں کہ آپ نے صرف حکم خدا وندی پورا کردینے کے طور پر تبلیغ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اصلاح امت کے لیے تدبیریں سوچیں اور بڑے اہتمام کے ساتھ ان کے لیے دعائیں کیں اور ان کے احتمال مضرت سے رنجیدہ ہوئے لہٰذا آپ محسن بھی ہیں اور احسانات خداوندی کا واسطہ بھی ہیں، اور فطرت سلیمہ کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس محسن اور واسطہ احسان کے لیے رحمت کاملہ کی دعا کرے بالخصوص جبکہ احسانات کے بدلہ سے قاصر اور عاجز بھی ہے لہٰذا شریعت مطہرہ نے اسی فطرت سلیمہ کے مطابق کہیں وجوباً اور کہیں استحباباً درود شریف کا حکم دیا۔ (2) آنحضرت ﷺ خدا کے محبوب ہیں اور محبوب کے لیے محب سے کسی چیز کی درخواست کرنا اس درخواست کرنے والے کو اس محب کا محبوب بنا دیتا ہے، اگرچہ خداوند قدس خود اپنے محبوب پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور خدا کی رحمت ملنے کے لیے آنحضرت ﷺ کو ہماری دعائے رحمت کی حاجت نہیں ہے مگر خدا کی جناب میں آپ کے لیے رحمت کی دعا کرکے خود ہم کو خدا کا قرب اور اس کی رضا میسر ہوتی ہے۔ (3) آپ کے لیے دعائے رحمت کرنے میں آپ کے کمال عبدیت کے شرف خاص کا اظہار ہے کہ آپ کو بھی رحمت خداوندی کی حاجت ہے، نیز اس سے ان لوگوں کے ظن فاسد کی تردید بھی ہوجاتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے معجزات دیکھ کر امور تکوینی میں آپ کا دخل سمجھتے ہیں یا احکام شرعیہ کو آپ کے اختیار میں جانتے ہیں۔ (4) آنحضرت ﷺ بھی انسان ہیں اور بشریت میں امت کے ساتھ شریک ہیں کہ امت کی طرح کھانے پینے اور دیگر حوائج زندگی کی آپ کو بھی ضرورت ہوتی تھی بلکہ بعض امور میں امت کے افراد آنجناب ﷺ سے بڑھے ہوئے ہیں، مثلاً کثرۃ المال وغیرہ تو اس وجہ سے ممکن تھا کہ بعض افراد امت آپ کو اپنے جیسا بشر سمجھ کر بلکہ بعض امور میں کم دیکھ کر آپ کے اتباع سے گریز کرتے، لہٰذا شریعت مطہرہ نے اس کا علاج کیا اور آپ پر درود شریف بھیجنے کا حکم دیا تاکہ بشری اشتراک اور اپنا مالی امتیاز دیکھ کر کوئی دھوکہ نہ کھائے بلکہ آنحضرت ﷺ پر جو خدا کی رحمت خاص ہے اس کا استحضار کرے اور یہ سمجھے کہ یہ مال و دولت رحمت خداوندی کے سامنے کچھ بھی نہیں بالخصوص جبکہ آپ کے اسم گرامی سے قبل لفظ سیدنا و مولٰینا بڑھائے اور تبلیغ دین کی جدوجہد کے بعض احوال آپ کی صفات میں ذکر کرے تو خود کو آپ کا احسان مند ہی پائے گا اور بجائے اپنے نفس کو بڑا سمجھنے کے اپنی ذات کو آنحضرت ﷺ کا محتاج سمجھے گا اور آپ کے واسطہ سے قرب خداوندی حاصل کرے گا۔ (5) بعض طبائع میں مذاق توحید کا غلبہ ہوتا ہے اس غلبہ کی وجہ سے واسطوں سے زیادہ متعلق نہیں ہوتیں جن میں انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی ہیں، گو اس اعتقاد وو انقیاد کے بعد جو شرعاً واجب ہے یہ عدم زیادت مضر فی الایمان نہیں ہے لیکن کمال یہی ہے کہ جس واسطہ کی طرف التفات کو واحد حقیقی نے اپنا رضا کا ذریعہ بنایا ہے اس کی طرف التفات کرنے کو ذوقاً اور طبعاً بھی شاغل عن التوحید نہ سمجھے بلکہ مکمل توحید جانے، جیسا کہ محبوب کے قاصد کا اکرام اور اس کی خدمت و مدارت جس قدر عاشق کی جانب سے زیادہ تر ہوگی اسی قدر محبوب عاشق سے خوش ہوگا اور عاشق بیش از بیش قاصد کی مدارت کرے گا اور اس خدمت کو یہ نہ سمجھے گا کہ محبوب کے لیے میری محنت نہیں ہو رہی ہے بلکہ جس قدر محبوب کی خوشی دیکھے گا اسی قدرت قاصد کی زیادہ خدمت کرے گا۔ پس شریعت مطہرہ نے ذوقی نقص کے دفع کرنے کے لیے درود شریف مشروع فرمایا اور (صَلُّوْاعَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا) کا حکم دے کر یہ بتایا کہ خدا تک پہنچانے والے واسطہ کی طرف جس قدر بھی احترام کے ساتھ توجہ کرو گے اللہ جل شانہٗ کی رضا نصیب ہوگی لہٰذا واسطہ کی جانب توجہ کرنے کو خلاف مقصو نہ سمجھو۔ 1 ؂(1 ؂ یہاں ہم نے مختصر لکھ دیا ہے ” فضائل صلوٰۃ وسلام “ کے نام سے ہمارا ایک رسالہ بھی ہے اسے بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ )