Ayahs 33:26–27اہل کتاب کو غداری کی سزا مل گئی اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ عطا فرما دیا
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ مدینہ منورہ میں پہلے سے یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے، جب رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں کے تمام رہنے والوں کے درمیان ایک معاہدہ کروا دیا جس میں خود آپ ﷺ بھی مہاجرین و انصار کے ساتھ شریک تھے اور یہودیوں کے تینوں قبیلوں کو بھی شریک فرمالیا تھا۔ اس معاہدے میں جو باتیں لکھی گئی تھیں ان میں یہ بھی تھا کہ آپس میں جنگ نہ کریں گے اور یہ کہ مدینہ منورہ پر کوئی دشمن حملہ آور ہوگا تو سب مل کر دفاع کریں گے، ان میں سے بنی قینقاع نے غزوہ بدر کے بعد ہی اس عہد کو توڑ دیا تھا جس کی سزا انہیں مل گئی۔ ان کے بعد قبیلہ بنی نضیر نے عہد توڑا جنہیں 4 ھ میں مدینہ منورہ سے جلا وطن کردیا گیا اور وہ خیبر میں جاکر آباد ہوگئے اور وہاں بس جانے کے بعد قریش مکہ اور بنی غطفان وغیرہم کو مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا جس کے نتیجے میں غزوہ احزاب پیش آیا، اب صرف قبیلہ بنو قریظہ مدینہ منورہ میں باقی رہ گیا تھا جو اپنے عہد پر قائم تھا، جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا بنی نضیر کو جب مدینہ منورہ سے جلا وطن کردیا گیا تو انہوں نے مکہ مکرمہ پہنچ کر قریش مکہ اور بنی غطفان کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف ابھارا اور مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا اور یہ عزم لے کر چلے کہ مسلمانوں کو بالکل ختم ہی کردینا ہے۔ جن یہودیوں نے قریش مکہ اور بنو غطفان وغیرہم کو اس کے لیے آمادہ کیا تھا ان میں حی بن اخطب بھی تھا جو بنی نضیر کا سردار تھا، جب یہ دشمنان اسلام کی جماعتوں کو لے کر مدینہ منورہ پہنچا اور خندق کے باہر پڑاؤ ڈالنا پڑا تو وہ موقع پاکر بنی قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا اور اسے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، کعب بن اسد نے اول تو اپنے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا اور ابن اخطب کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہ دی اور یہ کہہ کر عہد شکنی سے انکار کردیا کہ محمد ﷺ سے میرا معاہدہ ہے میں نے ان کی طرف سے وفائے عہد اور سچائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا لہٰذا میں عہد شکنی نہیں کروں گا، لیکن ابن اخطب برابر اصرار کرتا رہا اور باتیں بناتا رہا، کعب بن اسد نے کہا کہ اچھا اگر قریش مکہ اور بنی غطفان نامراد ہو کر واپس ہوگئے اور محمد ﷺ صحیح سالم مدینہ منورہ میں رہ گئے تو تیرا اور ہمارا کیا معاملہ بنے گا ؟ ابن اخطب نے کہا کہ میں تیرے ساتھ تیرے قلعہ میں داخل ہوجاؤں گا پھر جو تیرا حال بنے گا میں بھی اسی میں تیرا ساتھی رہوں گا، یہ بات سن کر کعب بن اسد نے معاہدہ توڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ سے جو معاہدہ کیا تھا اس سے بری ہوگیا۔
جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے حضرت سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ اور عبد اللہ بن رواحہ اور خوات بن جبیر ؓ کو بھیجا کہ جاؤ تحقیق حال کرو، یہ حضرات بنو قریظہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ واقعی عہد توڑ چکے ہیں، ان حضرات نے واپس ہو کر رسول اللہ ﷺ کو اصل صورت حال سے مطلع کردیا، اس کے بعد جب قریش مکہ اور بنی غطفان وغیرہم ناکام واپس چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ شہر مدینہ منورہ میں واپس تشریف لے آئے اور ہتھیار رکھ کر غسل فرمالیا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے ہتھیار رکھ دئیے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم نے تو ہتھیار نہیں رکھے، اللہ تعالیٰ آپ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیں میں بھی ان کی طرف جا رہا ہوں میں ان کے قلعوں میں زلزلہ لاؤں گا۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوگئے اور مسلمانوں کے پاس خبر بھیج دی کہ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیں اور وہیں جاکر عصر کی نماز پڑھیں، حضرات صحابہ کرام ؓ روانہ ہوئے بعض نے یہ سمجھ کر راستہ میں عصر کی نماز پڑھ لی کہ وقت ختم ہو رہا ہے، انہوں نے آپ کے ارشاد کا یہ مطلب سمجھا کہ نماز پڑھ لی جائے تاکہ نماز قضاء نہ ہو اور بعض حضرات نے نماز قضاء کردی اور وہیں جاکر پڑھی، ان حضرات نے ظاہر حکم کو دیکھا اور اپنی طرف سے اس کا کوئی مفہوم تجویز نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ نے دونوں جماعتوں میں سے کسی کو بھی ملامت نہیں کی۔
اس سے علماء نے یہ اخذ کیا ہے کہ مجتہدین کرام کا اختلاف (جو اجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں) منکر نہیں ہے، ہر مجتہد کو اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کرنے میں ثواب ملتا ہے۔
بنی قریظہ کا قبیلہ مدینہ منورہ سے باہر تین چار میل کے فاصلے پر رہتا تھا، رسول اللہ ﷺ اور حضرات صحابہ ] ان کے علاقوں میں پہنچ گئے اور وہ لوگ قلعہ بند ہوگئے، آپ ﷺ نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ یہ محاصرہ ان کے لیے مصیبت بن گیا ان سے کعب بن اسد نے کہا کہ دیکھو میں تم پر تین باتیں پیش کرتا ہوں جس کو چاہو قبول کرلو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب مل کر محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کرلیں، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم پر یہ بات کھل چکی ہے کہ یہ واقعی نبی ہیں اور رسول ہیں اور ان کی شخصیت وہی ہے جن کا تم اپنی کتاب یعنی تورات شریف میں ذکر پاتے ہو، اگر ایسا کرلو گے تو تمہاری جانیں اور تمہاری اولاد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے اموال سب محفوظ ہوجائیں گے، یہ سن کر وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم اپنا دین نہیں چھوڑ سکتے۔ کعب بن اسد نے کہا کہ اگر تم اس رائے کو قبول نہیں کرتے تو دوسری رائے یہ ہے کہ ہم سب اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں اور محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کی طرف ننگی تلواریں لے کر نکل جائیں، پھر اللہ کا جو فیصلہ ہو وہ ہوجائے گا اگر ہم سب ہلاک ہوگئے تو بال بچوں کی طرف سے کوئی فکر نہ رہے گی، اور اگر ہم نے غلبہ پالیا تو اور عورتیں مل جائیں گی اور اولاد بھی پیدا ہوجائے گی، یہ بات سن کر اس کی قوم کے لوگ بولے کہ ان مسکینوں کو اگر ہم قتل کردیں تو ان کے بعد زندگی کا کیا مزہ ہے ؟ کعب بن اسد نے کہا تیسری صورت یہ ہے کہ آج لیلۃ السبت ہے یعنی سنیچر کی رات ہے، قلعوں سے اتر کر ہم محمد ﷺ اور ان کے اصحاب پر چپکے سے حملہ کردیں، ہوسکتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر ہمارے حملہ سے غافل ہوں کہ آج لیلۃ السبت ہے ہم ان پر حملہ نہ کریں گے، کعب بن اسد کی یہ رائے بھی ان کی قوم نے قبول نہیں کی اور کہنے لگے کہ ہم سنیچر کے دن کو کیوں خراب کریں۔
اس کے بعد بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس ابو لبابہ ؓ کو بھیج دیجیے، یہ انصاری صحابی تھی، ان کا قبیلہ زمانہ جاہلیت میں بنو قریظہ کا حلیف تھا، یہود بنو قریظہ نے انہیں مشورہ لینے کے لیے طلب کیا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھیج دیا، جب یہود کی ان پر نظر پڑی تو ان کی عورتیں اور بچے ابولبابہ کے سامنے رونے لگے، یہودیوں نے ان سے مشورہ لیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیا ہم محمد ﷺ کے فیصلہ پر قلعے سے نیچے اتر آئیں ؟ حضرت ابولبابہ ؓ نے رائے تو دے دی کہ ہاں اتر آؤ اور ساتھ ہی اپنے حلق کی طرف اشارہ کردیا یعنی یہ بتادیا کہ تم ذبح کردئیے جاؤ گے، اشارہ تو کردیا لیکن اسی وقت دل میں یہ بات آگئی کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت کی ہے، یہ سوچا اور سیدھے مسجد نبی میں حاضر ہوئے اور مسجد کے ایک ستون سے اپنے آپ کو باندھ لیا اور کہنے لگے کہ میں اس جگہ سے نہ ٹلوں گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہ فرمائے۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ سورة الانفال کی آیت : (یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) کا سبب نزول حضرت ابولبابہ ؓ ہی کا واقعہ ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچنے میں دیر ہوئی اور آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو آپ نے فرمایا اگر وہ میرے پاس آجاتا تو میں اس کے لیے اللہ سے استغفار کردیتا، اب اس نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے تو اب میں نہیں کھولوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہ فرمائے۔ چھ دن تک وہ ستون سے بندھے رہے، ہر نماز کے وقت ان کی بیوی آتی تھی اور نماز کے لیے کھول دیتی تھی، نماز سے فارغ ہو کر وہ پھر اپنے آپ کو ستون سے باندھ لیتے تھے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی توبہ کے بارے میں سورة توبہ کی آیت (وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّءًا عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) جب ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان ہوگیا (جو سحر کے وقت ہوا تھا) تو لوگ انہیں کھولنے کے لیے دوڑے، انہوں نے کہا کہ میں تمہارے ہاتھوں سے نہیں کھلوں گا رسول اللہ ﷺ ہی کھولیں گے تو میں کھلنا منظور کروں گا پھر جب رسول اللہ ﷺ نماز فجر کے لیے باہر تشریف لائے تو ان کو کھول دیا۔
بنو قریظہ طول محاصرہ سے بلبلا اٹھے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اب مقابلہ کا کوئی راستہ نہیں تو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی ہوگئے یعنی یہ کہلوا بھیجا کہ آپ جو بھی فیصلہ فرمائیں ہمیں منظور ہے۔
جب وہ لوگ آپ کے فیصلے پر راضی ہوگئے تو قبیلہ اوس کے اشخاص آگے بڑھے (جو انصار میں سے تھے) انہوں نے عرض کیا کہ یہ ہمارے حلیف تھے ان کا معاملہ ہمارے سپرد فرما دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ تم میں سے ایک شخص کے سپرد نہ کردوں ؟ کہنے لگے کہ جی ٹھیک ہے، آپ نے فرمایا میں ان کا فیصلہ سعد بن معاذ ؓ کے سپرد کرتا ہوں۔ (حضرت سعد بن معاذ ؓ قبیلہ بنی اوس کے سردار تھے۔ )
پہلے گذر چکا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ دشمنوں کے مقابل اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ جبل سلع کے قریب قیام پذیر تھے اور مقابلہ تقریباً ایک ماہ تک تھا اس وقت حضرت سعد بن معاذ ؓ کی ایک رگ میں (جسے عربی میں اکحل کہتے ہیں) ایک تیر آکر لگا جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہوگئی انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ زخم جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے لہٰذا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بنی قریظہ کا انجام دیکھ کر میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوجائیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں رفیدہ نامی ایک عورت کے خیمہ میں ٹھہرا دیا تھا جب آپ نے ان کو بنی قریظہ کا فیصلہ سپرد فرما دیا تو انہیں بلایا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے ان کو آتا دیکھ کر فرمایا کہ اپنے سید کے لیے کھڑے ہوجاؤ (چونکہ وہ مریض تھے اور انہیں سواری سے اتارنے کی ضرورت تھی اس لیے آپ ﷺ نے کھڑے ہونے کا اور ان کی مدد کرنے کا حکم فرمایا) رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہود بنی قریظہ تمہارے فیصلہ پر راضی ہوگئے ہیں (راضی تو ہوئے تھے رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر، پھر جب انصار کے قبیلہ بنی اوس نے کہا کہ ان کا معاملہ ہمارے سپرد کردیجیے تو آپ ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کے سپرد فرما دیا، اس سے یہود بھی خوش ہوئے کیونکہ یہ ان کے حلفاء میں سے تھے اور خود ان کے اپنے قبیلہ کے لوگ بھی خوش ہوئے اور ان سے کہتے رہے کہ اپنے حلفاء کے بارے میں اچھا فیصلہ کرنا) حضرت سعد بن معاذ ؓ نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ جو لوگ جنگ کرنے کے لائق ہیں ان سب کو قتل کردیا جائے اور مال تقسیم کردیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنالیا جائے، جب انہوں نے اپنا یہ فیصلہ دے دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے وہ فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔
اس کے بعد مدینہ منورہ کے بازار میں خندقیں کھودی گئیں، بنو قریظہ کی جماعتیں وہاں پہنچائی جاتی رہیں اور ان کی گردنیں ماری جاتی رہیں، ان مقتولین میں حی بن اخطب بھی تھا اور کعب بن اسد بھی، جو بنو قریظہ کا سردار تھا جس نے بنو قریظہ پر تین باتیں پیش کی تھیں ان کی پیشکش پر قوم مسلمان نہ ہوئی تو اس نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔ یاد رہے کہ حی ابن اخطب وہی شخص ہے جو اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ معظمہ پہنچا تھا اور قریش مکہ اور بنو غطفان کو مدینہ منورہ پر چڑھائی کرنے پر آمادہ کیا تھا اور اسی نے کعب بن اسد کو نقض عہد پر آمادہ کیا تھا اور آخر میں یوں کہا تھا کہ اگر ان جماعتوں کو شکست ہوئی، جو باہر سے آئی ہیں تو میں بھی تیرے ساتھ قلعہ میں داخل ہوجاؤں گا اور جو مصیبت تم لوگوں کو پہنچے گی میں بھی اس میں شریک رہوں گا، اسی عہد کی وجہ سے وہ واپس خیبر نہیں گیا جہاں بنی نضیر کو جلا وطن کردیا گیا تھا اور بنی قریظہ کے ساتھ یہ بھی مقتول ہوا۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ طاہرہ حضرت صفیہ ؓ کا والد بھی تھا جنہیں 7 ہجری میں غزوۂ خیبر کے موقع پر قید کرکے لایا گیا تھا۔
بنی قریظہ میں سے صرف ایک عورت کو قتل کیا گیا اور باقی جو مقتولین تھے حضرت سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ کے مطابق سب مرد تھے، جس عورت کو قتل کیا گیا اس نے حضرت خلاد بن سوید ؓ پر چکی کا پاٹ گرا دیا تھا جس کی وجہ سے وہ شہید ہوگئے تھے، بنی قریظہ میں سے حضرت عطیہ قرظی کو بھی قتل نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اس وقت تک بلوغ کی حد کو نہیں پہنچے تھے۔
فیصلہ یہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال نکل آئے ہوں اسے بالغ سمجھا جائے اور قتل کردیا جائے اور جس کے بال نہ نکلے ہوں اسے قتل نہ کیا جائے۔ حضرت عطیہ قرظی ؓ نے بتایا کہ میرے بال اگنے کی جگہ پر نظر ڈالی گئی تو دیکھا کہ میرے بال نہیں نکلے ہیں لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا اور قیدیوں میں شامل کردیا گیا یہ بات انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بتائی تھی۔ بنی قریظہ کے کتنے افراد قتل کیے گئے ؟ اس میں تین قول ہیں (1) چھ سو (2) سات سو (3) آٹھ اور نو سو کے درمیان۔
یہود میں سے چند ایسے لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا جو نہ بنی قریظہ میں سے تھے اور نہ بنی نضیر میں سے تھے، جس رات بنی قریظہ نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی ہونے کا اعلان کیا اسی وقت یہ لوگ مسلمان ہوئے، ان کے نام یہ ہیں : ثعلبہ بن سعید، اسد بن سعید، اسد بن عبید، یہ لوگ بنی بحدل میں سے تھے۔
بنی قریظہ کے مردوں کو رسول اللہ ﷺ نے قتل فرما دیا اور ان کے مال اور ان کی عورتوں اور بچوں کو مال غنیمت بنا کر مجاہدین میں تقسیم فرما دیا اور ان کے اموال سے خمس یعنی 5/1 نکال دیا جیسا کہ مال غنیمت تقسیم کرنے کا طریقہ ہے۔ بنی قریظہ میں سے جن بچوں اور عورتوں کو قیدی بنالیا تھا ان میں سے بعض کو نجد کی طرف بھیج دیا، حضرت سعد بن زید انصاری ؓ آپ ﷺ کے حکم سے انہیں لے گئے اور انہیں بیچ کر گھوڑے اور ہتھیار خرید لیے تاکہ جہاد میں مسلمانوں کے کام آئیں۔
جب بنی قریظہ کا معاملہ ختم ہوا یعنی انہیں قتل کردیا گیا تو حضرت سعد بن معاذ ؓ کا زخم جاری ہوگیا اور خون بہتا رہا جو ان کی موت کا ظاہری سبب بن گیا، چونکہ یہ زخم انہیں جہاد کے موقع پر تیر لگنے کی وجہ سے آگیا تھا اس لیے ان کی یہ موت شہادت کی موت ہوئی۔ حضرت سعد ؓ کا بدن بھاری تھا جب ان کا جنازہ اٹھا کرلے جانے لگے تو ہلکا محسوس ہوا، بعض لوگوں نے کہا کہ اس شخص کا بدن تو بھاری تھا جنازہ اتنا ہلکا کیوں ہے ؟ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا جنازہ کو اٹھانے والی تمہارے علاوہ دوسری مخلوق بھی تھی، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے فرشتوں کو سعد ؓ کی روح پہنچنے پر خوشی ہوئی اور ان کے لیے عرش بھی متحرک ہوگیا۔
حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ ہم سعد بن معاذ ؓ کی وفات کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر جب انہیں دفن کردیا گیا تو آپ ﷺ نے دیر تک تسبیح پڑھی پھر تکبیر پڑھی، اس پر ہم نے بھی تکبیر پڑھی اور عرض کیا کہ آپ نے پہلے تسبیح پڑھی پھر تکبیر پڑھی اس کی کیا وجہ تھی ؟ آپ نے فرمایا اس نیک بندہ پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی (میں برابر تسبیح پڑھتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مشکل دور فرما دی) اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے جس کے لیے عرش متحرک ہوا اور آسمان کے دروازے کھولے گئے اور ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے، قبر میں اس کو کچھ دبایا گیا پھر تکلیف دور کردی گئی۔ (جب حضرت سعد بن معاذ ؓ کو زمین نے دبایا جو شہید ہوگئے تھے تو دوسرے لوگ اپنے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں جو نماز نہیں پڑھتے اور گناہوں میں لت پت ہیں۔ )
غزوۂ بنی قریظہ کا مفصل قصہ بیان کردیا گیا ہے جو سیرت ابن ہشام سے ماخوذ ہے، ان میں سے بعض چیزیں کتب حدیث میں بھی ملتی ہیں۔ تفصیل کے ساتھ پورا واقعہ پڑھنے کے بعد آیت بالا کے ترجمہ پر دوبارہ نظر ڈال لیں۔
ممکن ہے بعض قارئین کو یہ اشکال ہو کہ بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو معاہدہ کر رکھا تھا اسے انہوں نے توڑ دیا تھا جس کی سزا پائی لیکن ابو سفیان نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ کیوں کہا کہ قریش وغیرہ کے ساتھ جو عہد کیا تھا بنو قریظہ اس عہد کو توڑ چکے ہیں حالانکہ (مِّنْ فَوْقِکُمْ ) کی تفسیر میں یہ بتایا گیا ہے کہ اوپر کی جانب سے بنی قریظہ آگئے تھے اور ان لوگوں کو حی بن اخطب نے اپنے ساتھ ملانے اور مسلمانوں سے جنگ کرنے پر آمادہ کرلیا تھا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو قریظہ قریش کے ساتھ تھے، اس کا جواب یہ ہے کہ بنی قریظہ نے قریش مکہ کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے کا وعدہ تو کرلیا تھا لیکن نعیم بن مسعود ؓ کی ایک تدبیر سے بنو قریظہ مشرکین مکہ اور ان کے ساتھیوں کی امداد سے بھی پھرگئے تھے، ہوا یہ کہ نعیم بن مسعود ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے لیکن میری قوم کو اس کا پتہ نہیں ہے آپ مجھے جو کچھ حکم فرمائیں میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسی صورت نکالو جس سے یہ جماعتیں ایک دوسرے کی مدد سے منحرف ہوجائیں۔ حضرت نعیم بن مسعود ؓ بنی قریظہ کے پاس گئے جاہلیت میں تو ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا تھا ان سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے میری تمہاری کیسی دوستی ہے اور کیسے خصوصی تعلقات ہیں ؟ بنو قریظہ نے جواب میں کہا کہ واقعی تم ہمارے دوست ہو ہم اس بات کو مانتے ہیں اس پر ان سے فرمایا کہ دیکھو قریش اور بنی غطفان تمہاری طرح سے نہیں ہیں تم شہر مدینہ میں رہتے ہو اس میں تمہارے اموال ہیں، بچے ہیں، عورتیں ہیں، اس شہر کو چھوڑ کر تم کہیں نہیں جاسکتے، رہے قریش اور بنی غطفان سو وہ محمد رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے آئے ہیں اور تم ان کی مدد کر رہے ہو، اب دیکھو بات یہ ہے کہ انہیں اگر موقع مل گیا تو غلبہ پالیں گے اور اگر شکست ہوگئی تو اپنے شہروں کو چلے جائیں گے، اس کے بعد تم بےیارو مددگار رہ جاؤ گے، اور محمد رسول اللہ ﷺ سے مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہے، لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم قریش مکہ سے یوں کہو کہ تم لوگ اپنے سرداروں کو بطور رہن ہمارے پاس چھوڑ دو ، اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ لوگ تمہیں چھوڑ کر بھاگ نہ سکیں گے انہیں اپنے آدمیوں کی فکر لاحق ہوگی، یہ بات سن کر بنو قریظہ نے کہا واقعی تمہاری رائے تو ٹھیک ہے۔
اس کے بعد نعیم بن مسعود ؓ قریش کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ کیا تمہیں پتہ ہے کہ یہودی اس بات پر پچھتا رہے ہیں کہ انہوں نے تمہارا ساتھ دینے کا وعدہ کیوں کرلیا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو معاہدہ تھا وہ توڑ دیا، اب انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس خبر بھیجی ہے کہ آپ ہم سے اس بات پر راضی ہوجائیں کہ ہم قریش اور بنی غطفان کے سرداروں پر قبضہ کرکے آپ کے پاس بھیج دیں اور آپ ان کی گردنیں مار دیں اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو بالکل ہی ختم کردیں گے، اور ساتھ ہی قریش اور بنی غطفان سے یہ بھی کہا کہ دیکھو اگر یہودی تم سے یہ مطالبہ کریں کہ بطور رہن ہمیں اپنے آدمی دے دو تو تم بات مت ماننا اور انہیں اپنا ایک آدمی بھی نہ دینا پھر حضرت نعیم بن مسعود ؓ بنی غطفان کے پاس آئے اور ان سے بھی یہی کہا کہ دیکھو تمہارے سرداروں میں سے یہودی بطور رہن کچھ افراد طلب کریں گے تم اپنا ایک شخص بھی ان کے حوالے نہ کرنا۔
اس کے بعد ابو سفیان نے اور بنی غطفان کے چودھریوں نے بنی قریظہ کے پاس عکرمہ بن ابی جہل کو قریش و غطفان کے چند افراد کے ساتھ پیغام دے کر بھیجا انہوں نے یہود سے کہا کہ دیکھو ہمارے ٹھہرنے کا موقع نہیں رہا، ہمارے پاس جو اونٹ اور گھوڑے تھے وہ ہلاک ہوچکے ہیں، آؤ صبح صبح سب مل کر یکبارگی محمد ﷺ پر حملہ کردیں اور معاملہ کو نمٹا دیں، یہودیوں نے جواب میں کہا کہ ہم اس وقت تک تمہارا ساتھ نہیں دیں گے جب تک تم اپنے چند آدمی بطور رہن ہمیں نہ دے دو ، جب تمہارے آدمی ہمارے ساتھ ہوں گے تو ہمیں بھروسہ رہے گا، ہمیں ڈر ہے کہ تم لوگ لڑائی میں شکست کھا گئے تو ہمیں چھوڑ کر اپنے شہروں کو بھاگ جاؤ گے، جب یہ لوگ بنی قریظہ کا جواب لے کر قریش اور بنی غطفان کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے کہ واقعی نعیم بن مسعود ؓ نے سچ کہا تھا کہ بنو قریظہ تم سے بطور رہن آدمی طلب کریں گے، اس پر قریش اور بنی غطفان نے بنی قریظہ کو ٹکا سا جواب بھجوا دیا کہ ہم اپنا ایک شخص بھی تمہیں نہیں دیں گے، لہٰذا بنو قریظہ نے جواب دے دیا کہ ہم اس کے بغیر محمد ﷺ سے جنگ نہیں کرسکتے لہٰذا اب صورت حال یہ پیدا ہوگئی کہ بنو قریظہ نے وہ معاہدہ بھی توڑ دیا جو رسول اللہ ﷺ سے کر رکھا تھا اور قریش و بنی غطفان کی مدد سے بھی دستبردار ہوگئے اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی تلوار کی زد سے بھی نہ بچ سکے۔ نعیم بن مسعود ؓ کی یہ تدبیر ابن ہشام ؓ نے لکھی ہے، اور حافظ ابن کثیر ؓ نے بھی ” البدایہ والنہایہ “ میں اس کو ذکر کیا ہے۔ (قولہ تعالیٰ : (مِنْ صَیَاصِیْھِم) ای من حصونھم جمع صیصیۃ وھی کل ما یمتنع بہ ویقال لقرن الثور والظباء ولشوکۃ الدیک التی فی رجلہ کالقرن الصغیر، وتطلق الصیاصی علی الشوک الذی للنساجین ویتخذ من حدید) (روح المعانی) (اللہ تعالیٰ کا قول (مِنْ صَیَاصِیْھِمْ ) یعنی ان کے قلعوں سے یہ صیصیۃ کی جمع ہے اور یہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو رکاوٹ بنے اور بیل کے سینگ، مرغ کے ناخن کو بھی کہا جاتا ہے گویا کہ وہ چھوٹا سینگ ہے اور صیاصی کا لفظ لوہے کے اس کانٹے پر بھی بولا جاتا ہے جو کپڑا بننے والوں کے پاس ہوتا ہے۔ )
Ayahs 33:28–29رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو نصائح ضروریہ۔
آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ سے عَظِیْمًا) تک کا سبب نزول حضرات مفسرین کرام نے یہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ نے آپ ﷺ سے کچھ زیادہ خرچہ ملنے کی درخواست کی، اس وقت آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ (1) عائشہ بنت ابوبکر صدیق۔ (2) حفصہ بنت عمر۔ (3) ام حبیبہ بنت ابی سفیان۔ (4) ام سلمہ بنت ابی امیہ۔ (5) سودہ بنت زمعہ۔ (6) زینب بنت جحش۔ (7) میمونہ بنت حارث۔ (8) صفیہ بنت حی بن اخطب۔ (9) جویریہ بنت حارث۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کا یہ مطالبہ اچھا نہ لگا (بڑوں کی بڑی باتیں ہیں، وہ سید الاولین والآخری نبی ﷺ کی بیویاں تھیں انہیں آپ کے ساتھ صبر و شکر کے ساتھ رہنا چاہیے تھا اور بعض مرتبہ جو فاقہ کی نوبت آجاتی تھی اس کو درجات کی بلندی کے لیے برداشت کرنا چاہیے تھا اور خرچہ کا سوال زبان پر نہیں لانا چاہیے تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے خرچہ کا سوال کیا تو آپ نے قسم کھالی کہ ایک مہینہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا، حضرات صحابہ میں یہ مشہور ہوگیا کہ آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، اس پر حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا کہ میں اس کی خبر لاتا ہوں، انہوں نے خدمت عالی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں مسجد میں گیا تو دیکھا کہ وہاں مسلمان موجود ہیں اور یوں کہہ رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، آپ نے فرمایا میں نے طلاق نہیں دی، عرض کیا تو کیا میں مسلمانوں کو یہ بات بتادوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا چاہو تو بتادو ! حضرت عمر ؓ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر پکار کر اعلان کردیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی۔
جب انتیس دن گزر گئے تو آیت تخییر یعنی (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ ) (آخر تک) نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں سے فرما دیجیے کہ تم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں دنیا کا سامان دے دیتا ہوں اور ساتھ ہی تمہیں خوبصورتی کے ساتھ چھوڑ دوں گا یعنی اپنے نکاح میں نہیں رکھوں گا اور اگر تم اللہ کو اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور آخرت کی طلبگار ہو تو تم سمجھ لو کہ اللہ نے نیک کام کرنے والی عورتوں کے لیے اجر عظیم تیار فرمایا ہے، یعنی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ زندگی گزارتی رہو، اچھے اعمال کرتی رہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے گا (اس صورت میں رسول اللہ ﷺ کی جدائی کا کوئی مسئلہ نہیں) جب آیت تخییر نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے آیت شریفہ کے مضمون کے مطابق اپنی بیویوں کو اختیار دے دیا کہ اگر چاہو تو دنیا کا سامان لے لو اور ساتھ ہی یہ سمجھ لو کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا اور اگر چاہو تو میرے ہی پاس رہو لیکن اس صورت میں مطلوبہ اخراجات کا کوئی وعدہ نہیں، ہاں یہ وعدہ ہے کہ نیک کام کرتی رہو گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم دیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کرتا ہوں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کرلو جواب دینے میں جلدی نہ کرنا (آپ کو معلوم تھا کہ ان کے والدین انہیں رسول اللہ ﷺ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دے سکتے تھے) یہ فرما کر آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو دونوں آیتیں سنا دیں جن میں اختیار دینے کا مضمون ہے، حضرت عائشہ ؓ بہت سمجھدار اور مزاج شناس نبوت تھیں فوراً عرض کیا کیا میں آپ ﷺ کے بارے میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لوں گی ؟ میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں اور ساتھ ہی یوں بھی عرض کیا کہ آپ ﷺ دوسری بیویوں میں کسی کو میرے جواب سے مطلع نہ فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ نے مجھے تکلیف میں ڈالنے والا اور تکلیف میں پڑنے والا بناکر نہیں بھیجا مجھے تو سکھانے والا اور سہولت کا طریقہ بتانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اس کے بعد آپ نے باقی آٹھ ازواج مطہرات کے سامنے بھی آیت بالا کا مضمون پیش فرمایا ان سب نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہیں۔ جب انتیس دن گزر گئے تو آپ عائشہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے تو یہ قسم کھائی تھی کہ پورے ایک ماہ ہمارے ہاں تشریف نہیں لائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا تھا، انتیس دن گزر گئے نیا مہینہ شروع ہوگیا۔ جب آپ کی تمام بیویوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو اختیار کرلیا تو آپ کے چہرۂ انور پر خوشی کے انوار ظاہر ہوگئے اور آپ ﷺ نے ان کی قدر دانی فرمائی۔ (معالم التنزیل 3: ص 525، 526، صحیح بخاری ج 2 ص 705، صحیح مسلم ص 480 تا 482)
فائدہ : بیوی کو اگر طلاق کا اختیار دیا جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ طلاق کا اختیار عورت کے سپرد کردیا جائے، اگر وہ چاہے تو اپنے اوپر طلاق واقع کرکے آزاد ہوجائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ مرد طلاق کو اپنے ہی ہاتھ میں رکھے اور عورت سے یوں کہے کہ اگر تو چاہے تو میں تجھے طلاق دے دوں۔
رسول اللہ ﷺ نے جو اپنی بیویوں کو اختیار دیا تھا وہ یہی دوسری صورت تھی یعنی بطور مشورہ ایک بات پیش فرمائی تھی، اگرچہ بعض اکابر نے فرمایا کہ آیت کے سیاق میں دونوں کا احتمال ہے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تھا ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ رہنا منظور کرلیا اور آپ کی زوجیت اختیار کرلی، اور آپ ﷺ کا اختیار دے دینا کسی بھی طلاق میں شمار نہیں کیا گیا۔ آئمہ اربعہ کا یہی مذہب ہے کہ محض اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم میں تخییر کو طلاق میں شمار نہیں کیا گیا، اس کے ذیل میں امام نووی ؓ لکھتے ہیں :
فی ھذا الاحادیث دلالۃ المذھب مالک والشافعی وابی حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء زوجتہ فاختارتہ لم یکن ذٰلک طلاقاً ولا یقع بہ فرقۃ وروی عن علی وزید بن ثابت والحسن واللیث بن سعد ان نفس التخییر یقع بہ طلقۃ بائنۃ سواء اختارت زوجھا ام لا وحکاہ الخطابی والنقاش عن مالک قال القاضی لا یصح ھذا عن مالک ثم ھو مذھب ضعیف مردود بھذا والاحادیث الصریحۃ وبعل القائلین بہ لم تبلغھم ھذہ الاحادیث۔ واللّٰہ اعلم۔
” ان احادیث میں حضرت امام مالک، امام شافعی، امام ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء کے مذہب کے دلیل ہے اگر کسی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا تو محض یہ اختیار دینا طلاق نہیں ہوگا اور نہ اس سے فرقت ہوتی ہے۔ حضرت علی، حضرت زید، حضرت حسن اور حضرت لیث بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ نفس تخییر سے طلاق بائنہ واقع ہوجاتی ہے خواہ عورت نے اپنے آپ کو اختیار کیا ہو یا نہ کیا ہو اور اس بات کو خطابی اور نقاش نے امام مالک سے نقل کیا ہے۔ قاضی فرماتے ہیں حضرت امام مالک سے یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ پھر یہ کہ یہ مذہب ضعیف ہے اور ان مذکورہ صریح احادیث کی وجہ سے مردود ہے۔ شاید اس مذہب کے قائلین کو یہ احادیث نہیں پہنچیں۔ “
حنفیہ میں سے صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ کوئی شخص طلاق کی نیت سے اپنی بیوی سے اِخْتَارِیْ (تو اختیار کرلے) کہہ دے یا یوں کہہ دے کہ تو اپنے نفس کو طلاق دیدے تو جب تک وہ اپنی مجلس میں رہے گی اسے طلاق دینے کا اختیار رہے گا، اگر مجلس سے اٹھ گئی یا وہیں بیٹھے بیٹھے کسی کام میں لگ گئی (جس سے اعراض سمجھا جاتا ہو) تو اس کے ہاتھ سے اختیار جاتا رہا، اگر اِخْتَارِیْ کے جواب میں (جبکہ شوہر نے طلاق کی نیت سے کہا ہو) عورت نے یوں کہہ دیا کہ اخترت نفسی (میں اپنی جان کو اختیار کرتی ہوں) تو ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی۔ (باب تفویض الطلاق)
Ayah 33:30دوہرے عذاب وثواب کا استحقاق
تخییر کا مضمون بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : (یٰنِسَآء النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) (الآیۃ) (اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو عورت واضح طور پر کسی معصیت کا ارتکاب کرے گی تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے) ” واضح طور پر معصیت “ یہ لفظ (بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) کا ترجمہ ہے۔ صاحب بیان القرآن نے اس کا ترجمہ کھلی ہوئی بیہودگی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے وہ معاملہ مراد ہے جس سے رسول اللہ ﷺ تنگ اور پریشان ہوں۔ صاحب المعالم التنزیل نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا یہی مطلب نقل کیا ہے، (فقال المراد بالفاحشۃ النشور وسوء الخلق) صاحب روح المعانی نے بھی بعض حضرات سے یہی تفسیر نقل کی ہے، (فقال وقیل : ذلک طلبھن ما یشق علیہ ﷺ او ما یضیق بہ ذرعہ ویغتم ﷺ لاجلہ) (یعنی فاحشتہ سے یہ مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیزیں طلب کی جائیں جس سے آپ تنگ دل ہوں اور آپ کو گھٹن محسوس ہو۔ اور بعض حضرات نے (بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ) کا ترجمہ (مَعْصِیَۃٍ ظَاھِرَۃٍ ) کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ علی السبیل الفرض ہے کما فی قولہ تعالیٰ (لَءِنْ اَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ )
یہ دوہرا عذاب دئیے جانے کی وعید اس لیے ہے کہ جن کے مرتبہ بلند ہوتے ہیں ان کا مواخذہ زیادہ ہوتا ہے اسی طرح حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) پر بعض ان چیزوں پر عتاب ہوا جن پر دوسرے مومنین پر عتاب نہیں ہوتا۔ ایک جاہل شخص ایک عمل کرے اور کوئی عالم شخص اس عمل کو کرلے تو اس عالم کا مواخذہ جاہل کے مواخذہ سے زیادہ ہوتا ہے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین (رح) سے کہہ دیا کہ آپ تو اہل بیت کے فرد ہیں جو بخشے بخشائے ہیں، اس پر وہ غصہ ہونے لگے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی ازواج کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے ہم اپنے کو اسی کا مستحق سمجھتے ہیں ہم میں سے جو محصن ہیں ان کے لیے دوہرے اجر کی امید رکھتے ہیں اور ہم میں سے جو شخص کوئی گناہ کرے اس کے لیے دوہرے عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں، اس کے بعد انہوں نے آیت کریمہ (یٰنِسَآء النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ ) اور اس کے بعد والی آیت (وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ ) تلاوت فرمائی۔ (روح المعانی جلد 21: ص 184)
Ayah 33:31اس کے بعد فرمایا : (وَمَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِھَآ اَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیْمًا) (اور تم میں سے جو عورت اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی ہم اسے اس کا دوہرا ثواب دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم تیار کیا ہے۔ )
صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں علت اس تضعیف اجر اور اسی طرح تضعیف و زر کی جو اس کے قبل ارشاد ہے شرف زوجیت نبی ہے جس پر (یٰنِسَآء النَّبِیِّ ) دال ہے کیونکہ اہل خصوصیت کا عصیان بھی اوروں کے عصیان سے اشد ہوتا ہے اسی طرح ان کی اطاعت بھی اوروں کی اطاعت سے زیادہ مقبول ہوتی ہے پس وعدہ وعید دونوں میں وہ دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں اور خصوصاً مقام کلام میں یہ کہنا ممکن ہے کہ حضرات ام المومنین سے خدمت و اطاعت کا صدور حضور ﷺ کے قلب کو راحت افزا زیادہ ہوگا پس آپ کی راحت رسانی موجب اجر تھی زیادہ راحت رسانی موجب زیادتی اجر ہوگئی، علی ہذا اس کی ضد میں سمجھنا چاہیے۔
ایک ہی مرتبہ حضرات ازواج مطہرات ؓ کی طرف سے خرچہ میں اضافہ اور خوشحالی کی بات اٹھائی گئی اس پر آیات بالا نازل ہوگئیں، اس کے بعد کوئی واقعہ اس قسم کا پیش نہیں آیا جس میں خرچہ کی تنگی کا سوال اٹھایا گیا ہو، ازواج مطہرات برابر زندگی بھر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں اور عبادت الٰہی میں لگی رہیں اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی احادیث کو اور آپ کی تعلیمات کو آگے بڑھاتی رہیں۔ (رضی اللّٰہ عنھن وارضاھنّ )
Ayah 33:32ازواج مطہرات ؓ کی فضیلت
اس کے بعد فرمایا : (یٰنِسَآء النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ) (اے نبی کی بیویو ! تم دوسری عورتوں کی طرح سے نہیں ہو) اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں فضیلت دی ہے وہ بہت بڑی ہے جو اور کسی بھی عورت کو حاصل نہیں ہے، اپنے شرف اور بلند مقام کو سمجھو اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کی خوشنودی کے اعمال میں لگی رہو۔ (اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بالْقَوْلِ ) (اگر تم تقویٰ اختیار کرتی ہو) یعنی تقویٰ ہی پر آئندہ زندگی گزارنی ہے تو اس بات کا بھی دھیان رکھو کہ جب کسی نامحرم مرد سے کسی ضرورت سے بات کرنی پڑجائے تو لب و لہجہ میں نزاکت کا انداز مت اختیار کرو اگر ایسا انداز ہوگا تو بعض ایسے لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے لالچ کرلیں گے یعنی تم سے بار بار اور بلاضرورت بات کریں گے اور تمہارے لب و لہجہ سے اپنے کانوں کو لذت پہنچائیں گے۔ (وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) (اور مناسب طریقہ پر بات کرو) نامحرموں سے بات کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ درشتی کے طور پر روکھا پن اختیار کرکے جواب دیا جائے، جب یہ صورت اختیار کی جائے گی تو جن کے دلوں میں مرض یعنی نفاق ہے وہ خود بات کرنے سے بچیں گے اور بلا ضرورت تو بالکل ہی پرہیز کریں گے۔ اور بعض حضرت نے (قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ کے ذکر میں لگی رہو اور جو کوئی بات کرنی ہو تو بوقت ضرورت بات کرلو۔
نامحرموں سے بات کرنے کا طریقہ
معلوم ہوا عند الضرورت نامحرم سے بات کرنے کی اجازت تو ہے کیونکہ کبھی اس کی ضرورت پیش آ ہی جاتی ہے لیکن ایسے موقع پر زیادہ آواز بلند نہ کرے، نہ آواز کو دراز کرے نہ نرم کرے نہ آواز کے اتار چڑھاؤ کی صورت اختیار کرے کیونکہ اس سے نامحرموں کے دل مائل ہوں گے اور نفسانی خواہشوں کو تحریک ہوگی، اسی لیے عورت کو اذان دینا اور حج کے موقع پر زور سے تلبیہ پڑھنا ممنوع ہے۔ علامہ شامی ؓ علامہ ابو العباس قرطبی ؓ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : (فانا نجیز الکلام مع النساء للجانب ومحاورتھن عند الحاجۃ الی ذٰلِک ولا نجیز لھن رفع اصواتھن ولا تمطیطھا ولا تلبینھا ولا تقطیعھا لما فی ذلک من استمالۃ الرجال الیھن وحریک الشھوات منھم ومن ھذا لم یجزان تؤذن المرء ۃ) (شامی جلد 1 ص : 272) (لہٰذا ہم غیر محرم سے عورتوں کے بات کرنے اور جواب دینے کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ اس کی ضرورت ہو البتہ آواز کو بلند کرنا، لمبا کرنا اور نرم کرنا اور بات میں اتار چڑھاؤ کرنا جائز نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے مردوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں گے اور ان کے جذبات کو تحریک ملے گی اسی لیے عورت کے لیے اذن دینا جائز نہیں ہے۔ )
Ayah 33:33گھروں میں ٹھہرے رہنے کا حکم
اس کے بعد فرمایا : (وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ) (اور تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو) (وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی) (اور قدیم جہالت کے دستور کے موافق بن ٹھن کر نہ پھرو) اس میں اول تو یہ حکم فرمایا کہ گھروں میں قرار پکڑے رہو اور دوسرے یہ فرمایا کہ جاہلیت اولی کے طریقہ پر باہر نہ نکلو جس سے کہ سر، سینہ، چہرہ، گردن، کان کانوں کی بالیاں وغیرہ ظاہر ہوں۔ جاہلیت اولیٰ سے عرب کا اسلام سے پہلے والا زمانہ مراد ہے، اس زمانہ میں عورتیں بلا پردہ بےمحابا باہر نکلتی تھیں، سر اور سینے کھلے ہوئے ہوتے تھے اور بلا کھٹک مردوں کے درمیان سے گزر جاتی تھیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جاھلیۃ اولی جاھلیۃ اُخریٰ کے مقابلہ میں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے لوگ جاہلیت میں مبتلا تھے، زمانہ اسلام میں فسوق اور فجور اختیار کریں گے تو یہ دوسری جاہلیت ہوگی جو جاہلیت اولیٰ کی نقل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کو حکم دیا کہ گھروں میں ٹھہری رہیں اور اگر کسی ضرورت سے باہر جانا ہی ہو تو پردہ کا خاص اہتمام کیا کریں، اپنے اعضاء کو اور زیور اور زینت کو ظاہر نہ ہونے دیں۔
مذکورہ بالا خطاب گو ازواج مطہرات ؓ کو ہے لیکن تمام مسلمان عورتوں کے لیے یہی حکم ہے کہ جہاں تک ہوسکے گھروں میں رہیں اور اگر باہر نکلنا ضروری ہو تو پردۂ شرعی کا خوب زیادہ اہتمام کریں۔
حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (اَلْمَرْءَ ۃُ عورۃٌ فَاِذَا خَرَجَتِ استشوفھا الشَّیْطٰن) (کہ عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے، جب باہر نکلتی ہے تو اسے شیطان تکنے لگتا ہے) ۔ (رواہ الترمذی کما فی مشکوٰۃ المصابیح ص 269)
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ عورت مرد راستہ میں اکٹھے چل رہے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اے عورتو ! پیچھے ہٹو تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ راستوں کے درمیان میں چلو تم راستہ کے کناروں پر چلو، آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد عورتوں کا یہ حال تھا کہ بالکل دیوار کے ساتھ مل کر چلتی تھیں یہاں تک کہ ان کا کپڑا دیوار سے اٹک جاتا تھا۔ (رواہ ابو داؤد)
اگر کسی عورت کو کسی مجبوری سے باہر نکلنا ہو تو بن ٹھن کر خوشبو لگا کر نہ نکلے اور مردوں سے دور ہو کر گزر جائے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر آنکھ زنا کار ہے (یعنی بےجگہ نظر ڈالنا، مرد کی نظر ہو یا عورت کی، زنا میں شمار ہے) اور بلاشبہ جب کوئی عورت عطر لگائے اور مجلس پر گزرے تو ایسی ہے ویسی ہے یعنی زنا کار ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 96)
(قولہ تعالیٰ : وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ، قال صاحب الروح من قریقر من باب علم اصلہ اقررن فحذفت الراء الاولیٰ والقیت فتحھا علیٰ ما قبلھا وحذفت الھمزۃ لاستغناء عنھا بتحرک القاف، وذکر ابو الفتح الھمدانی فی کتاب التبیان وجھا اخر قال : قاریقار اذا اجتمع ومنہ القارۃ لاجتماعھا، الا تری الیٰ قول عضل والدیش اجتمعوا فکونوا قارۃ فالمعنی واجمعھن انفسکن فی البیوت۔ وقرأ الاکثر (وقرن) بکسر القاف من وقریقر وقارًا اذا سکن وثبت واصلہ اوقرن فعل بہ ما فعل بعدن من وعداً ومن قریقر المضاعف من باب ضرب واصلہ اقررن حذفت الراء الاولیٰ والقیت کسرتھا الی القاف وحذفت الھمزۃ للاستغناء عنھا۔ 1 ھ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد (وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ) تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں (قرن قریقر باب علم) سے بنا ہے یہ اصل میں (اِقْرَرْنَ ) تھا۔ پہلی راء حذف کی گئی اور اس کا فتحہ ما قبل کو دے دیا اور قاف کے متحرک ہوجانے کی وجہ سے ہمزہ وصلی کی ضرورت نہیں رہی اس لیے ہمزہ کو حذف کردیا۔ اور ابو الفتح الھمدانی نے کتاب التبیان میں ایک اور صورت ذکر کی ہے اس نے کہا ہے (قَارّیَقَارُّ ) کا معنی ہے جمع ہونا، مجتمع ہونا (القارّۃ) اسی سے ہے کیونکہ وہ بھی مجتمع ہوتا ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے پس وہ ہوگئے۔ پس اس طرح قرن کا معنی ہوا کہ تم اپنے آپ کو گھروں میں ہی مجتمع رکھو۔ اور اکثر نے (وَقِرْنَ ) پڑھا ہے قاف کے کسرہ کے ساتھ (وَقَرَیَقِر وَقَارًا) سے جس کا معنی ہے ساکن ہونا، قائم ہونا اور یہ اصل میں (اوْقَرْنَ ) تھا اس میں وعد والے باب کے صیغہ عدن والی تعلیل ہوئی یا یہ (قَرَّیَقِرُّ ) سے ہے جو کہ مضاعف ہے اور باب ضرب ہے اور اصل میں تھا (اقْررْنَ ) پہلی راحذف کردی گئی اور اس کا کسرہ قاف کو دے دیا گیا اور ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے ہمزہ بھی حذف کردیا گیا۔ )
پھر فرمایا : (وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ) (اور نمازیں قائم کرتی رہو اور زکوٰتیں ادا کرتی رہو اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی) نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا حکم تو ہر مسلمان مرد و عورت کو ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ ازواج مطہرات ؓ کو خطاب فرمانے میں یہ حکمت ہے کہ کہیں وہ اپنے رشتہ زوجیت پر فخر کرکے نہ بیٹھ جائیں اور اعمال دینیہ میں کوتاہی نہ کرنے لگیں۔
پھر فرمایا : (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا) (اللہ کو یہی منظور ہے کہ اے اہل بیت تم سے گندگی کو دور رکھے اور تم کو اچھی طرح پاک کردے۔ )
آیت تطہیر یعنی (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ) (الآیۃ) میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرات ازواج مطہرات ؓ سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے گندگی کو دور کرنے کا اور پاک کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ گندگی سے فسق اور گناہ کے کام مراد ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اخلاق رذیلہ، بخل، طمع، حسد وغیرہ مراد ہیں اور درحقیقت قول اول ہی میں یہ سب چیزیں داخل ہوجاتی ہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا (لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ) سے تخلیہ عن الرزائل اور (وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا) سے تخلیہ بالفضائل والفواضل مراد ہے، جب اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کو اہل البیت یعنی اہل بیت النبی ﷺ کا لقب دے دیا اور انہیں معصیتوں سے اور گندگیوں سے پاک کرنے کا ارادہ فرما لیا تو اس کے بعد کوئی گمراہ اور منکر قرآن ہی ازواج مطہرات ؓ کے خلاف کوئی بات لکھ سکتا ہے اور جہالت کی زبان سے کوئی نازیبا کلمہ نکال سکتا ہے۔
روافض جن کو (اپنے ایمان کی فکر نہیں اور) حضرات صحابہ ؓ سے اور ازواج مطہرات ؓ سے دشمنی ہے، انہیں ان حضرات کی دشمنی میں قرآن کو جھٹلانے اور قرآنی تصریحات کو رد کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ تین چار کے علاوہ سب صحابہ کافر تھے اور (حضرت خدیجہ ؓ کے علاوہ) رسول اللہ ﷺ کی سب بیویاں کافرہ تھیں (العیاذ باللہ، نقل کفر کفر نہ باشد) یہ قرآنی آیات کے منکر ہیں، پھر بھی ان لوگوں سے ناراض ہوئے جو انہیں خارج عن الاسلام سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں اور امت مسلمہ کو ان کے عقائد کفریہ سے باخبر کرتے ہیں۔
روافض کہتے ہیں (اَھْلَ الْبَیْت) سے رسول اللہ ﷺ کے اہل قرابت یعنی حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین ؓ مراد ہیں۔ ہمیں تو ان حضرات سے محبت ہے اور ہمارے نزدیک یہ حضرات بھی رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت ہیں، البتہ قرآن مجید کے سیاق اور سباق سے یہ بالکل واضح ہے کہ یہاں اہل بیت سے حضرات ازواج مطہرات ہی مراد ہیں اور اس کا انکار کرنا، زبردستی آنکھیں بند کرنے اور اندھا بننے کے مترادف ہے۔
روافض کو اپنی بات آگے بڑھنے کے لیے کچھ نہ ملا تو جاہلوں کو سمجھانے کے لیے یہ نکتہ نکالا کہ آیت شریفہ میں ضمیر جمع مذکر (عَنْکُمُ ) اور (وَیُطَھِّرَکُمْ ) لائی گئی ہے اگر ازواج مطہرات ؓ مراد ہوتیں تو (عَنْکُنَّ ) اور (وَیُطَھِّرَکُنَّ ) ہوتا۔ ڈوبنے والے کو جب کچھ نہیں ملتا تو تنکے ہی کا سہارا لے لیتا ہے، ان لوگوں کو چونکہ ازواج مطہرات ؓ سے بغض ہے اور قرآن کے خلاف سوچنے ہی کو ہنر سمجھتے ہیں اس لیے انہوں نے قرآن مجید کی دوسری آیات کی طرف ذہن لے جانا مناسب نہ جانا، حالانکہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین سے واپس ہونے کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (فَقَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْ اٰنَسْتُ نَارًا) اس میں اُمْکُثُوْا صیغہ میں جمع مذکر حاضر ہے اور خطاب بیوی کو ہے۔ اور سورة ہود میں ہے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سے خطاب کرتے ہوئے کہا : (اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ) اس میں صرف ایک عورت کو لفظ عَلَیْکُمْ کے ساتھ خطاب فرمایا ہے جو جمع مذکر کی ضمیر ہے اور اسی عورت کو اہل البیت کے معزز لقب سے بھی نوازا ہے۔ معلوم ہوا کہ عورت کو کبھی کبھی مذکر کے صیغہ سے بھی خطاب کیا جاتا ہے اور یہ بھی بالتصریح معلوم ہوا کہ بیوی اہل بیت میں بھی شامل ہے، پھر ازواج مطہرات ؓ کے پاکیزہ ہونے کا ذکر سورة نور میں بھی ہے، وہاں ارشاد فرمایا ہے : (وَالطَّیِّبٰتُ للطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ للطَّیِّبٰتِ ) حسب تصریح سورة نور رسول اللہ ﷺ کی ازواج طیبات تھیں اور آپ ﷺ خود طیب تھے، آپ ﷺ کی ازواج بھی طیبات تھیں۔ روافض نے صرف (عَنْکُمُ ) اور (وَیُطَھِّرَکُمْ ) کی ضمیر جمع مذکر کو دیکھا اور انہیں یہ نظر نہ آیا کہ اس کے بعد پھر جمع مونث کا صیغہ واذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی آ رہا ہے اور یہ جملہ ما قبل پر معطوف ہے اور جو حضرات اس کے مخاطب ہیں وہی اس سے پہلی آیت میں بھی مخاطب ہیں۔ قال الحافظ ابن کثیر ج 3 ص 486 ثم الذی لا شک فیہ من تدبّر القرآن أن نساء النبی ﷺ داخلات فی قولہ : اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا۔ فان سیاق الکلام معھنّ ولھذا قال تعالیٰ بعدھذا کلہ (وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الْحِکْمَۃِ ) (حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں قرآن میں غور و فکر رکھنے والے کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہوسکتا کہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ) میں داخل ہیں۔ چناچہ سیاق کلام کا تعلق ازواج مطہرات کے متعلق ہے اسی وجہ سے اس سب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور حکمت کی جو تلاوت ہوتی ہے اسے تم یاد رکھو۔ )
سورۂ احزاب والی آیت تطہیر کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے تھے نزلت فی نساء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلّم خاصۃ) اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا (من شاء باھلتہ انھا نزلت فی نساء النبی کہ جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کرسکتا ہوں کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی، حضرت عکرمہ ؓ بازار میں پکار پکار کر یہ فرماتے تھے آیت کریمہ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ ) رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عروہ ؓ بھی یہی فرماتے تھے کہ آیت شریفہ میں ازواج مطہرات ؓ ہی مراد ہیں۔ (روح المعانی ج 21 ص 140)
البتہ یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ سنن ترمذی میں حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت نقل ہے کہ جب آیت کریمہ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا) نازل ہوئی اس وقت آپ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر میں تشریف فرما تھے آپ نے فاطمہ اور حضرات حسنین ؓ کو بلایا اس وقت حضرت علی ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے ان سب کو اپنی چادر اوڑھا دی اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا (اَللّٰھُمَّ ھآءُولَآءِ اَھْلِ بَیْتِیْ فَاذْھَبِ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْراً ) (اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے رجس کو یعنی گندگی کو دور فرما دے) حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا یا نبی اللہ میں بھی ان میں سے ہوں، آپ نے فرمایا (انت علیٰ مکانک وانت علیٰ خیر) کہ تم اپنی جگہ پر ہو اور خیر پر ہو۔
اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ کو (جو ازواج مطہرات میں سے تھیں) آپ ﷺ نے اہل بیت میں شامل نہیں فرمایا، لیکن ہر مسلمان کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام آیات اور احادیث کو سامنے رکھ کر چلے اور کسی حدیث کا ایسا مفہوم مراد نہ لے جو کسی بھی آیت سے معارض ہو یا اس سے کسی بھی آیت کا انکار لازم ہوتا ہو۔ روافض تو قرآن کریم میں تحریف کے قائل ہیں انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کسی آیت کے خلاف کیا کہہ دیا اور کیا عقیدہ بنالیا، مسلمان تو ایسا نہیں کرسکتے کہ کسی آیت کے مضمون کو رد کردیں، اس لیے اکابر علماء اور محققین مفسرین نے یہی فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ بھی اہل بیت میں شامل ہیں جس کی تصریح آیت بالا میں مذکور ہے اور جن حضرات کو آپ ﷺ نے چادر اوڑھا کر فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں وہ بھی آپ ﷺ کے اہل بیت ہیں۔ بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ جب حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا کہ مجھے بھی چادر میں داخل فرما لیجیے تو آپ ﷺ نے فرمایا (اَنْتِ مِنْ اَھْلِیْ ) (تم بھی میرے اہل میں سے ہو) اور ایک روایت میں ہے (فقلت وانا یا رسول اللّٰہ ؟ فقال ﷺ وانت) (ابن کثیر ج 3 ص 384، 385) (تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور تم بھی اہل بیت میں ہو۔ )
اس سے معلوم ہو کہ چادر اوڑھانے کا واقعہ ایک سے زیادہ مرتبہ پیش آیا، بعض مرتبہ (انک علی خیر) فرما دیا اور بعض مرتبہ (انت من اھلی) فرمایا اور بعض مرتبہ صرف وانت فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ نے بعض ایسے افراد کو بھی اہل بیت میں شمار فرمایا جن سے کوئی نسبی یا ازدواجی رشتہ نہ تھا چناچہ حضرت سلمان فارسی ؓ کے بارے میں فرمایا کہ (سلمان منا اھل البیت) 1 اور حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کے بارے میں ایسا فرمایا ہے، بس جب یہ حضرات اہل بیت میں شمار ہوسکتے ہیں تو آپ ﷺ کے ہمراہ گھروں میں ساتھ رہنے والی بیویاں کیونکر اہل بیت میں شامل نہ ہوں گی ؟
صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں : اس میں محقق بات یہ بھی ہے کہ آیت اور حدیث میں اہل بیت کا مفہوم متحد نہیں بلکہ حدیث میں عترت مراد ہے اور آیت میں یا تو عام مراد ہے جس کی ایک نوع تو آیت ہی کی مدلول ہے اور دوسری کا مدلول ہونا آپ ﷺ نے اپنے فعل سے ظاہر فرما دیا اور حضرت ام سلمہ ؓ کا (چادر میں) داخل نہ کرنا اس لیے ہوگا کہ تمہارا تو مدلول آیت ہونا ظاہر ہی ہے جن کا خفی 2 ہونا ہے ان کو ظاہر کرتا ہوں پھر تم کو اس کا اہتمام کیا ضرور اور خیر سے بھی مدلولیت مراد ہوگی۔ (قال الروح (ج 22 ص 15) وما اجاب بہ ام سلمۃ وعدم ادخلالھا فی بعض المرات تحت الکساء لیس لانھا لیست من اھل البیت اصلاً بل لظھور أنھا منھم حیث کانت من الازواج الاتی یقتضی سیاق الاٰیۃ وسباقھا دخولھن فیھم بخلاف من ادخلوا تحتہ ؓ فانہ ﷺ لو لم یدخلھم ویقل ما قال لتوھم عدم دخولھم فی الاٰیۃ لعدم اقتضاء سیاقھا وسباقھا ذٰلک) (تفسیر روح المعانی والے فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ ؓ کو جو جواب دیا گیا اور بعض دفعہ چادر کے تحت ان کو داخل نہ کرنا اس لیے نہیں تھا کہ وہ اہل بیت میں ہیں ہی نہیں بلکہ یہ تو اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے تھا کہ حضرت ام سلمہ تو ازواج میں سے ہیں جن کا اہل بیت میں داخل ہونا آیت کے سیاق سے ثابت ہے بخلاف ان حضرات کے جنہیں چادر کے تحت داخل کیا گیا اگر حضور ﷺ چادر کے تحت ان کو لا کر اور ان کے بارے میں اہل بیت کا لفظ نہ فرماتے تو اہل بیت میں سے ان کے نہ ہونے کا خیال ہوتا کیونکہ آیت کا سیاق وسباق ان کے اہل بیت میں سے ہونے کا تقاضا نہیں کرتا۔ )
Ayah 33:34آخر میں فرمایا : (وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ ) آیات اللہ سے قرآن حکیم اور حکمت سے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سنتیں مراد ہیں، جیسا کہ مفسرین نے تفسیر کی ہے، اور واذکرن کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ان چیزوں کو خود یاد رکھنا جن پر عمل کرنا ہے، دوسرے یہ کہ جو کچھ قرآن ان کے گھروں میں ان کے سامنے نازل ہو یا جو تعلیمات رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیں اس کا ذکر امت کے دوسرے لوگوں سے کریں اور ان کو پہنچائیں۔
جس طرح قرآن حکیم کی تعلیم اور تدریس لازم ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی تحدیث اور تبلیغ بھی ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید کے مجمل احکام کی رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے تشریح اور توضیح ہوتی ہے۔ اگر احادیث شریفہ کو سامنے نہ رکھا جائے تو پانچوں نمازوں کے اوقات اور زکوٰتوں کی مقادیر اور نصاب معلوم نہیں ہوسکتے اور حدیث نبوی پر عمل کیے بغیر قرآن کریم پر عمل نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کی کثرت میں جہاں دوسری حکمتیں ہیں وہاں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ حضرت ازواج مطہرات ؓ وارضاھن کے ذریعہ ان احکام شرعیہ کی تبلیغ ہوئی جو گھر میں رہتے ہوئے صادر ہوتے تھے اور خاص کر وہ احکام جن کا تعلق ازدواجی امور سے تھا۔
(اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا) یعنی اللہ تعالیٰ مہربان ہے تمہیں یہ مرتبہ عطا فرمایا کہ اپنے نبی کریم ﷺ کی زوجیت کا شرف اور ان گھروں میں تمہیں قیام نصیب فرمایا جن میں اللہ کی کتاب پڑھی جاتی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر بھی ہے تم جو خیر کے کام کرو گی اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے اور وہ اجر وثواب سے نوازے گا۔
1 ذکرہ صاحب الروح عن ابن عباس ؓ وعن قتادۃ قال وفسرت بنصائحہٖ (ج 22 ص 20) یہ روایت المعانی کے مصنف (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور حضرت قتادہ (رح) سے نقل کی ہے حضرت قتادہ نے فرمایا میں نے اہل بیت کی یہ تفسیر حضور ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں کی ہے۔
2 یعنی جن کا مدلول آیت ہونا خفی ہے۔