Ayahs 33:10–11دشمنوں کا خندق پار کرنے سے عاجز ہونا
خندق کو دیکھ کر مشرکین مسلمانوں تک پہنچ تو نہ سکے جس سے آمنے سامنے ہو کر دونوں لشکروں کی جنگ ہوتی لیکن اپنی جگہ سے جلدی واپس بھی نہیں ہوئے اپنی جگہ پر جمے رہے، ان کا اپنی جگہ پر جمے رہنا تقریباً ایک مہینہ تک تھا، گو وہ خندق پار نہیں آسکتے تھے لیکن انہیں چھوڑ کر چلے جانے کا بھی موقع نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ پر مقیم رہے، اس موقعہ پر مسلمانوں کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی، سردی بھی تھی، کھانے پینے کا انتظام بھی نہ تھا اور خندق بھی اس حال میں کھودی کہ بھوک کی وجہ سے پیٹوں پر پتھر بندھے ہوئے تھے پھر دشمن کے مقابلہ میں اتنا لمبا پڑاؤ ڈالنا پڑا۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن، اس وقت جو سخت مصیبت کا سامنا تھا اسے اللہ جل شانہ نے آیت بالا میں بیان فرمایا کہ دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے اور نیچے کی جانب سے بھی آگئے اور آنکھیں پھٹی رہ گئیں اور دل حلقوم کو پہنچ گئے جسے اردو کے محاورہ میں کہتے ہیں کلیجہ منہ کو آگیا، اس وقت مسلمان آزمائش میں ڈالے گئے اور سختی کے ساتھ جھنجھوڑ دئیے گئے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ (مِنْ فَوْقِکُمْ ) سے وادی کا اوپر کا حصہ مراد ہے جو مشرق کی جانب تھا اس جانب سے بنو غطفان اور ان کے ساتھی آئے تھے جن میں اہل نجد بھی تھے اور بنو قریظہ بھی تھے اور بنو نضیر بھی، اور (اَسْفَلَ مِنْکُمْ ) سے وادی کا نیچے والا حصہ مراد ہے جو مغرب کی جانب تھا اس جانب سے قریش مکہ، بنی کنانہ اور اہل تہامہ آئے تھے۔
(وَتَظُنُّوْنَ باللّٰہِ الظُّنُوْنَا) جو فرمایا اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ صیغہ خطاب مجموعی طور پر مدعیان اسلام کو شامل ہے جس میں مخلص اہل ایمان بھی تھے اور منافقین بھی، مومنین بھی، مومنین تو یہی گمان کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا اور نبی کریم ﷺ کی مدد فرمائے گا، اور منافقین دوسری قسم کا خیال کر رہے تھے وہ سمجھ رہے تھے کہ اب تو اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا اور یوں سمجھتے تھے کہ اتنے لوگوں سے جنگ کرنا ان تھوڑے سے مسلمانوں کے بس کی بات نہیں ہے (وقال بعضھم انہ خطاب للمؤمنین المخلصین وکانت ظنونھم من خاطر نفس وھواجسھا التی یوجبھا الخوف الطبیعی وھذا لا مؤاخذہ فیہ قال صاحب الروح بعد ھذا الذی ذکرنا او یقال : ظنونھم المختلفۃ ھی ظن النصر بدون نیل العدو منھم شَیْءًا وظنہ بعد النیل وظن الامتحان وعلیٰ ھذا لا یحتاج الی الاعتذار) (اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ (وَتَظُنُّوْنَ باللّٰہِ الظُّنُوْنَا) کا خطاب مومنین مخلصین سے ہے۔ مومنین مخلصین کے گمان دل کے خیالات تھے جن سے طبعی خوف پیدا ہوتا ہے اور ایسے گمانوں میں کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ روح المعانی والے نے اس کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا بعض نے کہا کہ ان کے اس طرح کے مختلف گمان مراد ہیں کہ دشمن سے لڑائی کے بغیر ہی مدد ہوجائے اور دشمن سے لڑائی کے بعد اور آزمائش کا گمان اور اس طرح کے گمانوں پر کسی معذرت کی ضرورت نہیں ہے۔ )
بعض کافروں کا مقتول ہونا
دشمن نے خندق کو پار کرنے کی ہمت تو نہ کی البتہ کچھ تیر اندازی ہوتی رہی، مشرکین میں سے چند آدمی اپنے گھوڑے لے کر خندق میں اتر گئے جنہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، ان میں سے ایک شخص عمرو بن عبدود بھی تھا، جنگ بدر میں اس نے سخت چوٹ کھائی تھی اس لیے جنگ احد میں شریک نہ ہوسکا تھا، غزوہ خندق کے موقعہ پر وہ خندق میں کو دا اور اس نے اپنی بہادری دکھانے کے لیے پکار کر کہا کہ (ھَلْ مَنْ یُّبَارِزُ ) یعنی مجھ سے کون مقابلہ کرتا ہے ؟ (اس وقت وہ ہتھیاروں سے لیس تھا) اس کو اہل عرب ہزار سواروں کے برابر سمجھتے تھے حضرت علی ؓ آپ ﷺ سے اجازت لے کر اس کے سامنے آئے عمرو بن عبدود نے کہا کہ تم کون ہو ؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ میں علی بن ابی طالب ہوں ! اس نے کہا کہ تمہاری عمر کم ہے میں اچھا نہیں سمجھتا کہ تمہارا خون بہاؤں، تمہارے چچاؤں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عمر میں تجھ سے بڑے ہیں ان میں سے کسی کو سامنے لاؤ، حضرت علی ؓ نے فرمایا لیکن مجھے تو یہ پسند ہے کہ تیرا خون بہاؤں، یہ بات سن کر وہ غصہ میں بھر گیا اور تلوار نکال کر حضرت علی ؓ کی طرف بڑھا اور حضرت علی ؓ نے اس سے مقابلہ کیا اور ڈھال آگے بڑھا دی، اس نے ایسے زور سے تلوار ماری کہ ڈھال کٹ گئی، پھر حضرت علی ؓ نے اس کے مونڈھے کے قریب تلوار ماری جس سے وہ گرگیا ، غبار بلند ہوا اور حضرت علی ؓ نے زور سے اللہ اکبر کہا، تکبیر کی آواز میں مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ حضرت علی ؓ نے دشمن کو ختم کردیا ہے، مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہمیں اس کی نعش دے دی جائے ہم اس کے عوض بطور دیت کے دس ہزار درہم دے دیں گے، بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے بارہ ہزار درہم کی پیشکش کی، آپ ﷺ نے جواب میں کہلوا دیا کہ تم اس کی نعش کو لے لو ہم مردوں کی قیمت نہیں کھاتے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ اس کی نعش دے دو اس کی نعش بھی خبیث ہے اس کی دیت بھی خبیث ہے۔ عمرو بن عبدود کے علاوہ دشمن کے اور بھی تین چار آدمی مارے گئے جن میں سے ایک یہودی کو حضرت صفیہ بنت عبد المطلب ؓ نے قتل کیا جو مسلمان عورتوں کے قلعہ کے باہر چکر لگا رہا تھا، مسلمانوں میں سے حضرت سعد بن معاذ ؓ کو ایک تیر آکر لگا جس نے ان کی اکحل نامی رگ کاٹ دی، انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اتنی زندگی اور نصیب فرما کہ بنی قریظہ (قبیلہ یہود) کی ذلت اور ہلاکت دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرلوں، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی جس کا تذکرہ غزوہ احزاب کے تذکرہ کے بعد آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ شہید ہونے والوں میں انس بن اوس اور عبد اللہ بن سہل اور طفیل بن نعمان، ثعلبہ ابن غنمہ اور کعب بن زید ؓ کے اسمائے گرامی ذکر کیے گئے ہیں۔
جہاد کی مشغولیت میں بعض نمازوں کا قضا ہوجانا
غزوہ احزاب کے موقعہ پر اس قدر مشغولیت اور پریشانی رہی کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکے، آپ نے بددعا دیتے ہوئے فرمایا : (ملاء اللّٰہ علیھم بیوتھم وقبورھم نارًا کما شغلونا عن الصلوٰۃ الوسطیٰ حتی غابت الشمس) (اللہ ان دشمنوں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھرے جیسا کہ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ سے ایسا مشغول رکھا کہ سورج بھی غائب ہوگیا) اس کے بعد آپ نے وضو فرمایا پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی، اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی، بعض روایات میں ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی چار نمازیں قضا ہوگئی تھیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء آپ ﷺ نے رات کا ایک حصہ گزر جانے پر ان کو اسی ترتیب سے پڑھا جس ترتیب سے قضاء ہوئی تھیں، (عشاء تو وقت عشاء ہی میں پڑھی گئی کیونکہ رات باقی تھی) البتہ جس وقت پڑھی جاتی تھی اس سے مؤخر ہوگئی تھی۔
رسول اللہ ﷺ کی دعا
رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب کوئی مشکل پیش آتی تھی نماز میں مشغول ہوجاتے تھے، غزوہ خندق کے موقعہ پر بھی آپ ﷺ دعائیں کرتے رہے، دشمنوں کے شکست خوردہ ہو کر بھاگنے سے پہلے تین دن تک خوب زیادہ دعا کا اہتمام کیا، صحیح بخاری ص 590 میں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مقابلے میں آنے والی جماعتوں کی شکست کے بارے میں یوں دعا کی (اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اَھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اَھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلَھُمْ ) (اے اللہ کتاب کے نازل فرمانے والے جلدی حساب لینے والے ان جماعتوں کو شکست دے اور ان کو ڈگمگا دے)
صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بھی کوئی دعا بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو (اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا) (اے اللہ ہماری آبرو کی حفاظت فرما اور ہمارے خوف کو ہٹا کر امن عطا فرما۔ )
دعا کی قبولیت اور دشمنوں کی ہزیمت
اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور سخت تیز ہوا بھیج دی جس سے دشمنوں کے خیمے اکھڑ گئے، چولہے بجھ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، ہوا تیز بھی تھی اور سخت سرد بھی، دشمنوں کی جماعتیں اس سے متاثر ہو کر بھاگ کھڑی ہوئیں، ابو سفیان جو اس وقت قریش مکہ کا قائد بن کر آیا تھا اس نے کہا تھا اے قریشیو ! اب یہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں رہا ہتھیار بھی ختم ہوچکے، جانور بھی ختم ہوچکے اور بنو قریظہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرچکے ہیں، ہوا کے تھپیڑوں کو تم دیکھ ہی رہے ہو، اب یہاں سے چلے جاؤ میں تو جا رہا ہوں، اس کے بعد ابو سفیان اپنے اونٹ پر بیٹھا اور چل دیا پھر قریش بھی چلے گئے، قبیلہ بنو غطفان کو قریش کی یہ حرکت معلوم ہوئی تو وہ بھی واپس ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنا انعام یاد دلایا اور فرمایا : (یٰٓاَیُّھَا الَّذیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَآءَ تْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) (اے ایمان والو اللہ کی نعمت جو تمہیں ملی اسے یاد کرو جبکہ تمہارے پاس لشکر آگئے سو ہم نے ان پر ہوا بھیج دی اور لشکر بھیج دئیے جو تم نے نہیں دیکھے) ” جن لشکروں کو نہیں دیکھا “ ان سے فرشتے مراد ہیں، اس موقعہ پر فرشتے نازل ہوئے تھے لیکن انہوں نے قتال میں حصہ نہیں لیا البتہ دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالنے کا کام کیا، جب ہوا کے تھپیڑوں سے عاجز آکر مشرکین بھاگ رہے تھے تو فرشتے تکبیر بلند کر رہے تھے اور یوں کہتے جا رہے تھے کہ بھاگ چلو یہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہوا کے ذریعہ دشمنان اسلام کو واپس کردیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اب یہ لوگ ہم سے لڑنے کے لیے نہ آئیں گے اور ہم ہی ان سے لڑنے کے لیے جائیں گے 1 چناچہ غزوہ خندق کے بعد دشمن مدینہ منورہ پر چڑھائی کا ارادہ نہیں کرسکے 8 ہجری میں مکہ معظمہ فتح ہوگیا اور اس کے بعد عرب کے لوگ مسلمان ہوگئے، جوق در جوق مدینہ منورہ میں ان کے وفود آتے تھے اور اسلام قبول کرتے تھے۔
بعض ان واقعات کا تذکرہ جو خندق کھودتے وقت پیش آئے
سخت بھوک اور سردی کا مقابلہ
جس وقت دشمن چڑھ آئے تھے اس وقت سخت سردی کا زمانہ تھا، کھانے پینے کا بھی معقول انتظام نہ تھا، بھوک کی مصیبت بھی درپیش تھی، رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس خندق کھودنے میں شریک تھے، حضرات صحابہ کرام ؓ بھی اس کام میں مشغول تھے، پیٹوں پر پتھر باندھ رکھے تھے، خندق کھودنی بھی پڑتی تھی اور اس کی مٹی بھی منتقل کرنی پڑتی تھی جسے اپنے کندھوں اور پشتوں پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے تھے، کھانے کے لیے ایک مٹھی جو لائے ہوتے تھے جنہیں ابال لیا جاتا تھا اور یہ ابلے ہوئے جو ایسے تیل یا چربی کے ساتھ سامنے رکھ لیے جاتے تھے جس میں بو آجاتی تھی اور اس کو کھانا بھی آسان نہ تھا مشکل سے گلے سے اترتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس موقعہ پر یہ پڑھتے جاتے تھے (اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃِ فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃِ ) (اے اللہ زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے سو آپ انصار اور مہاجرین کو بخش دیجیے) آپ ﷺ کی یہ بات سن کر صحابہ کرام ؓ جواب میں یوں کہتے تھے۔
نَحْنُ الَّذِیْ بَایعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
(ہم وہ ہیں جنہوں نے جہاد پر محمد سے بیعت کی ہے ہم جب تک بھی زندہ رہیں ہماری بیعت باقی ہے)
رسول اللہ ﷺ خندق کھودنے میں شریک تھے اور مٹی منتقل کرنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے شکم مبارک پر اتنی مٹی لگ گئی کہ کھال دیکھنے میں نہیں آتی تھی، اس موقعہ پر آپ ﷺ یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے جو حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کے شعر ہیں۔
1 البدایہ والنہایہ، سیرت ابن ہشام، معالم التنزیل۔
(1)
اَللّٰھُمَّ لو لا انت ما اھتدینا
ولا تصدقنا ولا صلینا
(2)
فانزلن سکینۃ علینا
وثبت الاقدام ان لاقینا
(3)
ان الا لی قد بغوا علینا
وان ارادوا فتنۃ اَبَیْنَا
(1) اے اللہ اگر آپ ہدایت نہ دیتے تو ہم ہدایت نہ پاتے، اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔
(2، 3) سو ہم پر اطمینان نازل فرمائیے، اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھئے اگر ہماری مڈبھیڑ ہوجائے۔
آخری کلمہ اَبَیْنا کو رسول اللہ ﷺ بلند آواز سے پڑھتے تھے 1 اور اس کلمہ کو دہراتے تھے۔ 2
رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کہ مسلمان فلاں فلاں علاقوں پر قابض ہوں گے
خندق کھودتے وقت ایک یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک ایسی سخت چٹان برآمد ہوئی جس کا توڑنا حضرات صحابہ ؓ کے بس سے باہر ہوگیا، صحابہ کرام ؓ نے آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ میں اس میں اترتا ہوں، آپ ﷺ نے پھاوڑہ لے کر اس میں مارا جس سے وہ ریت کا ڈھیر بن گیا۔ بعض روایات میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے اس چٹان میں پھاوڑہ مارا تو ضرب لگنے کی وجہ سے ایک ایسی تیز روشنی ظاہر ہوگئی جس سے مدینہ منورہ کی دونوں جانب روشنی ہوگئی، ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے اندھیری رات میں چراغ جل گیا ہو، اس پر آپ ﷺ نے فتح یابی ظاہر کرنے والی تکبیر کہی اور مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر کہا، حضرت سلمان فارسی ؓ اور دیگر صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیا روشنی تھی جو بار بار ظاہر ہو رہی تھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب پہلی بار روشنی ہوئی تو اس میں مجھے حیرہ شہر کے محلات اور کسریٰ کے شہر ظاہر ہوگئے، مجھے جبریل نے بتایا کہ آپ کی امت ان پر غلبہ پائے گی اور دوسری بار جو چمک ظاہر ہوئی اس سے روم کی سرزمین کے سرخ محلات ظاہر ہوگئے مجھے جبرئیل نے بتایا کہ میری امت ان پر غلبہ پائے گی اور تیسری بار جو روشنی چمکی اس سے مجھے صنعاء کے محلات ظاہر ہوئے (جو یمن کا مشہور شہر ہے) جبریل نے مجھے بتایا کہ میری امت ان پر بھی غلبہ پائے گی لہٰذا تم خوش ہوجاؤ، اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور یقین کرلیا کہ یہ سچا وعدہ ہے اور پورا ہو کر رہے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے جب مذکورہ بالا شہروں کو فتح ہونے کی خبر دی تو منافقین کہنے لگے کہ ان کو دیکھ لو یثرب سے ان کو حیرہ اور کسریٰ کے محل نظر آ رہے ہیں اور یہ خبر دی جا رہی ہے کہ تم انہیں فتح کرو گے اور حال یہ ہے کہ تم لوگ خندق کھود رہے ہو یعنی مصیبت میں گرفتار ہو۔
اور بعض روایات میں یوں ہے کہ جب آپ نے بسم اللہ پڑھ کر پہلی بار ضرب ماری تو اس چٹان کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا آپ نے فرمایا اللّٰہُ اَکْبَرْ مجھے ملک شام کے خزانے دے دئیے گئے، پھر دوبارہ ضرب ماری تو اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا اور فرمایا اللہ اکبر مجھے ملک فارس کی چابیاں دے دی گئیں ساتھ ہی آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا اللہ کی قسم ! شام کے سرخ محل اور مدائن کا سفید محل اور صنعاء کے دروزے ابھی یہیں اسی وقت دیکھ رہا ہوں۔
حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں جب یہ شہر فتح ہوتے جاتے تھے تو حضرت ابوہریرہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جس ذات کے قبضہ میں ابوہریرہ کی جان ہے اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم نے جن شہروں کو فتح کرلیا اور قیامت تک جن شہروں کو فتح کرو گے ان سب کی چابیاں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی سے دے دی گئی تھیں، یعنی آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خوشخبری دے دی گئی تھی کہ آپ کی امت ان کو فتح کرے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ یہ بھی فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں اب تم ان کو حاصل کر رہے ہو۔ (البدایہ النہایہ ج 4 ص 99 تا 102)
1 صحیح بخاری ج 2 ص 588۔ 589۔
2 مشکوٰۃ المصابیح (باب البیان والشعر)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم قیصر و کسریٰ کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے مشارق اور مغارب مجھے عطا فرما دئیے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے میری امت کا ملک وہاں تک پہنچ جائے گا۔
حضرت جابر ؓ کے ہاں ضیافت عامہ
حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ خندق کھودتے وقت جب ایک سخت چٹان پیش آگئی تو صحابہ کرام ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایسی جگہ نکل آئی ہے جس کی مٹی بہت سخت ہے (جو ہمارے قابو میں نہیں آرہی) آپ ﷺ نے فرمایا میں اترتا ہوں اس کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کی شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا اور بھوک کا یہ عالم تھا کہ ہم نے تین دن سے کچھ بھی نہیں چکھا تھا آپ نے پھاؤڑا لیا اور اس سخت زمین میں مارا جس کی وجہ سے ایسا ہوگیا جیسے ریت کا ڈھیر ہو وہ خود ہی پھسلا جا رہا تھا۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لی کہ ذرا گھر ہو آؤں، آپ نے اجازت دے دی، میں اپنے گھر گیا اور بیوی سے کہا کہ تمہارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز ہے ؟ میں نے محسوس کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سخت بھوک کی حالت میں ہیں، اسی پر میری بیوی نے چمڑے کا ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع یعنی تین کلو کے لگ بھگ جو تھے، اس کے علاوہ ہماری ایک چھوٹی سی پالتو بکری بھی تھی میں نے اسے ذبح کیا اور میری اہلیہ نے جو پیسنا شروع کیے اتنے میں میں نے بکری کی بوٹیاں بنا کر ہانڈی میں ڈالیں وہ جو پیسنے سے فارغ ہوگئی، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جانے لگا تو وہ کہنے لگی جا تو رہے ہو رسول اللہ ﷺ کے سامنے مجھے رسوا مت کرنا (ایسا نہ ہو کہ زیادہ افراد آجائیں) میں حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہم نے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے آپ تشریف لے چلیں اور اپنے ہمراہ ایک دو آدمی اور لے لیں، آپ ﷺ نے فرمایا کتنا کھانا ہے ؟ میں نے پوری صورت حال عرض کردی، آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو بہت ہے، پھر آپ نے زور سے اعلان فرمایا کہ خندق والو ! آجاؤ جابر نے کھانا تیار کیا ہے، آپ ﷺ مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے، آپ آگے تشریف لا رہے تھے اور حضرات صحابہ ؓ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، میں جلدی سے اپنی بیوی کے پاس پہنچا اور پوری کیفیت بیان کردی (کہ مجمع کثیر آ رہا ہے) اس پر وہ ناراض ہوئی اور کہا کہ وہی ہوا نا ! جس کا مجھے اندیشہ تھا، میں نے کہا تھا کہ مجھے رسوا مت کرنا ! پھر کہنے لگی اچھا تم نے رسول اللہ ﷺ کو سب بات بتادی تھی ؟ میں نے کہا کہ ہاں میں نے سب کچھ بتادیا تھا۔ 1 آپ تشریف لائے تو جو گوندھا ہوا آٹا تھا اس میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر ہانڈی کی طرف توجہ فرمائی اور اس میں بھی لعاب مبارک ڈال دیا اور برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا کہ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لو اور ہانڈی کو چولہے سے مت اتارو، حضور اکرم ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ تم گھر میں آجاؤ کھچ بچ میں مت بیٹھو، چناچہ صحابہ کرام ؓ بیٹھ گئے اور روٹی پکتی رہی جو آپ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوتی رہی، آپ روٹی توڑ توڑ کر اس پر گوشت کی بوٹیاں رکھ کر اور شوربا بھر بھر کر حاضرین کو دیتے رہے یہاں تک کہ سب نے پیٹ بھر کر کھالیا، حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ کھانے والے ہزار آدمی تھے میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ انہوں نے خوب کھایا اور سیر ہو کر واپس چلے گئے اور ہماری ہانڈی کا یہ حال تھا کہ جیسی تھی اسی طرح ابل رہی تھی اور ہمارا آٹا جیسا تھا ویسا ہی رہا (گویا اس میں سے کچھ بھی خرچ نہیں ہوا) آپ ﷺ نے میری بیوی سے فرمایا کہ یہ بچا ہوا کھانا خود کھالو اور (پڑوسیوں کو بھی) ہدیہ دو کیونکہ لوگ بھوک کی مصیبت میں مبتلا ہیں۔ (صحیح بخاری جلد 2 ص 588، 589)
اسی طرح کا ایک واقعہ حافظ ابن کثیر ؓ نے بحوالہ محمد بن اسحاق یوں بیان کیا ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی بہن نے بیان کیا کہ میری والدہ نے مجھے لپ بھر کر کھجوریں دیں جو میرے کپڑے میں ڈال دیں اور کہا کہ اے میری بٹیا جاؤ اسے اپنے والد اور اپنے ماموں عبد اللہ
1 البدایہ والنہایہ جلد 4 ص 98 میں بحوالہ دلائل النبوۃ للبیہقی یہ بھی اضافہ ہے کہ یہ سن کر وہ کہنے لگی کہ بس پھر تو اللہ اور اس کا رسول ہی جانیں۔
بن رواحہ کے پاس لے جاؤ تاکہ وہ صبح کے وقت ان کو کھالیں (یہ دونوں حضرات بھی خندق کھودنے میں مشغول تھے) میں یہ کھجوریں لے کر روانہ ہوئی، اپنے والد اور ماموں کی تلاش میں تھی کہ اسی اثناء میں رسول اللہ ﷺ پر میرا گذر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے بٹیا ! یہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ یہ کچھ کھجوریں ہیں جو میری والدہ نے بھیجی ہیں تاکہ اپنے والد اور اپنے ماموں کو دے دوں ! حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کو یہاں لاؤ، میں نے وہ کھجوریں آپ ﷺ کی ہتھیلیوں میں ڈال دیں، وہ اتنی کم تھیں کہ ان سے آپ کی دونوں ہتھیلیاں نہ بھر سکیں، آپ ﷺ نے ایک کپڑا بچھانے کا حکم دیا پھر وہ کھجوریں اس پر پھیلا دیں اور ایک شخص سے فرمایا کہ اونچی آواز میں خندق والوں کو پکارو کہ آجاؤ صبح کا کھانا کھالو، خندق کے کام میں جو حضرات مشغول تھے حاضر ہوئے اور ان کھجوروں میں سے کھاتے رہے یہاں تک کہ سب فارغ ہو کر واپس ہوگئے۔ (قال ابن کثیر فی البدایۃ وانھایۃ ج 4 ص 199 ھکذا رواہ ابن اسحاق وفیہ انقطاع)
Ayah 33:12منافقین کی بد عہدی اور شرارتیں
یہ نو آیات کا ترجمہ ہے جس میں منافقین کی قولی اور عملی غداری کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کی مخالفانہ اور بزدلانہ حرکتوں کو بیان کیا ہے۔
پہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا (جو ضعیف الاعتقاد تھے) انہوں نے یوں کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ محض ایک دھوکہ ہے، مفسرین نے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خندق کھودتے وقت بشارت دی کہ تم حیرہ کے محل اور کسریٰ کے شہر اور یمن کے شہر اور روم کے محل فتح کرو گے، تو اس پر منافقین نے کہا لو دیکھ لو ! یہاں کیا مصیبت پڑی ہوئی ہے، خندق کھودی جا رہی ہے، ذرا بھی باہر نہیں جاسکتے، اگر یہاں سے جائیں تو قتل ہوجائیں حال تو یہ ہے لیکن بشارتیں یوں دی جا رہی ہیں کہ یوں شہر فتح ہوں گے اور ایسے محلات پر قبضہ ہوگا، کچھ نہیں یہ سب دھوکہ ہی دھوکہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ ) نازل فرمائی۔
یہاں جو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تو رسول اللہ ﷺ کو دل سے مانتے ہی نہیں تھے پھر انہوں نے (مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ) کیسے کہا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منافق کا کوئی دین نہیں ہوتا وہ نہ دیکھی باتیں کرتا ہے، کیونکہ وہ لوگ بظاہر اسلام کے مدعی تھے اور حضرات صحابہ ؓ کے سامنے یہ بات کہہ رہے تھے اس لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا کہ آپ کو رسول ماننے کا دم بھریں لیکن انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دھوکہ دہی کی نسبت کریں گے تو مسلمان ہمیں کیسے مسلمان مانیں گے۔
Ayah 33:13دوسری آیت میں منافقوں کی ایک جماعت کی یہ بات نقل فرمائی ہے کہ انہوں نے اس موقع پر یوں کہا کہ اے یثرب والو یعنی مدینے میں سکونت کرنے والو ! یہاں ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے لہٰذا اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوجاؤ کیونکہ بظاہر قتل ہونے کی صورت بن رہی ہے، اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ گے تو قتل ہونے سے بچ جاؤ گے ورنہ تمہیں بھی یہیں موت کے منہ میں جانا پڑے گا۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بات رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہی تھی۔ مفسرین نے (لَامُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا) کا ایک مطلب تو وہی لکھا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا، اور بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اب محمد ﷺ کے دین میں رہنے کا موقع نہیں رہا لہٰذا تم اپنے پرانے دین شرک پر واپس ہوجاؤ۔ اور ایک مطلب یہ لکھا ہے کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ سے تم نے جو بیعت کی ہے اس سے واپس ہوجاؤ اور انہیں دشمنوں کے حوالے کردو۔
یثرب مدینہ منورہ کا سابق نام ہے، بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ عمالقہ میں سے ایک شخص کا نام یثرب تھا اسی کے نام پر یہ نام رکھا ہے، چونکہ (ثَرَبَ یَثْرِبُ ) ملامت کرنے کے معنی میں آتا ہے اس لیے اب اس کو اس نام سے یاد کرنا ممنوع ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے (مَنْ سَمَّی الْمَدِیْنَۃَ یَثْرِبْ فَلْیَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ تَعَالیٰ ھِیَ طَابَۃٌ ھِیَ طَابَۃٌ ھِیَ طَابَۃٌ) (یعنی جو شخص مدینہ کو یثرب کے نام سے یاد کرے وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے، یہ طابہ ہے، یہ طابہ ہے، یہ طابہ ہے) یعنی عمدہ ہے مبارک ہے اچھا شہر ہے۔ (رواہ احمد فی مسند عن البراء بن عازب ؓ
رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اس شہر کا نام مدینہ منورہ ہی مشہور ہوگیا اگرچہ اس کے علاوہ اس کے اور بھی نام ہیں۔
آیت بالا میں بعض منافقوں کے اجازت لینے کا بھی ذکر ہے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں واپس ہونے کی اجازت دے دی جائے کیونکہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، چھوٹی چھوٹی دیواریں ہیں، چوروں کا خوف ہے، جب یہاں آگئے تو وہاں کوئی حفاظت کا انتظام بھی نہیں اور وہاں دشمنوں کے پہنچنے کا ڈر ہے کیونکہ خندق کی جگہ سے دور ہیں۔ مفسرین نے بتایا ہے کہ جب منافقوں نے یہ کہا کہ اے یثرب والو ! یہاں سے چلے جاؤ ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے، تو ان کی باتوں میں آکر قبیلہ بنو حارثہ اور بنو سلمہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر واپس ہونے کی اجازت طلب کرلی تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا (وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ ) (یہ بات نہیں ہے کہ ان کے گھر غیر محفوظ ہیں) (اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا) (ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ بھاگ جائیں۔ )
Ayah 33:14تیسری آیت میں ان لوگوں کی فتنہ پردازی کا تذکرہ فرمایا (وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْھِمْ مِّنْ اَقْطَارِھَا) (الآیۃ) (اگر مدینہ کے اطراف سے کوئی لشکر ان پر گھس آئے پھر ان سے فتنے کا سوال کیا جائے تو یہ ضرور فتنے کو منظور کرلیں گے) مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ کرکے آپ ﷺ سے اجازت لے کر راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ شریک قتال ہونے سے منہ موڑنا ہے۔ اگر کافروں کا کوئی لشکر ان کے پاس پہنچ جائے اور وہ ان سے یہ کہے کہ چلو مسلمانوں سے لڑو تو یہ ضرور ان کی بات مان لیں گے اور اپنے گھروں میں بہت ہی کم ٹھہریں گے بس کافروں کے کہتے ہی چل پڑیں گے یا اتنی دیر لگائیں گے جتنی دیر میں ہتھیار لے لیں، اس وقت انہیں گھروں کی حفاظت کا خیال بالکل نہیں رہے گا، انہیں مسلمانوں سے دشمنی ہے اور کافروں سے محبت ہے۔ (قال صاحب الروح ان طلبھم الاذن فی الرجوع لیس لاختلال بیوتھم بل لنفاقھم وکراھتھم نصرتک) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں ان کا واپسی کی اجازت مانگنا واقعتہً کوئی گھروں کے نقصان کے اندیشہ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ان کے منافق ہونے اور تیری مدد کو ناپسند کرنے کی وجہ سے تھا۔ )
آیت کریمہ کی دوسری طرح بھی تفسیر کی گئی ہے، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں، (والوجوہ المحتملۃ فی الاٰیات کثیرۃ کما لا یخفیٰ من لہ ادنیٰ تأمل وما ذکرناہ اولاً ھو الاظھر فی ما أریٰ ) (آیات میں کئی سارے احتمالات موجود ہیں جیسا کہ ذرا غور بھی کرنے والے آدمی پر مخفی نہیں ہے جو ہم نے سب سے پہلے توجیہ ذکر کی ہے میرے خیال میں وہی زیادہ راجح ہے۔ )
Ayah 33:15چوتھی آیت میں بھی انہیں لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے گھروں کے خالی ہونے کا بہانہ کرکے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے اجازت طلب کی تھی، ارشاد فرمایا : (وَلَقَدْ کَانُوْا عَاھَدُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ ) (الآیۃ) یعنی ان لوگوں نے اس سے پہلے عہد کیا تھا کہ پشت پھیر کر نہ جائیں گے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بنو حارثہ کا ذکر ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے قبیلہ بنو سلمہ مراد ہے، یہ لوگ غزوہ احد کے موقع پر بزدلی دکھا چکے تھے پھر توبہ کرکے شریک ہوگئے تھے اور خندق کا واقعہ پیش آنے سے پہلے عہد کیا تھا کہ راہ فرار اختیار نہ کریں گے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ میں ان منافقوں کا ذکر ہے جو غزوۂ بدر کی شرکت سے رہ گئے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے وہاں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور کافروں کو بری طرح شکست دی تو یہ کہنے لگے افسوس ہم شریک نہ ہوئے، اگر ہم شریک ہوتے تو یوں کرتب دکھاتے اور ایسا ویسا کرتے، آئندہ جب کوئی جہاد کا موقع ہوگا تو ہم اپنی بہادری کے جوہر دکھائیں گے، جب غزوۂ خندق کا موقع آیا تو ان کے سارے دعوے اور معاہدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور فرار کی راہیں اختیار کرنے لگے، (وَکَانَ عَھْدُ اللّٰہِ مَسْءُوْلًا) (اور اللہ سے جو عہد کیا جاتا ہے اس کی باز پرس ہوگی) عہد کی خلاف ورزی اور عہد شکنی کرکے سزا کے مستحق ہوچکے ہیں۔
Ayahs 33:16–18پانچویں اور چھٹی آیت میں راہ فرار اختیار کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی کہ اگر تم موت سے یا قتل کے ڈر سے بھاگ گئے تو تمہارا یہ بھاگنا تمہیں نفع نہ دے گا، اگر بھاگ گئے تو کتنا جیو گے ؟ اجل مقررہ کے مطابق موت تو آہی جائے گی اور عمر کا جو بقیہ حصہ ہے اس سے بھی زیادہ نفع حاصل نہیں کرسکتے، بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی کیونکہ اس کا وقت مقرر ہے۔
مزید فرمایا کہ ہر چیز کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے اگر تم بھاگ گئے اور جہاں پہنچے وہاں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہلاک فرما دیا تو تمہیں اللہ سے کون بچا سکتا ہے ؟ اور وہ تم پر اپنا فضل فرمائے مثلاً تمہیں زندہ رکھے جو کہ ایک دنیاوی رحمت ہے تو اسے اس سے کون روک سکتا ہے ؟
ساتویں اور آٹھویں آیت میں بھی ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو دوسروں کو شرکت جہاد سے روک رہے تھے اور مسلمانوں کے حق میں اپنے قول اور فعل سے برا کردار ادا کر رہے تھے، ارشاد فرمایا اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو جنگ میں شریک ہونے سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ایک مخلص مسلمان غزوۂ خندق کے موقع پر اپنے سگے بھائی کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ بھنا ہوا گوشت کھا رہا ہے اور اس کے پاس نبیذ (کھجوروں کا میٹھا پانی) پڑا ہے، یہ شخص منافق تھا، مخلص مسلمان (اس کا بھائی) جو اس کے پاس سے گزر رہا تھا، نے اس سے کہا تو یہاں ہے ؟ اور رسول اللہ ﷺ نیزوں اور تلواروں کے درمیان ہیں، اس پر بھنا ہوا گوشت کھانے والے شخص نے کہا کہ تو بھی میرے پاس آجا کہ اب تو تم لوگ ایسے گھیرے میں آگئے ہو کہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مخلص مسلمان نے کہا کہ تو جھوٹا ہے اللہ کی قسم میں تیری بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو کردوں گا، یہ صاحب امام الانبیاء ﷺ کی خدمت عالی میں پہنچے تو دیکھا کہ جبریل (علیہ السلام) یہ آیت کریمہ (قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْکُمْ ) لے کر نازل ہوچکے ہیں۔
اور صاحب معالم التنزیل نے (جلد 3 صفحہ 518) لکھا ہے کہ یہودیوں نے منافقوں کو کہلا بھیجا کہ تم لوگ ابو سفیان اور اس کی جماعت اور دوستوں کے ہاتھ پر کیوں اپنی جان کو تباہ کر رہے ہو، اگر اس مرتبہ انہوں نے تم پر قابو پالیا تو تم میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے، ہمیں تم پر ترس آ رہا ہے تم ہمارے بھائی ہو اور پڑوسی ہو ہمارے پاس آجاؤ، (اس صورت میں اخوان سے برادر نسبتی نہیں بلکہ برادر وطنی مراد ہوں گے) یہود کی باتوں سے متاثر ہو کر رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی مومنین و مخلصین کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں جنگ کرنے سے روکنے لگے اور خوف زدہ کرنے لگے کہ دیکھو اگر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں نے تم پر قابو پالیا تو تم میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے، تمہیں محمد (e) سے کس خیر کی امید ہے اس کی جنگ کا تو یہ حاصل ہے کہ ہم سب یہیں مقتول ہوجائیں گے، چلو ہم اپنے یہودی بھائیوں کے پاس چلے چلیں، منافقوں کی یہ بات سن کر اہل ایمان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا اور ان میں ثواب کی امید اور زیادہ پکی ہوگئی۔
(وَلَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًا) (اور یہ لوگ یعنی منافقین لڑائی کے موقع پر جو حاضر ہوجاتے ہیں ان کا یہ حاضر ہونا بس ذرا سا نام کرنے کو ہے)
Ayahs 33:19–20(اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ ) (یعنی ان کا ذرا سا نام کرنے کے لیے آنا بھی تمہارے بارے میں بخل اختیار کرنے کے لیے ہے) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان جیت گئے اور انہیں غنیمت کا مال مل گیا تو ہم بھی استحقاق غنیمت کا دعویٰ کرسکیں گے۔
(فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ) (سو جب کوئی خوف کا موقع پیش آجاتا ہے تو آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو) (فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ ) (پھر جب خوف دور ہوجاتا ہے تو تمہیں تیز زبانوں سے طعنے دیتے ہیں) (اَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْرِ ) (ان طعنوں کا باعث یہ ہے کہ وہ مال کی حرص کے لیے آئے ہوتے ہیں) یعنی مال غنیمت لینے کے لیے دلخراش باتیں کرتے ہیں کہ ہمیں مال غنیمت میں کیوں نہیں شریک کرتے ہم بھی تو جنگ میں شریک تھے، ہماری وجہ ہی سے تو تمہیں یہ فتح میسر ہوئی ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بزدل بھی ہیں اور حریص بھی ہیں ان میں دونوں چیزیں انتہاء کو پہنچی ہوئی ہیں۔ صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں (فَھُمْ عِنْدَ الْغَنِیْمَۃِ اَشَحُّ قوم وَعِنْدَ الْبَعْثِ اجْبَنُ قَوْم) ۔
(اُولٰٓءِکَ لَمْ یُؤْمِنُوْا) (یہ لوگ ایمان نہیں لائے) (فَاَحْبَطَ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ ) (سو اللہ نے ان کے اعمال اکارت کردئیے) جن کا آخرت میں کچھ بھی ثواب نہ ملے گا۔ (وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا) (اور یہ اللہ کے لیے بالکل آسان ہے) یعنی اس سے کوئی شخص مزاحمت کرکے اپنے اعمال کا بدلہ نہیں لے سکتا۔
نویں آیات میں منافقین کی بزدلی کو مزید آشکارا فرمایا کہ باوجودیکہ قریش مکہ اور بنی غطفان اور دیگر جماعتوں کے گروہ واپس چلے گئے لیکن یہ لوگ ڈر رہے ہیں اور یوں کہہ رہے ہیں کہ وہ لوگ ابھی نہیں گئے۔ مذکورہ گروہ جا تو چکے ہیں لیکن اگر واپس آجائیں تو منافقین خوف اور بزدلی کی وجہ سے یوں آرزو کرنے لگیں کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہم دیہات میں چلے جاتے اور وہیں سے مسلمانوں کی خبریں معلوم کرتے رہتے کہ جنگ کا کیا انجام ہوا۔ (وَلَوْ کَانُوْا فِیْکُمْ مَّا قٰتَلُوْٓا اِلَّا قَلِیْلًا) اے مسلمانو ! یہ منافق اگر تمہارے اندر رہ جائیں تب بھی تمہیں فائدہ نہیں پہنچاسکتے بس نام کے لیے ذرا سی جنگ کرلیں گے جس سے ریا کاری مقصود ہوگی، ایک دو پتھر پھینک کر کہیں گے کہ ہم نے بھی تو جنگ میں شرکت کی تھی۔
Ayahs 33:21–22مومنین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اسوہ ہے اہل ایمان نے اللہ سے سچا وعدہ کیا اور اس پر پورے اترے
ان آیات میں اول تو اہل ایمان کو تلقین فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرتے رہیں، غزوہ احزاب میں بھی سب کو وہی کرنا لازم تھا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا، کسی کو اپنی جان بچا کر چلے جانا درست نہیں تھا۔ اس میں اہل ایمان کو تعلیم فرما دی کہ جیسے اب رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور اتباع کیا اسی طرح آئندہ بھی آپ کا اتباع کریں اور آپ کی ذات گرامی کو اپنے لیے اسوۂ حسنہ یعنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں، جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور یوم آخرت کی پیشی کا یقین رکھتے ہیں انہیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مومنین کی تعلیم و تلقین کے ساتھ ہی منافقین پر تعریض بھی ہے جنہوں نے ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود راہ فرار کو پسند کیا اور لوگوں کو غزوہ کی شرکت سے روکا۔ بات یہ ہے کہ صرف دعویٰ کچھ کام نہیں دیتا جب کسی کام کا دعویٰ کرے تو اس کو سچا کر دکھائے، منافقین دنیاوی مصالح کی بناء پر ایمان کا دعویٰ تو کر بیٹھے جب آزمائش آئی تو وعدہ کو نبھاہ نہ سکے، ان کا اعمال و اقوال سے جھوٹا ہونا صاف طریقے پر واضح ہوگیا۔
Ayah 33:23اس کے بعد مومنین صحابہ ؓ کی تعریف فرمائی کہ جب انہوں نے کافروں کے گروہوں کو دیکھ لیا کہ وہ باہمی مشورے کرکے آگئے ہیں تو انہوں نے کہا : (ھٰذا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ) (یہ وہ ہے جس کا اللہ نے اور اس کے رسول نے وعدہ فرمایا تھا) یعنی اہل ایمان کی جانچ اور امتحان کا جو قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر ہے اسی میں ایک یہ بھی امتحان و ابتلا ہے، دشمنوں کی آمد اہل ایمان کے لیے ایمان میں اضافہ کا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو زیادہ بشاشت کے ساتھ تسلیم کرنے کا سبب بن گئی، سورة بقرہ میں امتحان کا ذکر فرمایا ہے : (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفَِ والْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ ) (الآیۃ) اور سورة آل عمران میں فرمایا ہے : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ) اور سورة عنکبوت میں فرمایا ہے : ( الم اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ) اور فرمایا (وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ) ان آیات میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ اہل ایمان کا امتحان ہوگا اور مومنین و منافقین الگ الگ پہچان لیے جائیں گے۔
اس کے بعد ان مومنین کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے ایمان والے عام عہد اور اقرار کے علاوہ بھی کچھ عہد زائد کیا تھا، ان کے لیے فرمایا کہ بعض نے تو اپنی نذر پوری کردی یعنی معاہدہ کے مطابق جہاد میں شرکت کرکے شہید ہوگئے، ان کے بارے میں (فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَجْبَہٗ ) فرمایا۔ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں کہ جب موقع ہوگا اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کردیں گے۔
یہاں مفسرین کرام نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جو حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میرے چچا انس بن النضر ؓ غزوہ بدر کی شرکت سے رہ گئے تھے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ کا مشرکین سے جنگ کرنے کا یہ پہلا موقع تھا میں جس میں شریک نہ ہوا، اب اگر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جنگ کرنے کا موقع دیا تو میں جان جوکھوں میں ڈال کر دکھا دوں گا۔ جب غزوہ احد کا موقع آیا تو یہ اس میں شریک ہوگئے اور مسلمانوں کو جب ظاہری شکست ہوگئی تو بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ ایمان والوں نے جو کچھ کیا میں اس کی معذرت پیش کرتا ہوں اور مشرکین نے جو کچھ کیا میں اس سے برأت ظاہر کرتا ہوں، یہ کہہ کر آگے بڑھے، مشرکین کی طرف جا رہے تھے کہ راستہ میں حضرت سعد بن معاذ ؓ سے ملاقات ہوگئی اور ان سے کہا میرے رب کی قسم ! مجھے احد کے ورے جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے اس کے بعد لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب ان کی نعش ملی تو چونکہ مشرکین نے ان کے ناک کان کاٹ دئیے تھے جس سے چہرہ بدل گیا تھا اس لیے انگلیوں کے پوروں سے ان کی بہن نے انہیں پہچانا، شمار کیا تو دیکھا کہ ان کے جسم پر اسی سے کچھ اوپر تلوار، نیزہ اور تیر کے زخم تھے ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت یعنی (مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ) حضرت انس بن نضر اور ان جیسے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ذکرہ البغوی فی معالم التنزیل ج 2 ص 520، وذکرہ البخاری فی کتاب التفسیر من جامعہ ج 2 ص 705 قال انس بن مالک نریٰ ھٰذہ الاٰیۃ نزلت فی انس بن نضر)
حضرت انس بن مالک ؓ نے جو فرمایا کہ یہ آیت انس بن نضر اور ان جیسے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان اصحاب کے اسمائے گرامی جو مفسرین نے لکھے ہیں ان میں سید الشہداء حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ ہیں، بعض روایات میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو یہ بات پسند کرے کہ کسی ایسے شخص کو زمین پر چلتا پھرتا دیکھے جس نے اپنی نذر پوری کردی ہو تو وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھے (معالم التنزیل) حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ غزوہ احد اور غزوہ احزاب میں شہید نہیں ہوئے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں (مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ ) کا مصداق بتایا کیونکہ انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کو دشمنوں کے تیروں سے اپنے ہاتھ کے ذریعہ بچایا تھا یعنی ڈھال کی جگہ اپنے ہاتھوں سے کام لیا تھا جس کی وجہ سے ان کا ہاتھ شل ہوگیا تھا اور ان کے جسم میں ستر سے کچھ اوپر زخم آگئے تھے، اپنی طرف سے تو انہوں نے نذر پوری کر ہی دی اور شہید ہونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی دی اور جنگ جمل کے موقع پر 30 ہجری میں شہید ہوئے۔ صحابہ کرام کے دشمن ذرا غور تو کریں کہ انہوں نے کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں ؟
(وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا) (اور بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے کچھ بھی تبدیلی نہیں کی) یعنی جو حضرات ابھی زندہ ہیں اور شہادت کے منتظر ہیں اور اپنے عہد پر قائم ہیں اپنے عزم کو انہوں نے ذرا بھی نہیں بدلا،
Ayah 33:24(لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِھِمْ ) (تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے) یعنی غزوہ احزاب کا واقعہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ سچے اور مخلص مسلمانوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے۔ (وَیُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ ) (اور چاہے تو منافقین کو سزا دے) (اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ ) (یا ان کو توبہ کی توفیق دے اور وہ توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں اور زمانہ کفر میں جو انہوں نے حرکت کی وہ معاف ہوجائے (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) (بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے۔ )
فائدہ : (مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ ) ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر ذکر کیا ہے کہ اپنی نذر پوری کردی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ لفظ بطور استعارہ موت کے معنی میں آتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اپنے وعدہ کے مطابق کام کرکے دنیا سے چلے گئے، یہ دوسرا معنی مراد لینے میں بھی مطلب وہی نکلتا ہے کہ وہ اپنا کام کر گزرے اور دنیا سے چلے گئے۔
Ayah 33:25پھر فرمایا (وَ رَدَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِھِمْ ) (کہ کافر لوگ جو غصے میں بھرے ہوئے مدینہ منورہ پر چڑھ کر آئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں واپس لوٹا دیا) (لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا) (انہیں کوئی بھی خبر نہ ملی) یعنی جس فتح یابی کی امید پر غصہ میں بھرے ہوئے آئے تھے اس میں سے کچھ بھی نہ ملا اور ناکام و نامراد واپس ہوئے (وَکَفَی اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ ) (اور قتال کی جانب سے اللہ مومنین کے لیے کافی ہوگیا) یعنی مومنین کو جنگ نہ کرنی پڑی، اللہ تعالیٰ نے سخت تیز ٹھنڈی ہوا بھیج دی جس کی جہ سے دشمن بھاگ گئے اور مومنین صحیح سالم شہر مدینہ میں داخل ہوگئے۔ (وَکَان اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا) (اور اللہ قوت والا ہے غالب ہے) وہ جس طرح جس کی چاہے مدد فرما دے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔