Ayahs 26:214–222شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں
مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین اوپر جاکر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے اور کاہنوں کے کان میں ڈال دیتے تھے وہ اوپر سے سنی ہوئی خبر میں اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا دیتے تھے۔ اور ان میں سے جو کوئی بات صحیح نکل آتی تھی جو آسمان سے سنی ہوئی تھی وہ اس سے کاہنوں کے معتقد ہوجاتے تھے۔ شیاطین کاہنوں کے پاس آتے تھے۔ یہ کاہن خوب زیادہ جھوٹے بھی ہوتے تھے اور بہت بڑے بد کردار بھی، شیاطین کا کام جھوٹے اور بد کردار لوگوں کے پاس آنے کا ہے وہ نبی سے دوستی نہیں رکھتے، اور اس کے پاس نہیں آسکتے۔
Ayahs 26:223–224اس کے بعد شعراء کی مذمت فرمائی (وَالشُّعَرَاءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ) کہ شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلا کرتے ہیں (لہٰذا مشرکین کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ آنحضرت ﷺ شاعر ہیں) آپ تو حقائق کی دعوت دیتے ہیں اور شاعر جھوٹی باتیں کہتے ہیں آسمان اور زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں وہ گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ کو گمراہ ہی پسند کرتا ہے اور اس کے پیچھے چلتا ہے۔
Ayah 26:225اس کے بعد شاعروں کی بد حالی اور کذب بیانی کا حال بتایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ ) (اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ شاعر ہر وادی میں یعنی ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں) جھوٹی باتیں تلاش کرنے کے لیے ٹکریں مارتے ہیں اور ایسی چیز نکال کر لاتے ہیں جو ان کے متبعین کو پسند ہوں (وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لاَ یَفْعَلُوْنَ ) (اور وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے) روح المعانی ص 146 ج 19 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آیت کریمہ شعراء مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے کہا کہ محمد جس طرح باتیں بیان کرتے ہیں ہم بھی اسی طرح کہہ سکتے ہیں یہ لوگ فخر دو عالم ﷺ کی ہجو میں دیہاتیوں کے سامنے اشعار کہتے تھے وہ لوگ خوش ہوتے تھے۔ ان دیہاتیوں کو الغاؤن بتایا ہے۔
شاعر کی بےتکی باتیں، جھوٹی تعریفیں اور غلط تشبیہات اور مدح وذم میں کذب بیانی تو معروف ہی ہے، عارف گنجوی نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کیا ہی اچھی بات کہی کہ اکذب اواحسن اوست بعض اہل علم نے اردو میں اس کا مفہوم یوں ادا کیا ہے۔
حسن شعر کا گرسن لو یہ آج
جتنا ہو جھوٹ اس میں اتنا ہی بہترین ہے
عربی کا یہ شعر بھی سنا ہی ہوگا
لا تعجبوا من بلی علالتہ
قذروا زارہ علی القمر
فارسی کے اشعار بھی سنئے
اے آنکہ جزو لا یتجزی دہان تو
طولے کہ بیج عرض نہ دارد میان تو
بنطق کردہ نقطہء موہوم رادو نیم
اے آنکہ بودہ اس معجزنما بیان تو
Ayahs 26:226–227اس کے بعد مومنین صالحین کا استثناء فرمایا (اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) (یعنی جو لوگ شاعروں کی مذکورہ بالا جماعت سے خارج ہیں) چونکہ ان میں ایمان ہے اعمال صالحہ میں لگے رہتے ہیں اور اللہ کے ذکر میں کثرت سے مشغول رہتے ہیں اس لیے اگر شعر بھی کہتے ہیں تو جھوٹی بےتکی بہکی بہکی باتوں سے بچ کر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے ہیں اللہ سے لو لگانے کی ترغیب دیتے ہیں اشعار میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں اور اعمال صالحہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی مشرک اور کافر نے ان کی ہجو کردی یا دین کی کسی بات پر اعتراض کردیا جو ان پر ایک طرح کا ظلم ہے تو وہ بدلہ لینے کے طور پر کافروں کی ہجو کردیتے ہیں اور اس ہجو میں انہیں ثواب ملتا ہے کیونکہ یہ کام بھی اللہ کے لیے ہوتا ہے، حضرت حسان بن ثابت ؓ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے دفاع کرتے ہو جبرائیل (علیہ السلام) برابر تمہاری تائید میں لگے رہتے ہیں، حضرت حسان نے مشرکین کی خوب ہجو کی (کیونکہ وہ لوگ ظالم تھے) حضرت حسان ؓ کے اشعار کی وجہ سے دلوں میں یہ آرزو نہ رہی کہ کاش کوئی شخص مشرکین کی بےہودگی کا جواب دیتا کیونکہ یہ ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت ہے (رواہ مسلم) جب حسان بن ثابت ؓ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کرنے کے لیے اشعار کہتے تھے تو آپ ان کے لیے مسجد میں منبر بچھا دیتے تھے تاکہ اس پر کھڑے ہو کر اشعار پڑھیں (رواہ البخاری) معلوم ہوا کہ اگر شعر اچھا ہو تو اس کو پڑھنا جائز ہے بلکہ بعض مرتبہ ثواب ہے۔ مومن کے ہر کام میں نیک نیتی ہونی چاہیے حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اشعار کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا ھو کلام فحسنہ حسن و قبیحہ قبیح (یعنی شعر بھی ایک کلام ہے اس میں جو اچھا ہے وہ اچھا ہے۔ جو برا ہے وہ برا ہے) جس شعر میں جھوٹ ہو گمراہی کی باتیں ہوں غیبتیں ہوں تہمتیں ہوں اور اس کی وجہ سے نمازوں میں غفلتیں ہوں اور وہ مشاعرے جن میں باتیں بھی جھوٹی ہوں اور نمازیں بھی قضا ہوں یہ سب حرام ہیں اگر کوئی شخص سچا اور اچھا شعر پڑھ لے تو اس کی ممانعت نہیں ہے۔
سورت کے ختم پر فرمایا (وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ) (کہ جن لوگوں نے ظلم کیا یہ عنقریب جان لیں گے کہ انہیں کیسی بری جگہ لوٹ کر جانا ہے) اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو نبوت کے منکر رہے اور قرآن کی تکذیب کرتے رہے اور آنحضرت ﷺ کو ایذاء پہنچاتے رہے، یہ لوگ جب دوزخ میں داخل ہوں گے تو انہیں اپنا ٹھکانہ معلوم ہوجائے گا جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہوگا۔
و ھذا آخر تفسیر سورة الشعراء والحمد للہ ذی الجبروت و الکبریا، و الصلوۃ علی سید الرسل و الانبیاء و علی آلہ وصحبہ البررۃ الاصفیاء الاتقیاء