26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 26:106–123

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جبکہ ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے،

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے امانت والا پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو،

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا ثواب سو بس رب العالمین کے ذمہ ہے،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو،

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ تیرے پیچھے رذیل ترین لوگ لگے ہوئے ہیں،

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ مجھے ان کے کاموں کے جاننے کی کیا ضرورت ہے

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان سے حساب لینا تو میرے رب ہی کا کام ہے، کاش تم سمجھ رکھتے،

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں اللہ والوں کو دور کرنے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس واضح طور پر ڈرانے والا ہوں،

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا کہ اے نوح اگر تو باز نہ آیا تو ان لوگوں میں سے ہوجائیگا جنہیں سنگسار کردیا جاتا ہے،

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے عرض کیا کہ اے میرے رب بلاشبہ میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو آپ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیجیے اور مجھے اور جو ایمان والے میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے دیجیے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

سو ہم نے نوح کو اور اس کے ساتھیوں کو جو بھری ہوئی کشتی میں تھے نجات دیدی،

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا،

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بلاشبہ تیرا رب عزیز ہے رحیم ہے

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

قوم عاد نے پیغمبروں کو جھٹلایا

ٖٖحضرت ھود (علیہ السلام) کی بعثت، قوم عاد کی تکذیب اور بربادی مذکورہ بالا آیات میں حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ ذکر فرمایا ہے آپ قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ نے بھی ان سے وہ باتیں کیں جن کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں امانت دار ہوں تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو مجھے تم سے کچھ لینا نہیں ہے میرا اجر وثواب صرف اللہ کے ذمہ ہے قوم عاد بڑی سر کش قوم تھی ان کے ڈیل ڈول بھی بڑے تھے جس کو سورة اعراف میں (وَزَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَسْطَۃً ) سے تعبیر فرمایا ہے اور سورة فجر میں ان کے بارے میں (اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبَلاَدِ ) فرمایا ہے (ان جیسے لوگ زمین کے حصوں میں پیدا نہیں کیے گئے) یہ لوگ اونچی جگہوں پر یاد گار کے طور پر بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے جو ایک عبث اور فضول کام تھا ان چیزوں کی ضرورت بالکل نہ تھی محض فخر و شیخی میں اس طرح کی عمارتیں بناتے تھے (اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ ریعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ) میں اس کا تذکرہ فرمایا اس کا ایک مطلب تو یہی ہے کہ بلا ضرورت تعمیر کر کے فضول کام کرتے ہو اور علامہ قرطبی نے ایک مطلب یہ لکھا ہے کہ تم لوگ اوپر بیٹھ بیٹھ کر راہگیروں کا مذاق بناتے اور ان کے ساتھ مسخرہ پن کرتے ہو۔ اپنے رہنے کے لیے بھی یہ لوگ بڑے بڑے مضبوط محل بناتے تھے اور ان کا ڈھنگ ایسا تھا کہ گویا انہیں ہمیشہ دنیا ہی میں رہنا ہے اس کو فرمایا (وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ ) لعل عربی زبان میں ترجی کے لیے آتا ہے مطلب یہ ہے کہ تم یہ آرزو لیے بیٹھے ہو کہ دنیا میں ہمیشہ رہو گے اسی لیئے تو اتنی پختہ عمارتوں کے دلدادہ بنے ہوئے ہو، بعض حضرات نے لعل کو بمعنی کی بتایا ہے ای کی ما تخلدون لا تتفکرون فی الموت (یعنی تم اسی لیے مضبوط محل بناتے ہوتا کہ دنیا میں ہمیشہ رہو اسی لیے موت کے بارے میں فکر منہ نہیں ہوتے) اور حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کان کے معنی میں لیا ہے یعنی تم ایسے گھر بناتے ہو گویا کہ تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔
Ayahs 26:124–130

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی ھود نے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے امانت والا پیغمبر ہوں،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو،

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا ثواب تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے،

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم ہر اونچے مقام پر پر کھیل کے طور پر یادگار بناتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بڑے بڑے محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے،

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر گرفت کرتے ہو،

(وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ) (اور جب تم پکڑتے ہو تو بڑے جابر بن کر پکڑتے ہو) چونکہ وہ لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور انہیں اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ بھی تھا اس لیے انہوں نے از راہ تکبر یہاں تک کہہ دیا تھا (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ طاقت میں ہم سے بڑھ کر کون ہوگا) اپنے اسی گھمنڈ اور غرور کی وجہ سے جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت ظلم و زیادتی کرتے تھے بغیر کسی رحم کے ترس کھائے بغیر مارتے کاٹتے اور ظلم کرتے چلے جاتے تھے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں مسلطین غاشمین بلا رافۃ و لا قصد تادیب و لا نظر فی العاقبۃ۔
Ayah 26:131

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو،

حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو مزید سمجھایا اور فرمایا (فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ) (سو اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو)
Ayah 26:132

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں کے ذریعہ تمہاری امداد فرمائی جنہیں تم جانتے ہو

(وَاتَّقُوا الَّذِیْ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ) (اور اس ذات سے ڈرو جس نے ان چیزوں کے ذریعے تمہاری امداد فرمائی جنہیں تم جانتے ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور اس سے ڈرو اس کی نافرمانی نہ کرو
Ayah 26:133

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے چوپائے اور بیٹے کے ذریعہ تمہاری مدد فرمائی،

(اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّبَنِیْنَ وَجَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ) (اللہ تعالیٰ نے چوپایوں اور بیٹوں اور باغیچوں اور چشموں کے ذریعہ تمہاری امداد فرمائی) لہٰذا تم پر لازم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو اور نا شکری نہ کرو (اِِنِّی اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (بلاشبہ میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں) یعنی اگر تم نا شکری سے باز نہ آئے تو تم پر عذاب آجائے گا اور عذاب بھی معمولی نہ ہوگا جس دن عذاب آئے گا وہ دن عذاب کے اعتبار سے ایک بڑا دن ہوگا۔
Ayahs 26:134–136

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغات اور چشموں کے ذریعے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

بیشک میں تم پر ایک برے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے نزدیک تو دونوں باتیں برابر ہیں تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں سے نہ بنو،

(قَالُوْا سَوَاءٌ عَلَیْنَا) (الآیۃ) ان لوگوں نے جواب میں کہا کہ تمہاری و اعظانہ باتوں سے ہم متاثر ہونے والے نہیں تم ہمیں نصیحت کرو یا نہ کرو بہر حال ہم اپنی جگہ پر اٹل ہیں ہمیں بات ماننا نہیں ہے، اور یہ جو تم کہتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور قیامت کو مانو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں وہ بھی ایسی باتیں کہتے آئے ہیں اب تک قیامت آئی نہیں اور یہ جو تم عذاب والی بات کہتے ہو ہم اسے بھی نہیں مانتے ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اللہ پاک نے انہیں سخت آندھی کے ذریعہ ہلاک کردیا جس کا ذکر سورة حم سجدہ (ع 2) اور سورة الحاقہ (ع 1) سورة ذاریات (ع 2) سورة قمر (ع 1) اور سورة احقاف میں فرمایا ہے سات رات اور آٹھ دن لگا تار ٹھنڈی تیز ہوا چلتی رہی جس سے سب ہلاک ہوگئے مفصل واقعہ ہم سورة اعراف (ع 9) کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں۔
Ayahs 26:137–140

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی بات نہیں ہے کہ یہ پہلے لوگوں کی عادت ہے

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں،

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے ھود کو جھٹلایا سو ہم نے انہیں ہلاک کردیا بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے

(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔
Ayah 26:141

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

قوم ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا،

قوم ثمود کا حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلانا اور تکذیب و انکار کے جرم میں ہلاک ہونا اس رکوع میں قوم ثمود کی سر کشی اور بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے، یہ لوگ قوم عاد کے بعد تھے ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے انہوں نے ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی سمجھایا بجھایا، قوم عاد کی طرح ان لوگوں نے بھی ضد وعناد اور سرکشی پر کمر باندھ لی، حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں یہ بتایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں امین ہوں تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور یہ فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں خوب نعمتیں دی ہیں انہیں یاد کرو نا شکرے نہ بنو اس نے تمہیں باغ دیئے چشمے عطا فرمائے، کھیتیاں عنایت فرمائیں، کھجوروں کے باغ دیئے، ان کھجوروں کے گپھے گوندھے ہوتے ہیں جو خوب پھل لانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مزید یہ کرم فرمایا کہ تمہیں پہاڑوں کے تراشنے کی قوت اور ہمت عطا فرمائی تم پہاڑوں کو تراشتے ہو اور فخر کرتے ہوئے اور اتراتے ہوئے ان میں گھر بنالیتے ہو کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہمیشہ امن وامان اور چین و آرام میں رہو گے اگر تمہارا یہ خیال ہے تو غلط ہے دیکھو تمہیں مرنا بھی ہے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں پیش ہونا بھی ہے تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو، جن لوگوں نے تمہاری راہ مار رکھی ہے جو حد سے آگے نکل چکے ہیں زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے تم ان کی باتوں میں آکر اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو، تمہارے جو بڑے ہیں تمہارا ناس کھو رہے ہیں۔ وہ تمہیں حق قبول نہیں کرنے دیتے۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جواب دیا کہ ہمارے خیال میں تو صرف یہ بات ہے کہ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے اسی وجہ سے تم ایسی باتیں کر رہے ہو، اور یہ بات بھی ہے کہ تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو تمہارے اندر وہ کون سی بڑائی ہے جس کی وجہ سے تم رسول بنائے گئے ہو ؟ سورة القمر میں ہے کہ ان لوگوں نے کہا (اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُہٗ اِِنَّا اِِذًا لَّفِیْ ضَلاَلٍ وَّسُعُرٍ ءَاُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ بَیْنِنَا بَلْ ھُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ) (سو وہ کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کریں جو ہم ہی میں سے ایک شخص ہے اگر ہم ایسا کریں تو ضرور بڑی گمراہی اور دیوانگی میں پڑجائیں گے) کیا ہم سب کے درمیان سے اسی کی طرف وحی کی گئی ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے شیخی خورہ ہے) باتیں کرتے کرتے وہ لوگ یہاں تک آگے بڑھے کہ انہوں نے یوں کہہ دیا کہ اچھا کوئی خاص معجزہ پیش کرو اگر تم سچے ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ دیکھو یہ اونٹنی ہے اللہ کی طرف سے بطور معجزہ بھیجی گئی ہے (بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے خود ہی کہا تھا کہ ہم تو تمہیں اس وقت نبی مانیں گے جب تم پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھاؤ ان کو ہرچند سمجھایا کہ اپنا منہ مانگا معجزہ فیصلہ کن ہوتا ہے اگر تمہارے مطالبہ پر پہاڑ سے اونٹنی نکل آئی اور تم ایمان نہ لائے تو سمجھ لو کہ جلد ہی عذاب آجائے گا لیکن وہ نہ مانے) اللہ کے حکم سے پہاڑ سے اونٹنی بر آمد ہوئی یہ اونٹنی عام اونٹنیوں کی طرح نہ تھی اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی تھی اس کو بہت زیادہ پانی پینے کی ضرورت تھی ان لوگوں کو واضح طور پر بتادیا تھا (لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ) (اس کے لیے پانی پینے کا وقت مقرر ہے اور تمہارے لیے ایک دن کا پینا مقرر ہے) یہ اونٹنی کنویں میں منہ لٹکا کر اکیلی کنویں کا پانی پی جاتی تھی اور قوم ثمود کے لوگ روزانہ پانی نہیں پلا سکتے تھے خود ان کے لیے پانی بھرنے کا اور مویشیوں کو پانی پلانے کا دن مقرر کردیا تھا۔ پہلے تو اپنے منہ سے اونٹنی مانگی تھی پھر جب پانی کی تقسیم کا معاملہ در پیش ہوا تو ان لوگوں کو یہ بات کھلنے لگی اور اس اونٹنی کا وجود نا گوار ہوا اونٹنی کے قتل کرنے کا مشورہ کرنے لگے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کے ارادوں کی اطلاع ملی تو فرمایا اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا اگر تم نے ایسا کیا تو تمہیں درد ناک عذاب پکڑ لے گا، بالآخر عذاب آ ہی گیا اور وہ لوگ ہلاک کردیئے گئے ان لوگوں پر سخت چیخ کا اور زلزلہ کا عذاب آیا۔ اسی کو فرمایا (فَعَقَرُوْھَا فَاَصْبَحُوْا نَادِمِیْنَ فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابَ ) (سو انہوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا پھر پشیمان ہوئے پھر عذاب نے ان کو پکڑ لیا) سورة اعراف اور سورة ھود میں تفصیل گزر چکی ہے۔ (انوار البیان ص 456 ج 3 وص 509 ج 4) (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔