26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 26:35–52

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہاری سر زمین سے نکال دے۔ سو بتاؤ تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کو اور اس کے بھائی کو مہلت دو اور شہروں میں اپنے کارندوں کو بھیج دو جن کا یہ کام ہو کہ لوگوں کو جمع کریں

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

تمہارے پاس ہر بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

سو ایک مقررہ دن کے خاص وقت پر جادوگر جمع کیے گئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہونے والے ہو ؟

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید ہم جادو گروں کی راہ کو قبول کرلیں اگر وہ غالب ہو جائینگے

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب ہوگئے تو کیا یقینی طور پر ہمیں کوئی بڑا نعام ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں۔ اور اس میں شک نہیں کہ اس صورت میں تم مقرب لوگوں میں داخل ہوجاؤ گے۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ تم ڈال دو جو کچھ ڈالنے والے ہو۔

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور فرعون کی عزت کی قسم کھا کر بولے کہ بلاشبہ ہم ہی غالب ہونگے۔

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

سو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔ سو اچانک وہ ان لوگوں کے بنائے ہوئے دھندے کو نگلنے لگا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پھر جادوگر سجدے میں ڈال دیئے گئے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ بیشک بات یہ ہے کہ یہ تم سب کا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، سو یہ ضروری بات ہے کہ تم عنقریب جان لو گے کہ میں ضرور ضرور تمہارے ہاتھوں کو اور پاؤں کو مخالف جانب سے کاٹ دونگا اور ضرورضرور تمہیں سولی پر لٹکا دونگا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں۔ بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطاؤں کو اس وجہ سے بخش دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو ساتھ لے کر راتوں رات چلے جاؤ بلاشبہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا،

بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو سمجھ ہی چکے تھے گو زبان سے نہیں مانتے تھے جسے عناد ہو وہ حق کو حق سمجھ کر بھی باطل پر اڑا رہتا ہے، فرعون کو یہ خطرہ لا حق تھا کہ بنی اسرائیل ایک دن مصر کو چھوڑ کر چل دیں گے جب اس کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل نکل چکے ہیں تو اس نے اپنے ملک کے شہروں میں کارندے دوڑا دیئے جو ایسے لوگوں کو جمع کرکے لائیں جو اس بات کی کوشش میں مدد دے سکیں کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلنے نہ پائیں اور اس کے ساتھ ہی اپنی رعیت کو یہ بھی یقین دلایا کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں ہمیں ان پر قابو پانا آسان ہے۔ اول یہ ہماری رعایا ہیں دوسرے انہوں نے ایسی ایسی حرکتیں کی ہیں کہ انہوں نے ہمیں غصے میں ڈالا ہے ہم انہیں آزاد چھوڑنے والے نہیں ہیں اپنے ملک سے انہیں نہیں نکلنے دیں گے ہم ان کی طرف سے پوری طرح محتاط ہیں ان کے نکل جانے کا جو خطرہ ہے ہم ان سے غافل نہیں ہیں، یہ (حاذرون) کا ایک مطلب ہے، دوسرا مطلب صاحب روح المعانی نے بعض مفسرین سے (جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی ہیں) یہ نقل کیا ہے کہ ہم پوری طرح ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔ فرعون کو بنی اسرائیل کی روانگی کا پتہ چلا تو اس نے اپنے لشکروں کو جمع کیا جو بھاری تعداد میں تھے لشکروں کا جمع ہونا پھر بنی اسرائیل کا پیچھا کرنا اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ بنی اسرائیل سمندر کے کنارہ تک پہنچ چکے تھے ادھر فرعون اپنے لشکروں کے ساتھ پہنچا یہ ایسا وقت تھا کہ سورج کی روشنی پھیل چکی تھی بنی اسرائیل نے فرعون کو اور اس کے لشکروں کو دیکھا فرعون نے اور اس کے لشکروں نے بنی اسرائیل کو دیکھا، پہلی جماعت یعنی بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو دیکھ کر گھبرا اٹھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا (اِِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ) کہ ہم تو دھر لیے گئے دشمن اپنے لشکروں سمیت پہنچ گیا ہے ہم سے قریب تر ہے اب تو ہم پوری طرح ان کے نرغہ میں ہیں، سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو بالکل ہی مطمئن تھے انہوں نے فرمایا کَلَّا ہرگز نہیں (یعنی ہم پکڑے نہیں جاسکتے) ۔
Ayahs 26:53–62

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

پھر فرعون نے شہروں میں اہل کار بھیج دیئے،

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

بلاشبہ یہ تھوڑی یہ جماعت ہے

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور انہوں نے ہم کو غصہ دلایا ہے،

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم سب خطرہ رکھنے والے ہیں،

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا،

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں سے اور عمدہ جائے قیام سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

یہ بات اسی طرح سے ہے، اور یہ چیزیں ہم نے بنی اسرائیل کودے دیں

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

سو سورج نکلنے کے وقت ان کے پیچھے جا پہنچے

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتوں نے آپس میں ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا یہ یقینی بات ہے کہ ہم پکڑ لیے گئے،

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں بلاشبہ میرے ساتھ رب ہے، وہ مجھے ابھی راہ بتادے گا،

(اِِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ) (بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے ضرور راہ بتائے گا) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ سمندر میں اپنی لاٹھی مار دو چناچہ انہوں نے لاٹھی دریا پر مار دی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور جگہ جگہ پانی ٹھہر گیا اور راستے نکل آئے پانی کے ٹھہرنے سے جگہ جگہ جو ٹکڑے بنے وہ اتنے بڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو ان ٹکڑوں کے درمیان راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان راستوں سے پار ہوگئے فرعون جو اپنے لشکر کے ساتھ پیچھے آ رہا تھا اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سمندر تو کبھی ٹھہرا نہیں اس میں کبھی راستے نہیں بنے یہ راستے کیسے بن گئے ؟ اگر غور کرتا تو اس کی سمجھ میں آجاتا کہ یہ بھی حضرت موسیٰ کا ایک معجزہ ہے اور وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اگر اس وقت بھی ایمان لے آتا تو ڈوبنے کی مصیبت سے دو چار نہ ہوتا، لیکن اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنے لشکر کو لے کر بنی اسرائیل کے پیچھے سمندر میں داخل ہوگیا بنی اسرائیل پار ہو کر دوسرے کنارہ پر پہنچ گئے اور فرعون اپنے لشکروں سمیت ڈوب گیا جب اس کا پورا لشکر سمندر میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے سمندر کو حکم دے دیا کہ آپس میں پانی کے سب ٹکڑے مل جائیں اور جو خشک راستے بن گئے تھے وہ ختم ہوجائیں چناچہ سمندر کے ٹکڑے آپس میں مل گئے فرعون خود بھی ڈوبا اپنے لشکر کو بھی لے ڈوبا جب ڈوبنے لگا تو ایمان لے آیا اور کہنے لگا (اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ) (میں ایمان لایا کہ اس ذات کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں) اللہ پاک کا ارشاد ہوا (اآلْءٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (کیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ تو فساد کرنے والوں میں سے تھا) ۔ الحاصل اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام ساتھیوں کو نجات دیدی اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق فرما دیا۔ فرعون اپنی اکڑ مکڑ کے ساتھ یہ سمجھ کر نکلا تھا اور اپنے لشکروں کو ہمراہ لیا تھا کہ بنی اسرائیل کو ابھی ابھی پکڑ کرلے آئیں گے، اپنے باغوں کو اور چشموں کو اور خزانوں کو اور عمدہ مکانوں کو چھوڑ کر نکلے تھے اور خیال یہ تھا کہ ابھی واپس آتے ہیں، یہ خبر نہ تھی کہ اب لوٹنا نصیب نہ ہوگا۔ مذکورہ بالا تمام نعمتوں سے محروم ہوئے ڈوبے اور دریا برد ہوئے دنیا بھی گئی اور آخرت کا دائمی عذاب اس کے علاوہ رہا، فرعون جیسے دنیا میں بنی اسرائیل کو پکڑنے کے لیے اپنے لشکر سے آگے آگے جا رہا تھا اسی طرح قیامت کے دن دوزخ میں جاتے ہوئے اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا کما قال تعالیٰ ، فی سورة ھود (علیہ السلام) (یَقْدُمُ قَوْمَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَاَوْرَدَھُمُ النَّارَ ) (فرعون قیامت کے دن دوزخ کی طرف جاتے ہوئے اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا سو وہ انہیں دوزخ میں وارد کر دے گا) ۔ فرعون اور فرعون کے ساتھی باغوں اور چشموں اور خزانوں اور اچھے مکانوں سے محروم ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بنی اسرائیل کو عطا فرما دیں، صاحب روح المعانی (رح) نے بنی اسرائیل کو وارث بنانے کے بارے میں اولاً تو مفسر واحدی سے یوں نقل کیا ہے کہ جب فرعون اور اس کی قوم کے لوگ غرق ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو واپس مصر بھیج دیا اور قوم فرعون کے جو اموال اور جائیدادیں اور رہنے کے گھر تھے وہ سب بنی اسرائیل کو عطا فرما دیے حضرت حسن سے بھی یہی بات نقل کی ہے اور ایک قول یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ فرعون کے غرق ہونے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ واپس چلے گئے تھے اور وہاں جا کر قوم فرعون یعنی قبطیوں کے اموال پر قابض ہوگئے تھے اور باقی لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ شام کی طرف چلے گئے اور ایک قول یہ لکھا ہے کہ (وَ اَوْرَثْنَاھَا بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ ) کا یہ مطلب نہیں کہ سمندر سے نجات پانے کے بعد اسی وقت مصر کو واپس لوٹ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد انہیں مصر میں اقتدار مل گیا اور مذکورہ چیزیں ان کے قبضہ میں آگئیں لیکن اقتدار اور قبضہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا۔ احقر کے خیال میں یہی بات صحیح ہے کیونکہ آیتوں میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہو کہ انہیں فوراً ہی مصر میں اقتدار مل گیا اور اس قول کے مطابق جنات اور عیون اور کنوز کے بارے میں یوں کہا جائے گا کہ الفاظ جنس کے لیے استعمال ہوئے ہیں عین وہی چیزیں مراد نہیں ہیں جو فرعون اور ان کے ساتھیوں نے چھوڑی تھیں۔
Ayahs 26:63–67

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

سو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی لاٹھی مار دو ، سو وہ پھٹ گیا ہر حصہ اتنا بڑا تھا جیسے بڑا پہاڑ،

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور ہم نے اس موقعہ پر دوسروں کو قریب کردیا

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے سب کو نجات دی،

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے،

(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزت والا ہے رحمت والا ہے) وہ گرفت فرمانے پر بھی قادر ہے اور رحم بھی فرماتا ہے مومن بندوں کو اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے اور اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔
Ayahs 26:68–70

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب زبردست ہے رحمت والا ہے۔

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور آپ ان کے سامنے ابراہیم کا قصہ بیان کیجیے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور قوم سے کہا کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت بیان کرنا اور بارگاہ خداوندی میں دعائیں پیش کرنا یہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور قوم کی تبلیغ کا بیان شروع ہو رہا ہے آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء نقل فرائی ہے جو انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے کی تھی۔ انہوں نے اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا ان لوگوں نے جو بےت کے جواب دیئے اس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مواقع میں کیا گیا یہاں جو مکالمہ مذکور ہے قریب قریب اسی طرح کی گفتگو سورة الانبیاء (ع 5) میں بھی گزر چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے سے معلوم تھا کہ یہ لوگ بتوں کے پجاری ہیں بظاہر اس سوال کی حاجت نہ تھی لیکن انہوں نے سوال اس لیے فرمایا کہ جواب دیتے وقت ان کے منہ سے ان کی پرستش کا اقرار ہوجائے اور پھر وہ ان کے اقرار کو بنیاد بنا کر اگلا سوال کرسکیں) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب میں وہ لوگ کہنے لگے ہم تو بتوں کو پوجتے ہیں اور انہی پر دھرنا دیئے بیٹھے رہتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا یہ جو تم ان کی عبادت کرتے ہو اس میں تمہیں کیا فائدہ نظر آتا ہے ؟ تم جب ان کو پکارتے ہو اور ان سے کسی حاجت کے پورا ہونے کا سوال کرتے ہو تو کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں اور کیا تمہاری عبادت کرنے کی وجہ سے تمہیں کوئی نفع پہنچاتے ہیں اور کیا ان کی عبادت ترک کردینے سے کوئی ضرر پہنچا دیتے ہیں ؟ وہ لوگ یہ جواب تو دے نہ سکے کہ وہ بات سنتے ہیں یا کوئی ضرر پہنچا سکتے ہیں اور اس طرح کا کوئی جواب ان کے پاس تھا بھی نہیں، لا محالہ مجبور ہو کر وہی بات کہہ دی جو مشرکوں کا طریقہ ہوتا ہے کہ ہم تو اپنے باپ دادوں کی تقلید کرتے ہیں یعنی دلیل اور سند تو کوئی ہمارے پاس نہیں باپ دادوں کو جو کچھ کرتے دیکھا ہم بھی وہ کرنے لگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اور تمہارے پرانے باپ دادے جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ان کے بارے میں کچھ تو غور کیا ہوتا یہ کیسی ناسمجھی کی بات ہے کہ جو چیز نہ سنے اور نہ دیکھے نہ نفع دے سکے نہ ضرر پہنچا سکے اس کو معبود بنا بیٹھے وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے جو اپنی عبادت کرنے والے سے بھی کمتر ہو یہ تو رہی تمہاری بات، رہا میں، تو میرے نزدیک یہ بات ہے کہ یہ میرے دشمن ہیں اگر میں ان کی عبادت کرنے لگوں تو ان کی عبادت کی وجہ سے مجھے سخت نقصان پہنچے گا اور آخرت کے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی رب بنا رکھے ہیں وہ انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتے وہ سب ان کے دشمن ہیں ہاں جو لوگ صرف رب العالمین جل مجدہ کی عبادت میں مشغول ہیں وہی نفع میں ہیں رب العالمین جل مجدہ ان کا ولی ہے اور وہ اپنے رب کے اولیاء ہیں (یہ جو فرمایا (فَاِِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْ ) یہ انہوں نے اپنے اوپر رکھ کر کہا اور مقصود یہ تھا کہ یہ باطل معبود تمہارے دشمن ہیں دعوت تبلیغ کا کام کرنے والے مختلف اسالیب بیان اختیار کرتے رہتے ہیں) اس کے بعد رب العالمین جل مجدہ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں اور مشرکین کو بتادیا کہ دیکھو میں جس کی عبادت کرتا ہوں تم بھی اسی کی عبادت کرو۔ اولاً یوں فرمایا (الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَہُوَ یَہْدِیْنِ ) (جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی صحیح راہ بتاتا ہے) ثانیاً (وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ ) (اور جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے) ثالثاً (وَاِِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ) (اور جب میں مریض ہوجاتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے) رابعاً (وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ) (اور جو مجھے موت دے گا پھر زندہ فرمائے گا) خامساً (وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) (اور جس سے میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ وہ انصاف کے دن میں قصور کو معاف فرما دے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العالمین جل مجدہ کی صفات جلیلہ بیان فرما کر بتادیا کہ دیکھو میں ایسی عظیم ذات کی عبادت کرتا ہوں تمہارے معبودوں میں ان میں سے ایک صفت بھی نہیں ہے پھر تم انہیں کیسے پوجتے ہو ؟ نیز یہ بھی بتادیا کہ یہی دنیا سب کچھ نہیں ہے اس کے بعد موت بھی ہے اور موت کے بعد زندہ ہونا بھی ہے اور انصاف کے دن کی پیشی بھی ہے ہاں رب العالمین کے منکروں اور باغیوں کو عذاب ہوگا اگر اسی دنیا میں توبہ کرلی جائے تو رب العالمین جل مجدہ خطاؤں کو معاف فرما دے گا۔ سب سے بڑا گناہ کفر و شرک ہے اس سے باز آجاؤ تاکہ انصاف کے دن گرفت نہ ہو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے اوپر رکھ کر ان لوگوں کو بتادی اور سمجھا دی اس سے اہل ایمان کو بھی سبق لینا چاہئے کہ جب جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے کو خطاء وار سمجھ رہے ہیں اور رب العالمین جل مجدہ سے بخشش کی لو لگائے ہوئے ہیں تو عام مومنین کو تو اور زیادہ اپنے کو قصور وار سمجھنا لازم ہے۔ اپنے کو خطا کار بھی سمجھیں اور مغفرت کی دعائیں بھی کرتے رہیں اور بخشش کی امید بھی رکھیں۔