26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 26:142–160

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم نہیں ڈرتے،

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

بلاشبہ میں تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں امانت دار ہوں،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو،

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

میں تم سے اس پر کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے،

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

یہاں جو کچھ ہے کیا تمہیں اس میں امن وامان کے ساتھ چھوڑے رکھا جائیگا

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

باغیچوں میں اور چشموں میں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیوں میں اور کھجوروں میں جو کہ گپھے گوندھے ہوئے ہیں

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے ہو اتراتے ہوئے،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو،

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی بات نہ مانو جو حد سے آگے بڑھ جانے والے ہیں

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو زمین میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے،

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ بس تو ان لوگوں میں سے ہے جن پر جادو کردیا گیا ہو،

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو ہمارے ہی جیسا ایک آدمی ہے سو تو کوئی نشانی لے آ اگر تو سچوں میں سے ہے،

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ اونٹنی ہے پانی پینے کے لیے ایک دن اس کی باری ہے اور ایک مقررہ دن میں پینے کی تمہاری باری ہے،

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ مت لگاؤ ورنہ تمہیں بڑے دن کا عذاب پکڑ لے گا،

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا پھر پشیمان ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو انہیں عذاب نے پکڑ لیا۔ بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے کاموں سے روکنا، قوم کا دھمکی دینا کہ ہم تمہیں نکال دینگے، پھر پتھروں کی بارش سے ہلاک ہونا سیدنا حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، جن بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ نہراردن کے قریب تھیں یہ لوگ فحش کام کرنے والے تھے یعنی مردوں کے ساتھ شہوت رانی کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ھود اور یہاں سورة شعراء میں بیان فرمایا ہے، ان سے پہلے یہ عمل کسی قوم نے نہیں کیا تھا نیزیہ لوگ ڈاکہ زنی بھی کرتے تھے جیسا کہ سورة عنکبوت (ع 3) میں مذکور ہے (وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ ) (اور تم راہزنی کرتے ہو) حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اچھی طرح سے سمجھایا اور برے کام سے روکا لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور بےہودہ جواب دینے لگے، کہنے لگے اجی ! ان لوگوں کو بستی سے نکال دو یہ لوگ پاک باز بنتے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ خود پاک باز بنتے ہیں اور ہمیں گندہ بتاتے ہیں گندوں میں پاکوں کا کیا کام ؟ یہ بات انہوں نے ازراہ تمسخر کہی تھی۔ یہاں سورة شعراء میں یہ بھی ہے (قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یَا لُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ) (ان لوگوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو جواب دیتے ہوئے کہا اے لوط ! اگر تو باز نہ آیا تو ضرور ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہیں نکال دیا جاتا ہے) (قَالَ اِِنِّیْ لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ) (حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا میں تمہارے اعمال سے بغض رکھنے والا ہوں) وہ لوگ برابر اپنی بےہودگی اور بےحیائی پر اڑے رہے اور کمال بےہودگی اور ڈھٹائی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو اللہ کا عذاب لے آ، ان پر عذاب آگیا اور انہیں منہ مانگی مصیبت مل گئی، سورة انعام اور سورة شعراء اور سورة نمل میں (وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًا) فرمایا ہے (کہ ہم نے ان پر خاص قسم کی بارش برسا دی) سورة ھود اور سورة حجر میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کی زمین کے اوپر والے حصہ کو نیچے والا حصہ کردیا یعنی زمین کا تختہ الٹ دیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسا دیئے نیز سورة حجر میں یہ بھی ہے کہ سورج نکلتے نکلتے ان کو چیخ نے پکڑ لیا، خلاصہ یہ ہے کہ ان پر تینوں طرح کا عذاب آیا اور ہلاک اور برباد کردیئے گئے، لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو نجات مل گئی ہاں ایک بڑھیا جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی انہیں لوگوں میں سے رہ گئی جو عذاب میں مبتلا ہوئے اور وہ بھی ان کے ساتھ ہلاک ہوگئی تفصیل کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ سورة اعراف سورة ھود سورة حجر میں گزر چکا ہے، (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔
Ayahs 26:161–176

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم نہیں ڈرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کا رسول ہوں امانت دار ہوں،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو،

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس پر کسی عوض کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تمام دنیا جہاں والوں میں سے تم مردوں سے بد فعلی کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے جو تمہارے لیے بیبیاں پیدا فرمائی ہیں ان کو چھوڑتے ہو، بلکہ تم حد سے آگے بڑھ جانے والے لوگ ہو

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو تم ضرور نکال دیئے جانے والے لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام سے بغض رکھنے والوں میں سے ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں سے نجات دیجیے

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے لوط کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دیدی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے، وہ باقی رہ جانے والوں میں سے تھی،

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کردیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر خاص قسم کی بارش برسا دی سو کیا ہی بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسائی گئی جن کو ڈرایا گیا،

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

ایکہ والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا

اصحاب الایکہ کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حق کی دعوت دینا، ناپ تول میں کمی کرنے سے روکنا، پھر ان لوگوں کا نافرمانی کی سزا میں ہلاک ہونا حضرت شعیب (علیہ السلام) اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ کی طرف مبعوث ہوئے تھے کفر کے علاوہ ان میں جو دوسرے معاصی رواج پذیر تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے بھاؤ طے ہوجانے کے بعد جب خریدار کو ناپ کر یا تول کر سودا دیتے تھے تو کمی کردیتے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول امین ہوں اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو اور زمین میں فساد نہ کرو، یہ لوگ برابر ضد اور عناد پر اڑے رہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بےت کے جواب دیتے رہے ناپ تول میں کمی کرنے سے جو انہیں منع فرمایا تھا اس کے بارے میں کہنے لگے (یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ تَاْمُرُکَ اَنْ نَّتْرُکَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشآؤُا) (اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادے عبادت کرتے تھے اور یہ کہ ہم اپنی مرضی سے اپنے مالوں میں تصرف نہ کریں) مطلب یہ تھا ہمارے مال ہیں جو چاہیں کریں کم تولیں کم ناپیں اس سے کیا غرض ہے۔ جب انسان یہ بھول جاتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں میں اور میرا مال اللہ ہی کی ملکیت ہے تو اس طرح کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا ہے اور تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہیں بھی اسی نے پیدا فرمایا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے میاں جاؤ تمہاری ایسی ہی باتیں ہیں تم پر کسی نے تگڑا جادو کردیا ہے۔ اور تم ہو بھی ہمارے جیسے ایک آدمی، ہم تم کو کیسے نبی مانیں، ہمارے خیال میں تم تو جھوٹوں میں ہو، اور یہ جو تم بار بار عذاب آنے کی رٹ لگاتے ہو اس سے ہم پر کچھ بھی اثر ہونے والا نہیں، اگر عذاب کی بات سچی ہے یوں ہی دھمکی نہیں ہے تو عذاب لا کر دکھا دو ، چلو آسمان سے ہم پر ایک ٹکڑا گرا دو ، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں عذاب کا لانے والا نہیں ہوں اور میں اس کی کیفیت کی تعیین بھی نہیں کرسکتا۔ تمہارے اعمال کو میرا رب خوب جانتا ہے تم پر کب عذاب آئے گا اور کس طرح عذاب آئے گا یہ سب اسی کے علم میں ہے بہر حال تمہارے اعمال عذاب کی دعوت دینے والے ہیں۔ لوگوں کی سر کشی بڑھتی گئی اور راہ راست پر نہ آئے اور ان پر عذاب آ ہی گیا اور الظلہ (سائبان) کے عذاب سے ہلاک ہوئے، مفسر قرطبی نے لکھا ہے کہ جب عذاب آنے کا وقت قریب آ ہی گیا تو ان پر اللہ تعالیٰ نے سخت گرمی بھیج دی لہٰذا وہ گھروں کو چھوڑ کر درختوں اور جھاڑیوں کے پاس جمع ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے بادل بھیجا جس کے سایہ میں پناہ لینے کے لیے ایک جگہ جمع ہوگئے جب سب اکٹھے ہوگئے تو وہیں پر جلا دیئے گئے، روح المعانی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر آگ بھیج دی جو ان سب کو کھا گئی یہ ان کا منہ مانگا عذاب تھا انہوں نے کہا کہ ہم پر آسمان سے ٹکڑا گرا دو ، لہٰذا آسمان ہی کی طرف سے بادل نظر آیا اور اسی کے سایہ میں جل کر بھسم ہوگئے۔ (اِِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (بلاشبہ یہ بڑے دن کا عذاب تھا) ۔ فائدہ : ایک جھاڑیوں والے جنگل کو کہا جاتا ہے یہ لوگ ایسے جنگل میں رہتے تھے جس میں جھاڑیاں تھیں اور گھنے درخت تھے، علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ (اِِذْ قَالَ لَہُمْ شُعَیْبٌ) فرمایا اور اخوھم نہیں فرمایا کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی قوم میں سے نہ تھے ہاں اصحاب مدین کے بارے میں (اَخَاھُمْ شُعَیْبًا) فرمایا کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نسب اور خاندان کے اعتبار سے انہیں میں سے تھے (کما مرفی سورة الاعراف و فی سورة ھود (علیہ السلام) و یاتی فی سورة العنکبوت انشاء اللہ تعالیٰ ) ۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بڑی عبرت ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بیشک آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے) ۔