Ayahs 26:177–193قرآن عربی زبان میں ہے اسے روح امین لے کر نازل ہوئے
ان آیات میں نزول قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا، منکرین کی تکذیب اور عناد کو بیان فرمایا اور یہ بتایا کہ وہ لوگ عذاب آنے کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ قرآن مجید رب العالمین جل مجدہ کا اتارا ہوا ہے جسے امانت دار فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ، اس فرشتہ نے امانتداری کے طور پر پورا پورا اسی طرح آپ ﷺ تک پہنچایا ہے جس طرح ان کے سپرد کیا گیا تھا الروح الامین یعنی جبرئیل نے اس قرآن کو آپ کے قلب پر اتارا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں یعنی اس قرآن کے ذریعہ اولین مخاطبین کو اور ان کے آس پاس کے لوگوں کو اور بعد میں آنے والے لوگوں کو ڈرائیں یعنی اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی دعوت دیں جو نہ مانے اسے بتائیں کہ انکار کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوگا کما فی سورة الانعام (وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَ مَنْ بَلَغَ وقال تعالیٰ فی سورة الشوری وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَا اِِلَیْکَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَہَا وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ) پھر فرمایا کہ قرآن مجید واضح عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس کی فصاحت اور بلاغت سب کو مسلم ہے جب اہل عرب کو چیلنج کیا گیا کہ قرآن جیسی ایک سورت بنا کر لاؤ تو عاجز رہ گئے اور آج تک عاجز ہیں ہمارے ایک ثقہ دوست نے بتایا کہ امریکہ میں دو کمپیوٹر اس بات کے لیے لگا رکھے ہیں کہ قرآن کی آیاتا کے مقابلہ میں کچھ بنا کردیں اور اس سلسلہ میں ان کمپیوٹروں کو جب کوئی آیت دیتے ہیں کہ اس کے مقابل بنا کر دو تو وہ انکار کردیتے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں بن سکتی۔
مزید فرمایا کہ قرآن مجید پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں بھی ہے یعنی توریت اور انجیل میں یہ بتایا ہے کہ ایک ایسی شان کا پیغمبر ہوگا اور اس پر ایسا کلام نازل ہوگا اہل کتاب نے گو اپنی کتابوں میں تحریف کردی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی کتابوں میں یہ باتیں موجود ہیں بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ قرآن مجید کے مضامین سابقہ کتب سماویہ میں بھی ہیں جیسا کہ سورة الاعلی کے ختم پر فرمایا (اِِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی) (بلاشبہ یہ پرانے صحیفوں میں ہے ابراہیم کے صحیفے اور موسیٰ کے صحیفے) حضرت معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سورة بقرہ ذکر اول سے دی گئی ہے اور سورة طہ اور طواسین (جن کے شروع میں طس آتا ہے) اور حوامیم (جن سورتوں کے شروع میں میم ہے) یہ سورتیں مجھے الواح موسیٰ سے دی گئی ہیں۔ سورة فاتحہ سورة بقرہ کی آخری آیات اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے لے کر ختم سورت تک) عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں اور مفصل ( سورة حجرات سے سورة الناس تک جو سورتیں ہیں) یہ مجھے زائد دی گئی ہیں (جو دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو نہیں دی گئیں) ذکر فی الجامع الصغیر و رمزلہ بالضعف۔
پھر فرمایا کہ علمائے بنی اسرائیل جو قرآن مجید کے نازل ہونے کے وقت موجود ہیں وہ لوگ یہ جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ خاتم الانبیاء ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب نازل ہوگئی، ان علماء میں سے بعض تو مسلمان ہوگئے اور جو مسلمان نہیں ہوئے انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کرلیا ہے، خود تو مسلمان نہ ہوئے لیکن اپنے عوام کو تنہائیوں میں بتادیا اور ان کے سامنے اقراری ہوگئے علماء بنی اسرائیل کا مان لینا کہ قرآن مجید واقعی اللہ کی کتاب ہے یہودیوں پر تو حجت ہے یہ مشرکین عرب پر بھی حجت ہے جو یہود کو اہل علم مانتے اور جانتے تھے، خصوصاً اہل مکہ جنہوں نے یہودیوں سے جا کر یہ پوچھا کہ تم اہل علم ہو اور اہل کتاب ہو کچھ ایسے سوال بتاؤ جن سے محمد رسول اللہ ﷺ کا امتحان کیا جائے اور ان کا جواب پا کر ان کے دعوائے نبوت کی تصدیق کی جاسکے جس پر یہودیوں نے کہا کہ روح کے بارے میں اور اصحاب کہف کے بارے میں اور ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرو، قریش مکہ نے واپس آکر سوالات کیے لیکن جواب ملنے پر بھی ایمان نہ لائے پھر فرمایا کہ اس قرآن کو ہم نے ایسے شخص پر نازل کیا ہے جو عربی ہے اگر ہم بعضے عجمیوں پر یعنی کسی غیر عرب انسان پر نازل کردیتے اور وہ ان کو پڑھ کر سنا دیتا تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے حالانکہ اس میں معجزہ کا ظہور اور زیادہ ہوتا کیونکہ جس غیر عربی شخص پر قرآن نازل ہوتا اس کا عربی زبان پر قادر نہ ہونا اس بات کی واضح دلیل ہوتی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے لیکن جن ہٹ دھرموں کو ماننا نہیں ہوتا وہ کسی طرح بھی نہیں مانتے۔ اس کے بعد فرمایا (کَذٰلِکَ سَلَکْنَاہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ) (کہ ہم نے ایمان نہ لانے کو مجرمین کے دلوں میں ڈال دیا ہے) یہ لوگ انکار اور انکار پر اصرار کی وجہ سے قرآن پر ایمان نہ لائیں گے جب تک سخت عذاب کو نہ دیکھ لیں گے جو ان کے سامنے اچانک آکھڑا ہوگا اور ان کو پہلے سے خبر نہ ہوئی جب یہ صورت حال ہوگی تو یوں کہیں گے کہ کیا ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے لیکن وہ وقت نہ مہلت کا ہوگا اور نہ اس وقت ایمان قبول کیا جائے گا (عذاب الیم سے وہ عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے جو تکذیب کی سزا میں دنیا میں منکرین پر آتا رہا ہے، اور موت کے وقت کا عذاب اور برزخ کا عذاب اور قیامت کے دن کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے ان عذابوں میں سے کسی بھی عذاب کے آجانے پر مہلت دیئے جانے کا اور ایمان قبول کرنے کا قانون نہیں ہے) ۔
Ayahs 26:194–204پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن کی چہل پہل میں مشغول ہو کر موت کے بعد کی زندگی کو بھول جائیں اور وہاں کے بڑے اور دائمی عذاب کو اپنے سر لے لیں
Ayah 26:205اس کو فرمایا (اَفَرَاَیْتَ اِِنْ مَّتَّعْنَاھُمْ سِنِیْنَ ثُمَّ جَاءَ ھُمْ مَا کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ مَا اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ) (اے مخاطب تو بتا کہ اگر ہم ان کو چند سال تک عیش میں رہنے دیں پھر جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ان کے سر آپڑے تو ان کا عیش کیا کام دے سکتا ہے، یعنی یہ جو عیش کی مہلت دی گئی ہے اس سے آنے والا عذاب تو کیا ٹلتا اس کی وجہ سے اس میں کوئی کمی تخفیف بھی نہ ہوگی) قال صاحب الروح ص 131 ج 10 قال سبحان ان ھذا العذاب الموعود وان تاخر ایاما قلائل فھم لاحق بھم لا محالۃ و ھنالک لا ینفعھم ما کانوا فیہ من الاغترار المثمر لعدم الایمان۔
Ayahs 26:206–208اس کے بعد فرمایا (وَمَا اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِِلَّا لَہَا مُنْذِرُوْنَ ذِکْرٰی) (اور ہم نے جتنی بھی بستیاں ہلاک کی ہیں ان سب میں نصیحت کے طور پر ڈرانے والے تھے یعنی قرآن کے مخاطبین سے پہلے بھی امتیں گزری ہیں کسی امت کو تبلیغ اور انذار کے بغیر نہیں ہلاک کیا گیا ان کی طرف ڈرانے والے بھیجے گئے انہوں نے خیر خواہی اور نصیحت کے طور پر خوب اچھی طرح توحید کی دعوت دی حق کو واضح کیا منکرین کو ڈھیل دی گئی ان پر حجت پوری ہوگئی اور ڈھیل دینے سے بھی انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو ان کو ہلاک کردیا گیا، جو لوگ قرآن مجید کے مخاطب ہیں ان لوگوں پر بھی پوری طرح حق واضح کردیا گیا ہے اور انہیں ڈھیل بھی دی جا رہی ہے لہٰذا عذاب کی طرف سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں (وَمَا کُنَّا ظَالِمِیْنَ ) (اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ہیں) یعنی حقیقۃً تو اللہ تعالیٰ سے ظلم کا ظہور ہو ہی نہیں سکتا صورۃً بھی اللہ تعالیٰ سے ظلم کا صدور نہیں ہوسکتا قال صاحب الروح ای لیس شاننا ان یصدر عنا بمقتضی الحکمتہ ما ھو فی صورۃ الظلم لو صدر من غیرنا بان نھلک احدا قبل انداہ اوبان نعاقب من لم یظلم۔
Ayahs 26:209–210اس کے بعد پھر قرآن مجید کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا (وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ ) (کہ اس قرآن کو شیاطین لے کر نازل نہیں ہوئے) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُمْ ) (اور یہ ان کے لیے درست بھی نہیں ہے) (وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ) (اور وہ اس پر قدرت بھی نہیں رکھتے) (اِِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ) (بلاشبہ وہ اس کے سننے سے روک دیئے گئے ہیں) یعنی یہ لوگ وحی آسمانی کو سن بھی نہیں سکتے اس پر انہیں بالکل ہی قدرت نہیں ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس میں مشرکین قریش کی اس بات کی تردید ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ ایک جن محمد ﷺ کے تابع ہے وہ آپ کو قرآن سنا دیتا ہے اور آپ اسی کو نقل فرما دیتے ہیں۔ ان لوگوں کی تردید میں فرمایا کہ اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں آئے اور نہ ان لوگوں کو اس پر قدرت ہے کیونکہ قرآن تو سبب ہدایت ہے اور شیاطین کا کام گمراہ کرنے کا ہے وہ ہدایت کی چیز کو جس میں توحید ہی توحید ہے مشرکین کے پاس پہنچانے کا ذریعہ کیونکر بن سکتے ہیں، پھر مزید بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی قدرت بھی نہیں دی کہ وہ وحی آسمانی کو سن لیں۔ وہاں سے لانا اور آپ تک پہنچانا تو بعد کی بات ہے۔
Ayahs 26:211–213رسول اللہ ﷺ کو مومنین کے ساتھ تواضع سے پیش آنے اور عزیز و رحیم پر تو کل کرنے کا حکم
ان آیات میں اولاً یہ فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کسی کو معبود نہ بنائیں ایسا کریں گے تو عذاب میں مبتلا ہوں گے بظاہر یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں پوری امت کو خطاب ہے کیونکہ آپ سے شرک اور کفر صادر ہونے کا احتمال ہی نہیں، لیکن آپ کو خطاب کرکے یہ بتادیا کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرنے سے آپ کے لیے یہ حکم ہے تو دوسرے لوگ شرک کرنے سے کیونکر معذب نہ ہوں گے۔
ثانیاً آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنے قریب ترین خاندان کے لوگوں کو ڈرائیے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ (وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ صفا پہاڑ پر تشریف لے گئے اور وہاں چڑھ کر قریش کے مختلف خاندانوں کو آوازیں دے کر جمع فرمایا جب جمع ہوگئے تو ان سے دریافت فرمایا کہ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ میدان میں کچھ گھوڑ سواروں کی ایک جماعت ہے وہ تم پر حملہ کرنے والے ہیں تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے ؟ سب نے مل کر جواب میں کہا کہ ہاں ہم آپ کی تصدیق کریں گے ما جربنا علیک الا صدقا (ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا ہی پایا ہے) آپ نے فرمایا تو سمجھ لو کہ میں تمہیں سخت عذاب میں مبتلا ہونے سے پہلے ڈرارہا ہوں (یعنی اگر تم نے میری دعوت توحید قبول نہ کی تو تم سب سخت عذاب میں مبتلا ہو گے یہ سن کر ابولہب نے کہا کہ تو ہمیشہ کے لیے ہلاک ہوگیا تو نے ہمیں اس بات کے لیے جمع کیا ہے) اس پر (تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبّ ) نازل ہوئی (ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ برباد ہوجائے) ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے ان لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت اپنی جانوں کو بچا لو (یعنی ایمان لا کر دوزخ کے عذاب سے محفوظ ہوجاؤ) میں اللہ کی طرف سے (آنے والے عذاب سے تمہارے چھٹکارے کے لیے کچھ نہیں کرسکتا آپ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب سے اپنی پھوپھی صفیہ سے بھی خصوصی طور پر نام لے کر یہی فرمایا اور اپنی بیٹی سے فرمایا اے محمد کی بیٹی فاطمہ میرے مال میں سے تو جو چاہے سوال کرلے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا (رواہ البخاری و مسلم کمافی مشکوٰۃ المصابیح ص 460) مطلب یہ ہے کہ آخرت میں نجات کا تعلق رشتہ داری اور کسی کا بیٹا بیٹی ہونے نہیں ہے اس کا تعلق ایمان سے ہے جس نے ایمان قبول کیا اور اسی پر موت آئی وہاں اس کے لیے نجات ہے۔
رسول اللہ ﷺ سارے ہی انسانوں اور جنات کی طرف مبعوث ہوئے تھے آپ رحمتہ للعالمین تھے، سب ہی کو ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے، پھر بھی خاص طور سے اپنے اہل خاندان کو خصوصیت کے ساتھ ایمان کی دعوت دینے کا حکم فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور داعی اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگوں سے غافل نہ ہوں، رسول ﷺ نے اپنے چچا اور پھوپھی کو نام لے کر خطاب فرمایا حتیٰ کہ اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ ؓ سے بھی وہی بات فرمائی جو دوسروں سے فرمائی تھی حالانکہ وہ پہلے سے ہی مومن تھیں اور اب تک بالغ بھی نہ ہوئی تھیں۔ معلوم ہوا کہ اپنی اولاد کو دین پر ڈالنا بھی مبلغ اور داعی کی ذمہ داری ہے سورة التحریم میں فرمایا (یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ ) (اے ایمان والو تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں) بہت سے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ دوسروں کو تبلیغ کرنے میں بہت آگے آگے ہوتے ہیں لیکن اولاد اور اہل خانہ اور اہل خاندان سے غافل رہتے ہیں۔
ثالثاً آپ کو یہ حکم دیا کہ اہل ایمان جنہوں نے آپ کی پیروی کرلی آپ کے دین میں داخل ہوگئے اور آپ کی راہ پر چلنے لگے آپ ان کے ساتھ تواضع اور فروتنی اختیار کیجیے ان کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کیجیے (جس نے ایمان قبول کرلیا وہ رحمت ورافت اور شفقت کا زیادہ مستحق ہوگیا)
رابعاً یوں فرمایا کہ جن لوگوں کو آپ دین حق کی دعوت دیتے ہیں وہ لوگ اگر آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجیے کہ میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں (نا فرمانوں کے ساتھ کسی مداہنت اور مسامحت کی گنجائش نہیں)
خامساً یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے جو عزیز ہے اور رحیم ہے، جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں امامت کرتے وقت سجدہ کرنے والوں کے درمیان آپ کی نشست اور برخاست ہوتی ہے وہ آپ کو دیکھتا ہے وہ سب کی باتوں کو سنتا ہے اور تمام احوال کو جانتا ہے، اگر آپ کو مخالفین کی طرف سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو آپ فکر مند نہ ہوں اس ذات پاک پر بھروسہ کریں جو عزیز ہے اور رحیم ہے اور سمیع ہے علیم ہے۔