Ayahs 26:71–83اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص 98)
(وَّاَلْحِقْنِیْ بالصَّالِحِیْنَ ) (اور مجھے صالحین میں شامل فرما) یعنی مجھے ان حضرات میں شامل فرمادے جن کے علوم اور اعمال آپ کے نزدیک مقبول ہوں کیونکہ کتنا ہی علم ہو اور کیسا ہی عمل ہو مقبولیت عند اللہ کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِیْنَ ) (اور بعد میں آنے والے لوگوں میں اچھائی کے ساتھ میرا ذکر باقی رکھئے) یعنی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) جو میرے بعد آئیں گے اور ان کی جو امتیں ہوں گی ان میں میرا ذکر اچھائی سے ہوتا رہے یہ شرف مجھے ہمیشہ عطا فرمائیے اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بھی قبول فرمائی ان کے بعد جتنے بھی انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے سب انہیں کی ذریت میں سے تھے ساری امتوں نے انہیں خیر کے ساتھ یاد کیا اور امت محمدیہ صلی اللہ علی صاحبھا و سلم کا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خصوصی تعلق ہے اسے تو سب ہی جانتے ہیں اللہ جل شانہٗ نے خاتم الانبیاء ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (ثُمَّ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعِ مِلَّۃَ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا) (پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم حنیف کا اتباع کیجیے) اور شریعت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و التحیہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے بہت سے احکام ہیں اور یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ہر نماز میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر درود بھیجنے کا ذکر ہوتا ہے اور بار الہٰی میں درخواست پیش کی جاتی ہے کہ اے اللہ محمد رسول اللہ ﷺ پر اور آپ کی آل پر صلاۃ اور برکت بھیجئے جیسا کہ آپ نے ابراہیم اور ان کی آل پر صلاۃ اور برکت بھیجی (وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ) (اور مجھے جنت النعیم کے وارثوں میں سے بنا دیجیے) اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص کیسا ہی نیک ہو اسے بہرحال جنت نصیب ہونے کی دعا کرتے رہنا چاہئے اپنے اعمال پر گھمنڈ نہ رکھے۔
(وَاغْفِرْ لِاَبِیْ اِِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ) (اور میرے باپ کی مغفرت فرمائیے بلاشبہ وہ گمراہوں میں سے ہے) یعنی میرے باپ کو ایمان کی توفیق دیجیے اور اس طرح مغفرت کے قابل بنا کر اس کی مغفرت فرما دیجیے اس بارے میں مزید کلام سورة توبہ کی آیت (وَّمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ ) اور سورة ابراہیم کی آیت (رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 26:84–87(وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (اور مجھے اس دن رسوا نہ کیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ بیٹے سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے) اس سے معلوم ہوا کہ جنت النعیم حاصل ہونے کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن رسوا نہ فرمائیے جنت میں تو کوئی رسوائی نہیں ہے اس سے پہلے رسوائی ہوسکتی ہے جیسا کہ بہت سے گناہ گاروں کے ساتھ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت اور عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اس دن بھی با عزت ہوں گے دوسرے اشخاص اس سے عبرت حاصل کریں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ آزر سے ملاقات ہوجائے گی آزر کا چہرہ بےرونق اور سیاہی والا ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے فرمائیں گے کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر، اس پر ان کا باپ کہے گا کہ آج حکم دو میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بار گاہ الہٰی میں عرض کریں گے کہ اے میرے پروردگار کیا آپ نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں فرمایا کہ جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اس دن آپ مجھے رسوا نہ کریں گے سو اس سے بڑھ کر کیا رسوائی ہوگی کہ میرا باپ ہلاک ہے (یعنی کفر کی وجہ سے دوزخ میں جانے والا ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے پھر ابراہیم سے خطاب ہوگا کہ اپنے پاؤں کے نیچے دیکھو وہ نظر ڈالیں گے تو انہیں ایک بالوں سے بھرا ہوا بجو نظر آئے گا جو (آلائش میں) آلودہ ہوگا (یہ ان کا باپ ہوگا جس کی صورت مسخ کردی جائے گی) اس بجو کے پاؤں پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (رواہ البخاری ص 273)
جب صورت مسخ ہوجائے گی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سے نفرت ہوجائے گی اور رسوائی کا خیال ختم ہوجائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قیامت کے دن کی رسوائی سے محفوظ رہنے کے لیے جو دعا کی اس میں قیامت کے دن کا حال بتاتے ہوئے یوں بھی فرمایا (لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ ) (کہ وہ ایسا دن ہوگا جس دن نہ مال کام دے گا نہ اولاد کام دے گی) اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مال جمع کرنے اور اپنے پیچھے اولاد کو مالدار بنا کر چھوڑنے کے جذبات میں بہہ جاتے ہیں اور حرام حلال کا کچھ خیال نہیں کرتے حرام مال تو وبال ہے ہی وہ حلال مال بھی آخرت میں وبال ہوگا جس سے فرائض اور واجبات ادا نہ کیے گئے ہوں اور جو اللہ تعالیٰ کی نا فرمانیوں میں خرچ کیا گیا ہو یہ نا فرمانیاں بچوں کی فرمائشیں پوری کرنے کے سلسلہ میں بھی ہوتی ہیں خوب سمجھ لینا چاہئے کہ قیامت کے دن مال اور اولاد کام نہ آئیں گے ہاں اگر کسی نے مال کو حلال طریقہ سے کمایا اور شرعی طریقوں پر خرچ کیا اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کے دین پر ڈالا تو یہ نیک کام نفع مند ہوں گے اسی کو فرمایا کہ (اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (کہ جو شخص قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہوگا اس کے اموال اور اس کی اولاد اس کے لیے فائدہ مند ہونگے) یعنی قلب سلیم کا اخلاص نیک اولاد اور اعمال صالحہ اموال طیبہ ہی نافع ہوں گے۔
و الکلام علی تقدیر مضاف الی من ای لا ینفع مال ولا بنون الا مال و بنون من اتی اللہ بقلب سلیم حیث انفق مالہ فی سبیل البرو ارشدبنیہ الی الحق و حثھم علی الخیر و قصد بھم ان یکونوا عباد اللہ تعالیٰ مطیعین شفعاء لہ یوم القیامۃ۔ (روح المعانی ج 10 ص 100)
فائدہ : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی کہ بعد کے آنے والوں میں میرا ذکر اچھائی کے ساتھ ہو اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں میں اپنے بارے میں اچھا تذکرہ ہونے کی آرزور رکھنا مومن کے بلند مقام کے خلاف نہیں ہے اعمال خیر کرتا رہے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے اعمال صالحہ میں مشغول ہو ریا کاری کے جذبات نہ ہوں اور یہ بھی نہ ہو کہ لوگ میرے اعمال کو دیکھ کر میری تعریف کریں اعمال صرف اللہ کے لیے ہوں اور یہ دعا اس کے علاوہ ہو کہ لوگوں میں میرا تذکرہ خوبی کے ساتھ ہو یہ دونوں باتیں جمع ہوسکتی ہیں رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی مخلص نہیں آپ نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں یہ دعا کی اللّٰھُمَّ اَجْعَلْنِیْ فِیْ عَیْنِیْ صَغِیْرًا وَّ فِیْ اَعْیُنِ النَّاسِ کَبِیْرًا (اے اللہ مجھے اپنی نگاہ میں چھوٹا بنا دے اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بنا دے) ۔
اس میں کبر نفس کا علاج ہے جب اپنے چھوٹا ہونے کا خیال رہے گا تو لوگوں کے تعریف کرنے سے کبر میں مبتلا نہ ہوگا ہاں اتنا خیال رہنا بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو حقیر نہ جانے اور جھوٹی تعریف کا بھی متمنی نہ ہو۔
اپنے لیے ثنائے حسن کی آرزو رکھنا جبکہ (شرائط کے ساتھ ہو) جائز ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیں کہ اپنی ذات کو برائی کے ساتھ مشہور کرنا بھی کوئی ہنر اور کمال کی بات نہیں ہے بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ نیک بھی ہوتے ہیں اور گناہوں سے بھی بچتے ہیں لیکن اگر کسی غلط فہمی سے بد نامی ہونے لگے تو اس کی پرواہ نہیں کرتے اگر کوئی شخص توجہ دلائے کہ اپنی صفائی پیش کریں تو کہہ دیتے ہیں کہ میں اپنی جگہ ٹھیک ہوں جو میری طرف برائی منسوب کرے گا خود غیبت میں مبتلا ہوگا اس کا اپنا برا ہوگا اور مجھے غیبت کرنے والوں کی نیکیاں ملیں گی میں کیوں صفائی دوں ؟ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے اپنی آبرو کی حفاظت کرنا بھی اچھا کام ہے اور لوگوں کو غیبت اور تہمت سے بچانا ان کی خیر خواہی ہے بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اے اللہ مجھے اچھے اعمال سے متصف فرمائیے اور ان اعمال کو میرے بعد کے آنے والوں میں باقی رکھئے جو میرا اتباع کریں اس سے لوگ مجھے اچھائی سے یاد کریں گے اور ان کے اعمال صالحہ کا ثواب بھی ملے گا جبکہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
Ayahs 26:88–92دوزخ میں گمراہوں کا پچھتانا اور آپس میں جھگڑنا نیز دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
ان آیات میں اولاً تو قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس دن متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہ لوگوں کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی جس کی وجہ سے اہل ایمان خوش ہوجائیں گے اور اہل کفر ڈر جائیں گے ثانیاً یوں فرمایا کہ کافروں سے سوال کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں وہ کہاں ہیں ؟ تمہیں تو ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، وہ یہاں تمہاری مدد نہیں کرسکتے تمہاری تو کیا مدد کرتے عذاب میں خودمبتلا ہونے والے ہیں اس سے اپنے کو بچا نہیں سکتے اس گفتگو کے بعد ان مشرکوں کو اور ان کے علاوہ دوسرے تمام گمراہوں کو اوندھے منہ کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا ثالثاً یہ فرمایا کہ جب وہ لوگ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے غیر اللہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اول تو اس بات کو تسلیم کریں گے کہ واقعی ہم کھلی گمراہی میں تھے اور اس بات کو اللہ کی قسم کھا کر بیان کریں گے اور اپنے معبودوں سے کہیں گے ہم نے جو تمہیں رب العالمین کے برابر قرار دیا یہ صریح گمراہی تھی وہاں تو ہم مجرموں کی بات مانتے تھے جو گمراہی کے بانی اور داعی تھے آج معلوم ہوا کہ انہیں مجرموں نے ہمارا ناس کھویا اور ہمیں بہکایا اب یہاں مصیبت میں گرفتار ہوگئے عذاب سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں یہاں نہ کوئی سفارشی ہے نہ مخلص دوست ہے بہکانے والوں نے ہمیں بہکایا اور ہمارا ناس کھویا کاش اگر ہمیں دنیا میں واپس جانا نصیب ہوجاتا تو ہم ایمان والوں میں شامل ہوجاتے اور کسی کے سمجھانے بجھانے سے کفر و شرک اختیار نہ کرتے (لیکن وہاں سے واپس آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ہمیشہ کے لیے عذاب ہی عذاب ہے) ۔
(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں مشرکین کے مبتلائے عذاب ہونے کی سچی خبر میں ایک بڑی عبرت ہے) ۔ (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان عبرت کی باتوں کے باو جود مشرکین میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزیز ہے رحیم ہے بڑا زبردست ہے) ۔
Ayahs 26:93–105حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور ان لوگوں کا گمراہی پر جمے رہنا اور آخر میں غرق ہو کر ہلاک ہونا
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو گفتگو ہوئی گزشتہ رکوع میں اس کا ذکر تھا اب یہاں سے دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات اور قوموں کے ساتھ ان کے مکالمات اور مخاطبات اور قوموں کی تکذیب پھر ان کی ہلاکت اور تعذیب کے قصے بیان کیے جا رہے ہیں اولاً حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ اور اس کے بعد حضرت ھود حضرت صالح اور حضرت لوط اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرمائے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی شرک سے روکا اور انہیں طرح طرح سے سمجھایا اور ان لوگوں سے کہا کہ تم کفرو شرک کیوں نہیں چھوڑتے اللہ کو ایک ماننے کے لیے تو عقل ہی کافی ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور امانت دار ہوں جو کچھ کہتا ہوں اسی کے حکم سے کہتا ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو میری فرمانبر داری کرو کیونکہ میری فرمانبرداری کرنا خالق اور مالک ہی کی فرمانبر داری کرنا ہے اور تم یہ بھی سمجھ لو کہ میں جو تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہوں اور تمہیں راہ حق پر لانے کی محنت کر رہا ہوں اس میں میرا کوئی دنیاوی فائدہ نہیں ہے تم سے اپنی اس محنت پر کوئی اجرت یا عوض یا صلہ طلب نہیں کرتا میں تو اپنا اجر وثواب رب العالمین جل مجدہ سے لے لوں گا تمہیں یہ سوچنا چاہئے کہ جب یہ شخص ہم سے کسی چیز کا طالب نہیں تو اتنی محنت کیوں کرتا ہے تم غور کرو اور سمجھو اور اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبر داری کرو۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ہدایت قبول نہ کی اینڈے بینڈے جواب دیتے رہے حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال ان لوگوں کے درمیان رہے لیکن تھوڑے سے ہی آدمی مسلمان ہوئے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے جو کٹ حجتی کی اور ایمان نہ لانے کا بہانہ بنایا اس میں ایک یہ بات بھی تھی کہ تمہارے ساتھ رذیل لوگ لگے ہوئے ہیں اگر ہم تم پر ایمان لے آئیں تو ہمیں ان چھوٹے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پڑے گا (اس میں گویا اس طرف اشارہ تھا کہ اگر یہ لوگ ہٹ جائیں تو ہم ایمان لے آئیں اور آپ سے دین سیکھنے لگیں) یہ ایسا ہی ہے جیسے عرب کے لوگوں نے حضور اقدس ﷺ سے کہا تھا کہ ہمیں اس بات سے شرم آتی ہے کہ عرب کے لوگ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا دیکھیں (یعنی بلال صھیب عمار خباب وغیرھم ؓ جب ہم آپ کے پاس آیا کریں تو آپ ان کو اٹھا دیا کریں، قال القرطبی و کانھم طلبوا منہ طرد الضعفاء کما طلبتہ قریش۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے دین و ایمان سے مطلب ہے مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ اپنی دنیاوی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کوئی شخص عمدہ پیشہ اختیار کرلے یا ایسا کوئی کام اختیار کرلے جسے دنیا والے گھٹیا سمجھتے ہیں مثلاً سڑکوں پر جھاڑو دینا یا جوتے گانٹھنا وغیرہ اصل چیز ایمان اور اعمال صالحہ ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک انہیں دو چیزوں کے ذریعہ بلند مرتبہ ملتا ہے اور پھر سب کو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں حاضر ہونا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے محاسبہ فرمائے گا۔ (یہ بات فرما کر ان لوگوں کو متوجہ فرمایا کہ دیکھو تمہارا بھی حساب ہوگا) کاش تم سمجھدار ہوتے تو ایسی بےتکی باتیں نہ کرتے حق کو قبول نہ کرنے کے لیے ایسے بہانے کرنا کہ تمہارے پاس جو لوگ بیٹھے ہیں وہ دنیاوی اعتبار سے گھٹیا ہیں ناسمجھی کی بات ہے یہ جو تمہاری خواہش ہے کہ میں انہیں ہٹا دوں تو میں ایسا نہیں کرسکتا جن لوگوں نے حق کو قبول کرلیا توحید کو مان لیا مومن بندے بن گئے بھلا میں ان کو کیسے ہٹا سکتا ہوں اور میں کوئی تم پر زبردستی تو کر نہیں سکتا میں تو واضح طور پر ڈرانے والا ہوں میں نے سمجھانے میں اور صاف صاف کہنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا یہ مطلب تھا کہ یہ لوگ جو تمہارے ساتھ لگ گئے ہیں یوں ہی ظاہر میں تمہارا دین قبول کرلیا ہے دل سے مومن نہیں ہیں جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) کہ مجھے کسی کے باطن سے بحث نہیں میں تو ظاہر کے دیکھنے کا مکلف ہوں۔ کسی نے ایمان قبول کرلیا میرا ساتھی ہوگیا بس وہ میرے نزدیک مومن ہے رہا باطن کا معاملہ سو وہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہ ان کا حساب لے گا کاش تم قانون شرعی کو جانتے ہوتے تو ایسی باتیں نہ کرتے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے آدمی کہنے لگے کہ اپنی یہ باتیں بند کرو اگر تم باز نہ آئے تو سمجھ لو کہ تمہاری خیر نہیں ہم پتھر مار مار کر تمہیں جان سے مار دیں گے۔ سورة ھود اور سورة نوح میں ان لوگوں کی اور باتیں بھی ذکر فرمائی ہیں جن میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے عذاب کا مطالبہ کیا (جس کا ذکر سورة ھود میں ہے) ساڑھے نو سو سال تک کسی قوم کو دعوت دینا یہ کوئی معمولی مدت نہیں ہے ان لوگوں نے بھی عذاب مانگا اور حضرت نوح (علیہ السلام) بھی بہت زیادہ دل برداشتہ ہوگئے لہٰذا انہوں نے بار گاہ خداوندی میں دعا کی کہ اے اللہ پاک میرے اور میرے قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے یعنی ان کو ہلاک کردیجیے اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو جو ایمان والے ہیں نجات دے دیجیے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم فرمایا چناچہ انہوں نے کشتی بنائی اپنے اہل و عیال مومنین اور دیگر اہل ایمان کو ساتھ لے کر (بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرِیْھَا وَ مُرْسَاھَا) پڑھ کر اس میں سوار ہوگئے۔ آسمان سے پانی برسا زمین سے بھی پانی ابلا زبردست سیلاب آیا اس میں پوری قوم غرق ہوگئی اور حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں سمیت جو کشتی میں سوار تھے نجات پا گئے تفصیل کے ساتھ سورة اعراف اور سورة ھود میں واقعہ گزر چکا ہے اور سورة نوح کا بھی مطالعہ کرلیا جائے۔
فائدہ : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا مکالمہ شروع فرماتے ہوئے (کَذَّبَتْ قَوْمَ نُوْحِنِ الْمُرْسَلِیْنَ ) فرمایا ہے اس میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی طرف ایک ہی نبی مبعوث ہوئے تھے پھر تمام مرسلین کرام (علیہ السلام) کا جھٹلانا کیسے لازم آیا اس کے جواب میں حضرات مفسرین نے فرمایا کہ چونکہ تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت ایک ہی تھی اس لیے جب کسی ایک نبی کو جھٹلایا تو اس سے سب کی تکذیب لازم آگئی خصوصاً جبکہ ہر نبی نے تمام نبیوں کی تصدیق کا حکم بھی فرمایا۔ اور یہ بھی بتایا ہو کہ اللہ کے تمام نبیوں پر ایمان لاؤ۔