Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 86 of 199

1767Sunan At-Tirmidhi

نیا کپڑا پہنتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، عِمَامَةً، أَوْ قَمِيصًا، أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ نَحْوَهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے جیسے عمامہ (پگڑی) ، قمیص یا چادر، پھر کہتے: «اللهم لک الحمد أنت کسوتنيه أسألک خيره وخير ما صنع له وأعوذ بک من شره وشر ما صنع له» اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے، میں تم سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر کا طلب گار ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اور اس کی شر اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed said that when Allah’s Messenger -‘ wore a new garment, he would take its name, like turban, shirt, lower wrapper and then say: “O Allah all praise belongs to you who have clothed me in this garment, I ask you for the good of it and the good of what it was made for, and I seek refuge in you from its evil and the evil of what it was made for.” [Abu Dawud 4020] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (4342) صحيح، المشکاة (4342)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1767 اس سند سے بھی ابوسعید ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1767
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ١ (٤٠٢٠)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١١٨ (٣٠٩)، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٦)، و مسند احمد (٣/٣٠، ٥٠) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح )
1768Sunan At-Tirmidhi

جبہ پہننا

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔

Sayyidina Mughirah (RA) said that the Prophet ﷺ wore a Roman robe of tight sleeves. [Bukhari 5798]

صحيح مختصر الشمائل (57)، صحيح أبي داود (139 - 140)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1768
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٥١٦) (صحیح )
1769Sunan At-Tirmidhi

جبہ پہننا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هُوَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَهْدَى دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَالَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرٍ وَجُبَّةً فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا لَا يَدْرِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَكِيٌّ هُمَا أَمْ لَا وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو إِسْحَاق اسْمُهُ سُلَيْمَانُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ هُوَ أَخُو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ دحیہ کلبی نے رسول اللہ ﷺ کے لیے دو موزے تحفہ بھیجے، چناچہ آپ نے انہیں پہنا۔

Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah(RA) reported that Dihyah Kalbi presented socks to Allah’s Messenger and he wore them. Israil reported from jabir who from Aamir, ‘and a robe, too. He wore both things till they were worn out. He did not enquire if the skin was of a slaughtered animal or not.”

(حديث المغيرة) صحيح، (حديث عامر) ضعيف (حديث المغيرة) مختصر الشمائل (59)، (حديث عامر) مختصر الشمائل (59)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1769
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسرائیل نے اپنی روایت میں کہا ہے (جسے وہ بطریق «عن جابر» روایت کرتے ہیں) : ایک جبہ بھی بھیجا، آپ نے ان دونوں موزوں کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے، نبی اکرم ﷺ نہیں جانتے تھے کہ وہ مذبوح جانور کی کھال کے ہیں یا غیر مذبوح، ٣ - ابواسحاق سبیعی کا نام سلیمان ہے، ٤ - حسن بن عیاش ابوبکر بن عیاش کے بھائی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١١٥١٦) (صحیح )
1770Sunan At-Tirmidhi

دانتوں پر سونا چڑھانا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، وَأَبُو سَعْدٍ الصَّغَانِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، قَالَ: أُصِيبَ أَنْفِي يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذْتُ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيَّ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ ،

عرفجہ بن اسعد ؓ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کلاب ١ ؎ (ایک لڑائی) کے دن میری ناک کٹ گئی، میں نے چاندی کی ایک ناک لگائی تو اس سے بدبو آنے لگی، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے مجھے سونے کی ایک ناک لگانے کا حکم دیا ٢ ؎۔ اس سند سے بھی ابوشہب سے اسی جیسی حدیث روایت ہے،

Sayyidina Arfajah ibn As’ad (RA)narrrated: During the Battle of Kulab in the pre-Islamic period, my nose was chopped off. I had a silver nose made out but it gave off a stench. So, Allah’s Messenger ﷺ ordered me to get a gold nose. [Ahmed 2090]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ -
1773Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کے نعلین مبارک

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَعْلَاهُ لَهُمَا قِبَالَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جوتے کے دو تسمے تھے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik said that the shoes of Allah’s Messenger ﷺ had two straps.

صحيح مختصر الشمائل (60 و 62)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس و ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1772Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کے نعلین مبارک

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَيْفَ كَانَ نَعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ لَهُمَا: قِبَالَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے جوتے کیسے تھے؟ کہا: ان کے دو تسمے تھے۔

Qatadah aid that he asked Anas ibn Maalik about the sandals of Allah’s Messenger ﷺ He said, “They had two straps”.

صحيح مختصر الشمائل (60 و 62)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1772
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤١ (٥٨٥٧)، (وانظر أیضا: الخمس رقم ٣١٠٧) سنن ابی داود/ اللباس ٤٤ (٤١٣٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٧ (١٦١٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٢)، و مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٠٣، ٢٤٥، ٢٦٩) (صحیح )
1774Sunan At-Tirmidhi

ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی ایک جوتا پہن کر نہ چلے، دونوں پہن لے یا دونوں اتار دے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, None of you must walk with one sandal. Let him wear both together, or remove both.” [Bukhari 5855]

صحيح، ابن ماجة (3617)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1774
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٠ (٥٨٥٥)، صحیح مسلم/اللباس ١٩ (٢٠٩٧)، سنن ابی داود/ اللباس ٤٤ (٤١٣٦)، سنن النسائی/اللباس ٢٩ (١٦١٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٠)، و مسند احمد (٢/٢٤٥، ٣١٤) (صحیح) (وانظر أیضا: سنن ابی داود/ اللباس ١٩ (٢٠٩٨)، وسنن النسائی/الزینة ١١٧ (٥٣٧١)، وط/اللباس ٧ (١٤)، و مسند احمد (٢/٢٥٣، ٤٢٤، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٢٨ )
1775Sunan At-Tirmidhi

ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَالْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ، وَلَا نَعْرِفُ لِحَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَصْلًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر جوتا پہنے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade that a man should put on shoes while he is standing. [Ibn e Majah 3618]

صحيح، ابن ماجة (3618)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1775
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - عبیداللہ بن عمر ورقی نے اس حدیث کو معمر سے، معمر نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے روایت کی ہے، یہ دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہیں، حارث بن نبہان کا حافظہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے، ٣ - قتادہ کی انس سے مروی حدیث کی ہم کوئی اصل نہیں جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کھڑے ہو کر جوتا پہننے میں یہ دقت ہے کہ پہننے والا بسا اوقات گر سکتا ہے، جب کہ بیٹھ کر پہننے میں زیادہ سہولت ہے، اگر کھڑے ہو کر پہننے میں ایسی کوئی پریشانی نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٩ (٣٦١٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٣) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا راوی حارث بن نبہان متروک الحدیث ہے، دیکھئے: سلسلہ الصحیحہ رقم ٧١٩ )
1776Sunan At-Tirmidhi

ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: وَلَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ، وَلَا حَدِيثُ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ٍ

Abu Ja’far Sumnani reported from Sulayman ibn Ubaydullah Raqqi, from Ubaydullah ibn Amr Raqqi, from Ma’mar from Qatadah, from Anas that the Prophet ﷺ disallowed putting on sandals while standing up.

صحيح انظر ما قبله (1775)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1776
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٤٠) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں )
1777Sunan At-Tirmidhi

ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ كُوفِيٌّ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْلَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رُبَّمَا مَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم ﷺ ایک جوتا پہن کر چلتے۔

Sayyidah Ayshah (RA) said that the Prophet ﷺ sometimes walked with only one sandal on him.

منكر، المشکاة (4416)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1777
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٥١٦) (منکر) (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کا عائشہ پر موقوف ہونا ہی صحیح ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اور مؤلف نے صراحت کی ہے )
1778Sunan At-Tirmidhi

ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا مَشَتْ بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَهَذَا أَصَحُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں۔

Ahmad ibn Mani’ reported from Sufyan ibn Uyaynah, from Abdur Rahman ibn Qasim who from his father that Sayyidah Ayshah (RA) walked with one sandal on her.

صحيح المصدر نفسهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1778
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ روایت زیادہ صحیح ہے ١ ؎، ٢ - سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے موقوف طریقہ سے روایت کیا ہے اور یہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ـ: یعنیعبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے سفیان بن عیینہ کی یہ موقوف روایت اس سے ماقبل لیث کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ لیث کی بنسبت سفیان بن عیینہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ان کا حافظہ قوی ہے، جب کہ لیث آخری عمر میں اپنے حافظہ کے اعتبار سے کمزور ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٤٨٩) (صحیح )
1779Sunan At-Tirmidhi

ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ فَلْتَكُنْ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, When one of you puts on shoes, let him begin with the right foot. And when, he removes them, let him begin with left foot. Thus, let the right foot be the first while wearing (shoes) and last while removing (them). [Bukhari 5856 Muslim 2097] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3616)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1779
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جوتا پہننا پاؤں کے لیے عزت و تکریم کا باعث ہے، اس لحاظ سے اس تکریم کا مستحق داہنا پاؤں سب سے زیادہ ہے، کیونکہ دایاں پاؤں بائیں سے بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٩ (٥٨٥٤)، سنن ابی داود/ اللباس ٤٤ (٤١٣٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٨ (٣٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٨١٤)، وط/اللباس ٧ (١٥)، و مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٣٠، ٤٧٧) (صحیح )
1780Sunan At-Tirmidhi

کپڑوں میں پیوند لگانا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيّ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: صَحِبْتُ الْأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْبَرَهَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي، وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ .

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اگر تم (آخرت میں) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ said to me, “If you intend to join me (in the Hereafter) then let the world suffice you like the provision of a journey. And, it is impertative that you abstain from sitting with the rich people and do not cease to wear a garment till you put a patch on it.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف جدا، الضعيفة (1294)، التعليق الرغيب (4 / 98)، المشکاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) // ضعيف جدا، الضعيفة (1294)، التعليق الرغيب (4 / 98)، المشکاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1780 صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1780
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں، ٤ - نبی اکرم ﷺ کے فرمان «إياک ومجالسة الأغيناء» کا مطلب اسی طرح ہے جیسا کہ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس آدمی کو دیکھے جس کو صورت اور رزق میں اس پر فضیلت دی گئی ہو، تو اسے چاہیئے کہ اپنے سے کم تر کو دیکھے جس کے اوپر اس کو فضیلت دی گئی ہے، کیونکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرے ، ٤ - عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں: میں مالداروں کے ساتھ رہا تو اپنے سے زیادہ کسی کو غمزدہ نہیں دیکھا، کیونکہ میں اپنے سے بہتر سواری اور اپنے سے بہتر کپڑا دیکھتا تھا اور جب میں غریبوں کے ساتھ رہا تو میں نے راحت محسوس کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٧) (ضعیف جداً ) (سند میں ” صالح بن حسان “ متروک ہے) سنن ابی داود/ الترجل ١٢ (٤١٩١)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١١) (صحیح )
1781Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا أَعْرِفُ لِمُجَاهِدٍ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ١ ؎۔

Sayyidah Umm Hani (RA) said that when Allah’s Messenger ﷺ came to Makkah, he had four plaits (in his hair). [Abu Dawud 4191]

صحيح، ابن ماجة (3631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1781
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے گردوغبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیونکہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1782Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ يَقُولُ: كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةً.

ابوکبشہ انماری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔

Abdullah ibn Busr reported that he heard Sayyidina Abu Kabshah Anmari (RA) say that the caps of the sahabah of Allah’s Messenger ﷺ were flat (level with their heads).

ضعيف، المشکاة (4333 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1782
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ٣ - «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢١٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن بسر مکی ضعیف ہیں )
1783Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ، فَقَالَ: هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.

حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا: یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کرلو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کرسکتے ١ ؎۔

Sayyidina Huzayfah (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ caught the shin of my leg, or of his own leg, and said, “This is the limit of the lower garment (or wrapper) and if you cannot reconcile then a little lower, and, if not, then if has no right on the ankles.” [Ibn e Majah 3572]

صحيح، ابن ماجة (3572)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1783
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تہ بند باندھنے کی اصل جگہ آدھی پنڈلی تک اگر اس سے نیچا رکھنا ہے تو ٹخنوں سے کچھ اوپر تک رکھنے کی گنجائش ہے، اس سے نیچا رکھنا منع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٧ (٣٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ٣٣٨٣) و مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠١) (صحیح )
1784Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ، وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ.

محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے ۔

Abu Ja’far ibn Muhan-unad ibn Rukanah reported on the authority of his father that when Rukanah wrestled with him, the Prophet ﷺ iii knocked him down. Rukanah said that he heard Allah’s Messenger iit say, “The difference between us and the polytheists lies in turbans over caps (that we wear).” [Abu Dawud 4078] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (4340)، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959)، ضعيف أبي داود (882 / 4078) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1784
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی سند قائم (صحیح) نہیں ہے، ٣ - ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٢٤ (٤٠٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابو جعفر بن محمد مجہول ہیں نیز محمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے: تہذیب الکمال )
1785Sunan At-Tirmidhi

لوہے اور پیتل کی انگوٹھی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ ، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ، قَالَ: مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آرہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو ۔

Abdullah ibn Buraydah reported on the authority of his father that a man came to the Prophet ﷺ He had an iron ring on his hand. He asked, “Why is it that I see on you the adornment of the people of Fire?” When he came again, he wore a ring of yellow copper, and the Prophet ﷺ said, ‘Why do I smell the odour of idols on you?” Then the next time he had on him a ring of gold, and he asked him, “Why is it that I see on you the ornament of the inhabitants of paradise?” He asked, “What material should I select?” He said, “Silver, but not weighing as much as a mithqal.’ [Abu Dawud 4223] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (4396)، آداب الزفاف (128)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1785
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ٣ - عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخاتم ٤ (٤٢٢٣)، سنن النسائی/الزینة ٤٦ (٥١٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٨٢)، و مسند احمد (٥/٣٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابو طیبہ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اکثر وہم ہوجایا کرتا تھا )
1786Sunan At-Tirmidhi

ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَائِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.

علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے «قسي» (ایک ریشمی کپڑا) سرخ (رنگ کا ریشمی) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔

Sayyidina Ali narrated : Allah’s Messenger ﷺ forbade me to wear silk clothing, to ride on red saddle cloth and to wear a ring on the middle finger, or the one next to it [Muslim 2078]

صحيح - بلفظ فی هذه أو هذه شک عاصم - الضعيفة (5499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1786
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧)، والذکر ١٨ (٢٧٢٥)، سنن ابی داود/ الخاتم ٤ (٤٢٢٥)، سنن النسائی/الزینة ٥٢ (٥٢١٣)، ٧٩ (٥٢٨٨)، و ١٢١ (٥٣٧٨)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٣ (٣٦٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣١٨)، و مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (صحیح) ہذہ أو ہذہ کے لفظ سے صحیح ہے، اور دونوں سیاق کا معنی ایک ہی ہے )
1787Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ. قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the dress dearest to Allah’s Messenger was a stripped cloak. [Bukhari 5812, Muslim 2019]

صحيح مختصر الشمائل المحمدية (51)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1787
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ١٨ (٥٨١٢)، صحیح مسلم/اللباس ٥ (٢٠٧٩)، سنن النسائی/الزینة ٩٤ (٥٣١٧)، والمؤلف في الشمائل ٨ (تحفة الأشراف: ١٣٥٣)، و مسند احمد (٣/١٣٤، ١٨٤، ٢٥١، ٢٩١) (صحیح )