جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا اور آپ نے اس کو بنانے سے بھی منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade keeping pictures in the home, and disallowed making them. [Ahmed 1462]
صحيح، الصحيحة (424)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1749
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابوطلحہ، عائشہ ابوہریرہ اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تصویر کے سلسلہ میں جمہور علماء کی یہ رائے ہے کہ ذی روح اور جاندار کی تصویر قطعی طور پر حرام ہے، غیر جاندار چیزیں مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر حرام نہیں ہے، بعض کا کہنا ہے کہ جاندار کی تصویر اگر ایسی جگہ ہو جہاں اسے پاؤں سے روندا جا رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری ؓ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف ؓ کو پایا، ابوطلحہ ؓ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل ؓ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم ﷺ نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل ؓ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ١ ؎۔
Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utbah narrated: I visited Abu Talhah Ansari (RA) to enquire after his health. Sahi ibn Hunayf (RA) was present with him. Shortly, Abu Talhah summoned a man to remove the sheet under him. Sahi asked him why he removed it. He said, “Because it has pictures on it, and you know what the Prophet ﷺ . I had said about them.” Sahi .. said, “Did he not say that those that are inscribed on cloth are allowed?” He said, “Yes, but this is more satisfying to myself.” [Muslim 5359]
صحيح غاية المرام (134)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ١ ؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for one who draws pictures, Allah will punish him till he blows a soul into it, and he will never be able to blow a soul into it. As for one who eavesdrops on a people and they do not like it, on the Day of Resurrection, molten lead will be poured into his ears.” [Bukhari 7042] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح غاية المرام (120 و 422)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1751
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابوحجیفہ، عائشہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگا کر سنا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بال کی سفیدی (خضاب کے ذریعہ) بدل ڈالو اور یہود کی مشابہت نہ اختیار کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA)reported that Allah’s Messenger said, “Alter (the look, of) old age and do not adopt resemblance to Jews.” [Ahmed 9220]
صحيح حجاب المرأة (96)، الصحيحة (836)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1752
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں زبیر، ابن عباس، جابر، ابوذر، انس، ابورمثہ، جہدمہ، ابوطفیل، جابر بن سمرہ، ابوحجیفہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہود و نصاریٰ خضاب کا استعمال نہیں کرتے، لہٰذا ان کی مخالفت میں اسے استعمال کرو، یہی وجہ ہے کہ سلف میں اس کا استعمال کثرت سے پایا گیا، چناچہ اسلاف کی سوانح لکھنے والوں میں سے بعض سوانح نگار اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ فلاں خضاب کا استعمال کرتے تھے اور فلاں نہیں کرتے تھے۔ اور یہ کہ فلاں کالا استعمال کرتے ہیں اور فلاں کالا نہیں استعمال کرتے۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر چیز جس سے بال کی سفیدی بدلی جائے وہ مہندی اور وسمہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that the Prophet ﷺ is.i said, ‘The best thing with which old age is altered is henna and indigo (plant).” [Abu Dawud 42 05]
صحيح، ابن ماجة (2622)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1753
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ـ جو سرخ اورسیاہمخلوطہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الترجل ١٨ (٤٢٠٥)، سنن النسائی/الزینة ١٦ (٥٠٨٠)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٢ (٣٦٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٧)، و مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میانہ قد تھے، آپ نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد، گندمی رنگ کے سڈول جسم والے تھے، آپ کے بال نہ گھونگھریالے تھے نہ سیدھے، آپ جب چلتے تو پیر اٹھا کر چلتے جیسا کوئی اوپر سے نیچے اترتا ہے۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was of medium height neither very tall nor short. He had a beautiful body, a wheat complexion and his hair were neither curly not straight. He walked as though he descended from a height. [Bukhari 3547, Muslim 2338]
صحيح مختصر الشمائل (1 و 2)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1754
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے حمید کی روایت سے انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، براء، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوسعید، جابر، وائل بن حجر اور ام ہانی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، آپ کے بال «جمہ» سے چھوٹے اور «وفرہ» سے بڑے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated We Allah’s Messenger ﷺ and I used to bath from the same single vessel. He had hair that did not reach his shoulders but went beyond his ear-lobes. [Abu Dawud 4187]
حسن صحيح، ابن ماجة (604 و 3635)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے، کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے، «وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة» ٣ - عبدالرحمٰن بن ابی زناد ثقہ ہیں، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «جمہ»: ایسے بال جو کندھوں تک لٹکتے ہیں، اور «وفرہ» کان کی لو تک لٹکنے والے بال کو کہتے ہیں، بال تین طرح کے ہوتے ہیں: «جمہ»،«وفرہ»، اور «لمہ»، «لمة»: ایسے بال کو کہتے ہیں جو کان کی لو سے نیچے اور کندھوں سے اوپر ہوتا ہے، (یعنی «وفرہ» سے بڑے اور «جمہ» سے جھوٹے) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بال «جمہ» یعنی کندھوں تک لٹکنے والے تھے، ممکن ہے کبھی «جمہ» رکھتے تھے اور کبھی «لمہ» نیز کبھی «وفرہ» بھی رکھتے تھے۔
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ ناغہ کر کے کی جائے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed combing hair every day. [Abu Dawud 4159] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (501)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1756
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الترجل ١ (٤١٥٩)، سنن النسائی/الزینة ٧ (٥٠٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٠)، و مسند احمد (٤/٨٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس (داہنی آنکھ) میں اور تین سلائی اس (بائیں آنکھ) میں سرمہ لگاتے تھے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Apply collyrium the ithmadO kind for, it is good for eyesight and grows hair.” He believed that the Prophet ﷺ had a case for collyrium from which he applied it to this eye three times and to this eye three times every night. [Ibn e Majah 3497]
(حديث ابن عباس اکتحلوا بالإثمد .. ) صحيح دون قوله وزعم ..، (الحديث الآخر عليكم بالإثمد .. ) ** مختصر الشمائل (42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اس لفظ کے ساتھ صرف عباد بن منصور کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٢٥ (٣٤٩٧)، وانظر أیضا: سنن ابی داود/ الطب ١٤ (٣٨٧٨)، سنن النسائی/الزینة ٢٨ (٥١١٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٧)، و مسند احمد (١/٣٥٤)، ویأتي عند المؤلف برقم ٢٠٤٨) (صحیح) (پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عباد بن منصور “ مدلس ومختلط ہیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لباس سے منع فرمایا: ایک صماء، اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص خود کو کپڑے میں اس طرح لپیٹ لے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ رہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger disallowed two kinds of dress: (1) Sama which is to throw a cloak on the shoulders and place its right corner on the left shoulder and the left corner on the right shoulder wrapping the hands within it, and (2) Sitting erect on the hips with a single garment wrapping the knees and back, nothing else covering the private parts. [Ibn e Majah 3560]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ دوسری سندوں سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ، ابوسعید، جابر اور ابوامامہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل لغت کے نزدیک صماء یہ ہے کہ آدمی چادر سے جسم کو اس طرح لپیٹ لے کہ بوقت ضرورت ہاتھ بھی نہ نکال سکے، فقہاء کے نزدیک صماء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے جسم پر ایک ہی چادر لپیٹے اور اس کا ایک کنارہ اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لے جس سے اس کی شرمگاہ کھل جائے، اور احتباء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے چوتڑ کے بل بیٹھ جائے اور اوپر سے کپڑا اس طرح لپیٹے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بال میں جوڑے لگانے والی، بال میں جوڑے لگوانے والی، گدنا گوندنے والی اور گدنا گوندوانے والی پر لعنت بھیجی ہے ۔ نافع کہتے ہیں: گدنا مسوڑے میں ہوتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar reported that the Prophet ﷺ said, “Allah has cursed the woman who pastes false hair and the woman who gets it done, and the woman tatooist and the woman who gets it done.” Nafi’ said that tattooing is in the gums. [Bukhari 5937]
صحيح، ابن ماجة (1987)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1759
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اسماء بنت ابی بکر، ابن عباس، معقل بن یسار اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ غالب احوال کے تحت ہے ورنہ جسم کے دوسرے حصوں پر بھی گدنا گوندنے کا عمل ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٣٧)، و ٨٥ (٥٩٤٠، ٥٩٤٢)، و ٨٧ (٥٩٤٧)، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٤)، سنن ابی داود/ الترجل ٥ (٤١٦٨)، (٢٧٨٤)، سنن النسائی/الزینة ٢٣ (٥٠٩٨)، ٧٢ (٥٢٥٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٢ (١٩٨٧) (تحفة الأشراف: ٧٩٣٠)، و مسند احمد (٢/٢١) ویأتي في الأدب ٣٣ (برقم ٢٧٨٣) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ریشمی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا: راوی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed riding on silken saddle cloths. [Bukhari 1239, Muslim 2066]
صحيح آداب الزفاف (125)، المشکاة (4358 / التحقيق الثانی)، الصحيحة (2396)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1760
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - براء ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور معاویہ ؓ سے بھی روایت ہے، شعبہ نے بھی اشعث بن ابی شعثاء سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٧١ (٥١٧٥)، والأشربة ٢٨ (٥٦٣٥)، والمرضی ٤ (٥٦٥٠)، واللباس ٢٨ (٥٨٣٨)، و ٣٦ (٥٨٤٩)، و ٤٥ (٥٨٦٣)، والأدب ١٢٤ (٦٢٢٢)، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٩١٦)، و مسند احمد (٤/٢٨٤، ٢٩٩) وکلہم في سیاق طویل منہ ہذا الشق (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جس بچھونے پر سوتے تھے وہ چمڑے کا تھا، اس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “The bed on which Allah’s Messenger ﷺ slept was made of leather and it was stuffed with cor of the palm tree. [Bukhari 6456, Muslim 2081] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (4151)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1761
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حفصہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھی۔
Sayyidah Umm Salamah said that of all clothing. Allah’s Messenger ﷺ liked to wear shirt most. [Abu Dawud 4025]
صحيح، ابن ماجة (3575)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1762
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالمومن بن خالد کی روایت سے جانتے ہیں، وہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں، وہ مروزی ہیں، ٣ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو اس سند سے روایت کی ہے، «عن أبي تميلة عن عبد المؤمن بن خالد عن عبد اللہ بن بريدة عن أمه عن أم سلمة»۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھی۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) narrated that the dearest of garments to Allah’s Messenger ﷺ was the shirts.
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
محمد بن اسماعیل کو کہتے سنا: عبداللہ بن بریدہ کی حدیث جو ان کی ماں کے واسطہ سے ام سلمہ سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ابوتمیلہ اس حدیث میں «عن امہ» کا واسطہ ضرور بیان کرتے تھے۔
کئی لوگوں نے یہ حدیث بسند «شعبة عن أبي هريرة» موقوف روایت کی ہے، شعبہ سے روایت کرنے والے عبدالصمد بن عبدالوارث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع طریقہ سے روایت کیا ہے۔