عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہوگیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The hide that is tanned is pure.” [Muslim 366]
صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1728
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بواسطہ ابن عباس نبی اکرم ﷺ سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، ٣ - یہ حدیث ابن عباس سے کبھی میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اور کبھی سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم ﷺ سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہو، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے براہ راست بھی روایت کیا، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ٦ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہوجاتا ہے ، ٧ - شافعی کہتے ہیں: کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہوجائے گا، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، ٨ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے، ٩ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہوجائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ١٠ - اس باب میں سلمہ بن محبق، میمونہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چمڑا جسے دباغت دیا گیا ہو وہ پاک ہے، لیکن اس عموم سے درندوں کی کھالیں نکل جائیں گی، کیونکہ اس سلسلہ میں فرمان رسول ہے «أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نهى عن جلود السباع» یعنی آپ ﷺ نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے، اس حدیث کی بنیاد پر درندوں کی کھالیں ہر صورت میں ناپاک ہی رہیں گی، اور ان کا استعمال ناجائز ہوگا۔
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ١ ؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔
Sayyidina Abdullah ibn Ukaym (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ wrote to them that no one should use the skin or the sinew of an animal that had died a natural death. [Abu Dawud 4127]
صحيح، ابن ماجة (3613)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1729
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے، ٣ - اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے، ٤ - عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا، ٥ - میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے: یہ نبی اکرم ﷺ کا آخری حکم تھا، ٦ - پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چناچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دباغت سے پہلے کی حالت پر محمول ہے، گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ٤٢ (٤١٢٧)، سنن النسائی/الفرع ٥٤ (٢٤٥٥، ٢٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٦ (٣٦١٣)، (تحفة الأشراف: ٦٦٤٢)، و مسند احمد (٤/٢١٠، ٣١١) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء ٣٨، والصحیحة ٣١٣٣، والضعیفة ١١٨، تراجع الألبانی ١٥ و ٤٧٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند گھیسٹا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “Allah will not look at one who trails his lower garment below his ankles arrogantly.” [Bukhari 5783, Muslim 2085]
صحيح، ابن ماجة (3569)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1730
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، سمرہ، ابوذر، عائشہ اور وہیب بن مغفل ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا تکبر کیے بغیر غیر ارادی طور پر تہ بند کا نیچے لٹک جانا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ارادۃ و قصداً نیچے رکھنا اور حدیث میں جو سزا بیان ہوئی ہے اسے معمولی جاننا یہ بڑا جرم ہے، کیونکہ کپڑا گھسیٹ کر چلنا یہ تکبر کی ایک علامت ہے، جو لباس کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٥)، واللباس ١ (٥٧٨٣)، و ٢ (٥٧٨٤)، و ٥ (٥٧٩١)، صحیح مسلم/اللباس ٩ (٢٠٨٥)، سنن ابی داود/ اللباس ٢٨ (٤٠٨٥)، سنن النسائی/الزینة ٦٦ (٥٣٧٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٦ (٣٥٦٩)، و ٩ (٣٥٧٦)، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٦ و ٧٢٢٧ و ٨٣٥٨)، وط/اللباس ٥ (٩) و مسند احمد (٢/٥، ١٠، ٣٢، ٤٢، ٤٤، ٤٦، ٥٥، ٥٦، ٦٠، ٦٥، ٦٧، ٦٩، ٧٤، ٧٦، ٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ، ام سلمہ نے کہا: عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ایک بالشت لٹکا لیں ، انہوں نے کہا: تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے، آپ نے فرمایا: ایک بالشت لٹکائیں ١ ؎ اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone trails arrogantly his lower garment below his ankles then Allah will not look at huh on the day of Resurrection.” Sayyidah Umm Salamah asked him. “How should women make their skirts?” He said, “Let them leave it down a span.” She said, “In that case, a woman’s legs might be uncovered.” So, he said, “They may let it down a cubit, but not more.” [Muslim 2085]
صحيح، ابن ماجة (3580 - 3581)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1731
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑا لٹکانے کے سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حکم ہے، مردوں کے لیے آدھی پنڈلی تک لٹکانا زیادہ بہتر ہے، تاہم ٹخنوں تک رکھنے کی اجازت ہے، لیکن ٹخنوں کا کھلا رکھنا بےحد ضروری ہے، اس کے برعکس عورتیں نہ صرف ٹخنے بلکہ پاؤں تک چھپائیں گی، خاص طور پر جب وہ باہر نکلیں تو اس کا خیال رکھیں کہ پاؤں پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ١ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah jiri reported that the Prophet ﷺ measured for Sayyidah Fatimah (RA) the extent of a span.
صحيح، ابن ماجة (3580)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1732
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے، ٢ - اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند (چادر) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک بالشت کے برابر لٹکانے کی اجازت دی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس ٤٠ (٤١١٧-٤١١٨)، و ق /اللباس ١٣ (٣٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ٨٢٥٧) (صحیح) (ابوداود اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف راوی ہیں )
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ ؓ نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Burdah (RA) narrated: Sayyidah Ayshah (RA) showed us a woollen cloak and a lower wrapper for the body of thick coarse cloth, saying, Allah’s Messenger ﷺ died in these two garments.” [Bukhari 3108, Muslim 2080, Ibn e Majah 3551]
صحيح، ابن ماجة (3551)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1733
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا» اللہ مجھے مسکین کی زندگی عطا کر اور اسی حالت میں میری وفات ہو، اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول کی چناچہ آپ کی وفات حدیث میں مذکور دو معمولی کپڑوں میں ہوئی، غور کا مقام ہے کہ آپ زہد کے کس مقام پر فائز تھے، اور دنیاوی مال و متاع سے کس قدر دور رہتے تھے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس دن موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ (علیہ السلام) کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل (پائجامہ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے ۔
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “On the day, his Lord spoke to him, Musa had on him a woollen cloak and a woolen robe, a woollen small cap and woollen trousers. His sandals were made of the hide of a dead donkey.”
ضعيف جدا، الضعيفة (4082) // ضعيف الجامع الصغير (4154) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1734
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں، ٣ - «کمہ»: چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٣٢٨) (ضعیف جدا) (سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that when the Prophet ﷺ entered Makkah on the day of conquest, he had on him a black turban. [Abu Dawud 4076, Ibn e Majah 2822] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2822)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1735
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتا ہے، مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے، کیونکہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے، اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر ؓ اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that when Allah’s Messenge ﷺ put on a turban, he put the end of it between his shoulders behind him. Nafi’ said that he saw Ibn Umar (RA) do the same thing. Ubaydullah said that he saw Qasim and Saalim do like that.
صحيح، الصحيحة (716)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1736
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» (ایک ریشمی کپڑا) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» (کسم سے رنگے ہوئے زرد) کپڑے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina All ibn Abu Talbi reported that Allah’s Messenger disallowed him to wear a golden ring and silken garments and to recite the Quran in ruku and sajdah (bowing and prostration) and wearing yellow garments. [Muslim 480]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1737
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ (عقیق) حبشہ کا بنا ہوا تھا ١ ؎۔
Sayidina Anas reported that the ring of Allah’s Messenger ﷺ was made of silver and it had an Ethiopian stone. [Bukhari 5868, Muslim 2094]
صحيح، ابن ماجة (3646)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1739
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آنے والی انس کی روایت جس میں ذکر ہے کہ نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور باب کی اس روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ احتمال ہے کہ آپ کے پاس دو قسم کی انگوٹھیاں تھیں، یا یہ کہا جائے کہ نگینہ چاندی کا تھا، حبشہ کی جانب نسبت کی وجہ یہ ہے کہ حبشی نقش و نگار یا طرز پر بنا ہوا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٨ (٥٨٧٠)، صحیح مسلم/اللباس ١٥ (٢٠٩٤)، سنن ابی داود/ الخاتم ١ (٤٢١٦)، سنن النسائی/الزینة ٤٧ (٥١٩٩)، و ٧ (٥٢٧٩-٥٢٨٢) سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤١)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤)، و مسند احمد (٣/٢٠٩)، وانظر الحدیث التالي (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اسے داہنے ہاتھ میں پہنا، پھر منبر پر بیٹھے اور فرمایا: میں نے اس انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا تھا ، پھر آپ نے اسے نکال کر پھینکا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ had a ring made of gold and wore it on his right hand. Then he sat on the pulpit and said, “I had put this ring on my right hand.” Then, he threw it away and the people threw away their rings (too). [Muslim 2091, Bukhari 5767]
صحيح مختصر الشمائل (84)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1741
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، ٢ - اس باب میں علی، جابر، عبداللہ بن جعفر، ابن عباس، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فقہاء کے نزدیک دائیں اور بائیں کسی بھی ہاتھ میں انگوٹھی پہننا جائز ہے، ان میں سے افضل کون سا ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے، اکثر فقہاء کے نزدیک دائیں ہاتھ میں پہننا افضل ہے، اس لیے کہ انگوٹھی ایک زینت ہے اور دایاں ہاتھ زینت کا زیادہ مستحق ہے، سونے کی یہ انگوٹھی جسے آپ ﷺ نے پہنا یہ اس کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٤٥ (٥٨٦٥)، و ٤٦ (٥٨٦٦)، و ٤٧ (٥٨٦٧)، و ٥٠ (٥٨٧٣)، و ٥٣ (٥٨٧٦)، والأیمان والنذور ٦ (٦٦٥١)، والاعتصام ٤ (٧٢٩٨)، صحیح مسلم/اللباس ١١ (٢٠٩١)، سنن ابی داود/ الخاتم ١ (٤٢١٨)، سنن النسائی/الزینة ٤٣ (٥١٦٧)، و ٥٣ (٥٢١٧-٥٢٢١)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ٨٤٧١)، و مسند احمد (٢/١٨، ٦٨، ٩٦، ١٢٧) (صحیح )
صلت بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا۔
Salt ibn Abdullah ibn Nawfal reported that he saw Sayyidina Ibn Abbas (RA) wearing a ring on his right hand. He said, “I think that he also said that he had seen Allah’s Messenger ﷺ wearing it on his right hand.’ [Abu Dawud 429]
حسن صحيح، الإرواء (3 / 303 - 304)، مختصر الشمائل (80)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1742
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے۔
محمد الباقر کہتے ہیں کہ حسن اور حسین اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔
Ja’far ibn Muhamnad reported on the authoritly of his father that Sayyidina Hasan (RA) and Sayyidina Husayn wore rings on their left hands. [Muslim 2095]
صحيح موقوف مختصر الشمائل (82)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1743
حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع ١ ؎ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر ؓ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا، عبداللہ بن جعفر ؓ نے کہا: نبی اکرم ﷺ اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
Hammad ibn Salamah reported that he saw Ibn Abu Rafi’ wear a ring on his left hand. He asked him and he said, “I had seen Abdullah ibn Ja’far wear a ring on his left hand and I heard him say that Allah’s Messenger used to wear a ring on his left hand.” [Nisai 5219, Ibn e Majah 3647]
صحيح، ابن ماجة (3747)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1744
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابورافع ؓ کے لڑکے عبدالرحمن ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزینة ٤٨ (٥٢٠٧)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٢ (٣٦٤٧)، (تحفة الأشراف: ٥٢٢٢)، و مسند احمد (١/٢٠٤)، والمؤلف في الشمائل ١٣ (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبد الرحمن بن ابی رافع “ لین الحدیث ہیں )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا «محمد» ایک سطر میں «رسول» ایک سطر میں اور «اللہ» ایک سطر میں۔
Sayyidina Anas ibn MaaIik (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ made a ring of silver and inscribed thereon, ‘Muhammad Rasulullah’. Then he said, “Do not inscribe on it”.
صحيح، ابن ماجة (3639 - 3640)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1748
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - محمد بن یحییٰ نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ had a ring of silver made for him and had inscribed on it the words “Muhammad Rasulullah.” He said, ‘No one must have these words inscribed on his ring.’ [Bukhari 5878]
صحيح انظر ما قبله (1744)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1745
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٥٠ (٥٨٧٢)، و ٥١ (٥٨٧٤)، و ٥٤ (٥٨٧٧)، سنن النسائی/الزینة ٥٠ (٥٢١١)، و ٧٨ (٥٢٨٣)، و ٧٩ (٥٢٨٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٩ (٣٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠)، و مسند احمد (٣/١٠١، ١٦١) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ١ ؎۔
Sayyifina Anas (RA) narrated that when the Prophet ﷺ entered the privy, he took off his ring.
ضعيف، ابن ماجة (303) // ضعيف ابن ماجة برقم (61)، ضعيف أبي داود (5 / 19)، ضعيف سنن النسائي (400 / 5213)، المشکاة (343)، ضعيف الجامع الصغير بلفظ وضع (4390) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا، معلوم ہوا کہ پاخانہ پیشاب جاتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ اس کے ساتھ ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیئے جس کی بےحرمتی ہو، مثلاً اللہ اور اس کے رسول کے نام یا آیات قرآنیہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٠ (١٩)، سنن النسائی/الزینة ٥١ (٥٢١٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١ (٣٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢)، و مسند احمد (٣/٩٩، ١٠١، ٢٨٢)، والمؤلف الشمائل ١١ (٨٨) (ضعیف) (بطریق ” الزهري عن أنس “ اصل روایت یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دیا، اس روایت میں یا تو بقول امام ابوداود ہمام سے وہم ہوا ہے، یا بقول البانی اس کے ضعف کا سبب ابن جریج مدلس کا عنعنہ ہے، انہوں نے خود زہری سے نہیں سنا اور بذریعہ عنعنہ روایت کردیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: ضعیف ابی داود رقم ٤ )