Sunan At-Tirmidhi 1767

لباس کا بیان

1767Sunan At-Tirmidhi

نیا کپڑا پہنتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، عِمَامَةً، أَوْ قَمِيصًا، أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ. حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ نَحْوَهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے جیسے عمامہ (پگڑی) ، قمیص یا چادر، پھر کہتے: «اللهم لک الحمد أنت کسوتنيه أسألک خيره وخير ما صنع له وأعوذ بک من شره وشر ما صنع له» اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے، میں تم سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر کا طلب گار ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اور اس کی شر اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed said that when Allah’s Messenger -‘ wore a new garment, he would take its name, like turban, shirt, lower wrapper and then say: “O Allah all praise belongs to you who have clothed me in this garment, I ask you for the good of it and the good of what it was made for, and I seek refuge in you from its evil and the evil of what it was made for.” [Abu Dawud 4020] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (4342) صحيح، المشکاة (4342)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1767 اس سند سے بھی ابوسعید ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1767
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ١ (٤٠٢٠)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١١٨ (٣٠٩)، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٦)، و مسند احمد (٣/٣٠، ٥٠) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح )