ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا ١ ؎، میں نے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔
Sayyidah Aisha (RA) said, "When the parts that are circumcised pass one another the purifying bath becomes wajib. Allahs Messenger ﷺ and I did that and then we had a bath.
صحيح، ابن ماجة (608)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 108
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا، پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہو تب غسل واجب ہوگا، جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا، دیکھئیے اگلی حدیث۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١١ (٢٠٨)، ( تحفة الأشراف: ١٧٤٩٩)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/الحیض ٢٢ (٣٤٩)، وط/الطہارة ١٨ (٧٣)، و مسند احمد (٦/٤٧، ٩٧، ١١٢، ٢٢٧، ٢٣٩، ٢٦٥) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا ۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, "When the parts that are circumcised pass one another, it becomes wajib to have a bath."
صحيح (بما قبله)، الإرواء (1 / 121)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 109
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- کئی سندوں سے عائشہ ؓ کی نبی اکرم ﷺ مرفوع حدیث مروی ہے کہ جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ان میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور عائشہ ؓ بھی شامل ہیں، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے بھی اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ جب دونوں ختنوں کے مقام آپس میں چھو جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٦١١٩) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ صرف منی (نکلنے) پر غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، پھر اس سے روک دیا گیا۔
Sayyidina Ubayy ibn Kab (RA) said that in early Islam bath was Fard only when there was an emission. This was a concession granted but it was withdrawn. Ahmad ibn Mani reports from Ibn Mubarak from Mumar from Dhuhri a hadith like this hadith with same isnaad on him.
صحيح، ابن ماجة (609)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 110
اس سند سے بھی زہری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صرف منی نکلنے ہی کی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، ٣- اسی طرح صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے جن میں ابی بن کعب اور رافع بن خدیج ؓ بھی شامل ہیں، مروی ہے، ٤- اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، کہ جب آدمی اپنی بیوی کی (شرمگاہ) میں جماع کرے تو دونوں (میاں بیوی) پر غسل واجب ہوجائے گا گرچہ ان دونوں کو انزال نہ ہوا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور حکم دیا گیا کہ منی خواہ نکلے یا نہ نکلے اگر ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٨٤ (٢١٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١١ (٩٠٦)، ( تحفة الأشراف: ٢٧)، مسند احمد (٥/١١٥، ١١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٣ (٧٨٦) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ منی نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے کا تعلق احتلام سے ہے ١ ؎۔
Ali ibn Hajar reported from Abu Jahaf from Ikrimah from Sayyidina Ibn Abbas (RA) that’s he said, "Emission of sperm is necessary to make bath wajib only in a nocturnal dream,"
(حديث ابن عباس) صحيح دون قوله فی الاحتلام وهو ضعيف الإسناد موقوف، (حديث أبي سعيد) صحيح (حديث أبي سعيد)، ابن ماجة (606 - 607)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 112
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر، طلحہ، ابوایوب اور ابوسعید ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا منی نکلنے ہی پر غسل واجب ہوتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ توجیہ حدیث «إنما الماء من الماء» انزال ہونے پر غسل واجب ہے کی ایک دوسری توجیہ ہے، یعنی خواب میں ہمبستری دیکھے اور کپڑے میں منی دیکھے تب غسل واجب ہے ورنہ نہیں، مگر بقول علامہ البانی ابن عباس ؓ کا یہ قول بھی بغیر «في الاحتلام» کے ہے، یہ لفظ ان کے قول سے بھی ثابت نہیں ہے کیونکہ یہ سند ضعیف ہے، اور «إنما الماء من الماء» شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٠٨٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، اور یہ موقوف ہے، لیکن اصل حدیث إنما الماء من الماء مرفوعا صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزرا، اور مؤلف نے باب میں وارد احادیث کا ذکر کیا، لیکن مرفوع میں (في الاحتلام) کا لفظ نہیں ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یاد نہ آئے، آپ نے فرمایا: وہ غسل کرے اور اس شخص کے بارے میں (پوچھا گیا) جسے یہ یاد ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے تو آپ نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے؟ آپ نے فرمایا: عورتیں بھی (شرعی احکام میں ) مردوں ہی کی طرح ہیں۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about a man who noticed moisture on his garment on awakening from sleep but does not remember the nocturnal dream, he said that he must have a bath. He was also asked about one who remembers a nocturnal dream but his garments have no moisture. He said that he need not have a bath. Sayyidah Umm Salamah (RA) asked, "O Messenger of Allah ﷺ Shall a woman, who has this experience need have a bath?" He said, "Yes. Women are like men."
صحيح، صحيح أبي داود (234)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 113
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث کو جس میں ہے کہ آدمی تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ آئے صرف عبداللہ ابن عمر عمری ہی نے عبیداللہ سے روایت کیا ہے اور عبداللہ بن عمر عمری کی یحییٰ بن سعید نے حدیث کے سلسلے میں ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ١ ؎، ٢- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جب آدمی جاگے اور تری دیکھے تو غسل کرے، یہی سفیان ثوری اور احمد کا بھی قول ہے۔ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس پر غسل اس وقت واجب ہوگا جب وہ تری نطفے کی تری ہو، یہ شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور جب وہ احتلام دیکھے اور تری نہ پائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس پر غسل نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فی الواقع عبداللہ العمری حفظ میں کمی کے سبب تمام ائمہ کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن اس حدیث کا آخری ٹکڑا صحیحین میں ام سلمہ ؓ کی حدیث سے مروی ہے، اور پہلا ٹکڑا خولہ بنت حکیم کی حدیث جو حسن ہے سے تقویت پا کر صحیح ہے ( خولہ کی حدیث ابن ماجہ میں ہے، دیکھئیے رقم: ٦٠٢)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٩٥ (٢٣٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٢ (٦١٢)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٣٩)، مسند احمد (٦/٢٥٦) (صحیح) (ام سلمہ (یا ام سلیم) کا قول صرف عبداللہ العمری کی اس روایت میں ہے اور وہ ضعیف ہیں، بقیہ ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابی داود ٢٣٤)
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے مذی ١ ؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل ٢ ؎۔
Sayyidina Ali (RA) asked the Prophet ﷺ about mazi. He said, "Ablution is wajib after mazi, but bath after mani.
صحيح، ابن ماجة (504)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 114
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- علی بن ابی طالب ؓ سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل ، ٤- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، مذی سفید، پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔ ٢ ؎: خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے، یا خواب ( نیند ) میں، بہرحال اس سے غسل واجب ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٠ (٥٠٤)، مسند احمد (١/٨٧، ١١٠، ١١٢، ١٢١)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢٥)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الغسل ١٣ (٢٦٩)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٣ (٢٠٦)، سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٢)، والغسل ٢٨ (٤٣٦)، مسند احمد (١/ ٨٢، ١٠٨) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔
Sahl ibn Hunayf (RA) said,. “I was much worried because of mazi and had to bath again and again . So, I asked Allah’s Messenger ﷺ about it. He said, It is enough to make ablution with it.’ And I asked what should be done if it drops on the garment. He said that I should sprinkle a handful of water where it had stained the clothes."
حسن، ابن ماجة (506)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 115
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں، ٣- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہوگا۔ امام احمد کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہوگا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں «نضح» چھڑکنا ہی آیا ہے، ہاں بطور نظافت کوئی دھو لے تو یہ اس کی اپنی پسند ہے، واجب نہیں۔
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے (اوڑھنے کے لیے) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہوگیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چناچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ ؓ نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔
Sayyidina Hammam ibn Harith (RA) narrated that a guest came to Sayyidah Aisha (RA). She instructed that a yellow bed-sheet be given to him. He slept on it and had a nocturnal dream. He was ashamed to return the bed-sheet while it had traces of sexual dreams. He immersed it in water and then returned it. Sayyidah Aisha (RA) said, "Why did he spoil our bed-sheet. It was enough for him to scratch it out with his fingers. I used to scratch it out from the garments of Allahs Messenger ﷺ with my fingers."
صحيح، ابن ماجة (538)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 116
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ١ ؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی کو کپڑے سے دھونا واجب نہیں خشک ہو تو اسے کھرچ دینے اور تر ہو تو کسی چیز سے صاف کردینے سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے، منی پاک ہے یا ناپاک اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے، امام شافعی داود ظاہری اور امام احمد کی رائے ہے کہ منی ناک کے پانی اور منہ کے لعاب کی طرح پاک ہے، صحابہ کرام میں سے علی، سعد بن ابی وقاص، ابن عمر اور عائشہ ؓ کا بھی یہی مسلک ہے اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم کا بھی یہی مسلک ہے شیخ الاسلام کا فتوی الفتاوی الکبریٰ میں مفصل موجود ہے، جسے ابن القیم نے بدائع النوائد میں بعض فقہاء کہہ کر ذکر کیا ہے اور جن حدیثوں میں منی دھونے کا تذکرہ ہے وہ بطور نظافت کے ہے، وجوب کے نہیں ( دیکھئیے اگلی حدیث کے تحت امام ترمذی کی توجیہ )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٢ (٥٣٨)، مسند احمد (٦/٤٣)، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٧٧)، وانظر أیضا: صحیح مسلم/الطہارة ٣٢ (٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٨٨ (٢٩٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٨٢ (٥٣٧)، مسند احمد (٦/٦٧، ١٢٥، ١٣٥، ٢١٣، ٢٣٩، ٢٦٣، ٢٨٠) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی۔
It is reported from Sayyidah Aisha (RA) that she washed mani from the Prophet’s ﷺ garments.
صحيح، ابن ماجة (536)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 117
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اور عائشہ ؓ کی حدیث کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھوئی ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ١ ؎۔ اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ (کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے) ابن عباس کہتے ہیں: منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کرلو چاہے اذخر (گھاس) ہی سے ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ ان دونوں میں مطابقت واضح ہے، جو لوگ منی کی طہارت کے قائل ہیں وہ دھونے والی روایت کو استحباب پر محمول کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ دھونا بطور وجوب نہیں تھا بلکہ بطور نظافت تھا، کیونکہ اگر دھونا واجب ہوتا تو خشک ہونے کی صورت میں بھی صرف کھرچنا کافی نہ ہوتا، حالانکہ عائشہ ؓ نے صرف کھرچنے پر اکتفاء کیا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated that the Prophet ﷺ would go to sleep sexually defiled. And he would not even touch water.Hannad reported a similar hadith (as previous one) from Waki who from Sufyan who from Abu lshaq.
صحيح، ابن ماجة (581)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 118
اس سند سے بھی ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 119
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ٢- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ٣- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث (رقم ١١٨) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضو اور غسل کے بغیر سو سکتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے تاکہ امت پریشانی میں نہ پڑے، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرما لیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
١ ؎: ان کا سب کا ماحصل یہ ہے کہ اسود کے تلامذہ میں سے صرف ابواسحاق سبیعی نے اس حدیث کو «كان النبي صلی اللہ عليه وسلم ينام وهو جنب لايمس ماء» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، اس کے برخلاف ان کے دوسرے تلامذہ نے اسے «إنه کان يتوضأ قبل أن ينام» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن کسی ثقہ راوی کا کسی لفظ کا اضافہ جو مخالف نہ ہو حدیث کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہے، اور ابواسحاق سبیعی ثقہ راوی ہیں، نیز یہ کہ احمد کی ایک روایت ( ٦/١٠٢) میں اسود سے سننے کی صراحت موجود ہے، نیز سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سبیعی سے یہ روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی سے ان کی روایت سب سے معتبر مانی جاتی ( دیکھئیے صحیح ابوداودرقم: ٢٣٤، اور سنن ابن ماجہ رقم: ٥٨٣)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٩٠ (٢٢٨)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩٨ (٥٨١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٠٢٤) (صحیح)
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٦٠٢٣) (صحیح)
عمر ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب وہ وضو کرلے ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) asked the Prophet ﷺ if one could go to sleep while he was sexually defiled. He said, "Yes, if he performs ablution.”
صحيح، ابن ماجة (585)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 120
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عمار، عائشہ، جابر، ابوسعید اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- عمر ؓ والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ٣- یہی قول نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کرلے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وضو شرعی ہے لغوی نہیں، یہ وضو واجب ہے یا غیر واجب اس سلسلہ میں علماء میں اختلاف ہے، جمہور اس بات کی طرف گئے ہیں کہ یہ واجب نہیں ہے اور داود ظاہری اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ واجب ہے۔ اور پہلا قول ہی راجح ہے جس کی دلیل پچھلی حدیث ہے۔ ٢ ؎: یعنی مستحب ہے کہ وضو کرلے، یہی جمہور کا مذہب ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے (راوی کو شک ہے) ۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, "The Prophet ﷺ met me while I was sexually defiled. So, I slipped away quietly, had a bath and came to him. He asked me where I had gone away and I told him that I was impure. He said: A Believer does not become impure."
صحيح، ابن ماجة (534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا ، ٤- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور جب پسینے میں کوئی حرج نہیں تو بغیر پسینے کے بدن کی جلد ( سے پاک آدمی کے ہاتھ اور جسم کے ملنے ) میں بدرجہ اولیٰ کوئی حرج نہیں۔
ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ١ ؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ٢ ؎ آپ نے فرمایا: ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے ٣ ؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کردیا۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) said that Umm Sulaym bint Milhan (RA) came to ., the Prophet ﷺ and said, "Messenger of Allah! Allah is not ashamed of the truth. Is it wajib for a woman to have a bath if she has sexual dream as a man does?" He said, "Yes, when she sees signs of mani, she must have a bath." Sayyidah Umm Salamah (RA) said that she remarked, "O Umm Sulaym! You have disgraced women."
صحيح، ابن ماجة (600)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 122
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہوجائے (یعنی منی نکل جائے) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ٣- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرم و حیاء کی وجہ سے حق کے بیان کرنے سے نہیں رکتا، تو میں بھی ان مسائل کے پوچھنے سے باز نہیں رہ سکتی جن کی مجھے احتیاج اور ضرورت ہے۔ ٢ ؎: جو مرد دیکھتا ہے سے مراد احتلام ہے۔ ٣ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ منی کے نکلنے سے عورت پر بھی غسل واجب ہوجاتا ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم ﷺ جنابت کا غسل فرماتے پھر آ کر مجھ سے گرمی حاصل کرتے تو میں آپ کو چمٹا لیتی، اور میں بغیر غسل کے ہوتی تھی۔
Sayyidah Aisha (RA) said, "The Prophet ﷺ used to have a bath ,because of sexual defilement then warm himself against me and I embraced him though I had not yet had a bath.
ضعيف، ابن ماجة (580)، //، المشکاة (459)، ضعيف سنن ابن ماجة (128) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 123
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ١ ؎، ٢- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے کہ مرد جب غسل کرلے تو اپنی بیوی سے چمٹ کر گرمی حاصل کرنے میں اسے کوئی مضائقہ نہیں، وہ عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ (چمٹ کر) سو سکتا ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ حسن کے حکم میں ہے، اس کے راوی «حریث بن ابی المطر» ضعیف ہیں ( جیسا کہ تخریج میں گزرا ) اس لیے علامہ البانی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ایک دوسرے طریق سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے، جو عبدالرحمٰن افریقی کے طریق سے ہے، عبدالرحمٰن حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہیں، لیکن دونوں طریقوں کا ضعف ایک دوسرے سے قدرے دور ہوجاتا ہے، نیز صحیحین میں عائشہ ؓ کی حدیث سے اس کے معنی کی تائید ہوجاتی ہے، وہ یہ ہے: ہم لوگ حائضہ ہوتی تھیں تو آپ ہمیں ازار باندھنے کا حکم دیتے، پھر ہم سے چمٹتے تھے واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩٧ (٥٨٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٢٠) (ضعیف) (سند میں حریث ضعیف ہیں)
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے گرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے، پھر جب وہ پانی پالے تو اسے اپنی کھال (یعنی جسم) پر بہائے، یہی اس کے لیے بہتر ہے ۔ محمود (محمود بن غیلان) نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated that Allahs Messenger ﷺ said, “Earth is a means of purifying for a Muslim even if he does not find water for ten years. Then he finds water, he must touch it to his body (that is, obtain purity from it) and it is better for him.”
صحيح، المشکاة (530)، صحيح أبي داود (357)، الإرواء (153)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 124
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر فقہاء کا قول یہی ہے کہ جنبی یا حائضہ جب پانی نہ پائیں تو تیمم کر کے نماز پڑھیں، ٤- ابن مسعود ؓ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں سمجھتے تھے اگرچہ وہ پانی نہ پائے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کرلیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ جب پانی نہیں پائے گا، تیمم کرے گا، یہی سفیان ثوری، مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطہارة ٢٠٣ (٣٢٣)، ( تحفة الأشراف: ١٩٧١)، مسند احمد (٥/١٥٥، ١٨٠) (صحیح) (سند میں عمروبن بجدان، مجہول ہیں، لیکن بزار وغیرہ کی روایت کردہ ابوہریرہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبی داود ٣٥٧، والإرواء ١٥٣)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ کا خون ١ ؎ آتا ہے تو میں پاک ہی نہیں رہ پاتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو۔ اور جب وہ چلا جائے (یعنی حیض کے دن پورے ہوجائیں) تو خون دھو کر (غسل کر کے) نماز پڑھو ، ابومعاویہ کی روایت میں ہے ؛ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ وہ وقت (حیض کا وقت) آ جائے ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that Sayyidah Fatimah bint Abu Hubaysh (RA) came to the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah! ﷺ I am a woman who gets istihadah (a continuous flow of blood) and I am never purified. Shall I stop offering Salah?” He said, “No! That is only a vein (that bleeds and is no part of the womb and There are other reasons for that). It is not menstruation. When you have menses, stop Praying and when they are over wash the blood from your body and offer Salah.”
صحيح، ابن ماجة (621)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 125
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے، اور یہی سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں کہ جب مستحاضہ عورت کے حیض کے دن گزر جائیں تو وہ غسل کرے اور ہر نماز کے لیے (تازہ) وضو کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کی شرمگاہ سے تین طرح کا خون خارج ہوتا ہے: ایک حیض کا خون جو عورت کے بالغ ہونے سے بڑھاپے تک ایام حمل کے علاوہ ہر ماہ اس کے رحم سے چند مخصوص ایام میں خارج ہوتا ہے اور اس کا رنگ کالا ہوتا ہے، دوسرا نفاس کا خون ہے جو بچہ کی پیدائش کے بعد چالیس دن یا اس سے کم و بیش زچگی میں آتا ہے، تیسرا استحاضہ کا خون ہے، یہ ایک عاذل نامی رگ کے پھٹنے سے جاری ہوتا ہے اور بیماری کی صورت اختیار کرلیتا ہے، اس کے جاری ہونے کا کوئی مقرر وقت نہیں ہے کسی بھی وقت جاری ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٣ (٢٢٨)، والحیض ٨ (٣٠٦)، و ١٩ (٣٢٠)، و ٢٤ (٣٢٥)، و ٢٨ (٣٣١)، صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٣)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٩ (٢٨٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٥ (٢١٣)، و ١٣٨ (٢١٩، ٢٢٠)، والحیض ٤ (٣٥٩)، و ٦ (٣٦٥، ٣٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٥ (٦٢٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٠٧٠، ١٧١٩٦، ١٧٢٥٩)، مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٣ (٨٠١) (صحیح)
عدی کے دادا عبید بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا: وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے، پھر وہ غسل کرے، اور (استحاضہ کا خون آنے پر) ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے ۔
Sayyidina Ali ibn Thabit (RA) reported from his father who from his grandfather that the prophet ﷺ said about a woman with a prolonged flow of blood that she should stop prayer during her (accustomed) days of menstruation. Then she should have a purifying bath and make ablution for every Salah (prayer). She may fast and offer Salah.
صحيح، ابن ماجة (625)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 126
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١١٣ (٣٩٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٥ (٦٢٥)، ( تحفة الأشراف: ٣٥٤٢)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٣ (٨٢٠) (صحیح) (اس کی سند میں ابو الیقظان ضعیف، اور شریک حافظہ کے کمزور ہیں، مگر دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)۔
اس سند سے بھی شریک نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Ali ibn Hajar reported a hadith of the same implication (as #126) from Sharik
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، ٢- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر وہ ہر نماز کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے تو یہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر وہ ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرے تو بھی کافی ہے۔
حمنہ بنت جحش ؓ کہتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور آپ کو اس کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئی، میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت حجش کے گھر پایا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی ہوں، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس نے تو مجھے صوم و صلاۃ دونوں سے روک دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں تجھے روئی رکھنے کا حکم دے رہا ہوں اس سے خون بند ہوجائے گا ، انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے زیادہ ہے (روئی رکھنے سے نہیں رکے گا) آپ نے فرمایا: تو لنگوٹ باندھ لیا کرو ، کہا: خون اس سے بھی زیادہ آ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: تم لنگوٹ کے نیچے ایک کپڑا رکھ لیا کرو ، کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کرلو تمہارے لیے کافی ہوگا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو ، آپ نے فرمایا: یہ تو صرف شیطان کی چوٹ (مار) ہے تو چھ یا سات دن جو اللہ کے علم میں ہیں انہیں تو حیض کے شمار کر پھر غسل کرلے اور جب تو سمجھ لے کہ تو پاک و صاف ہوگئی ہو تو چوبیس یا تئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اسی طرح کرتی رہو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں، اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے پاک صاف ہوجا اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لے تو ایسا کرلیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اگر تم قادر ہو تو اس طرح کرو اور روزے رکھو ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں باتوں ١ ؎ میں سے یہ دوسری صورت ٢ ؎ مجھے زیادہ پسند ہے۔
Ibrahim ibn Muhammad ibn Talhah (RA) reported from his uncle lmran ibn Talhah and he from his mother Sayyidah Hamnah bint Jahsh (RA) that she used to have a severe large prolonged flow of blood. She asked the Prophet ﷺ about it, having met him for the question. She found him in the house of her sister Sayyidah Zaynab bint Jahsh (RA) said "I get istihadah and it is very severe. What do you command me? It prevents me from praying and fasting. "He said, "I suggest that you use cotton, for, it stops blood." She said, "It is much more for that."He said, "Then wear a tight rag," but she insisted that it was too much for the rag. And when he asked her to use a cloth too, she said that her flow was continuous and much. So, "I give you two commands. It is enough for you to abide by one. But if you follow both t know well whether you can. This is the devils kick (that brings forth the istihadah), so determine the six or seven days of menstruation which Allah knows. Then have a bath. When you are clean and pure, keep fast and offer salah for twenty-four or twenty-three days. That is enough for you. Then do as menstruating women do, who purify themselves after the period of menstruation. If you can then delay the salah of Zuhr and advance the Salah of asr have a bath and offer Zuhr and Asr together. Then delay Maghrib and advance Isha, and have a bath, offer both salah together. Go on in this manner, and have a bath for the Salah of Fajr and offer it. Go on, in this manner and also keep fast provided you are able to do it." Then, AIlahs Messenger ﷺ said, "Of the two I like the second."
حسن، ابن ماجة (627)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اسی طرح احمد بن حنبل نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٣- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ عورت جب اپنے حیض کے آنے اور جانے کو جانتی ہو، اور آنا یہ ہے کہ خون کالا ہو اور جانا یہ ہے کہ وہ زردی میں بدل جائے تو اس کا حکم فاطمہ بن ابی حبیش ؓ کی حدیث کے مطابق ہوگا ٣ ؎ اور اگر مستحاضہ کے لیے استحاضہ سے پہلے (حیض کے) ایام معروف ہیں تو وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور جب خون جاری رہے اور (حیض کے) ایام معلوم نہ ہوں اور نہ ہی وہ حیض کے آنے جانے کو جانتی ہو تو اس کا حکم حمنہ بنت جحش ؓ کی حدیث کے مطابق ہوگا ٤ ؎ اسی طرح ابو عبید نے کہا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: جب مستحاضہ کو پہلی بار جب اس نے خون دیکھا تبھی سے برابر خون جاری رہے تو وہ خون شروع ہونے سے لے کر پندرہ دن تک نماز چھوڑے رہے گی، پھر اگر وہ پندرہ دن میں یا اس سے پہلے پاک ہوجاتی ہے تو گویا یہی اس کے حیض کے دن ہیں اور اگر وہ پندرہ دن سے زیادہ خون دیکھے، تو وہ چودہ دن کی نماز قضاء کرے گی اور اس کے بعد عورتوں کے حیض کی اقل مدت جو ایک دن اور ایک رات ہے، کی نماز چھوڑ دے گی، ٤- حیض کی کم سے کم مدت اور سب سے زیادہ مدت میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: حیض کی سب سے کم مدت تین دن اور سب سے زیادہ مدت دس دن ہے، یہی سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا قول ہے اور اسی کو ابن مبارک بھی اختیار کرتے ہیں۔ ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے، بعض اہل علم جن میں عطا بن ابی رباح بھی ہیں، کہتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں باتوں سے مراد: یا تو ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرنا یا ہر نماز کے لیے الگ ایک غسل کرنا اور دوسری بات روزانہ صرف تین بار نہانا۔ ٢ ؎: یعنی روزانہ تین بار نہانا ایک بار ظہر اور عصر کے لیے، دوسری مغرب اور عشاء کے لیے اور تیسرے فجر کے لیے۔ ٣ ؎: یعنی حیض کے اختتام پر مستحاضہ عورت غسل کرے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے گی۔ ٤ ؎: یعنی ہر روز تین مرتبہ غسل کرے گی، پہلے غسل سے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھے گی اور دوسرے غسل سے مغرب اور عشاء کی اور تیسرے غسل سے فجر کی۔